Al-Shifa

Al-Shifa Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Al-Shifa, Health & Wellness Website, Pattoki Malik Plaza, Pattoki Purana.

بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
قدرت کو چاہو، وہ تمہیں بے لوث شفا دے گی۔
جڑی بوٹیوں میں چھپی ہے سکون کی اصل خوشبو۔
حکیم حسنین الحق
📞 03211258496
Whatsapp
👇
https://wa.me/message/S7ISESS6F46XO1

07/03/2026

06/03/2026

جسم میں جمع ہونے والا اسٹریس اور ڈپریشن: جب جذبات بیماری بن جاتے ہیںکبھی آپ نے غور کیا ہے کہ کچھ لوگ بار بار معدے کے مسا...
06/03/2026

جسم میں جمع ہونے والا اسٹریس اور ڈپریشن: جب جذبات بیماری بن جاتے ہیں

کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ کچھ لوگ بار بار معدے کے مسائل، سر درد، سینے میں جکڑن یا جسمانی تھکن کی شکایت کرتے ہیں… لیکن تمام میڈیکل ٹیسٹ نارمل آتے ہیں؟
یہ صرف جسم کی بیماری نہیں ہوتی — اکثر یہ دبے ہوئے جذبات کی زبان ہوتی ہے۔

نفسیات ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارا دماغ اور جسم الگ الگ نظام نہیں ہیں۔ جب ہم اپنے خوف، غصے، دکھ یا پریشانی کو مسلسل دباتے رہتے ہیں تو یہ جذبات کہیں نہ کہیں جمع ہوتے رہتے ہیں۔ وقت کے ساتھ یہی جذبات جسم میں تناؤ (Stress Load) پیدا کرتے ہیں، جسے سائیکوسومیٹک (Psychosomatic) اثرات کہا جاتا ہے۔

جسم میں اسٹریس کیسے جمع ہوتا ہے؟

جب آپ مسلسل ذہنی دباؤ میں ہوتے ہیں:

جسم میں کارٹیسول (Cortisol) اور اسٹریس ہارمونز بڑھ جاتے ہیں

اعصابی نظام مسلسل الرٹ موڈ میں رہتا ہے

پٹھے، معدہ اور دل تناؤ کی حالت میں آ جاتے ہیں

جسم کو ریکوری کا موقع نہیں ملتا

یہ کیفیت اگر لمبے عرصے تک رہے تو جسم علامات کے ذریعے “بولنا” شروع کر دیتا ہے۔

عام جسمانی علامات جو اصل میں جذباتی ہو سکتی ہیں

بہت سے لوگ سالوں علاج کرواتے رہتے ہیں مگر اصل وجہ سمجھ نہیں آتی:

بار بار معدے کی خرابی، گیس یا IBS جیسی علامات

بغیر وجہ کے سر درد یا مائیگرین

سینے میں گھبراہٹ یا جکڑن

جسم میں درد مگر کوئی واضح میڈیکل وجہ نہیں

دائمی تھکن اور کمزوری

نیند کے مسائل

اگر ٹیسٹ نارمل ہوں مگر علامات برقرار رہیں، تو اکثر اس کے پیچھے دبا ہوا اسٹریس، اینزائٹی یا ڈپریشن ہوتا ہے۔

دبے ہوئے جذبات جسم کو کیوں متاثر کرتے ہیں؟

جب انسان اپنے جذبات کو محسوس کرنے اور ظاہر کرنے کے بجائے:

مسلسل خود کو روکے

ہر بات اندر رکھے

“میں ٹھیک ہوں” کا نقاب پہنے

یا بچپن سے جذبات دبانے کی عادت ہو

تو دماغ خطرے کا سگنل بند نہیں کرتا۔ نتیجہ یہ کہ جسم مسلسل سروائیول موڈ (Survival Mode) میں رہتا ہے — اور یہی موڈ بیماریوں کی بنیاد بنتا ہے۔

اصل حل کیا ہے؟

صرف جسمانی علاج کافی نہیں ہوتا اگر جڑ نفسیاتی ہو۔ مؤثر بہتری کے لیے ضروری ہے:

جذبات کو پہچاننا اور نام دینا

محفوظ طریقے سے اظہار سیکھنا

اوورتھنکنگ اور اینزائٹی کو ریگولیٹ کرنا

باڈی ریلیکسیشن اور بریتھنگ ایکسرسائزز

اور ضرورت پڑنے پر سائیکالوجیکل تھراپی

جب جذبات کو صحیح راستہ ملتا ہے تو جسم خود کو ٹھیک کرنا شروع کر دیتا ہے۔

---

اگر آپ یا آپ کا کوئی مریض بار بار جسمانی علامات کا شکار ہے لیکن رپورٹس نارمل ہیں، تو ممکن ہے جسم نہیں — جذبات مدد مانگ رہے ہوں۔

*اکسیر اوجاع*یورک ایسڈ ، گنٹھیا ، جسمانی کمزوری ، نظر کی کمزوری اور جوڑوں کے درد سوجن کیلئے نہائت مفید اور آزمودہ نسخہ*ہ...
06/03/2026

*اکسیر اوجاع*
یورک ایسڈ ، گنٹھیا ، جسمانی کمزوری ، نظر کی کمزوری اور جوڑوں کے درد سوجن کیلئے نہائت مفید اور آزمودہ نسخہ

*ہوالشافی*
میتھی دانہ 20 گرام ، کلونجی 20 گرام ، مغز پستہ 50 گرام ، مغز تخم خربوزہ 50 گرام ، زنجبیل 20 گرام ، سورنجاں شیریں 20 گرام ، فلفل سیاہ 20 گرام ، سناءمکی 20 گرام ، دارچینی 20 گرام ، سونف 30 گرام ، گوکھرو 30 گرام ، اجوائن دیسی 30 گرام ، بیکنگ سوڈا 50 گرام ، اسگندھ 20 گرام
ایک گلاس پانی میں دو چمچ ایلوویرا جیل ، ایک عدد لیموں کا رس اور ایک چمچ شہد شامل کر کے اس کے ساتھ ایک چمچ سفوف صبح دوپہر شام کھا لیا کریں
یورک ایسڈ کم ہوگا
گنٹھیا کے علاج لیے مفید ہے
گردے کی پتھری
گردوں کی انفیکشن ، ہاتھ پاؤں کی سوزش کم ہوگی ، جوڑوں کا درد کم ہوگا
پانی زیادہ سے زیادہ پیئں
وزن کو کنٹرول رکھیں
ہلکی پھلکی ورزش لازمی کریں
ذہنی دباؤ کو کم کریں
انڈہ ، گوشت چاول مچھلی گوبھی اور فاسٹ فوڈز سے مکمل پرہیز کریں
ایک مولی صبح اور ایک مولی دوپہر کو کھا لیا کریں
تین عدد اخروٹ کا مغز نکال کے روزانہ صبح شام کھا لیا کریں

کھوئی جوانی #حیران کن سختی اور ٹائمنگجوانی دوبارہ حاصل_کریں۔۔جو مرد حضرات غلط کاریوں کی وجہ سے جوانی میں ہی بڑھاپے کو دع...
05/03/2026

کھوئی جوانی #
حیران کن سختی اور ٹائمنگ
جوانی دوبارہ حاصل_کریں۔۔
جو مرد حضرات غلط کاریوں کی وجہ سے جوانی میں ہی بڑھاپے کو دعوت دے چکے ان کے لیے ایک بہترین نسخہ۔
ﺧﺼﻮﺻﺎ ﻣﺸﺖ ﺯﻧﯽ، ﻣﺠﻠﻮﻗﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺍﻧﯽ کے ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﮌﮬﻮﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﻋﻠﯽ ﺻﻔﺎﺕ ﮐﺎ ﺣﺎﻣﻞ ﻧﺴﺨﮧ ﮨﮯ۔ ﭘﯿﺎﺯ کی ﺟﻮ ﮐﮧ ﻣﺎﺩﮦ ﻣﻨﻮﯾﮧ ﮐﯽ ﺍﻓﺰﺍﺋﺶ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﮨﻢ ﺟﺰﻭ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﭘﯿﺎﺯ سے ﮨﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺧﺎﺹ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ اﭘﻨﯽ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﺗﺒﺎﮦ ﮐﺮﮐﮯ ﺑﮍﮬﺎﭘﮯ ﮐﻮ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﮮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻻﺯﻣﯽ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﯾﮟ۔
ھوالشافی
سفید ﭘﯿﺎﺯ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ 1 ﮐﻠﻮ،
ﺷﮩﺪ ﺧﺎﻟﺺ 500 ﮔﺮﺍﻡ،
ﻣﻮﺻﻠﯽ ﺳﻔﯿﺪ 250 ﮔﺮﺍﻡ
* ﺗﺮﮐﯿﺐ ﺗﯿﺎﺭﯼ *:
ﺷﮩﺪ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺎﺯ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﯾﮑﺠﺎں ﮐﺮﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﺮﺗﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﻠﮑﯽ ﺁﻧﭻ
ﭘﺮ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﭘﺎﻧﯽ ﺟﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﺷﮩﺪ ﺑﺎﻗﯽ ﺑﭻ ﺟﺎﺋﮯ
ﺍﺳﮑﻮ ﺁﮒ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯﺍﺗﺎﺭ ﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺻﻠﯽ ﺳﻔﯿﺪ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺳﻔﻮﻑ ﺑﻨﺎ
ﮐﺮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﻼ ﺩﯾﮟ.. ﺑﺲ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﮯ.
ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ 6 ﮔﺮﺍﻡ ﮐﯽ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ
ﺻﺒﺢ ﻭ ﺷﺎﻡ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ 40 ﺭﻭﺯ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ کریں.
ﮐﮭﻮﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﻟﻮﭦ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ

🌿✨ قدرتی علاج – دیسی جڑی بوٹیوں کی دنیا ✨🌿

کیا آپ صحت مند زندگی کے خواہشمند ہیں؟
کیا آپ دیسی جڑی بوٹیوں اور گھریلو نسخوں کے بارے میں سچّی اور مفید معلومات چاہتے ہیں؟

📌 0321 1258496

✅ دیسی جڑی بوٹیوں کے فوائد
✅ گھریلو ٹوٹکے اور علاج
✅ طبِ یونانی کی قیمتی معلومات
✅ صحت مند زندگی کے سنہری اصول

04/03/2026

معدہ کا تیزاب آپ کے پیٹ کا تیزاب اتنا مضبوط ہے کہ استرا بلیڈ کو تحلیل کر سکے۔   انسانی پیٹ کے تیزاب کا پی ایچ 1.5 اور 3....
02/03/2026

معدہ کا تیزاب
آپ کے پیٹ کا تیزاب اتنا مضبوط ہے کہ استرا بلیڈ کو تحلیل کر سکے۔ انسانی پیٹ کے تیزاب کا پی ایچ 1.5 اور 3.5 کے درمیان ہوتا ہے، جو اسے ناقابل یقین حد تک سنکنرن بنا دیتا ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تقریباً ایک ہفتے میں استرا بلیڈ کو مکمل طور پر تحلیل کر سکتا ہے، حالانکہ ظاہر ہے کہ آپ کو ذاتی طور پر کبھی بھی اس کی جانچ نہیں کرنی چاہیے۔

آپ کا معدہ اتنا طاقتور ہائیڈروکلورک ایسڈ پیدا کرتا ہے کہ وہ سخت گوشت، ہڈیاں اور بنیادی طور پر جو کچھ بھی آپ نگلتے ہیں اسے توڑ سکتے ہیں۔ پیٹ کی پرت ہر تین سے پانچ دن بعد خود کو مکمل طور پر تبدیل کر لیتی ہے کیونکہ تیزاب بصورت دیگر معدہ خود ہضم ہو جاتا ہے۔ خاص بلغم کی کوٹنگ پیٹ کی دیواروں کی حفاظت کرتی ہے، ایک رکاوٹ پیدا کرتی ہے جو مسلسل سنکنرن قوتوں سے لڑتی ہے۔

یہ انتہائی تیزابیت پیتھوجینز کے خلاف آپ کے پہلے دفاع کا کام کرتی ہے۔ زیادہ تر بیکٹیریا اور وائرس مخالف ماحول میں زندہ نہیں رہ سکتے، آپ کو خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچاتے ہیں۔ تیزاب ہاضمے کے خامروں کو بھی چالو کرتا ہے اور کھانے کو قابل جذب غذائی اجزاء میں توڑ دیتا ہے۔ اس سنکنرن طاقت کے بغیر، آپ کھانوں سے موثر طریقے سے توانائی نہیں نکال سکتے۔

دل کی جلن اس وقت ہوتی ہے جب یہ طاقتور تیزاب آپ کی غذائی نالی میں اوپر کی طرف نکل جاتا ہے، جس میں حفاظتی بلغم کی کوٹنگ نہیں ہوتی۔ جلن کا احساس لفظی طور پر آپ کے پیٹ کا تیزاب ہے جو غیر محفوظ ٹشو کو نقصان پہنچاتا ہے۔ آپ کے جسم میں زمین پر سب سے زیادہ سنکنرن مادوں میں سے ایک ہے، جو مسلسل حیاتیاتی انجینئرنگ کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے جو خود کو تباہ کرنے سے روکتا ہے۔

ذہن کی گونج — بار بار آنے والے خیالات آخر کیوں نہیں رکتے؟کبھی آپ نے محسوس کیا کہ ایک ہی خیال بار بار ذہن میں آتا رہتا ہے...
02/03/2026

ذہن کی گونج — بار بار آنے والے خیالات آخر کیوں نہیں رکتے؟

کبھی آپ نے محسوس کیا کہ ایک ہی خیال بار بار ذہن میں آتا رہتا ہے…
آپ اسے جھٹکتے ہیں، مصروف ہوتے ہیں، خود کو سمجھاتے ہیں — مگر وہ پھر واپس آ جاتا ہے۔

یہ صرف “زیادہ سوچنا” نہیں ہوتا۔ نفسیات میں اسے Repetitive Thinking Loop کہا جاتا ہے، اور اگر یہ طویل عرصہ چلے تو ذہنی صحت کو گہرے طور پر متاثر کر سکتا ہے۔

🔹 بار بار آنے والے خیالات کیوں پیدا ہوتے ہیں؟

1️⃣ دماغ کا Threat Detection نظام زیادہ حساس ہونا

انسانی دماغ فطری طور پر خطرے کو پکڑنے کے لیے بنا ہے۔
جب یہ نظام Overactive ہو جائے تو دماغ معمولی باتوں کو بھی بار بار اسکین کرتا رہتا ہے۔

نتیجہ:

“کہیں کچھ غلط نہ ہو جائے”

“میں نے ٹھیک کیا تھا یا نہیں؟”

“اگر ایسا ہو گیا تو؟”

2️⃣ Uncertainty برداشت نہ کر پانا

بہت سے لوگوں کا دماغ “نامکمل یقین” برداشت نہیں کر پاتا۔

تو دماغ بار بار سوچتا ہے تاکہ:

یقین حاصل ہو

کنٹرول کا احساس آئے

بے چینی کم ہو

❗ مگر الٹا ہوتا ہے — سوچ جتنی بڑھتی ہے، بے چینی بھی بڑھتی ہے۔

3️⃣ Suppression Effect (خیال کو دبانے کی کوشش)

جب آپ کسی خیال کو زور سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں، دماغ اسے اور نمایاں کر دیتا ہے۔

یہ ایک مشہور نفسیاتی اصول ہے:

“What you resist, persists.”

یعنی جس خیال کو آپ دھکیلتے ہیں، وہ اور چپک جاتا ہے۔

4️⃣ Emotional Load کا جمع ہونا

دبے ہوئے جذبات جیسے:

خوف

شرمندگی

غصہ

عدم تحفظ

اکثر خیالات کی شکل میں اوپر آتے رہتے ہیں۔

یعنی خیال اصل مسئلہ نہیں — وہ اندر کے جذبات کا پیغام ہوتا ہے۔

5️⃣ Neural Pathway کی مضبوطی

جب ایک ہی سوچ بار بار دہرائی جائے تو دماغ میں اس کی نیورل راہ مضبوط ہو جاتی ہے۔

سادہ الفاظ میں:

Repeat --- Pathway strong--- Thought automatic

اسی لیے کچھ خیالات “خود بخود” آنے لگتے ہیں۔

🔹 یہ خیالات زندگی کو کیسے متاثر کرتے ہیں؟

اگر یہ پیٹرن جاری رہے تو آہستہ آہستہ:

توجہ کمزور ہوتی ہے

فیصلہ سازی متاثر ہوتی ہے

نیند خراب ہوتی ہے

چڑچڑاپن بڑھتا ہے

موجودہ لمحے میں جینا مشکل ہو جاتا ہے

کام کی کارکردگی گر جاتی ہے

تعلقات میں تناؤ آتا ہے

❗ کئی لوگ سمجھتے ہیں وہ صرف سوچ رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں ان کا ذہن Overload ہو چکا ہوتا ہے۔

🔹 یہ کن نفسیاتی مسائل کی طرف لے جا سکتا ہے؟

اگر بروقت سنبھالا نہ جائے تو یہی repetitive سوچیں مختلف مسائل کی بنیاد بن سکتی ہیں:

▪️ Generalized Anxiety Pattern

مسلسل “کیا ہوگا” والی سوچ

▪️ Obsessive Compulsive Pattern

بار بار آنے والے intrusive خیالات اور ذہنی چیکنگ

▪️ Health Anxiety

جسمانی علامات پر حد سے زیادہ سوچ

▪️ Depression

منفی rumination کا گہرا ہو جانا

▪️ Panic Episodes

جسمانی حساسیت پر بار بار فوکس

📌 یاد رکھیں: ہر کیس مختلف ہوتا ہے — مگر میکانزم اکثر یہی ہوتا ہے:
بار بار سوچ -- بے چینی --مزید سوچ-- ذہنی تھکن

🔹 اصل مسئلہ کہاں ہوتا ہے؟

زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں مسئلہ “خیال” ہے۔

مگر ماہرِ نفسیات کے نزدیک کام شروع ہوتا ہے یہاں سے:

خیال کے پیچھے کون سا خوف ہے؟

کون سا نامکمل جذبہ دبا ہوا ہے؟

کون سی uncertainty برداشت نہیں ہو رہی؟

کون سا پرانا تجربہ اس loop کو fuel کر رہا ہے؟

یعنی علاج صرف خیال روکنا نہیں — اس کی جڑ سمجھنا ہوتا ہے۔

🔹 کب سنجیدہ توجہ ضروری ہے؟

اگر:

خیالات روزمرہ کام متاثر کریں

نیند خراب ہو

ذہن مسلسل مصروف رہے

جسمانی بے چینی بڑھ جائے

یا زندگی کا لطف کم ہو جائے

تو پیشہ ورانہ رہنمائی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔

خلاصہ:
بار بار آنے والے خیالات اکثر کمزور ذہن کی نہیں بلکہ Overactive حفاظتی نظام، دبے جذبات، اور مضبوط ہوتی نیورل راہوں کی علامت ہوتے ہیں۔ جب تک ان کی جڑ کو نہ سمجھا جائے، صرف سوچ روکنے کی کوشش مسئلے کو لمبا کر دیتی ہے۔

رات کو نیند نہ آنے کی اصل وجہ جو کوئی نہیں بتاتاتحریر: رات کے تین بج رہے تھے۔کمال بستر پر بار بار کروٹیں بدل رہا تھا، جس...
02/03/2026

رات کو نیند نہ آنے کی اصل وجہ جو کوئی نہیں بتاتا
تحریر:
رات کے تین بج رہے تھے۔کمال بستر پر بار بار کروٹیں بدل رہا تھا، جسم تھکا ہوا، لیکن نیند کہیں نہیں تھی۔ اس نے پھر کروٹ بدلی، تکیہ الٹا، چادر اوڑھی، پھر ہٹائی۔ فون اٹھایا، وقت دیکھا، واپس رکھا۔ باہر کتا بھونکا، پڑوسی کی گاڑی گزری، کوئی بچہ رویا۔ دنیا سو رہی تھی اور کمال جاگ رہا تھا۔
اگلے دن آفس میں سارا دن بوجھل پن میں گزارا، نیند نہ آنے پر مشورے ملے، گرم دودھ پیو، فون مت دیکھو، جلدی سو جاؤ۔ فلاں نیند کی گولی لو۔ اور یہ سلسلہ چلتا رہا۔ لیکن جو اصل بات ہے وہ کوئی نہیں بتاتا۔

پہلی بات یہ کہ نیند کا مسئلہ رات کا ہے ہی نہیں۔ یہ سن کر حیرانی ہوگی لیکن یہ سچ ہے۔ نیند نہ آنے کا مسئلہ رات کی بجائے دن میں شروع ہوتا ہے۔ وہ باتیں جو آپ نے دن میں کسی سے نہیں کہیں، وہ جذبات جو آپ نے دبا دیے، وہ پریشانیاں جنہیں آپ نے نظر انداز کیا، وہ سب رات کو بستر پر آپ کا انتظار کر رہی ہوتی ہیں۔
پورے دن میں آپ مصروف تھے، شور شرابا تھا، بھاگ دوڑ، کام تھا، لوگ تھے۔ ذہن کو بھاگنے کی جگہ میسر تھی۔ لیکن رات کو جب سب کچھ خاموش ہو جاتا ہے اور آپ لیٹتے ہیں تو ذہن کے پاس بھاگنے کی جگہ نہیں رہتی۔ اور وہ سب کچھ جو دن میں دبایا گیا تھا، ابھر کر مینٹل سکرین پر چلنا۔شروع ہو جاتا ہے۔
نیند نہیں آتی کیونکہ ذہن ابھی واپس گھر نہیں آیا۔ وہ ابھی بھی کام کر رہا ہے، بات کرنا چاہتا ہے، سنا جانا چاہتا ہے۔

دوسری بات ہے Cortisol کا وہ چکر جو توڑنا ضروری ہے۔ جب ہم فکرمند ہوتے ہیں تو جسم میں Cortisol نامی ہارمون بنتا ہے۔ یہ وہ ہارمون ہے جو خطرے کے وقت کام آتا ہے۔ یہ جسم کو بتاتا ہے کہ خطرہ ہے، جاگتے رہو، سوؤ مت۔ اور اس کی بات جسم مانتا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ آج کا انسان ہر وقت ہائی Cortisol کی حالت میں رہتا ہے۔ سوشل میڈیا کی بری خبریں، دفتر کی سیاست، گھر کی پریشانیاں، مستقبل کا خوف۔ جسم کو لگتا ہے کہ ہر طرف خطرہ ہے اس لیے سونا ممکن نہیں۔ اسے Threat Response کہتے ہیں۔ دماغ کا وہ حصہ جسے Amygdala کہتے ہیں، وہ حقیقی اور تصوراتی خطرے میں فرق نہیں کرتا۔ آپ صرف سوچیں کہ کل کیا ہوگا، الارم فوری بج جاتا ہے۔

تیسری چیز ہے وہ ادھوری باتیں جو رات کو زندہ ہوتی ہیں۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ رات کو بستر پر لیٹتے ہی کون سے خیالات آتے ہیں؟ وہ باتیں جو آپ نے کسی سے نہیں کی اور کرنی چاہیے تھی۔ وہ معافی جو آپ نے مانگی نہیں۔ وہ فیصلہ جو آپ نے ٹالتے ٹالتے ٹال دیا۔ وہ خواب جسے آپ نے اپنے آپ سے ہی چھپا لیا۔ یہ سب ادھوری باتیں ہیں اور ذہن انہیں ختم کرنا چاہتا ہے۔
لاشعور کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ وہ ہر ادھورے معاملے کو مکمل کرنا چاہتا ہے۔ جیسے ایک گانا آدھا سن کر چھوڑ دیں تو ذہن اسے بار بار گنگنانے لگتا ہے۔ اسی طرح ادھورے معاملات رات کو ذہن کو جگائے رکھتے ہیں۔ رات کو جو آتا ہے وہ کوئی بے مقصد شور نہیں۔ ذہن آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آپ سننے کو تیار ہیں؟

چوتھی بات ہے جسم اور ذہن کا ٹوٹا ہوا رابطہ۔ ہم دن بھر ذہن میں الرٹ رہتے ہیں۔ سوچتے رہتے ہیں، منصوبے بناتے رہتے ہیں، مستقبل میں گھومتے رہتے ہیں۔ کبھی ماضی سے لڑتے ہیں۔ لیکن جسم حال میں ہوتا ہے۔ جب ذہن اور جسم کا رابطہ ٹوٹ جاتا ہے تو نیند مشکل ہو جاتی ہے کیونکہ نیند کے لیے دونوں کا اکٹھا ہونا ضروری ہے۔
مائنڈ فلنس اسی رابطے کو جوڑنے کا نام ہے۔ جب آپ اپنے سانس پر توجہ دیتے ہیں، جب آپ محسوس کرتے ہیں کہ بستر کی نرماہٹ اور فرمایا کیسی لگتی ہے، کمرے کا درجہ حرارت کیسا ہے، تو ذہن ماضی اور مستقبل سے نکل کر حال میں آ جاتا ہے۔ اور حال میں آنے کے بعد نیند آنی شروع ہوتی ہے۔

کیا کریں؟
پہلا کام یہ ہے کہ سونے سے آدھا گھنٹہ پہلے ایک کاغذ لیں اور لکھیں کہ آج کیا ادھورا رہا۔ کوئی کام، کوئی بات، کوئی جذبہ۔ لکھنے سے ذہن کو اطمینان ہوتا ہے کہ اسے یاد ہے، اب سوؤ، کل نمٹیں گے۔

دوسرا کام یہ ہے کہ سونے سے پہلے دس گہرے سانس لیں۔ ناک سے چار تک گن کر سانس لیں، سات تک روکیں، آٹھ تک منہ سے چھوڑیں۔ یہ صرف دس بار کریں۔ یہ Cortisol کو فوری کم کرتا ہے اور جسم کو محفوظ ہونے کا پیغام ملتا ہے۔

تیسرا کام یہ ہے کہ لیٹنے کے بعد آنکھیں بند کریں اور اپنے جسم کو محسوس کریں۔ پاؤں سے شروع کریں، پھر پنڈلیاں، گھٹنے، رانیں، پیٹ، سینہ، کندھے، گردن، چہرہ۔ ہر حصے کو آہستہ آہستہ ڈھیلا چھوڑیں۔ یہ سلوا میتھڈ کی بنیادی ریلیکسیشن تکنیک ہے اور اکثر لوگ اسے مکمل کرنے سے پہلے ہی سو جاتے ہیں۔

چوتھا کام یہ ہے کہ خیالات آنے دیں، انہیں روکیں نہیں۔ جب خیال آئے تو اسے دیکھیں اور کہیں کہ ٹھیک ہے، آؤ، لیکن میں ابھی سو رہا ہوں، کل بات کریں گے۔ خیال سے لڑائی مت کریں، کیونکہ لڑائی میں وہ مضبوط ہوتا ہے۔

پانچواں کام یہ ہے کہ شکر گزاری کے تین لمحے یاد کریں۔ آج کوئی ایک چیز جو اچھی ہوئی، ایک شخص جس سے محبت ہے، ایک نعمت جو آپ کو ملی ہوئی ہے۔ یہ دماغ کو Threat Mode سے نکال کر Safety Mode میں لاتا ہے اور نیند کی راہ کھلتی ہے۔

اور ہاں کمال نے جب میرے پاس آ کر بتایا کہ تین سال سے نیند کا مسئلہ ہے۔ گولیاں کھاتا ہوں، کبھی کام کرتی ہیں کبھی نہیں۔ میں نے اس سے پوچھا کہ رات کو سونے سے پہلے کیا سوچتے ہو؟ اس نے ایک لمحہ رک کر کہا کہ سوچتا ہوں کہ کل کیا ہوگا، کیا کام ادھورا ہے، لوگ کیا سوچتے ہیں۔
میں نے کہا کہ یہی مسئلہ ہے۔ نیند کا مسئلہ نہیں، یہ ذہن کا مسئلہ ہے جو نیند میں ظاہر ہو رہا ہے۔ گولی نیند لا سکتی ہے لیکن وہ سوچ نہیں بدلتی جو نیند اڑا رہی ہے۔
ایک ہفتے بعد کمال نے بتایا کہ بغیر کسی گولی کے رات کو نیند آ جاتی ہے۔ اس نے کوئی جادو نہیں کیا۔ بس سونے سے پہلے اوپر بیان کیے پانچوں کام مستقل مزاجی سے کیے اور بس۔

نیند کہیں بھاگتی نہیں۔ نیند تو بستر کے پاس آپ کا انتظار کرتی ہے۔ بس اپنے ذہن کو اپنے جسم کے ساتھ بستر پر آنے دیں،اپ دیکھیں گے کہ نیند کیسے آپ کے ساتھ جپھی ڈال کر سوتی ہے۔

کمنٹ میں بتائیں آپ کو رات کو کون سے خیالات سب سے زیادہ آتے ہیں؟
اگر یہ مضمون آپ کو اپنی بات لگا تو ضرور شیئر کریں، کوئی اور بھی اس تکلیف میں ہوگا۔ شاہد سید

Address

Pattoki Malik Plaza
Pattoki Purana
55300

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Shifa posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram