05/10/2025
پوری اُمتِ مسلمہ کے محسن - ڈاکٹر عبدالقدیر خان! ہم شرمندہ ہیں۔ (حصہ اوّل)
رات کے سناٹے میں جب شہر سو جاتا تھا، اسلام آباد کی خاموش سڑکوں پر کبھی کبھی ایک ایمبولینس جیسی وین بے آواز گزرتی تھی۔ اُس کے اندر ایک کمزور مگر فولادی ارادہ رکھنے والا شخص بیٹھا ہوتا—چشمہ ٹھیک کرتا، کوئی نوٹ بار بار دیکھتا، اور کھڑکی کے پار اندھیروں میں دور تک دیکھتا رہتا۔ باہر سے یہ منظر عام سا لگتا تھا، مگر قوموں کی تقدیر کے تراش خراش اسی خاموشی میں ہوا کرتے ہیں۔ وہ شخص تھا ڈاکٹر عبدالقدیر خان۔ ہماری نسلیں اسے ’’محسنِ پاکستان‘‘ کہتی ہیں—اور یہ محض ایک لقب نہیں، ایک عہد ہے جو اس مردِ قلندر نے اپنے خون، اپنی عمر اور اپنی تنہائی سے نبھایا۔
آغاز کہاں سے ہوا—اور سفر کس سمت گیا
ہمارے نصاب میں اکثر زندگیوں کو دو سطروں میں سمیٹ دیا جاتا ہے: “فلاں ملک گیا، فلاں ڈگری لی، واپس آیا، کارنامہ انجام دیا”۔ لیکن ڈاکٹر قدیر کا سفر ان دو سطروں سے کہیں زیادہ طویل اور کٹھن تھا۔ یورپ کے تحقیقی اداروں میں ترقی پانے والا ذہن، اچھی ملازمت، آرام دہ زندگی—سب موجود تھا۔ مگر ایک دن، ایک خبر نے اس کے سینے میں دھڑکتے وطن کی دھڑکن تیز کر دی: مشرق کے افق پر جنگ کے بادل گہرے ہو رہے تھے؛ برصغیر میں طاقت کا توازن بدل رہا تھا؛ اور پاکستان اپنے وجود کی ضمانت ڈھونڈ رہا تھا۔
اس نے فیصلہ کیا—اور فیصلہ ہی سب سے پہلی قربانی تھی۔ عزت و آسائش کے حلقے سے نکل کر اس نے اُس سرزمین کی طرف سفر کیا جہاں بجٹ کم، مشکلات زیادہ، مگر ایمان اور عزم بے حساب تھا۔ کہوٹہ کے پہاڑوں میں ایک خواب نے ہڈیاں چبھو دینے والی سردیوں اور پسینہ خشک کر دینے والی گرمیوں میں جڑیں پکڑنا شروع کیں۔ یورینیم کی سنٹری فیوجز، ڈیزائن، مواد، سپلائی چین، پابندیاں، سیاسی دباؤ—یہ الفاظ کتابوں میں آسان لگتے ہیں، مگر ہر لمحہ گرفتاری، ناکامی اور جان کے خطرے کا سایہ لیے ہوئے تھے۔ وہ مسکراتا، خاموشی سے اگلے مرحلے پر جاتا، اور ٹیم سے کہتا: “قومیں خواب بیچنے سے نہیں، خواب پورے کرنے سے بنتی ہیں۔”
روشنی کا دن—مگر اس سے پہلے طویل رات
ہمیں 28 اور 30 مئی 1998 کے وہ دن یاد ہیں جب چاغی کے پہاڑ کانپے اور آسمان نے سفید گولہ بنتے دیکھا۔ دنیا ہل گئی، اور پاکستان نے ثابت کر دیا کہ وہ محض نقشے پر خاکہ نہیں، ارادے میں فولاد بھی ہے۔ مگر اُن چند سیکنڈز کی روشنی سے پہلے دو عشروں کی رات تھی—راز داری، تحقیق، ناکامیوں سے سیکھنا، پابندیوں کی گتھیاں سلجھانا، اور سب سے بڑھ کر خاموشی۔ اسی خاموشی نے ڈاکٹر قدیر کو بڑا کیا؛ اسی خاموشی نے ایک پوری ٹیم کو ’’نامعلوم‘‘ سے ’’ناقابلِ فراموش‘‘ بنا دیا۔
اس کی قیمت کیا تھی؟ گھر والوں سے دوری، مسلسل نگرانی، دوستیاں محدود، دنیا بھر کی نظریں شک کے کانچ سے دیکھتی رہیں؛ مگر وہ جم کر کھڑا رہا۔ اُس نے اپنے آپ پر لگنے والی تعزیریں برداشت کیں، متنازع سوالات کے بوجھ تلے بھی وطن کو ڈھال کی طرح اپنے سامنے رکھا۔ تاریخ دان اختلافات لکھیں گے، راوی اپنا اپنا زاویہ جوڑیں گے، مگر ایک سچ اٹل رہے گا: اگر یہ شخص اپنی آرام دہ زندگی نہ چھوڑتا تو پاکستان شاید آج بھی دشمن کے رحم و کرم پر ہوتا۔
عزت کس کی ہوتی ہے؟ جس نے اپنی زندگی گروی رکھی ہو
ہمارے ہاں عزت کے پیمانے اکثر شور و شرابے سے بندھے ہوتے ہیں۔ مگر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی عزت خاموش خدمت سے بنی۔ وہ ہاتھ ملاتے تو نرمی سے، بات کرتے تو آہستہ سے؛ مگر جب وطن کی حرمت کا سوال آتا، لہجہ لوہے کا ہو جاتا۔ ریاستیں جب اپنی بقا کی لکیر کھینچتی ہیں، تو تاریخ ان ہاتھوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے اس لکیر کو خنجر بن کر تراشا۔ ڈاکٹر قدیر کا ہاتھ نہ چھُپا ہوا تھا، نہ کانپتا ہوا—وہ ہاتھ قوم کی امانت تھا۔
جنازہ قوموں کا آئینہ ہوتا ہے
10 اکتوبر 2021 کا دن پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ اُس روز ہم نے اپنے سب سے بڑے ہیرو کو وہ عزت نہ دی جس کے وہ مستحق تھے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان — وہ نام جس نے پاکستان کو نہ صرف دنیا کے نقشے پر محفوظ بنایا بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے سر کو بلند کیا۔ مگر اُنہیں ایسے دفنایا گیا جیسے وہ کوئی ملزم ہوں، کوئی قیدی ہوں۔ نہ وہ پروٹوکول، نہ وہ اعزاز، نہ وہ شان جو ایک محسنِ ملت کا حق بنتی ہے۔ یہ وہ ناشکری تھی جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی ذات کو قربان کر کے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا۔ اگر اُن کی محنت، اُن کا علم اور اُن کی ہمت نہ ہوتی تو آج شاید لاہور، کراچی، اسلام آباد وہی ملبے کے ڈھیر ہوتے جو ہم فلسطین میں دیکھتے ہیں۔ اُنہوں نے نہ دولت کی پرواہ کی، نہ شہرت کی، نہ ذاتی آرام کی۔ اُن کے سامنے ایک ہی خواب تھا — پاکستان کا دفاع، پاکستان کی بقا۔ اور انہوں نے اس خواب کو حقیقت بنا دیا۔
محسن کو ذلیل کرنے والے خود بھی آخرکار ذلیل ہو جائیں گے
جنرل پرویز مشرف، ایک تیسرے درجے کا آمر، جس نے اپنی کرسی بچانے کے لیے محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ذلیل و رسوا کیا۔ پوری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح اُس نے ایک ایسے ہیرو کو، جس نے پوری امتِ مسلمہ کا سر فخر سے بلند کیا تھا، ٹی وی پر لا کر مجرموں کی طرح پیش کیا۔ لیکن اللہ کا نظام ہمیشہ اٹل ہے۔ مظلوموں اور محسنوں کے ساتھ برا سلوک کرنے والوں کا انجام دنیا ہی میں دکھا دیا جاتا ہے۔ مشرف نے جس عزت کو چھیننے کی کوشش کی، اللہ نے اُسے اپنے عذاب سے جواب دیا۔ وہی مشرف، جو بڑے فخر سے اپنی طاقت پر ناز کرتا تھا، ایک بے بسی اور دردناک موت مر گیا تاکہ دنیا جان لے کہ محسنوں کو ذلیل کرنے والے حکمرانوں کا انجام ہمیشہ ذلت اور رسوائی ہوتا ہے۔
لہٰذا ہمیں بالکل یہ فکر نہیں کرنی چاہیے کہ ہمیں عزت ملے گی یا ذلت، لوگ کیا کہیں گے یا معاشرہ ہمیں کیسے یاد کرے گا۔ ہمارا کام صرف اتنا ہے کہ اپنے حصے کا کام اخلاص اور محنت سے کرتے رہیں، جیسے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کیا۔ انہوں نے قوم کو ایٹمی قوت دے کر امت کو عزت اور طاقت بخشی۔ آج وہ یقیناً رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ کی محفل میں سرخرو ہیں۔ جب آخرت کی عزت اور وہ سنگت مل سکتی ہے، تو پھر دنیا کی عزت کیا چیز ہے؟ یہ دنیا اور اس کی تعریفیں سب مٹی ہیں۔ میں بھی مٹی ہوں، اور جن لوگوں کی تعریف یا عزت کی ہم خواہش کرتے ہیں وہ بھی آخرکار مٹی ہیں۔ اصل عزت اُس رب کے پاس ہے جو محسنوں کو ہمیشہ بلند کرتا ہے۔
10 اکتوبر قریب ہے، وہ دن جب پاکستان نے اپنے سب سے بڑے ہیرو کو مٹی کے حوالے کیا تھا۔ آج، اُس دن کو یاد کرتے ہوئے دل دعا اور عہد دونوں مانگتا ہے۔
یا اللہ! ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قبر کو نور سے بھر دے، اُن کی مغفرت فرما، اُن کے درجات بلند کر۔ اور وہ سب جنہوں نے زندگی میں اس محسنِ وطن کو تکلیف دی، یا اُس کی عزت کو مجروح کرنے کی کوشش کی، اُن کے باطن میں ایسا حساب کھول دے کہ حق ظاہر ہو اور باطل ہمیشہ کے لیے رسوا ہو۔ تاکہ اس قوم کے محسن ہمیشہ عزت پائیں، اور اُن کی قربانیاں ضائع نہ ہوں۔
محسنِ پاکستان! ہم آپ کو سلام پیش کرتے ہیں۔ یہ وعدہ ہے کہ ہم آپ کا قرض صرف الفاظ سے نہیں بلکہ ہنر سے، کردار سے، اور عمل سے اتاریں گے۔ ہم اپنے وطن کو اُس مقام تک لے جائیں گے جہاں آپ کا خواب تھا—ایک مضبوط، خوددار اور سر بلند پاکستان۔ یہ ہمارا وعدہ ہے، یہ ہمارا عہد ہے۔
محسنِ پاکستان! ہم آپ کی امانت کو کبھی نہیں بھولیں گے.. جاری ہے