HealthyKids with Dr. Gul Khan

HealthyKids with Dr. Gul Khan and .

Vaccine at 6th weeks of life
21/07/2025

Vaccine at 6th weeks of life

This is the list of drugs which anyone can buy from Medical Store. Except these, Medical store personnel, is not allowed...
17/06/2025

This is the list of drugs which anyone can buy from Medical Store. Except these, Medical store personnel, is not allowed to sell you any medicine or drug without the prescription of a Qualified Doctor. Just like others this LAW & Rule is not implemented. Medical store Keepers are doing Quakary without any hindrance or Fear. This Malpractice is leading Antibiotics resistance and disease related complications.

11/06/2025

گلی کوچوں اور دیہاتوں میں حکیم ڈسپنسر یا مداری ڈاکٹرز سٹیرائڈ انجیکشن کا اس قدر بے دریغ اور غلط استعمال کر رہے ہیں کے آج کل لوگ اپنے بچوں کو جب خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور کی ایمرجنسی یا او پی ڈی میں لے کر آتے ہیں تو ان کا اصرار ہوتا ہے کہ ان کے بچوں کو سینے والے انجکشن لگایا جائے یا وہ انجیکشن لگاؤ جس سے فوراً آرام آجائے ۔ سٹیرائڈ سے اگرچہ آرام جلدی آ جاتا ہے لیکن اس کے بہت زیادہ خطرناک اور مضر اثرات ہوتے ہیں ۔ ہمارے لئے سٹیرائڈ انجکشن نسخہ پر تحریر کرنا زیادہ آسان ہے بجائے اس کے کہ ہم بچوں کے والدین کو اس بات پر راضی کریں کہ یہ انجیکشن ان کے بچے کی صحت کے لیے خطرناک ہے ۔
مہربانی فرما کر اپنے بچے کو کسی مستند ڈاکٹر کو دکھائیں اور ان مداریوں سے دور رہیں جو علاج کی صورت میں آپ کے بچوں کو زہر دے رہے ہیں جس کا آپ لوگوں کو اندازہ نہیں ہے۔

🚨 ALARMING !The Samonella species that causes typhoid is now resistant to nearly all of the major antibiotics. We should...
21/05/2023

🚨 ALARMING !
The Samonella species that causes typhoid is now resistant to nearly all of the major antibiotics. We should all be grateful to the quacks and the government for promoting quackery. For the sake of knowledge, germs do not distinguish between rich and poor .

21/04/2023
دو سال کا بچہ ایمرجسی لایا گیا جس نے سیفٹی پِن نگل لی تھی۔خدارا بچوں کے معاملے میں بہت احتیاط کریں. بالخصوص یہ 1 سے 3 سا...
01/04/2023

دو سال کا بچہ ایمرجسی لایا گیا جس نے سیفٹی پِن نگل لی تھی۔

خدارا بچوں کے معاملے میں بہت احتیاط کریں. بالخصوص یہ 1 سے 3 سال کی عمر نہایت خطرناک ہے.

اس عمر کے بچے کو:
. کسی صورت میں بھی سکہ یا کوئی بھی ایسی چھوٹے سائز کی کھیلنے والی چیز نہ دیں جو گلے میں پھنس سکتی ہو
. گولیاں ٹافیاں بالکل نہ دیں اور ڈرائی فروٹ بھی اپنی نگرانی میں دیں
. بچے کا فیڈر کبھی بھی مائکرو ویو میں گرم نہ کریں. اس سے دودھ ہر طرف سے ایک جیسا گرم نہیں ہوتا اور کوئی "ہاٹ سپاٹ" بچے کا منہ جلا سکتا ہے
. پنسل، تیلا، چابی یا کوئی بھی نوکیلی چیز مت پکڑنے دیں
. بجلی کے ساکٹس پر ٹیپ لگا کر رکھیں اور کوئی بھی تار ننگی یا بغیر پلگ کے نہ چھوڑیں
. ٹیبل پر ایسا کپڑا نہ ہو جسے بچہ کھینچ لے اور اوپر پڑا کوئی ڈیکوریشن پیس اسے زخمی کر دے
. دراز ایسے ہوں(سٹاپر والے) کے بچہ کھینچے تو پورے کے پورے باہر نکل کر اسکے اوپر نہ گر جائیں
. بچے کو کبھی بھی پانی سے بھری بالٹی یا باتھ ٹب کے پاس اکیلا کھڑا نہ چھوڑیں... ایک لمحے کیلئے بھی نہیں. بچے اوندھے منہ بالٹی میں گر کر فوراً ڈوب جاتے ہیں
. بچے کے گلے میں تعویذ، لاکٹ وغیرہ نہ لٹکائیں اور نہ چوسنی کا ہار پہنائیں. یہ کسی بھی وقت پھندا بن سکتے ہیں.
. تمام ادویات اور خطرناک کیمیکلز (مٹی کا تیل، بلیچ، تیزاب وغیرہ) ہر صورت میں تالے میں رکھیں
. سیڑھی اور چھت کی منڈیر کے معاملے میں خاص احتیاط کریں
. موٹرسائیکل پر بغیر کسی تیسرے بڑے شخص کے اپنے ساتھ اکیلے مت بٹھائیں
. گاڑی میں اگلی سیٹ پر ہرگز نہ بٹھائیں اور گود میں لے کر ڈرائیو کرنے والے احمقوں والی حرکت تو بالکل نہ کریں
. بیرونی دروازے ہمیشہ بند رکھیں اور خیال رکھیں کہ بچے کا ہاتھ کنڈی یا لاک تک نہ پہنچتا ہو

یہ چند احتیاطی تدابیر آپکے ہنستے بستے گھر کو آناً فاناً ماتم کدہ بننے سے بچا سکتی ہیں.منقول۔

تمام والدین کو آگاھ کریں۔ صدقہ جاریہ ہے ۔جزاك الله

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے ؟ اگر ایک فوجی بارڈر پر ڈیوٹی دے رہا ہو ۔ بارڈر بھی آپ کے دشمن ملک جیسا کہ انڈیا کا بارڈر ہو یا ل...
17/02/2023

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے ؟
اگر ایک فوجی بارڈر پر ڈیوٹی دے رہا ہو ۔ بارڈر بھی آپ کے دشمن ملک جیسا کہ انڈیا کا بارڈر ہو یا لائن آف کنٹرول پر اس کی ڈیوٹی ہو ۔ اور اس فوجی کے پاس کوئی اسلحہ نہ ہو ۔ اسے ایک چھوٹی سی گن دی گئی ہو جس سے وہ بالکل صرف وہاں کے قریب والے جانوروں کا خاتمہ کر سکتا ہو لیکن اصل دشمن کا مقابلہ نہ کر سکتا ہو۔ کیا آپ ایسے فوجی سے جنگ جیتنے کی توقع کر سکتے ہیں ۔ کیا وہ فوجی اپنے ملک کا دفاع کر سکتا ہے ۔ کیا وہ فوجی اپنی جان بچا سکتا ہے یا اپنے ملک کے رہنے والوں کی جان بچا سکتا ہے ۔ یقینا آپ کا جواب نہیں ہوگا۔ ایسا فوجی نہ تو اپنی جان کی حفاظت کر سکتا ہے نا اپنے ملک کا دفاع کر سکتا ہے نا اپنے ملک میں رہنے والی عوام کی حفاظت کر سکتا ہے ۔ اس لیے ہم اپنے ہر فوجی کو بہتر سے بہترین اسلحہ دیتے ہیں تاکہ وہ اپنی بھی حفاظت کر سکے اور اپنے ملک کا دفاع بھی کر سکے اپنے ملک میں رہنے والے عوام کی جان کی بھی حفاظت کر سکے ۔
لیکن آپ کو یہ جان کر تعجب ہوگا کہ ایسا واقعات روز ہوتا ہیں پشاور کے ہسپتالوں میں روزانہ کی بنیاد پر یہ واقعات پیش آ رہے ہیں ۔ ایمرجنسی میں ڈیوٹی دینے والے ڈاکٹر بھی گویا بارڈر پر ڈیوٹی دینے والے فوجی ہی ہوتے ہیں ۔ ہمارے پاس عموماً کریٹیکل پیشنٹ جن کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے لائے جاتے ہیں ۔ ایسے میں ڈاکٹر کے پاس ہر طرح کی جان بچانے والی ادویات اور دوسری سہولیات کا ہونا بے حد ضروری ہے ۔ لیکن افسوس کے ساتھ پشاور کے تمام بڑے سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجسی میں سہولیات بالکل نہ ہونے کے برابر ہیں۔
کل رات جب میں ڈیوٹی پہ تھا 4 سال کا بچہ لایا گیا سوات سے جہاں اس کے گلے کے غدود Tonsillectomy کا آپریشن کیا گیا تھا انستھیزیا کمپلیشنز کی وجہ سے وہ بچہ بے ہوشی سے واپس ہوش میں نہیں آ رہا تھا ۔ اس کا سانس بند ہوچکا تھا اور اسے سانس کی نالی ایمرجنسی میں آپریشن تھیٹر میں لگائی گئی تھی اور ہاتھ کے ذریعے غبارے کے ذریعہ اس کو آکسیجن دی جارہی تھی۔ اس طرح کے مریض کے لیے فوری طور پر وینٹی لیٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔ مریض کو ایمبولنس میں ڈال کر پہلے تو سوات کے سب سے بڑے ہسپتال میں لے جایا گیا لیکن وہاں وینٹی لیٹر نہ ہونے کی وجہ سے اسے وہاں سے پشاور ٹرانسفر کیا گیا ۔ پشاور کے تین بڑے سرکاری ہسپتالوں میں سے وہ دو ہسپتالوں کا چکر لگا چکے تھے وہاں بھی ایمرجنسی میں وینٹی لیٹر نہیں تھا اس لئے وہ رات 3 بجے میرے پاس پہنچے۔ مریض کے گھر والوں میں سے خود ایک ڈاکٹر ساتھ موجود تھا جو منت کر رہا تھا کہ مہربانی فرما کے کسی طرح وینٹی لیٹر کا انتظام کیا جائے اور میرے بچے کو اس پر شیفٹ کیا جائے تاکہ اس کی جان بچائی جا سکے ۔ لیکن افسوس کے ساتھ ایسے ہسپتال میں یہاں ایک بیڈ پر تین تین مریض پڑے ہوئے ہوں وہاں ایک وینٹی لیٹر کیسے میسر آ سکتا ہے ایک مریض کو جو کہ باہر سے آیا ہوں ۔ یوں 4 سال کا بچہ اس کے پی کے اور پشاور کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی میں وینٹی لیٹر نہ ہونے کی وجہ سے رات چار بجے ایمرجنسی میں جان کی بازی ہار گیا ۔ فوجی تو موجود تھا لیکن افسوس کی بات ہے کہ فوجی کے پاس اسلحہ نہیں تھا جس سے وہ جنگ لڑ سکتا جان کی حفاظت کر سکتا ۔ ہمارے پاس صوبے کے تمام شہروں اور علاقوں سے مریضوں کو اس امید کے ساتھ ریفر کیا جاتا ہے یا خاندان والے زور لگاتے ہیں کہ ہمیں پشاور بھیجا جائے تاکہ ان کے مریض کا بہترین علاج ہو سکے لیکن افسوس ہوتا ہے جب ایک قابلِ علاج بیماری کی وجہ سے ایسی قیمتی جان کا ضیاع صرف اس وجہ سے ہوتا ہے کہ ہمارے پاس وہ سہولت نہیں ہوتی جس کی وجہ سے ہم اس بچے کی جان بچا سکیں۔
ہمارا معاشرہ کس طرف کو جا رہا ہے اور ہماری ترجیحات کیا ہیں سمجھ سے بالاتر ہے ۔ ہمارے صاحبِ اقتدار اور اشرافیہ پاکستان میں ہرنیا کا آپریشن بھی کروانا گوارا نہیں کرتے ۔ ان کا علاج لندن اور امریکہ میں ہوتا ہے ۔ ان کو پاکستان کے ہسپتالوں سے کیا غرض اور وہ پاکستان کی عوام کے لیے ہسپتال کیوں بنائیں۔؟؟

میں ڈاکٹر ہوں اور یہ میری غلطی نہیں ہے۔میں نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ جب بھی اسپتالوں میں کچھ غلط ہوجاتا ہے تو ، ڈاکٹروں کو ہم...
23/01/2023

میں ڈاکٹر ہوں اور یہ میری غلطی نہیں ہے۔

میں نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ جب بھی اسپتالوں میں کچھ غلط ہوجاتا ہے تو ، ڈاکٹروں کو ہمیشہ اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ کوئی بھی نہیں سمجھتا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ ، ڈاکٹروں ، پیرا میڈیکل اسٹاف سمیت بہت سے لوگوں کے زیر انتظام چلتا ہے جس میں نرسیں ، کارکن ، ٹیکنیشن وغیرہ شامل ہیں۔ ڈاکٹر کا کام صرف مریض کا علاج کرنا ہے۔ آپ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے!

میں ڈاکٹر ہوں اور یہ میری غلطی نہیں ہے۔

🔸اگر آپ اپنے مریض کو بہت دیر سے لاتے ہیں تو ، یہ میری غلطی نہیں ہے۔
🔸اگر آکسیجن پورٹ کام نہیں کرتا ہے تو ، یہ میری غلطی نہیں ہے۔
🔸اگر وہیل چیئر ناقص ہے ، تو یہ میری غلطی نہیں ہے۔
🔸اگر آپ کے بستر پر دوگنا ہو تو ، یہ میری غلطی نہیں ہے۔
🔸اگر ہسپتال فارمیسی میں دوا دستیاب نہیں ہے تو ، یہ میری غلطی نہیں ہے۔
🔸اگر آپ فارمیسی سے مفت دوائیں نہیں پاسکتے ہیں تو ، یہ میری غلطی نہیں ہے۔
🔸اگر آپ جو واش روم استعمال کرتے ہیں وہ گندا ہے تو ، یہ میری غلطی نہیں ہے۔
🔸اگر آئی سی یو میں کوئی بستر دستیاب نہیں ہے تو ، یہ میری غلطی نہیں ہے۔
🔸اگر 15 مریضوں کے لئے ایک ڈاکٹر ہے تو ، یہ میری غلطی نہیں ہے۔
🔸اگر اکثر اوقات ایکس رے مشین فنی خراںی سے کام نہیں کر رہی ہے تو ، یہ میری غلطی نہیں ہے۔
🔸اگر آپ نسخے کی صحیح پیروی نہیں کرتے ہیں تو ، یہ میری غلطی نہیں ہے۔
🔸اگر آپ خود سے اینٹی بائیوٹک استمعال کرکے اپنے اندر اس دوائ کی مزاحمت پیدا کر چکے ہیں آپ مزاحم بن چکے ہیں تو ، یہ میری غلطی نہیں ہے۔
🔸اگر آپ کو آپریشن کیElective List کیلے چھ ماہ تک ویٹنگ لسٹ میں رکھا جاتا ہے تو ، یہ میری غلطی نہیں ہے۔

اب یہ الزام وہاں لگانے کا وقت آگیا ہے جہاں سے اسکا تعلق ہے ۔
COPIED

21/01/2023

بچوں کی صحت کے حوالے سے ایک مسئلہ جو کہ روزانہ کی بنیاد پر وارڈ میں داخل بچوں کے والدین کو پیش آتا ہے وہ یہ ہے کہ بہت سی بیماریاں ایسی ہیں یا بہت سی کنڈیشنز ہیں جس کے ہوتے ہوئے ڈاکٹر بچے کو خوراک دینا بند کروا دیتے ہیں ۔ منہ کے ذریعے کوئی چیز بھی دینا اس کے لئے بند ہو جاتا ہے بچہ اگر دوسال سے چھوٹا ہے تو اس کو دودھ، ماں کا دودھ یا فیڈر اگر ہے تو وہ بند کروا دیا جاتا ہے ۔ ایسی صورتحال میں ماں باپ کو سب سے بڑی پریشانی یہ ہوتی ہے کہ ہمارا بچہ بھوک سے مر نہ جائے یا ہمارے بچے کو بھوک لگی ہوئی ہے اور وہ اس وجہ سے خراب ہو رہا ہے یا وہ ہر وقت اگر روتا ہے تو ماں یہ کہتی ہے کہ بچہ بھوک کی وجہ سے رو رہا ہے ۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ جس بچے کو بھی خوراک بند کر دی جاتی ہے تو وہ اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس کو خوراک نہ دی جائے ۔ مثال کے طور پر اگر بچے کو نمونیا ہے اس کو سانس بہت تیز آرہا ہے تو ایسی صورت میں اگر اس کو دودھ دیا جائے ، خوراک دی جائے تو وہ الٹی کی صورت اس کے پھیپھڑوں میں چلی جاتی ہے جس سے اور زیادہ دشواریاں پیدا ہوتی ہیں ۔ یا اگر اس کو جھٹکے لگ رہے ہیں اور جھٹکوں کی وجہ سے ڈاکٹر نے خوراک بند کی ہے تو یہ بھی اس کے لیے ضروری ہے کیونکہ جھٹکے کے دوران بھی معدے سے خوراک پھیپھڑوں میں آنے کے چانس زیادہ ہوتے ہیں ۔ یعنی ایسی صورتحال میں خوراک دینا زیادتی ہے نہ کہ خوراک بند کرنا زیادتی ہے ۔۔ دوسری بات یہ ہے کہ کوئی بھی بچہ جس کی خوراک بند ہوتی ہے اس کو ہمیشہ اس کی ضرورت کے مطابق خوراک ڈریپ کے ذریعے دی جا رہی ہوتی ہے ۔ اور اس کا بلڈ شوگر لیول مونیٹر کیا جارہا ہوتا ہے ۔ کوئی بھی ڈاکٹر اتنا پاگل نہیں کہ ایک بچے کو خوراک بند کروا دیے اور پھر اس کو ڈرپ کے ذریعے اس کی غذائیت یا اس کی ریکوائرمنٹ پوری نہ کرے ۔

19/01/2023

ڈاکٹر مریض سے اتنے سوال کیوں پوچھتا ہے اور اس کا مقصد کیا ہوتا ہے ؟
جب بھی کوئی مریض ہمارے پاس او پی ڈی کلینیک یا وارڈ میں داخل ہوتا ہے تو ہم اس کی بیماری اور اس کی شکایات کے متعلق دریافت کرتے ہیں ۔ چھوٹے بچے جو کہ نہ سمجھ ہوتے ہیں یا بتا نہیں پاتے تو ان کی بیماری کے متعلق ان کے والدین سے پوچھا جاتا ہے ۔ دراصل ہر علامت یا ہر شکایت جو مریض کو ہوتی ہے یا مریض جس تکلیف کے ساتھ ڈاکٹر سے رجوع کرتا ہے وہ بیماری کی طرف ایک اشارہ ہوتا ہے ۔ جس سے ڈاکٹر کو بیماری کی تشخیص میں مدد ملتی ہے اور وہ بیماری کا اچھے سے علاج کر پاتا ہے ۔ مثال کے طور پر اگر کوئی بچہ صرف بخار کی وجہ سے ڈاکٹر کے پاس لایا گیا ہے ۔ڈاکٹر کا سب سے پہلا سوال ہوتا ہے کہ بخار کب سے ہے ۔ دو دن سے ہے، دو ہفتوں سے ہے یا دو مہینوں سے ہے ۔ دوسرا سوال ہوتا ہے کہ بچے کو بخار کتنا ہوتا ہے بہت زیادہ ہوتا ہے یا ہلکا ہلکا ہوتا ہے ۔ تیسرا سوال ہوتا ہے کہ بخار ہر وقت رہتا ہے یا ہو جاتا ہے اور پھر ٹھیک ہو جاتا ہے ۔ اگلا سوال یہ ہوتا ہے کہ بچے کو بخار کے ساتھ سردی لگتی ہے اس کو کپکپی ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ ایک اور سوال بھی ہوتا ہے کہ بخار کے ساتھ جھٹکے تو نہیں آتے ۔ اس کے ساتھ مزید سوال کہ کھانسی تو نہیں ہوتی، سانس میں تکلیف تو نہیں ہے ، پیشاب جل کے تو نہیں آتا ، کان سے ریشہ تو نہیں آتا ۔ یہ تمام سوالات بچے کی بیماری کی تشخیص کے لیے ضروری ہوتے ہیں ۔ بچے کو بخار دو دن یا ایک ہفتے سے ہے تو اس کی بیماری اور ہے اگر وہی بخار دو مہینے سے یا ڈیڑھ مہینے سے ہے تو اس کی بیماری الگ ہے اور اس کا علاج بھی الگ ہے ۔ اسی طرح اگر بچے کو بخار کے ساتھ جھٹکے آتے ہیں، اس کو کھانسی ہے یا اس کو پیشاب جل کے آتا ہے تو یہ ساری بیماریاں الگ ہیں اور ان کا علاج بھی الگ ہے ۔
اس لیے جب بھی بچے کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جائیں تو ساتھ وہ بندہ جائے جس کو بچے کی بیماری کے بارے میں مکمل معلومات ہیں ۔ اور بچے کی علامات کے بارے میں اور بیماری کے بارے میں تفصیل سے ڈاکٹر کو صحیح اور ٹھیک معلومات فراہم کریں ۔ تاکہ آپ کی بچے کی بیماری کی تشخیص بھی ٹھیک ہو اور اس کا علاج بھی بہتر انداز میں ہو سکے ۔

Address

Khyber Teaching Hospital
Peshawar

Telephone

+923457500104

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when HealthyKids with Dr. Gul Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to HealthyKids with Dr. Gul Khan:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram