Dr Feroz Gul

Dr Feroz Gul Family Physician and Children Specialist

بچوں میں اکثر بیماریوں جیسے بخار، نزلہ زکام، کھانسی، فلو اور ڈائریا وغیرہ کی وجہ وائرل انفیکشنز ہوتی ہیں، جو عموماً چند ...
01/03/2026

بچوں میں اکثر بیماریوں جیسے بخار، نزلہ زکام، کھانسی، فلو اور ڈائریا وغیرہ کی وجہ وائرل انفیکشنز ہوتی ہیں، جو عموماً چند دنوں میں خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ بچوں کے مدافعتی نظام میں یہ انفیکشنز اپنے آپ ختم ہو جاتے ہیں اور بچے کی صحت بحال ہو جاتی ہے۔ ایسے معاملات میں والدین کو صبر کرنا چاہیے اور بچے کو آرام دینے، مناسب غذا اور پانی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ صرف ضرورت کے مطابق ہلکی دوائیں دینی چاہئیں۔

لیکن اکثر والدین چاہتے ہیں کہ بچہ فوراً ٹھیک ہو جائے، اس لیے وہ جلدی صحت یابی کے لیے وقتی حل یا انجیکشن کا مطالبہ کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے، یہ موقع اکثر غیر تربیت یافتہ یا غیر مستند افراد (quacks) استعمال کرتے ہیں اور بچوں کو بلا ضرورت گوشت میں یا انٹرا مسکیولر انجیکشنز لگاتے ہیں۔ یہ انجیکشن زیادہ تر کولہے (Buttock) کے پٹھوں میں دیے جاتے ہیں، جو بچوں کے لیے حساس مقام ہے کیونکہ یہاں ایک نہایت اہم نرو (Nerve)گزرتی ہے، جسے شیاٹک نرو کہتھ ہیں۔

شیاٹک نرو دماغ اور ٹانگ کے پٹھوں کے درمیان بنیادی رابطہ فراہم کرتی ہے اور پاؤں اور ٹانگ کی حرکت، چلنے، کھڑے ہونے، انگلیوں کی حرکت اور توازن برقرار رکھنے میں اسکا اہم کردار ہے۔ اگر انجیکشن غلط جگہ، زاویے یا تکنیک سے لگایا جائے، یا دوا اس نرو کے قریب یا اندر چلی جائے، تو یہ نقصان کا شکار ہو سکتی ہے۔ نتیجتاً بچے میں مختلف علامات ظاہر ہو سکتی ہیں، جیسے: ٹانگ یا پاؤں کی کمزوری یا حرکت میں کمی، پاؤں کا لٹک جانا (فٹ ڈراپ)، چلنے میں مشکل اور غیر فطری لنگڑا چلنا، ٹانگ یا پاؤں میں درد، جلن یا سن ہونا، اور پٹھے کمزور یا سکڑ جانا۔

تشخیص کے لیے سب سے پہلے کلینیکل معائنہ کیا جاتا ہے، جس میں بچے کے پٹھوں، حرکت، ردعمل اور چلنے کے انداز کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں مزید جانچ کے لیے NCS/EMG، الٹراساؤنڈ یا ایم آر آئی(MRI) کیے جاتے ہیں تاکہ نقصان کی شدت اور مقام معلوم کیا جا سکے۔

علاج کے مراحل میں سب سے پہلے بچے کے درد کو کم کرنا بنیادی قدم ہوتا ہے، اس کے بعد فزیوتھراپی شروع کی جاتی ہے تاکہ پٹھوں اور اعصاب کی حرکت اور طاقت بحال ہو سکے۔ بعض بچوں کو چلنے میں مدد دینے کے لیے مصنوی سپورٹ بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ اگر نقصان شدید یا دیرپا ہو اور بچے میں بہتری نہ آ رہی ہو تو بعض صورتوں میں سرجری پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ فیصلہ صرف مکمل جانچ اور ماہر چائلڈ نیورولوجسٹ کی رائے کے بعد کیا جاتا ہے۔

والدین کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ غیر ضروری انجیکشن سے پرہیز کریں۔ انجیکشن صرف اسی صورت میں دیے جائیں جب واقعی ضرورت ہو اور کسی مستند چائلڈ اسپیشلسٹ یا بچے کے مخصوص ڈاکٹر نے مشورہ دیا ہو۔ بروقت تشخیص اور صحیح علاج بچوں کے اعصاب اور پٹھوں کی مکمل بحالی میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور مستقل معذوری سے بچاتا ہے۔

جہاں تک ویکسینیشن کا تعلق ہے، والدین مطمئن رہیں کہ زیادہ تر ویکسینز جلد میں یا ایسے پٹھوں میں لگائ جاتی ہیں جہاں ایسے نقصان کا خطرہ نہ ہو اور یہ انجیکشن بالکل محفوظ ہیں۔ ویکسینز ہمیشہ تربیت یافتہ عملے کے ذریعے لگوائی جائیں، کیونکہ یہ بچوں کی صحت کے لیے نہایت ضروری اور محفوظ ہیں۔

I am proud of my daughter Enaiya Feroz Gul
26/02/2026

I am proud of my daughter Enaiya Feroz Gul

12/02/2026

**Presentation Title:** موسموں کی الرجی اور بچوں کی دیکھ بھال (Seasonal Allergies and Child Care)

---

**عنوان**
- **عنوان:** موسمی الرجی سے بچوں کا تحفظ
- **ذیلی عنوان:** علامات، احتیاط اور علاج
- **پیش کنندہ:** [آپ کا نام]

**سلائیڈ 2: موسمی الرجی کیا ہے؟**
- یہ موسم کی تبدیلی سے ہونے والی ایک عام کیفیت ہے۔
- جسم کا مدافعتی نظام بعض بیرونی ذرات (جرگ / پولن، گرد) کو نقصان دہ سمجھ کر ردعمل دیتا ہے۔
- **عام وجوہات:** پھولوں کا زرگہ، گھاس، دھول، سرد ہوائیں۔

** بچوں میں عام علامات (Symptoms)**
- بار بار چھینکیں آنا
- ناک بہنا یا ناک بند ہونا
- آنکھوں میں خارش اور پانی آنا
- گلے میں خراش اور کھانسی
- تھکاوٹ اور چڑچڑا پن

** گھریلو احتیاطی تدابیر (Prevention at Home)**
- **گھر کی صفائی:** روزانہ جھاڑو پونچھ کریں، خاص طور پر قالین اور پردوں کی۔
- **کھڑکیاں بند رکھیں:** صبح سویرے ہوا میں جرگہ زیادہ ہوتا ہے، اس وقت کھڑکیاں نہ کھولیں۔
- **تکیے اور کمبل:** انہیں دھوپ میں ڈالیں اور باقاعدگی سے دھوئیں۔
- **پالتو جانور:** اگر گھر میں جانور ہیں تو انہیں بچے کے کمرے سے دور رکھیں۔

** بچے کی ذاتی حفظان صحت**
- **ہاتھ دھونا:** باہر سے آکر فوری طور پر صابن سے ہاتھ اور منہ دھوئیں۔
- **غسل:** دن میں کم از کم ایک بار ضرور نہلائیں، خاص طور پر شام کو سونے سے پہلے۔
- **کپڑے:** باہر پہنے کپڑے اتار کر الگ رکھیں، یہ جرگہ گھر میں نہیں لانا چاہیے۔

** خوراک اور قوت مدافعت**
- وٹامن سی سے بھرپور غذائیں (سنترہ، لیموں، امرود)
- ہلدی والا دودھ (قدرتی اینٹی بائیوٹک)
- شہد (مقامی شہد استعمال کریں، یہ الرجی میں مفید ہے)
- پانی زیادہ پلائیں تاکہ جسم ڈی ہائیڈریٹ نہ ہو۔

**ڈاکٹر سے رجوع کب کریں؟**
اگر مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہوں تو فوری ڈاکٹر سے ملیں:
- سانس لینے میں دشواری
- تیز بخار
- آنکھوں یا ہونٹوں پر سوجن
- گھریلو تدابیر سے افاقہ نہ ہونا

**: احتیاط: دوائیں خود نہ دیں**
- **نوٹ:** بچوں کو کوئی بھی الرجی کی دوا ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ہرگز نہ دیں۔
- اینٹی ہسٹامائن صرف ماہر اطفال کے نسخے کے ساتھ استعمال کریں۔
- بخار کم کرنے والی ادویات علامات کو چھپا سکتی ہیں، تشخیص میں مشکل ہوتی ہے۔

** نتیجہ**
- موسمی الرجی گھبرانے کی بات نہیں۔
- صفائی، احتیاط اور خوراک پر توجہ دے کر بچے کو الرجی سے بچایا جا سکتا ہے۔
- یاد رکھیں: **احتیاط، علاج سے بہتر ہے۔**

---

**ڈلیوری کے لیے نکات:**
- خواتین سامعین ہوں تو "مائیں" مخاطب کر کے بات کریں۔
- بچوں کی آنکھوں میں خارش کی علامت پر ہمدردی کا اظہار کریں۔
- مقامی مثالوں کا اضافہ کریں (مثلاً "بہار کے موسم میں آم کے باغوں سے آنے والی ہوا")۔

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Ahmad Mohmand, Asif Khan, Aurangzeb Khan
11/02/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Ahmad Mohmand, Asif Khan, Aurangzeb Khan

08/02/2026

Visited so elegant place it's really wonderful place in Momand

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Ahmad Jan, Mahra Afridi, Abdulnabi Nabi
05/02/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Ahmad Jan, Mahra Afridi, Abdulnabi Nabi

01/02/2026
Routine Immunization Schedule
23/01/2026

Routine Immunization Schedule

Colic Pain Management
22/01/2026

Colic Pain Management

22/01/2026

Colic Pain

گیس یا کالک (Infantile Colics) کا درد بچوں میں بہت عام ہے اور یہ آپ کے بچے اور آپ کو تکلیف پہنچا سکتا ہے۔ گیس اکثر روتے ...
22/01/2026

گیس یا کالک (Infantile Colics) کا درد بچوں میں بہت عام ہے اور یہ آپ کے بچے اور آپ کو تکلیف پہنچا سکتا ہے۔ گیس اکثر روتے وقت یا کھانا کھلانے یا ہاضمے کے عمل سے ہوا نکلنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اگرچہ گیس آپ کے بچے کے لیے درد کا باعث بن سکتی ہے، لیکن یہ عام طور پر بے ضرر ہے۔ گیس کے اخراج کو فروغ دے کر اور اس سے بچا کر، آپ اپنے بچے کی گیس کو دور کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

گیس کی علامات میں شامل ہیں: ٹانگیں اوپر کھینچنا۔
مٹھیوں کو بند کرنا۔
ادھر ادھر گھومنا گویا وہ بے چین ہے۔
بہت رونا۔
ڈکار لینا۔
ہوا کا خارج ہونا۔
چہرے کا سرخ ہو جانا۔

یہاں والدین کے لیے کچھ سادہ گھریلو مشورے دیے جا رہے ہیں جو بچے کے کولک (colic) کے دوران آرام پہنچانے میں مددگار ہو سکتے ہیں:

1. پیٹ کی مالش (Belly Massage)
بچے کے پیٹ پر ہلکے ہاتھ سے گولائی میں مالش کریں۔ اس سے گیس کم ہو سکتی ہے اور بچہ سکون محسوس کرتا ہے۔

2. ٹمی ٹائم (Tummy Time)
بچے کو کچھ دیر کے لیے پیٹ کے بل نرم سطح پر لٹائیں (ہمیشہ نگرانی میں رکھیں)۔ یہ عمل پیٹ کے دباؤ کو کم کرتا ہے اور گیس خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔

3. پیٹ کے بل گود میں پکڑنا (Holding in Prone Position)
بچے کو اپنے بازو پر الٹا لٹا کر پیٹ کے بل رکھیں اور ہلکے ہلکے جھولیں۔ یہ پوزیشن بچے کے پیٹ کو آرام دیتی ہے اور رونے میں کمی لا سکتی ہے۔

4. سیدھا لٹا کر ٹانگوں کی حرکت (Lying Supine with Leg Movements)
بچے کو سیدھا (کمر کے بل) لٹائیں اور آہستہ آہستہ اس کی ٹانگوں کو سائیکلنگ کی طرح حرکت دیں۔ یہ عمل گیس نکالنے میں مددگار ہے۔

5. لپیٹ کر رکھنا (Swaddle)
بچے کو نرم کپڑے میں آرام سے لپیٹیں تاکہ وہ محفوظ اور پرسکون محسوس کرے۔ اس سے کولک کے دوران رونا کم ہو سکتا ہے۔

اگر آپ کو بچے کو سہلانے اور آرام کرانے سے اس کی گیس دور کرنے میں مدد نہیں ملتی ہے، تو اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ وہ ان بیماریوں یا آنتوں کے مسائل کی تشخیص کر سکتا ہے جو مستقل گیس کا سبب بن سکتے ہیں۔

Address

Hayatabad
Peshawar
25000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Feroz Gul posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category