15/08/2025
بنام عورت!!!!!!!!!!
ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم (چئرمین گلوبل ہینڈز پاکستان )
عورت—یہ صرف ایک لفظ نہیں، بلکہ محبت، قربانی، نزاکت اور عظمت کا ایسا مجموعہ ہے جو تخلیقِ کائنات کی لطافت کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ عورت وہ روشنی ہے جو گھر کے اندھیروں کو مٹا دیتی ہے، وہ لمس ہے جو زخموں کو بھر دیتا ہے، وہ دعا ہے جو آسمان تک پہنچ کر رحمت برساتا ہے۔ اس کی ذات میں ماں کی ممتا، بہن کی شفقت، بیٹی کی مسکراہٹ اور بیوی کا خلوص یکجا ہوتا ہے۔باپ کی زندگی میں عورت، بیٹی کے روپ میں، ایک خوشبو دار پھول ہوتی ہے۔ باپ اس کا پہلا محافظ، پہلا محبّت کرنے والا اور پہلا استاد ہوتا ہے۔ وہ اس کے ہر خواب میں رنگ بھرتا ہے، اس کو چلنا، سنبھلنا، بولنا، صبر اور غیرت کے زیور پہناتا ہے۔ باپ اپنی دعاؤں اور نصیحتوں سے اس کی بنیادیں مضبوط کرتا ہے، تاکہ جب وہ اپنے نئے سفر پر نکلے تو زمانہ اس کے وقار کو سلام کرے۔
پھر ایک دن یہ بیٹی نکاح کے مقدس بندھن میں شوہر کے گھر آتی ہے۔ یہاں اس کے لیے شوہر ہی سب کچھ بن جاتا ہے—اس کا محافظ، اس کا سہارا، اس کا رازدار، اور اس کی زندگی کا سب سے قیمتی رشتہ۔ عورت کو سکھایا جاتا ہے کہ باپ کے گھر میں سیکھی ہوئی عزت، صبر اور محبت کو شوہر کے گھر میں اپنائے، اور جس جنت سے وہ نکلی ہے—ماں باپ کا گھر—اس کی خوشبو، روشنی اور سکون اپنے نئے گھر میں منتقل کرے، تاکہ وہ بھی ایک جنت بن جائے۔عورت اگر اپنے شوہر کے گھر کو محبت اور صبر سے سنبھالے تو وہ محض ایک مکان کو گھر نہیں بلکہ محبت کا قلعہ، سکون کا آنگن اور رحمتوں کا مرکز بنا دیتی ہے۔ یہی اس کا اصل مقام اور اس کی اصل عظمت ہے—کہ وہ جہاں جائے، وہاں بہار لے جائے، اور اپنے وجود سے ہر آنگن کو جنت کا رنگ دے۔
عورت کا اصل آسرا، اس کی عزت اور اس کا سکون ہمیشہ شوہر کے گھر میں ہوتا ہے۔ یہ وہ گھر ہے جو نکاح کے بندھن اور اعتماد کے دھاگے سے جڑا ہوتا ہے، جہاں عورت کو بیوی، ماں، بہو اور شریکِ حیات کے روپ میں عزت ملتی ہے۔ مگر افسوس، کچھ خواتین وقتی غصے، انا، یا دوسروں کی چالبازیوں میں آکر اپنے ہی گھر کی بنیادیں ہلا دیتی ہیں۔ وہ یہ نہیں سمجھتیں کہ شوہر کا گھر ٹوٹنے کا مطلب ہے اپنی چھت اور اپنی پہچان کا بکھر جانا۔جو عورت ہر معمولی یا وقتی رنجش پر "طلاق" کا شعلہ زبان سے نکالتی ہے، وہ دراصل اپنے ہی آشیانے کو راکھ کے ڈھیر میں بدلنے کا سامان کر رہی ہوتی ہے۔ یہ وہ آگ ہے جو صرف ایک گھر نہیں جلاتی بلکہ عزت، سکون اور رشتوں کے ریشمی بندھن سب کچھ جلا کر بھسم کر دیتی ہے۔ جوانی میں اکثر لڑکیاں جذبات کے طوفان میں یہ نہیں سمجھتیں کہ آج کا ضدی فیصلہ، کل کا نہ ختم ہونے والا پچھتاوا بن سکتا ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتیں کہ وقت ایک سا نہیں رہتا؛ حسن، جوانی اور چاہت کے بازار میں وہی چمک دمکتی ہے جو وفا اور گھر کی حفاظت کے ساتھ ہو۔ جب وقت ڈھلتا ہے، چہرے کی رونق مدھم پڑتی ہے، اور نیا سہارا ڈھونڈنے والے لوگ پلک جھپکتے میں منہ موڑ لیتے ہیں۔
ایسی عورتیں یہ بھی نہیں جانتیں کہ دنیا کی ہمدردیاں عارضی اور خود غرض ہوتی ہیں۔ جو لوگ آج میٹھے الفاظ سے انہیں گھر توڑنے کا حوصلہ دیتے ہیں، کل وہی ان کی تنہائی کا تماشا دیکھ کر چپ چاپ گزر جاتے ہیں یا طنز کے تیر برساتے ہیں۔ بڑھاپے میں نہ وہ گھر باقی رہتا ہے، نہ وہ رشتے جو اپنا کہے جاتے ہیں، اور نہ وہ عزت جو ایک قائم گھرانے کی پہچان ہوتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب انسان کو احساس ہوتا ہے کہ ضد اور انا کے جن پتھروں سے اُس نے اپنا راستہ بنایا تھا، وہی پتھر اس کی تنہائی کی دیواریں بن چکے ہیں۔زندگی کے تجربے یہ بتاتے ہیں کہ ہر گھر میں اختلافات اور مسائل ہوتے ہیں، مگر سمجھداری، صبر اور گفتگو کے ذریعے سلجھائے گئے مسائل، زندگی کو مزید مضبوط کر دیتے ہیں۔ عورت اگر اپنے گھر کو محبت، قربانی اور حکمت سے سنبھالے تو نہ صرف اس کا وقار بڑھتا ہے بلکہ آنے والی نسلیں بھی اس کے حسنِ سلوک کی گواہی دیتی ہیں۔ جو عورت اپنے گھر کو بچانے کی کوشش کرتی ہے، وہ دراصل اپنے مستقبل کو محفوظ کر رہی ہوتی ہے—اور جو اس کو برباد کرتی ہے، وہ اپنے ہی ہاتھوں اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔
شوہر عورت کی زندگی میں صرف ایک رفیق نہیں ہوتا، بلکہ ایک مضبوط دیوار، ایک سایہ دار چھت اور ایک محفوظ حصار ہوتا ہے۔ یہ وہ دیوار ہے جو زمانے کے تیز طوفانوں اور کڑی دھوپ کے وار اپنے سینے پر سہہ کر بیوی کو محفوظ رکھتی ہے۔ یہ وہ چھت ہے جو زندگی کی سخت بارشوں اور سرد ہواؤں سے بچا کر اس کے لیے سکون کا آسمان بناتی ہے۔ یہ وہ حصار ہے جو ہر اجنبی نگاہ، ہر بری سوچ اور ہر خطرے کو راستے ہی میں روک دیتا ہے۔
شوہر کا وجود عورت کے لیے اس درخت کی جڑوں کی مانند ہے جو مٹی کے اندر چھپ کر خاموشی سے اپنی بیوی کے وجود کو سہارا دیتا ہے۔ وہ نہ صرف اس کی ضروریات پوری کرتا ہے بلکہ اس کے خوابوں کو پروں کی طرح اُڑان بھی دیتا ہے۔ وہ عورت کے دکھ میں ڈھال، کمزوری میں سہارا اور خوشی میں شریکِ سفر ہوتا ہے۔ جب شوہر محبت، عزت اور ذمہ داری کے ساتھ اپنی بیوی کے ساتھ کھڑا ہو تو عورت کی زندگی اعتماد، تحفظ اور وقار سے بھر جاتی ہے۔ دراصل، شوہر کا وجود عورت کی دنیا میں وہ چراغ ہے جو گھر کو گھر بناتا ہے اور زندگی کو جینے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔
گھر محض اینٹ، سیمنٹ اور لکڑی سے بنی چار دیواری کا نام نہیں، یہ احساسات، رشتوں اور قربانیوں سے جڑا ہوا ایک زندہ وجود ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں محبت کی خوشبو سانسوں میں رچ بس جاتی ہے، جہاں دیواریں قہقہوں کی گواہی دیتی ہیں اور صحن میں قدموں کی چاپ اپنائیت کا اعلان کرتی ہے۔ گھر وہ آغوش ہے جو باہر کی دنیا کے شور، تھکن اور بےرحمی سے بچا کر انسان کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔
اس زندہ وجود کے دل اور دھڑکن، میاں بیوی ہیں۔ مرد گھر کا ستون ہے، جو اپنی محنت، پسینے اور قربانی سے اس عمارت کو مضبوطی دیتا ہے۔ عورت گھر کی روح ہے، جو اپنی محبت، صبر اور سلیقے سے اسے زندگی اور رونق عطا کرتی ہے۔ شوہر کی کمائی صرف کاغذ کے نوٹ نہیں، بلکہ وہ وقت اور توانائی کا نچوڑ ہے جو وہ اپنے خاندان کے لیے لٹاتا ہے۔ بیوی کی خدمت اور قربانی صرف روزمرہ کے کام نہیں، بلکہ وہ دعائیں اور جذبے ہیں جو گھر کی فضا کو جنت میں بدل دیتے ہیں۔
گھر اس وقت مکمل ہوتا ہے جب یہ دونوں، میاں اور بیوی، ایک دوسرے کے فرق کو نہیں بلکہ ایک دوسرے کی ضرورت کو سمجھتے ہیں۔ وہ اپنی ذات سے زیادہ اس رشتے کی حفاظت کرتے ہیں، اپنی انا کو قربان کرتے ہیں، اور ایک دوسرے کی کمزوری کو ڈھانپ کر اسے طاقت میں بدلتے ہیں۔ دراصل، گھر وہ کشتی ہے جسے میاں بیوی کی باہمی محبت اور سمجھداری کا پتوار ہی طوفانوں سے بچا کر ساحل تک لے جاتا ہے۔ یہ دونوں اگر ایک ہو جائیں تو گھر صرف رہائش نہیں، بلکہ سکون، تحفظ اور محبت کا قلعہ بن جاتا ہے۔
المختصر خلاصہ یہ ہے کہ عورت کا اصل سکون اور عزت شوہر کے گھر میں ہے، اور شوہر اس کے لیے ایک مضبوط دیوار، سایہ دار چھت اور محافظ حصار کی حیثیت رکھتا ہے۔ گھر اینٹ پتھر سے نہیں، بلکہ میاں بیوی کی محبت، قربانی اور سمجھداری سے بنتا ہے۔ مرد اپنی محنت اور ذمہ داری سے گھر کو مضبوط کرتا ہے، جبکہ عورت اپنی محبت، صبر اور سلیقے سے اسے جنت کا روپ دیتی ہے۔ جو عورت اپنے گھر اور شوہر کی قدر کرتی ہے، وہ اپنے حال اور مستقبل دونوں کو محفوظ کرتی ہے، اور جو انا، ضد یا دوسروں کے بہکانے میں آ کر گھر توڑتی ہے، وہ خود اپنی زندگی کو نقصان پہنچاتی ہے۔ میاں بیوی کا اتحاد اور ایک دوسرے کی ضرورت کو سمجھنا ہی گھر کو سکون، تحفظ اور محبت کا قلعہ بناتا ہے۔ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی کتاب” ابن ربانی کے خطوط “ سے ایک تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔