07/08/2021
سبز پرچم یاسبز پودا۔۔۔میرےوطن،شہیدوں کےمسکن کی مٹی۔۔۔1947ءجب ہمارےہزاروں قافلےلاپتہ کردیئےگئے،پچاس لاکھ اُمتی شہید کردیئےگئے۔لاکھوں بیٹیاں بت پرستوں کی باندیاں بنادی گئیں۔کتنی عزتیں تارتار اور کتنیوں نےخود سوزی کی۔۔۔کتنی ریل گاڑیاں خاموش موت بن کےسایہ کی طرح لاشوں بھری پہنچیں۔تاریخ کی سب سےبڑی ہجرت اور معصوموں کا اتنےکم وقت میں قتلِ عام ہوا۔۔۔کیا ہر14اگست کو جھنڈا لہرا دینااور اگلےدن کوڑا دان میں پھینک دیناہی ملک کی محبت ہے۔۔؟..ہم نےآج تک شہیدوں کی اس مٹی کو اپناووٹ اور ضمیر بہت سستےمیں بیچ کےچور ڈاکوؤں اور غداروں کےہاتھ میں دیئےرکھا۔۔۔نظریہِ پاکستان کو بھول کےروٹی کپڑا اور مکان جیساباطل نظریہ بناڈالا۔۔۔ہماری سوچ ٹماٹروں کی قیمتوں میں اٹکا کےپاکستان کی بنیاد کےمقصد سےدور کردی گئی۔ہم پہ ہمارےہی خریدےگئے ووٹ سےوہ لوگ مسلط ہیں جو ہمیں لوٹ کےوائسرائیوں کیطرح جائداد برطانیہ یاامریکہ میں بناتےہیں۔ہم غداروں کو ووٹ دینےوالےاس دھرتی کےغدار ہیں۔آئیں آج بھی وقت ہے۔اپنی شہیدوں کےخون سےزرخیز مٹی سےاسکو آئندہ نہ بیچنےکاوعدہ کریں۔پاکستان سےلینےکی بجائےاس چودہ اگست پہ پاکستان کو اسکی اصل ضرورت پچیس کروڑپودوں کو تحفہ دیں۔