28/02/2026
پنجاب کی تقریباً 13 کروڑ آبادی کے لیے سرکاری ہسپتالوں میں صرف 411 وینٹی لیٹرز موجود ہونے کی رپورٹ ڈی جی ہیلتھ سروسز پنجاب کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرا دی گئی۔
یہ اعداد و شمار خود اس نظامِ صحت کی سنگین حقیقت کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں۔
اس کے برعکس خیبرپختونخوا، جس کی موجودہ آبادی تقریباً 4.5 کروڑ ہے، یہاں صرف 10 MTI اداروں میں تقریباً 400 وینٹی لیٹرز موجود ہیں جبکہ نان MTI ہسپتالوں میں مزید 295 وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں یعنی مجموعی طور پر تقریباً 700 کے قریب۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ بیشرم ٹاؤٹس، مفاد پرست بلیک میلرز اور نام نہاد جعلی تنظیم والے ان واضح اعداد و شمار کے باوجود پنجاب کے نظامِ صحت کو مثالی قرار دیتے پھر رہے ہیں۔ حقیقت سے آنکھیں چرا کر جھوٹ، من گھڑت کہانیاں اور جھوٹا بےبنیاد پروپیگنڈا پھیلانا ہی ان کا واحد ہتھیار ہے۔
یہ خود ساختہ تنظیمیں اور جعلی تنظیم والے دراصل کسی عوامی مفاد کے نہیں بلکہ اپنے ذاتی مفادات کے اسیر ہیں۔ ان کا کام دلیل دینا نہیں بلکہ شور مچانا ہے۔ خیبرپختونخوا کے ہیلتھ سسٹم کو ناکارہ ثابت کرنے کی کوشش اور پنجاب کو جنت بنا کر پیش کرنا کھلی منافقت اور بددیانتی ہے۔
جو لوگ اعداد و شمار کے سامنے بھی سچ ماننے کو تیار نہیں، وہ اصلاح نہیں چاہتے وہ صرف اپنا مفاد چاہتے ہیں۔ کردار کشی، پگڑی اچھالنا اور اداروں کو بدنام کرنا ان کا وطیرہ ہے ۔
صحت کا شعبہ سنجیدگی مانگتا ہے، مگر یہ عناصر اسے بھی اپنی مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں عوام سب دیکھ رہے ہیں شور سے نہیں، کارکردگی سے فیصلہ ہوگا۔
🔹 پنجاب:
آبادی تقریباً 13 کروڑ
وینٹی لیٹرز: 411
یعنی تقریباً:
ایک وینٹی لیٹر = 3,16,000 افراد کے لیے
🔹 خیبرپختونخوا:
آبادی تقریباً 4.5 کروڑ
وینٹی لیٹرز: تقریباً 700 (MTI + Non-MTI)
یعنی تقریباً:
ایک وینٹی لیٹر = 64,000 افراد کے لیے
یہ فرق محض عددی نہیں بلکہ ترجیحات کا فرق ہے۔ پنجاب میں ایک وینٹی لیٹر تقریباً تین لاکھ سے زائد افراد کے لیے ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں یہی تناسب تقریباً پینسٹھ ہزار افراد فی وینٹی لیٹر بنتا ہے جو واضح طور پر بہتر دستیابی کو ظاہر کرتا ہے
خیبرپختونخوا میں یہ بہتری کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک واضح نظریے اور سمت کا ثمر ہے۔ یہ سب اُس وژن کا تسلسل ہے جو عمران خان نے صحت کے شعبے میں اصلاحات کے لیے دیا تا کہ عوام کو باعزت، معیاری اور قابلِ رسائی علاج فراہم کیا جائے۔
اسی وژن کو عملی جامہ پہنانے میں انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا کی مسلسل جدوجہد، پیشہ ورانہ رہنمائی اور پالیسی سطح پر مؤثر کردار کلیدی رہا ہے۔ میدانِ عمل میں ڈاکٹرز، ہیلتھ پروفیشنلز اور انتظامی ٹیموں نے نہ صرف اصلاحات کیے بلکہ ہر چیلنج میں نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کھڑے رہے۔
یہاں چند بنیادی حقائق قابلِ غور ہیں:
▪️ خیبرپختونخوا وہ صوبہ ہے جس نے دو دہائیوں تک دہشتگردی اور جنگ کا براہِ راست سامنا کیا۔ انفراسٹرکچر تباہ ہوا، صحت کے مراکز نشانہ بنے، اور نظام کو تقریباً ازسرِ نو کھڑا کرنا پڑا۔
▪️ موجودہ 4.5 کروڑ آبادی میں 2019 کے بعد ضم ہونے والے سابقہ فاٹا اضلاع بھی شامل ہیں، جو تقریباً 70 سال تک وفاق کے زیرِ انتظام رہے اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے شدید پسماندگی کا شکار تھے۔
▪️ اہم بات یہ ہے کہ فاٹا کا انضمام عملی طور پر انتظامی سطح پر تو ہو گیا، مگر مالی انضمام مکمل طور پر تاحال زیرِ التوا ہے۔ یعنی صوبے پر آبادی اور انتظامی ذمہ داریوں کا بوجھ تو منتقل ہو گیا، مگر وسائل اور مالی معاونت مکمل طور پر منتقل نہیں ہوئی۔
ان تمام چیلنجز کے باوجود اگر خیبرپختونخوا میں وینٹی لیٹرز کی تعداد پنجاب سے زیادہ ہے، تو یہ ترجیحات اور پالیسی سمت کا فرق ظاہر کرتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ایک ایسے صوبے میں جہاں سالانہ بجٹ ہزاروں ارب روپے ہو، وہاں صرف 411 وینٹی لیٹرز کیوں؟ کیا صحت واقعی اولین ترجیح تھی یا محض تشہیری دعوے؟
خیبرپختونخوا حکومت نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر نیت واضح ہو، ترجیحات درست ہوں اور قیادت کا وژن عوامی مفاد پر مبنی ہو تو محدود وسائل کے باوجود نتائج دیے جا سکتے ہیں۔
انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا
میڈیا سیل