05/02/2026
ہسپتال، ڈاکٹر اور غیر یقینی مستقبل۔
ایم ٹی آئی کے تحت مستقل نوکری اور واضح سروس اسٹرکچر کا خاتمہ دراصل ایک ایسے معاشرے میں نافذ کیا گیا تجربہ ہے جہاں ادارے کمزور اور تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ صلاحیت، وقار اور اصول پیچھے رہ گئے، جبکہ چاپلوسی، موقع پرستی اور وقتی وفاداری آگے بڑھ گئیں۔
ایک ڈاکٹر جس نے برسوں علم، مہارت اور اخلاقی تربیت میں لگائے، وہ اب صرف ایک کنٹریکٹ ورکر ہے ،غیر محفوظ، غیر مطمئن، اور ہر وقت اس خدشے میں کہ اگلا فیصلہ میرٹ پر نہیں بلکہ مزاج پر ہوگا۔ ایسے ماحول میں بہترین ڈاکٹر خاموش ہو جاتا ہے، اور شور مچانے والا نمایاں۔
یہ ماڈل ان معاشروں میں شاید چل جائے جہاں ادارے مضبوط ہوں، احتساب غیر جانبدار ہو، اور فیصلہ کرنے والے خود بھی جواب دہ ہوں۔ مگر ہمارے ہاں طاقت ہمیشہ اصول سے زیادہ وزن رکھتی ہے۔ چنانچہ ایم ٹی آئی نے غیر ارادی طور پر ایک ایسا کلچر پیدا کیا جہاں
“قابل” سے زیادہ “قابلِ قبول” ہونا ضروری ہے۔
اس کا سب سے بڑا نقصان مریض کو نہیں، بلکہ نظام کو ہوتا ہے۔ کیونکہ جب باصلاحیت اور باوقار ڈاکٹر خود کو غیر محفوظ سمجھے، تو وہ یا تو خاموش ہجرت کر جاتا ہے، یا دل سے کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ یوں ادارہ زندہ رہتا ہے، مگر روح مر جاتی ہے۔
صحت کا شعبہ منافع یا مینجمنٹ کے تجربات کی تجربہ گاہ نہیں ہوتا۔ یہاں استحکام، وقار اور اعتماد ہی وہ ستون ہیں جن پر علاج، تحقیق اور تربیت کھڑی ہوتی ہے۔ مستقل سروس اسٹرکچر کوئی مراعت نہیں، بلکہ پیشہ ورانہ دیانت کی ضمانت ہوتا ہے۔
اگر ہم واقعی بہتر صحت نظام چاہتے ہیں تو ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ،غیر یقینی نوکری اچھے غلام تو پیدا کر سکتی ہے، اچھے ڈاکٹر نہیں۔
سروس سٹرکچر بنیادی ضرورت ہے اس کے بغیر ڈاکٹر خود اعتمادی سے محروم ہوگا اور دل سے کام نہیں کرے گا ۔
محمد امجد تقویم