23/01/2026
کل قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمٰن نے نئے بورڈ سے متعلق اپنے جذبات کا اظہار کیا۔
یہ اظہارِ تشویش دراصل ایک ایسے عمل کا تسلسل ہے جس کے آثار بہت پہلے نمایاں ہوچکے تھے۔
چار ماہ قبل جب پاک–سعودی معاہدے پر مذہبی طبقے کے اکثر حلقے، بشمول بعض معروف شخصیات، مبارکبادیں دے رہے تھے، اسی وقت رہبرِ جمعیت حضرت مولانا محمد خان شیرانی مدظلہ العالیہ کوئٹہ میں قوم کو اس معاہدے کے پسِ پردہ اسٹیبلشمنٹ کی خفیہ حکمتِ عملی سے آگاہ کر رہے تھے۔
مولانا شیرانی صاحب نے برملا سوال اٹھایا تھا کہ:
کیا یہ پاک–سعودی معاہدہ اسرائیل کے خلاف مشترکہ مخاصمت کا معاہدہ ہے؟
یا اسرائیل کے ساتھ مشترکہ مفاہمت کا؟
آج حالات جس سمت جا رہے ہیں، وہ اس خدشے کی تصدیق کر رہے ہیں کہ یہ معاہدہ اسرائیل کے ساتھ مشترکہ مفاہمت کی راہ ہموار کر رہا تھا۔
اسی تناظر میں، ایک ماہ قبل کراچی میں ایک معروف یوٹیوب چینل کو دیے گئے انٹرویو میں مولانا شیرانی صاحب نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ:
امتِ مسلمہ مجموعی طور پر نفاق کا شکار ہے—ظاہر کچھ اور، پسِ پردہ کچھ اور۔
وقت گزرنے کے ساتھ حقائق سامنے آ رہے ہیں اور یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ جو بات کل کہی جا رہی تھی، وہ آج سچ ثابت ہو رہی ہے۔