Dr Subhan Ullah

Dr Subhan Ullah Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr Subhan Ullah, Mental Health Service, Toba Tek Singh.

ڈاکٹر سبحان انصاری
اسسٹنٹ پروفیسر سائیکائٹری/ ماہر نفسیات
(کلینک: فیصل آباد ،جھنگ گوجرہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ)
رابطہ نمبر 03004489579
Psychiatry and Psychology Clinic

02/12/2025
تاریخ کے جھروکوں سے۔۔۔۔۔ 🔥1967 کی چھ روزہ جنگ میں امریکہ نے کھل کر اسرائیل کا ساتھ دیا۔ امریکی اسلحے، فوجی تعاون اور غیر...
02/12/2025

تاریخ کے جھروکوں سے۔۔۔۔۔ 🔥
1967 کی چھ روزہ جنگ میں امریکہ نے کھل کر اسرائیل کا ساتھ دیا۔ امریکی اسلحے، فوجی تعاون اور غیر معمولی معاشی امداد کی وجہ سے اسرائیل نے عرب ممالک کی افواج کو بدترین شکست سے دو چار کیا۔

مکمل فلسطین کے خطے، بشمول بیت المقدس، کے علاوہ مصر کے صحرائے سینا، شام کی گولان کی پہاڑیوں اور اردن کے بڑے حصے پر بھی اسرائیل کی فوج نے قبضہ کر لیا۔
جنگ کے بعد مغربی طاقتوں کی غیر معمولی پشت پناہی کے باعث اسرائیل قبضہ چھوڑنے پر تیار نہیں تھا۔

ہر طرف سے مایوس ہونے کے بعد سعودی عرب کے شاہ فیصل نے ایک مختلف حکمت عملی اپنائی۔ 1973 میں انہوں نے تیل برآمد کرنے والی عرب ریاستوں کو ساتھ ملایا، اور امریکہ سمیت مغربی ممالک کو تیل کی فروخت بند کر دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عالمی منڈی میں اچانک خام تیل کی قیمت چار گنا زیادہ بڑھ گئی، امریکہ سمیت کئی مغربی ممالک میں پیٹرول نایاب ہوگیا۔ مغرب ممالک اچانک ایسی شدید کساد بازاری کا شکار ہوئے جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں تھی۔ ایسا محسوس ہونے لگا کہ یورپ اور امریکہ میں نظام زندگی دھرم بھرم ہو جائے گا اور عوام اپنی حکومتوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونگے۔

اس صورتحال میں اسرائیل کے سرپرست امریکہ اور یورپی طاقتوں کے اوسان خطا ہوگئے۔ اسرائیل پر اپنے ہی سرپرست ممالک کی جانب سے دباؤ آیا تو وہ فوری طور پر مصر کے صحرائے سینا اور دریائے اردن کے مشرقی کنارے سے فوجیں ہٹانے پر تیار ہو گیا۔
اس موقعہ پر نظر آ رہا تھا کہ اسرائیل کو بیت المقدس سمیت دیگر فلسطینی علاقے خالی کر کے 1948 کی حدود میں واپس جانا پڑے گا۔ کیوں کہ سعودی بادشاہ شاہ فیصل اس سے کم پر راضی نہیں ہو رہا تھا۔

اسی دوران سعودی عرب کے اندر حالات نے ایک کروٹ لی۔ ملک میں "ٹی وی نشریات" کے خلاف کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہو گئے۔ اگرچہ سعودیہ میں ٹی وی کے پہلے چینل کے آغاز 1965 میں ہوا تھا، اُس وقت مذہبی طبقے نے احتجاج کیا تھا لیکن وہ معاملہ ختم ہو چکا تھا۔
اس موقعہ پر ہونے والے احتجاج قیادت شاہ فیصل کے سوتیلے بھائی مساعد بن عبدالعزیز نے سنبھال لی۔ (جو کچھ عرصہ پہلے پیرس میں مسلسل سرے عام غیر اخلاقی حرکات کرنے کی پاداشت میں فرانس سے ڈی پورٹ ہو کر واپس سعودیہ آیا تھا۔ یہ مساعد بن عبدالعزیز پہلے ہی شاہ فیصل کا مخالف تھا۔ اس نے فیصل کے پیشرو سعودی بادشاہ شاہ سعود بن عبدالعزیز کی معزولی کے فرمان پر دستخط کرنے سے بھی انکار کیا تھا۔

دارلحکومت ریاض کے سعودی ٹی وی اسٹیشن کے سامنے ہونے والے مساعد کے بیٹے خالد کی قیادت میں جاری ایک پُر تشدد احتجاج پر اس وقت کے وزیر داخلہ "فہد بن عبدالعزیز" کے حکم سے پولیس نے براہ راست فائرنگ کر دی۔ اس فائرنگ سے کئی مظاہرین ہلاک اور زخمی ہوئے، مرنے والوں میں پرنس مساعد بن عبدالعزیز کا بڑا بیٹا خالد بن مساعد بھی شامل تھا، جو گولی لگنے سے موقع پر ہی مارا گیا تھا۔

اس واقعے کے کچھ دن بعد اسی خالد کے بھائی اور پرنس مساعد بن عبد العزیز کے امریکہ پلٹ چھوٹے بیٹے "فیصل بن مساعد" نے شاہ فیصل" کو شاھی محل کے اندر گولی مار کر قتل کر دیا۔ فیصل بن مساعد نشے کا عادی اور مغربی تہذیب کا دلدادہ تھا۔ مانا جاتا ہے کہ اُسے بادشاہ کے قتل پر اُس کی یہودی امریکی گرل فرینڈ نے قائل کیا تھا، جس سے وہ روزانہ گھنٹوں ٹیلیفون پر باتیں کرتا تھا۔ لیکن سعودی عرب میں بادشاہ کے قتل کے پس پردہ محرکات پر کوئی سرکاری سطح پر تحقیق نہیں ہوئی، صرف قاتل کو قصاص میں قتل کر دیا گیا۔

البتہ حیرت انگیز طور پر شاہ فیصل کے قتل کے بعد سعودی عرب میں جاری ریڈیو اور ٹی وی نشریات کے خلاف احتجاج ختم ہو گیا۔ نئے بادشاہ، شاہ خالد بن عبد العزیز نے اسرائیل کے سرپرست ممالک کو تیل برامد کی پابندی فوری اور غیر مشروط اٹھا لی۔

اس فیصلے سے اسرائیل کو واضح راحت ملی اور اُس کا قبضہ آج بھی دریائے اردن کے مغربی کنارے، غزہ کی پٹی، اور جولان کی پہاڑیوں پر قائم ہے۔

دوسری طرف سعودی عرب میں مظاہرین پر فائرنگ کا حکم دینے والے پرنس فہد کے ماں جائے سات بھائیوں، جو سُدَیری برادران کہلاتے ہیں، کو آل سعود کے اندر مکمل غلبہ حاصل ہو گیا۔

موجودہ شاہ سلمان انہی سدیری برادران میں سب سے ایک ہیں، جنہوں نے جانشینی کے سابقہ سلسلے کو ختم کر کے اقتدار کو اپنے خاندان تک محدود کر دیا ہے۔ انہی کی اگلی نسل کا نمائندہ محمد بن سلمان آج سعودی عرب کے سیاہ اور سفید کا مالک ہے، جو مملکت کو یورپ طرز کی ریاست بنانے کے ایجنڈے پر کاربند ہے۔ مملکت میں ناچ گانا ہی نہیں، بکنی شوز بھی معمول بن چکے ہیں، اب شراب خانے بھی کھل رہے ہیں۔
لیکن حیرت انگیز طور پر مملکت کے طول عرض میں کوئی احتجاج کہیں دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔

I Love ALLAH

بادشاہ دارا کا مقبرہ:عظیم حکمران دارا اوّل (Darius the Great) ہخامنشی سلطنت کا سب سے بڑا اور منظم کرنے والا بادشاہ مانا ...
01/12/2025

بادشاہ دارا کا مقبرہ:
عظیم حکمران دارا اوّل (Darius the Great) ہخامنشی سلطنت کا سب سے بڑا اور منظم کرنے والا بادشاہ مانا جاتا ہے۔ اس نے 522 قبل مسیح سے 486 قبل مسیح تک 36 سال تک حکومت کی۔ وہ دور جب دنیا کی سب سے بڑی منظم سلطنت وجود میں آئی۔

دارا نے نہ صرف سلطنت کو وسعت دی بلکہ اسے انتظامی، معاشی اور سیاسی بنیادوں پر منظم کیا۔
اسی نے بادشاہی شاہراہ بنوائی، ٹیکس کا جدید نظام قائم کیا، قدیم بینکنگ کا ڈھانچہ کھڑا کیا، اور سلطنت کو صوبوں (Satrapies) میں تقسیم کیا۔
اس کا اقتدار موجودہ ایران، عراق، ترکی، افغانستان، پاکستان کے کچھ حصوں، مصر، شام، آذر بائجیان، اور یورپ کے کچھ علاقوں تک پھیلا ہوا تھا۔

اس کا مقبرہ نقشِ رستم میں چٹانوں کو کاٹ کر بنایا گیا، ایک ایسا مقام جہاں بادشاہوں کو آسمان کے قریب دفن کرنے کا تصور تھا۔ مقبرہ اس عظمت اور شان کا استعارہ ہے جو ہخامنشی تہذیب نے اپنے عروج پر دیکھی۔

تاریخ یہی کہتی ہے؛
طاقت کے مینار رہ جاتے ہیں، پر بادشاہ مٹی میں بدل جاتے ہیں۔
وقت سب کو برابر کر دیتا ہے۔ دارا کو بھی، ہم سب کو بھی۔

1939  جنگِ عظیم دوئم کی گرج سنائی دی تو برطانیہ پر ایک لرزہ خیز حقیقت آشکار ہوئی:اگر سپلائی کے جہاز ڈوب گئے… تو ملک بھوک...
01/12/2025

1939 جنگِ عظیم دوئم کی گرج سنائی دی تو برطانیہ پر ایک لرزہ خیز حقیقت آشکار ہوئی:
اگر سپلائی کے جہاز ڈوب گئے… تو ملک بھوک سے مر جائے گا۔
برطانیہ کا بیشتر کھانا بیرونِ ملک سے آتا تھا، اور جرمن آبدوزیں تیزی سے ان جہازوں کو سمندر کی تہہ میں بھیج رہی تھیں۔
ادھر ہزاروں مرد فوج میں بھرتی ہو گئے اور صدیوں سے آباد کھیت سہمے، خالی اور بےکار پڑنے لگے۔
ایسے وقت میں حکومت نے ایک جراتمند، غیر معمولی اور ناگزیر فیصلہ کیا
انہوں نے عورتوں کو پکارا۔
اور ان سے کہا: ملک کو زندہ رکھو۔
تقریباً 80 ہزار خواتین—اسٹور کلرکس، دفتری ملازمائیں، ٹیچرز، ہیئر اسٹائلسٹس، اور وہ نوجوان لڑکیاں جنہوں نے کبھی کھیت دیکھے تک نہ تھے رضاکار بن کر آگے بڑھیں۔
انہوں نے میک اپ کے بدلے چھالوں بھرے ہاتھ قبول کیے، شہر کی چمکتی گلیوں کے بدلے میلے جوتے پہنے، اور گرم گھروں کے بجائے کھردرے ہاسٹلز اور اصطبلوں کو اپنا مسکن بنایا۔
انہیں لینڈ گرلز (Land Girls) کہا گیا۔
ابتدا میں کسانوں نے شک کی نظر سے دیکھا۔ جب وہ لڑکیاں صاف ستھری کوٹیں پہنے ٹرین سے اتریں تو کسانوں نے سوچا:
کیا یہ سخت جان کام برداشت کر بھی پائیں گی؟
مگر لینڈ گرلز نے بحث نہیں کی
انہوں نے صرف کام شروع کر دیا۔
وہ سحر سے پہلے جاگ کر برف میں جمے ہوئے ہاتھوں سے گائیں دوہتی تھیں۔
وہ سخت زمین پر ہل چلاتیں یہاں تک کہ ان کی ہتھیلیاں پھٹ جاتیں۔
وہ بھاری گاس کے گٹھے اٹھاتیں جو ان کے اپنے وزن سے کہیں زیادہ ہوتے۔
وہ فصلیں کاٹتیں، مشینیں ٹھیک کرتیں، لکڑیاں چیرتیں، اور کیچڑ و گوبر کے ڈھیر صاف کرتی جاتیں۔
سردیاں انہیں جما دیتیں
گرمیاں انہیں جلا دیتیں
اور ہر رات وہ ایسی تھکن میں ڈوب کر سو جاتیں کہ چہرے پر جمی مٹی تک صاف نہ کر پاتیں۔
یہ کام کٹھن تھا گندا تھا اکثر بے قدر بھی تھا۔
مگر ہر مشکل دن کا مطلب تھا کہ برطانیہ ایک دن اور زندہ رہ سکے گا۔
رفتہ رفتہ وہی کسان کہنے لگے:
“یہ لڑکی جتنی نظر آتی ہے، اس سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔”
“پوری فارم کی سب سے محنتی کارکن یہی ہے۔”
اور یوں ان لڑکیوں نے ایک ایسا بہنوں جیسا رشتہ بنایا جو حالات سے بھی مضبوط تھا
وہ ایک دوسرے کو ہنساتی رہتیں، حوصلہ دیتیں، گھر کی یاد میں سہارا بنتیں، اور مسلسل کام کرتی جاتیں کیونکہ قوم ان پر تکیہ کیے ہوئے تھی۔
لیڈی گرتروڈ ڈین مین کی قیادت میں ویمنز لینڈ آرمی 1944 تک 80 ہزار سے زائد خواتین پر مشتمل ہو چکی تھی۔
جب بحرِ اوقیانوس میں جرمن یو بوٹس منڈلا رہی تھیں، یہ عورتیں اپنے کھیتوں سے ملک کو بچا رہی تھیں ایک ایک فصل کے ساتھ۔
جنگ ختم ہوئی تو ان کے لیے کوئی جشن نہ ہوا
کوئی تمغہ نہیں، کوئی تقریب نہیں، کوئی سرکاری شاباش تک نہیں۔
انہیں صرف کہا گیا:
“یونiform واپس کرو، اور اپنی پرانی زندگی میں لوٹ جاؤ۔”
لیکن وہ جانتی تھیں
سب کچھ بدل چکا تھا۔
وہ خود بدل چکی تھیں۔
وہ گھر لوٹیں تو اپنے اندر ایسی طاقت، ایسا اعتماد اور ایسا ثبوت لے کر آئیں کہ
انہوں نے ایک پوری قوم کو بھوک سے بچایا تھا۔
سالوں تک ان کی کہانی خاموش رہی
مگر تاریخ جانتی ہے:
80 ہزار عورتوں نے برطانیہ اور بھوک کے درمیان دیوار بن کر کھڑا ہونا قبول کیا—اور وہ کامیاب ہوئیں۔
انہوں نے ہتھیار نہیں اٹھائے
انہوں نے ہمت، پسینہ اور مسلسل جدوجہد سے جنگ لڑی۔
اور اسی میں انہوں نے نہ صرف ایک قوم کو کھانا دیا…
بلکہ اسے ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

مترجم و محقق: حسین

#ورلڈوارٹو
مزید دلچسپ اور دل کو چھو لینے والی حقیقی کہانیاں پڑھنے کے لیے فالو کریں۔

انٹرنیٹ کی خاموش معماررادیا پرلمین وہ خاتون ہیں جنہوں نے وہ الگورتھم بنایا جس کی وجہ سے جب بھی آپ کسی لنک پر کلک کرتے ہی...
01/12/2025

انٹرنیٹ کی خاموش معمار
رادیا پرلمین وہ خاتون ہیں جنہوں نے وہ الگورتھم بنایا جس کی وجہ سے جب بھی آپ کسی لنک پر کلک کرتے ہیں تو انٹرنیٹ کریش ہونے سے بچ جاتا ہے۔ آپ نے شاید ان کا نام پہلے کبھی نہیں سنا ہوگا—اور وہ یہی چاہتی ہیں۔
1984 میں، رادیا پرلمین ڈیجیٹل ایکوئپمنٹ کارپوریشن (DEC) میں ایک نوجوان انجینئر تھیں، اور وہ دیکھ رہی تھیں کہ کمپیوٹر نیٹ ورکنگ کی دنیا اپنی ہی تیز رفتاری سے بڑھنے کی وجہ سے بکھر رہی ہے۔
یہ کسی تخریب کاری کی وجہ سے نہیں تھا۔ یہ اس لیے ہو رہا تھا کیونکہ یہ بہت تیزی سے کامیاب ہو رہا تھا۔
جیسے جیسے زیادہ کمپنیوں نے اپنے کمپیوٹرز کو جوڑنا شروع کیا، وہ ایک خوفناک مسئلے میں پھنس گئیں: نیٹ ورکس بار بار فیل ہو رہے تھے۔ یہ کبھی کبھار نہیں، مسلسل ہو رہا تھا۔
آپ جتنی زیادہ کیبلز جوڑتے، جتنی زیادہ حفاظتی انتظامات کرنے کی کوشش کرتے، اتنا ہی زیادہ امکان تھا کہ سب کچھ جام ہو کر رک جائے گا۔
اس بحران کو "براڈکاسٹ اسٹورم" کہا جاتا تھا۔ جب ڈیٹا ایک لوپ میں پھنس جاتا—اور نیٹ ورک برجز کے درمیان لامتناہی چکر لگاتا رہتا—تو پورا سسٹم اپنی ہی ٹریفک کے نیچے دب کر دم توڑ دیتا تھا۔
یہ ایسا تھا جیسے آپ نے سڑکوں کا ایک ایسا نظام بنایا ہو جو کاریں داخل ہوتے ہی مستقل ٹریفک جام میں تبدیل ہو جائے۔
ہر کوئی نیٹ ورک میں ایک سے زیادہ راستے (redundancy) چاہتا تھا تاکہ اگر ایک راستہ فیل ہو جائے تو دوسرا کام کرے۔ لیکن یہ redundancy ہی لوپس (چکر) پیدا کرتی تھی۔ اور لوپس نیٹ ورکس کو تباہ کر دیتے تھے۔
اس شعبے کا ہر انجینئر اس مسئلے کا حل تلاش کر رہا تھا۔ سب محسوس کر رہے تھے کہ نیٹ ورکنگ ہی مستقبل ہے، لیکن اگر وہ لوپ کے مسئلے کو حل نہ کر پائے تو یہ مستقبل کبھی نہیں آ سکے گا۔
رادیا نے اس مسئلے پر مختلف طریقے سے غور کیا، اور انہوں نے وہ دیکھا جو کسی اور نے نہیں دیکھا تھا۔
👧 ایک ناممکن مسئلہ کا حل
1951 میں پیدا ہونے والی، رادیا ایک ایسے دور میں پلی بڑھیں جہاں لڑکیوں کے ریاضی اور سائنس میں بہتر ہونے پر کھلے عام شک کیا جاتا تھا۔ اساتذہ نے ان کی حوصلہ شکنی کی اور کہا کہ منطق یا سائنس میں لڑکی کا مہارت حاصل کرنا "غیر معمولی" ہے۔
انہوں نے سب کو نظر انداز کیا۔ انہوں نے MIT سے ریاضی میں بیچلر ڈگری، پھر ماسٹر ڈگری، اور پھر کمپیوٹر سائنس میں پی ایچ ڈی کی۔ 1970 کی دہائی میں MIT ایک مشکل جگہ تھی۔ وہ اکثر اپنی کلاسوں، لیبز، اور پورے کمرے میں اکلوتی خاتون ہوتی تھیں۔
ان کی قابلیت پر شک کیا گیا، لیکن رادیا نے ان سے بحث نہیں کی؛ انہوں نے صرف وہ مسائل حل کیے جو وہ لوگ نہیں کر پائے تھے۔
1984 میں، DEC میں کام کرتے ہوئے، وہ نیٹ ورک برجز پر کام کر رہی تھیں—جو ایک بڑھتے ہوئے نیٹ ورک کے مختلف حصوں کو جوڑنے والے آلات تھے۔ اور یہ برجز ہی وہ لوپس پیدا کر رہے تھے جو ہر چیز کو کریش کر دیتے تھے۔
رادیا نے سوچا: کیا ہوگا اگر نیٹ ورک خود اپنے بارے میں "سوچ" سکے؟
انہوں نے ایک الگورتھم ڈیزائن کیا—تعاون پر مبنی قواعد کا ایک سادہ سیٹ—جس نے برجز کو آپس میں بات کرنے، ایک لیڈر منتخب کرنے، سب سے چھوٹے راستوں کا حساب لگانے، اور لوپس سے بچنے کے لیے ضروری کنکشنز کو غیر فعال کرنے کی اجازت دی۔
انہوں نے اسے اسپیننگ ٹری پروٹوکول (Spanning Tree Protocol - STP) کا نام دیا۔
اس نے کنکشنز کے افراتفری پر مبنی جال کو صاف، لوپ سے پاک ڈھانچے میں بدل دیا۔
یہ خود بخود حالات کے مطابق ڈھل جاتا تھا۔
جب کوئی چیز خراب ہوتی تو یہ خود کو ٹھیک کر لیتا تھا۔
انہوں نے ایک ایسا مسئلہ حل کر دیا جسے پورا شعبہ ناممکن سمجھتا تھا۔
🥇 ایک خاموش کامیابی
انہوں نے 1985 میں یہ پروٹوکول شائع کیا۔ وہ 34 سال کی تھیں۔ نیٹ ورکنگ کی دنیا نے اسے فوری طور پر اپنا لیا۔ 1990 تک، STP ایک عالمی معیار بن چکا تھا اور تقریباً ہر نیٹ ورکنگ ڈیوائس کا حصہ تھا۔
آج، ہر ایتھرنیٹ نیٹ ورک—دفاتر، گھروں، ہسپتالوں میں—STP یا اس کی جدید شکلوں پر انحصار کرتا ہے۔
جب آپ وائی فائی سے جڑتے ہیں، تو STP چل رہا ہوتا ہے۔ جب آپ کوئی ویب پیج ریفریش کرتے ہیں، تو STP نیٹ ورک کو کریش ہونے سے روک رہا ہوتا ہے۔ رادیا پرلمین جڑی ہوئی دنیا کی خاموش معمار ہیں۔
اس کے باوجود، انہیں کم ہی پہچانا گیا۔ ان کے مرد ہم منصب مشہور ہو گئے، لیکن رادیا کا نام ش*ذ و نادر ہی سامنے آیا۔ جب صحافیوں نے بالآخر انہیں تلاش کیا تو انہوں نے انہیں "انٹرنیٹ کی ماں" کا لقب دیا۔
رادیا کو یہ لقب پسند نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ "میں کسی چیز کی ماں نہیں لگتی،" کیونکہ انہوں نے صرف ایک پروٹوکول ایجاد کیا تھا جس نے جدید نیٹ ورکنگ کو ممکن بنایا۔ لیکن یہ عرفی نام اس لیے مشہور ہو گیا کہ ٹیکنالوجی کی تاریخ میں کم ہی خواتین نمایاں تھیں۔
رادیا نے ایجاد کرنا جاری رکھا، سیکڑوں پیٹنٹس حاصل کیے۔ لیکن وہ توجہ سے گریز کرتی رہیں۔ وہ ہمیشہ پرسکون اور منکسر المزاج رہیں۔
وہ آج بھی، 73 سال کی عمر میں، ڈیل ٹیکنالوجیز میں کام کر رہی ہیں۔ وہ اب بھی ڈیزائن کر رہی ہیں اور مسائل حل کر رہی ہیں۔ اور اب بھی انجینئرنگ کی دنیا سے باہر زیادہ تر غیر معروف ہیں۔
آپ کا ہر ڈیجیٹل پیغام، ہر ویڈیو کال، ہر آن لائن خریداری ایک الگورتھم پر منحصر ہے جو انہوں نے 34 سال کی عمر میں لکھا تھا۔
وہ کبھی شہرت کی خواہشمند نہیں رہیں۔ وہ صرف ایسے سسٹم بنانا چاہتی تھیں جو صحیح طریقے سے کام کریں اور لوگوں کی مدد کریں۔
انہوں نے اسپیننگ ٹری اس وقت ایجاد کیا جب کسی کو یقین نہیں تھا کہ یہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ایک مسئلہ حل کیا جسے ہر ماہر نے ناممکن قرار دیا تھا۔ انہوں نے ایک ایسا شاندار الگورتھم لکھا کہ تقریباً چالیس سال بعد بھی، ہم ہر جگہ اس کے ورژن پر انحصار کرتے ہیں۔
انہوں نے یہ خاموشی سے، درستی سے، اور ذہانت سے کیا۔
تو اگلی بار جب آپ کسی لنک پر کلک کریں اور انٹرنیٹ بس چل جائے، تو اس استحکام کے پیچھے موجود خاتون کو یاد کریں: رادیا پرلمین—جنہوں نے پیچیدگی کو غائب کر دیا، افراتفری کو قابل انتظام بنایا، اور عالمی نیٹ ورک کو ممکن بنایا۔
منقول

01/12/2025

این ایف سی ایوارڈ پاکستان کے وفاقی نظام کی سب سے اہم اور حساس ترین مالیاتی دستاویز ہے جس کا باقاعدہ نام نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ ہے۔ یہ وہ معاہدہ ہے جو وفاق اور صوبوں کے درمیان ٹیکسوں کی وصولیوں کو تقسیم کرنے کا طریقہ کار طے کرتا ہے اور آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 160 کے تحت ہر پانچ سال بعد نئے این ایف سی ایوارڈ کا اعلان لازمی ہے۔ اس ایوارڈ کی اہمیت اس بات سے ظاہچ ہے کہ پاکستان کے چاروں صوبوں کی ترقی، بجٹ، ترقیاتی منصوبے اور عوامی فلاح کے تقریباً تمام پروگرام اسی تقسیم پر منحصر ہوتے ہیں۔ تاریخ کے جھروکوں میں جھانکیں تو پاکستان کو آزادی ملنے کے فوراً بعد 1950ء میں پہلا مالیاتی کمیشن بنا تھا لیکن باقاعدہ این ایف سی ایوارڈ کا سلسلہ 1974ء کے آئین کے بعد شروع ہوا۔

سب سے پہلا باقاعدہ این ایف سی ایوارڈ 1974ء میں آیا جس میں وفاق کو مجموعی ٹیکس وصولیوں کا 20 فیصد جبکہ صوبوں کو 80 فیصد حصہ دیا گیا تھا۔ اس وقت پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے درمیان تقسیم کا بنیادی اصول صرف آبادی تھا۔ اس ایوارڈ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس نے صوبوں کو پہلی بار خاطر خواہ مالیاتی خودمختاری دی اور وفاقی بجٹ پر انحصار کم کیا۔ اس کے بعد 1979ء، 1991ء، 1997ء، 2006ء اور پھر 2009ء میں نئے ایوارڈز آئے مگر ہر بار سیاسی دباؤ، صوبائی ناراضی اور مذاکرات کی ناکامی کی وجہ سے کئی کئی سال تاخیر ہوتی رہی۔ 1991ء سے 1996ء تک تو مکمل پانچ سال این ایف سی ایوارڈ ہی معطل رہا اور پرانے فارمولے پر ہی تقسیم ہوتی رہی۔

2009ء کا ساتواں این ایف سی ایوارڈ پاکستان کی مالیاتی تاریخ کا سب سے انقلابی اور صوبہ دوست ایوارڈ ثابت ہوا جسے صدر آصف علی زرداری نے 2009ء کے آخر میں اعلان کیا تھا۔ اس میں پہلی بار صرف آبادی کو نہیں بلکہ کئی نئے معیار اپنائے گئے تھے۔ آبادی کا وزن 82 فیصد سے گھٹا کر 51.74 فیصد کر دیا گیا، محرومی اور پسماندگی کے لیے 10.3 فیصد، ٹیکس وصولی کی کارکردگی کے لیے 2.7 فیصد اور زمین کے رقبے کی بنیاد پر الٹا تناسب (inverse population density) 2.7 فیصد جبکہ باقی آمدنی کی تقسیم میں سب سے بڑی تبدیلی یہ ہوئی کہ وفاق کا حصہ 55 فیصد سے گھٹا کر 42.5 فیصد کر دیا گیا اور صوبوں کا مجموعی حصہ 57.5 فیصد ہو گیا۔ اس ایوارڈ کی وجہ سے بلوچستان کو سب سے زیادہ فائدہ ہوا جس کا حصہ 5.11 فیصد سے بڑھ کر 9.09 فیصد ہو گیا، خیبر پختونخوا کو 14.62 فیصد ملا جبکہ سندھ اور پنجاب کے حصے میں معمولی کمی آئی۔ اس ایوارڈ کی ایک اور اہم بات یہ تھی کہ خیبر پختونخوا کو جنگ کے نقصانات کی مد میں الگ سے ایک فیصد اضافی دیا گیا تھا۔

اس کے بعد آٹھواں این ایف سی ایوارڈ 2010ء میں بننا تھا مگر سیاسی اختلافات کی وجہ سے یہ 2015ء تک نہ بن سکا اور ساتواں ایوارڈ ہی جاری رہا۔ 2015ء میں نواں این ایف سی ایوارڈ آیا جس میں وفاق کا حصہ مزید کم ہو کر 43 فیصد ہو گیا اور صوبوں کا حصہ 57 فیصد سے بڑھا دیا گیا۔ تقسیم کے معیار بھی تبدیل کیے گئے، آبادی کا وزن مزید کم ہو کر 50 فیصد ہو گیا، محرومی 10 فیصد، ٹیکس وصولی 5 فیصد اور زمین کا الٹا تناسب 5 فیصد کر دیا گیا۔ اس ایوارڈ سے بھی بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو فائدہ ہوا جبکہ پنجاب اور سندھ کے حصے میں معمولی کمی آئی۔

اب دسواں این ایف سی ایوارڈ جو 2020ء میں بننا تھا، وہ اب تک مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکا۔ 2021ء میں ایک عبوری ایوارڈ دیا گیا تھا جس میں پرانے فارمولے پر ہی تقسیم جاری رکھی گئی لیکن نئے معیار طے کرنے میں شدید اختلافات ہیں۔ سب سے بڑا تنازع یہ ہے کہ پنجاب آبادی کی بنیاد پر اپنا تاریخی حصہ برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا چاہتے ہیں کہ آبادی کا وزن مزید کم ہو اور پسماندگی، غربت، زمین کا رقبہ اور ماحولیاتی نقصانات جیسے نئے معیار شامل کیے جائیں۔ سندھ کا مطالبہ ہے کہ شہری ٹیکس وصولیوں کو الگ سے دیکھا جائے کیونکہ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا ٹیکس ادا کرنے والا شہر ہے۔ بلوچستان گوادر پورٹ اور سی پیک کے تناظر میں اپنے ساحلی پٹی کے وسائل پر زیادہ حصہ مانگ رہا ہے جبکہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے نقصانات اور پھر افغان مہاجرین کی وجہ سے اضافی فنڈز چاہتا ہے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ 2025ء تک بھی دسواں مکمل این ایف سی ایوارڈ نافذ نہیں ہو سکا اور وفاق پرانے ایوارڈ پر ہی صوبوں کو حصہ دے رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے دباؤ میں وفاق اپنا حصہ بڑھانا چاہتا ہے کیونکہ قرضوں کی ادائیگیاں، دفاع اور سود کی مد میں اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں۔ دوسری طرف صوبے کہتے ہیں کہ وفاق نے صحت، تعلیم اور دیگر صوبائی شعبوں کو خود مختار کر دیا ہے تو اب مالی ذمہ داری بھی صوبوں پر ڈال دی گئی ہے اس لیے ان کا حصہ کم نہیں ہونا چاہیے۔

این ایف سی ایوارڈ کے مستقبل میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ پاکستان ایک وفاقی ملک ہے اور جب تک صوبوں کے درمیان اعتماد نہیں ہو گا، کوئی بھی ایوارڈ مستقل طور پر قبول نہیں کیا جائے گا۔ کئی ماہرین کا خیال ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ نئے مردم شماری کے درست اعداد و شمار کو بنیاد بنایا جائے، ٹیکس نیٹ کو بڑھایا جائے اور صوبوں کو خود اپنے وسائل پیدا کرنے کی طرف لے جایا جائے۔ اگر این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق رائے نہ ہوا تو وفاقی نظام کمزور ہو گا اور صوبائی ناراضی بڑھے گی جو ملک کی سالمیت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں، صوبائی حکومتیں اور وفاق مل بیٹھیں اور ایک ایسا پائیدار، منصفانہ اور شفاف این ایف سی ایوارڈ بنائیں جو آنے والی نسلوں کے لیے بھی قابلِ قبول ہو۔ یہی وفاق کے استحکام اور ترقی کی ضمانت ہے۔

وہ قبر… جسے آزاد ہندوستان نے بھلا دیا۔ اور وہ شخص… جو تحریکِ آزادی کا حاشیہ نہیں تھا، بلکہ اس کی پوری سرخی تھا—مولانا مح...
01/12/2025

وہ قبر… جسے آزاد ہندوستان نے بھلا دیا۔ اور وہ شخص… جو تحریکِ آزادی کا حاشیہ نہیں تھا، بلکہ اس کی پوری سرخی تھا—مولانا محمد علی جوہر۔
رام پور کی خاموش فضا سے اٹھنے والا یہ نوجوان علی گڑھ کی فکری دنیا میں پختہ ہوا، پھر آکسفورڈ کی دانش گاہوں سے علم کی ایک ایسی چمک لے کر لوٹا جس نے ہندوستان کی سیاسی روشنی بدل دی۔
ہندوستان پہنچ کر اس نے قلم کو ہتھیار بنایا اور دو ایسے اخبار جاری کیے جن کے نام آج بھی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جاتے ہیں—
انگریزی کا جری سیاسی ہفت روزہ: "The Comrade" (کامریڈ)
اور
اردو کا ولولہ خیز روزنامہ: "Hamdard" (ہمدرد)

یہ وہ اخبار تھے جن کے اداریے پڑھ کر وائسرائے کے دروازوں میں لرزش آجاتی تھی۔ “کامریڈ“ برصغیر کا پہلا باوقار انگریزی سیاسی ہفت روزہ تھا جس نے ہندوستان کی آواز کو عالمی سطح تک پہنچایا۔ “ہمدرد“ وہ اخبار تھا جو دل پر ہاتھ رکھ کر سچ لکھتا تھا، چاہے اس سچ کے عوض جوہر کو چھ بار جیل ہی کیوں نہ جانا پڑا۔

پھر وہی شخصیت 1920 کی دہائی میں وہ نعرہ بلند کرتی ہے—“Quit India“—جسے دنیا نے سمجھا 1942 میں پیدا ہوا۔
وہ خلافت تحریک کے معمار تھے، جنہوں نے لاکھوں مسلمانوں کو گاندھی کے ساتھ کھڑا کیا، ستیہ گرہ کی قطاروں میں لا کھڑا کیا، اور برطانوی راج کو پہلی بار اپنی کمزوری کا احساس دلایا۔

چھ قیدیں، آٹھ برس سے زیادہ کی سزائیں، اور پھر 1931 کا وہ سرد، دھندلا ہوا دن جب لندن میں انہوں نے آخری سانس لیتے ہوئے وہ جملہ کہا جو تاریخ کے سینے میں تیر بن کر اتر گیا:
“ہندوستان آزاد نہیں… میں ایک مقبوضہ ملک کی مٹی میں دفن نہیں ہونا چاہتا۔ مجھے بیت المقدس لے جاؤ۔”

شوکت علی نے وصیت پوری کی۔
تابوت لندن سے سویز گیا، وہاں سے یافا کے ساحل پر اترا۔ اور پھر فلسطین نے وہ منظر دیکھا جو شاید کبھی نہ بھولے—دس ہزاروں لوگ یافا سے یروشلم تک جنازے کے راستے میں کھڑے تھے۔ برطانوی حکومت نے روکنے کی کوشش کی، مگر تاریخ کا قافلہ روکا نہیں جاتا۔
گرینڈ مفتی حاج امین الحسینی نے نماز پڑھائی، اور نبی موسیٰ کے تاریخی احاطے میں—یروشلم سے 20 کلومیٹر دور—شوکت علی نے خود بھائی کے تابوت کو قبر میں اتارا۔
ایک سادہ سنگِ مرمر پر لکھا گیا:

“یہاں محمد علی جوہر آرام فرما ہیں—ہندوستان کا بیٹا، فلسطین کا دوست۔”

1931 سے 2025… چورانوے برس گزر گئے۔
اور اس پورے عرصے میں کون کون وہاں نہیں گیا—اس کی فہرست ہندوستانی سیاست کی سب سے خاموش شرمندگی ہے۔

نہ نہرو، جو مشرقِ وسطیٰ کے ملکوں میں گئے پر اس چھوٹے سے مزار تک نہ پہنچے۔
نہ اندرا، جو عرفات کو گلے لگاتی ہیں مگر جوہر کی قبر پر ایک پھول نہیں رکھتیں۔
نہ راجیو، نہ واجپائی، نہ نرسمہا راؤ، نہ منموہن، نہ مودی—سب کی حاضری صفر۔
صدور سے لے کر پارٹی صدور، وزرائے اعلیٰ سے لے کر بڑے لیڈروں تک—سب کی فہرست خالی۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جس کی سیاسی بیداری میں جوہر برادران نے آگ بھری—وہ بھی کبھی مزار تک نہیں گئی۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ—جو انہی کے ہاتھوں بنی—اس نے بھی کبھی سرکاری وفد وہاں نہیں بھیجا۔

لیکن مزار موجود ہے۔
فلسطینی بچے آج بھی بھارت کے یومِ آزادی پر وہاں پھول رکھتے ہیں۔
کیونکہ ان کے بزرگوں نے انہیں بتایا ہے:
“یہ وہ ہندوستانی ہے جس نے فلسطین سے محبت کی تھی۔”

2021 میں آندھیوں کے بعد جب مزار کو نقصان پہنچا تو اس کی مرمت بھی فلسطینیوں نے اپنے ہاتھوں اور اپنے پیسوں سے کی۔
بغیر واہ واہ، بغیر رسمی تقریب—صرف محبت اور احسان کی خاطر۔

اور یوں مولانا محمد علی جوہر—کامریڈ کے مؤسس، ہمدرد کے بانی، خلافت کے سپہ سالار، تحریکِ آزادی کی دھڑکن—اپنے وطن سے دور ایک ایسی مٹی میں سو رہے ہیں جس کی آزادی کے لیے وہ خود بھی تڑپتے تھے۔

01/12/2025

۲۰ نومبر ۱۹۷۹ء کی صبح، جب سورج ابھی مکمل طلوع بھی نہ ہوا تھا، مکہ معظمہ کی گلیوں میں فجر کی اذان کی آواز ابھی تک گونج رہی تھی کہ اچانک ایک ایسی آواز بلند ہوئی جس نے پوری امت مسلمہ کے دل دھڑکا دیے۔ مسجد الحرام کے اندر، جہاں لاکھوں حاجی نئے اسلامی سال ۱۴۰۰ ہجری کے پہلے دن کی فجر ادا کر کے سکون سے سر جھکائے کھڑے تھے، اچانک بندوقوں کی نوک پر امامِ حرام شیخ عبداللہ بن سبیل کو یرغمال بنا لیا گیا۔ چند لمحوں میں ہی تمام دروازے بند، میناروں پر مسلح نوجوان چڑھ گئے اور لاؤڈ سپیکر پر ایک خوفناک اعلان گونجا: ”مہدی موعود ظاہر ہو چکا ہے، اس کا نام محمد بن عبداللہ القحطانی ہے، سب اس کے ہاتھ پر بیعت کرو!“

یہ کوئی خوابِ بد نہیں تھا، بلکہ اسلامی تاریخ کا وہ سیاہ باب تھا جسے ”واقعہ حرمین“ یا ”قادیانِ ثانی کی ناکام بغاوت“ کہا جاتا ہے۔ حملہ آوروں کی تعداد دو سو سے کچھ زائد تھی، لیکن ان کی تیاری ایسی تھی کہ سعودی فوج، نیشنل گارڈ اور فرانسیسی کمانڈوز بھی کئی دن تک ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔

سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ یہ لوگ حج کے فوراً بعد، جب دنیا بھر کے لاکھوں حاجی ابھی مکہ میں موجود تھے، حملہ کر بیٹھے۔ انہوں نے مہینوں پہلے سے جنازوں کے تابوتوں میں جدید ہتھیار، گولیاں، خشک کھجوریں، پانی، راشن اور دوائیاں چھپا کر مسجد کے تہہ خانوں میں جمع کر رکھی تھیں۔ تابوتوں کا بہانہ بنا کر کوئی شک نہ کر سکا۔ سب کچھ اتنا خفیہ اور منظم تھا کہ سعودی انٹیلی جنس کو بھی بھنک تک نہ پڑی۔

حملہ آوروں کا اصل لیڈر جہیمان بن سیف العتیبی تھا، نجد کے ایک طاقتور قبیلے کا فرد اور سابق نیشنل گارڈ کیپٹن۔ اس کا دستِ راست ۲۷ سالہ محمد بن عبداللہ القحطانی تھا جسے وہ مہدی کہتا تھا۔ جہیمان نے اپنے ساتھیوں کو برسہا برس دھوکہ دیا تھا کہ محمد بن عبداللہ دراصل وہ مہدی ہے جس کا ذکر احادیث میں ہے، اس کا باپ عبداللہ ہے، اس کا دادا قحطان ہے، وہ مکہ میں ظاہر ہوگا، اس کے ہاتھ پر تمام مسلمان بیعت کریں گے۔ جھوٹ پر جھوٹ، جعل سازی پر جعل سازی۔

جب دروازے بند ہوئے تو مسجد میں تقریباً ایک لاکھ کے قریب نمازی موجود تھے۔ خواتین، بوڑھے، بچے، دنیا بھر سے آئے ہوئے معصوم حاجی سب یرغمال بن گئے۔ جہیمان نے مقامِ ابراہیم کے قریب، بالکل کعبہ کے سامنے کرسی لگوا کر محمد بن عبداللہ کو بٹھایا اور بندوقوں کے سائے میں بیعت شروع کر دی۔ جو نہ مانتا اسے گولی مار دی جاتی۔ کئی ایک نے خوف سے بیعت کر لی، کئی چھپ گئے، کئی تہہ خانوں میں بند ہو گئے۔

سعودی حکومت نے پہلے تو اپنی فوج بھیجی، لیکن حملہ آور تہہ خانوں، میناروں اور چھتوں پر مورچہ بند تھے۔ ہر طرف سے گولی باری ہوتی رہی۔ شاہ خالد بن عبدالعزیز نے فوراً ۳۲ بڑے بڑے علماء پر مشتمل مجلس کو طلب کی۔ شیخ عبدالعزیز بن بازؒ سمیت تمام اکابرین نے متفقہ فتویٰ دیا کہ ”یہ فتنہ ہے، ان کے خلاف طاقت کا استعمال جائز، بلکہ واجب ہے“۔ اس فتویٰ کے بعد بھی بہت احتیاط کی گئی کہ کعبہ اور مسجد کو نقصان نہ پہنچے۔

دو دن تک سعودی اور فرانسیسی کمانڈوز ناکام رہے۔ فرانسیسیوں کے پاس گیس، سنائپرز، جدید ہتھیار سب کچھ تھا مگر تہہ خانوں تک رسائی نہ ہو سکی۔ بالآخر سعودیوں نے پاکستان سے مدد مانگی۔ جنرل ضیاء الحق نے فوراً SSG کمانڈوز کا دستہ روانہ کیا جس کی قیادت خود کُچھ سورسز کے مطابق بریگیڈیئر پرویز مشرف (بعد میں جنرل اور صدر) کر رہے تھے۔
(پرویز مشرف کا کنفرم نہیں ہے ۔)

پاکستانی کمانڈوز نے ایک ایسی حکمت عملی استعمال کی جس نے دنیا کو حیران کر دیا۔ انہوں نے مسجد کے اندر پانی کے تمام نل کھول دیے، پھر بجلی کا کرنٹ پانی میں چھوڑ دیا۔ گیلا فرش، کرنٹ کی لہریں، اندھیرا اور خوف۔ حملہ آوروں کے سنائپرز اور شارپ شوٹرز اچانک بے اثر ہو گئے۔ پھر پاکستانی کمانڈوز نے تہہ خانوں میں داخل ہو کر ایک ایک مورچہ صاف کیا۔ چند گھنٹوں میں ہی پوری مسجد پر قبضہ ہو گیا۔

۸ دسمبر ۱۹۷۹ء کو صبح سویرے جب اذانِ فجر دوبارہ گونجی تو لاکھوں مسلمان رو پڑے۔ پندرہ دن بعد کعبہ پھر سے آزاد تھا۔

ہلاکتوں کا درست عدد آج تک متنازع ہے۔ سرکاری طور پر ۱۲۷ سعودی فوجی اور ۱۱۷ حملہ آور ہلاک ہوئے۔ لیکن غیر سرکاری اندازوں کے مطابق ہلاکتیں پانچ سو سے زائد تھیں۔ جہیمان العتیبی زندہ پکڑا گیا جبکہ نام نہاد مہدی محمد بن عبداللہ القحطانی لڑتے لڑتے مارا گیا۔ ۹ جنوری ۱۹۸۰ء کو سعودی عرب کے آٹھ مختلف شہروں میں ۶۳ زندہ بچ جانے والے دہشت گردوں کو عوامی طور پر سر قلم کر دیا گیا۔ ان میں مصری، کویتی، یمنی، سوڈانی اور عراقی بھی شامل تھے۔

یہ واقعہ امت کے لیے ایک عبرت ہے۔ ایک طرف تو یہ دکھاتا ہے کہ فتنہ کتنا خوفناک ہو سکتا ہے، دوسری طرف یہ بھی بتاتا ہے کہ جب اللہ کی مدد شاملِ حال ہو تو چند درجن پاکستانی کمانڈوز بھی پوری دنیا کی جدید فوجوں سے بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔

آج جب ہم کعبہ کا طواف کرتے ہیں، جب مقام ابراہیم پر کھڑے ہو کر دو رکعت نفل پڑھتے ہیں تو یاد رکھیں کہ ۴۵ سال پہلے اسی مقدس جگہ پر خون بہہ رہا تھا، معصوم حاجی یرغمال تھے اور ایک جھوٹا مہدی بیعت لے رہا تھا۔ یہ زخم آج بھی تازہ ہیں، اور ان کی یاد ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ فتنہ خوارج ہر دور میں نئے روپ میں آتا ہے، بس اس کا علاج وہی ہے جو قرآن نے بتایا: ”وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا“

اللہ ہماری حرمین کو، ہماری امت کو، ہماری آنے والی نسلوں کو ایسے فتنوں سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین۔

پاکستان کی فوج (خاص طور پر SSG کمانڈوز) کی 1979 کے واقعہ مسجد الحرام میں براہِ راست اور فیصلہ کن شرکت کے ثبوت درج ذیل معتبر ذرائع سے ملتے ہیں:

1. جنرل (ر) پرویز مشرف کی خود نوشت سوانح In the Line of Fire: A Memoir (2006)، صفحہ 66-68 پر وہ لکھتے ہیں کہ وہ اس آپریشن کے کمانڈر تھے اور پاکستانی کمانڈوز نے پانی میں کرنٹ چھوڑ کر اور تہہ خانوں میں گھس کر حملہ آوروں کو ختم کیا۔

2. بریگیڈیئر (ر) سید اعجاز عظیم (جو آپریشن میں موجود تھے) نے روزنامہ جنگ (20 نومبر 2009) کو انٹرویو دیتے ہوئے تصدیق کی کہ تقریباً 70-80 پاکستانی کمانڈوز نے آخری مرحلے میں مسجد صاف کی۔

3. لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام یزدانی کی کتاب آپریشن جنیزہ (اردو، 2010) میں مکمل تفصیل موجود ہے۔

4. امریکی صحافی یاروسلاو تروفیموف کی کتاب The Siege of Mecca (2007)، باب 18-20 میں لکھا ہے کہ سعودی اور فرانسیسی ناکامی کے بعد پاکستانی SSG نے 3-4 دسمبر 1979 کو آخری حملہ کیا اور مسجد مکمل طور پر واگزار کرائی۔

5. بی بی سی کی ڈاکیومنٹری The Siege of Mecca (2008) میں بھی پاکستانی کمانڈوز کی شرکت کو تسلیم کیا گیا۔

6. فرانسیسی GIGN کمانڈر کرسچن پروتو (جو سعودیوں کی مدد کر رہے تھے) نے فرانسیسی اخبار Le Monde (2004) کو بتایا کہ فرانسیسی گیس اور دیگر طریقوں سے ناکام رہے، آخر میں پاکستانیوں نے پانی میں کرنٹ چھوڑنے کا طریقہ استعمال کیا۔

7. سابق سعودی انٹیلی جنس سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل نے پی بی ایس ڈاکیومنٹری House of Saud (2005) میں کہا: "We had to call in Pakistani commandos… they did the final clearing."

8. سعودی اخبار عکاظ نے 9 جنوری 1980 میں بالواسطہ طور پر "غیر ملکی ماہرین" کا ذکر کیا تھا، جو بعد میں پاکستانی کمانڈوز ہی ثابت ہوئے۔

ابتدا میں سعودی حکومت نے غیر عرب فوج کی شرکت کو خفیہ رکھنے کی کوشش کی، لیکن 1990 کی دہائی سے پاکستانی افسران اور مغربی مصنفین کی کتابوں کے بعد یہ بات پوری دنیا پر عیاں ہو گئی کہ مسجد الحرام کو خوارج سے آزاد کرانے میں پاکستان آرمی کے SSG کمانڈوز کا سب سے اہم اور فیصلہ کن کردار تھا۔

عجیب و غریب تاریخ

1954 میں شائع ہونے والے Science and Invention in Pictures Magazine نے ایک ایسا تصور پیش کیا تھا جو اُس دور کے لحاظ سے نہ...
30/11/2025

1954 میں شائع ہونے والے Science and Invention in Pictures Magazine نے ایک ایسا تصور پیش کیا تھا جو اُس دور کے لحاظ سے نہ صرف حیران کن تھا بلکہ موجودہ دور کی ٹیلی میڈیسن ٹیکنالوجی کی بنیاد جیسی پیشگوئی بھی ثابت ہوا۔ اس تصور کو ’’ٹیلی ڈاکٹرنگ‘‘ کہا گیا۔ اُس زمانے میں جب دنیا ابھی ٹیلی فون اور ابتدائی ٹیلی ویژن کے دور سے گزر رہی تھی، کسی مریض کا ڈاکٹر سے دور بیٹھ کر معائنہ کروانا محض سائنسی تخیل سمجھا جاتا تھا۔ مگر سائنس دانوں اور موجدوں نے انسانی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اندازہ لگا لیا تھا کہ مستقبل میں علاج معالجہ فاصلے کی قید سے آزاد ہو جائے گا۔

ٹیلی ڈاکٹرنگ کا بنیادی خیال یہ تھا کہ مریض اپنے گھر میں موجود ایک خصوصی ویڈیو اسکرین کے سامنے بیٹھے گا جس کے ذریعے ڈاکٹر نہ صرف مریض کو دیکھ سکے گا بلکہ مریض کی نبض، درجہ حرارت، سانس اور دل کی دھڑکن جیسے اشارے بھی ایک مخصوص الیکٹرانک آلے کے ذریعے ڈاکٹر تک منتقل ہوں گے۔ اُس دور میں کمپیوٹر نہ ہونے کے برابر تھے، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نام کی کوئی چیز موجود نہیں تھی، مگر پھر بھی تصور یہ تھا کہ ایک دن ڈاکٹر انسان کے جسمانی ڈیٹا کو برقی سگنلز کی شکل میں دیکھ کر دور بیٹھے علاج کر سکے گا۔ آج ہم جانتے ہیں کہ یہ پیشگوئی بالکل درست ثابت ہوئی۔ آج کے ویڈیو کنسلٹیشنز، اسمارٹ گھڑیوں کے سینسرز، ریموٹ ECG آلات اور موبائل ایپس اسی خیال کی جدید شکل ہیں۔

1954 کے اس تصور کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ اس نے میڈیکل سائنس کو ایک نئی جہت دینے کے امکانات روشن کیے۔ اُس وقت ڈاکٹر تک رسائی ایک بڑا مسئلہ تھا۔ دیہات، دور دراز علاقے، برفانی خطے اور وہ لوگ جو جسمانی معذوری یا کمزور صحت کے باعث سفر نہیں کر سکتے تھے، اُن سب کے لیے دور بیٹھ کر علاج کرانے کا خیال ایک نعمت سے کم نہیں تھا۔ آج یہی سہولت دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو فائدہ دے رہی ہے، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں جہاں طبی سہولیات محدود ہیں۔

یہ تصور اس بات کا بھی ثبوت تھا کہ انسان ہمیشہ اپنے مسائل کا حل ٹیکنالوجی میں تلاش کرتا ہے۔ ٹیلی ڈاکٹرنگ نے نہ صرف میڈیکل سائنس کی سمت متعین کی بلکہ جدید آئی ٹی اور بائیومیٹرک ٹیکنالوجی کے لیے بھی ایک راستہ کھول دیا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ 1954 میں پیش کی گئی اس ایجاد میں جو بنیادی ڈھانچہ دکھایا گیا تھا—کیمرہ، اسکرین، سینسر اور ڈیٹا کی ترسیل—وہی چار ستون آج کی ٹیلی میڈیسن کا بنیادی فریم ورک ہیں۔

یہ تصور آج کے دور میں مزید ترقی کر چکا ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس، بگ ڈیٹا، 5G انٹرنیٹ اور روبوٹک سرجری کی بدولت اب نہ صرف مشورہ دینا بلکہ بعض پیچیدہ آپریشن بھی دور بیٹھ کر ممکن ہو چکے ہیں۔ اس طرح 1954 کا ’’خواب‘‘ اب دنیا کے کئی حصوں میں ایک عام حقیقت بن چکا ہے۔ یہ مضمون ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانی ذہانت کے تخیل میں وہ طاقت ہوتی ہے جو آنے والی صدیوں کی ٹیکنالوجی کو شکل دے سکتی ہے۔

30/11/2025

کائنات میں آج تک کسی چیز نے موت نہیں دیکھی ہر شے صرف شکل بدلتی ہے اور زندہ رہتی ہے

تحریر: غلام نبی سولنگی

توانائی کبھی مرتی نہیں اور مادہ کبھی غائب نہیں ہوتا یہ کائنات کا سب سے حیران کن راز ہے جسے انسان نے بہت دیر بعد سمجھا ہم روز چیزوں کو ٹوٹتے بکھرتے جلتے بجھتے دیکھتے ہیں مگر ہمیں لگتا ہے جیسے سب کچھ ختم ہو گیا ہو حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کچھ بھی ختم نہیں ہوتا سب بس شکل بدل لیتا ہے

آئن اسٹائن نے جب کہا کہ مادہ اور توانائی ایک ہی حقیقت ہیں تو یہ صرف سائنسی دعویٰ نہیں تھا یہ پوری انسانیت کے لیے ایک چونکا دینے والا آئنہ تھا پانی بھاپ بن جاتا ہے بھاپ آسمان میں جاتی ہے پھر بارش بنتی ہے ہمیں لگتا ہے تبدیلی ہے مگر اصل میں ہر ذرہ اپنی جگہ سے کہیں نہ کہیں منتقل ہو کر زندہ رہتا ہے

جب سورج کے دل میں مادہ جل کر روشنی بنتا ہے تو وہ روشنی ہماری ہتھیلی پر پڑتی ہے ہمارے جسم کو گرم کرتی ہے اور ہمارے خون کی گردش تک بدل دیتی ہے یعنی سورج کے اندر مرنے والا مادہ ہم تک پہنچ کر نئی توانائی بن جاتا ہے کوئی چیز فنا نہیں ہوتی صرف سفر کرتی ہے

ہم جو سانس لیتے ہیں جو کھانا کھاتے ہیں جو قدم اٹھاتے ہیں یہ سب اسی ایک قانون کی وجہ سے ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ دنیا ایک مسلسل بدلتی ہوئی مشین ہے جس میں کچھ بھی ضائع نہیں ہوتا بلکہ ہر شے نئی شکل میں آگے بڑھتی ہے

یہی وہ سچ ہے جسے سائنس نے کھول کر رکھ دیا ہے توانائی بہتی رہتی ہے مادہ گھومتا رہتا ہے اور ہم سب اس نہ ختم ہونے والے چکر کا حصہ ہیں چاہے مانیں یا نہ مانیں ہم سب خود بھی ایک تبدیل شدہ توانائی ہیں جو کسی نہ کسی جگہ سے سفر کر کے یہاں تک پہنچی ہے

ان تمام معلومات کا ماخذ جدید سائنسی تحقیق اور آئن اسٹائن کے نظریۂ اضافیت کی تصدیق شدہ دریافتیں ہیں

خوش رہیں سلامت رہیں اور سائنس سیکھتے رہیں۔

Address

Toba Tek Singh
36000

Opening Hours

Monday 16:00 - 20:00
Tuesday 16:00 - 20:00
Wednesday 16:00 - 20:00
Thursday 16:00 - 20:00
Friday 18:00 - 20:00

Telephone

+923004489579

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Subhan Ullah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Subhan Ullah:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram