01/03/2026
بچوں میں اکثر بیماریوں جیسے بخار، نزلہ زکام، کھانسی، فلو اور ڈائریا وغیرہ کی وجہ وائرل انفیکشنز ہوتی ہیں، جو عموماً چند دنوں میں خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ بچوں کے مدافعتی نظام میں یہ انفیکشنز اپنے آپ ختم ہو جاتے ہیں اور بچے کی صحت بحال ہو جاتی ہے۔ ایسے معاملات میں والدین کو صبر کرنا چاہیے اور بچے کو آرام دینے، مناسب غذا اور پانی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ صرف ضرورت کے مطابق ہلکی دوائیں دینی چاہئیں۔
لیکن اکثر والدین چاہتے ہیں کہ بچہ فوراً ٹھیک ہو جائے، اس لیے وہ جلدی صحت یابی کے لیے وقتی حل یا انجیکشن کا مطالبہ کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے، یہ موقع اکثر غیر تربیت یافتہ یا غیر مستند افراد (quacks) استعمال کرتے ہیں اور بچوں کو بلا ضرورت گوشت میں یا انٹرا مسکیولر انجیکشنز لگاتے ہیں۔ یہ انجیکشن زیادہ تر کولہے (Buttock) کے پٹھوں میں دیے جاتے ہیں، جو بچوں کے لیے حساس مقام ہے کیونکہ یہاں ایک نہایت اہم نرو (Nerve)گزرتی ہے، جسے شیاٹک نرو کہتھ ہیں۔
شیاٹک نرو دماغ اور ٹانگ کے پٹھوں کے درمیان بنیادی رابطہ فراہم کرتی ہے اور پاؤں اور ٹانگ کی حرکت، چلنے، کھڑے ہونے، انگلیوں کی حرکت اور توازن برقرار رکھنے میں اسکا اہم کردار ہے۔ اگر انجیکشن غلط جگہ، زاویے یا تکنیک سے لگایا جائے، یا دوا اس نرو کے قریب یا اندر چلی جائے، تو یہ نقصان کا شکار ہو سکتی ہے۔ نتیجتاً بچے میں مختلف علامات ظاہر ہو سکتی ہیں، جیسے: ٹانگ یا پاؤں کی کمزوری یا حرکت میں کمی، پاؤں کا لٹک جانا (فٹ ڈراپ)، چلنے میں مشکل اور غیر فطری لنگڑا چلنا، ٹانگ یا پاؤں میں درد، جلن یا سن ہونا، اور پٹھے کمزور یا سکڑ جانا۔
تشخیص کے لیے سب سے پہلے کلینیکل معائنہ کیا جاتا ہے، جس میں بچے کے پٹھوں، حرکت، ردعمل اور چلنے کے انداز کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں مزید جانچ کے لیے NCS/EMG، الٹراساؤنڈ یا ایم آر آئی(MRI) کیے جاتے ہیں تاکہ نقصان کی شدت اور مقام معلوم کیا جا سکے۔
علاج کے مراحل میں سب سے پہلے بچے کے درد کو کم کرنا بنیادی قدم ہوتا ہے، اس کے بعد فزیوتھراپی شروع کی جاتی ہے تاکہ پٹھوں اور اعصاب کی حرکت اور طاقت بحال ہو سکے۔ بعض بچوں کو چلنے میں مدد دینے کے لیے مصنوی سپورٹ بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ اگر نقصان شدید یا دیرپا ہو اور بچے میں بہتری نہ آ رہی ہو تو بعض صورتوں میں سرجری پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ فیصلہ صرف مکمل جانچ اور ماہر چائلڈ نیورولوجسٹ کی رائے کے بعد کیا جاتا ہے۔
والدین کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ غیر ضروری انجیکشن سے پرہیز کریں۔ انجیکشن صرف اسی صورت میں دیے جائیں جب واقعی ضرورت ہو اور کسی مستند چائلڈ اسپیشلسٹ یا بچے کے مخصوص ڈاکٹر نے مشورہ دیا ہو۔ بروقت تشخیص اور صحیح علاج بچوں کے اعصاب اور پٹھوں کی مکمل بحالی میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور مستقل معذوری سے بچاتا ہے۔
جہاں تک ویکسینیشن کا تعلق ہے، والدین مطمئن رہیں کہ زیادہ تر ویکسینز جلد میں یا ایسے پٹھوں میں لگائ جاتی ہیں جہاں ایسے نقصان کا خطرہ نہ ہو اور یہ انجیکشن بالکل محفوظ ہیں۔ ویکسینز ہمیشہ تربیت یافتہ عملے کے ذریعے لگوائی جائیں، کیونکہ یہ بچوں کی صحت کے لیے نہایت ضروری اور محفوظ ہیں۔