Markaz-E-Umeed Clinic

Markaz-E-Umeed Clinic Markaz-e-Umeed is treatment center for azospermia & male female infertility and othere chronic diseases.

20/06/2023

1۔ابراٹینم =سوکھا پن
2۔ اپیکاک = متلی
3۔آرنیکا مانٹ = چوٹ
4۔آرسینکم البم = بے چینی
5۔آرسینکم آیوڈیم =جگہ چھیلنے والی
6۔آرٹیکا یورنس = چھپاکی
7۔آرم ٹرائفلم = تیزابی رطوبت
8۔اورم مٹیلیکم = خود کشی
9۔آرجنٹم مٹیلیکم = انٹی سورک انٹی سائیکوٹک
10۔آرجنٹم نائٹریکم = میٹھی اشیا کی خواہش اور ان سے خرابی
11۔اسارم یوروپیم = حد درجہ کی احساسیت
12۔اشوکا = عورتوں کے اعضاء تولید
13۔اگزالک ایسڈ = تکلیف کا سوچنے سے اضافہ
14۔اگنیشیا = غم، فکر اور پریشانی کی حالت کا کنٹرول
15۔اگریکس مسکریس = اعضا میں آنے والے جھٹکے
16۔الٹرس فیری نوسا =عورتوں کے امراض
17۔امبرا گریسیا = اندر پایا جانے والا جوش اور اعصابی مزاج
18۔امونیم کارب =موٹی عورتوں کے لیے جو سردی قبول کریں
19۔امونیم میور =گردش خون میں بے قاعدگی
20۔اناکارڈیم = دو ضمیروں کے تابع
21۔اوپیم = تمام تکلیفوں کے ساتھ گہری نیند
22۔آئرس ورسی کولر = بلغمی جھلیوں اور غداروں پر اثر
23۔آیوڈم = گوشت سوکھتا جاتا ہے اور لمفاوی غدود بڑھے ہیں
24۔ایپس میلی فیکا = جلد اور بلغمی جھلیوں کا استسقا
25۔ایتھوزا = بچوں کی علامات، قے اور نڈھال
26۔ایسا فوٹیڈا = ہسٹریائی حالتیں۔ ہچکی
27۔ایسکولس ہپ = بواسیری عوارض اور جگر کی خرابی
28۔ایسٹک ایسڈ = خون کی کمی اور استسقائی علامات
29۔ایکو نائٹ = خوف
30۔ایلوز = جسم کا بگڑا ہوا توازن بحال کرتی ہے
31۔ایلومینا = قبض
32۔ایلومن = انتوں کی علامات، قبض
33۔ایکی نیشیا = خون کے زہریلے پن کے لیے
34۔اگنس کاسٹس = مردوں کے آلات تناسل
35۔ایلیم سیپا= نزلہ زکام
36۔انٹی مونیم ٹارٹ = سانس کے نظام کی علامات
37۔انٹی مونیم کروڈم =زھن اور معدے کی علامات
38۔بیپٹیشیا = ٹائفائیڈ کی دوا
39۔برائی اونیا = خشکی تمام علامات کے ساتھ
40۔بریٹا کارب =بچپن اور برھاپے کی تکلیف
41۔بریٹا آیوڈیٹا = غدودوں پر گہرا اثر
42۔بریٹا میور = خنازیری مزاج انسانوں میں مفید
43۔بربرس ولگرس = پیشاب کے عوارض، جلن اور درد
44۔برومیم = سانس کا نظام، نرخرہ اور سانس کی نالی
45۔بسمتھ = سوزش اور نزلاوی ورم
46۔بنزویکم ایسڈم =پیشاب بدبودار، رنگ بدلتا، بھورا رنگ
47۔بوسٹا =جلد اور دوران خون پر اثر
48۔بودیکس = تمام تکلیفوں میں نیچے کی طرف حرکت اور خوف سے اضافہ
49۔بیوفو = اعصابی نظام پر اثر، پیشاب کی علامات اہم
50۔بیسی لینم =ٹی بی
51۔بیلا ڈونا= چہرہ سرخ، آنکھیں سرخ سر گرم پاوں ٹھنڈے
52۔پائرو جینم =چھوت اور عفونت کی حالت
53۔پیٹرولیم = بستری زخم، جلد پھٹنا
54۔پکریکم ایسڈم = نظام اعصاب۔ سر کی گدی
55۔پلساٹیلا=گرمی سے حساس ،کھلی ہوا میں سکون
56۔پلاٹینا= عصبی اور ہسٹریائی عورتوں کی علامات
57۔پلمبم =آنکھ کے سفید پردے، عصب بینائی کی سوزش
58۔پوڈوفائلم =اثر صفراوی مزاج مریضوں پر
59۔تھریڈین= پھپھڑوں کی ٹیبی

60۔تھوجا = جلد ،خون ،معدہ، آنتیں، دماغ ۔ سوزاک
61۔ٹریلیم =جریان خون
62۔ٹریبنتھینا =بلغمی جھلیاں، پیشاب کی علامات اہم
63۔ٹو بیکم = دل،دل کے ارد گرد کی شریانوں کا درد۔ تمباکو کے بداثرات
64۔ٹیوبر کولینم = ٹی بی
65۔ٹیر نٹولاہسپانیہ = اعصابی اور ہسٹریائی علامات
66۔ٹیر نٹولا کیو بنس
نزاع کی حالت، پیپ کی خطرناک حالتیں
67۔ جلسی میم =اعصاب پر اثر
68۔چائنا سکونا ۔= خون بہہ جانے اور منی کے اخراج سے کمزوری
69۔چنی نم آرس =بازوں، ٹانگوں، ہاتھ پاون میں چیرنے والا درد
70۔چنی نم سلف =گردوں کی مزمن سوزش
71۔چیلیڈونیم = جگر
72۔ڈائیسکوریا = آلہ تناسل ڈھیلااور سرد، فوتوں پر پسینہ، چائے کا استعمال کرنے والے ۔ پیٹ کا درد
73۔ڈی جی ٹیلس = دل جب اپنی تنزلی کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہو جائے
74۔ڈروسرا = سانس کی علامات
75۔ڈلکامارا = گرمیوں کے اختتام پر بدلتا موسم
76۔رسٹاکس= بلغمی جھلیوں کی تکالیف، گنٹھیاوی درد اور ٹائفائیڈ
77۔روٹا = باریک بینی سے نظر کمزور ۔ ہڈیوں کی دردیں
78۔روڈ ڈنڈران=موسم گرما کے گنٹھیا
79۔ریومکس =نرخرہ اور سانس کی نالی
80۔رینن کیولس بلب =سینے اور جلد کی علامات
81۔زنکم میٹ =اعصابی تکالیف
82۔زنجبار =پیشاب بند،گردے کام چھوڑ دیں اور نرخرے کے نیچے ڈنگ لگنے جیسا درد
83۔سائنا = انتوں کی سوزش کے امراض اور بھنگا پن، پیٹ کے کیڑے ۔ بلوغت انے سے قبل رحم سے خون
84۔سارسپریلا =الات بول
85۔سائیکلے من =معدہ، آنتیں اور الات بول سے متعلق
86۔سبائنا =آلات تناسل زنانہ و مردانہ بلخصوص رحم
87۔سباڈیلا=ناک،بلغمی جھلی اور آنسوؤں کے غدود
88۔سپونجیا =آلات تنفس
89۔سپائی جیلیا =بائیں جانب اثر
90۔سٹانم =اعصابی نظام اور الات تنفس
91۔سٹرامونیم،=دماغ کی علامات
92۔سٹافی سگیریا =اعصابی عوارض، الات تنفس۔ گوہانجنی
93سس ٹس کینا ڈنس = انٹی سورک
94۔سفلی نیم =رات کو علامات میں اضافہ، پاگل مفلوج ہونے کا خوف، نیند کے دوران رال بہنا،دوسرا عکس نظر آنا
95۔سکیل کار= پٹھوں میں سکڑاو
96۔سائیکوٹا وائروسا=تشنج
97۔سیکولا =آلات تنفس کی علامات
98۔سیلی نیم =الات تناسل، الات بول
99۔سلیشیا =ھڈیوں کے ناسور اور مردار پن
100۔سلفر =بڑی انٹی سورک
101۔سلفورک ایسڈ =سردرد ہاتھ میں تھامنے سے سکون، شراب کی خواہش، پانی پینے سے معدہ سرد، دائیں کنپٹی میں دباو کا احساس، نرخرہ تیزی سے اوپر نیچے ہوتا ہے
102۔سمی سی فوگا =آلات تناسل زنانہ، عضلاتی نظام اور ریڑھ پر اثر
103۔سمبوکس نائیگرا=آلات تناسل
104۔سنیگا =اشیا کا سایہ اور آلات تنفس کی علامات
105۔سنا بیرس =سفلس اور سائکوسس کے لیے مفید
106۔سینی شیو =آلات تناسل زنانہ اور الات بول
107۔سورائنم =انٹی سورک
108۔سینی کولا =سفری امراض
109۔سینگو نیریا = بلغمی جھلیوں پر+ دائیں جانب
110۔سیپیا =آلات تناسل زنانہ
111۔فاسفوریکم ایسڈم =جسمانی اور زھینی کمزوری
112۔فاسفورس= بلغمی جھلیوں کی خراش اور سوزش،

17/06/2023

مہروں کادرد
ڈسک سلپ
مہروں میں گیپ
درد بظاہر کسی مرض کانام نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک رد عمل ہوتاہے جو ہمارے جسم میں ہونے والی کسی بھی غیر طبعی تبدیلی کا پتہ دیتا ہے۔درد انسانی بدن کے کسی بھی عضو میں کسی بھی وقت ظاہر ہوسکتا ہے لیکن مختلف اعضاء میں ہونے والے درد کا احساس مختلف ہوا کرتا ہے۔
انسانی جسم میں ہونے والے تمام دردوں میں سب سے زیادہ اذیت ناک کمر کا درد کہلاتا ہے کیونکہ یہ بڑے بڑے پہلوانوں کو جھکا کے رکھ دیتا ہے۔کمر درد ایک عام وقوع پزیر ہونے والا درد ہے جو کسی کو کہیں بھی تنگ کر سکتا ہے۔ یہ ایک شدید نوعیت کا درد ہے جو کمر کے عضلات اور اعصاب میں رو نما ہوتا ہے۔ جب کمر درد کا حملہ ہوتا ہے تو مریض کا جسم ناتواں اور کمزور ہو کے رہ جاتا ہے۔درد کی شدت حرکت کرنے،اٹھنے بیٹھنے اور دن کی نسبت رات کے وقت مزید بڑھ جاتی ہے۔
کمر درد کے اسباب:-
کمر درد کے طبی لحاظ سے کئی اسباب ہوا کرتے ہیں لیکن آج کل ایسے افراد جن کو زیادہ دیر حالت نشست میں رہنا پڑتا ہو یا زیادہ وقت کھڑے ہو کر کام کرنا پڑتا ہے وہ اس کی زد میں زیادہ آ تے ہیں۔مزاج میں گرمی یا سردی کا عنصر بڑھ جانے سے بھی کمر درد حملہ آور ہو جاتا ہے۔اسی طرح یورک ایسڈ کی طبعی مقدار کی زیادتی،قبض،مہروں میں خلا پیدا ہونا،ورمِ گردہ،گردے میں پتھری کا ہونا اور امراض مردانہ احتلام،جریان اور امراضِ نسواں لیکوریا،بندشِ حیض وغیرہ بھی کمر درد کا سبب ہو سکتے ہیں۔
بھاری وزن اٹھانے سے اچانک کمر میں جھٹکا لگنا یا کمر کے پٹھوں میں کھچاؤ پیدا ہونا بھی کمر درد کا ذریعہ بنتا ہے۔عام جسمانی کمزوری بھی کمر درد کا ایک بہت بڑا سبب بنتی ہے جبکہ جسمانی کمزوری کی وجہ ناقص،غیر معیاری اور ملاوٹ سے بھرپور غذائیں ثابت ہو رہی ہیں۔
مسلسل ناقص اور غیر معیاری خوراک استعمال کرنے سے بدن کی قوت مدافعت کمزور پڑ جاتی ہے جس سے اعصاب اور عضلات میں کچھاؤ اور دباؤکی کیفیات پیدا ہو کر جسمانی دردوں کا سبب بننے لگتی ہیں۔ علاوہ ازیں ریڑھ کی ہڈی کے مہروں میں خرابی واقع ہوجانے سے بھی شدید درد سامنے آتا ہے۔ بعض اوقات یہ درد کمر کے اعصاب سے شروع ہوکر دائیں بائیں ٹانگوں تک میں سرایت کرتا محسوس ہونے لگتا ہے۔طبی اصطلاح میں اسے فی زمانہ ’ڈسک سلپ‘ ہونے سے موسوم کیا جاتا ہے۔
’ڈسک سلپ‘ ہونے والے مفروضے کا اصل سبب چوتھے مہرے پر دباؤ آنا ہے۔ جب چوتھے مہرے پر سٹریس یا دباؤ پڑتا ہے تو اس کے رد عمل کے طور پر درد پوری کمر سے ہوتا ہوا ایک یا دونوں ٹانگوں میں محسوس ہونے لگتا ہے۔ اسی طرح جب کمر درد کا احساس دمچی کی ہڈی میں ہو اور اٹھتے بیٹھے یا حرکات و سکنات کرتے وقت درد شدید ہو تو عام طور پر اس کا سبب بارہویں مہرے کا ٹلنا یا اپنی جگہ سے ہٹ جانا مانا جاتا ہے۔
اس طرح کے درد کو دافع درد ادویات استعمال کرنے سے فور ی افاقہ تو ہوجاتا ہے لیکن جب تک مہرہ اپنی جگی ایڈجسٹ نہیں ہوپاتا دمچی کی ہڈی میں ہونے والا درد شدید سے شدید تر ہوتاچلاجاتا ہے۔ اگر اس کا بر وقت تدراک نہ کیا جا سکے تو حامل درد عمر بھر اس تکلیف میں مبتلا رہنے پہ مجبور ہوسکتا ہے۔
گھریلو تدابیر:-
یاد رکھیں!مرض اور درد پیدا ہونے کے سبب کو ختم کرنے پہ دھیان دیں،درد اور مرض خود بخود ہی چلا جائے گا۔اپنے مزاج کے بارے میں جاننے کے لیے کسی ماہر طبی معالج سے مشورہ کریں۔ درد کی شدت میں کمی کرنے اور فوری افاقہ کی غرض سے کمر پر میجک آئل کا ہلکا سا مساج کر کے باجرہ، چھان گندم اور نمک سانبھر ہم وزن ایک کپڑے میں ڈال کر توے پہ گرم کر کے کمر پہ ٹکور کریں،درد میں فوری افاقہ ہوگا۔
اگر درد جسم میں گرمی کی زیادتی سے ہو تو روغنِ کشنیز سے مالش کر یں اور کشنیز 10 گرام کے سفوف میں شکر سرخ ملا کر ایک چمچ نہار منہ کھائیں۔ جب درد کمر سردی کی زیادتی سے ہو تو میتھی5 گرام کو ابال کر چند بار پینے سے ہی افاقہ ہوجاتا ہے۔ انجیر 7 عدد،مغز اخروٹ 10 تولہ ملا کر کھانا بھی سرد درد کمر سے نجات دلاتا ہے۔
طبی تراکیب
کسی بھی مرض یا درد سے نجات کا بہترین طریقہ کسی ماہر معالج سے مل کر اپنی دوا،غذا اور روز مرہ معمولات ترتیب دینا ہے۔ تاہم عوام الناس کی سہولت اور فائدے کے تحت چند آسان گھریلو طبی تراکیب یہا ں دی جارہی ہیں تاکہ قارئین وقتی طور پر کمر درد کا ازالہ کر سکیں ۔
جب کمر درد یورک ایسڈ کی زیادتی کے باعث وقوع پزیر ہوتو معجونِ فلاسفہ،اطریفل صغیر اور معجونِ سورنجاں میں سے کوئی ایک نصف چمچ صبح و شام نہار منہ عرقِ بادیاں آدھے کپ کے ساتھ استعمال کریں۔اگر کمر درد قبض کی وجہ سے لاحق ہوا ہو تو گلقند 5 تولے نیم گرم دودھ میں ملا کر متواتر 3 روز استعمال کرنے سے ہی درد سے چھٹکارا میسر آ ئے گا۔اسی طرح درد کمر کے حملہ آور ہونے کی دیگر وجوہات کا بیان کردہ اصولِ علاج سے تدارک کر کے آپ اس موذی اور تکلیف دہ درد سے جان چھڑانے میں کام یاب ہو سکتے ہیں۔
عموی طور پر کمر کو مضبوط کرنے کے لیے کمر کس25گرام گوند کتیرا50گرام ، مغز بادام100 گرام،چنے سیاہ بھنے ہوئے 200 گرام اور شکر سرخ 250 گرام سفوف بنا کر کچھ عرصہ 20 گرام روز مرہ کا معمول بنا لیں۔ نیم بریاں انڈے پر آدھی چمچی سونٹھ ڈال کر استعمال کرنا بھی کمر درد سے محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ انشا اللہ نہ صرف یہ کہ کمر درد سے محفوظ رہیں گے بلکہ اعصاب کی کمزوری سے بھی بچے رہیں گے۔
پرہیز و غذا:-
گوشت، چاول، چکنائیاں، بیگن، کولا مشروبات، بیکری مصنوعات،فاسٹ فوڈز،دال مسور،دال ماش، مکئی،مٹر،لوبیا،ساگ بادی، ترش، ثقیل اور نفاخ غذاؤںسے مکمل طور پر دور رہیں۔ ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کے مسائل پیدا ہو جانے کی صورت میں ٹوٹکوں اور سنی سنائی طبی تراکیب پہ وقت ضائع کیے بغیر کسی ماہر معالج سے رجوع کریں۔وقتی طور پر درد دور کرنے والی ادویات کے غیر ضروری استعمال سے مقدور بھر بچنے کی کوشش کریںکیونکہ پین کلرز وقتی افاقہ تو دیتی ہیں لیکن امراض معدہ سمیت مبینہ طور پرگردے اور جگر ناکارہ کرنے کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔
اس کے علاؤہ اگر بنا سکیں تو حب سورنجان اور حب سلاطین 15دن دیں ان کے نسخے میں پہلے بھی شئیر کر چکا ہوں دوبارہ لکھ دیتا ہوں۔اس کے بعد سفوف حربہ 21 دن دیں
مہروں کے تمام مسائل اور کمر درد سے مکمل نجات مل جائے گی ان شاء اللہ
حب سورنجان:-
سورنجاں تلخ 1 تولہ
سورنجاں شیریں 2 تولہ
عقرقرعا 1 تولہ
ازراقی مدبر 1 تولہ
زنجبیل ڈیڑھ تولہ
اسگند ناگوری 2 تولہ
سنامکی 1 تولہ
تمام ادویہ کو کھرل کرکے سفوف بنا لیں پھر گودہ گھیکوار میں حب کنار دشتی بنائیں
ایک گولی صبح و شام دودھ یا چائے سے لیں
عرق النساء۔وجع المفاصل۔نقرس کےلیے بہترین دوائی ہے
حب سلاطین:
جمال گوٹہ مدبر 1 ماشہ
رائی 4 تولہ
ازراقی مدبر 6 تولہ
زعفران 6 ماشہ
سب اشیاء کا الگ الگ سفوف بنا لیں ۔زعفران کے علاوہ باقی تمام کو اشیاء کو
آب گھیکوار میں کھرل کریں ۔پھر زعفران ملا کر فلفل سیاہ برابر گولیاں بنا لیں
2سے3 ٹائم دن میں کھانے کے بعد
گھنٹیا ۔جوڑوں کادرد ۔اعصابی کمزوری۔قبض ۔قوت باہ کےلیے آزمودہ ہے
سفوف حدبہ:-
اسگند ناگوری 20 گرام۔مغزبنولہ 80 گرام۔کوزہ مصری 100 گرام۔ ایک چمچ دودھ نیم گرم میں ملا کر صبح و شام پئیں
والسلام
الفقیر حکیم محمد خالد جلوی تونسوی مطب الفقیر جلووالی

11/01/2023
24/12/2022

درزی کا چھوٹا بیٹا دوکان میں داخل ہوا اور بولا ۔۔۔۔بابا یہ دیکھیں میرا رزلٹ آگیا میں اپنی کلاس میں فرسٹ آیا ہوں۔۔۔۔۔۔۔
مبارک ہو بیٹا یہ تو بہت اچھی بات ہے۔۔۔ درزی نے خوش ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔اوراپنے کام میں مصروف ہو گیا ۔
مگر بابا آپ نے وعدہ کیا تھا کہ اگر میں فرسٹ آؤنگا تو آپ مجھے زندگی گزارنے کا ایک بہترین سبق سکھائیں گے۔۔۔
جی بیٹا مجھے یاد ہے ذرا کام سے فارغ ہو جاؤں پھر آپ کو سکھاتا ہوں۔۔۔
بوڑھے درزی نے قینچی سے ایک بڑے کپڑے کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے ....اس کے بعد قینچی کو زمین پر جوتوں میں پھینک دیا ۔ پھر سوئی میں دھاگہ ڈالا اور ان ٹکڑوں کو جوڑ کر ایک خوبصورت قمیض میں بدل ڈالا ۔۔۔۔
سوئی کو سر پر بندھے عمامے میں لگا دیا اور بچ جانے والے دھاگے کو جیب میں ڈال دیا ۔۔۔۔۔۔بیٹا حیرانی سے یہ سب دیکھ رہا تھا
اور بالآخر بول اٹھا ۔۔۔۔
بابا آپ نے قینچی کو جوتوں میں کیوں پھینک دیا ۔۔۔ اور سوئی کو سر کے عمامے میں ٹکا دیا جبکہ دھاگے کو جیب میں رکھ لیا ایسا کیوں ۔۔۔۔۔؟؟؟
بوڑھے درزی نے بیٹے کی بات سنی اور مسکرا کر بولا ۔۔۔۔بیٹا
بیٹا۔۔۔۔ وہ بڑا کپڑا ایک خاندان کی طرح تھا ، جس کو قینچی نے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر دیا ، تو قینچی اس شخص کی مثال ہے جو آپس میں مضبوط رشتوں میں دراڑیں ڈال کر الگ کرنے پر مجبور کر دیتا ہے اور سوئی کی مثال اس شخص کی ہے جو ان رشتوں کو دوبارہ ایک دوسرے کے ساتھ جوڑتا ہے اور دھاگه اس کی مثال ایک مددگار کی طرح ہے جب تک یہ سوئی میں نہ ہوگا یہ سی نہ سکے گی۔۔۔
لہٰذا خاندان کو توڑنے والی کی جگہ زمین پر رکھے جوتوں میں ہوتی ہے اور سوئی جو ان سب ٹکڑوں کو جوڑنے میں استعمال ہوئی اسکی جگہ سر میں پہنے عمامے میں ہوتی ہے اور جو لوگ مدد گار ثابت ہوتے ہیں وہ ہمیشہ سینے کے ساتھ رکھے جاتے ہیں ۔۔۔۔
یا اللہ ہم سب کو اور ہماری فیملی کے ہر فرد کو ہر فساد اور ہر فسادی اور اسکے فتنے سے محفوظ رکھ آسانی عافیت کے ساتھ آمین

05/11/2022

ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮯ ﺟﺐ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﮯ ﺣﻘﮯ ﭘﺮ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﻟﮕﺎﺋﯽ
ﺗﻮ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﺣﻘﮧ ﮔﻮﺩﺍﻡ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﻮﺍ ﺩﯾﺎ۔
ﯾﻮﮞ ڈیرے ﮐﯽ ﺑﮍﯼ ﺍﭨﺮﯾﮑﺸﻦ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔
انہی ﺩﻧﻮﮞ ’’ﺍﯾﮑﺲ ﭼﯿﻨﺞ‘‘ ﮐﯽ ’’ﺍﭖ ﮔﺮﯾﮉﯾﺸﻦ‘‘ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻓﻮﻥ ﺑﮭﯽ ﻋﺎﺭﺿﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﭧ ﮔﯿﺎ۔
ﯾﻮﮞ ڈیرے ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺍﭨﺮﯾﮑﺸﻦ ﺑﮭﯽ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔

ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺟﻮ ﺭﻭﺯ ﺻﺒﺢ ﺳﻮﯾﺮﮮ ہمارے ڈیرے ﭘﺮ ﺍٓ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ڈیرے ﭘﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔
ﮨﻢ ﺟﻦ ﮐﻮ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﺩﻭﺳﺖ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ، ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭼﺎﭼﺎ ﺟﯽ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﮭﮯ، ﺟﻮ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺍٓﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ حاجی ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺎ ﻧﻌﺮﮦ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻔﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ، ﻭﮦ ﺳﺐ ﺑﮭﯽ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔ ﮨﻢ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺷﮑﻠﯿﮟ ﺗﮏ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﮯ۔
ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﭘﺮﺍﺋﻤﺮﯼ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﭽﮯ ﺫﮨﻦ ﮐﮯ لئے ﯾﮧ صورتحال ﮨﻀﻢ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﺗﮭﺎ۔

ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ؛ ’’ﺍﺑﺎ ﺟﯽ! ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﮩﺎﮞ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ؟‘‘
ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﻣﯿﺮﯼ ﺍٓﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍبھیگی ہوئی تھیں۔
ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﺭﻭﻣﺎﻝ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺍٓﻧﮑﮭﯿﮟ ﺻﺎﻑ ﮐﯿﮟ، ﺳﺮ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮭﯿﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮮ ﭘﯿﺎﺭ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ؛

’’ﺑﯿﭩﺎ! ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮯ،
ﯾﮧ ﺣﻘﮯ ﺍﻭﺭ ﭨﯿﻠﯽ ﻓﻮﻥ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﺗﮭﮯ۔ ﺣﻘﮧ ﺑﻨﺪ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ، ﭨﯿﻠﯽ ﻓﻮﻥ ﮐﭧ ﮔﯿﺎ، ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﮐﭧ ﮔﺌﮯ۔
ﺟﺲ ﺩﻥ ﭨﯿﻠﯽ ﻓﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺣﻘﮧ ﻭﺍﭘﺲ ﺍٓ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ، ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺩﻥ ﻭﺍﭘﺲ ﺍٓ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔‘‘

ﻣﯿﺮﮮ ﮐﭽﮯ ﺫﮨﻦ ﻧﮯ ﯾﮧ ﻓﻠﺴﻔﮧ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ
ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﯽ ﮔﻮﻣﮕﻮ ﭘﮍﮪ ﻟﯽ۔ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﮯ ﺑﯿﭩﺎ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﻮ

ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺟﺐ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﻌﻤﺖ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻧﻌﻤﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﺌﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍٓﺗﯽ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻢ ﻧﻌﻤﺖ ﮐﮯ ﺍﻥ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﺳﻤﺠﮫ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
یہی ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺑﮯ ﻭﻗﻮﻓﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﯾﮧ ﻧﻌﻤﺖ ﺟﺲ ﺩﻥ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﻭﺳﺖ ﺑﮭﯽ ﺭﺧﺼﺖ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
۔ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ؛
’’ﺑﯿﭩﺎ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﺍﺻﻞ ﮐﻤﺎﻝ ﯾﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ کے ﺍٓﭖ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ۔
ﺍٓﭖ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮧ ﺑﻨﻨﮯ ﺩﻭ۔
ﺗﻢ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﮯ۔‘‘
’’ﺑﯿﭩﺎ! ﺍٓﭖ ﮐﺎﺭ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺎﺭ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﺳﻤﺠﮭﻮ،
ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﺳﻤﺠﮭﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﮩﺪﮮ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﻋﮩﺪﮮ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﺳﻤﺠﮭﻮ ۔۔۔
ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﺗﮏ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﺩﻭ۔
ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺩﻝ ﮐﺒﮭﯽ ﺯﺧﻤﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ ﺗﻢ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﻭﺅ ﮔﮯ۔
منقول

17/10/2022

مرشــد نے مُــریدوں پہ نظر ڈالی اور اپنا انار کھاتے کھاتے ایک ہونہار مرید کی طرف بڑھا دیا۔ مــرید نے انار ادب سے پکڑا مگر وہ چاہتا تھا کہ مرشد انار سے مستفید ہوں کیونکہ وہ بہت کم ہی کوئی چیز رغبت سے کھاتے تھے، اس نے دوبارہ وہ انار اپنے مرشد کی طرف بڑھایا اور کہا :
” حضرت آپ انار ہی تو شوق سے کھاتے ہیں، آپ ہی تناول فرمائیے، ہم تو روز کچھ نہ کچھ کھاتے ہی رہتے ہیں … ”
مرشـــــــد نے وہ انار اس مرید سے لے کر دوسرے مرید کی طرف بڑھا دیا جو بڑی حسرت اور رشک کے ساتھ اس انار کی جانب دیکھ رہا تھا، انار پکڑاتے ہوئے مرشد نے بڑی دھیمی آواز میں کہا :
ہرشخص کامقدراسےمل کررہتاھے
انار کھاتے کھاتے اس میں سے ایک دانا نیچے گرا، اللہ کے رزق کی بےادبی سمجھ کر پہلے مرید نے اس دانے کو نیچے سے اٹھایا اور کھا لیا، دانے کا اندر جانا تھا کہ اس مرید کے چودہ طبق روشن ہو گئے، زمین اور آسمان کے حقائق کی گتھیاں کھلناشروع ہو گئیں، اس نے گھبرا کر سارا انار کھا جانے والے ساتھی کی طرف دیکھا اور سوچا :
” ایک دانے نے میرا یہ حشر کر دیا ھے، جس نے سارا انار کھا لیا ھے اس کا کیا حال ہوا ہو گا …؟”
مرشد جو یہ ساری صورتحال دیکھ رہا تھا، بولا :
” بیٹا! جو کچھ تھا اسی دانے میں تھا جو تو نے کھا لیا، باقی انار بس انار ھی تھا! ”
اس نے گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا :
” دیکھو! اگر وہ اس دانے کو حقیر نہ جانتا اور اسے اللہ کی نعمت سمجھ کر تیری طرح لپک لیتا تو اپنی مراد کو پا لیتا، انسانوں کی اپنی اپنی قسمیں ہوتی ہیں، جس طرح فصلوں کی اپنی قسمیں ہوتی ہیں، کسی کو زیادہ پانی درکار ہوتا ہے، جب کہ وہی پانی دوسری فصل کے لئے نقصان دہ ہوتا ھے، کسی کے دل و دماغ کی گتھی سلجھانے کو ایک جملہ بھی کافی ہوتا ھے جبکہ دوسرے کے لئے ایک گھنٹے کا خطاب بھی بےکار و بےاثر ہوتا ھے، کسی کے لئے زمین پر کھڑے اونٹ پر ایک نظر ڈالنا ہی اسے رب سے ملا دیتا ھے اور کوئی شٹل میں خلا ؤں میں گھوم پھر کے آ جاتا ھے، مگر جیسا خالی جاتا ھے ویسا ہی خالی آ جاتا ھے، کسی بات کو ،کسی چیز کو حقیر مت جانو، ہو سکتا ھے جسے توں معمولی سمجھ کے حقیر سمجھ کےاس کیطرف دیکھنا گوارا نہیں کرتاوہی تیر ے لئےکامیا بی کی سیڑھی ہو وہی تیری ہدایت کا سامان ہو-- یاد رکھو بڑے سے بڑے تالے کی چابی چھوٹی ہی ہوتی ھے
، اس کے حجم کو مت دیکھو کام پر نظر رکھو
اور یہ دانہ کھانے والے کون تھے "
حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہایک دن پروفیسر صاحب  سے جوتا پالش کرنے والے بچے نے جوتا پالش کرتے کرتے پوچھا  ’’ماسٹر صاح...
02/10/2022

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

ایک دن پروفیسر صاحب سے جوتا پالش کرنے والے بچے نے جوتا پالش کرتے کرتے پوچھا
’’ماسٹر صاحب! کیا میں بھی بڑا آدمی بن سکتا ہوں‘‘
پروفیسر نے قہقہہ لگا کر جواب دیا
’’دنیا کا ہر شخص بڑا آدمی بن سکتا ہے‘‘
بچے کا اگلا سوال تھا

’’کیسے؟‘‘

پروفیسر نے اپنے بیگ سے چاک نکالا‘اوراسکےکھوکھے کی دیوار پر
دائیں سے بائیں تین لکیریں لگائیں‘
پہلی لکیر پر محنت‘ محنت اور محنت لکھا‘
دوسری لکیر پر ایمانداری‘ ایمانداری اور ایمانداری لکھا
اور تیسری لکیر پر صرف ایک لفظ ہنر )Skill( لکھا۔

بچہ پروفیسر کو چپ چاپ دیکھتا رہا‘ پروفیسر یہ لکھنے کے بعد بچے کی طرف مڑا اور بولا:

ترقی کے تین زینے ہوتے ہیں‘
پہلا زینہ محنت ہے.
آپ جو بھی ہیں‘ آپ اگر صبح‘ دوپہر اور شام تین اوقات میں محنت کر سکتے ہیں تو آپ تیس فیصد کامیاب ہو جائیں گے.
آپ کوئی سا بھی کام شروع کر دیں، آپ کی دکان‘ فیکٹری‘ دفتر یا کھوکھا صبح سب سے پہلے کھلنا چاہئے اور رات کو آخر میں بند ہونا چاہئے‘
آپ کامیاب ہو جائیں گے‘‘۔
پروفیسر نے کہا ’’ہمارے اردگرد موجود نوے فیصد لوگ سست ہیں‘ یہ محنت نہیں کرتے‘ آپ جوں ہی محنت کرتے ہیں آپ نوے فیصد سست لوگوں کی فہرست سے نکل کر دس فیصد محنتی لوگوں میں آ جاتے ہیں‘ آپ ترقی کیلئے اہل لوگوں میں شمار ہونے لگتے ہیں".

اگلا مرحلہ ایمانداری ہوتی ہے.
ایمانداری چار عادتوں کا پیکج ہے.
وعدے کی پابندی‘ جھوٹ سے نفرت‘ زبان پر قائم رہنا اور اپنی غلطی کا اعتراف کرنا۔
آپ محنت کے بعد ایمانداری کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لو‘ وعدہ کرو تو پورا کرو‘ جھوٹ کسی قیمت پر نہ بولو‘
زبان سے اگر ایک بار بات نکل جائے تو آپ اس پر ہمیشہ قائم رہو اور ہمیشہ اپنی غلطی‘ کوتاہی اور خامی کا آگے بڑھ کر اعتراف کرو‘
تم ایماندار ہو جاؤ گے۔
کاروبار میں اس ایمانداری کی شرح 50 فیصد ہوتی ہے.

آپ پہلا تیس فیصد محنت سے حاصل کرتے ہیں. آپ کو دوسرا پچاس فیصد ایمانداری دیتی ہے.

اور پیچھے رہ گیا 20 فیصد تو یہ 20 فیصد ہنر ہوتا ہے.

آپ کا پروفیشنل ازم‘ آپ کی سکل اور آپ کا ہنر آپ کو باقی 20 فیصد بھی دے دے گا.
"آپ سو فیصد کامیاب ہو جاؤ گے‘‘.
پروفیسر نے بچے کو بتایا۔

’’لیکن یہ یاد رکھو ہنر‘ پروفیشنل ازم اور سکل کی شرح صرف 20 فیصد ہے اور یہ 20 فیصد بھی آخر میں آتا ہے‘ آپ کے پاس اگر ہنر کی کمی ہے تو بھی آپ محنت اور ایمانداری سے 80 فیصد کامیاب ہو سکتے ہیں.
لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ بے ایمان اور سست ہوں اور آپ صرف ہنر کے زور پر کامیاب ہو جائیں۔
آپ کو محنت ہی سے سٹارٹ لینا ہو گا‘
ایمانداری کو اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنانا ہو گا'

24/08/2022

#سورۃـالکہف
میں نے دو سال لگائے سورہ کہف کو سمجھنے میں اور ۱۲۰ تفاسیر کا مطالعہ کیا جن میں اردو اور عربی کی تفاسیر کا مطالعہ کیا اس کے علاوہ ایک فارسی تفسیر بھی تھی۔
ہم اس سورۃ کو صرف غار والوں کا واقعہ سمجھتے ہیں مگر اصل مدعا جو ہے اس کی طرف کسی کی نظر ہی نہیں گئی۔
تو اس سورۃ کامقصود/ لب لباب یا سینٹرل آئیڈیا کہہ لیں یہ ہے کہ اللہ اس دنیا میں لوگوں کو آٹھ طرح کے حالات سے آزماتے ہیں، عزت، ذلت، صحت، بیماری، نفع، نقصان، خوشی ، غمی۔
ہر بندہ ہر وقت ان میں سے کسی ایک حال میں ہوتا ہے۔ ان آٹھ کو اگر تقسیم کریں تو دو دو حالات میں تقسیم ہو ں گے۔ تو یا تو اچھے حالات ہوں گے یا برے۔ یعنی یا تو بندہ عزت میں ہوگا یا ذلت میں۔ یا صحت ہو گی یا بیماری۔ تو اللہ دو حالات میں آزماتے ہیں یا تو اچھے یا برے۔ کہ یہ بندہ اچھے حالات میں شکر کرتا ہے یا نہیں اور برے حالات میں صبر کرتا ہے یا نہیں۔
تو دو پیپر بنے ایک شکر کا پیپر اور دوسرا صبرکا پیپر۔ اب اگر بندے نے اچھے حالات میں شکر کیا تو اس نے پیپر کو پاس کیا اور اگر ناشکری کی تو اس پیپر کو فیل کیا ۔ اور اگر صبر کے پیپر میں صبر کیا تو پاس ہوا اور بے صبری کی تو فیل ہوگیا۔
یہ زندگی دار الامتحان ہے جہاں ہم نے دو پیپر دینے ہیں ایک صبر کا دوسراشکر کا۔
اللہ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان کو بھی ان دو پیپرز میں آزمایا۔ پہلا شکر کا تھا جو کہ جنت کی نعمتیں تھیں، دوسرا درخت کا پھل تھا جو کھانے سے منع کیا گیا تھا تو یہ صبر کا پیپر تھا جس میں شیطان نے ان کو کامیاب نہ ہونے دیا۔
سورہ کہف میں پانچ واقعات ہیں۔
*حضرت آدم علیہ اسلام کاواقعہ۔
یہ قلب ہے اس سورت کا۔ آیتیں تھوڑی ہیں اس لیے پڑھنے والوں کی توجہ ہی نہیں جاتی۔
آدم علیہ السلام کے واقعہ سے پہلے دو واقعات عام الناس کے ہیں جن میں سے ایک اصحاب کہف تھے یہ عام نوجوان تھے اور انہوں نے صبر کا امتحان دیا اور اس پیپر میں پاس ہو کر مقبول بندوں میں شامل ہو گئے، دوسرا واقعہ دو باغوں والے شخص کا تھا یہ بھی عام شخص تھا جس کو مال و دولت دی گئی تھی اس کا پیپر شکر کا تھا کہ تم نے نعمتوں پر شکر کرنا ہے تو یہ فیل ہو گیا۔ اس کے بعد آدم علیہ السلام کا واقعہ اور پھر دو واقعات ہیں خواص کے۔ ایک موسٰی علیہ السلام کا کہ ان سے بھی صبر کا پیپر لیا گیا اور سکندر ذوالقرنین کا شکر کا پیپر تھا اور انہوں نے غرور و تکبر نہیں کیا اور شکر کا پیپر پاس کیا۔ اسی طرح اللہ اولاد آدم سے بھی صبر اور شکر کےپیپر لیتے ہیں۔
کچھ نکات
※ اللہ نے اس سورۃ کی شروعات میں اپنی الوہیت کا ذکر کیا اور ختم اپنی ربویت کے تذکرے پر کیا۔
※ شروع سورۃ میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عبدیت کا تذکرہ کیا اور اختتام ان کی بشریت پر کیا۔
※ انسان کے لیئے دنیا میں سب سے بڑی بلندی عبدیت ہے۔ اسی لیئے انسان ذکر کرتا ہے تاکہ اللہ کی محبت اس کے دل میں آ جائے۔ اب صرف محبت کا آ جانا مقصود نہیں ہے ، جب محبت آ جائے تو پھر محب ہمیشہ محبوب کو راضی کرنے کی فکر میں رہتا ہے۔ اور رضا کیا ہے اللہ کی تقدیر پر راضی رہنا، اگر اللہ اچھے حالات بھیجے تو شکر کرنا اور برے حالات میں صبر کرنا۔
جب بندے کو یہ مقامِ رضا حاصل ہو جائے تو پھر اس کو مقام عبدیت حاصل ہو جاتا ہے۔
※ عبد کا لفظ اللہ نے اپنے حبیب کے لیئے استعمال کیا۔
مفسرین کی نظر میں عبد وہ ہوتا ہے جس کو اپنے آقا کے سوا کچھ نظر نہ آئے۔ بعض کے نزدیک عبد وہ ہوتا ہے جو اپنے آقا سے کسی بات میں اختلاف نہیں کرتا ، ہر حال میں راضی رہتا ہے، شکوہ نہیں کرتا۔
※ چونکہ اس سورہ کو دجال سے حفاظت کے لیے پڑھنے کا ذکر احادیث میں آتا ہے۔ اس لیےکہ یہ ہمیں اس سے بچاتی ہے۔
※ پہلے دجال کے معنی کو سمجھیں کہ یہ دجل سے نکلا ہے دجل فریب کو کہتے ہیں اور ملمع سازی کرنے کو کہتے ہیں جس طرح تانبے پر سونے کا پانی چڑھا دیا جائے تو وہ اوپر سے کچھ ہو گا اور اندر سے کچھ ،اسی طرح دجال بھی اندر سے کچھ اور ہوگا اور باہر سے کچھ اور۔
آج کے دور میں اسی طرح دجالی تہذیب ہے کہ اوپر سے تو خوش نما نظر آتی ہے مگر اندر سے کچھ اور ہے۔ آج کے دور میں ایمان اور مادیت کی ایک جنگ چل رہی ہے۔ اب اس دور میں اگر اپنا ایمان بچانا ہے تو ہمیں بھی کہف میں گھسنا ہونا ہوگا۔ جی ہاں کہف میں!
※ آج کے زمانے میں جو کہف ہیں۔ اگر انسان ان میں داخل ہو جائے تو وہ دجال کے فتنے سے بچ سکتا ہے۔
قرآن مجید
جو قرآن کے ساتھ نتھی ہو جاتا ہے اس کو پڑھنا ،سیکھنا ،سمجھنا شروع کر دیتا ہے تو وہ بھی اپنا دین بچا لیتا ہے اور قرآن اس کے لئیے کہف بن جاتا ہے۔
مکہ اور مدینہ
احادیث کے مطابق جو بھی ان میں داخل ہو جائے وہ بھی دجال سے محفوظ رہے گا۔
جن میں داخل ہونے سے انسان اپنے ایمان کو بچا لیتا ہے اور دجال سے محفوظ ہو جاتا ہے۔
اس سورت کا ہر واقعہ ہمیں ایک سبق سکھاتا ہے کہ کس طرح ہم نے خود کو دجال سے بچانا ہے۔
※ اصحاب کہف کے قصے سے یہ سبق ملا کہ ہم کو اپنے ایمان کی حفاظت کے لئیے کسی نہ کسی کہف میں پناہ لینی ہے تاکہ ہم اپنا ایمان بچا لیں اور دجال سے محفوظ رہیں۔
※ صاحب جنتین کے قصے سے یہ سبق ملا
کہ اللہ نے جو مال دیا اس کو اپنی طرف منسوب نہ کرے جیسا کہ اس باغ والے نے کیا اور پکڑ میں آ گیا اور اس نعمت سے محروم کر دیا گیا۔
※ حضرت آدم علیہ السلام کے واقعے سے یہ سبق ملا کہ یہ دنیا ہمارے لیئےدار اقامت ہے ہمارا اصلی وطن جنت ہے دنیا میں رہ کر دنیا کو اپنا اصلی وطن سمجھ لینا اور ساری محنتیں اور ساری امیدیں دنیا پر لگا دینا بےوقوفی کی بات ہے۔ شیطان بدبخت نے ہمیں چھوٹی قسمیں کھا کھا کر اصلی وطن سے نکالا تھا اب یہاں بھی یہ ہمارا دشمن ہے اور ہم سے گناہ کرواتا ہے تاکہ دوبارہ جنت میں جانے کے قابل نہ رہیں۔ اللہ شر سے بچائے اور ہمارے اصلی گھر جنت میں پہنچا دے۔ آمین
※ موسٰی علیہ السلام کے واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہم دنیا میں جتنا بھی علم حاصل کر لیں ،دنیا میں کوئی نا کوئی ہم سے بھی بڑھ کر جاننے والا ہوگا۔
انسان کبھی بھی اشیاء کی حقیقت کا احاطہ نہیں کر سکتا۔
جب ہم یہ سمجھیں گے کہ ہم سب کچھ جانتے ہیں تو پھر ہم دجال فتنے میں پھنس جائیں گے اس لیے اللہ نے موسی علیہ السلام کا واقعہ بیان کر دیا تاکہ ہم لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ہمیں سب پتا ہے بلکہ یہ کہیں کہ اللہ ہی حقیقت حال کو جانتے ہیں۔
علم اوربھی اس سے کہیں زیادہ ہے جو ہمارے پاس نہیں ہے، اسی لیئے سورہ کہف انسان کو دجال کے فتنے سے محفوظ رکھتی ہے اور اس کی ذہن سازی کرتی ہے اور ایسا ذہن بناتی ہے کہ بندہ کا ذہن محفوظ ہو جاتا ہے۔
※ حضرت ذوالقرنین کے واقعے سےسبق ملا
حضرت ذوالقرنین جہاں گئے وہ ان کے کوئی دوست رشتے دار نہیں تھے یا کوئی جاننے والے نہیں تھے کیوں کہ وہ تو ان کی زبان تک نہیں جانتے تھے لیکن پھر بھی انہوں نے ان لوگوں کی مدد کی کیوں کہ وہ اللہ کی رضا کے لیئے اللہ کے بندوں کے بندوں کو نفع پہنچاتے تھے۔ ان سے کوئی پیسہ وغیرہ نہیں مانگتے تھے بلکہ جب انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو اس کے لیئے پیسے دیں گے تو انہوں نے انکار کر دیا۔ دوسرا یہ کہ وہ اللہ کی زمین پراللہ کا قانون نافذ کرتے تھے۔ جب ان کو اختیار دیا گیا کہ آپ اس قوم کے ساتھ جو سلوک چاہیں کریں مطلب چاہیں تو سزا دیں یا اچھا سلوک کریں تو انہوں نے اس قوم کو اللہ کی طرف بلایا تھا اور اپنے اختیار/ طاقت کو اللہ کے قانون کے نفاذ میں استعمال کیا۔
※ سورہ کہف میں پہلے پانچ واقعات بیان کر کے بندے کے ذہن سازی کی گئی اور اب آخری آیات میں اس ساری سورت کا نچوڑ بیان کی جا رہا ہے جو کہ تین باتیں ہیں :۔
1-جو لوگ دنیا ہی کو بنانے میں لگے رہتے ہیں درحقیقت وہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں۔ ہر وقت دنیاiifeoj اور اس کی لذات کو پانے کی فکر میں رہنا ہے دجالی فتنہ ہےلہذا فقط دنیا ہی کی فکر میں نا رہیں بلکہ آخرت کی بھی سوچیں۔
2-اس کے بعد اللہ نے اپنی صفات کو بیان فرمایا کہ اگر تم اہنے رب کی تعریفوں کو بیان کرو اور سمندر سیاہی بن جائیں اور دوسرا سمندر بھی اس میں ڈال دیا جائے تو تم پھر بھی اپنے رب کی تعریف بیان نہ کرسکو گے۔
3- آخر میں بتایا کہ جو اپنے رب کا دیدار کرنا چاہے، جو کہ سب سے بڑی اور سب سے بڑھ کر نعمت ہے، اس کا کیا طریقہ بتایا کہ وہ شخص دو کام کرے ایک نیک عمل اور دوسرا اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے اور جو ایسا کرے گا اللہ اس کو اپنا دیدار عطا کریں گے۔
اللہ ہمیں بھی اپنا دیدار عطا فرمائے۔ آمین m
سر طور ہو سر حشر ہو ہمیں انتظار قبول ہے،
وہ کبھی ملیں، کہیں ملیں، وہ کبھی سہی وہ کہیں سہی۔

منقول

السلام علیکم۔ایزوسپرمیا ( منی میں اولاد کے جراثیم کا بالکل نہ ہونا) کی کامیاب دوا جس کے استعمال سےدوماہ میں بفضل اللہ کر...
12/08/2022

السلام علیکم۔ایزوسپرمیا ( منی میں اولاد کے جراثیم کا بالکل نہ ہونا) کی کامیاب دوا جس کے استعمال سےدوماہ میں بفضل اللہ کریم سپرمز آجاتے ہیں۔ MBBS ڈاکٹرز۔حکماء اور ہومیو ڈاکٹرز اپنی پریکٹس کو کامیاب بنائیں۔
ایک ماہ کا کورس صرف پانچ ہزار روپے۔پیج کے پہلے تیس ممبران کے لئے۔
اکاونٹ جیز کیش اور ایزی پیسہ 03018797942

18/07/2022

♥ حضرت ڈاکٹر عبد الحئی عارفی رحمتہ اللہ علیہ پیشہ کے اعتبار سے ہومیوپیتھک معالج تھے اور مطب (کلینک) کرتے تھے۔
جید سکالرز ان سے بیعت ہوئے، جیسے مفتی محمد تقی عثمانی صاحب اور مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب وغیرہ، ڈاکٹر صاحب سے بیعت ہوئے۔

مشہور کتاب اسوۂ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ڈاکٹر صاحب ہی کی لکھی ہوئی ہے۔

ایک دفعہ حاضرینِ مجلس سے فرمانے لگے؛
آپ کہاں لمبے لمبے مراقبے اور وظائف کرو گے۔ میں تمہیں اللہ کے قرب کا مختصر راستہ بتائے دیتا ہوں۔ کچھ دن کر لو پھر دیکھو کیا ہوتا ہے، قرب کی منزلیں کیسے طے ہوتی ہیں:

1 ____ اللہ پاک سے چُپکے چُپکے باتیں کرنے کی عادت ڈالو۔ وہ اس طرح کہ جب بھی کوئی جائز کام کرنے لگو دل میں یہ کہا کرو؛

اللہ جی۔۔

(ا) اس کام میں میری مدد فرمائیں۔۔
(ب) میرے لئے آسان فرما دیں۔۔
(ج) عافیت کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔۔
(د) اپنی بارگاہ میں قبول فرما لیں۔۔
یہ چار مختصر جملے ہیں، مگر دن میں سینکڑوں دفعہ اللہ کی طرف رجوع ہو جائیگا اور یہ ہی مومن کا مطلوب ہے کہ اسکا تعلق ہر وقت اللہ سے قائم رہے۔

2 ____ انسان کو روز مرہ زندگی میں چار حالتوں سے واسطہ پڑتا ہے۔۔
(ا)۔ طبیعت کے مطابق۔
(ب)۔ طبیعت کے خلاف۔
(ج)۔ ماضی کی غلطیاں اور نقصان کی یاد۔
(د)۔ مستقبل کے خطرات اور اندیشے۔

جو معاملہ طبیعت کے مطابق ہو جائے اس پر ​اللهم لَكَ الحَمدُ ولَكَ الشُّكر​ کہنے کی عادت ڈالو۔
جو معاملہ طبیعت کے خلاف ہو جائے تو ​انا لله وانا اليه راجعون​ کہو۔
ماضی کی لغزش یاد آجائے تو فورا ​استغفراللہ​ کہو۔
مستقبل کے خطرات سامنے ہوں تو کہو
​اللهم اِنّى أعوذ بكَ مِن جَمِيعِ الفِتَنِ ما ظَهَرَ مِنها وما بَطَن​۔

شکر سے موجودہ نعمت محفوظ ہو گئی۔
نقصان پر صبر سے اجر محفوظ ہو گیا اور اللہ کی معیت نصیب ہو گی۔۔
استغفار سے ماضی صاف ہو گیا۔۔
اور اللهم انى أعوذ بك سے مستقبل کی حفاظت ہوگئی۔۔

3 ____ شریعت کے فرائض و واجبات کا علم حاصل کر کے وہ ادا کرتے رہو اور گناہِ کبیرہ سے بچتے رہو۔

4 ____ تھوڑی دیر کوئی بھی مسنون ذکر کر کے اللہ پاک سے یہ درخواست کر لیا کرو؛
اللہ جی۔۔۔ میں آپ کا بننا چاھتا ہوں، مجھے اپنا بنا لیں، اپنی محبت اور معرفت عطا فرما دیں۔

​چند دن یہ نسخہ استعمال کرو پھر دیکھو کیا سے کیا ہوتا ہے اور قرب کی منزلیں کیسے تیزی سے طے ہوتی ہیں۔۔!!

امتحانات کب ختم ہوں گے۔میں تو تھک گیا ہوں۔ پڑھ پڑھ کے
18/06/2022

امتحانات کب ختم ہوں گے۔میں تو تھک گیا ہوں۔ پڑھ پڑھ کے

09/06/2022

*جاوید چوہدری کا کالم*(ضرور پڑھیں)
*جیک رسل*

*”دنیا پاکستان کو خطرناک سمجھتی ہے‘ آپ جب تک یہ حقیقت نہیں مانیں گے آپ پھنستے چلے جائیں گے*
“ فضا میں سگار کی بھینی بھینی خوشبو پھیل رہی تھی‘ وہ ناک اور منہ دونوں سے دھواں اگل رہے تھے‘ مجھے تمباکو کی بو سے الرجی ہے‘ میرا سانس گھٹنا شروع ہو جاتا ہے لیکن میں ان کی گفتگو کی وجہ سے تمباکو اور تمباکو کی بو دونوں برداشت کر رہا تھا‘
*وہ فنانشل ایکسپرٹ تھے‘ والد انڈین تھا اور والدہ امریکن‘ورجینیا میں پیدا ہوئے‘ٹیرر فنانسنگ میں پی ایچ ڈی کی اور عالمی مالیاتی اداروں کے ایڈوائزر بن گئے۔*

مذہبا ً مسلمان تھے‘ میری ان سے ایک دوست کے ذریعے ملاقات ہوئی‘ وہ ملٹی نیشنل کمپنی کی دعوت پر پاکستان آئے تھے‘ میرے دوست نے انہیں اور مجھےکھانے پر بلا لیا‘ ہم ریستوران میں ملے‘ ڈنر کیا اور وہ ٹیرس پر بیٹھ کر سگار پینے لگے اور میں ان کے تجربے سے لطف اندوز ہونے لگا‘ ان کا کہنا تھا
”دنیا پاکستان کو خطرناک سمجھتی ہے‘
*آپ لوگ لانگ رینج میزائل بھی بنا ر ہے ہیں‘*
*"آپ ایٹمی طاقت بھی ہیں*

*مگر آپ معاشی لحاظ سے کمزور ہیں چنانچہ آپ دنیا کےلئے کسی بھی وقت مسئلہ بن سکتے ہیں"*
وہ رکے‘ سگار کا لمبا کش لیا اور بولے *”آپ لوگوں کو دنیا کی اس آبزرویشن کو سیریس لینا ہو گا ورنہ آپ اپنا نقصان کر لیں گے“*
میں خاموشی سے انہیں دیکھتا رہا‘ وہ بولے

*”معیشت دنیا کا سب سے بڑا سچ ہے‘ آپ اگر معاشی طور پر طاقتور ہیں تو آپ ایٹم بم بھی رکھ سکتے ہیں اور میزائل بھی بنا سکتے ہیں‘* یہ دونوں چین اور روس کے پاس بھی ہیں لیکن دنیا کو ان سے کوئی خطرہ نہیں‘ کیوں؟ کیونکہ دنیا سمجھتی ہے یہ دونوں ملک معاشی لحاظ سے مستحکم ہیں‘ یہ کبھی اس دنیا کےلئے خطرہ نہیں بنیں گے جو انہیں کما کر دے رہی ہے لیکن پاکستان کمزور ملک ہے‘ یہ زیادہ دیر تک ایٹمی اثاثوں کی حفاظت نہیں کر سکتا‘ یہ رقم کےلئے اپنے اثاثے فروخت بھی کر سکتا ہے اور نفسیاتی دباﺅ میں آ کر ان کو استعمال بھی چنانچہ آپ دنیا کےلئے ناقابل برداشت ہیں۔

*میں آپ کو یہ ایشو ایک مثال کے ذریعے سمجھاتا ہوں‘ فرض کر لیجئے آپ ایک غریب انسان ہیں اورآپ کے پاس ایک نہایت ہی مہلک اور قیمتی رائفل ہے‘ آپ اس رائفل سے کیا کیا کر سکتے ہیں؟ آپ پیسے کمانے کےلئے یہ رائفل فروخت بھی کر سکتے ہیں اور آپ دوسرے کی کنپٹی پر رکھ کر اسے لوٹ بھی سکتے ہیں‘ دنیا کا خیال ہے آپ ایک ایسے ہی بھوکے اور غریب رائفل بردار ہیں اور آپ کسی بھی وقت دونوں میں سے کوئی ایک آپشن اڈاپٹ کر سکتے ہیں“*۔

وہ رکے‘ سگار کا ایک اور کش لیا اور بولے ”آپ کے خلاف یہ تاثر انڈیا نے پھیلایا ہے‘ *بھارتی حکومت نے 1990ءکی دہائی میں بے شمار طالب علموں کو وظائف دے کر امریکا‘ کینیڈا‘ یورپ اور مشرق بعید کے ملکوں میں بھجوایا‘ اعلیٰ اداروں سے ڈگریاں کرائیں اور پھر انہیں عالمی اداروں میں بھرتی کرا دیا‘ یہ لوگ امریکی کانگریس مین اور سینیٹرز کے سٹاف میں بھی شامل ہیں اور یہ میڈیا انڈسٹری اور تھنک ٹینکس میں بھی بیٹھے ہیں‘ یہ لوگ وہاں بیٹھ کر روزآپ کے خلاف خوف پھیلاتے ہیں اور دنیا اس خوف کو سچ مان لیتی ہے۔*

آپ کا ماضی بھی اس سچ کی دلیل بن جاتا ہے‘ دنیا جانتی ہے آپ لوگوں نے تنہا سوویت یونین جیسی طاقت کو توڑ کر پھینک دیا تھا‘ آپ نے اکیلے بھارت جیسی طاقت کو اٹھنے نہیں دیا اور آپ تمام معاشی کمزوریوں کے باوجود جو چاہتے ہیں آپ کر گزرتے ہیں‘ آپ نے جے ایف تھنڈر تک بنا لئے ہیں چنانچہ عالمی پالیسی ساز سمجھتے ہیں آپ کچھ بھی کرسکتے ہیں“ وہ رکے‘ ایک اور کش لیا اور بولے ”پاکستان کے بارے میں میری سٹڈی ہے عالمی طاقتیں آپ کو جنگ کا موقع نہیں دیں گی۔

یہ سمجھتی ہیں آپ روایتی جنگ نہیں لڑ سکتے ‘ آپ جنگ کا آغاز ہی آخری ہتھیار سے کریں گے اور یہ پوری دنیا کےلئے خطرناک ہو گا چنانچہ یہ آپ کو اس لیول پر نہیں جانے دے گی‘ آپ دو ماہ پیچھے چلے جائیں‘ بھارت نے بالاکوٹ میں سرجیکل سٹرائیک کی‘ پاکستان نے شور کیا لیکن دنیا کا کوئی ملک پاکستان کی مدد کےلئے سامنے نہ آیا‘ کیوں؟ کیونکہ دنیا اندازہ کرنا چاہتی تھی آپ کس لیول تک ری ایکٹ کر سکتے ہیں‘ آپ نے اگلے ہی دن بھارت کے دو طیارے مار گرائے‘ بھارت نے 27فروری کی درمیانی رات سرحد پر 9 میزائل نصب کر دیئے‘ آپ نے 14 کر دیئے۔

27 فروری کی رات کولڈ وار کے بعد دنیا کی خطرناک ترین رات تھی‘ ایک چھوٹی سی شرارت پوری دنیا کو تباہ کر سکتی تھی چنانچہ دنیا فوراً متحرک ہوئی اور بڑی مشکل سے آگ ٹھنڈی کی‘ یہ ایک ٹیسٹ تھا‘ اس ٹیسٹ سے پتہ چلا آپ لوگ ہر وقت حتمی جنگ کےلئے تیار رہتے ہیں لہٰذا یہ آپ کو آئندہ کبھی اس سطح تک نہیں جانے دیں گے‘ یہ اب آپ کو میزائل باہر نکالنے کا موقع نہیں دیں گے‘ یہ سرحدوں پر بھی آپ سے چھیڑ چھاڑ نہیں کریں گے
*‘ عالمی طاقتیں آپ کو معاشی لحاظ سے تباہ کریں گی“* میں حیرت سے ان کی طرف دیکھنے لگا۔

وہ رکے‘ لمبا سانس لیا اور بولے ”آپ میری بات نوٹ کر لیں *‘آئی ایم ایف نے جان بوجھ کر آپ کا پیکج لیٹ کیا‘* یہ اب بھی آپ کو بار بار ترسائے گا‘ یہ ڈالر مزید مہنگا کرائے گا‘ یہ مہنگائی کو بارہ فیصد تک لے جائے گا‘ یہ پٹرول‘ گیس اور بجلی بھی مزید مہنگی کرائے گا ‘ یہ ترقیاتی بجٹ بھی کم کرادے گا ‘یہ بے روزگاری بھی بڑھائے گا‘ یہ ریاست کے ذریعے کالعدم تنظیموں پر بھی اتنا دباﺅ بڑھائے گا کہ یہ حکومت کے خلاف بغاوت کر دیں گی‘ یہ پاکستان کی ایکسپورٹ بھی نہیں بڑھنے دے گا۔

یہ سٹاک ایکسچینج بھی نہیں اٹھنے دے گااور یہ ٹیکسوں میں بھی اضافہ کرا دے گاتاکہ عوام اس معاشی بوجھ تلے آ کر کریش ہو جائیں اور یہ حکومت اور ریاست دونوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں“ میں خاموشی سے سنتا رہا‘
وہ بولے ” اور یہ پاکستان کے خلاف ایک گرینڈ ڈیزائن ہے‘ آپ نے کتوں کی جیک رسل نسل کے بارے میں سنا ہوگا‘ یہ چھوٹے سائز کا خوفناک کتا ہوتا ہے‘ یہ ریچھ کا پیچھا کرتا ہوا اس کے غار میں گھس جاتا ہے‘ یہ سائز میں اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ ریچھ اس کو پکڑ نہیں سکتا۔

یہ ریچھ کے پیچھے چھپ کر اس کو اتنا زخمی کر دیتا ہے کہ وہ اپنے پاﺅں پر کھڑا نہیں ہو سکتا‘ جیک رسل مکمل تسلی کے بعد غار سے نکلتا ہے‘ مالک کو اطلاع کرتا ہے اور شکاری غار کے دہانے پر پہنچ کر ریچھ کو گولی مار دیتا ہے

*‘ عالمی مالیاتی ادارے بھی جیک رسل ہوتے ہیں‘* یہ اپنے چھوٹے چھوٹے دانتوں اور جبڑوں سے دیو ہیکل ریچھوں کو زخمی کر دیتے ہیں‘ ریچھ جب اپنے پاﺅں پر کھڑے ہونے کے قابل نہیں رہتے تو پھر بڑا شکاری آتا ہے اور ریچھ کو گولی مار دیتا ہے۔

آپ نوٹ کر لو آپ کے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے
*‘ پاکستان پر جیک رسل چھوڑ دیئے گئے ہیں‘* یہ آپ کو زخمی کر رہے ہیں‘ یہ آپ کو معاشی طور پر اتنا کمزور کر دیں گے کہ آپ میزائل چلانا تو دور آپ انہیں باہر نکالنے کے قابل بھی نہیں رہیں گے‘ آپ کے پاس سرکاری ملازموں کی تنخواہوں کے پیسے بھی نہیں رہیں گے اور آپ ٹیکس کولیکشن فوج کے حوالے کرنے پر مجبور ہو جائیں گے اور یہ جس دن ہو گیا آپ اس دن اپنے دن گننا شروع کر دینا کیونکہ ٹیکس کولیکشن فوج کی بدنامی کا باعث بن جائے گی۔

لوگوں کے دلوں میں محبت کم ہونا شروع ہو جائے گی اور عالمی ادارے یہی چاہتے ہیں‘ یہ آپ کو معاشی طور پر بھی زخمی کرنا چاہتے ہیں اور یہ عوام کے دل سے محبت بھی کھرچنا چاہتے ہیں اور آپ جس دن اس لیول پر آ گئے یہ آپ کو اس دن بھارت کے قدموں میں بٹھا دیں گے‘ یہ آپ کو بھوٹان اور مالدیپ بنا دیں گے‘ آپ امداد لیتے جائیں گے اور ملک چلاتے جائیں گے اور بس“ وہ خاموش ہو گئے‘ میں انہیں خوف سے دیکھنے لگا‘ وہ بولے *”پاکستان کا مستقبل کیا ہے‘ یہ فیصلہ چھ ماہ میں ہو جائے گا۔*

آپ کی اکانومی اگر ٹیک آف نہیں کرتی‘ اگر مارکیٹ میں استحکام نہیں آتا تو پھر آپ کو کوئی معجزہ ہی بچا سکے گا‘ آپ گرداب میں پھنس جائیں گے“ وہ سیدھے ہوئے‘ سگار بجھایا‘ ایش ٹرے میں مسلا اور اٹھ کھڑے ہوئے‘ وہ رخصت ہونا چاہتے تھے‘ ہم ریسپشن کی طرف بڑھنے لگے‘ میںنے چلتے چلتے پوچھا ”بچت کا راستہ کیا ہے“ وہ مسکرا کر بولے

*”پاکستان کی بچت کے تین راستے ہیں*
*معیشت‘ معیشت اور معیشت“*

صرف اور صرف معیشت پر دھیان دیں‘ ملک کو چلنے دیں‘ آپ سب بچ جائیں گے ورنہ دوسری صورت میں آپ کا پورا ملک انا اور حماقت کی نذر ہو جائے گا‘
آپ مقدمے چلانے کےلئے بھی قرض لینے پر مجبور ہو جائیں گے‘ آپ آئی ایم ایف سے رقم لے کر ججوں اور وکیلوں کو تنخواہ دیں گے اور جیلوں میں بند ملزموں کے کھانے کا بندوبست کریں گے“۔ انہوں نے بات مکمل کی‘ گرم جوشی سے ہاتھ ملایا اور رخصت ہو گئے
*لیکن میں کھڑا ہو کر سوچتا رہا‘ کیا یہ شخص واقعی سچ کہہ رہا ہے؟ مجھے جواب نہیں ملا‘ شاید آپ کو مل جائے۔*

Address

Karachi
75340

Telephone

03018797942

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Markaz-E-Umeed Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Markaz-E-Umeed Clinic:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram