Dr Imran Iqbal Clinic Multan

  • Home
  • Dr Imran Iqbal Clinic Multan

Dr Imran Iqbal Clinic Multan Clinic for children

05/12/2025
https://www.facebook.com/share/1CGCVE9F58/
25/09/2025

https://www.facebook.com/share/1CGCVE9F58/

اسپتال… قصور وار کون؟

پنجاب کے چھوٹے اور بڑے اسپتالوں میں داخل ہوں تو لگتا ہے جیسے مریض اور ڈاکٹر دونوں ایک دوسرے کے مخالف کیمپ میں کھڑے ہیں۔ مریض کے پاس دکھ بھری کہانیاں ہیں اور ڈاکٹر کے پاس شکایات کا انبار۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ خلیج پیدا کس نے کی؟

کیا یہ ڈاکٹر ہیں جنہوں نے نظام کو برباد کیا؟ نہیں صاحب! اصل قصور کہیں اور ہے۔

بیوروکریسی کے ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے افسر کاغذوں پر فیصلے کرتے ہیں، مگر زمین پر حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔ بجٹ، دوائیاں، مشینیں… سب فائلوں کے پیچ و خم میں گم ہو جاتے ہیں۔ اسپتال کا حال جانے بغیر وہ اپنے دستخطوں کو کارکردگی سمجھتے ہیں۔

سیاستدانوں کو دیکھیے۔ جب الیکشن قریب آئے تو فیتے کاٹنے کی رسم، فوٹو سیشن، اور وعدوں کی گونج سنائی دیتی ہے۔ لیکن جونہی ووٹ بکس بند ہوتے ہیں، اسپتال پھر اپنی پرانی حالت میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ علاج نہیں، بس سیاست ہوتی ہے۔

پھر آتے ہیں ہم عام عوام… جو ہر مسئلے کا ذمہ دار صرف ڈاکٹر کو ٹھہرا دیتے ہیں۔ اگر دوائی میسر نہیں تو الزام ڈاکٹر پر، اگر مشین خراب ہے تو قصور ڈاکٹر کا، اگر اسٹاف کم ہے تو بھی ذمہ دار ڈاکٹر۔ یہ سوچے بغیر کہ ڈاکٹر بھی اسی نظام کا شکار ہے، جس کا ہم ہیں۔

رپورٹرز کا کردار بھی کچھ کم نہیں۔ کسی جھگڑے کو، کسی معمولی تاخیر کو اتنا اچھالا جاتا ہے کہ لگتا ہے ڈاکٹر قصائی ہیں اور اسپتال موت کے اڈے۔ ریٹنگ کی دوڑ میں حقیقت دب جاتی ہے اور الزام صرف ڈاکٹر کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔

نتیجہ؟ عوام اور ڈاکٹر کے درمیان دیوار کھڑی ہو گئی ہے۔ عوام سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر ان کے دشمن ہیں اور ڈاکٹر دل ہی دل میں سوچتے ہیں کہ یہ وہی لوگ ہیں جن کے لیے ہم دن رات جاگتے ہیں اور آخر میں گالی بھی ہمیں ہی ملتی ہے۔ اس مایوسی نے ڈاکٹر کو اس نظام سے بددل کر دیا ہے۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ جب تک بیوروکریسی اپنی آنکھیں نہیں کھولتی، سیاستدان اپنے وعدے سچ میں نہیں بدلتے، عوام حقیقت کو سمجھے بغیر شور مچانا بند نہیں کرتے اور میڈیا سنسنی پھیلانے کے بجائے سچائی بیان نہیں کرتا—تب تک یہ اسپتال ایسے ہی مریضوں کے دکھ اور ڈاکٹروں کی
بےبسی کے گواہ رہیں گے۔

23/09/2025

کیا آپ کا بچہ موبائل کی دنیا میں کھو گیا ہے؟
کیا آپ کا بچہ موبائل فون کی دنیا میں کھویا رہتا ہے؟ کیا اس کی آنکھوں میں کھیل کود کی چمک کے بجائے صرف اسکرین کی روشنی جھلکتی ہے؟ اگر ہاں، تو یہ صرف آپ کا مسئلہ نہیں بلکہ آج کے دور میں ہر گھر کی کہانی بنتی جا رہی ہے۔ لیکن یہ جان لینا ضروری ہے کہ یہ مسئلہ صرف عادت نہیں بلکہ ایک ایسا رجحان ہے جسے ماہرین “ورچوئل آٹزم” کہتے ہیں۔ یہ کوئی بیماری نہیں بلکہ ایک کیفیت ہے، جو زیادہ اسکرین ٹائم کے نتیجے میں بچوں کے دماغ اور جذباتی نشوونما پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔

دو سے پانچ سال کی عمر بچوں کے دماغی ارتقاء کے لیے سب سے نازک اور اہم وقت ہوتا ہے۔ اسی دوران وہ اپنے ماحول کو براہِ راست محسوس کرتے ہیں، دوسروں کے ساتھ بات چیت سیکھتے ہیں اور دنیا کو دریافت کرنے کی صلاحیت پاتے ہیں۔ لیکن جب ایک چھوٹے بچے کو خاموش رکھنے یا بہلانے کے لیے موبائل فون تھما دیا جاتا ہے، تو یہ سہولت آہستہ آہستہ اس کے ذہن کو حقیقت کی دنیا سے کاٹ کر مصنوعی روشنیوں میں قید کر دیتی ہے۔ ماہرین کی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ اگر تین سال سے کم عمر کا بچہ روزانہ چار گھنٹے سے زیادہ اسکرین دیکھے تو اس میں آٹزم جیسی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔

یہ علامات والدین کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ ایسا بچہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے سے کترانے لگتا ہے، اپنے نام پر ردعمل نہیں دیتا، گفتگو میں تاخیر کا شکار ہوتا ہے یا صرف کارٹون کرداروں کی نقالی کرتا ہے۔ وہ ہر وقت موبائل فون مانگتا ہے اور اجنبیوں سے گھلنے ملنے میں ہچکچاتا ہے۔ یہ وہ نشانیاں ہیں جو ہمیں بتاتی ہیں کہ بچہ حقیقت کی بجائے ورچوئل دنیا میں زیادہ وقت گزار رہا ہے۔

لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ یہ کیفیت ناقابل واپسی نہیں۔ جیسے ہی اسکرین کو کم کیا جائے اور بچے کو حقیقی دنیا سے دوبارہ جوڑا جائے، وہ آہستہ آہستہ اپنی اصل فطری رفتار پر واپس آ سکتا ہے۔ والدین کے لیے سب سے اہم قدم یہ ہے کہ موبائل کو دور رکھیں اور رشتے کو قریب لائیں۔ بچے کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں، اس سے بات کریں، کہانیاں سنائیں، کھیل میں شریک ہوں اور اسے باہر کی دنیا دکھائیں۔ یاد رکھیں کہ آپ کی موجودگی اور آپ کا لمس بچے کے لیے کسی بھی اسکرین سے زیادہ قیمتی ہے۔

بچوں کو حقیقی سرگرمیوں میں مصروف کریں۔ انہیں بلاکس سے کھیلنے دیں، رنگوں سے اپنی تخلیق بنائیں، یا باغ میں پانی دیتے ہوئے دنیا کو محسوس کرنے دیں۔ یہ سب چھوٹی چھوٹی چیزیں ان کے اندر اعتماد، خوشی اور سیکھنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہیں۔

یاد رکھیں، آپ کا بچہ ایک ننھے پودے کی طرح ہے جسے روشنی، پانی اور سب سے بڑھ کر آپ کی توجہ کی ضرورت ہے۔ اگر آپ اسے یہ ماحول فراہم کریں گے تو وہ بھرپور طریقے سے مسکرائے گا، بولے گا اور زندگی کی اصل خوشبو کو محسوس کرے گا۔ آپ کی چھوٹی سی کاوش اس کی پوری زندگی بدل سکتی ہے

27/08/2025

ڈاکٹر سرفراز سعید خان کی فیس بک ۔۔۔۔

بحثیت ماہر نفسیات یہ سبق تو خوب سیکھ لیا کہ بچوں کو سنبھالنا مکمل طور پر ماں باپ کی ذمہ داری ہے جس سے پہلوتہی کسی طور پر مناسب نہیں ہے۔ میرے بچے میری پوری زندگی میں صرف ایک رات کیلئے کسی کے گھر رات گزارنے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمیشہ دن میں گئے اور دن میں ہی لوٹ آئے۔ نرمی ، شفقت اور محبت بحثیت باپ اصول بنائے ، پاکستانی رواج جس میں” کھلاؤ سونے کا نوالا اور دیکھو شیر کی نگاہ “ کے غلط ہونے کا بھرپور اندازہ ہوا۔

جب دین پڑھنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ والدین کو تو بچوں کے قریب ترین مشفق محافظ کا کردار ادا کرنا چاہئیے۔

انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو طلحہ رضی اللہ عنہ میرا ہاتھ پکڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور کہا: یا رسول اللہ! انس سمجھ دار لڑکا ہے اور یہ آپ کی خدمت کرے گا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سفر میں بھی کی اور گھر پر بھی۔ واللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ سے کسی چیز کے متعلق جو میں نے کر دیا ہو یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے اس طرح کیوں کیا اور نہ کسی ایسی چیز کے متعلق جسے میں نے نہ کیا ہو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے اس طرح کیوں نہیں کیا۔ [صحيح البخاری )

اس سے پہلے آپ نے جو تھوڑا بہت پڑھا وہ ایک عام آدمی کی زندگی کی یاد داشت تھی لیکن آج بحثیت ماہر نفسیات میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اپنے بچوں کو سنبھال لیجئیے۔ اُن سے محبت کیجئیے، وقت دیجیئے، ہر وہ قیمت ادا کریں جو اُن کی بہتری کیلئے ضروری ہے۔ اولاد آپ کی زندگی کی ست رنگی چادر میں جڑے ہوئے بیش قیمت ہیرے اور جواہرات ہیں۔ سینت کر سنبھال کر رکھنے والے ہیں۔ گراں بہا اور قیمتی جواہرات جن کو دل کی تجوری میں سنبھال کر رکھا جاتا ہے۔ ہر حادثے اور آندھی سے بچا کر۔ یہی آپ کا خزانہ ہیں اور اس چور نگر میں اُن کا بچپن چُرانے والے اٹھائی گیر اور رہزن بہت ہیں۔ اگر اولاد کی خوش نصیبی سے سرفراز ہوئے ہیں تو ان کو سنبھالنا آپ کی ہی ذمہ داری ہے۔ بچپن میں پہنچائے گئے ذہنی صدمے اور کی گئی بد تہذیبی سمیٹنی مشکل ہوتی ہے۔ بالکل ایسے ہی کہ شیشہ تڑخ جائے تو اصلی حالت میں واپس نہیں آتا۔ اولاد کی ذمہ داری سمجھئیے اور بچوں کو محبت اور اخلاص دینے والے بنئیے۔ اس کا حق بھی وہی رکھتے ہیں

سرفراز سعید خان

امتحان کا نتیجہ آ گیا ہے ۔ آپ کے بچے نے اپنی ہمت صلاحیت اور ماحول کے مطابق بہت محنت کی ہے ۔ نتیجہ معلوم ہونے کے بعد اپنے...
22/08/2025

امتحان کا نتیجہ آ گیا ہے ۔ آپ کے بچے نے اپنی ہمت صلاحیت اور ماحول کے مطابق بہت محنت کی ہے ۔ نتیجہ معلوم ہونے کے بعد اپنے بچے کی دل کھول کر تعریف کریں اور اس کو انعام دیں ۔ کسی دوسرے بچے سے اس کے نمبروں کا ہرگز مقابلہ نہ کریں ۔ زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے اور بھی بہت سے ذرائع ہیں ۔ آپ کے بچے کو قسمت میں لکھی ہوئی یہ کامیابی کسی اور طرح سے بھی مل سکتی ہے

Address

205 Jamilabad; Jameelabad Street Airport Road Multan

Opening Hours

Monday 16:00 - 19:00
Tuesday 16:00 - 19:00
Wednesday 16:00 - 19:00
Thursday 16:00 - 19:00
Friday 16:00 - 19:00
Saturday 16:00 - 19:00
Sunday 16:00 - 19:00

Telephone

+92614549784

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Imran Iqbal Clinic Multan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Imran Iqbal Clinic Multan:

  • Want your practice to be the top-listed Clinic?

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram