Citi Lab & Research Centre Sadiq Abad

Citi Lab & Research Centre Sadiq Abad Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Citi Lab & Research Centre Sadiq Abad, Medical Lab, Opposit main gate THQ Sadiq Abad, Sadiqabad.

>Highly Skilled Clinical Professionals
>Reasonable and Affordable Prices
>Right interpretation makes all the difference
>Reliable result
> Online ReportingFacilitating Diagnosis

03/12/2022
23/11/2022

کیا ایک ہی پوزیشن میں لیٹے رہنے سے کان میں درد ہوتا ہے؟

یہ درست ہے کہ ایک ہی پوزیشن میں لیٹنے کی وجہ سے بعض اوقات کان میں درد ہونے لگتا ہے۔اس کی ایک وجہ کان کے بیرونی حصے(pinna) پر دباؤ پڑناجبکہ دوسری کانوں کے اندرموجود سخت ویکس پر دباؤ پڑنا ہے یہ کان کے اندرونی حصوں پر دباؤڈال کر درد کا باعث بنتی ہے۔

03116701823

گدگدی: جسم کے کن حصوں پر زیادہ ہوتی ہے؟ہماری جلد کے نیچے لاکھوں کی تعداد میںایسے اعصاب ہوتے ہیںجو چھوئے جانے یا ٹھنڈا گر...
22/11/2022

گدگدی: جسم کے کن حصوں پر زیادہ ہوتی ہے؟

ہماری جلد کے نیچے لاکھوں کی تعداد میںایسے اعصاب ہوتے ہیںجو چھوئے جانے یا ٹھنڈا گرم لگنے پر دماغ کوالرٹ کرتے ہیں۔یہی حس ہمیں جلنے یا سرد موسم سے بچنے میںبھی مدد دیتی ہے۔ جب کسی فرد یا چیز کا رابطہ ہماری بیرونی جلد سے ہوتا ہے تو یہ اعصاب متحرک ہوکر دماغ کو پیغام پہنچاتے ہیں۔ گدگدی کا احساس پید ا کرنے میں دماغ کے دو حصے کام کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک لمس کی شدت یا پریشر کا جائزہ لیتا ہے جبکہ دوسرا خوشگوار احساس پید اکرتا ہے۔ اسی طرح ہائپوتھیلمس ( غیر ارادی رد عمل کو کنٹرول کرنے والا دماغ کا حصہ ) گدگدانے پر جسم کو مقابلہ کرنے یا بھاگنے کے لئے تیار کرتا ہے۔ اس کے باعث متعلقہ شخص کی جانب سے مختلف طرح کے رد عمل سامنے آتے ہیں۔ مثلاً چیخنا، زور زور سے ہنسنا، جھک جانا یا سامنے موجود شخص کو مارناوغیرہ۔

گدگدی دو طرح کی ہوتی ہے۔ پہلی(knismesis) وہ ہے جس میں اس کا ہلکا سا احساس ہو تا ہے جو خوشگوار یا نا خوشگوار ہو سکتا ہے جبکہ دوسری(gargalesis) شدید قسم کی گدگدی ہے۔ ان میں سے صرف دوسری قسم ایسی ہے جوکسی شخص کے چھونے سے محسوس ہوتی ہے۔ اپنے ہاتھوں سے خود کو گد گدانے میں ناکام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جب ہم خود کو چھوتے ہیں تو دماغ کے پیچھے موجود حصے(cerebellum)کو معلوم ہوجاتا ہے کہ ایسا ہونے والا ہے لہٰذا اس احساس کی شدت ختم ہوجاتی ہے۔

جسم کے وہ حساس حصے جن میں گدگدی زیادہ ہوتی ہے‘ ان میںپیٹ، بغلیں،گردن، پہلو اورپاؤںشامل ہیں۔ گدگدی سے متعلق مختلف سائنسی نظریات میں سے ایک کے مطابق یہ دفاعی نظام کا ایک حصہ ہے۔ اس کے باعث جسم کے نازک اور حساس حصوںکو بچانے کے لئے فرد فوری رد عمل ظاہر کرتا ہے۔



آپکی صحت کا نمبر
03116701823

20/11/2022

خر تک لازماً پڑھئیے۔۔۔۔۔۔
تھیلیسیمیا (Thalassemia) ایک موروثی بیماری ہے یعنی یہ والدین کی جینیاتی خرابی کے باعث اولاد کو منتقل ہوتی ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے مریض کے جسم میں خون کم بنتا ہے۔

جینیاتی اعتبار سے تھیلیسیمیا کی دو بڑی قسمیں ہیں جنہیں الفا تھیلیسیمیا اور بی ٹا تھیلیسیمیا کہتے ہیں۔ نارمل انسانوں کے خون کے ہیموگلوبن میں دو الفا alpha اور دو بی ٹا beta زنجیریں chains ہوتی ہیں۔ گلوبن کی الفا زنجیر بنانے کے ذمہ دار دونوں جین (gene) کروموزوم نمبر 16 پر ہوتے ہیں جبکہ بی ٹا زنجیر بنانے کا ذمہ دار واحد جین HBB کروموزوم نمبر 11 پر ہوتا ہے۔

الفا تھیلیسیمیا کے مریضوں میں ہیموگلوبن کی الفا زنجیر alpha chain کم بنتی ہے جبکہ بی ٹا تھیلیسیمیا کے مریضوں میں ہیموگلوبن کی بی ٹا زنجیرbeta chain کم بنتی ہے۔ اس طرح خون کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔

مرض کی شدت کے اعتبار سے تھیلیسیمیا کی تین قسمیں ہیں۔ شدید ترین قسم تھیلیسیمیا میجر کہلاتی ہے اور سب سے کم شدت والی قسم تھیلیسیمیا مائینر کہلاتی ہے۔ درمیانی شدت والی قسم تھیلیسیمیا انٹرمیڈیا کہلاتی ہے۔

ایک طرح کا تھیلیسیمیا کبھی بھی دوسری طرح کے تھیلیسیمیا میں تبدیل نہیں ہو سکتا یعنی الفا تھیلیسیمیا کبھی بھی بی ٹا تھیلیسیمیا میں تبدیل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی بی ٹا کبھی الفا میں۔ اسی طرح نہ تھیلیسیمیا مائینر کبھی تھیلیسیمیا میجر بن سکتا ہے اور نہ ہی میجر کبھی مائینر بن سکتا ہے۔ اسی طرح ان کے مرض کی شدت میں اضافہ یا کمی نہیں ہو سکتی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھیلیسیمیا‮ ‬خون‮ ‬کی‮ ‬بیماریوں‮ ‬کا‮ ‬مجموعہ‮ ‬ھے‮ ‬جو‮ ‬کہ‮ ‬بے‮ ‬قائدہ‮ ‬ھیموگلوبین‮ ‬کی‮ ‬پیداوارکی‮ ‬وجہ‮ ‬سے‮ ‬بنتا‮ ‬ھے۔‮ ‬ھیموگلوبین‮ ‬ایسی‮ ‬پرو‮ ‬ٹین‮ ‬ھے‮ ‬جو‮ ‬کہ‮ ‬سرخ‮ ‬جرثوموں‮ ‬میں‮ ‬پائِ‮ ‬جاتی‮ ‬ھے‮ ‬جو‮ ‬جسم‮ ‬کے‮ ‬لئے‮ ‬آکسیجن‮ ‬لانے‮ ‬کا‮ ‬کام‮ ‬کرتے‮ ‬ھیں۔ِ تھیلیسیمیا‎‮ ‬مورثی‮ ‬انیمیا‮ ‬بھی‮ ‬ھو‮ ‬تا‮ ‬ھے۔‮ ‬یہ‮ ‬بیماری‮ ‬مشرق‮ ‬وسطی،‮ ‬افریقہ‮ ‬یا‮ ‬ایشیا‮ ‬میں‮ ‬پائی‮ ‬جاتی‮ ‬ھے۔‮ ‬تھیلیسمیا‮ ‬کی‮ ‬بہت‮ ‬سی‮ ‬اقسام‮ ‬ھیں۔‮ ‬یہ‮ ‬علامات‮ ‬کے‮ ‬بغیر‮ ‬سے‮ ‬لیکر‮ ‬مہلک‮ ‬حد‮ ‬تک‮ ‬ھو‮ ‬سکتی‮ ‬ھے۔‮ ‬اگر‮ ‬آپ‮ ‬کو‮ ‬بہت‮ ‬معمولی‮ ‬تھلیسمیا‮ ‬ھے‮ ‬تو‮ ‬اس‮ ‬کا‮ ‬مطلب‮ ‬یہ‮ ‬آپ‮ ‬بیماری‮ ‬کو‮ ‬اٹھائے‮ ‬ھوئےَ‮ ‬ھیں‮ ‬اور‮ ‬آپ‮ ‬کے‮ ‬ریڈ‮ ‬خونی‮ ‬ذرات‮ ‬نارمل‮ ‬سے‮ ‬چھوٹے‮ ‬ھیں۔‮ ‬لیکن‮ ‬آپ‮ ‬تندرست‮ ‬ھیں۔تھیلسمیا‮ ‬میجر‮ ‬مہلک‮ ‬بھی‮ ‬ھو‮ ‬سکتا‮ ‬ھے۔‮ ‬آیسے‮ ‬لوگ‮ ‬جن‮ ‬کو‮ ‬ایلفا‮ ‬تھیلسمیا‮ ‬میجر‮ ‬ھوتا‮ ‬ھے‮ ‬وہ‮ ‬بچپن‮ ‬میں‮ ‬ھی‮ ‬وفات‮ ‬پا‮ ‬جا‮ ‬تے‮ ‬ھیں‮ ‬۔‮ ‬بیٹا‮ ‬تھیلسمیا‮ ‬میں‮ ‬خون‮ ‬بدلواتے‮ ‬رھنے‮ ‬کی‮ ‬ضرورت‮ ‬ھوتی‮ ‬ھے۔‮ ‬تھیلسمیا‮ ‬کی‮ ‬دوسری‮ ‬اقسام‮ ‬بھی‮ ‬ھیں‮ ‬جو‮ ‬کی‮ ‬زیادہ‮ ‬شدید‮ ‬نہیں‮ ‬ھوتیں۔۔۔۔
پاکستان میں سالانہ دس ہزار ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جو تھیلیسیمیا کے مریض ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ایسے بچوں کے ماں باپ نہ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں۔۔۔۔اس لاعلاج بیماری پر فی بچہ سالانہ تین لاکھ سے پانچ لاکھ روپے اخراجات آتے ہیں۔۔۔لیکن ۔۔۔علاج کی گارنٹی پھر بھی نہیں۔۔۔۔ایسے مریضوں کو بار بار خون لگوانے کی ضرورت پڑتی ہے۔۔۔اور اس کی وجہ سے جسم میں فولاد کی زیادتی بڑھ جاتی ہے۔۔۔جس کی وجہ سے دیگر خرابیاں جنم لیتی ہیں۔۔۔۔اب اس کی دوائیاں علیحدہ سے کھانا پڑتی ہیں۔۔۔۔غرض اس پیچیدہ مرض کا کوئی مستقل علاج نہیں۔۔۔۔۔حل صرف ایک ہے۔۔۔۔صرف ایک۔۔۔۔اور وہ یہ ہے کہ شادی سے پہلے دولہا دلہن کا خون لے کر تھیلیسیمیا ٹیسٹ لیا جائے۔۔۔۔اگر تھیلیسیمیا کیرئر ہوں تو انہیں آپس میں شادی کی اجازت نہ دی جائے ۔۔۔تاکہ اس مرض کا شکار بچے پیدا نہ ہوں۔۔۔۔

مسکراہٹ کی سائنس کیا ہے؟دماغ کے مختلف حصے اپنے اپنے حصے کا کام انجام دیتے ہیں تو مسکرانے کا عمل مکمل ہوتا ہے۔مثال کے طور...
20/11/2022

مسکراہٹ کی سائنس کیا ہے؟

دماغ کے مختلف حصے اپنے اپنے حصے کا کام انجام دیتے ہیں تو مسکرانے کا عمل مکمل ہوتا ہے۔مثال کے طور پردماغ کا بالائی حصہ (frontal lobe) فیصلہ لینے ،رد عمل ظاہر کرنے اور محسوس کرنے کی صلاحیت کو کنٹرول کرتاہے ۔جب دماغ کا یہ حصہ عارضی یا مستقل طور پر ٹھیک طرح سے کام نہ کر پارہاہو تو فردغیر ارادی طور پر اچانک اور لگاتار ہنسنا شروع کرسکتا ہے۔یہ بالعموم دماغ کی پیدائشی خرابیوں ، اسے چوٹ لگنے یامختلف بیماریوں اور کیفیات کے باعث ہوتا ہے جن کی شدت کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔

مثبت اور خوشی والے ماحول میں وقت گزارنے سے ہماری نفسیاتی کیفیت بھی بہتر ہوجاتی ہے۔ دراصل جب فرد کسی کو ہنستا مسکراتا دیکھتا ہے تو اس کے دماغ کے اندر مخصوص عصبی خلیے (mirror neurons) متحرک ہوجاتے ہیں۔ یہ خلیے کسی کام کے حقیقت میں ہونے یا محض اس کا مشاہدہ کرنے پر ہی رد عمل ظاہرکرنے لگتے ہیں۔ نتیجتاً فرد کا اپنے چہرے کے پٹھوں پرکنٹرول کم ہوجاتا ہے اور وہ مسکرانے پرمجبور ہوجاتا ہے۔ یہ مسکراہٹ اس کا ذہنی تناؤ کم کرتی اور مزاج کو بہتر بناتی ہے۔ لہٰذا اپنے لئے اچھے ماحول کا انتخاب کریں۔

سٹی لیب اینڈ ریسرچ سینٹر
فری ہوم سیمپل کولیکشن
03116701823

#

صحت پر مستند معلومات کے لیے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

25/10/2022

International Stuttering Awareness Day 22 OCT 2022
Therapies suggested by speech-language pathologists (SLP) can help with stuttering:
☑️Early Treatment for Children
☑️Breathing Techniques
☑️Relaxation Techniques
☑️Medications
☑️Medical devices.
For Contact:
📞03321555333

Citi Lab Is Committed To Providing Quality of Results.For Contact:📞03116701823
06/10/2022

Citi Lab Is Committed To Providing Quality of Results.
For Contact:
📞03116701823

Citi Lab Is Committed To Providing Quality of Results.For Contact:📞03116701823
06/10/2022

Citi Lab Is Committed To Providing Quality of Results.
For Contact:
📞03116701823

سٹی لیب اینڈ ریسرچ سنٹر اپنے شوگر کہ  مریضوں کو دے رہا ہے  ایک بہترین پیکججس کی بدولت ہم یہ جان سکتے ہیں کہ1-شوگر کی تین...
03/10/2022

سٹی لیب اینڈ ریسرچ سنٹر اپنے شوگر کہ مریضوں کو دے رہا ہے ایک بہترین پیکج
جس کی بدولت ہم یہ جان سکتے ہیں کہ

1-شوگر کی تین مہینے کی ایوریج

2-گردوں کی پرفارمنس کا مکمل ٹیسٹ
3-کولیسٹرول کی مکمل اقسام کا ٹیسٹ
Lipid profile
HbA1c
Renal Function Test

صرف 2200 روپے میں جانئے اپنی صحت کے حوالے سے مندرجہ بالا معلومات۔۔۔

Address

Opposit Main Gate THQ Sadiq Abad
Sadiqabad
64350

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Citi Lab & Research Centre Sadiq Abad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Citi Lab & Research Centre Sadiq Abad:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category