Nursing Division Peshawar Institute of Cardiology

Nursing Division Peshawar Institute of Cardiology This is the official page of Nursing Division Peshawar Institute of Cardiology, Peshawar, KPK

PIC is the 1st public sector hospital in KP who established Day care for their staff. It's really appreciated and great ...
03/09/2022

PIC is the 1st public sector hospital in KP who established Day care for their staff. It's really appreciated and great work 👍

19/08/2022

One day workshop of Basic Life Support (BLS) organized by Nursing Education Services Department PIC-MTI, Peshawar
The aim of this session was to impart basic life saving techniques to all employees and to reduce the mortality rate by enhancing the knowledge and skills of both Clinical and Non-Clinical staff.

Nursing Education services (NES) of PIC-MTI has conducted a workshop on (Bedsore Management & Prevention) for nurses to ...
25/11/2021

Nursing Education services (NES) of PIC-MTI has conducted a workshop on (Bedsore Management & Prevention) for nurses to sustain quality care and commit to achieving the milestone.

نرسنگ ڈویژن پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی جانب سے، ڈائریکٹر نرسنگ افسرداد کی نگرانی میں کلینیکل اور  نان کلینیکل سٹاف...
20/11/2021

نرسنگ ڈویژن پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی جانب سے، ڈائریکٹر نرسنگ افسرداد کی نگرانی میں کلینیکل اور نان کلینیکل سٹاف کے لیے انفیکشن کنٹرول اور روک تھام کے حوالے سے ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا ۔ ورکشاپ کا بنیادی مقصد ہسپتال میں انفیکشن کنٹرول اور اس کے روک تھام کے بنیادی طریقوں کے بارے میں ملازمین کو تربیت دینا تھی جبکہ نئے جدید طریقوں سے انفیکشن کنٹرول اور روک تھام پر آگاہ بھی کرنا تھا-

   انڈس ھسپتال۔ پاکستانی قوم کے خلوص کی لازوال کہانی1981میں عبدالباری کا داخلہ ڈاؤ میڈیکل کالج میں ہوگیا. یہ صرف ہونہار ...
17/11/2021





انڈس ھسپتال۔ پاکستانی قوم کے خلوص کی لازوال کہانی

1981میں عبدالباری کا داخلہ ڈاؤ میڈیکل کالج میں ہوگیا. یہ صرف ہونہار ہی نہیں تھے بلکہ اللہ تعالی نے ان کے سینے میں جو دل دیا تھا اس کی نرمی بھی اللّہ کم ہی لوگوں کو نصیب کرتا ہے۔

یہ 1986 تک ڈاؤ میڈیکل کالج کے طالب علم رہے لیکن ان پانچ سالوں میں انہوں نے خدمت کے بے شمار کارنامے انجام دیے۔

1987میں سولجر بازار میں دھماکا ہوا تو عبدالباری اپنے چند دوستوں کے ساتھ لاشوں کے درمیان میں سے زخمیوں کو نکال کر لائے لیکن سول اسپتال کا ایمرجنسی وارڈ اپنے بستروں کی کمی کی شکایت کر رہا تھا۔ اس کے بعد عبدالباری نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر گھر گھر اور در در جا کر بھیک مانگی اسکول کے بچوں کو گلک دیئے۔ 32 لاکھ 74 ہزار پانچ سو روپے کی خطیر رقم جمع ہوگئی اور اس طرح سول اسپتال کے بہترین ایمرجنسی وارڈ کا افتتا ح ہوگیا۔

انہوں نے دوران طالب علمی اپنے دوستوں کی مدد سے پیشنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن کی بنیاد بھی رکھی جو اپنے پیسے جمع کرکے اندرون سندھ اور کراچی کے مختلف علاقوں سے آئے مفلوک الحال اور مفلس لوگوں کے علاج معالجہ کا بندوبست کیا کرتے تھے۔

اسی دوران ان کو یہ احساس بھی ہوا کہ بلڈ ڈونیشن کا واحد ذریعہ چرسی، ہیرونچی اور موالی ہیں اور ایک دن وہ بھی پیسوں کی کمی کی شکایت پر ہڑتال پر چلے گئے اور ہسپتال میں موجود مریض بے یارومددگار، بے بسی و بے کسی کی تصویر بنے پڑے تھے۔ تب عبد الباری نے پہلے بلڈ بینک کا بھی آغاز کردیا۔

اس وقت عبدالباری نے اپنے مزید تین دوستوں کے ساتھ مل کر عہد کیا کہ “ایک دن آئے گا جب اسی شہر میں ایک ایسا اسپتال بنائیں گے جہاں سب کا علاج بالکل مفت ہوگا”۔ عبدالباری نے اپنی پروفیشنل زندگی کا آغاز کراچی سے کیا اور ساری زندگی کراچی میں ہی گزار دی لیکن باقی تینوں دوست مزید تعلیم کے لئے دنیا کے مختلف ممالک روانہ ہوگئے۔

17 سال بعد 2004 میں باقی تینوں دوست واپس کراچی آئے عبدالباری سے ملاقات کی اور زمانہ طالب علمی کا عہد یاد دلایا اور اس طرح دونوں ٹانگوں سے معذور باپ کی تہجد میں مانگی گئی دعا کہ “یا اللہ! میرے بیٹے عبدالباری کو خدمت خلق کے لیے قبول کرلے” رنگ لے آئی.

2004 میں کورنگی کریک میں بیس ایکڑ کی جگہ پر پاکستان کے “بلکل مفت” ہسپتال کی تعمیر شروع ہوگئی۔ بالآخر 2007 جولائی میں “انڈس ہسپتال” کا آغاز ہوگیا۔

ہسپتال میں ڈیڑھ سو لوگوں کے ایڈمٹ ہونے کا انتظام تھا، ہسپتال کا بجٹ شروع میں 8کروڑ روپے تھا۔ تعمیر کے وقت اور افتتاح کے بعد بھی لوگ عبدالباری کو کہتے یہ ہسپتال نہیں چل سکے گا کچھ ہی عرصے بعد تم فیس رکھنے پر مجبور ہو جاؤ گےلیکن اللہ پر آنکھیں بند کرکے یقین کرنے والوں اور دیوانہ وار اپنے مشن سے محبت کرنے والوں کی ڈکشنری میں “ناممکن” کا لفظ نہیں ہوتا ہے۔

150 بستروں کا اسپتال پہلے 300 کا ہوا، اس سال یہ اسپتال 1,000 بیڈز تک کردیا جائے گا اور 2024 تک 18 سو لوگوں کے لئے اس ہسپتال میں علاج کا بلکل مفت انتظام ہوگا۔

یہ پاکستان کا نہ صرف بہترین سہولیات سے آراستہ اسپتال ہے بلکہ اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ اس پورے ہسپتال میں کوئی کیش کاونٹر موجود نہیں ہے، یہ پیپر لیس بھی ہے مریض سے لے کر ڈاکٹر تک کسی کو پرچی کی ضرورت نہیں پڑتی آپ کا پیشنٹ نمبر ہر جگہ آن لائن اسکرینز پر آپ کی رپورٹ اور کارکردگی دکھا دیتا ہے۔

پچھلے گیارہ سالوں میں کوئی مریض پیسے نہ ہونے کی وجہ سے واپس نہیں گیا امیر و غریب سب ایک ہی لائن میں کھڑے ہوتے ہیں “پہلے آئیے اور پہلے پائیے” کی بنیاد پر علاج ہوتا ہے، دماغ کے علاوہ انسانی جسم کے تمام ہی اعضاء کا ٹریٹمنٹ کیا جاتا ہے۔

ہسپتال کا بجٹ 15 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے لیکن کمال یہ ہے کہ اس خطیر رقم کا 92 فیصد پاکستان سے اور اسکا بھی 50 فیصد سے زیادہ کراچی پورا کرتا ہے، 70 فیصد لوگ اپنے نام کی جگہ “عبداللہ” بتا کر کروڑوں کی رقم جمع کرواتے ہیں اور جنت میں اپنے لیے پلاٹ پر پلاٹ بک کرواتے ہیں۔

ڈاکٹرعبد الباری کے پاس بھی ہر ڈاکٹر کی طرح دو آپشنز موجود تھے یہ 1987 میں ہاؤس جاب کرنے کے بعد امریکہ یا یورپ چلے جاتے ایک عیاش زندگی گزارتے روز صبح اےسی والے کمرے میں چائے کا “سپ” لیتے ہوئے اور رات کو کسی ریسٹورنٹ یا بوفے کی ٹیبل پر پاکستان، پاکستانی قوم اور یہاں کے حالات پر تبرا بھیجتے رہتے اور ایک “معزز شہری” بن کر دنیا سے رخصت ہو جاتے، دوسرا آپشن وہ تھا جو انہوں نے اپنے لئے منتخب کیا.

اس دنیا میں سب سے آسان گیم “بلیم گیم” ہے۔آپ کو ہمیشہ دو قسم کے لوگ ملیں گے۔ ایک وہ جو ہمیشہ مسائل کا ہی رونا روتے ہیں ان کو ہر جگہ صرف مسائل ہی مسائل نظر آتے ہیں وہ اس مکھی کی طرح ہوتے ہیں جو 86 آنکھیں رکھنے کے باوجود بھی بیٹھتی صرف گندگی پر ہی ہے, اور دوسری قسم ڈاکٹر عبدالباری جیسے لوگوں کی ہوتی ہے ان کی زبان پر کبھی شکوہ اور شکایت نہیں ہوتی ان کی نظر موجود وسائل اور اللہ کی ذات پر ہوتی ہے اور کائنات کا اصول یہ ہے کہ آپ ان دونوں میں سے جس چیز کو جتنا بولیں گے اور جتنا سوچیں گے وہی آپ کے ساتھ ہونے لگے گا۔

17/07/2021

پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی نرسنگ سٹاف کا قاسم خونی رہزنی کے دوران زخمی،پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی نرس سٹاف قاسم پر...
15/07/2021

پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی نرسنگ سٹاف کا قاسم خونی رہزنی کے دوران زخمی،پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی نرس سٹاف قاسم پر قاتلانہ حملے کی مذمت کرتا ہے۔پی آئی سی انتظامیہ ہر حالت میں اپنے سٹاف کے ساتھ کھڑا ہے اورا پنے عملے کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے

ہسپتال انتظامیہ حکومت خیبر پختونخوا اور متعلقہ سیکیورٹی اداروں سے اپیل کرتی ہے کہ قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائے اور جلد از جلد گرفتار کر کے سخت سے سخت سزا دی جائے،ہسپتال ڈائریکٹر پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی

نرسنگ سٹاف قاسم گزشتہ شب ڈیوٹی سے گھر جا رہے تھے موبائل مسلح رہزنوں نے موبائل چھیننے کے دوران فائرنگ کی جس سے نرسنگ سٹاف قاسم زخمی ہوگیا
قاسم کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گو ہیں-

پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے فزیو تھراپی ڈیپارٹمنٹ کے لیے ایمرجنسی تربیتی مشق کا انعقاد،،تربیتی مشق نرسنگ ڈیپارٹمنٹ ...
06/07/2021

پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے فزیو تھراپی ڈیپارٹمنٹ کے لیے ایمرجنسی تربیتی مشق کا انعقاد،،تربیتی مشق نرسنگ ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے کرایا گیا جس کا مقصد دوران علاج کسی بھی مریض کو ایمرجنسی پڑنے پر کیسےبہتر علاج مہیا کیا جا سکتا ہے ۔۔کیونکہ پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی اپنے تمام مریضوں کو امراض قلب کے بہتر سہولیات دینے کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے۔
صحت مند دل ،،،صحت مند زندگی

نرسنگ انسانیت کی خدمت کا دوسرا نامپشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں انٹرنیشنل نرسز ڈے کی مناسبت سے تقریب،،پشاور انسٹیٹیو...
03/06/2021

نرسنگ انسانیت کی خدمت کا دوسرا نام
پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں انٹرنیشنل نرسز ڈے کی مناسبت سے تقریب،،
پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں نرسنگ سٹاف ہر وقت ہر دم مریضوں کی تیمارداری میں اپنی بہترین خدمات پیش کر رہا ہے،پی آئی سی اپنے تمام نرسز کو سلام پیش کرتی ہے۔۔۔

22/04/2021

پشاور انسٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں افغان شہریوں کے لیے خصوصی سہولت کاونٹر قائم۔۔۔ اب صوبے کے واحد امراض قلب ہسپتال سے افغان شہری بھی مستفید ہوسکیں گے..
4 ماہ کے دوران 114 افغان مریضوں کا او پی ڈی میں معائنہ کیا گیا جبکہ 23 مریضوں کوانجیو گرافی اور 11 کواوپن ہارٹ سرجریزکی سہولت دی گئی ہے۔

پشاور انسٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں افغان شہریوں کے لیے خصوصی سہولت کاونٹر قائم۔۔۔ اب صوبے کے واحد امراض قلب ہسپتال سے افغان...
16/04/2021

پشاور انسٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں افغان شہریوں کے لیے خصوصی سہولت کاونٹر قائم۔۔۔ اب صوبے کے واحد امراض قلب ہسپتال سے افغان شہری بھی مستفید ہوسکیں گے..
4 ماہ کے دوران 114 افغان مریضوں کا او پی ڈی میں معائنہ کیا گیا جبکہ 23 مریضوں کوانجیو گرافی اور 11 کواوپن ہارٹ سرجریزکی سہولت دی گئی ہے۔

Address

5A, Sector B-3, Phase-5, Hayatabad
Peshawar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nursing Division Peshawar Institute of Cardiology posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Nursing Division Peshawar Institute of Cardiology:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram