02/04/2021
آج 2 اپریل آٹزم سے آگہی کا عالمی دن ہے ۔
آٹزم کیا ہے؟
آٹزم یا آٹزم ڈس آرڈر ذہنی نشوو نما سے تعلق رکھنے والی ایک پیدائشی معذوری ہے جو بچے کے بولنے، لوگوں سے میل ملاپ کی صلاحیتوں اور اس کے روئیے کو متا ثر کرتی ہے۔
آٹزم کاتعلق کچھ طبی کیفیتوں سے تو ہو سکتا ہے لیکن بدقسمتی سے نہ تو ابھی تک آٹزم کی اصل وجہ اور نہ ہی اس کا کوئی حتمی علاج دریافت ہو سکا ہے ۔ بچوں میں اس کی علامات اٹھارہ ماہ سے تین سال کی عمر میں ظاہر ہوتی ہیں۔
ہمارے ملک میں آٹزم کے بارے میں آگاہی بہت کم ہے ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً تین سے پانچ لاکھ بچے آٹزم کے مرض کا شکار ہیں ۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے ہاں کے ڈاکٹرز کی بھی اس معاملے میں آگاہی خاصی مایوس کن ہے۔ ایک سروے کے مطابق پچاس فیصد سے زائد ڈاکٹرز آٹزم کے بارے میں مناسب آگاہی نہیں رکھتے اور یہی وجہ ہے کہ بچوں کی اکثریت کی بروقت تشخیص نہیں ہوپاتی ۔
آٹزم سے متاثرہ بچہ عموما ان پرابلمز کا شکار ہوسکتا ہے:۔
۔ بول چال میں دشواری ۔ یا تو بالکل بول نہیں سکنا، یا ٹوٹے پھوٹے اور بے ربط الفاظ میں مدعا بیان کرنا
۔ لوگوں سے میل ملاپ میں جھجھک اورلوگوں سے نظریں چارکرنے سے پر ہیز کرنا
۔ اپنے رویہ اور خیالات کے اظہار میں دشواری محسوس کرنا
کچھ علامات جو آٹزم سے متاثر بچوں میں نظر آتی ہیں مندرجہ ذیل ہیں :-
ہو سکتا ہے کہ آٹزم سے متاثر بچہ
۔ بالکل بول نہ سکتا ہو یا اتنی اچھی طرح اور اس ر وانی سے بات نہ کر سکتا ہے جتنی روانی سے اس کے ہم عمر بچے کرسکتے ہوں
۔ اپنے اطراف میں مو جود لوگوں کی موجودگی کے احساس سے محروم ہو
۔لوگوں سے نظریں چار کرنے سے کتراتا ہو
۔ کچھ آلات یا اشیا مثلاً بجلی کے سوئچ، پنکھے اور گھومنے والے پرزے یا کھلونوں کے ساتھ غیر معمولی لگاؤ
۔ کھیلتے وقت کسی فرضی کردار سے باہمی عدمِ تعاون
۔ دیگر بچوں کے ساتھ کھیل کو د میں نہ تو خود شریک ہو نا اور نہ ہی انہیں اپنے کھیل میں شریک کرنا
۔ کسی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی نہ تو کوشش کرنا اور نہ ہی چیزوں کی طرف اشارہ کرنا
۔ بار بار اپنی ہاتھوں اور انگلیوں سے غیر معمولی حرکات کامظاہرہ کرنا
۔ کسی سنی ہوئی بات یا جملے کو بے وجہ دہراتے رہنا
۔ کسی خاص آواز یا خوشبو پر ردِ عمل کا اظہار کرنا
۔ بہت سے ذائقوں کو نا پسند کرنا
۔ خود اپنی حفاظت نہ کرسکنا
۔ نہ تو اپنے کام خود کر سکنا اور نہ ہی کسی سے مد د مانگنا
۔ گرمی اور سردی کے احساس سے عاری ہونا
۔ معمول کے خلاف کسی بھی بات پر ناخوشی کا اظہار کرنا
لیکن ایک خوش آئند بات یہ بھی ہے کہ آٹزم سے متا ثر بچے بعض غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل بھی ہو سکتے ہیں۔ مثلاً ان کی یادداشت بہت اچھی ہو سکتی ہے، وہ حساب یا ریاضی میں مہارت رکھ سکتے ہیں یا گانے بجانے اور موسیقی کے آلات استعمال کرنے میں اپنے ہم عمر بچوں سے بہت زیادہ بہتر صلاحیتوں کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔
گو کہ مجموعی طور پر اس بیماری یا ڈس آرڈر سے متاثرہ بچوں کےحوالے سے صورت حال حوصلہ افزاء نہیں لیکن پرائیوٹ سیکٹر اور این جی اوز اس حوالے سے بڑے شہروں میں کافی کام کر رہے ہیں پاکستان سوسائٹی آف آٹزم بھی اس حوالے سے خاصی سرگرم ہے ۔ اب بڑے شہروں میں ایسے سینٹرز اور اسکولز موجود ہیں جو خصوصا آٹزم سے متاثرہ بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے بہترین کام کر رہے ہیں ۔
ہمارے بچے ہمارہ سرمایہ ہیں یہ وہ چراغ ہیں جو ہم نے ظلمت شب کے شکوے کے بجائے اس دنیا میں چھوڑ کے جانا ہے۔
References:-
Autism without Border
Autism Resource Centre Pakistan
Kanwal Tariq Article - The future of over 300,000 autistic children in Pakistan is in your hand.
(Express Tribune 26 August 2016)