Global Insight

Global Insight .

کل قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمٰن نے نئے بورڈ سے متعلق اپنے جذبات کا اظہار کیا۔یہ اظہارِ تشویش دراصل ایک ایسے عمل کا...
23/01/2026

کل قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمٰن نے نئے بورڈ سے متعلق اپنے جذبات کا اظہار کیا۔
یہ اظہارِ تشویش دراصل ایک ایسے عمل کا تسلسل ہے جس کے آثار بہت پہلے نمایاں ہوچکے تھے۔
چار ماہ قبل جب پاک–سعودی معاہدے پر مذہبی طبقے کے اکثر حلقے، بشمول بعض معروف شخصیات، مبارکبادیں دے رہے تھے، اسی وقت رہبرِ جمعیت حضرت مولانا محمد خان شیرانی مدظلہ العالیہ کوئٹہ میں قوم کو اس معاہدے کے پسِ پردہ اسٹیبلشمنٹ کی خفیہ حکمتِ عملی سے آگاہ کر رہے تھے۔
مولانا شیرانی صاحب نے برملا سوال اٹھایا تھا کہ:
کیا یہ پاک–سعودی معاہدہ اسرائیل کے خلاف مشترکہ مخاصمت کا معاہدہ ہے؟
یا اسرائیل کے ساتھ مشترکہ مفاہمت کا؟
آج حالات جس سمت جا رہے ہیں، وہ اس خدشے کی تصدیق کر رہے ہیں کہ یہ معاہدہ اسرائیل کے ساتھ مشترکہ مفاہمت کی راہ ہموار کر رہا تھا۔
اسی تناظر میں، ایک ماہ قبل کراچی میں ایک معروف یوٹیوب چینل کو دیے گئے انٹرویو میں مولانا شیرانی صاحب نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ:
امتِ مسلمہ مجموعی طور پر نفاق کا شکار ہے—ظاہر کچھ اور، پسِ پردہ کچھ اور۔
وقت گزرنے کے ساتھ حقائق سامنے آ رہے ہیں اور یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ جو بات کل کہی جا رہی تھی، وہ آج سچ ثابت ہو رہی ہے۔

05/01/2026

رہبرِ جمعیت، حضرت مولانا محمد خان شیرانی مدظلہ العالی
20 جنوری بروزِ منگل
دارالعلوم زرغون آباد کے زیرِ اہتمام
رائل پیلس ہال، ہنہ بائی پاس روڈ، نواں کلی، کوئٹہ میں
بعد از مغرب
دستارِ فضیلت و حفاظِ کرام کے عظیم الشان اجتماع سے
خصوصی اور ایمان افروز خطاب فرمائیں گے۔

24/12/2025
🌑 بلوچستان کا استحصالی منظرنامہ 🌑بلوچستان کی مٹی، جو کبھی غیرت و آزادی کی علامت تھی، آج زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔یہاں فی...
14/10/2025

🌑 بلوچستان کا استحصالی منظرنامہ 🌑

بلوچستان کی مٹی، جو کبھی غیرت و آزادی کی علامت تھی، آج زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔
یہاں فیصلے عوامی ایوانوں میں نہیں بلکہ پردوں کے پیچھے طے پاتے ہیں۔
ووٹ محض رسمی ہیں، نمائندے کٹھ پتلیاں، اور اقتدار کی طنابیں اُن ہاتھوں میں ہیں جو عوام سے نہیں بلکہ اشاروں سے حکم لیتے ہیں۔

عوامی مفاد کے نام پر ذاتی مفادات کا بازار گرم ہے، اصول پسپا اور مفاہمت غالب۔
وہ اہلِ ضمیر جو قوم کی خودمختاری کے ترجمان تھے، ایک ایک کر کے مٹائے گئے۔
نواب اکبر بگٹی کی قبر خاموش مگر گواہ ہے،
اور حضرت مولانا محمد خان شیرانی جیسے صاحبِ بصیرت رہنما کو ان کے اپنے ہمراہوں نے اس مقام تک پہنچایا کہ ان سے ان کی جماعت تک چھین لی گئی۔

آج بلوچستان میں سچ بولنا جرم اور سوال اٹھانا بغاوت بن چکا ہے۔
یہ سرزمین گواہی دے رہی ہے کہ حق کہنے والا غدار، اور خاموش رہنے والا وفادار ٹھہرا۔

یہ بلوچستان ہے — وہ دھرتی جو اب بھی چیخ کر کہتی ہے:
“ہم سے ہماری آواز مت چھینو، یہی تو ہماری پہچان ہے۔”

🌍 The Exploitative Landscape of Balochistan 🌍

The land of Balochistan — once a symbol of pride and freedom — now lies chained in silence.
Decisions here are not made in assemblies but behind closed doors.
Votes have lost their worth, representatives are mere puppets, and power strings are pulled not by the people but by unseen hands.

Under the banner of “public interest,” personal gain thrives while principles fade.
Those who spoke for sovereignty and conscience were erased one by one.
Nawab Akbar Bugti was silenced in his grave, and visionary leaders like Maulana Muhammad Khan Sherani were stripped of their own platforms by those closest to them.

Today, in Balochistan, truth has become treason, and questioning — rebellion.
This land stands as a witness that silence has become loyalty, and honesty a crime.

This is Balochistan — still crying out:
“Do not take away our voice; it is our only identity.”

Address

Quetta
98001

Telephone

+923337951877

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Global Insight posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram