Rohani Dunyia

Rohani Dunyia We hope that this information may help u in obtaining the purity of soul & help improve ur spiritual health
Istikhara,Monthly Amliyaat,Tavezat,Fate & Luck.

17/08/2025

❤ اللَّـﮬـُمَّ صـَلِِّ وَسَلِّـمْ وَبَارِكْ ؏َـلَى❤ سَيِّدِنَا مُحَمَّد
وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ❤ وَسَلِّمْ تَسْلِيمَاً كَثِيرَاً ﷺ

12/08/2025

اللہ اللہ اللہ

11/08/2025

💕 "لا حول ولا قوة إلا بالله" 💕
کا کثرت سے ورد کرنا بہت عظیم عبادت ہے۔ جب تم اسے لازم پکڑو گے، تو:

▫️اللہ تمہاری بصیرت روشن کر دے گا،
▫️تمہیں درست سوچ کی توفیق دے گا،
▫️تمہارے دل کو ثابت قدم رکھے گا،
▫️تمہاری رائے کو درست کرے گا،
▫️تمہارے حوصلے کو مضبوط کرے گا،
▫️تمہیں عزت عطا کرے گا،
▫️تمہارے معاملات کو سنوار دے گا،
▫️تمہارے غم دور کرے گا،
▫️تمہاری حاجتیں پوری کرے گا،
▫️تمہارا سینہ کشادہ کرے گا،
▫️تمہارے لیے راہیں کھولے گا،
▫️اور تمہاری مدد فرمائے گا۔

🌻 ہم اللہ کے ساتھ ہی طاقتور ہوتے ہیں،
اللہ ہی سے شفا پاتے ہیں،
اللہ ہی سے دلوں کو سکون ملتا ہے۔
~♥️✨♥️

11/08/2025

لوگ چلتے چلتے اچانک کیوں گر جاتے ہیں؟ آخر توازن کھو بیٹھنے کی وجہ کیا؟طبی ماہرین نے حیرت انگیز فارمولا بتا دیا
Why Do People Suddenly Fall While Walking? | Facts & Medical Solution Watch in Video

11/08/2025

🍂🎋🍁🌾💐🍃💫
📢 *عدل اور انصاف میں کیا فرق ھے؟
ہمیں یہ بھی غلط پڑھایا گیا کہ "انصاف ہونا چاہیے"۔
حالانکہ قرآن میں انصاف کا کوئی تصور نہیں ہے۔
*یہ ایک غیر قرآنی اور غیر اسلامی اصطلاح ہے۔
اسلام ہمیں انصاف کا نہیں، عدل کا حکم دیتا ہے۔
انصاف دراصل ایک مہذب شکل میں ظلم ہے
یا یوں کہیے کہ یہ ظلم کی مہذب شکل ہے
جو صدیوں سے ہمیں نظامِ عدل کے نام پر پڑھائی، سکھائی اور نافذ کی 1️⃣ تین لوگ ہیں: ایک طاقتور، ایک درمیانہ، اور ایک کمزور۔آپ تینوں کو 10، 10 اینٹیں اٹھانے کو کہیں — یہ "انصاف" ہوگاکیونکہ برابر دیا گیالیکن طاقتور کو 15، درمیانےکو کو10 اور کمزور کو 5 اینٹیں دی جائیں
تو یہ عدل ہے۔ ہر ایک کو اس کی طاقت کے مطابق ذمہ داری ملی
2️⃣ تین طلبہ ہیں: ایک اندھا، ایک ذہین، اور ایک جسمانی معذور
اگر آپ تینوں کو ایک جیسے سوالات والا پرچہ دیں تو یہ "انصاف" ہے
لیکن دراصل یہ ظلم ہے، کیونکہ سب کی صلاحیتیں برابر نہیں
عدل یہ ہے کہ ہر طالب علم کا پرچہ اس کی استعداد کے مطابق ہو
3️⃣ تین افراد آپ کے پاس آتے ہیں: ایک بچہ، ایک بیمار، اور ایک صحت مند بالغ
آپ کے پاس تین روٹیاں، تین دودھ کے پیک، اور تین جوس ہیں
اگر آپ تینوں کو ایک ایک چیز دیں تو "انصاف" تو ہو جائے گا
مگر نتیجہ ظلم ہوگا
عدل یہ ہے کہ بچہ دودھ لے، مریض جوس لے، اور صحت مند روٹی لے
جسے جو ضرورت ہو، وہی دیا جائے
4️⃣ پاکستان میں ایک رکشے والے کو 2000روپے کا جرمانہ کیا جائے*
اور مرسیڈیز والے کو بھی اتنا ہی
تو یہ "انصاف" تو ہے،لیکن درحقیقت یہ بھی ظلم ہے
رکشے والا راشن کاٹ کر جرمانہ بھرے گا
اور مرسیڈیز والا جیب سے نوٹ نکال کر
یہ کہاں کا انصاف ہے؟
یہاں عدل ہوتا تو جرمانہ آمدنی کے مطابق ہوتا
5️⃣ فن لینڈ میں واقعی ایسا ہوتا ہے
جرمانے آمدنی کے حساب سے دیے جاتے ہیں
ایک امیر آدمی اگر تیز رفتاری کرے، تو لاکھوں روپے جرمانہ ہوتا ہے
اور ایک مزدور وہی قانون توڑے تو چند یورو کا چالان
یہی عدل ہے سب پر قانون ایک ہو، مگر جزا و سزا ان کی حیثیت کے مطابق ہو*
ہم سب کو ایک جیسا پرچہ دیتے ہیں، ایک جیسا قانون، ایک جیسا جرمانہ
اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ یہ معاشرہ ظالم کیوں بن گیا
یاد رکھیے: برابری ضروری نہیں، ضرورت کے مطابق دینا ضروری ہے
اور یہی عدل ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
> "إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ"

"بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔"
(سورہ النحل، آیت 90)
🇵🇰الحاچ پیر ظفرزوادی چشتی نظامی

11/08/2025

بھادوں کی حیرت انگیز معلومات
16 اگست سے شروع ہونے والا پنجابی مہینہ بھادوں اور اُسکی دلچسپ روایات
بھادوں پنجابی اور نانک شاہی کیلنڈر کا چھٹا مہینا ہے جو ساؤن کے بعد آتا ہے اور آٹھویں انگریزی مہینے اگست کی 16 تاریخ سے ستمبر کی 15 تاریخ تک رہتا ہے اور اس مہینے کے 31 دن شمار کیے جاتے ہیں۔

بھارتی اور پاکستانی پنجاب میں ساؤن اور بھادوں بارشوں کے مہینے ہیں جس میں مُون سُون کی بارشیں ہاڑ یعنی جون اور جولائی کی شدید گرمی کے بعد گرمی کا زور توڑ دیتی ہیں اسی لیے بھادوں کو پنجاب میں اچھے موسم والا مہینہ جسکی گرمی برداشت کے قابل ہوتی ہے تصور کیا جاتا ہے۔
بابا گُرو نانک جو سکھوں کے سب سے بڑے گُرو ہیں اپنی کتاب گُرو گرنتھ صاحب میں لکھتے ہیں کہ "بھادوں بارش کا مہینہ انتہائی خوبصورت مہینہ ہے اور ساؤن اور بھادوں رحمت والے مہینے ہیں جس میں بادل نیچے اُترتا ہے اور تیز بارش برساتا ہے جس سے پانی اور زمین شہد سے بھر جاتے ہیں اورخالق زمین پر گھومتا ہے”۔
روایات میں ہے کہ پنجابی کے 12 مہینوں کے نام گیاراں بھائیوں (ویساکھ، جیٹھ، ہاڑ، ساون، اسو، کتک، مگھر، پوہ، ماگھ، پھگن، جیت اور 1 بہن (بھادوں) کے نام پر رکھے گئے یعنی سال کے سارے مہینوں میں بھادوں گیاراں بھائیوں کی اکلوتی اور انتہائی لاڈلی بہن ہے۔

مزید روایات میں ہے کہ بھادوں جہاں انتہائی لاڈی اور میٹھی ہے وہاں منہ زور، نکی چڑی، تیکھی اور چُبھنے والی بھی ہے اسی لیے اس مہینے کی گرمی اگر تیز ہوجائے تو انسان پسینے سے شرابور ہوجاتا ہے، اس مہینے میں ہوا اگر چلتی ہو تو انتہائی سہانہ موسم ہوتا ہے اور ہوا اگر بند ہو جائے تو سانس بھی بند ہو جاتی ہے۔
کہتے ہیں بھادوں اگر برسے تو زمین پر رہنے والی مخلوق چرند، برند، حشرات سبھی اپنے گھروں سے باہر نکلتے ہیں اور اس دلفریب موسم کے مزے لُوٹتے ہیں اور بھادوں اگر خُشک ہو جائے تو یہ ہر چیز کو خشک کرکے رکھ دیتی ہے اس لیے اس موسم میں رب کائنات سے رحمت کی دُعائیں مانگنی چاہیے تاکہ اس موسم کی سختی سے بچا جا سکے۔
بھادوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ جیٹھ اور ہاڑ کی شدید گرمی کو ختم کرنے کے بعد جب خُود ختم ہوتی ہے تو اپنے وجود کو کھونے کے ساتھ یہ زمین پر بہار کو جنم دیتی ہے اور موسم کو زمین والوں کے لیے انتہائی خوشگوار بنا دیتی ہے۔

پنجابی اور نانک شاہی کلینڈر کا آغاز 1469 میں بابا گُرو نانک کی پیدائش کے دن سے کیا جاتا ہے اور اس آرٹیکل میں اس مہینے اور کیلینڈر کا ذکر آپ کی معلومات میں اضافے کے لیے کیا جارہا ہے۔

11/08/2025

💜 ناقابل یقین انفارمیشن 📖

قرآن حکیم کا دعویٰ ہے کہ اس میں کوئی باطل بات داخل نہیں ہو سکتی اس لئے کہ قرآن حکیم کا ایک ایک حرف اتنی زبردست کیلکولیشن (calculation) اور اتنے حساب و کتاب کے ساتھ اپنی جگہ پر فِٹ ہے کہ اسے تھوڑا سا اِدھر اُدھر کرنے سے وہ ساری کیلکولیشن درھم برھم ہوجاتی ہے جِس کے ساتھ قرآنِ پاک کی اعجازی شان نمایاں ہے ۔

اتنی بڑی کتاب میں اتنی باریک کیلکولیشن کا کوئی رائٹر تصوّر بھی نہیں کرسکتا۔

بریکٹس میں دیے گئے یہ الفاظ بطور نمونہ ہیں ورنہ قرآن کا ہر لفظ جتنی مرتبہ استعمال ہوا ہے وہ تعداد اور اس کا پورا بیک گراؤنڈ اپنی جگہ خود عِلم و عِرفان کا ایک وسیع جہان ہے۔
دُنیا کا لفظ اگر 115 مرتبہ استعمال ہوا ہے تو اس کے مقابل آخرت کا لفظ بھی 115 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ وعلیٰ ھٰذِہِ القِیاس۔

(دُنیا وآخرت:115) (شیاطین وملائکہ:88) ( موت وحیات:145) (نفع وفساد:50) (اجر و فصل108) (کفروایمان :25) (شہر:12) کیونکہ شہر کا مطلب مہینہ اور سال میں 12 مہینے ہی ہوتے ہیں اور یوم کا لفظ 360 مرتبہ استعمال ہوا ہے ۔

اتنی بڑی کتاب میں اس عددی مناسبت کا خیال رکھنا کسی بھی انسانی مصنّف کے بس کی بات نہیں، مگر بات یہیں ختم نہیں ہوتی ۔۔۔

جدید ترین ریسرچ کے مطابق قرآن حکیم کے حفاظتی نظام میں 19 کے عددکا بڑا عمل دخل ہے ،

اس حیران کن دریافت کا سہرا ایک مصری ڈاکٹر راشد خلیفہ کے سر ہے جو امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں کیمسٹری کے پروفیسر تھے۔

1968ء میں انہوں نے مکمل قرآنِ پاک کمپیوٹر پر چڑھانے کے بعد قرآنِ پاک کی آیات ان کے الفاظ و حروف میں کوئی تعلق تلاش کرنا شروع کردیا رفتہ رفتہ اور لوگ بھی اس ریسرچ میں شامل ہوتے گئے حتیٰ کہ 1972ء میں یہ ایک باقاعدہ اسکول بن گیا۔

ریسرچ کا کام جونہی آگے بڑھا اُن لوگوں پر قدم قدم پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ،
قرآنِ حکیم کے الفاظ و حروف میں انہیں ایک ایسی حسابی ترتیب نظر آئی جس کے مکمل اِدراک کیلئے اُس وقت تک کے بنے ہوئے کمپیوٹر ناکافی تھے۔

کلام اللہ میں 19 کا ہندسہ صرف سورہ مدثر میں آیا ہے جہاں اللہ نے فرمایا:

دوزخ پر ہم نے اُنیس محافظ فرشتوں کو مقرر کر رکھا ہے اس میں کیا حکمت ہے یہ تو رب ہی جانے لیکن اتنا اندازہ ضرور ہوجاتا ہے کہ 19 کے عدد کا تعلق اللہ کے کسی حفاطتی انتظام سے ہے

پھر ہر سورة کے آغاز میں قرآنِ مجید کی پہلی آیت *بِسم اللہ* کو رکھا گیا ہے گویا کہ اس کا تعلق بھی قرآن کی حفاظت سے ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں بِسم اللہ کے کُل حروف بھی 19 ہی ہیں ،

پھر یہ دیکھ کر مزید حیرت میں اِضافہ ہوتا ہے کہ بسم اللہ میں ترتیب کے ساتھ چار الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور ان کے بارے میں ریسرچ کی تو ثابت ہوا کہ اِسم پورے قرآن میں 19 مرتبہ استعمال ہوا ہے ۔

لفظ الرَّحمٰن 57 مرتبہ استعمال ہوا ہے جو 3×19 کا حاصل ہے اور لفظ الرَّحِیم 114 مرتبہ استعمال ہوا ہے جو 6×19 کا حاصل ہے اور لفظ اللہ پورے قرآن میں 2699 مرتبہ استعمال ہوا ہے 142×19 کا حاصل ہے ، لیکن یہاں بقیہ ایک رہتا ہے جس کا صاف مطلب ہے کہ اللہ کی ذات پاک کسی حِساب کے تابع نہیں ہے وہ یکتا ہے۔

قرآن مجید کی سورتوں کی تعداد بھی 114 ہے جو 6×19 کا حاصل ہے ۔

سورہ توبہ کےآغاز میں بِسم اللہ نازل نہیں ہوئی لیکن سورہ نمل آیت نمبر 30 میں مکمل بِسم اللہ نازل کرکے 19 کے فارمولا کی تصدیق کردی اگر ایسا نہ ہوتا تو حسابی قاعدہ فیل ہوجاتا۔

اب آئیے حضور علیہ السَّلام پر اُترنے والی پہلی وحی کی طرف : یہ سورہ علق کی پہلی 5 آیات ہیں :اور یہیں سے 19 کے اِس حسابی فارمولے کا آغاز ہوتا ہے!

ان 5 آیات کے کل الفاظ 19 ہیں اور ان 19 الفاظ کے کل حروف 76 ہیں جو ٹھیک 4×19 کا حاصل ہیں لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی جب سورہ علق کے کل حروف کی گنتی کی گئ تو عقل تو ورطہ حیرت میں ڈوب گئی کہ اسکے کُل حروف 304 ہیں جو 4×4×19 کا حاصل ہیں۔

اور سامعین کرام !
عقل یہ دیکھ کر حیرت کی اتھاہ گہرائیوں میں مزید ڈوب جاتی ہے کہ قرآنِ پاک کی موجودہ ترتیب کے مُطابق سورہ علق قرآن پاک کی 96 نمبر سورة ہے اب اگر قرآن کی آخری سورة اَلنَّاس کی طرف سے گِنتی کریں تو اخیر کی طرف سے سورہ علق کا نمبر 19 بنتا ہے اور اگر قرآن کی اِبتدأ سے دیکھیں تو اس 96 نمبر سورة سے پہلے 95 سورتیں ہیں جو ٹھیک 5×19 کا حاصلِ ضرب ہیں جس سے یہ بھی ثابت ہوجاتا ہے کہ سورتوں کے آگے پیچھے کی ترتیب بھی انسانی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حِسابی نظام کا ہی ایک حِصّہ ہے۔

قرآنِ پاک کی سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورة سورۂ نصر ہے

یہ سن کر آپ پر پھرایک مرتبہ خوشگوار حیرت طاری ہوگی کہ اللہ پاک نے یہاں بھی 19 کا نِظام برقرار رکھا ہے ، پہلی وحی کی طرح آخری وحی سورہ نصر ٹھیک 19 الفاظ پر مشتمل ہے یوں کلام اللہ کی پہلی اور آخری سورت ایک ہی حِسابی قاعدہ سے نازل ہوئیں۔

سورۂ فاتحہ کے بعد قرآن حکیم کی پہلی سورة سورۂ بقرہ کی کُل آیات 286 ہیں اور 2 ہٹادیں تو مکّی سُورتوں کی تعداد سامنے آتی ہے 6 ہٹا دیں تو مدنی سورتوں کی تعداد سامنے آتی ہے۔ 86 کو 28 کے ساتھ جمع کریں تو کُل سورتوں کی تعداد 114 سامنے آتی ہے۔

آج جب کہ عقل وخرد کو سائنسی ترقی پر بڑا ناز ہے یہی قرآن پھر اپنا چیلنج دہراتا ہے ۔۔۔۔۔

حسابدان، سائنسدان، ہر خاص وعام مومن کافر سبھی سوچنے پر مجبور ہیں کہ آج بھی کِسی کِتاب میں ایسا حِسابی نظام ڈالنا انسانی بساط سے باہر ہے طاقتور کمپوٹرز کی مدد سے بھی اس جیسے حسابی نظام کے مطابق ہر طرح کی غلطیوں سے پاک کسی کتاب کی تشکیل ناممکن ہوگی ۔

لیکن چودہ سو سال پہلے تو اس کا تصوّر ہی محال ہے لہذا کوئی بھی صحیح العقل آدمی اس بات کا انکار نہیں کر سکتا کہ قرآنِ کریم کا حِسابی نظام اللہ کا ایسا شاہکار معجزہ ہے جس کا جواب قیامت تک کبھی بھی نہیں ہوسکتا۔

اور قرآن میں اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ "پوچھ لو گِنتی کرنے والوں سے" ۔۔۔۔۔

القرآن کی روز تِلاوت کیا کرین اللہ ہم سب کو قران پاک پڑھنے سمجھنے کی توفیق عطا فرماۓ اور ہمارے دِلوں میں ایمان کو سلامت رکھے اور اللہ کے احکام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین ۔

اِتنی قیمتی انفارمیشن صدقۂ جاریہ سمجھ کے سب تک پہنچائیں ۔

Address

Multan

Telephone

+923077473977

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rohani Dunyia posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Rohani Dunyia:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram