Design Behavior Through Understandin

Design Behavior Through Understandin Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Design Behavior Through Understandin, Medical and health, University Road, Peshawar.

رشتے داروں کو بدمعاشی کا موقع نہ دیں۔        یہ جملہ آپ کو شائد عجیب سا لگ سکتا ہے، ہاں اگر آپ اپنی اولاد کو ایک نفسیاتی...
07/09/2025

رشتے داروں کو بدمعاشی کا موقع نہ دیں۔

یہ جملہ آپ کو شائد عجیب سا لگ سکتا ہے، ہاں اگر آپ اپنی اولاد کو ایک نفسیاتی و ذہنی دباؤ سے بچانا چاہتے ہیں، تو اپنے رشتے داروں کو اپنے بچوں کو کسی بھی طرح سے تنگ کرنے کی اجازت نہ دیں۔ میں نے خاص طور پر رشتے دار کیوں لکھا ہے؟ کیونکہ اکثر رشتے دار ہی آپ کے بچوں کے ساتھ آپ کے سامنے ایسے جملے بول سکتے ہیں، آپ کے بچوں کے حلیے پر، ان کی عادات پر، ان کے معاملات پر، غیر مناسب تنقید یا واقعتا سنجیدہ موڈ میں یا ہنسی مذاق میں ایسے بے ہودہ قسم کے سوالات کر سکتے ہیں، جنہیں سن کر ممکن ہے کہ آپ کو بھی اچھا نہیں لگے گا، مگر آپ خاموش رہتے ہیں کیونکہ اگر آپ انہیں ایسے جملے بولنے سے روکیں گے، تو آپ کی رشتہ داری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ آپ کا بچہ ایسی کسی کیفیت کا جواب نہیں دے سکتا، مگر آپ ہوشمندی کا مظاہرہ کریں اور انہیں اس تکلیف سے بچائیں۔

بچوں کی شکل کے حوالے سے، ان کے بالوں کے حوالے سے، ان کی رنگت، ان کے جسمانی اعضاء پر، یا کسی بھی نوعیت کے اعتبار سے ان کی عادات کے اعتبار سے ان کے لباس پر اگر آپ کے بچے پر کوئی تنقید کرتا ہے، یا بچے کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہے، ہوسکتا ہے کہ اپنے تئیں وہ سمجھا رہا ہوتا ہے لیکن اس کا انداز طنزیہ ہو سکتا ہے، یا اس میں حقارت یا ڈانٹ کی کیفیت موجود ہوسکتی ہے، تب آپ کو لگتا ہے کہ وہ ایک خاندان کا ایک بڑا فرد بطور ایک well wisher کے آپ کے بچے کے ساتھ یہ سب کر رہا ہے۔ اور چلیں مان لیں کہ آپ کو بھی لگ رہا ہو کہ یہ طریقہ درست نہیں ہے۔ لیکن آپ اپنی رشتہ داری کو قائم رکھنے کے لیے، بزرگ یا کسی بھی رشتہ دار خاتون کی وہ بات برداشت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا بچہ تو "ایک چھوٹا بچہ جو کل اس بات کو یا اس ڈانٹ کو بھول جائے گا" ۔ تو ایسا ہر گز نہیں ہے۔بچے ایسی باتیں کبھی نہیں بھولتے، اس کا اظہار نہیں کر سکتے وہ ایک "بند بوتل کی طرح ہوتے ہیں اور بوتل بند احساسات کبھی نہیں مرتے، وہ زندہ رہتے ہوئے دفن ہوجاتے ہیں، اور ساری زندگی بعد میں ان بچوں میں احساس کمتری اور بدصورت رویے مختلف صورتوں میں ابھرتے ہیں۔

اس لیے رشتے داروں کو کبھی بھی اپنے بچوں کے بچپن، معصومیت اور خوشی کو مسخ کرنے کی اجازت نہ دیں اور جب بھی آپ کے بچے اپنا بچپن یاد کریں تو وہ اسے خوبصورت احساسات اور رویوں کے ساتھ یاد رکھیں، یہ چیز آپ کے بچوں کی خود اعتمادی کو مجروح کرتی ہے اور ان کے لیے نفسیاتی مسائل پیدا کرتی ہے۔ جو مستقبل میں انہیں نقصان پہنچائی گی، اگر ایسے کسی لمحے میں آپ اپنے کسی رشتہ دار کو موقع پر ہی ٹوک دیں گے ممکن ہے وہ رشتے دار چند روز، ہفتے، مہینے یا سال بھر آپ سے ناراض ہوسکتا ہے، لیکن یہ آپ کے بچے کی نفسیاتی حفاظت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے جو اس کا بنیادی حق ہے، کہ وہ اپنے آپ کو کم تر محسوس کریں یا اپنے جسم یا شخصیت کے کسی حصے سے نفرت کریں۔ اس لئے ایسے کسی بھی موقع پر رشتہ داروں کو سختی سے منع کریں، اپنے بچوں کے ساتھ کسی کو بھی حدود سے تجاوز نہ کرنے دیں، چاہے وہ مذاق میں ہو یا سنجیدگی میں بات میں ہو یا عمل میں ہر صورت یہ رویہ ناقابل قبول رکھیں۔

اکثر قریبی عزیز ہی یہ ہمت کرتے ہیں، کہ آپ کے بچوں کو ان کی ہئیت و رنگ کی وجہ سے کسی نامناسب نام سے پکار لیتے ہیں، جیسے موٹو، پتلو، بچوں کو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ بہت گھنا ہے، یہ کتنا غیر مناسب لفظ ہے، بچوں کے لئے اس کا اندازہ لگانا ہی مشکل ہے کہ آپ کسی بچے کو ایک طرح سے دھوکے باز کہہ رہے ہیں، بچوں کے بارے میں ایسے الفاظ یا مذاق کرنا سختی سے روکنا چاہئے، جو بچے کے لیے ناپسندیدہ یا تکلیف دہ ہو، یہ سب کرنے والے والے چاہے آپ کی بہن، یا آپ کے بھائی، آپ کی پھوپھی، آپ کی خالہ یا چچا ماموں وغیرہ کوئی بھی کتنا ہی عزیز کیوں نہ ہوں، انہیں بچوں کی جسمانی ساخت پر تبصرہ یا تضحیک کرنے سے سختی سے روکنا چاہئے کہ جیسے آپ کا بچہ اس طرح کیوں نہیں بھاگ سکتا؟ اس کا رنگ ایسا کیوں ہے، اس کا قد عمر کے حساب سے کم ہے، وہ ایسے کیوں پڑھتا ہے، ایسے کیوں کھاتا ہے، وہ ٹھیک سے بول نہیں سکتا۔ وغیرہ وغیرہ، اصل میں یہ تمام منفی باتیں بچوں پر اثر انداز ہوتی ہیں اور ان کے دماغ میں رہتی ہیں اور اس عمر میں ان کا دماغ اس پر یقین کر لیتا ہے۔

ایسے تمام برے لفظ یا جملے بچوں کے ذہن پر چھا جاتے ہیں، اور وہ مختلف مسائل کی صورت سامنے آتے ہیں، بچوں کی خود اعتمادی متاثر ہوتی ہے، اور ان مسائل سے نکلنے میں انہیں وقت لگتا ہے، ایسے ہر برے لفظ یا تنقیدی و تضحیکی جملوں کے اثر کو دور کرنے کے لیے ایک تکیلف دہ مرحلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، ایسے ایک جملے سے انہیں ذہنی طور پر چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے 100 اچھے جملوں کی ضرورت پڑے گی۔ اپنے بچوں کا دوسرے بچوں کے ساتھ نہ ہی خود موازنہ کرنا چاہیے نہ ہی کسی اور کا موازنہ کرنے دینا چاہیے، چاہے وہ آپ کے کتنے ہی بہترین رشتہ دار کیوں نہ ہو، کیونکہ ہر بچے کی اپنی شخصیت کی خصوصیات ہوتی ہیں، جو ایک بچے سے دوسرے بچے میں مختلف ہوتی ہیں، اور یہی موازنہ پہلی چیز ہے جو بچے کی شخصیت کو تباہ کرتی ہے اور خود اعتمادی کو کمزور کرتی ہے۔ آخری بات یہی ہے کہ افعال رویوں اور جملوں سے اپنے بچوں کے ساتھ ہونے والی ایسی بدمعاشی کو روکیں۔ کیونکہ یہ آپ کی ذمہ داری ہے، اور خود بھی بحیثیت رشتہ دار آپ دوسروں کے بچوں کے بارے میں جملہ بولتے وقت سو بار سوچیں کہ آپ کے جملے کا اس بچے پر کیا اثر ہوگا۔

تحریر: منصور ندیم

مورخہ 2 ستمبر، سنہء 2024.

جب گھروں میں کھانا پکنا بند ہو جائے۔۔۔کیا کبھی آپ نے سوچا کہ کھانا پکانا صرف ایک گھریلو کام نہیں، بلکہ خاندانی نظام کو ب...
16/08/2025

جب گھروں میں کھانا پکنا بند ہو جائے۔۔۔

کیا کبھی آپ نے سوچا کہ کھانا پکانا صرف ایک گھریلو کام نہیں، بلکہ خاندانی نظام کو باندھنے والی ایک زنجیر ہے؟
1980 کی دہائی میں جب امریکہ میں گھروں میں کھانا پکانا کم ہوا اور باہر سے منگوانے کا رجحان بڑھا، تو کچھ ماہرینِ معیشت نے خبردار کیا تھا:
"اگر حکومت بچوں اور بزرگوں کی نگہداشت کرے، اور کھانے کی تیاری بھی نجی کمپنیاں سنبھال لیں، تو خاندانی ڈھانچہ کمزور پڑ جائے گا۔"
تب بہت کم لوگوں نے ان باتوں پر دھیان دیا۔
لیکن پھر کیا ہوا؟
1971 میں 71٪ امریکی گھرانوں میں میاں بیوی اور بچے ایک ساتھ رہتے تھے۔
آج صرف 20٪ ایسے خاندان باقی بچے ہیں۔
باقی کہاں گئے؟
نرسنگ ہومز، اکیلے فلیٹس، یا بے ربط زندگیاں۔۔۔
15٪ خواتین اکیلی رہتی ہیں
12٪ مرد خاندانوں میں اکیلے ہوتے ہیں
41٪ بچے بغیر شادی کے پیدا ہوتے ہیں
پہلی شادیوں میں 50٪ طلاق کی شرح
دوسری شادیوں میں 67٪
تیسری میں 74٪
یہ سب کوئی حادثہ نہیں۔۔۔ یہ ایک سماجی قیمت ہے جو باورچی خانہ بند کرنے پر ادا کی گئی۔
گھر کا کھانا صرف غذا نہیں، یہ محبت ہے، ربط ہے، سکون ہے۔

جب خاندان ایک ساتھ بیٹھ کر کھاتے ہیں:
دل قریب آتے ہیں،
بچے اپنے بزرگوں سے سیکھتے ہیں،
رشتوں میں نرمی اور اپنائیت آتی ہے،
لیکن جب ہر کوئی اپنی ڈیوائس کے ساتھ اپنا کھانا کھا رہا ہو۔۔۔ تو گھر ریسٹ ہاؤس بن جاتے ہیں، خاندان سوشل میڈیا فرینڈز کی طرح رسمی رہ جاتے ہیں۔

باہر کے کھانوں کا ایک اور نقصان:
– غیر معیاری تیل
– مصنوعی ذائقے
– فاسٹ فوڈ کا نشہ
زیادہ قیمت میں کم اور ناقص کھانا۔

نتیجہ: موٹاپا، ذیابیطس، دل کی بیماریاں، کم عمری میں بلڈ پریشر!
اب کمپنیاں ہمیں بتاتی ہیں کہ کیا کھائیں، اور دوا ساز کمپنیاں ہمیں "صحت مند رکھنے" کا کاروبار چلاتی ہیں۔

ہمارے بزرگ سفر میں بھی اپنا پکا ہوا کھانا ساتھ رکھتے تھے۔
آج ہم گھر میں ہو کر بھی باہر سے منگوانے کو آسانی سمجھتے ہیں۔
اب بھی وقت ہے،
باورچی خانہ جلائیں، صرف چولہا نہیں۔۔۔ رشتے، محبت، تحفظ، تہذیب اور صحت بھی زندہ کریں۔
"ایک بیڈروم سے گھر نہیں بنتا، ایک باورچی خانے سے خاندان جڑتا ہے!"

کلائوڈ برسٹ کیا ہوتا ہے؟کلائوڈ برسٹ نے خیبر پختونخوا میں تباہی مچا دی کلاؤڈ برسٹ ایک موسمی مظہر ہے جس میں محدود علاقے می...
16/08/2025

کلائوڈ برسٹ کیا ہوتا ہے؟
کلائوڈ برسٹ نے خیبر پختونخوا میں تباہی مچا دی

کلاؤڈ برسٹ ایک موسمی مظہر ہے جس میں محدود علاقے میں انتہائی کم وقت میں بڑی مقدار میں بارش ہوتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں حالیہ کلاؤڈ برسٹ نے شدید تباہی مچائی، جس کے نتیجے میں طوفانی بارش، آندھی، اور سیلاب نے بونیر، مانسہرہ، سوات، شانگلہ، بٹگرام، اور باجوڑ جیسے علاقوں کو متاثر کیا۔

کلاؤڈ برسٹ کے دوران گھنٹوں میں ہونے والی بارش چند منٹوں میں ہو جاتی ہے، جس سے نہ صرف سیلاب بلکہ لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر تباہ کاریاں جنم لیتی ہیں۔ خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں یہ سیلاب بہت زیادہ طاقتور ہوتا ہے، جو بستیوں اور عمارات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

کلاؤڈ برسٹ کی بنیادی وجوہات میں موسمی تبدیلی، بڑھتی گرمی، اور ماحولیاتی توازن کا بگڑنا شامل ہیں۔ عام طور پر پہاڑی علاقوں میں بادل پھٹنے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ گرم اور مرطوب ہوائیں پہاڑوں سے ٹکرا کر بادلوں تک پہنچتی ہیں، اور ٹھنڈی ہواؤں کے ساتھ مل کر بارش کا سبب بنتی ہیں۔ جب یہ بوجھ بڑھ جاتا ہے تو بادل ایک ساتھ سارا پانی زمین پر انڈیل دیتے ہیں۔

جدید ٹیکنالوجی کے باوجود کلاؤڈ برسٹ کی پیشگوئی کرنا مشکل ہے، کیونکہ یہ مختصر دورانیے میں ہونے والا ایسا واقعہ ہے جسے سیٹلائٹ یا موسمی ریڈارز کے ذریعے پکڑا نہیں جا سکتا۔ پہاڑی علاقوں میں کلاؤڈ برسٹ ایک خوفناک اور تباہ کن طوفان بن جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قدرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اچھی نہیں ہوتی، اور جب قدرت انتقام لیتی ہے تو انسان بے بس ہوتا ہے۔

Reyasat ki Aoqat ka test hai.. Hukoomrano ko pata chaly k unki Haseeyat kia hai
22/07/2025

Reyasat ki Aoqat ka test hai.. Hukoomrano ko pata chaly k unki Haseeyat kia hai

20/07/2025

یہ المناک واقعہ نہ صرف ہمارے معاشرتی زوال کا ثبوت ہے بلکہ ریاست کی ناکامی کی گواہی بھی دیتا ہے۔ ایک ایسا جوڑا، جس نے اپنی مرضی سے شادی کی — ایک قانونی، شرعی اور انسانی حق — اُسے ڈیڑھ سال بعد غیرت کے نام پر بے دردی سے قتل کر دیا جاتا ہے، وہ بھی بظاہر ایک “دعوت” کے بہانے، جو درحقیقت ایک منظم قتل کی سازش تھی۔

# # # 🛑 *یہ ریاست کی ناکامی ہے کیونکہ:*
* *ریاست کے 78 سالہ سفر میں قانون کی حکمرانی قائم نہ ہو سکی۔*
* *ریاست نے قبائلی نظام اور رسم و رواج کے ظلم کو چیلنج کرنے کی ہمت نہ کی۔*
* *ریاست کا بیانیہ کمزور اور اس کا وجود ان علاقوں میں صرف کاغذوں تک محدود ہے جہاں لوگ اپنی بیٹیوں کو غیرت کی بھینٹ چڑھاتے ہیں۔*
* *ریاست نے کبھی ان مظالم پر پائیدار ایکشن نہیں لیا، اور یوں قاتلوں کو خاموش اجازت فراہم کی۔*

# # # 🧱 *یہ معاشرے کی بھی ناکامی ہے کیونکہ:*

غیرت کے نام پر قتل کو آج بھی کچھ قبائل میں "روایت" سمجھا جاتا ہے۔
* قاتلوں کو "مردانگی" کا تمغہ دیا جاتا ہے جبکہ مقتول عورت کو زندگی کا حق نہیں۔
* ایسے واقعات پر معاشرہ خاموش رہتا ہے، کوئی اجتماعی مزاحمت یا شرمندگی نظر نہیں آتی۔
# # # 💔 یہ کہانی ایک خاموش طوفان کی ہے ۔

* ایک عورت جس کے ہاتھ میں قرآن تھا، جس کی زبان خاموش مگر موقف مضبوط تھا۔
* اس کی آنکھوں میں خوف نہیں، اس کے قدموں میں کپکپاہٹ نہیں، اس کی خاموشی ظلم کی سب چیخوں پر بھاری تھی۔

یہ قتل نہیں، ایک نظریے کا قتل ہے۔
یہ صرف دو افراد کی جان لینا نہیں، بلکہ قانون، اختیار، محبت اور انسانیت کی گردن زنی ہے۔
یہ سب کچھ اس لیے ہو سکا کیونکہ ریاست “اپنی رٹ” بنانے میں ناکام رہی، اور معاشرہ “اپنی غیرت” کی غلط تعریف پر اب بھی خوش ہے۔
> انسانیت ہار گئی، پگڑیاں جیت گئیں
> ریاست خاموش ہے، معاشرہ مفلوج
> ریاست کی اگلی ناکامی کب اور کہاں ہوگی؟
> اور کیا تب بھی صرف ماتم ہوگا؟ یا اب کچھ بدلے گا؟

19/07/2025

🌟 **میٹرک کے نتائج آنے والے ہیں. ** 🌟

والدین سے ایک محبت بھری گزارش ہے:

📌 براہِ کرم نمبروں اور گریڈز کے چکروں میں اپنی اولاد کو ذہنی دباؤ کا شکار نہ بنائیں۔
📌 مارنے یا طعنوں سے آپ کا بچہ اندر ہی اندر مرجھا سکتا ہے۔

چاہے نمبر کم ہوں یا زیادہ — بچے کو گلے لگائیں، مبارکباد دیں اور اس کا حوصلہ بڑھائیں۔

🧠 اس سے پوچھیے کہ وہ کیا بننا چاہتا ہے؟
💬 مستقبل کے خوابوں پر بات کیجیے، اس کی دلچسپی کے میدان میں رہنمائی کیجیے۔

یاد رکھیے، ہر بچہ **یونیق** ہے۔ وہ ہر روز سیکھ رہا ہے۔
🙏 یقین دلائیے کہ ہم ہمیشہ اس کے ساتھ ہیں، چاہے نمبر کچھ بھی ہوں۔

ان شاء اللہ کل کو یہی بچہ آپ کا فخر بنے گا! 🌱💖

\ #والدین\_کا\_کردار
\ #بچوں\_کی\_حوصلہ\_افزائی
\ #میٹرک\_ریزلٹ\_2025
\

صرف 13 سال کا فرق... قدرتی حسن یا موسمیاتی خطرہ !  15 جولائی 2012 کو دودی پت سر مکمل طور پر برف سے ڈھکی ہوئی تھی، آج کے ...
14/07/2025

صرف 13 سال کا فرق... قدرتی حسن یا موسمیاتی خطرہ ! 15 جولائی 2012 کو دودی پت سر مکمل طور پر برف سے ڈھکی ہوئی تھی، آج کے دن، وہی مقام برف سے خالی اور سبزہ زار ہے۔
یہ صرف ایک جھیل کی کہانی نہیں، یہ بدلتے موسم، پگھلتے گلیشیئرز اور بڑھتے خطرات کی گواہی ہے۔

شجرکاری کے ساتھ ہمیں درخت کاٹنے جنگلات کاٹنے کو بھی طاقت سے روکنا ہوگا۔۔۔ بہت ہو چکا ماحول کے ساتھ جانداروں کے ساتھ کھلو...
10/07/2025

شجرکاری کے ساتھ ہمیں درخت کاٹنے جنگلات کاٹنے کو بھی طاقت سے روکنا ہوگا۔۔۔ بہت ہو چکا ماحول کے ساتھ جانداروں کے ساتھ کھلواڑ اب اس ماحولیاتی دھشتگردی کو روکنا ہوگا اور ایک ایک درخت کا باڈی گارڈ بنکر اسکی حفاظت کرنی ہوگی 🌳🌳🌳

Even after 78 years, whatever the priorities of our country may be — education is still not one of them.
09/07/2025

Even after 78 years, whatever the priorities of our country may be — education is still not one of them.

ماں اور بچے کے درمیان جلد از جلد دودھ پلانے اور جسم سے جسم کے ربط (Skin-to-Skin Bonding)** کے نتیجے میں ایک قدرتی ہارمون...
08/07/2025

ماں اور بچے کے درمیان جلد از جلد دودھ پلانے اور جسم سے جسم کے ربط (Skin-to-Skin Bonding)** کے نتیجے میں ایک قدرتی ہارمون **آکسیٹوسن** خارج ہوتا ہے۔
یہ ہارمون نہ صرف جذباتی رشتہ مضبوط کرتا ہے اور دودھ کے بہاؤ میں مدد دیتا ہے، بلکہ **ماں کے دل کی صحت کے لیے بھی نہایت مفید** ثابت ہوتا ہے۔

🌸 **جلد دودھ پلانا اور بچے کو پیدائش کے فوراً بعد سینے سے لگانا اپنائیں — یہ ماں اور بچے دونوں کی صحت کے لیے بہترین آغاز ہے۔**
💓 **ایک صحت مند بچہ، اور ایک محفوظ دل والی ماں۔**

🌾 **غذائیت پر مبنی سوشل اینڈ بیہیویئر چینج کمیونیکیشن (SBCC) مداخلتوں کو پائیدار اور مؤثر بنانے کے لیے، ہمیں اپنی حکمتِ ...
08/07/2025

🌾 **غذائیت پر مبنی سوشل اینڈ بیہیویئر چینج کمیونیکیشن (SBCC) مداخلتوں کو پائیدار اور مؤثر بنانے کے لیے، ہمیں اپنی حکمتِ عملی کو بدلنا ہوگا۔**

# # # اگر ہم غذائی کمی کے سوشل اینڈ بیہیویئر چینج پہلو سے یوں نمٹیں...

**لیکچرز سے نہیں...**
بلکہ:

1️⃣ **کہانیوں، کھیلوں اور خوشیوں سے بھرے ایک پلیٹ کے ساتھ**
2️⃣ صرف "غذا سکھانے" سے نہیں — بلکہ **ایسے تجربات تخلیق کرنے سے جو خاندان یاد رکھیں**
3️⃣ **مثالی پلیٹ کو بصری انداز میں دکھا کر** — **کیلوریز نہیں، رنگوں کے ذریعے**
4️⃣ **چھوٹی، قابلِ عمل تبدیلیاں متعارف کروا کر** — جو فطری محسوس ہوں، زبردستی نہیں
5️⃣ ہر چیز کو **3 A’s فریم ورک** میں بنیاد دے کر:
✅ **Affordability (قابلِ استطاعت)**
✅ **Accessibility (آسان رسائی)**
✅ **Availability (دستیابی)**

یہ صرف *آگاہی* تک محدود نہیں ہونا چاہیے —
یہ ہونا چاہیے **برتاؤ میں تبدیلی کا عمل**، ایک **شراکتی انداز** کے ذریعے، جہاں خاندان سیکھیں، عمل کریں، اور ایک ساتھ ترقی کریں۔

✨ **کیونکہ جب خوراک کہانی بن جائے — تو خاندان صرف زندہ نہیں رہتے، بلکہ پھلتے پھولتے ہیں۔**

\ #غذائیت #خوراک\_کی\_تنوع #طرز\_عمل\_کی\_تبدیلی #نشوونما

Address

University Road
Peshawar
25000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Design Behavior Through Understandin posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share