YDA Balochistan

YDA Balochistan A Struggle to Restore The Dignity Of Doctors. A Forum To Raise Voice For our Rights. A Unity To Stand Against Every Evil. Doctor's Dignity at First.

United We Stand,Long Live YDA � Advocating For the Rights and Dignity of Doctors and Walfare of Patients.

25 دسمبر کی قومی تعطیل کے باوجود ہماری محنتی اور پرعزم ٹیم کلب فٹ کے بچوں کے لیے پونسیٹی کاسٹ کر رہی ہے، کیونکہ ہمارے مر...
25/12/2025

25
دسمبر کی قومی تعطیل کے باوجود ہماری محنتی اور پرعزم
ٹیم کلب فٹ کے بچوں کے لیے پونسیٹی کاسٹ کر رہی ہے، کیونکہ ہمارے مریض کوئٹہ کے دور دراز علاقوں سے سفر کر کے آتے ہیں اور ہم نہیں چاہتے کہ وہ بغیر علاج کے واپس جائیں۔
یہ ہمارے لیے فخر کا لمحہ ہے
Despite the 25 December national holiday our dedicated team is performing ponceti cast to club foot because our patients are traveling from very far areas around the Quetta and we don't want to send them back without treatment
A moment of pride

Young Doctors of SKBZ Hospital Saryab Road, Quetta

We are very proud of our Young Doctors working across the province ✨

پریس ریلیز 23 دسمبر 2025ہیلتھ کارڈ میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان سپریم کونسل کا ...
23/12/2025

پریس ریلیز
23 دسمبر 2025

ہیلتھ کارڈ میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان سپریم کونسل کا نوٹس لینے کا مطالبہ

کوئٹہ: ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان سپریم کونسل نے ہیلتھ کارڈ اسکیم میں سنگین مالی و انتظامی بے ضابطگیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملے کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

سپریم کونسل نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ کے نام پر عوامی علاج و معالجے کے لیے اربوں روپے مختص کیے گئے، مگر بدقسمتی سے یہ رقم عام مریضوں پر خرچ ہونے کے بجائے مخصوص افراد تک ہی سمٹ کر رہ گئی ہے۔ عوام الناس، خصوصاً غریب مریض، اس سہولت سے حقیقی فائدہ حاصل کرنے سے محروم ہیں۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان سپریم کونسل نے مزید کہا کہ گزشتہ چھ ماہ سے ہیلتھ کارڈ کے تحت سرکاری و نجی ہسپتالوں کو ادائیگیاں مکمل طور پر بند ہیں، جس کے باعث متعدد ہسپتال شدید مالی بحران کا شکار ہو چکے ہیں اور مریضوں کو مفت یا رعایتی علاج کی سہولت میسر نہیں رہی۔ اس صورتحال کا براہِ راست نقصان غریب اور نادار مریضوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اگر ہیلتھ کارڈ جیسے عوامی فلاحی منصوبے میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی نہ بنایا گیا تو یہ منصوبہ عوام کے لیے سہولت کے بجائے کرپشن کی ایک اور مثال بن کر رہ جائے گا۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس انتہائی اہم عوامی مسئلے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، ہیلتھ کارڈ میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کروائیں، ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں اور ہسپتالوں کو فوری طور پر بقایاجات کی ادائیگی کو یقینی بنائیں تاکہ عوام کو ان کا بنیادی حق، یعنی علاج معالجہ، بروقت اور باعزت انداز میں میسر آ سکے۔

میڈیا سیل
سپریم کونسل
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان

پریس ریلیز 14 دسمبر 2025ڈاکٹر راشد علی کی اغوا نما گرفتاری: ڈاکٹر برادری میں شدید تشویش، فوری بازیابی کا مطالبہکوئٹہ: سپ...
14/12/2025

پریس ریلیز
14 دسمبر 2025

ڈاکٹر راشد علی کی اغوا نما گرفتاری: ڈاکٹر برادری میں شدید تشویش، فوری بازیابی کا مطالبہ

کوئٹہ: سپریم کونسل ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان ڈاکٹر راشد علی، کنسلٹنٹ یورولوجسٹ، کی اغوا نما گرفتاری کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ ڈاکٹر راشد علی کو مبینہ انویسٹیگیشن کے نام پر طلب کر کے اچانک منظرِ عام سے غائب کر دینا نہ صرف انتہائی تشویشناک ہے بلکہ یہ عمل آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے، جس سے بلوچستان بھر کی ڈاکٹر برادری میں شدید اضطراب اور بے چینی پائی جا رہی ہے۔

سپریم کونسل واضح کرتی ہے کہ اگر ڈاکٹر راشد علی پر کسی بھی نوعیت کا کوئی الزام ہے تو انہیں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے۔ کسی بھی معزز شہری کو بغیر قانونی کارروائی کے حراست میں لینا یا غائب کرنا ناقابلِ قبول ہے اور اس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان سپریم کونسل متعلقہ حکام اور سیکیورٹی اداروں سے پُرزور مطالبہ کرتی ہے کہ ڈاکٹر راشد علی کی فوری، باحفاظت اور شفاف بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور ان کے اہلِ خانہ کو بلا تاخیر ان سے ملاقات کروائی جائے۔ اس وقت ڈاکٹر راشد علی کا خاندان شدید ذہنی اذیت، کرب اور بے یقینی کا شکار ہے-

سپریم کونسل خبردار کرتی ہے کہ اگر حکومت بلوچستان نے اس سنگین اور حساس معاملے پر فوری سنجیدگی اور عملی اقدامات کا مظاہرہ نہ کیا تو ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان ڈاکٹر راشد علی کی بازیابی کے لیے صوبہ بھر میں بھرپور احتجاج پر مجبور ہوگی، جس کے تمام تر نتائج
کی ذمہ داری حکومت بلوچستان پر عائد ہوگی۔

میڈیا سیل
سپریم کونسل
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان

سپریم کونسل ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ  کمشنر کوئٹہ شاہزیب کاکڑ ، ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی، ایڈی...
09/12/2025

سپریم کونسل ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ کمشنر کوئٹہ شاہزیب کاکڑ ، ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر انور کاکڑ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے بعد پہلا نوٹیفیکیشن جاری ہونا ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔
ہم اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ، اور ایڈیشنل سیکریٹری ہیلتھ ثاقب کاکڑ کے شکر گزار ہیں۔

ہمیں امید ہے کہ باقی مطالبات پر بھی مقررہ مدت کے اندر مکمل عمل درآمد کیا جائے گا۔— سپریم کونسل


✌️

09/12/2025

پریس ریلیز
9 دسمبر 2025

ریڈ زون کی جانب اعلان کردہ دھرنے کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ اور سپریم کونسل کے درمیان تفصیلی میٹنگ ہوئی، میٹنگ میں کمشنر کویٹہ کے ہدایات پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کوئٹہ موجود تھے۔ ضلعی انتظامیہ کی ثالثی اور مکمل یقین دہانی کے بعد دھرنے کو ایک ہفتے کے لیے مشروط طور پر ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سپریم کونسل

میٹنگ کے دوران ڈاکٹروں کے دیرینہ مسائل پر جامع گفت و شنید ہوئی۔ سپریم کونسل نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے ایک ہفتے کے اندر اندر ہمارے مطالبات پر عملی پیشرفت نہ کی تو ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان دوبارہ ریڈ زون کی جانب مارچ اور دھرنے کے اعلان کو بحال کرے گی۔
صوبے کے طبی اداروں میں جاری بے ضابطگیوں، وسائل کی کمی اور انتظامی نااہلی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔

سپریم کونسل نے واضح پیغام دیا ہے کہ ڈاکٹرز کی جائز اور قانونی مطالبات کو مزید نظر انداز کرنا برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اگر پیشرفت نہ ہوئی تو اگلا قدم فیصلہ کن ہوگا۔

*میڈیا سیل*
*سپریم کونسل*
*ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان*

پریس ریلیز 6 دسمبر 20259 دسمبر  ریڈ زون — بلوچستان کے ڈاکٹرز کا فیصلہ کن دھرنا، کرپشن اور ناانصافیوں کے خلاف آخری اعلان ...
06/12/2025

پریس ریلیز
6 دسمبر 2025

9 دسمبر ریڈ زون — بلوچستان کے ڈاکٹرز کا فیصلہ کن دھرنا، کرپشن اور ناانصافیوں کے خلاف آخری اعلان ـ سپریم کونسل

کوئٹہ: سپریم کونسل بلوچستان نے اعلان کیا ہے کہ حکومت کی مسلسل ناکام، کرپشن زدہ اور غیر سنجیدہ پالیسیوں کے خلاف 9 دسمبر 2025 بروز منگل بوقت صبح 11 بجے ریڈ زون کوئٹہ میں فیصلہ کن دھرنا دیا جائے گا۔

حکومت نے ٹراما سینٹر اور بی آئی سی وی ڈی کے نام پر اربوں روپے ہڑپ تو کردئیے، لیکن تا حال ان اداروں کے لیے نہ کوئی ایکٹ بنایا گیا ہے اور نہ ہی کوئی باقاعدہ سروس اسٹرکچر تشکیل دیا گیا ہے۔
یہ حکومتی رویہ نہ صرف مجرمانہ غفلت ہے بلکہ مستقبل میں سینکڑوں ڈاکٹرز کے کیریئر کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

ماضی میں ایسے ہی فیصلوں نے سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر اور کڈنی سینٹر ہاسپٹل کے درجنوں ڈاکٹرز کا 10 سال ضائع کیا۔
ہم اعلان کرتے ہیں کہ جب تک ٹراما سینٹر اور بی آئی سی وی ڈی کا باقاعدہ ایکٹ اور سروس اسٹرکچر سامنے نہیں آتا، کسی صورت ان منصوبوں کا افتتاح نہیں ہونے دیا جائے گا۔

ان منصوبوں میں اربوں روپے کی بدعنوانی کو ہم بارہا سامنے لا چکے ہیں، مگر کرپشن زدہ ٹیم اور نااہل انتظامیہ نے کبھی کوئی جوابدہی نہیں کی۔

نااہل حکوت بلوچستان کی جانب سے بلوچستان کے ڈاکٹرز، پوسٹ گریجویٹس اور ہاؤس افیسرز کو دیوار سے لگانے کی جو منظم کوششیں جاری ہیں، ان کے خلاف یہ احتجاج ایک تاریخی اور حتمی ردعمل ہوگا

گزشتہ دنوں ہاؤس افیسرز کے ساتھ PMDC اصولوں کے خلاف جو سلوک کیا گیا، وہ محکمہ صحت کی نااہلی اور بدانتظامی کی بدترین مثال ہے۔
ہم اس حرکت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ہاؤس افیسرز کو فوری طور پر پی ایم ڈی سی کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں۔

پوسٹ گریجویٹس اور ہاؤس افیسرز کے وظائف میں اضافے کا حکومتی دعویٰ بھی فراڈ ثابت ہوا۔ اسی سمری میں ہاؤس افیسرز کا وظیفہ بڑھانے کی تجویز کو جان بوجھ کر حذف کر دیا گیا، اور پوسٹ گریجویٹس کے وظائف میں جو اضاف کیا گیا ہے جو کہ CPSP اصولوں کے خلاف ہے۔
دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان کے ڈاکٹروں کے وظائف بڑھانے کے بجائے، حکومت مسلسل ان کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے۔

ٹراما سینٹر اور بی آئی سی وی ڈی کے نام پر ہونے والی کرپشن، نااہل وزیر صحت اور بار بار واپس لائے جانے والے سیکریٹری کی مجرمانہ خاموشی نے پورے شعبے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
سپریم کونسل بارہا یہ معاملہ اجاگر کرتی رہی ہے، مگر اس کرپشن زدہ صوبے میں تمام افراد برابر کے شریک رہے ہیں۔

سپریم کونسل اعلان کرتی ہے کہ:
9 دسمبر بروز منگل، صبح 11 بجے ریڈ زون کوئٹہ میں مضبوط اور فیصلہ کن دھرنا دیا جائے گا۔

اگر حکومت بلوچستان نے ہمارے کسی بھی ڈاکٹر کے خلاف لاٹھی چارج، تشدد یا گرفتاری کی کوشش کی تو:

یہ تحریک لانگ مارچ کی صورت میں فوراً بلاول ہاؤس کراچی کے سامنے منتقل کر دی جائے گی، جہاں پورے پاکستان کو بلوچستان حکومت کے کالے کرتوت دکھائے جائیں گے۔

ہم حکومت بلوچستان کو آخری موقع دیتے ہیں کہ 9 دسمبر بروز منگل سے پہلے ہمارے مطالبات حل کرے، ورنہ اس جدوجہد کو ملک گیر سطح تک بڑھایا جائے گا۔

سپریم کونسل ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان مطالبہ کرتی ہے کہ

ٹراما سینٹر اور بی آئی سی وی ڈی کا فوری باقاعدہ ایکٹ اور سروس اسٹرکچر بنایا جائے۔

پوسٹ گریجویٹس اور ہاؤس افیسرز کے وظائف دیگر صوبوں کے برابر کیے جائیں۔

ہاؤس افیسرز کے ساتھ حالیہ ناروا سلوک کی تحقیقات کی جائیں اور PMDC قوانین کے تحت ہاؤس جاب کرنے کی اجازت دی جاۓ

ٹراما سینٹر اور بی آئی سی وی ڈی میں ہونے والی اربوں روپے کی کرپشن پر شفاف انکوائری ہو۔

محکمہ صحت کی ناکام اور تباہ کن پالیسیوں کو فی الفور واپس لیا جائے۔

میڈیا سیل
سپریم کونسل
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان

05/12/2025

مرکزی بیان
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان سپریم کونسل

بولان میڈیکل کالج میں سہولیات کے نام پر اربوں روپے کا جو تماشہ لگایا گیا، وہ محض کرپشن نہیں بلکہ بلوچستان کے نوجوانوں، طلبہ اور عوام کے ساتھ سیدھا دھوکہ ہے۔ حیرت اس بات کی ہے کہ اس کھلی لوٹ مار کے باوجود صوبے کے وزیرِ صحت اسلام آباد میں ایکسیلینس ایوارڈ لے کر خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں، جیسے وہ صوبے کے لیے کوئی کارنامہ انجام دے چکے ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے بلوچستان میں صحت کا پورا نظام تباہ کر کے، عوام کے پیسے کو ضائع کر کے شرم کی ہر حد پار کی ہے۔

بولان میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں بیڈ، میز، کرسیاں اور الماریاں خریدنے کے نام پر جو اربوں روپے ہڑپ کیے گئے، ان کی اصلیت یہ ویڈیوز بتا رہی ہیں کہ صرف چار ماہ میں "نئے" فرنیچر کا کباڑ کی شکل میں بدل جانا یہ ثابت کرتا ہے کہ خریداری نہیں ہوئی صرف لوٹ مار ہوئی ہےـ

جس سیکریٹری صحت کو بار بار محکمہ میں لایا جاتا ہے، اس کی وجہ سب جانتے ہیں, حکومت کو اس سے زیادہ ماہر، منظم اور تجربہ کار کرپٹ افسر شاید پورے صوبے میں نہیں ملتا۔
بولان میڈیکل کالج کے منصوبے، فنڈز، ٹھیکے، فرنیچر اور ہاسٹل کی خریداری صرف ایک مقصد کے لیے کی گئی کھاؤ، دباؤ، بچاؤ-
جو افسر اربوں روپے کے گھپلے کر چکا ہے، اسی کو دوبارہ وہی کرسی دے کر حکومت نے خود اعلان کر دیا ہے کہ کرپشن اس محکمے کا باقاعدہ SOP ہے۔

یہ دو کرپٹ شخصیات وزیر صحت اور سیکریٹری صحت آج بلوچستان کے صحت نظام کی بربادی کے سب سے بڑے ذمہ دار ہیں۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان سوال کرتی ہے کہ

* اگر اربوں روپے ایمانداری سے خرچ ہوئے، تو چار مہینوں میں فرنیچر کباڑ کیوں بن گیا؟
* اگر شفافیت تھی تو ویڈیوز میں نظر آنے والی حالت کیا ہے؟
* اگر کارکردگی ہے تو پھر صحت کا نظام زمین بوس کیوں ہے؟
* وزیر صحت کو ایوارڈ کس چیز کا ملا؟
کرپشن میں مہارت کا؟ یا دھوکہ دہی میں قابلیت کا؟

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان واضح اعلان کرتی ہے:
1. یہ معاملہ اب خاموش نہیں رہے گا۔
2. وہ تمام ویڈیوز، ثبوت اور شواہد جن سے یہ اربوں روپے کی لوٹ کھسوٹ بے نقاب ہوتی ہے، ہم باقاعدہ سوشل میڈیا پر مسلسل جاری کریں گے۔
3. وزیر صحت اور سیکریٹری صحت کو عوام کے سامنے جواب دینا ہوگا — اب کوئی پریس کانفرنس، کوئی سیاسی بیان، کوئی جعلی ایوارڈ انہیں بچا نہیں سکتا۔
4. اس کرپشن کا حساب ہوگا، اور ہم آخری حد تک جا کر یہ حساب لیں گے۔

ہم اعلان کرتے ہیں کہ اگر ان دونوں ذمہ داران کو نہ ہٹایا گیا، نہ پوچھا گیا، نہ انکوائری شروع ہوئی تو اس میں پوری حکومت بلوچستان کو شریک سمجھا جائے گاـ

یہ صوبہ کسی وزیر کی تصویروں، کسی سیکریٹری کی چالاکی، یا کسی جعلی ایوارڈ کا محتاج نہیں۔
یہ صوبہ انصاف مانگتا ہے۔
یہ صوبہ حساب مانگتا ہے۔
اور یہ حساب ہم لے کر رہیں گے۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان

پریس ریلیز 3 دسمبر 2025محکمہ صحت بلوچستان کو باقاعدہ کرپشن کے اڈے میں بدلنے کی منظم کوششیں بے نقاب — اربوں کی لوٹ مار می...
03/12/2025

پریس ریلیز
3 دسمبر 2025

محکمہ صحت بلوچستان کو باقاعدہ کرپشن کے اڈے میں بدلنے کی منظم کوششیں بے نقاب — اربوں کی لوٹ مار میں ڈوبے نااہل وزیرِ صحت کے کندھوں کے سہارے ٹھیکیدار مزاج کے کرپٹ سیکریٹری اور بدعنوان ڈی جی کی دوبارہ بحالی صوبے کے عوام کے ساتھ سنگین جرم ہے؛ صحت کے نام پر کھائے گئے ہر اسکینڈل، ہر مصنوعی منصوبے اور ہر چوری کو قوم کے سامنے لانے تک جدوجہد جاری رہے گی-سپریم کونسل

کوئٹہ : ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان سپریم کونسل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ محکمہ صحت بلوچستان کو منظم منصوبہ بندی کے تحت محکمہ کرپشن میں تبدیل کرنے کی تمام کوششیں ایک بار پھر زور و شور سے جاری ہیں۔ ایک کرپٹ، ٹھیکیدار ذہنیت کے سابق سیکریٹری نے سالوں تک اس محکمے کو نوچ کر کھایا، اربوں روپے ہڑپ کیے، اور محکمہ صحت کو ذاتی کمائی کا اڈہ بنا کر رکھ دیا۔ اس نام نہاد "جعلی انقلاب" کے بانی، نااہل صوبائی وزیرِ صحت نے بھی اسی مافیا کے کندھوں پر سوار ہو کر ادارے کو اس نہج تک پہنچا دیا جہاں بدمست گھوڑوں کی طرح پورا نظام تاراج کیا جا رہا ہے
نہ روکنے والا، نہ پوچھنے والا، نہ احتساب کرنے والا صوبے میں موجود ہے

یہ بدبختی آخر کب تک اس صوبے کی قسمت میں لکھی رہے گی؟ وہی پرانا کرپٹ سیکریٹری اور سابق ڈی جی ہیلتھ، جن کے ہاتھ کرپشن کی سیاہی سے رنگے ہوئے ہیں، دوبارہ اسی طاقت کے ساتھ میدان میں واپس لائے جا رہے ہیں۔
یہ وہ کردار ہیں جن کے کرپشن کے قصے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان روزِ اوّل سے عوام اور حکمرانوں کے سامنے پیش کرتی آرہی ہے۔

سیکریٹری صحت داؤد خلجی نے محکمہ سنبھالتے ہی اس بربادی پر خون کے آنسو بہائے اور صاف لفظوں میں کہا کہ صحت کے شعبے کو صوبائی ترجیحات میں کیسے جان بوجھ کر دفن کیا گیا۔ انہوں نے بڑے اسکینڈلز کو بے نقاب کرنے اور کرپشن کے احتساب کا عمل شروع کیا ہی تھا کہ کرپشن مافیا حرکت میں آگئی۔
ایک پرائمری اسکول کے ٹیچر سے بھی نااہل سابق سیکریٹری کو دوبارہ لانے کیلئے وزیرِ صحت نے اربوں روپے کی دیہاڑیاں لگاکر داؤد خلجی کو ہٹوایا۔ یہ وہی بدعنوان گروہ ہے جسے اپنے جرائم چھپانے کیلئے دوبارہ مسلط کیا گیا ہے۔

سابقہ ڈی جی ہیلتھ بھی کرپشن کی دلدل میں گردن تک دھنسے ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انہیں بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ کرپٹ ٹیم کی بحالی کے بعد انہیں دوبارہ اختیارات دے کر محکمہ صحت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی جائے گی۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان واضح کرتی ہے کہ ان مافیا عناصر نے
* مصنوعی گراس، ٹائٹل ، غیر ضروری اخراجات کے نام پر اربوں روپے لوٹے۔
* بولان میڈیکل کالج میں ترقیاتی منصوبوں کے نام پر پیسہ کھا کر بھی یہ بھوکے درندوں کی طرح مزید شکار کی تلاش میں ہیں کہ اب کہاں سے اور کتنے پیسے بٹورے جا سکتے ہیں۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان اعلان کرتی ہے کہ:
کرپشن مافیا کے ہر جرم کو عوام کے سامنے لایا جائے گا۔
ان کے ہر اسکینڈل کو بے نقاب کیا جائے گا، ہر چہرہ بے نقاب ہوگا، ہر پردہ چاک کیا جائے گا۔

اسی سلسلے میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے بلاول ہاؤس کراچی کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ہے، جہاں اس کرپٹ ٹیم کے خلاف بڑا دھرنا دیا جائے گا۔
اگر وہاں بھی پیش رفت نہ ہوئی، تو لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف بڑھنے میں دیر نہیں کرے گا۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان واضح طور پر کہتی ہے کہ یہ عوامی ٹیکسوں اور صحت کے نظام کی بقا کی جنگ ہے۔ عیار مافیا کے آگے مزید خاموشی جرم ہے۔ اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان یہ جنگ آخری دم تک لڑے گی۔

میڈیا سیل
سپریم کونسل
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان

26/11/2025

ینگ ڈاکٹرز بلوچستان کے بلاول ہاؤس سندھ کے دھرنے کی میزبانی وائ ڈی اے سندھ کرے گی

صدر وائی ڈی اے سندھ ڈاکٹر وارث جاکرانی کا ڈاکٹرز گرینڈ کنونشن سے پرجوش خطاب

محکمہ صحت بلوچستان بدترین بدانتظامی، کرپشن اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے شدید بحران کا شکار ہے۔ وزیرِ صحت اور سیکریٹری صحت ...
26/11/2025

محکمہ صحت بلوچستان بدترین بدانتظامی، کرپشن اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے شدید بحران کا شکار ہے۔ وزیرِ صحت اور سیکریٹری صحت نے اپنے مالی مفادات کو بچانے کے لیے پورے محکمہ کو تباہ کر دیا ہے۔صوںے میں ہزاروں ڈاکٹرز بےروزگاری کی زندگی گزار رہے ہیں ،سپتالوں میں ادویات کی کمی، لیبارٹریوں کی غیر فعالیت، اور آلات کی خرابی نے عوام کو بنیادی علاج سے محروم کر دیا ہے جبکہ اعلیٰ حکام صرف دکھاوے کی کارکردگی پر اکتفا کر رہے ہیں۔

صوبے میں ہزاروں نوجوان ڈاکٹرز اور اسپیشلسٹ بےروزگار ہیں جبکہ درجنوں ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی شدید کمی ہے۔ حکومت مستقل بھرتیوں کی بجائے کرپشن زدہ کنٹریکٹ سسٹم کو فروغ دے رہی ہے، جس سے نہ صرف نوجوان ڈاکٹرز کا مستقبل تاریک ہو رہا ہے بلکہ مریض بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان مطالبہ کرتی ہے کہ

* تمام بےروزگار ڈاکٹروں کی فوری اور مستقل بنیادوں پر بھرتی کی جائے۔
* ہاؤس افیسرز اور پوسٹ گریجویٹس ڈاکٹر کی وظائف کو دیگر صوبوں کے برابر کی جائیں
* وزیرِ صحت اور سیکریٹری صحت کے خلاف فوری اور شفاف انکوائری قائم کی جائے۔
* صوبے کے تمام ہسپتالوں میں ادویات اور ریجنٹس کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے۔
* تمام خراب مشینری کی شفاف اور ذمہ دارانہ مرمت کی جائے
* محکمہ صحت میں جاری کرپشن اور بے ضابطگیوں کا مکمل آڈٹ کرایا جائے۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان مریضوں کے حقوق اور صحت کے نظام کی بحالی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ حکومت کی بےحسی اور کرپشن کے خلاف صوبے بھر میں احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان اسی ہفتے میں لانگ مارچ کا باقاعدہ اعلان کرے گی۔

تمام اضلاع کے ڈاکٹرز کو لانگ مارچ کی تیاری کا آغاز کر دینے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

*چلو چلو بلاول ہاؤس کراچی چلو*

23/11/2025

پریس ریلیز
23 نومبر 2025

موجودہ سیکریٹری ہیلتھ کو محض 20 دن بعد بغیر کسی جواز کے ہٹانا،
بغیر اپروول اور تشہیر ٹراما سینٹر کی پوسٹوں کی فروخت، پروکیورمنٹ کے نام پر سول ہسپتال ،بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال میں اربوں کی کرپشن میں براہ راست ملوث شخص کو دوبارہ سیکریٹری ہیلتھ تعینات کرنا حکومت بلوچستان کی شفافیت پر سنگین سوالات جنم دیتی ہے- سپریم کونسل

کوئٹہ: ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سیکریٹری ہیلتھ داؤد خان خلجی کا صرف 20 روز بعد اچانک تبادلہ اور اس کی جگہ ایسے شخص کی دوبارہ تعیناتی جس پر ٹراما سینٹر کی بغیر کسی اپروول، تشہیر کے پوسٹوں کی فروخت، نیگوشیٹنگ ٹینڈرنگ، پروکیورمنٹ کے نام پر سول ہسپتال اور بولان میڈیکل کمپلیکس میں اربوں روپے کی کرپشن کے ٹھوس شواہد موجود ہیں ، محکمہ صحت کے اندر موجود کرپٹ نیٹ ورک کی طاقت اور حکومتی کمزوری کو بے نقاب کرتی ہے۔

سپریم کونسل نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی یہ اقدام نہ صرف حیران کن ہے بلکہ انتہائی مشکوک بھی، کیونکہ سیکرٹری داؤد خلجی کی آمد کے بعد محکمہ صحت میں کرپشن فائلیں کھلنے والی تھیں، پوسٹوں کی خرید و فروخت کی تحقیقات شروع ہونی تھیں، اور اربوں کی ریکوری متوقع تھی۔
یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر مخصوص گروہ سخت پریشان تھا اور اب انہی عناصر کے دباؤ پر ایک بدنام اور کرپشن میں ملوث سابق سیکرٹری ہیلتھ کو دوبارہ تعینات کر دیا گیا ہے۔

چند ہفتے قبل مجیب الرحمن پانیزئی کو ہٹا کر اصلاحات کا عمل شروع ہوا تھا، لیکن اب ان کی بحالی ثابت کرتی ہے کہ وزیر صحت اور کرپٹ مافیا پوری قوت سے نظام کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے 11 نومبر کو بلاول ہاؤس سندھ کے باہر دھرنے کا اعلان کیا تھا، مگر سیکرٹری داؤد خلجی کی تعیناتی کے بعد احتجاج کو مؤخر کیا گیا تھا۔ افسوس کہ اچانک تبدیلی نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ حکومت اصلاحات میں سنجیدہ نہیں، بلکہ کرپٹ عناصر کی سرپرستی میں مصروف ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان حکومت بلوچستان کو ایک ہفتے کی مہلت دیتی ہیکہ کرپشن کے تمام کیسز میں ملوث مجیب الرحمن پانیزئی کو فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے۔ سیکریٹری ہیلتھ داؤد خان خلجی کو بحال کیا جائے تاکہ جاری اصلاحاتی اقدامات مکمل ہو سکیں۔ وزیر صحت سمیت پورے کرپٹ نیٹ ورک کے خلاف شفاف تحقیقات کی جائیں۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے کہا کہ اگر حکومت نے سنجیدگی نہ دکھائی تو احتجاج نہ پریس کانفرنس تک محدود ہوگا اور نہ سوشل میڈیا پر بلکہ احتجاج سڑکوں پر ہوگا، دھرنے ہوں گے اور لانگ مارچ ہوگا، اور اس کی پوری ذمہ داری وزیر اعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری بلوچستان اور وزیر صحت پر عائد ہوگی۔

وزیر صحت اور ان کے ٹولے نے جن مفاد پرست عناصر کو اپنی ذاتی فرمائش پر پوسٹوں پر تعینات کر کے ڈاکٹروں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی، وہ کل کے ڈاکٹروں کے مظاہرے سے مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے۔ یہ مظاہرہ واضح پیغام ہے کہ ڈاکٹرز متحد ہیں، شفافیت کے علمبردار ہیں اور ہم کسی بھی کرپٹ مافیا کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ ہم ہر ممکن اقدام کریں گے تاکہ صحت کے نظام کو انصاف، شفافیت اور عوامی مفاد کے اصولوں کے مطابق دوبارہ مستحکم کیا جا سکے، اور کرپٹ عناصر کو اپنے ناجائز اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں۔

*میڈیا سیل*
*سپریم کونسل*
*ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان*

پریس ریلیز 19 نومبر 2025جعلی انقلاب کے بانی نااہل صوبائی وزیرِ صحت کا ’’وقت نہیں، پیسہ نہیں‘‘ کا غیر ذمہ دارانہ بیان بے ...
19/11/2025

پریس ریلیز
19 نومبر 2025

جعلی انقلاب کے بانی نااہل صوبائی وزیرِ صحت کا ’’وقت نہیں، پیسہ نہیں‘‘ کا غیر ذمہ دارانہ بیان بے نقاب – ENT ، نیوروسرجری اور فیمیل سرجیکل وارڈ کی غیر قانونی مسماری، قیمتی ساز و سامان کی گمشدگی، ٹائلوں اور مصنوعی گراس پر اربوں کی فضول خرچی، میرٹ کی پامالی اور پوسٹوں کی فروخت انتہائی تشویشناک عمل ہے - سپریم کونسل

کویٹہ: ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان صوبائی وزیرِ صحت کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی اس ویڈیو کو سختی سے مسترد کرتی ہے جس میں انہوں نے سرجیکل ٹاور نہ بنانے کی وجہ "پیسہ نہیں" اور "وقت نہیں" قرار دی۔ یہ بیان نہ صرف حقیقت کے منافی ہے بلکہ عوامی شعور کی توہین بھی ہے۔ وقت نہ ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ منصوبہ شروع ہی نہ کیا جائے۔ صحت عامہ ایسے منصوبوں کی تکمیل حکومت کے دورِ اقتدار سے بالاتر ہو کر عوام کا بنیادی حق ہے۔ عوامی منصوبے افراد یا حکومتوں کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ہوتے ہیں، اس لیے یہ منطق کہ ’’وقت نہیں‘‘ انتہائی ناقص، غیر پیشہ ورانہ اور عوام دشمن ہے۔

دوسری جانب ENT، نیوروسرجری ، فیمیل سرجیکل وارڈ کو بغیر ٹینڈر، بغیر قانونی طریقہ کار اور بغیر منظوری کے مسمار کرنا، اور اس کے اندر موجود قیمتی و حساس طبی آلات کو غائب کرنا ایک کھلی بدعنوانی اور سرکاری املاک کی لوٹ مار ہے۔ یہ تمام عمل منظم انداز میں کیا گیا، اور اب تک کوئی ریکارڈ سامنے نہیں لایا گیا کہ وارڈ کے اندر موجود جدید آپریشن لائٹس، اینستھیزیا مشینیں، مریض نگرانی کے جدید مانیٹر، وینٹی لیٹر کے حصے، آکسیجن کا مرکزی نظام، الیکٹروکاٹری اور سکشن مشینیں، آٹو کلیو نظام، ENT آلات، اینڈوسکوپک مشینری، آپریشن ٹیبلز، اسٹیل کے سرجیکل اسٹینڈز، ادویات کے اسٹور سسٹمز، میڈیکل گیس پلانٹ کے آلات، صنعتی درجے کے ائیر کنڈیشنرز، وارڈ کی برقی تنصیبات، نرسنگ اسٹیشن کا ڈیجیٹل ریکارڈ اور دیگر قیمتی ساز و سامان کہاں منتقل کیا گیا یا کس کو فروخت کیا گیا۔

اگر منصوبہ واقعی شروع کرنا تھا تو ٹائلوں، مصنوعی گراس، دیواروں کی تزئین و آرائش اور دکھاوے کی تعمیرات پر اربوں روپے ضائع کرنے کے بجائے سرجیکل ٹاور جیسے ضروری اور عوامی مفاد کے منصوبے پر خرچ کیے جاتے۔ بدنیتی اس بات سے ظاہر ہے کہ اربوں روپے معمولی اور غیر ضروری مرمت پر خرچ ہوئے، مگر ایک مستقل اور دیرپا سرجیکل ٹاور کے لیے "پیسہ نہیں" کا بہانہ بنایا جا رہا ہے۔

منسٹر ہیلتھ کا یہ رویہ اس بڑے بحران کا حصہ ہے جس میں محکمہ صحت میں میرٹ کی پامالی، پوسٹوں کی فروخت، سفارشی تقرریاں اور ادویات کی شدید قلت نے پورے شعبے کو مفلوج کر دیا ہے۔ ہسپتالوں میں ادویات ناپید ہیں، مریض ڈسٹرب ہیں، مگر نام نہاد اصلاحات کے نام پر فنڈز کو دکھاوے کے منصوبوں اور ذاتی تشہیر پر خرچ کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ سابقہ وزیراعلیٰ جام کمال خان نے اس سرجیکل ٹاور کے منصوبے کو تین سالہ مدت میں مکمل کرنے کی منظوری دی تھی، اور منصوبہ باقاعدہ شروع کرنا تھا ۔ اسے 7 سالہ منصوبہ قرار دے کر بند کرنا یا بہانہ بنا کر روک دینا عوام سے دھوکا ہے۔ تین سال لگیں یا دس، منصوبے قوم کے ہوتے ہیں، حکومتوں کے نہیں؛ ان کا جاری رہنا لازم ہے۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان مطالبہ کرتی ہے کہ سیکریٹری ہیلتھ ایک غیر جانبدار کمیٹی اپنی سربراہی میں تشکیل دیں اور
– مسمار شدہ ENT ، نیوروسرجری فیمیل سرجیکل وارڈ کے تمام قیمتی آلات اور طبی مشینری کی بازیابی اور مکمل آڈٹ کیا جائے
– غیر قانونی مسماری میں ملوث افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے
– سرجیکل ٹاور منصوبے کو اصل مقام، اصل نقشے اور منظور شدہ پلان کے مطابق فوری بحال کیا جائے
– ادویات کی قلت ختم کر کے ہسپتالوں میں بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں

اگر حکومت نے اس سنگین کرپشن، لوٹ مار اور عوامی حق تلفی پر عملی قدم نہ اٹھایا تو ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان قانونی، عوامی اور احتجاجی اقدامات اٹھانے میں دیر نہیں کرے گی۔ صحت عوام کا حق ہے، اور اس پر سمجھوتہ کبھی نہیں کیا جائے گا۔

میڈیا سیل
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان

Address

Sandeman Provencial Hospital Quetta, Balochistan
Quetta

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when YDA Balochistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to YDA Balochistan:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram