Nazir Hospital

Nazir Hospital Dr Numan Mansha
MBBS.RPMDC
Ex House Officer Nishter Hospital Multan
General Physician.

05/04/2025

What Happens In Brain Hemorrhage? | Symptoms And Causes

30/03/2025

The Human Liver - Structure And Function

27/03/2025

How Earbuds Damage Our Ears? | Are Earphones Harmful?

25/03/2025

Human Digestive System | How Digestive System Work

22/03/2025
روزے میں نیند کیوں آتی ہے؟رمضان المبارک کا مہینہ جہاں روحانی سکون اور برکتوں سے بھرپور ہوتا ہے، وہیں کچھ جسمانی چیلنجز ب...
06/03/2025

روزے میں نیند کیوں آتی ہے؟

رمضان المبارک کا مہینہ جہاں روحانی سکون اور برکتوں سے بھرپور ہوتا ہے، وہیں کچھ جسمانی چیلنجز بھی ساتھ لاتا ہے۔

ان میں سے ایک "روزے میں نیند کا بہت آنا" ہے۔
یہ کیفیت خاص طور پر عبادات کے دوران نیند گھیر لیتی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ
آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اور اس کا حل کیا ہے؟

روزے میں نیند کے غلبے کی بنیادی وجہ
جسمانی توانائی میں کمی ہے۔ جب ہم سحری سے افطاری تک کچھ نہیں کھاتے، تو خون میں شوگر کی سطح کم ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، جسم میں پانی کی کمی بھی ہوتی ہے، جو تھکاوٹ اور نیند کا باعث بنتی ہے۔

رمضان میں نیند کے معمولات میں تبدیلی بھی اس مسئلے کو بڑھا دیتی ہے۔ رات کے قیام اور سحری کے اوقات کی وجہ سے نیند کا دورانیہ متاثر ہوتا ہے۔

لیکن گھبرائیے نہیں،
کیونکہ اس کا حل بہت آسان ہے۔ سحری اور افطاری میں لونگ، دار چینی، اور شہد کا قہوہ پینے سے جسم کو تازگی ملتی ہے۔

گہری سانسوں کی ورزش
اور دوپہر کے مختصر آرام سے بھی نیند کے غلبے
کو کم کیا جا سکتا ہے۔ آنکھوں پر گیلی پٹی رکھنا یا وضو کرنا بھی ذہنی تھکن دور کرنے میں معاون ہے، خاص طور پر دوپہر میں۔

متوازن اور جلد ہضم ہونے والی غذا
کا استعمال بھی اس مسئلے کو کنٹرول کرنے میں
اہم کردار ادا کرتا ہے۔ " سب سے اہم بات، قبض نہ ہونے دیں! دن بھر غنودگی رہنے کا بہت گہرا تعلق نظام ہضم کی صفائی سے ہے۔.! "

یاد رکھیے،
روزہ صرف بھوکا رہنے کا نام نہیں،
بلکہ یہ ایک تربیتی عمل ہے۔ اس میں جسمانی تکالیف کا سامنا کرنا بھی شامل ہے، لیکن ان تکالیف کو سادہ اور قدرتی طریقوں سے کم کیا جا سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کی عبادات قبول فرمائے
اور ہمیں اس مقدس مہینے کے فیوض و برکات سے نوازے۔ آمین!

اللہ ، آپ کو آسانیاں عطا فرمائے

ڈاکٹر نعمان منشاء...
جنرل فزیشن...

چقندر کے فوائد:خون کی کمی کے لئے مفید: چقندر میں آئرن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو خون کی کمی (اینیمیا) کو دور کرنے میں مدد...
23/02/2025

چقندر کے فوائد:
خون کی کمی کے لئے مفید: چقندر میں آئرن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو خون کی کمی (اینیمیا) کو دور کرنے میں مدد دیتی ہے اور خون کے سرخ خلیات کی پیداوار بڑھاتی ہے۔
دل کی صحت: چقندر میں نائٹریٹس ہوتے ہیں جو خون کی نالیوں کو کشادہ کرتے ہیں اور خون کی گردش کو بہتر بناتے ہیں، اس کے نتیجے میں دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
ہاضمہ کی بہتری: چقندر میں فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے اور قبض کے مسئلے کو حل کرتا ہے۔
کینسر سے بچاؤ: چقندر میں اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں جو کینسر کے خطرات کو کم کرتے ہیں اور جسم میں خلیاتی نقصان سے بچاتے ہیں۔
وزن کم کرنے میں مددگار: چقندر کم کیلوریز والا ہوتا ہے اور اس میں فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
توانائی میں اضافہ: چقندر کے جوس میں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور یہ جسم کو فوری توانائی فراہم کرتا ہے، خاص طور پر ورزش کے دوران۔
جلدی صحت: چقندر میں وٹامن سی اور دیگر معدنیات ہوتے ہیں جو جلد کی صحت کو بہتر بناتے ہیں اور اسے تروتازہ رکھتے ہیں۔
چقندر کا استعمال:
چقندر کو مختلف طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے:
چقندر کا جوس: چقندر کو اچھی طرح دھو کر چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر جوس نکال سکتے ہیں۔ یہ جوس صحت کے لئے بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔
چقندر کا سالن یا شوربہ: چقندر کو سالن یا شوربے میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جو کہ ذائقے میں بھی اچھا ہوتا ہے اور فائدے مند بھی۔
چقندر کا رائتہ: چقندر کو اُبال کر کدو کش کر کے اس میں دہی، نمک اور دیگر مصالحے ملا کر رائتہ بنایا جا سکتا ہے۔
چقندر کی سلاد: چقندر کو کچا کاٹ کر یا اُبال کر سلاد میں شامل کیا جا سکتا ہے، اس میں آپ ٹماٹر، کھیرا، اور لیموں بھی شامل کر سکتے ہیں۔
چقندر کی چٹنی: چقندر کو اُبال کر اس کا پیسٹ بنا کر اس میں نمک، مرچ، اور دیگر مصالحے شامل کر کے چٹنی بنائی جا سکتی ہے۔
چقندر کے استعمال سے صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، اور یہ قدرتی طور پر توانائی فراہم کرتا ہے....

ڈاکٹر نعمان منشاء...
جنرل فزیشن..

یورک ایسڈ کیا ہے؟؟؟یورک ایسڈ ایک تیزابی مادہ ہے جو ہر انسان کے اندر پایا جاتا ہے۔ اس کا اصل کام انسانی جسم میں گرمی کو پ...
15/02/2025

یورک ایسڈ کیا ہے؟؟؟

یورک ایسڈ ایک تیزابی مادہ ہے جو ہر انسان کے اندر پایا جاتا ہے۔ اس کا اصل کام انسانی جسم میں گرمی کو پیدا کرنا ہے۔
خوراکی لحاظ سے غذائیں جو جسم میں پیورین (purine) پیدا کرتی ہیں جس سے کہ یورک ایسڈ جسم میں بنتا ہے۔ جیسے کھٹی چیزیں، گوشت اور سبزیاں، اس کے علاوہ کینسر، جنسی اور پٹھوں کی طاقت کی ادویات، گردوں میں سوزش اور پتھری بھی جسم میں یورک ایسڈ کی مقدار بڑھانے کا سبب بنتی ہیں۔

جب یورک ایسڈ پیشاب کے ذریعے باہر نہ نکلے تو جسم کے اندر چھوٹے چھوٹے کرسٹل کی شکل میں جوڑوں میں جمع ہونے لگتا ہے۔ اس کی وجہ سے جوڑ بے کار رہنے لگتے ہیں اور انسان کا چلنا پھرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

یورک ایسڈ کی وجوہات
یورک ایسڈ کے بڑھنے کی وجہ میں کھٹی اور گوشت کی خوراک کا زیادہ استعمال، ورزش نہ کرنا، محنت سے دل چرانا، گردوں کی کمزوری، کینسر کا علاج، طاقت کی ادویات کا استعمال وغیرہ شامل ہیں۔ ان سے اختیاط لازم ہے۔

یورک ایسڈ کی علامات
جوڑوں میں درد ہونا۔
گانٹھے پڑنا۔
پیر کے انگوٹھوں میں سوجن۔
جوڑوں میں سوجن۔
یورک ایسڈ کی مقدار
یورک ایسڈ کی نارمل مقدار 2.4 Mg/dl سے 6.0 Mg/dl ہے۔

یورک ایسڈ کی خطرناک حد 7.0 Mg/dl سے زیادہ ہے۔

یورک ایسڈ کو کیسے کم کریں
سب سے پہلے تو ہمیں ایسی غذائیں چھوڑنی پڑیں گی جن میں پیورین کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے۔ کیونکہ یہ غذائیں ہضم ہونے کے بعد ہمارے جسم میں یورک ایسڈ کی مقدار کو بڑھا دیتی ہیں۔ جیسے بیف، چکن، گوبھی، مٹر، خشک پھلیاں اور کھمبیاں شامل ہیں۔

اب آتے ہیں کہ ہمیں اپنی روز مرہ زندگی میں کونسی ایسی غذائیں استعمال کرنی چاہیں جس سے یورک ایسڈ کنٹرول ہوجائے۔

سیب کا سرکہ
اس میں مالیک ایسڈ ہوتا ہے جو جسم سے یورک ایسڈ کو توڑنے اور نکالنے میں مدد کرتا ہے۔ ایک چائے کا چمچ ایک گلاس پانی میں ملا کر پینا مفید ہے۔ دن میں ایک بار استعمال کیا جائے۔

لیموں
لیموں کے رس میں سٹرک ایسڈ پایا جاتا ہے۔ اس کا عرق بظاہر تیزابی خصوصیات رکھتا ہے لیکن اس میں موجود وٹامن سی یورک ایسڈ کو فوری کنٹرول کرتا ہے۔

اینٹی آکسیڈنٹ سے بھر پور پھل اور سبزیاں
چیری اور اسٹرا بیری ایسے پھل ہیں جو اینٹی آکسیڈنٹ سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ان پھلوں کا استعمال سوزش کو کم کرتا ہے اور جسم میں تیزاب کی سطح کو متوازن رکھنے میں مفید ثابت ہوتا ہیں۔

اجوائن
اجوائن میں اومیگا 6 فیٹی ایسڈ پایا جاتا ہے جو ہمارے جسم کی صحت کے لیے انتہائی مفید ہیں یہ جہاں نظام انہضام کی صفائی کرتے ہیں وہاں یہ جسم کو یوریک ایسڈ سے پاک کرنے میں اکسیر کا درجہ رکھتے ہیں۔

پرہیز
ہر قسم کا گوشت‘ پالک، اچار، گرم مصالحہ جات، ۔ٹماٹر، انڈے اور چنے کی دال۔ ان تمام چیزوں کا سختی سے پرہیز کریں، کیونکہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔

ہومیوپیتھک دوا کالچیکم،ارٹیکا یورینس،ایسڈ بینزوئک،رسٹاکس علامات کے مطابق استعمال کی جاسکتی ہیں۔...

ڈاکٹر نعمان منشاء.....
جنرل فزیشن....

اسپغول کا تعارف و فوائد اور بیماریوں میں استعمال.اسپغول کا نام یقینا آپ سب کیلئے نیا نہیں ہوگا بالخصوص اگر آپ معدہ کی ...
09/02/2025

اسپغول کا تعارف و فوائد اور بیماریوں میں استعمال.

اسپغول کا نام یقینا آپ سب کیلئے نیا نہیں ہوگا بالخصوص اگر آپ معدہ کی کمزوری کا کبھی شکار رہے ہو تو بہت ممکن ہے کہ آپ نے اسپغول کا چھلکا یا اس کی بھوسی استعمال کی ہو ۔
اسپغول فارسی کا لفظ ہے۔ اسے انگلش میں spogel seeds کہاجاتا ہے اس کی ٹہنیاں باریک ہوتی ہیں اور پودا تقریبا ایک میٹر اونچا ہوتا ھے ۔ ہندوستان کے علاوہ پاکستان میں پنجاب کے میدانی علاقوں، سندھ اوربلوچستان میں بھی کاشت کیا جاتا ہے اسپغول نیم گلابی اور سفیدی مائل چھوٹے چھوٹے بیج ہوتے ہیں جنہیں بھگو نے یامنہ میں کچھ دیر رکھنے سے لعاب پیدا ہوتا ہے ان دانوں کے اوپر سے سفید چھلکا الگ کر لیا جاتا ہے جسے سبوس اسپغول یعنی اسپغول کا چھلکا یا بھوسی کہا جاتا ہے گھروں میں عام طور یہی بھوسی استعمال کی جاتی ہے یہ بھوسی لعاب دار اور پھیکی ہوتی ہے اور عموماً دکان سے چھوٹے چھوٹے پیکٹوں کی شکل میں مل جاتی ہے۔ اسپغول کے اگرچہ بہت زیادہ فوائد ہیں بالخصوص یہ مشرقی طب میں کئی طرح سے استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس کےچند اہم فوائد کچھ یوں ہیں۔

اسپغول مزاج میں سرد و تر ہوتا ہے اس لیے اس کا لعاب بخار وغیرہ کی گرمی اور پیاس کودور کرنے میں بہت موثر سمجھاجاتا ہے۔

پیچش کے دوران 10گرام اسپغول آدھا پاؤ دہی میں ملا کر ایک گھنٹے رکھنے کے بعد کھائیں۔ ایک دو روز کے استعمال سے پیچش ٹھیک ہوجائے گا۔

اسپغول آنتوں کی خشکی سے پیدا ہونے والے قبض (constipation) کی شکایت کو دور کرتا ہے اس کیلئے 10 گرام اسپغول ایک پاؤ نیم گرم دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔

گرمیوں کے دنوں میں اگر بہت زیادہ پیاس لگتی ہے تو اسپغول کوپانی میں بھگو کر اور ذرا سا شکر ملا کر یہ پانی پئیں۔
پیاس جاتی رہے گی۔

اسپغول خون کے جوش یا گرمی وغیرہ کو بھی کم کرتا ہے۔

سینے اور حلق کا کھر درا پن دور کرتا ہے۔
صفراوی دموی امراض کیلئے مفید ہے۔

بعض اوقات کسی وجہ سے پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں یا آنتیں زخمی ہوجاتی ہیں۔ ان حالات میں اسپغول کی بھوسی دہی میں شامل کر کے کھانے سے آرام ملتا ہے۔

اسپغول بواسیری خون کو روکتا ہے ۔
آنتوں کی جلن کو جن میں بواسیری خون کا دباؤ بڑھا ہوتا ہے کم کرتا ہے.

ضروری نوٹ:
آخری بات کسی بھی چیز کا حد سے زیادہ استعمال نقصان بھی دے سکتا ھے اعتدال کے ساتھ استعمال کریں....

ڈاکٹر نعمان منشاء۔۔۔
جنرل فزیشن۔۔۔

 #بینگن، جسے بینگن یا بینگن بھی کہا جاتا ہے!  یہ جامنی رنگ کی سبزی صحت کے بے شمار فوائد سے بھری ہوئی ہے، جو اسے صحت مند ...
03/02/2025

#بینگن، جسے بینگن یا بینگن بھی کہا جاتا ہے! یہ جامنی رنگ کی سبزی صحت کے بے شمار فوائد سے بھری ہوئی ہے، جو اسے صحت مند غذا میں ایک بہترین اضافہ بناتی ہے۔ بینگن کو اپنے کھانے میں شامل کرنے کے چند اہم فوائد یہ ہیں:

اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور
بینگن میں ناسونین سمیت اینٹی آکسیڈنٹس کی دولت ہوتی ہے جو خلیات کو نقصان سے بچانے میں مدد دیتی ہے اور کینسر اور دل کی بیماری جیسی دائمی بیماریوں کے خطرے کو کم کرتی ہے۔

سوزش کی خصوصیات
بینگن میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اور فلیوونائڈز میں سوزش کی خصوصیات ہیں، جو سوزش کو کم کرنے اور گٹھیا جیسی حالتوں سے وابستہ علامات کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔

دل کی صحت کی حمایت کرتا ہے۔
بینگن میں موجود فائبر، پوٹاشیم اور اینٹی آکسیڈنٹس کولیسٹرول کی سطح، بلڈ پریشر اور دل کی بیماری کے خطرے کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
بینگن میں فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں جو شوگر کے جذب کو کم کرنے اور انسولین کی حساسیت کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتے ہیں، یہ ذیابیطس کے شکار لوگوں کے لیے ایک فائدہ مند کھانا ہے۔

صحت مند ہاضمے کی حمایت کرتا ہے۔
بینگن میں موجود فائبر آنتوں کی باقاعدہ حرکت کو فروغ دینے، قبض کو روکنے اور آنتوں کے فائدہ مند بیکٹیریا کی نشوونما میں مدد کر سکتا ہے۔

وزن کے انتظام میں مدد مل سکتی ہے۔
بینگن میں کیلوریز کم اور فائبر زیادہ ہوتا ہے، جس سے یہ وزن کم کرنے والی غذا میں غذائیت سے بھرپور اضافہ ہوتا ہے۔

صحت مند ہڈیوں کی حمایت کرتا ہے۔
بینگن میں کیلشیم، میگنیشیم اور پوٹاشیم سمیت متعدد معدنیات موجود ہیں جو کہ مضبوط ہڈیوں کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔

کینسر کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
بینگن میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اور فلیوونائڈز سیل کو پہنچنے والے نقصان سے بچانے اور کینسر کی بعض اقسام جیسے بڑی آنت اور چھاتی کے کینسر کے خطرے کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

صحت مند جلد کی حمایت کرتا ہے۔
بینگن میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اور وٹامنز جلد کو نقصان سے بچانے، صحت مند عمر بڑھانے اور باریک لکیروں اور جھریوں کی ظاہری شکل کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

اضطراب اور تناؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
بینگن میں میگنیشیم اور پوٹاشیم سمیت متعدد غذائی اجزاء ہوتے ہیں، جو اضطراب اور تناؤ کی سطح کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

مجموعی طور پر، بینگن ایک غذائیت سے بھرپور اور ورسٹائل سبزی ہے جسے سالن اور اسٹر فرائز سے لے کر سلاد اور سینڈوچ تک مختلف قسم کے پکوانوں میں شامل کیا جا سکتا ہے۔..

ڈاکٹر نعمان منشاء....
جنرل فزیشن...

رات کو سونے سے پہلے 2 لونگ کھانے کے فوائداگر آپ روزانہ رات کو دولونگ کھا کر ایک گلاس پانی پیتے ہیں تو اس سے تیزابیت، قبض...
23/01/2025

رات کو سونے سے پہلے 2 لونگ کھانے کے فوائد
اگر آپ روزانہ رات کو دولونگ کھا کر ایک گلاس پانی پیتے ہیں تو اس سے تیزابیت، قبض، پیٹ، درد اور پیٹ سے جڑی سبھی پرابلمز جڑ سے ختم ہو جائیں گی۔لونگ میں کیلشیم بھرپور مقدار میں پایا جاتا ہے۔ اس کے استعمال سے ہڈیاں بھی مضبوط ہوتی ہیں باقاعدگی سے اس کا استعمال کرنے سے جوڑوں کے درد کی پرابلم بھی نہیں ہوتی۔ ہر روز دو لونگ کھانے سے ہمارا خون صاف ہوجاتا ہے۔ جس سے ہمارے جسم کی ساری گندگی ختم ہو جاتی ہے.....

ڈاکٹر نعمان منشاء...
جنرل فزیشن...

سونف کی چائے بنائیں اور پی کر صحت پائیں..!سونف کو زمانہ قدیم سے طبی لحاظ سے صحت کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے جو کہ متع...
14/01/2025

سونف کی چائے بنائیں اور پی کر صحت پائیں..!

سونف کو زمانہ قدیم سے طبی لحاظ سے صحت کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے جو کہ متعدد امراض کی روک تھام میں مدد دے سکتی ہے۔
اسے خام شکل میں کھایا جائے یا چائے کی صورت میں، فائدہ ہر بار ہوتا ہے۔

*چائے بنانے کا طریقہ*
ایک سے 2 کھانے کے چمچ سونف کو پیس لیں اور اسے ایک کپ میں ڈالنے کے بعد اس میں گرم پانی شامل کردیں، اس کپ کو دس منٹ کے لیے پڑا رہنے دیں اس کے بعد چھان لیں اور چائے سے لطف اندوز ہوں، اگر دل کرے تو کچھ مقدار میں اس میں شہد کا اضافہ بھی کردیں۔
یہ چائے وٹامن اے، سی اور ڈی کے ساتھ ساتھ اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھی بھرپور ہوتی ہے،جس کے فوائد درج ذیل ہیں۔

*جسمانی وزن میں کمی*
چونکہ سونف نظام ہاضمہ کے عمل کو بہتر بناتی ہے، اسی لیے یہ غذائیت کو جزو بدن بنانے کا عمل بھی بہتر کردیتی ہے۔ اس طرح نقصان دہ اجزاءجسم سے خارج ہوجاتے ہیں، اسی طرح جسم میں گلوکوز کی سطح بھی متوازن رہتی ہے، یہ بے وقت کھانے کی خواہش کو قابو میں کرتی ہے جبکہ جسم میں اضافی سیال کو بھی خارج کردیتی ہے۔

*دل کی صحت بہتر بنائے*
جگر صحت مند ہو تو کولیسٹرول کے ٹکڑے زیادہ بہتر طریقے سے ہوتے ہیں، سونف ان غذاﺅں میں سے ایک ہے جو جگر کے افعال کو مناسب طریقے سے مدد کرنے میں مدد دیتی ہیں جبکہ دل کی دھڑکن بہتر ہوتی ہے۔

*آنکھ کی صحت کے لیے فائدہ مند*
سونف بینائی کو بہتر کرنے کے لیے بھی فائدہ مند ہے، اس میں موجود وٹامن سی بینائی کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرتا ہے۔

*کیل مہاسے کم کرے*
سونف میں موجود آئل ورم کش خصوصیات رکھتے ہیں اور جلدی مسائل جیسے کیل مہاسوں کے علاج میں مدد دیتا ہے۔ سونف جلد میں موجود اضافی سیال کو خارج کردیتی ہے جو کہ کیل مہاسوں کی شکل اختیار کرتے ہیں۔

*ذیابیطس کے خلاف مزاحمت*
سونف ذیابیطس کے شکار افراد کو اس مرض سے لڑنے میں بھی مدد دیتی ہے، وٹامن سی اور پوٹاشیم کے باعث یہ بلڈ شوگر لیول کو کم کرتی ہے جبکہ انسولین کی سرگرمیوں میں اضافہ کرتی ہے جس سے بلڈ شوگر متوازن رہتا ہے۔

*مسوڑوں کے لیے بہترین*
سونف جراثیم کش خصوصیات کے باعث مسوڑوں کو بھی مضبوط بناتی ہے جس سے ورم یا سوجن کی روک تھام ہوتی ہے۔

*نظام ہاضمہ کے مسائل دور کرے*
سونف مسلز کو ریلیکس کرنے کے ساتھ بائل کے بہاﺅ کو حرکت میں لاتا ہے جس سے درد کم ہوتا ہے اور نظام ہاضمہ بہتر ہوتا ہے۔...

ڈاکٹر نعمان منشاء....
جنرل فزیشن....

Address

Abbas Market Near National Bank Jahanian
Market
58200

Telephone

+923348283111

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nazir Hospital posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Nazir Hospital:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category