الرحمت میڈی کئیر

الرحمت میڈی کئیر Doctor,! A Mission for well being of public with the willingness of people.
🎓🚑

نیبولائزیشن(Nebulization ) کیا ہے اور اس کی اہمیت کیا ہے؟نیبولائزیشن کیا ہے؟نیبولائزیشن ایک drug delivery mechanism ہے ج...
30/12/2025

نیبولائزیشن(Nebulization ) کیا ہے اور اس کی اہمیت کیا ہے؟
نیبولائزیشن کیا ہے؟
نیبولائزیشن ایک
drug delivery mechanism
ہے جس میں دوا کو مائع حالت سے باریک دھند (aerosol) میں تبدیل کر کے سانس کے راستے سیدھا پھیپھڑوں تک پہنچایا جاتا ہے۔
یوں دوا معدہ یا خون کے لمبے راستے سے گزرے بغیر براہِ راست اپنے ٹارگٹ آرگن (Target Organ)پر کام کرتی ہے۔
یہ
high precision، low wastage
Approach
ہے۔
اس کی اہمیت کیوں ہے؟
بچوں میں سانس کی نالیاں تنگ اور حساس ہوتی ہیں، اس لیے systemic دوائیں اکثر سست اور سائیڈ ایفیکٹس والی ثابت ہوتی ہیں۔ نیبولائزیشن اس gap کو smartly fill کرتی ہے۔
دوا فوراً اثر کرتی ہے،
خاص طور پر wheezing اور bronchospasm میں
کم مقدار میں دوا دے کر زیادہ فائدہ حاصل ہوتا ہے
syrup یا injection کی نسبت سائیڈ ایفیکٹس کم ہوتے ہیں
شیر خوار یا وہ بچے جو inhaler استعمال نہیں کر سکتے،
ان کے لیے practical solution ہے
emergency
(ایمر جنس) میں
یہ time saving intervention بن جاتی ہے
کن بیماریوں میں زیادہ مفید ہے؟
Asthma, bronchiolitis, croup, acute wheeze, اور بعض
cases میں pneumonia کے ساتھ bronchospasm
یعنی جہاں مسئلہ ایئر ویز میں ہو، وہاں نیبولائزیشن value add کرتی ہے۔
ایک اہم clarification
نیبولائزیشن آکسیجن کا نعم البدل نہیں اور نہ ہی ہر کھانسی یا بخار کا حل ہے۔ یہ indication-driven therapy ہے، routine نہیں۔ غیر ضروری استعمال benefit کے بجائے dependency اور غلط reassurance پیدا کرتا ہے۔
Bottom line
نیبولائزیشن بچوں میں سانس کی بیماریوں کے لیے ایک focused، efficient اور clinically powerful tool ہے—بشرطیکہ درست مریض، درست دوا اور درست وقت پر استعمال ہو۔
یہ علاج نہیں، مگر علاج تک پہنچنے کا ایک نہایت مؤثر راستہ ہے۔
بچوں میں نیبولائزیشن اصل میں ایک چھوٹا سا آپریشنل پروسیس(Operational Process) ہے:
دوا کو مائع سے باریک دھند (mist) میں بدل کر سیدھا پھیپھڑوں تک پہنچانا۔
خاص طور پر تیز اثر، کم سسٹیمک سائیڈ ایفیکٹس(Systemic Side infection )، اور بہتر ایئر وے کنٹرول(Air Way Control)۔
طریقہ کار سادہ ہے، مگر استعمال میں ex*****on میں احتیاط ضروری ہے:
* سب سے پہلے سیٹ اپ(Setup) درست کریں۔
* نیبولائزر مشین(Nebulizer Machine)، ماسک یا ماؤتھ پیس(Mask or Mouth Piece)، اور ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا (اکثر saline کے ساتھ dilute کی جاتی ہے) تیار رکھیں۔
* دوا ہمیشہ prescribed مقدار میں ہونی چاہیے
یہ non-negotiable ہے۔
* بچے کو سیدھا بٹھائیں؛
اگر شیر خوار ہے تو گود میں نیم سیدھی پوزیشن میں رکھیں۔
لیٹا کر نیبولائزیشن کرنے سے efficacy کم ہو جاتی ہے۔
* اب ماسک فِٹ کریں۔
* ماسک ناک اور منہ کو اچھی طرح کور (Cover)کرے، لیکج نہ ہو۔ رونے والا بچہ بھی دوا لے لیتا ہے
* یہ myth ہے کہ رونے سے نیبولائزیشن ضائع ہو جاتی ہے، مگر پرسکون بچہ بہتر drug delivery دیتا ہے۔
مشین آن کریں۔
* بچے کو نارمل سانس لینے دیں؛ گہری سانسیں کروانے کی ضرورت نہیں۔
* پورا سیشن عموماً 5–10 منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے،
* جب تک مائع ختم نہ ہو جائے۔
اختتام پر post procedure care کریں۔
* اگر steroid نیبولائز ہوا ہو تو بچے کا منہ صاف کروائیں یا پانی کے چند گھونٹ پلائیں تاکہ thrush کا رسک کم ہو۔
* مشین کے حصے دھو کر سکھانا process hygiene کا حصہ ہے۔
اہم strategic نکات:
* نیبولائزیشن صرف wheeze، bronchospasm، یا ڈاکٹر کے واضح indication پر کریں، ہر کھانسی پر نہیں
* خود سے دوا یا frequency نہ بڑھائیں یہ overutilization ہے
بخار یا pneumonia میں نیبولائزیشن routine نہیں، indication-based intervention ہے
Bottom line:
* نیبولائزیشن کو جادو نہیں، ایک targeted drug-delivery system ہے۔
* درست مریض، درست دوا، درست طریقہ—
* تبھی optimal outcomes ملتے ہیں۔

بچوں میں ہیلمٹ تھراپی (Helmet Therapy)ہیلمٹ تھراپی ایک غیر جراحی (Non-surgical) طریقۂ علاج ہے جو بچوں کے سر کی شکل درست...
29/12/2025

بچوں میں ہیلمٹ تھراپی (Helmet Therapy)
ہیلمٹ تھراپی ایک غیر جراحی (Non-surgical) طریقۂ علاج ہے جو بچوں کے سر کی شکل درست کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، خاص طور پر جب سر ایک طرف سے چپٹا ہو۔
❓ ہیلمٹ تھراپی کیا ہے؟
یہ ایک خاص میڈیکل ہیلمٹ ہوتا ہے جو بچے کے سر پر پہنایا جاتا ہے۔ یہ ہیلمٹ نرم اور محفوظ ہوتا ہے اور سر کی نشوونما کو درست سمت میں بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔
👶 کن بچوں کو ضرورت ہوتی ہے؟
ہیلمٹ تھراپی عموماً ان بچوں میں کی جاتی ہے جن میں:
Plagiocephaly (سر ایک طرف سے چپٹا)
Brachycephaly (سر پیچھے سے زیادہ چپٹا)
Scaphocephaly (سر لمبا اور پتلا)
اکثر یہ مسئلہ:
ایک ہی پوزیشن میں زیادہ لٹانے
گردن کے پٹھوں کی کمزوری (Torticollis)
قبل از وقت پیدائش (Prematurity) کی وجہ سے ہوتا ہے۔
⏰ شروع کرنے کا بہترین وقت
4 سے 12 ماہ کی عمر بہترین سمجھی جاتی ہے
6 ماہ سے پہلے نتائج زیادہ اچھے ہوتے ہیں
18 ماہ کے بعد فائدہ کم ہو جاتا ہے
⌛ ہیلمٹ کتنی دیر پہنایا جاتا ہے؟
دن میں 20–23 گھنٹے
مدت عموماً 3 سے 6 ماہ (کیس پر منحصر)
✅ ہیلمٹ تھراپی کے فائدے
سر کی شکل بتدریج بہتر ہو جاتی ہے
دماغ پر کوئی دباؤ نہیں پڑتا
درد نہیں ہوتا
سرجری کی ضرورت نہیں پڑتی
⚠️ اہم باتیں
ہیلمٹ صرف ماہر ڈاکٹر (Paediatrician / Neurosurgeon / Orthotist) کے مشورے سے لگوائیں
یہ تھراپی دماغی نشوونما کو متاثر نہیں کرتی، صرف سر کی شکل درست کرتی ہے
صفائی اور فالو اپ بہت ضروری ہیں
❓ کیا ہر بچے کو ہیلمٹ کی ضرورت ہوتی ہے؟
نہیں۔
ہلکے کیسز میں:
پوزیشن بدلنا
فزیوتھراپی
سے بھی مسئلہ ٹھیک ہو جاتا ہے۔


14/12/2025

‏کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں کوشش کریں کہ ہمیشہ سرکاری ہسپتال جائیں۔

سرکاری ہسپتال کا جونیئر ترین ڈاکٹر یا ہاؤس آفیسر یا پیرامیڈیکل سٹاف بھی ایمرجنسی صورت حال سے نمٹنے کی بہترین صلاحیت رکھتا ہے اور سینئر ڈاکٹر بھی اگر بالفرض موقع پر ایمرجنسی میں موجود نہیں تب بھی وہ ہمیشہ رابطے میں ہوتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر فوری طور پر پہنچ بھی جاتے ہیں۔

خواہ آپ جتنے بھی امیر ہوں ایمرجنسی ہمیشہ سرکاری ہسپتال میں اچھی مینیج ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ریسکیو 1122 بھی ہمیشہ مریض کو سرکاری ہسپتال لے کر جاتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل کے ہاتھوں میں صرف کوشش کرنا ہے صحت دینا یا زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

اس آگہی کو آگے پھیلائیں، شعور پھیلانا بھی صدقہ ہے

#1122

30/10/2025

🦟 ڈینگی فیور(Dengue fever)
کیا ہے؟

ڈینگی فیور ایک وائرس سے پھیلنے والی بیماری ہے جو ایڈیز ایجپٹائی (Aedes aegypti) نامی مچھر کے کاٹنے سے ہوتی ہے۔
یہ مچھر دن کے وقت، خاص طور پر صبح اور شام کے وقت کاٹتا ہے۔

⚠️ ڈینگی کی علامات

ڈینگی کی ابتدائی علامات عام بخار کی طرح ہوتی ہیں، لیکن تھوڑے وقت بعد شدت اختیار کر سکتی ہیں:
1. تیز بخار (104°F یا اس سے زیادہ)
2. سر، آنکھوں، جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد
3. جلد پر سرخ دھبے یا ریش
4. الٹی یا متلی
5. کمزوری، بھوک میں کمی
6. بعض صورتوں میں خون بہنے کی علامات (مسوڑھوں یا ناک سے خون آنا)

🏥 ڈینگی کی پیچیدگیاں

اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ بیماری ڈینگی ہیمرجک فیور یا ڈینگی شاک سنڈروم بن سکتی ہے، جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
اس لیے مریض کو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

🛡️ ڈینگی سے بچاؤ کے اقدامات

یہ بیماری کا علاج نہیں بلکہ بچاؤ ہی بہترین طریقہ ہے۔

🌿 گھروں اور آس پاس کے علاقے میں:
• پانی جمع نہ ہونے دیں (گملے، ٹائروں، ٹینکیوں، پرانے برتن وغیرہ میں)
• ہر ہفتے پانی کے برتن صاف کریں
• گھروں میں مچھر مار اسپرے یا کوائل استعمال کریں
• دروازے اور کھڑکیاں بند رکھیں یا جالیاں لگائیں

👕 جسم کی حفاظت:
• پورے بازو والے کپڑے پہنیں
• بچوں کو مچھر سے بچانے والی کریم یا لوشن لگائیں
• رات کو مچھر دانی استعمال کریں

🩺 اگر بخار ہو جائے:
• فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں
• خود سے اسپرین یا بروفن استعمال نہ کریں

• پانی زیادہ پئیں اور آرام کریں
محفوظ رہیں، صحت مند رہیں!

آئیں، خود کا اور ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔

ذیابیطس (شوگر) اور HbA1c ٹیسٹذیابیطس ایک ایسی بیماری ہے جس میں خون میں شکر (گلوکوز) کی مقدار نارمل سطح سے زیادہ ہو جاتی ...
08/10/2025

ذیابیطس (شوگر) اور HbA1c ٹیسٹ

ذیابیطس ایک ایسی بیماری ہے جس میں خون میں شکر (گلوکوز) کی مقدار نارمل سطح سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ یہ بیماری زیادہ تر دو اقسام میں پائی جاتی ہے:

ذیابیطس کی اقسام

1. ٹائپ 1 ذیابیطس

یہ زیادہ تر بچوں یا کم عمر افراد میں ہوتی ہے۔اور اکثر پیدائشی بھی ہوتی۔

اس میں جسم کا مدافعتی نظام انسولین بنانے والے خلیوں پر حملہ کرتا ہے، جس کے نتیجے میں انسولین بالکل نہیں بنتی۔

مریض کو زندگی بھر انسولین لگانی پڑتی ہے۔

2. ٹائپ 2 ذیابیطس

یہ عام طور پر بڑی عمر کے افراد میں پائی جاتی ہے، لیکن اب نوجوانوں میں بھی بڑھ رہی ہے۔ آجکل کا غیر صحت مند لائف سٹائل بڑی وجہ ہے۔

اس میں جسم یا تو انسولین صحیح مقدار میں نہیں بناتا یا پھر انسولین کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔

اس کی بڑی وجوہات میں موٹاپا، کم ورزش، غیر متوازن خوراک اور وراثتی تاریخ بھی شامل ہیں۔

علاج میں دوا، خوراک کا کنٹرول اور ورزش اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

HbA1c ٹیسٹ کیا ہے؟

HbA1c ایک خون کا ٹیسٹ ہے جو پچھلے تین مہینے میں خون میں موجود شکر کی اوسط سطح دکھاتا ہے۔ یہ ٹیسٹ ڈاکٹر کو بتاتا ہے کہ مریض کی شوگر کتنی کنٹرول میں رہی ہے۔ یہ ٹیسٹ 30 سال کی عمر سے زیادہ ہر فرد کو کرانا چاہیے بعض اوقات انسان شوگر میں مبتلا ہوتا ہے لیکن اسکا علم نہیں ہوتا کیونکہ شوگر کی کوئی بڑی علامات نہیں ہوتی۔

HbA1c کے نتائج:

5.6% یا کم → نارمل

5.7% سے 6.4% → پری ڈائیبیٹیز (یعنی ذیابیطس ہونے کا امکان زیادہ)

6.5% یا زیادہ → ذیابیطس

ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 ذیابیطس میں HbA1c کا کردار

ٹائپ 1 ذیابیطس میں یہ ٹیسٹ بتاتا ہے کہ انسولین کے استعمال سے مریض کی شوگر کتنی بہتر کنٹرول ہوئی ہے۔

ٹائپ 2 ذیابیطس میں یہ ٹیسٹ ظاہر کرتا ہے کہ دوا، خوراک اور ورزش سے مریض کی حالت کتنی بہتر ہو رہی ہے۔

دونوں اقسام میں یہ ٹیسٹ علاج میں تبدیلی کے لیے ڈاکٹر کو رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

ذیابیطس کنٹرول کرنے کے طریقے۔

باقاعدگی سے HbA1c اور بلڈ شوگر ٹیسٹ کروانا۔
صحت مند اور متوازن غذا کھانا۔
سفید آٹے اور بیکری آئٹم کا کم استعمال
جوس اور سوفٹ ڈرنک کا کم استعمال
روزانہ واک یا ورزش کرنا۔
ٹائپ 1 میں انسولین کا استعمال لازمی ہے۔

ٹائپ 2 میں ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق دوا یا کبھی انسولین لینا پڑ سکتا ہے۔
تمباکو نوشی ، الکوحل اور زیادہ چکنائی والی غذا سے پرہیز کریں۔

01/10/2025

الرجی کیا ہے اور یہ کیوں ہوتی ہے؟؟

پارٹ ۔ 1
الرجی دراصل جسم کے مدافعتی نظام کی ایک غیر معمولی ردعمل ہے۔ جب جسم کو کوئی ایسا مادہ ملتا ہے جو عام طور پر نقصان دہ نہیں ہوتا، تو مدافعتی نظام اسے دشمن سمجھ کر ضرورت سے زیادہ ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ اس سے چھینکیں، خارش، سوجن، دمہ، جلد پر دانے یا سانس کی تکالیف جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

الرجی کیوں ہوتی ہے ؟؟

اس کے کئی عوامل ہیں

موروثی وجہ: اگر خاندان میں الرجی ہے تو امکان بڑھ جاتا ہے۔
مدافعتی نظام کی حساسیت: کچھ لوگوں کا جسم چند مخصوص چیزوں پہ زیادہ ردعمل دیتا ہے

الرجی کی اہم اقسام

1. سانس کی الرجی (Respiratory Allergy)

دمہ (Asthma)

ناک کی الرجی (Allergic Rhinitis, Hay Fever)

2. جلدی الرجی (Skin Allergy)

ایگزیما (Eczema)

چھپاکی/خارش (Urticaria, Hives)

کانٹیکٹ ڈرماٹائٹس (کسی چیز کو چھونے سے)

3. خوراک کی الرجی (Food Allergy)

مچھلی، جھینگا، مونگ پھلی، خشک میوہ جات وغیرہ۔

4. دوائی کی الرجی (Drug Allergy)

اینٹی بائیوٹکس (مثلاً پینسلن)

درد ختم کرنے والی دوائیں (NSAIDs)

5. کیڑے یا ڈنک کی الرجی (Insect Allergy)

شہد کی مکھی، بھڑ یا چیونٹی کے ڈنک سے۔

6. موسمی الرجی (Seasonal Allergy)

بہار میں پولن (Pollen Allergy)

موسم بدلنے پر چھینکیں، آنکھوں میں پانی، سانس کی تنگی۔

سانس کی الرجی کیوں ہوتی ہے؟

سانس کی الرجی اس وقت ہوتی ہے جب ہمارا مدافعتی نظام (Immune System) سانس کے راستے سے داخل ہونے والے عام ذرات کو دشمن سمجھ کر زیادہ ردعمل دیتا ہے۔ اس کی بڑی وجوہات:

پولن الرجی: درختوں اور پودوں کے پھولوں کا زرد ذرّہ
فضائی آلودگی: گرد و غبار دھول مٹی کے جراثیم اور دھول کے کیڑے

پالتو جانوروں کے بال یا ان کی خشکی (Animal dander)

کپڑا، قالین یا پرانے فرنیچر میں چھپی الرجی والی چیزیں

سگریٹ کا دھواں، آلودگی یا کیمیکل

موسمی تبدیلی (خاص طور پر بہار اور خزاں میں)

یہ سب چیزیں سانس کے راستے میں سوزش، تنگی یا بلغم پیدا کرتی ہیں۔

سانس کی الرجی کی اقسام

1. ناک کی الرجی (Allergic Rhinitis / Hay Fever)

بار بار چھینکیں

ناک بہنا یا بند ہونا

آنکھوں میں پانی یا خارش

2. دمہ (Asthma)

سانس لینے میں دشواری

سیٹی جیسی آواز (Wheezing)

سینے میں جکڑن

کھانسی، خاص طور پر رات کو یا صبح کے وقت

3. ایٹاپک الرجی (Atopic Allergy)

یہ الرجی اکثر بچپن سے شروع ہوتی ہے اور سانس کے ساتھ جلد پر بھی اثر ڈالتی ہے۔

4. موسمی سانس کی الرجی (Seasonal Respiratory Allergy)

بہار یا خزاں کے موسم میں ہوا میں نمی اور پولن زیادہ ہونے پر ظاہر ہوتی ہے۔

5. پریینئیل الرجی (Perennial Allergy)

سال بھر رہتی ہے، خاص طور پر گھر کی دھول یا پالتو
جانوروں کی وجہ سے۔

علاج !
ویکسینیشن اس کا مناسب علاج ھے
صفائی کا خاص خیال رکھیں
متعلقہ پولن یا الرجن سے بچاؤ یا حفاظتی تدابیر اختیار کی جاۓ

‏اگر کوئی پاگل کتا (احتیاطی طور پر کوئی بھی کتا)  کاٹ لے تو فوری انٹی باڈی RIG لگوائیں اور ریبیز کی ویکسین کا کورس ضرور ...
28/09/2025

‏اگر کوئی پاگل کتا (احتیاطی طور پر کوئی بھی کتا) کاٹ لے تو فوری انٹی باڈی RIG لگوائیں اور ریبیز کی ویکسین کا کورس ضرور مکمل کریں . . چاہے بظاہر زخم بلکل معمولی یا خراش کیوں نہ ہو اور مریض بلکل ہشاش بشاش کیوں نہ ہو۔
اس سلسلے میں ہمارے ہاں آگاہی کی کمی ہے۔

اکثر لوگ اس بات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

پچھلے سال مجھے میرے بلے Cat نے کاٹ لیا تھا جو کہ غلط فہمی میں واقعہ ہوا ۔

ڈاکٹر کہتا کوئی ایسا مسلہ نہیں تو میں نے اسے مجبور کیا کہ مجھے ریبیز کی وکسین لگائی جاۓ،

اس طرح میں نے کورس مکمل کیا۔

ریبیز کے جراثیم سال دو بعد بھی ایکٹو ہو سکتے ہیں

اور جب ایسا ہو جاۓ تو یہ تقریبا لا علاج ہے،

اس لئے کبھی بھی کوتاہی نہ کریں ڈسٹرکٹ ہسپتال میں یہ موجود ہے اور بلکل فری ہے۔

یہاں ایک مریض آپ دیکھ سکتے ہیں جس نے کوتاہی کی اور اب شدید بیمار ہے،۔چوہنگ کا 27 سالہ نوجوان حامد بن اسلم کئی دنوں سے الخدمت کے فلڈ ریلیف کیمپ میں کام کر رہا تھا۔ ایک متاثرہ علاقے میں کھانا تقسیم کرنے کے دوران اسے پاگل کتے نے کاٹ لیا ، کچھ دن پہلے اس میں (Rabies) کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں تو میو ہاسپٹل میں ایڈمٹ کرایا گیا ، سوشل میڈیا پر یہ کیس ہائی لائٹ ہوا ۔ بتایا گیا کہ پرسوں حالت کچھ بہتر ہوئی، وہ کھانے پینے اور بات چیت کرنے لگا۔ خوشی ہوئی کہ حامد اب ٹھیک ہو رہا ہے ۔ لیکن آج اس کی طبیعت پہلے سے بھی بگڑ گئی ہے ۔اور اسے زنجیروں سے باندھنا پڑا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ربیز میں وقتی بہتری دھوکہ ہوتا ہے، ربیز دنیا کی سب سے جان لیوا بیماریوں میں سے ایک ہے۔ یہ وائرس جیسے ہی یہ دماغ پر حملہ کرتا ہے، اس کے بعد دنیا کی کوئی جڑی بوٹی، کوئی ٹوٹکا، کوئی دوا، کوئی ڈاکٹر، کوئی ہسپتال، کوئی ویکسین کام نہیں آتی۔ربیز کی علامات ظاہر ہو جائیں تو مریض کے زندہ بچنے کے امکانات تقریباً صفر (0–1%) رہ جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں اب تک صرف 4,5 ہی کیسز ایسے ہیں جہاں مریض بچ پایا، اور وہ بھی نایاب مثالیں ہیں۔ پنجاب اور سندھ میں آوارہ کتوں کے کاٹنے سے ہر سال کئی لوگ ربیز کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ، اول تو چھوٹے ہسپتالوں میں ربیز کی ویکسین ہی میسر نہیں ہوتی ، ہو بھی تو لوگ لگوانے میں اتنی دیر کردیتے ہیں کہ یہ وائرس اعصاب اور دماغ کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے ، پھر دنیا کا کوئی علاج ۔۔۔ اس کو ٹھیک نہیں کرسکتا ۔ پاگل کتے کے کاٹنے کے بعد علاج میں سستی ، جھاڑ پھونک، دیسی علاج یا انتظار کرنا ۔۔۔ سیدھا سیدھا موت کو آواز دینا ہے ۔

کل ایک سرکاری ڈاکٹر صاحب بتا رہے تھے کہ اگر کاٹنے کی جگہ چہرے، گردن یا انگلیوں پر ہو، یا زخم بہت گہرا ہو تو ویکسین کے ساتھ ساتھ Rabies Immunoglobulin (RIG) لگانا بھی لازمی ہوتا ہے۔ یہ وائرس کو فوراً زخم پر ہی بے اثر کرتا ہے۔ لیکن ہمارے ہسپتالوں میں (RIG) انجیکشن بروقت دستیاب نہیں ہوتا۔ مریض کو کہا جاتا ہے کل آنا ، ویکسین شارٹ ہے۔ ۔ جبکہ صرف اینٹی ریبیز ویکسین اس صورت میں ناکافی ہوتی ہے

حامد کی زندگی اور صحت کے لیے ہم سب دعا گو ہیں۔ اللہ تعالی ہی کوئی معجزہ کردے ، اس اسٹیج پر میڈیکل سائنس تو بےبس ہے ۔ لیکن کتے کے کاٹنے کے بعد ، چاہے وہ باؤلا نہ بھی ہو ، 24 گھنٹے کے اندر ویکسین لگوائیں ۔ اور حکومت سے بھی درخواست ہے جگہ جگہ آوارہ کتے پھر رہے ہیں ، کوئی گلی ، کوئی محلہ محفوظ نہیں ، ان کا بندوست کریں ، نہیں ہوسکتا تو ہسپتالوں میں (RIG) ویکسین کا تو بندوبست کرکے رکھیں ۔۔۔تاکہ کسی کا جان کا ٹکڑا ، کسی کا حامد یوں ہسپتال میں نہ تڑپے

ماں، باپ اور عوام الناس کے لیے HPV Vaccine سے متعلق اہم پیغام(از طرف: پروفیسر ڈاکٹر اذفر فروغ)*رحم کا کینسر (cervical ca...
16/09/2025

ماں، باپ اور عوام الناس کے لیے HPV Vaccine سے متعلق اہم پیغام

(از طرف: پروفیسر ڈاکٹر اذفر فروغ)

*رحم کا کینسر (cervical cancer) -- ایک خاموش قاتل*

یہ خواتین کا وہ کینسر ہے جو رحم کے منہ (cervix) پر حملہ آور ہوتا ہے۔ اسے طبی دنیا میں *"گندے ترین"* یعنی
most preventable yet most painful cancers
میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں:
1. شدید دردناک زخم اور بدبودار رطوبت خارج ہوتی ہے
2. مریضہ کا بیٹھنا، چلنا حتیٰ کہ بیت الخلا جانا بھی عذاب بن جاتا ہے
3. بہت سی مریضہ آخری اسٹیج پر اسپتال آتی ہیں، جب صرف درد کم کرنے کی دوا ہی دی جا سکتی ہے۔

*وائرس ویکسین HPV Vaccine — بیماری سے پہلے حفاظتی دیوار*

یہ ویکسین 2006 سے دنیا بھر میں استعمال ہو رہی ہے اور ہیپاٹائٹس B کی ویکسین کی طرح ایک پروٹین پر مبنی ویکسین ہے۔ اس میں:

1. نہ وائرس ہے
2. نہ کوئی mRNA یا جینیاتی مواد
3. نہ کوئی کوڈ یا خفیہ پیغام
4. بلکہ صرف ایک خ*ل (virus-like particle) ہے جو جسم کو وائرس سے لڑنا سکھاتا ہے۔

*اس ویکسین کا COVID mRNA ویکسین سے کوئی تعلق ہے؟*

یہ HPV ویکسین مکمل طور پر پرانی اور آزمودہ ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جبکہ mRNA ویکسین ایک الگ نیا تصور ہے۔
یہ HPV ویکسین:

1. انسانی DNA کو بالکل نہیں چھوتی
2. جسم میں کوئی تبدیلی یا بانجھ پن پیدا نہیں کرتی
3. صرف جسم کے مدافعتی نظام کو ایک "دشمن کی تصویر" دکھاتی ہے تاکہ اگر کبھی وہ دشمن (HPV وائرس) آئے تو فوراً اس کو مار دے۔

*9–14 سال کی بچیوں کے لیے بہترین وقت ہے، مگر شادی سے پہلے یا بعد بھی لگوائی جا سکتی ہے*

کیونکہ اس عمر میں مدافعتی نظام بہترین جواب دیتا ہے (جیسا کہ ہیپاٹائیٹس بی کی ویکسین کسی بھی عمر میں لگوائی جا سکتی ہے مگر پیدائش کے وقت لگانے سے سب سے اچھا response ملتا ہے اسی لیے اس کو EPI میں شامل کیا گیا ہے) اسی طرح HPV Vaccine سے بھی سب سے اچھا response اس عمر کی بچیوں میں آتا ہے

14 سال سے بڑی لڑکیوں کو بھی یہ ویکسین دی جا سکتی ہے، صرف doses کا شیڈول مختلف ہوگا # #

والدین چاہیں تو شادی کے وقت یا فوراً بعد بھی یہ ویکسین لگوا سکتے ہیں، فائدہ تب بھی ہوتا ہے

*آج کے ماحول میں بڑھتی ہوئی اخلاقی بیماریاں جسمانی بیماریوں کے لیے زیادہ خطرہ بن رہی ہیں*

سوشل میڈیا، سکول اور دفتر میں مرد و زن کا اختلاط، غلط تعلقات — سب کچھ ہمارے بچوں کی حفاظت کو چیلنج کر رہے ہیں

ایسی بیماری جس سے بچاؤ ممکن ہو، اس سے بچانے کی ذمہ داری والدین پر ہے

اگر ہم نے اپنے بچوں کو تعلیم، کھانا، لباس مہیا کیا ہے تو صحت بھی ہماری ذمہ داری ہے

✅ HPV ویکسین کن بیماریوں اور کینسرز سے بچاتی ہے؟

1. رحم کے منہ (Cervical) کا کینسر
یہ سب سے اہم اور عام بیماری ہے جس سے یہ ویکسین تحفظ فراہم کرتی ہے۔ 90% سے زائد کیسز HPV کی وجہ سے ہوتے ہیں۔

2. وجائنا (Vaginal) اور ف*ج (Vulvar) کا کینسر
خواتین میں HPV کی وجہ سے ہونے والے ان کینسرز سے بھی بچاؤ ممکن ہے۔

3. مقعد (A**l) کا کینسر
یہ کینسر مرد و خواتین دونوں میں HPV کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ ویکسین ان سے بھی مؤثر بچاؤ دیتی ہے۔

4. گلے (Oropharyngeal) کا کینسر
یہ کینسر حلق، زبان کی جڑ، ٹانسلز وغیرہ میں ہوتا ہے اور مردوں میں زیادہ عام ہے۔ HPV ویکسین اس کے خلاف بھی تحفظ فراہم کرتی ہے۔

5. تناسلی حصوں کے زگیل (Ge***al Warts)
HPV کے کچھ غیر کینسر پیدا کرنے والے اقسام (خصوصاً ٹائپ 6 اور 11) مرد و خواتین میں جنسی زگیل پیدا کرتے ہیں۔ ویکسین ان سے بھی بچاتی ہے۔

6. عضوِ تناسل (Pe**le Cancer)
مردوں میں نایاب لیکن ممکنہ طور پر جان لیوا عضوِ تناسل کا کینسر بھی HPV سے جڑا ہو سکتا ہے، اور ویکسین اس سے بچاؤ میں مددگار ہے۔

*ویکسین لڑکوں کے لیے بھی مفید ہے؟*

لڑکوں کو بھی یہ ویکسین دینے کی سفارش کرتے ہیں تاکہ نہ صرف وہ خود کینسر سے محفوظ رہیں بلکہ خواتین میں وائرس منتقل ہونے سے بچایا جا سکے

*شرعی نکتۂ نظر سے: حفاظتِ جان، فرضِ کفایہ ہے*

جس طرح والدین بچوں کو خنّاق، ٹی بی، ہیپاٹائیٹس اور پولیو سے بچاتے ہیں، اسی طرح HPV ویکسین دینا بھی ایک دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔
"لَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ" — "اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو" (البقرہ 195)

*📌 خلاصہ:*

1. رحم کے کینسر سے بچاؤ ممکن ہے
2. ویکسین مکمل محفوظ ہے
3. اسلامی اصولوں کے مطابق جان کی حفاظت فرض ہے
4. جھوٹے پراپیگنڈے سے بچیں
5. اپنی بچیوں کو زندگی کا تحفہ دیں

اللہ ہم سب کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین

ہیپاٹائٹس ایک خطرناک بیماری ہے جو کبھی بھی آپ کو متاثر کر سکتی ہے۔ یہ بیماری جگہ  پھیل رہی ہے لہٰذا ہمیں اپنی صحت کی حفا...
28/07/2025

ہیپاٹائٹس ایک خطرناک بیماری ہے جو کبھی بھی آپ کو متاثر کر سکتی ہے۔ یہ بیماری جگہ پھیل رہی ہے لہٰذا ہمیں اپنی صحت کی حفاظت کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

آپ اپنی صحت کی حفاظت کے لئے درج ذیل اقدامات اٹھا سکتے ہیں:
1.
ہیپاٹائٹس کی روک تھام کے لئے ویکسینیشن (Vaccination)
کا استعمال کریں۔
2.
صحیح طریقے سے ہاتھ
(Proper Hand Washing techniques)
دھوئیں اور صحیح کلین بلاکی نظامات استعمال کریں۔
3.
بیماری کی علامات
(Early diagnosis)
کو پہچانیں اور فوری طبی مدد حاصل کریں۔
4.
معمولی سرجری
(Surgical InterVentions)
اور خونی ٹرانسفیوژن
(Blood transfusion)
کے موقع پر احتیاط کریں

‏ہائپر ایکٹیو بچے‼️*اکثر والدین کی زبان پر یہ جملہ سننے کو ملتا ہے: "ہم نے ہر طریقے سے سمجھایا، پیار سے بھی، سختی سے بھی...
09/07/2025

‏ہائپر ایکٹیو بچے‼️

*اکثر والدین کی زبان پر یہ جملہ سننے کو ملتا ہے:
"ہم نے ہر طریقے سے سمجھایا، پیار سے بھی، سختی
سے بھی، لیکن بچہ مانتا ہی نہیں۔
‏تھوڑی دیر کے لئے سمجھتا ہے، پھر وہی حرکتیں دوبارہ شروع کر دیتا ہے۔" یہ صورتحال تقریباً ہر گھر میں دیکھی جاتی ہے، اور ہائپر ایکٹیو بچوں کے ساتھ یہ مسئلہ کچھ زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔

ایسے بچے جنہیں ہم ہائپر ایکٹیو کہتے ہیں،
وہ دراصل زیادہ توانائی، بے چینی اور جلد بازی کا شکار ہوتے ہیں۔
ان کا* *دماغ تیزی سے سوچتا ہے اور جسم اس کے ساتھ ساتھ حرکت میں رہتا ہے* ۔
‏یہی وجہ ہے کہ وہ کسی بات پر زیادہ دیر تک دھیان نہیں دے پاتے۔
جب ان سے کوئی غلطی سرزد ہوتی ہے اور والدین یا اساتذہ اس پر توجہ دلاتے ہیں، تو بظاہر وہ فوراً ردِ عمل دیتے ہیں۔
بعض اوقات فوراً مان بھی لیتے ہیں کہ انہوں نے غلطی کی ہے،
*لیکن ان کے دماغ میں وہ بات زیادہ دیر کے لئے ٹھہر نہیں پاتی۔
چند منٹ یا گھنٹے بعد وہ دوبارہ وہی غلطی دہرا دیتے
ہیں۔
‏یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ بچوں میں غلطی کو تسلیم کرنے اور اس سے سبق سیکھنے کا عمل بالغوں سے مختلف ہوتا ہے۔
ایک بالغ شخص ماضی کا تجزیہ کرتا ہے، اس کے نتائج کو سمجھتا ہے اور آئندہ کے لئے محتاط ہو جاتا ہے۔ جبکہ بچے، (خاص طور پر ہائپر ایکٹیو)، فوری جذبات اور توانائی کی بنیاد پر ردِ عمل دیتے ہیں۔ ان میں ضبط نفس، یادداشت اور فیصلے کی طاقت ابھی مکمل نہیں ہوئی ہوتی، اسی لئے وہ بار بار ایک ہی رویہ دہراتے ہیں۔
‏کئی بار والدین یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ بچہ ضدی ہے، یا دانستہ طور پر تنگ کر رہا ہے، حالانکہ درحقیقت ایسا نہیں ہوتا۔ بچہ کبھی کبھار اپنی اصلاح چاہتا ہے، مگر وہ خود بھی اپنی رفتار کو قابو میں نہیں رکھ پاتا۔ ایسی حالت میں بار بار کی ڈانٹ یا سختی اکثر نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ بچے کا اعتماد مجروح ہوتا ہے، اور وہ اصلاح کی بجائے مزید بے قابو ہو جاتا ہے۔
‏اس صورتحال میں والدین کے لئے سب سے ضروری چیز "تسلسل" اور "صبر" ہے۔ بچے کو ایک بار سمجھانے سے نہیں، بلکہ بار بار محبت، حکمت اور نرمی سے سمجھانے سے فرق پڑتا ہے۔ ایک ہی بات کو مختلف طریقوں سے دہرانا، اس کی زندگی سے جڑی مثالیں دینا، اور سب سے بڑھ کر اس پر اعتماد کرنا کہ وہ ایک دن سیکھ جائے گا ، یہ طرز عمل ہی کامیاب تربیت کی بنیاد ہے۔
‏*بچوں کو سمجھانے کے لئے وقت کا انتخاب بھی اہم ہے۔*
فوراً ڈانٹنے یا سمجھانے کی بجائے کبھی کبھار چند گھنٹے یا ایک دن بعد ان سے بات کی جائے تو وہ زیادہ بہتر طور پر بات سمجھتے ہیں۔ کیونکہ اس وقت ان کے جذبات ٹھنڈے ہو چکے ہوتے ہیں اور وہ زیادہ سنجیدگی سے بات سننے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔


‏فوڈ پوائزننگ (Food Poisoning)کیا آپ نے کبھی کچھ ایسا کھایا جو بظاہر بالکل ٹھیک لگ رہا تھا...لیکن چند گھنٹے بعد ہی آپ کے...
03/07/2025

‏فوڈ پوائزننگ (Food Poisoning)

کیا آپ نے کبھی کچھ ایسا کھایا جو بظاہر بالکل ٹھیک لگ رہا تھا...
لیکن چند گھنٹے بعد ہی آپ کے پیٹ میں مروڑ شروع ہو جائے،
جسم نڈھال ہو جائے،
اور باتھ روم آپ کا سب سے قریبی ساتھی بن جائے؟
یہی ہوا میرے ساتھ۔

میں نے صرف چاول اور گرلڈ چکن (Grilled chicken)کی ایک عام سی پلیٹ کھائی تھی۔
آدھی رات کو بار بار قے آنا شروع ہوگئی،
پیٹ میں شدید درد ہوا،
اور کچھ بھی ہضم نہیں رہا تھا۔

میں نے سمجھا کہ شاید میرا پرانا السر (ulcer)دوبارہ بڑھ گیا ہے۔
لیکن نہیں -
یہ ایک واضح فوڈ پوائزننگ کا کیس تھا۔

آئیے اس بارے میں بات کرتے ہیں۔

‏فوڈ پوائزننگ (Food Posioning) کیا ہے؟
فوڈ پوائزننگ ایک بیماری ہے
جو اس وقت ہوتی ہے جب آپ ایسا کھانا کھاتے ہیں
یا پانی پیتے ہیں جو آلودہ
(Contaminated food & Water intake)
ہو:
Microbial Agents
· *بیکٹیریا(Bacteria)* سے
(جیسے Salmonella، E. coli)
· وائرسز (Viruses)
سے (جیسے norovirus)
· پیراسائٹس(Parasites) سے
· یا کسی کیمیکل زہر (toxin) سے
یہ نقصان دہ جراثیم آپ کے معدے اور آنتوں (Stomach and intestines)
کو متاثر اور سوجن کا شکار کر دیتے ہیں،
جس کی وجہ سے ہلکی بے چینی (Irritability)سے لے کر شدید ڈی ہائیڈریشن(Severe Dehydration) تک مختلف علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
*وجوھات(Reasons)*
‏فوڈ پوائزننگ کی وجوہات
فوڈ پوائزننگ ہمیشہ بدبو دار یا باسی نظر آنے والے کھانے سے نہیں ہوتی۔
حقیقت یہ ہے کہ اکثر لوگ ایسے کھانے سے فوڈ پوائزننگ کا شکار ہوتے ہیں جو دیکھنے اور چکھنے میں بالکل نارمل لگتا ہے۔
عام وجوہات میں شامل ہیں:
-کچا یا صحیح سے نہ پکایا گیا(Uncooked food) گوشت یا مرغی
-بچا ہوا چاول (Remaining food)جو کمرے کے درجہ حرارت پر رکھا ہو
-گندے ہاتھ یا آلودہ کچن (Contaminated kitchen)کی سطحیں
-بغیر دھلے کچے پھل یا سلاد کھانا
-کچے اور پکے کھانے کو ایک ساتھ رکھنا (Cross Contamination)
-خراب دودھ، چٹنیاں یا سیلڈ ڈریسنگز استعمال کرنا
‏علامات جن پر توجہ دینی چاہیے

زیادہ تر افراد کو آلودہ کھانا کھانے کے 1 سے 48 گھنٹوں کے اندر علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں:

-متلی(Nausea)
-قے(Vomitting)
-دست (Loose Motion)
(کبھی پانی کی طرح، کبھی خون آلود)
-پیٹ میں درد اور مروڑ(Abdominal Cramp)
-بخار
-کمزوری اور پانی کی کمی (Dehydration)
احتیاط یا علاج(Preventive Measures)
‏ایسا ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے؟

1. پانی کی کمی پوری کریں (Hydrate)

آپ کا جسم تیزی سے پانی کھو رہا ہوتا ہے —
خاص طور پر اگر قے اور دست ہو رہے ہوں۔

او آر ایس (ORS) استعمال کریں
سادہ پانی، ناریل کا پانی یا ہلکی پتلی یخنی پیئیں
تھوڑا تھوڑا کر کے بار بار پیئیں، ایک ساتھ زیادہ مقدار میں نہ پیئیں
‏2. آرام کریں (Rest)

اپنے جسم کو انفیکشن سے لڑنے کا موقع دیں۔
زبردستی کام کرنے یا معمول پر واپس آنے کی کوشش نہ کریں۔

3. ہلکی غذا کھائیں (Eat Light)

جب قے رک جائے تو صرف ہلکی، آسانی سے ہضم ہونے والی غذائیں کھائیں، جیسے:

کیلا(Banana)

اُبلا ہوا چاول

ٹوسٹ (خشک ڈبل روٹی)
سیب کی چٹنی (Applesauce)
(جسے BRAT diet بھی کہا جاتا ہے)
‏4. ان چیزوں سے پرہیز کریں
(جب تک ڈاکٹر تجویز نہ کرے):

اینٹی بایوٹکس(Antibiotics):
بعض اوقات یہ کچھ اقسام کی فوڈ پوائزننگ کو مزید خراب کر سکتی ہیں۔
دست روکنے والی دوائیں (Antidiarrheals):
یہ جراثیم کو آنتوں میں پھنسا سکتی ہیں اور صحت یابی میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
‏قدرتی علاج جو مددگار ثابت ہو سکتے ہیں

-ادرک کی چائے:
متلی اور سوزش کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
-سادہ دہی یا پروبائیوٹکس:
آنتوں کی صحت مند بیکٹیریا (gut flora) کو بحال کرنے میں مدد کرتے ہیں۔
-لیموں والا پانی:
جسم کو ہائیڈریٹ رکھتا ہے اور صفائی میں مدد دے سکتا ہے۔
-ایکٹیویٹڈ چارکول (Activated Charcoal):
صرف ابتدائی مرحلے میں اور ماہر کی ہدایت پر استعمال کریں۔
‏بچاؤ ہی سب سے بہتر ہے

-گوشت کو اچھی طرح پکا کر کھائیں
-بچا ہوا کھانا درسffoodpfoo میں محفوظ کریں
-ہاتھ، پھل اور کچن کی سطحیں اچھی طرح دھوئیں
-ایسا کھانا نہ کھائیں جو کافی دیر سے باہر پڑا ہو (خصوصاً چاول، سالن، یا جَلاف جیسے پکوان)

فوڈ پوائزننگ بہت تکلیف دہ اور پریشان کن ہو سکتی ہے۔

شیاٹیکا کیا ہے؟                       𝐒𝐜𝐢𝐚𝐭𝐢𝐜𝐚آج کے دور میں کمر دردایک عام بیماری ہے۔  دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں لوگ کم...
27/06/2025

شیاٹیکا کیا ہے؟
𝐒𝐜𝐢𝐚𝐭𝐢𝐜𝐚
آج کے دور میں کمر دردایک عام بیماری ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں لوگ

کمر درد کا شکار ہے.کمر درد خواتین میں بہت عام مسلئہ ہے ،یہ درد عمومی طور پر

کچھ دنوں کے لیے متاثر کرتا ہے اور پھر ختم ہو جاتا ہے، تاہم کئی مرتبہ اس

کے متاثر کرنے کا دورانیہ کافی لمبا یعنی دائمی ہو جاتا ہے اور دوبارہ بھی وآپس آ

سکتا ہے۔

کمر درد کئی وجوہات کی بنیاد پر لاحق ہو سکتا ہے۔

یاد رکھیں کمر درد ایک علامت ہے،جسکی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں ،اور بہت

سی بیماریوں میں کمر درد ہو سکتی ہے۔اس درد کی سب سے عام وجہ پٹھوں میں کھنچاؤ ہے۔

اس کے علاوہ کمر درد شیاٹیکا، کمر میں چوٹ ، وٹامنز اور منرلز کی کمی وغیرہ کی وجہ سے بھی لاحق ہو سکتی ہے۔
لہذا دائمی کمر درد کی سب سے پہلے ڈاکٹر سے تشخیص کروائیں پھر علاج.

شیاٹیکا کا درد کیا ہوتا ہے؟

شیاٹیکا ایک ایسے درد کا نام ہےجو آپ کی پیٹھ سے شروع ہوتا ہے اور ٹانگ کی

طرف جاتا ہے۔یہ اس وقت ہوتا ہے جب درد شیاٹک نرو کے راستے سفر کرتی ہے۔
شیاٹک نرو ریڑھ کی ہڈی کے نچلے حصہ میں ہوتی ہےاور ٹانگ کے پچھلے حصہ سے

گھٹنہ تک اور شاخیں پاؤں تک جاتی ہیں۔

خواتین میں یہ حمل کے دوران یہ درد ہر ایک کو ہوتا ہے.

علامات

درد آہستہ آہستہ شروع ہوتاہے اور بڑہتا جاتا ہے:

1۔ زیادا دیر کھڑے ہونے یا زیادہ دیر بیٹھنے کے بعد

2۔ چھینکنے، کھانسے یا ہنسے پر
3
۔ پیچھے کی طرف جھکنے سے

4۔ زیادہ چلنے سے

شیاٹیکا درد سے بچاؤاور علاج

1۔ اگر آپ کا وزن زیادہ ہے تو پھر وزن کم کریں۔

کمر اور پیٹ میں پٹھوں کی ورزش کی مشق کریں

اونچی ایڑی والے جوتے نہ پہنیں۔

4۔ تمباکو نوشی نہ کریں

5۔ کوئی بھاری چیز نہ اٹھائیں ۔

ہموار جگہ پہ سونا چاہیے جیسے زمین

7۔ صحت مند غذا کھائیں ،

سٹرس ، تنائو وغیرہ کو کم کریں

پر سکون نیند لیں، اور غلط انداز میں نہ سوئیں۔
نوٹ

باقی کمر درد کی تشخیص اور علاج کےلئے اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں.
کیونکہ اسکی وجوہات ہر مریض میں مختلف ہوتی ہیں اور علاج بھی، علاج کا دورانیہ بھی ہر مریض میں مختلف ہوتا ہے۔


Address

Al_REHMAT Medicare Jatoi Distt Muzaffargarh
Muzaffargarh
34430

Telephone

+923012998735

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when الرحمت میڈی کئیر posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to الرحمت میڈی کئیر:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram