Dr.Muhammad Abbas - Children Specialist

Dr.Muhammad Abbas - Children Specialist Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr.Muhammad Abbas - Children Specialist, Doctor, Swat.

کنسلٹنٹ چائلڈ سپیشلسٹ اینڈ نیونٹالوجسٹ
ایم بی بی ایس (پشاور)
ایم سی پی ایس
ایف سی پی ایس
فیلو کالج اف فزشن اینڈ سرجنز پاکستان
For Consultation whatsapp at 03171464511

16/09/2025

تمام لوگ اس حوالے سے تصدیق تردید دلائل سے کریں تاکہ عام آدمی کو سمجھ آ سکے یہ تمام تفصیل ویکسین بنانے لگانے والوں کا دعواہ ہے ۔؟؟

ایچ پی وی ویکسین کیا ہے؟
یہ ویکسین 2006 میں بنائی گئی اور امریکہ میں سب سے پہلے دی گئی ۔ اس کا بنیادی مقصد بچہ دانی کے منہ کے کینسر سے بچاو تھا۔ ویکسین سائنسی طور پر موثر اور محفوظ رہی اور آہستہ
آہستہ دنیا کے باقی ممالک میں دی جانے لگی ۔

:پاکستان میں بچہ دانی کے منہ کا کینسر:

پاکستان میں 2023 میں 4762 نئے مریضوں میں اس کینسر کی تشخیص ہوئی ہے اور 3069 اموات کی وجہ یہ کینسر بنا ۔
پاکستانی خواتین میں اس کینسر کے کیسز ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہے ہیں ۔

:یہ 9 سال سے 14 سال کی عمر ہی کیوں :

کینسر کی وجہ ایک وائرس ہے جسے ایچ پی وی وائرس کہتے ہیں،اور وہ وائرس بچہ دانی کے منہ تک جنسی عمل کے ذریعے پہنچتا ہے، اس لیے شادی کی عمومی عمر سے پہلے ویکسین دینا بہتر ہے۔ ویکسین بڑی عمر میں بھی دی جاسکتا ہے تاہم روٹین میں شادی / جنسی عمل کی عمر سے پہلے دی جائے تو بچاو میں زیادہ موثر ہوگی ۔

بچوں کو کیوں نہیں ؟ :

بچوں میں بچہ دانی نہیں ہوتی، تاہم وہ اس وائرس کو منتقل کرنے میں شامل ہوتے ہیں۔ کچھ اور کینسر جو صرف مردوں میں ہو سکتے ہیں ان میں اس ویکسین سے بچاو ممکن ہے لیکن ان کے کیسز ابھی بہت کم ہیں، ترقی یافتہ ممالک بچوں کو بھی لگاتے ہیں لیکن غریب ممالک کےلیے اگر ان دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہو تو پھر بچیوں کو لگانا زیادہ فائدہ مند ہوگا

:ویکسین سے کوئی خطرہ :

پہلے سے دی جانے والی ویکسینز کی طرح انجکشن کی جگہ پر درد، سوزش ، بخار یا ویکسین سے الرجی ہوسکتی ہے ۔

انتہائی شدید الرجی جسے
Anaphylaxis

کہتے ہیں اس کا چانس
1.7/ 1 million
جو کہ کسی بھی محفوظ دوائی، ویکسین ، انجکشن کے جیسا ہے ۔

:اچانک یہ ویکسین کیوں :

نہیں اچانک نہیں، بلکہ کافی دیر سے آرہی ہے۔ دنیا میں 2006 میں شروع ہونے والی ویکسین پاکستان میں سرکاری طور پر 20 سال بعد آرہی ہے۔ پرائیویٹ ہسپتالوں۔یں پاکستان میں بھی کافی عرصے سے لگائی جارہی ہے، لیکن سرکاری طور پر قومی ویکسین شیڈول میں پہلی بار دی جانے لگی ہے ۔ لہذا یہ نہ تو پاکستان میں پہلی بار لگائی جا رہی ہے اور نہ نئی ویکسین ہے۔

:مفت کیوں دی جارہی ہے:

عالمی ادارہ صحت کی طرف سے حکومتی سطح پر اشتراک کے ساتھ کی وجہ سے۔

18/05/2025

بچے نے کوئ چیز نگل لی اور اب سانس نھیں لے سکتا اور بدن نیلا ھورھا ھے مندرجہ زیل طریقے سے اس کی جان بچائ جاسکتی ھے۔
نیز یہ طریقہ ایک سال سے زیادہ عمر کے بچوں کیلۓ ھے۔

17/05/2025

کھیلتے کھودتے بچے گھر کے رونق ھوتے ھیں مگر یہ بچے کھبی کھبار منہ میں نقصان دہ چیز بھی ڈال لیتے ھیں جس کا نکالنا ضدوری ھوجاتا ھے جس کیلۓ ازمودہ ٹوٹکا بچے کے ناک کو ھاتھ سے پنچ کرنا ھے جس سے وہ فورا منہ کھول لیتے ھیں۔

19/12/2024

بچوں کی تربیت میں لاپرواہی کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں:

بچوں کا بڑوں سے اونچی آواز میں بات کرنا: یہ ان میں بدزبانی اور خودسری پیدا کرتا ہے۔

مزاق یا نظروں سے بے عزتی کرنا: سخت دلی، بدتمیزی اور طنزیہ رویے کی نشاندہی کرتا ہے۔

عبادات سے غفلت: ایک روحانی خلا پیدا کرتی ہے، جس سے دل اور روح بے حس ہو جاتے ہیں۔

ذمہ داریوں سے بچنا: آہستہ آہستہ ان میں مردانگی اور کردار کی پختگی ختم کرتا ہے۔

انتہائی نرمی یا سختی: والدین کا حد سے زیادہ لاڈ پیار بچے کو بے حس بنا دیتا ہے جبکہ حد سے زیادہ سختی خود اعتمادی کو نقصان پہنچاتی ہے۔

حقیقی تربیت کا راستہ:
اپنے بچوں کو اعتدال کے ساتھ محبت اور اصول سکھائیں۔ انہیں ذمہ دار بنائیں، نرمی اور سختی کا متوازن استعمال کریں اور سب سے اہم بات، انہیں نماز کی پابندی اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کا درس دیں۔ نماز کے ذریعے اللہ آپ کے بچوں کی بہتر تربیت کرے گا۔

سب سے پہلے نماز: نماز ایک ایسا فریضہ ہے جس سے دل و دماغ میں سکون اور تربیت کی روشنی آتی ہے۔

15/12/2024
13/12/2024

1Ok followers ❤❤

Address

Swat

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr.Muhammad Abbas - Children Specialist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr.Muhammad Abbas - Children Specialist:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category