Dr Zafar Iqbal Malghani

  • Home
  • Dr Zafar Iqbal Malghani

Dr Zafar Iqbal Malghani Feelings

16/11/2025

آج کل شادیوں کا سیزن ہے ۔ کل شام ایک دوست کے بیٹے کے ولیمہ پر جانے سے پہلے کھیسے میں بڑا نوٹ ڈالا اور پہنچ گیا ۔ دعوت کے بعد ادھر ادھر دیکھا کہ سلامی لکھوانی تھی ۔ کوئی نہیں تھا ۔ دوست پاس آیا اور بولا کہ ہمارا پیسے لینے کا کوئی رواج نہیں ۔ میں نے کہا کہ ہمارا دینے کا رواج اب بھی ہے ۔ پیسےاس کی جیب میں زبردستی ڈالے اور ب بھاری دل کے ساتھ واپس گھر آیا ۔
دوستو ، اللّٰہ نے آپ کو بے شک کروڑ پتی بنایا ہو ، اس رواج کو جاری رکھیں ۔ بہت سے کمزور والدین کو اپنے بچوں کی شادی کی فکر ہے ۔ سلامی کے پیسوں سے ان کی با عزت امداد ہو جاتی ہے ۔ خدا کے یہ راستہ بند نہ کریں !!!

15/11/2025

رفیق حسین ( فرضی نام) میرا ہم عمر مریض ہے اور برسوں سے شوگر اور بلڈ پریشر کا علاج چل رہا ہے ۔ اس دفعہ بہت پریشان تھا ، پوچھا تو بتایا کہ اچھے وقتوں میں شہر میں چند دکانیں بنائی تھی جو اب دو دو کروڑ کی ہیں ۔ اب ان دکانوں پر میرے تین بیٹوں کی نظر ہے ۔ تینوں کا اپنا اپنا کاروبار ہے ، مگر وہ دکانیں اپنے نام کرانے کی ضد کر رہے ہیں ۔ حالانکہ میرے مرنے کے بعد خود بخود ان کے پاس چلی جائیں گی ۔
“ رفیق حسین ، شیر اپنے شکار کے نرخرہ کو اس وقت تک دانتوں سے دبائے رکھتا ہے جب تک وہ دم گھٹنے سے مر نہیں جاتا ۔ اور ایک جانور لگڑ بھگڑ( hyena ) اپنے شکار کو زندہ کھانا شروع کر دیتا ہے ۔ بیٹوں سے کہو ، شیر بنیں “
یہ سن کر رفیق حسین اپنی کرسی میں کسمسایا اور تڑپ کر بولا “ ڈاکٹر ، میرے بیٹے جتنے بھی برے ہوں ، انہیں جنگلی جانوروں سے تو نہ ملاؤ “

حاصل کلام: اولاد جیسی بھی ہو ، باپ کے دل میں ان کے لئے محبت کی چنگاری جلتی بجھتی رہتی ہے مگر بھسم نہیں ہوتی ۔ اور جب کوئی اس کے سامنے ان کے عیب گنوائے تو وہ چنگاری پل پھر میں شعلہ بن جاتی ہے !!!

20/10/2025

لیہ میں چار نوجوانوں نے CSS کا امتحان پاس کیا ہے جس میں ایک ڈاکٹر صاحبہ بھی شامل ہیں ۔ سوشیل میڈیا پر ان کا بہت چرچا ہے ۔ اس پر ناچیز کو تیس سال پرانی روداد یاد آئی جب نشتر ہاسپٹل وارڈ 7 میں میڈیکل رجسٹرار تھا ۔ ایک دوپہر ایک گورا چٹا نوجوان پروفیسر ڈاکٹر سلیم صفدرصاحب کے دفتر آیا ۔ اس وقت وہ مجھے راونڈ کے بعد والی ہدایات ڈے رہے تھے ۔ نوجوان کو دیکھ کر سر کھڑے ہو گئے ، اسے نام سے پکارا اور سینے سے لگایا۔ میرے استاد کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا ۔
سر نے مجھے اشارہ کر کے کہا کہ میرا سب سے زیادہ ذہین اور تابعدار ہاؤس فزیشن رہا ہے اور اب تو اس نے ایم آر سی پی یا ایف سی پی ایس کر لیا ہو گا۔ کئی سال بعد آیا ہے ۔ اس نوجوان نے پُر جوش انداز میں بتایا کہ وہ CSS کر چکا ہے اور آج کل ملتان کتحصیل میں اے سی ہے ۔
میں نے دیکھا کہ پروفیسر صاحب کے چہرے سے مسکراہٹ فوراً غائب ہو گئی ہے اور وہ اسے چپ چاپ گھورنے لگے ۔ مجھے حکم دیا کہ اپنے دفتر لے جاؤ ، چائے پلاؤ اور پھر وارڈ کے باہر تک چھوڑ آنا ۔۔
حاصل کلام: دنیا میں لاکھوں انسان ڈاکٹر بننے کی آرزو لئے قبروں میں سوئے پڑے ہیں اور وہ جو بن چکے ہیں ، ان میں سے کچھ اسے سیڑھی کے طور پر استعمال کرکے اس کی توہین کر رہے ہیں ۔ میڈیکل کا پیشہ راستہ نہیں منزل ہے ۔ نیلی بتی کے شوق میں اس کی تذلیل تکلیف دہ ہے ۔آپ نے دو بچوں کا حق مارا ہے ، ایک وہ سیٹ جو ڈاکٹر والی خالی کی ہے اور دوسرا وہ نوجوان جو آرٹس پڑھ کر مقابلے میں آیا تھا ۔۔

05/10/2025

اگر آپ زندگی کے اس دور میں پہنچ گئے ہیں جہاں آپ کو اپنے عیب بڑے اور دوسروں کے چھوٹے لگنے لگے ہیں اور دوسروں کی اصلاح سے زیادہ اپنی اصلاح کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو رخت سفر باندھنے کی بجائے براہ مہربانی یہاں رہیے کیونکہ آپ کی ضرورت اگلے جہاں سے زیادہ اس جہاں میں ہے۔ آپ اس دنیا کے تھوڑے مگر قیمتی ترین انسانوں میں سے ایک ہیں جو راز زندگی تک پہنچ گئے ہیں !!

23/08/2025

بزرک مریض جب اپنی پوری بِپتا سنا چکا ، جو پیٹ درد اور اسہال کے لا تعداد واقعات سے بھری پڑی تھی ، تب پوچھا ۔۔ کیا آپ دودھ پیتے ہیں ۔۔ میں تو روٹی بھی سالن کی بجائے دودھ سے کھاتا ہوں ۔۔ دودھ پینا چھوڑ دیں ۔۔ دودھ جیسی پاک چیز سے منع کرتے ہو کیا کافر ہو ؟ ۔۔ میرا جی چاہا ان کو بتاؤں کہ بہت سارے نا پاک جانور بھی دودھ دیتے ہیں مگر چپ رہا ۔۔میں پھر بولا کہ جب بچھڑا بڑا ہو جاتا ہے تو گائے اسے اپنے سے دور کر دیتی ہے اور اسے دودھ نہیں پینے دیتی حالانکہ اسکے تھنوں میں دودھ موجود ہوتا ہے ، اور پھر وہ بچھڑا بڑا ہو کر بیل بن جاتا ہے ۔۔ تم انسان کو بیل سے ملا رہے ہو ؟ کیسے ڈاکٹر ہو ؟ ۔۔ میں ان کو بتانا چاہتا تھا کہ چند سال پہلے تک ہم بیل کے لبلبے سے نکلی انسولین ( bovine insulin ) انسانوں میں لگاتے رہے ہیں ، مگر چپ رہا ۔ مریض کو ملٹی وٹامن کی گولی لکھی اور اور ایک ماہ بعد واپس آنے کو کہا ۔ ایک ماہ بعد مریض واپس آیا تو اس نے بتایا کہ دودھ نہ لینے سے پیٹ کا مسئلہ ختم ہو گیا ہے ۔ مگر ان کی تنک مزاجی ویسے ہی تھی۔۔ وہ پھر بولا ، میری پوری زندگی دودھ پینے سے عذاب بنی رہی، تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا ۔۔۔ میں بولا، ایک ماہ پہلے منع کیا تھا تو آپ نے مجھے کافر بنا دیا ، اگر جوانی میں آپ کو کہتا تو شاید گولی مار دیتے !!

حاصل کلام : دودھ بچوں کی غذا ہے ۔ ایشیائی، افریقی ، لاطینی امریکن اور جانور بچپن کے بعد اسے ہضم نہیں کر پاتے کیونکہ ان کے نظام انہظام میں lactase کی کمی ہو جاتی ہے جو دودھ کے اندر موجود قدرتی شوگر lactose کو ہضم کر سکتی ہے ۔ سفید فام نسل میں lactase کا لیول کم نہیں ہوتا ، اس لئے ایک گلاس دودھ روزانہ کا فارمولا جو مغرب سے آیا ہے ،ہمارے لوگوں پر لاگو نہیں ہوتا ۔

خاتون اپنے میاں اور بچے کے ساتھ  باری پر چیمبر میں آئی اور بیٹھتے ہی بولی کہ کئی دنوں سے اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی ہے...
22/07/2025

خاتون اپنے میاں اور بچے کے ساتھ باری پر چیمبر میں آئی اور بیٹھتے ہی بولی کہ کئی دنوں سے اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی ہے ۔ پھر اس نے ہینڈ بیگ کو کھولا، اس میں سے ایک بٹوہ نکالا اور پھر اس میں سے ای سی جی نکال کر میرے سامنے لہرائی۔ مگر میری نظریں بٹوہ پر لکھے نام پر ٹھہر گئیں۔ اس پر میرے مرحوم ڈاکٹر دوست کا نام لکھا تھا ، جن کو فوت ہُوئے کئی برس گزر چکے تھے ۔۔ ایسے بٹوے عام طور پر دوائیاں بنانے والے نمائندے ڈاکٹروں کو تحفتاً دیتے ہیں اور اسے ایک شریفانہ سی “ activity “ سمجھا جاتا ہے ( کیونکہ بٹوہ خالی ہوتا ہے )
یہ بٹوہ آپ کے پاس کہاں سے آیا ۔۔ “میرے بابا نے مجھے دیا تھا بہت سال پہلے ، آپ کو یاد نہیں جب میں چھوٹی تھی ، میرے جوڑ سوج گئے تھے اور بخار بھی تھا تو آپ دونوں نے مل کر “ Rheumatic fever” کی تشخیص کی تھی۔ پھر مجھے کئی سال تک پنسلین کے تکلیف دہ ٹیکے لگتے رہے ۔ آپ کو لازمی یاد ہو گا “

حاصل کلام: بیٹی کو تحفہ دیا کریں کیونکہ وہ آپ کے اس جہان سے گزر جانے کے بعد بھی سنبھال کے رکھتی ہے !

اگر کبھی دوست کی اولاد ملنے آئے تو ان سے محبت اور شفقت کا سلوک کریں کیونکہ وہ آپ کی آنکھوں میں اپنے مرحوم والد کا عکس دیکھنا چاہیتے ہیں ۔ اور آپ سے مل کر اپنے والد پر ناز کر سکیں کہ اس نے دوستوں کے انتخاب میں غلطی نہیں کی تھی!!

25/06/2025

اج رات آخری مریض اٹھتے ہوئے بولا “ ڈاکٹر تمیں ایک مفت کا مشورہ دینا ہے ،سنو گے”۔ ضرور ضرور ۔۔۔۔۔۔بڑے شہروں میں بڑے ڈاکٹروں نے ایک نیا پیکج دیا ہے ، اگر آپ کے پاس ڈاکٹر کی اپوائنٹمنٹ نہیں ہے تو نو پرابلم ، ڈبل فیس دو اور بیغر انتظار کی زحمت کے اندر جاؤ ۔ میں نے کہا مرے محلے کا نائی لوگوں کی حجامت باری باری سے کرتا ہے ۔ اگر میں نے بھی ملتان والا سلسلہ یہاں لیہ میں شروع کر دیا تو میری سماجی حیثیت تو باربر سے بھی نیچے چلی جاے گی!

06/06/2025

صوفی دنیا کو اپنے آپ سے بہتر سمجھتا ہے ، اس لئے اس کی بات دل میں کھب جاتی ہے ۔ مبلغ اپنے آپ کو دنیا سے بہتر سمجھتا ہے ، اس لئے اس کی کہی ان سنی ہو جاتی ہے !!

01/06/2025

انسان اور جانور قریب آتی موت کے قدموں کی آہٹ سن لیتے ہیں اور پھر کھانا پینا اور بولنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ ایسے میں کوئی پرانا دوست یا عزیر آ جائے تو تھوڑی دیر کے لئے یہ کیفیت معطل ہو جاتی ہے ۔ شاعر نے اس کیفیت کو کمال انداز سے بیان کیا ہے ۔

ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
مرزا غالب

02/03/2025

مریضہ کو لگاتار ہچکی آ رہی تھی اور اس کے لیے بولنا مشکل ہو رہا تھا ۔ اس کے ساتھ بیٹھے خاوند نے بتایا کہ چند گھنٹے پہلے اس نے غلطی سے زائد المیعاد گولی کھا لی ہے ۔ گولی بھی ملٹی وٹامن کی تھی اور مدت استعمال دو ماہ گزر چکی تھی۔ مریضہ کو سمجھاتے ہوئے بتایا کہ جو دوائی مُدت کے بعد کھائی جائے وہ اپنا اثر کم کر دیتی ہے ، زہر نہیں بن جاتی ۔ خاتون نے نفی میں سر ہلایا ۔ میں نے اندازہ لگایا کہ مریضہ تعلیم یافتہ ہے ، اس کو منطق سے مطمئن کرنا چاہئے ۔ پوچھا “ اگر زہر کی استعمال کی مُدت گزر جائے تو وہ زیادہ زہریلی ہو جائے گی یا کم زہریلی ؟ “ خاتون نے پھر اپنے سر کو دو تین بار دائیں بائیں گھمایا ، جس کا مطلب تھا کہ اسے میرے بھاشن پر کوئی یقین نہی ۔۔ مشہور ملٹی وٹامن کی ڈبی اس کے شوہر کے ہاتھ میں تھی ۔ اس سے لے کر اس میں سے دو گولیاں نکالیں اور دو گھونٹ پانی کے ساتھ نگل لیں۔۔۔ مریضہ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ، چند سیکنڈز بعد وہ ہچکی لینا بھول گئی۔۔ تھوڑی دیر بعد جب جوڑا جانے لگا تو میں نے وہ ڈبیا مانگ لی کہ یہ کام آ جائے گی !!

حاصل کلام : عمل کا مقام علم سے بہت اونچا ہے ، کہ یہ کرشمے دکھاتا ہے مگر اس مقام تک پہنچنے کے لیے علم کو علم الیقین اور اخلاص کی دو آگ کی بھٹیوں سے گزرنا پڑتا ہے ۔ (اخلاص عربی کا مرکب ہے جس کی اساس “ خالص “ ہے )۔ کسی دانا نے کیا خوب کہا ہے “ اگر تبلیغ کے لیے گھر سے نکلو تو چپ رہنا “

خون کی یا فولاد کی کمی کے اکثر  مریضوں کا خیال ہے کہ وہ گاجر کے جوس کے چند گلاس روزانہ پئیں تو ان کا خون جلدی پورا ہو جا...
02/02/2025

خون کی یا فولاد کی کمی کے اکثر مریضوں کا خیال ہے کہ وہ گاجر کے جوس کے چند گلاس روزانہ پئیں تو ان کا خون جلدی پورا ہو جائے گا کیونکہ انہوں نے سنا ہوتا ہے کہ “ گاجر کا جوس ، خون کا خزانہ “ حق بات تو یہ ہے کہ گاجر میں ہر خزانہ چھپا ہے ، سوائے آئرن کے ۔ اس کے اندر ایک سرخی مائل رنگدار مادہ ( beta carotene ) جو آنکھوں کی صحت کے لئے لاجواب ہے ، پایا جاتا ہے ۔ جب آپ روزانہ ایک یا دو گلاس گاجر کا جوس پیتے ہیں تو یہ آپ کی جلد میں اکٹھا ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ آپ سرخ لگنا بھی شروع ہو جاتے ہیں مگر آپ کا خون نہیں بڑھ پاتا ۔ ایسا ہی سنگترے اور آم کے ساتھ بھی ہے ۔ مگر آم کے مادہ کا رنگ پیلا ہے ۔۔ حاصل کلام۔ ہر سنی سنائی بات سچ نہیں ہوتی اور ااچھی سے اچھی چیز کی کثرت نقصان کر سکتی ہے .(excess of everything is bad)

دو لواحقین نے  دیہاتی  نوجوان مریضہ کو بازوؤں سے پکڑا  ہوّا تھا مگر پھر بھی وہ ان کے قابو میں نہیں آ رہی تھی۔ اس کی گردن...
17/12/2024

دو لواحقین نے دیہاتی نوجوان مریضہ کو بازوؤں سے پکڑا ہوّا تھا مگر پھر بھی وہ ان کے قابو میں نہیں آ رہی تھی۔ اس کی گردن پیچھے کی طرف مُڑی تھی اور گردن کی رگئیں پھولی ہوئی تھیں ۔ گلے سے ناقابل فہم آوازیں نکل رہی تھیں ۔یہ لوگ کچے سے مریضہ لائے تھے۔ لڑکی کا باپ مجھے ایک طرف لے گیا اور سمجھانے کے انداز میں بولا ۔۔ ڈاکٹر صاحب ، میری بیٹی پر کافر جن کا سایہ ہے اور ہم اسے پیر صاحب کے پاس لے جانے والے تھے کہ میرا لڑکا اڑ گیا کہ اسے ڈاکٹر کو لازمی دکھانا ہے ۔ چند جماعتیں پڑھ کر اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے ۔۔ دیکھو میری بیٹی کے سر کے بال ایک گھنٹے کے اندر اندر لمبے ہو گئے ہیں ۔۔۔ بال لمبے نہیں ہوئےمگر گردن پیچھے مڑنے کی وجہ سے ایسا لگ رہا ہے ۔میں نے اسے تسلی دینے کی کوشش کی ۔ پھر اس کی آواز کیوں مردانہ ہو گئی ہے ، وہ بولا ۔۔ گلے پر زور دے کر جو بھی بولے گا ، آواز ایسی ہی آئے گی ۔۔۔ میں نے جواب دیا۔۔۔
اس کیفیت کو میڈیکل کی زبان میں “ conversion reaction “ کہتے ہیں ۔ پہلے اسے ہسٹیریا کہا جاتا تھا ۔ مریض کے لیے ایک انجیکشن تجویز کیا اور اگلے مریض کو بلا لیا ۔ اِسی دوران ایک نوجوان اندر آیا اور جوشیلی آوازمیں بولا کہ جس مریضہ کو ابھی دیکھا ہے ، وہ تو جرمن زبان میں بول رہی ہے !!! میں بھاگ کر باہر آیا مگر اس وقت تک اسے ٹیکا لگ چکا تھا اور وہ پر سکون ہو چکی تھی۔
نوجوان بولا کہ وہ جرمنی میں پڑھ رہا ہے ۔ اور یہ مریضہ کسی جرمن نیوز کاسٹر کی طرح ایک ٹرین کے حادثے کا احوال بتا رہی تھی۔۔ میں نے اس علامت کو پڑھ رکھا تھا مگر یقین نہیں آ رہا تھا کہ اپنی زندگی میں ایسا دیکھ سکوں گا ۔ اسے xenoglossy کہتے ہیں ، اور یہ پیچیدہ نفسیاتی بیماری کی علامت ہے ۔ (افسوس کہ اس مریضہ کی آواز ریکارڈ کرنے کا موقع نہیں ملا)۔ تھوڑی دیر بعد وہ مریضہ اندر آئی۔ سر پر اچھی طرح دوپٹہ اُوڑھا ہوّا تھا اور کمرے میں غیر مردوں کی موجودگی محسوس کرتے ہُوئے شرما رہی تھی۔
اس کے والد کو سمجَھایا کہ بچّی کو کسی ماہر نفسیات کو دکھائیں اور گھر کے ماحول میں سختی کم کریں ۔ وہ بولا “ ہماری طرف سے کوئی پابندی نہیں ، بس اسے ریڈیو کا شوق ہے ، ہر وقت کان سے لگائے رکھتی ہے “

حاصلِ کلام : غربت، جہالت اور بیماری ، یہ وہ جنات ہیں ، جس گھر میں گھس جائیں وہ گھر تھوڑے عرصے میں صفحہء ہستی سے مٹ جاتا ہے ۔ ان کو کبھی اکٹھا نہ ہونے دیں !!!

Address

Layyah

3200

Telephone

+923006761763

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Zafar Iqbal Malghani posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Zafar Iqbal Malghani:

  • Want your practice to be the top-listed Clinic?

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram