Al Saudia Tibbi Foundation PAK

Al Saudia Tibbi Foundation PAK Any kind of disease that canot be cured. Dont disappoint,Don’t panic now.Inshallah, you will be cured

بنام عورت!!!!!!!!!!ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم (چئرمین گلوبل ہینڈز پاکستان )عورت—یہ صرف ایک لفظ نہیں، بلکہ محبت، قربانی، نز...
15/08/2025

بنام عورت!!!!!!!!!!
ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم (چئرمین گلوبل ہینڈز پاکستان )
عورت—یہ صرف ایک لفظ نہیں، بلکہ محبت، قربانی، نزاکت اور عظمت کا ایسا مجموعہ ہے جو تخلیقِ کائنات کی لطافت کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ عورت وہ روشنی ہے جو گھر کے اندھیروں کو مٹا دیتی ہے، وہ لمس ہے جو زخموں کو بھر دیتا ہے، وہ دعا ہے جو آسمان تک پہنچ کر رحمت برساتا ہے۔ اس کی ذات میں ماں کی ممتا، بہن کی شفقت، بیٹی کی مسکراہٹ اور بیوی کا خلوص یکجا ہوتا ہے۔باپ کی زندگی میں عورت، بیٹی کے روپ میں، ایک خوشبو دار پھول ہوتی ہے۔ باپ اس کا پہلا محافظ، پہلا محبّت کرنے والا اور پہلا استاد ہوتا ہے۔ وہ اس کے ہر خواب میں رنگ بھرتا ہے، اس کو چلنا، سنبھلنا، بولنا، صبر اور غیرت کے زیور پہناتا ہے۔ باپ اپنی دعاؤں اور نصیحتوں سے اس کی بنیادیں مضبوط کرتا ہے، تاکہ جب وہ اپنے نئے سفر پر نکلے تو زمانہ اس کے وقار کو سلام کرے۔
پھر ایک دن یہ بیٹی نکاح کے مقدس بندھن میں شوہر کے گھر آتی ہے۔ یہاں اس کے لیے شوہر ہی سب کچھ بن جاتا ہے—اس کا محافظ، اس کا سہارا، اس کا رازدار، اور اس کی زندگی کا سب سے قیمتی رشتہ۔ عورت کو سکھایا جاتا ہے کہ باپ کے گھر میں سیکھی ہوئی عزت، صبر اور محبت کو شوہر کے گھر میں اپنائے، اور جس جنت سے وہ نکلی ہے—ماں باپ کا گھر—اس کی خوشبو، روشنی اور سکون اپنے نئے گھر میں منتقل کرے، تاکہ وہ بھی ایک جنت بن جائے۔عورت اگر اپنے شوہر کے گھر کو محبت اور صبر سے سنبھالے تو وہ محض ایک مکان کو گھر نہیں بلکہ محبت کا قلعہ، سکون کا آنگن اور رحمتوں کا مرکز بنا دیتی ہے۔ یہی اس کا اصل مقام اور اس کی اصل عظمت ہے—کہ وہ جہاں جائے، وہاں بہار لے جائے، اور اپنے وجود سے ہر آنگن کو جنت کا رنگ دے۔
عورت کا اصل آسرا، اس کی عزت اور اس کا سکون ہمیشہ شوہر کے گھر میں ہوتا ہے۔ یہ وہ گھر ہے جو نکاح کے بندھن اور اعتماد کے دھاگے سے جڑا ہوتا ہے، جہاں عورت کو بیوی، ماں، بہو اور شریکِ حیات کے روپ میں عزت ملتی ہے۔ مگر افسوس، کچھ خواتین وقتی غصے، انا، یا دوسروں کی چالبازیوں میں آکر اپنے ہی گھر کی بنیادیں ہلا دیتی ہیں۔ وہ یہ نہیں سمجھتیں کہ شوہر کا گھر ٹوٹنے کا مطلب ہے اپنی چھت اور اپنی پہچان کا بکھر جانا۔جو عورت ہر معمولی یا وقتی رنجش پر "طلاق" کا شعلہ زبان سے نکالتی ہے، وہ دراصل اپنے ہی آشیانے کو راکھ کے ڈھیر میں بدلنے کا سامان کر رہی ہوتی ہے۔ یہ وہ آگ ہے جو صرف ایک گھر نہیں جلاتی بلکہ عزت، سکون اور رشتوں کے ریشمی بندھن سب کچھ جلا کر بھسم کر دیتی ہے۔ جوانی میں اکثر لڑکیاں جذبات کے طوفان میں یہ نہیں سمجھتیں کہ آج کا ضدی فیصلہ، کل کا نہ ختم ہونے والا پچھتاوا بن سکتا ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتیں کہ وقت ایک سا نہیں رہتا؛ حسن، جوانی اور چاہت کے بازار میں وہی چمک دمکتی ہے جو وفا اور گھر کی حفاظت کے ساتھ ہو۔ جب وقت ڈھلتا ہے، چہرے کی رونق مدھم پڑتی ہے، اور نیا سہارا ڈھونڈنے والے لوگ پلک جھپکتے میں منہ موڑ لیتے ہیں۔
ایسی عورتیں یہ بھی نہیں جانتیں کہ دنیا کی ہمدردیاں عارضی اور خود غرض ہوتی ہیں۔ جو لوگ آج میٹھے الفاظ سے انہیں گھر توڑنے کا حوصلہ دیتے ہیں، کل وہی ان کی تنہائی کا تماشا دیکھ کر چپ چاپ گزر جاتے ہیں یا طنز کے تیر برساتے ہیں۔ بڑھاپے میں نہ وہ گھر باقی رہتا ہے، نہ وہ رشتے جو اپنا کہے جاتے ہیں، اور نہ وہ عزت جو ایک قائم گھرانے کی پہچان ہوتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب انسان کو احساس ہوتا ہے کہ ضد اور انا کے جن پتھروں سے اُس نے اپنا راستہ بنایا تھا، وہی پتھر اس کی تنہائی کی دیواریں بن چکے ہیں۔زندگی کے تجربے یہ بتاتے ہیں کہ ہر گھر میں اختلافات اور مسائل ہوتے ہیں، مگر سمجھداری، صبر اور گفتگو کے ذریعے سلجھائے گئے مسائل، زندگی کو مزید مضبوط کر دیتے ہیں۔ عورت اگر اپنے گھر کو محبت، قربانی اور حکمت سے سنبھالے تو نہ صرف اس کا وقار بڑھتا ہے بلکہ آنے والی نسلیں بھی اس کے حسنِ سلوک کی گواہی دیتی ہیں۔ جو عورت اپنے گھر کو بچانے کی کوشش کرتی ہے، وہ دراصل اپنے مستقبل کو محفوظ کر رہی ہوتی ہے—اور جو اس کو برباد کرتی ہے، وہ اپنے ہی ہاتھوں اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔
شوہر عورت کی زندگی میں صرف ایک رفیق نہیں ہوتا، بلکہ ایک مضبوط دیوار، ایک سایہ دار چھت اور ایک محفوظ حصار ہوتا ہے۔ یہ وہ دیوار ہے جو زمانے کے تیز طوفانوں اور کڑی دھوپ کے وار اپنے سینے پر سہہ کر بیوی کو محفوظ رکھتی ہے۔ یہ وہ چھت ہے جو زندگی کی سخت بارشوں اور سرد ہواؤں سے بچا کر اس کے لیے سکون کا آسمان بناتی ہے۔ یہ وہ حصار ہے جو ہر اجنبی نگاہ، ہر بری سوچ اور ہر خطرے کو راستے ہی میں روک دیتا ہے۔
شوہر کا وجود عورت کے لیے اس درخت کی جڑوں کی مانند ہے جو مٹی کے اندر چھپ کر خاموشی سے اپنی بیوی کے وجود کو سہارا دیتا ہے۔ وہ نہ صرف اس کی ضروریات پوری کرتا ہے بلکہ اس کے خوابوں کو پروں کی طرح اُڑان بھی دیتا ہے۔ وہ عورت کے دکھ میں ڈھال، کمزوری میں سہارا اور خوشی میں شریکِ سفر ہوتا ہے۔ جب شوہر محبت، عزت اور ذمہ داری کے ساتھ اپنی بیوی کے ساتھ کھڑا ہو تو عورت کی زندگی اعتماد، تحفظ اور وقار سے بھر جاتی ہے۔ دراصل، شوہر کا وجود عورت کی دنیا میں وہ چراغ ہے جو گھر کو گھر بناتا ہے اور زندگی کو جینے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔
گھر محض اینٹ، سیمنٹ اور لکڑی سے بنی چار دیواری کا نام نہیں، یہ احساسات، رشتوں اور قربانیوں سے جڑا ہوا ایک زندہ وجود ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں محبت کی خوشبو سانسوں میں رچ بس جاتی ہے، جہاں دیواریں قہقہوں کی گواہی دیتی ہیں اور صحن میں قدموں کی چاپ اپنائیت کا اعلان کرتی ہے۔ گھر وہ آغوش ہے جو باہر کی دنیا کے شور، تھکن اور بےرحمی سے بچا کر انسان کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔
اس زندہ وجود کے دل اور دھڑکن، میاں بیوی ہیں۔ مرد گھر کا ستون ہے، جو اپنی محنت، پسینے اور قربانی سے اس عمارت کو مضبوطی دیتا ہے۔ عورت گھر کی روح ہے، جو اپنی محبت، صبر اور سلیقے سے اسے زندگی اور رونق عطا کرتی ہے۔ شوہر کی کمائی صرف کاغذ کے نوٹ نہیں، بلکہ وہ وقت اور توانائی کا نچوڑ ہے جو وہ اپنے خاندان کے لیے لٹاتا ہے۔ بیوی کی خدمت اور قربانی صرف روزمرہ کے کام نہیں، بلکہ وہ دعائیں اور جذبے ہیں جو گھر کی فضا کو جنت میں بدل دیتے ہیں۔
گھر اس وقت مکمل ہوتا ہے جب یہ دونوں، میاں اور بیوی، ایک دوسرے کے فرق کو نہیں بلکہ ایک دوسرے کی ضرورت کو سمجھتے ہیں۔ وہ اپنی ذات سے زیادہ اس رشتے کی حفاظت کرتے ہیں، اپنی انا کو قربان کرتے ہیں، اور ایک دوسرے کی کمزوری کو ڈھانپ کر اسے طاقت میں بدلتے ہیں۔ دراصل، گھر وہ کشتی ہے جسے میاں بیوی کی باہمی محبت اور سمجھداری کا پتوار ہی طوفانوں سے بچا کر ساحل تک لے جاتا ہے۔ یہ دونوں اگر ایک ہو جائیں تو گھر صرف رہائش نہیں، بلکہ سکون، تحفظ اور محبت کا قلعہ بن جاتا ہے۔
المختصر خلاصہ یہ ہے کہ عورت کا اصل سکون اور عزت شوہر کے گھر میں ہے، اور شوہر اس کے لیے ایک مضبوط دیوار، سایہ دار چھت اور محافظ حصار کی حیثیت رکھتا ہے۔ گھر اینٹ پتھر سے نہیں، بلکہ میاں بیوی کی محبت، قربانی اور سمجھداری سے بنتا ہے۔ مرد اپنی محنت اور ذمہ داری سے گھر کو مضبوط کرتا ہے، جبکہ عورت اپنی محبت، صبر اور سلیقے سے اسے جنت کا روپ دیتی ہے۔ جو عورت اپنے گھر اور شوہر کی قدر کرتی ہے، وہ اپنے حال اور مستقبل دونوں کو محفوظ کرتی ہے، اور جو انا، ضد یا دوسروں کے بہکانے میں آ کر گھر توڑتی ہے، وہ خود اپنی زندگی کو نقصان پہنچاتی ہے۔ میاں بیوی کا اتحاد اور ایک دوسرے کی ضرورت کو سمجھنا ہی گھر کو سکون، تحفظ اور محبت کا قلعہ بناتا ہے۔ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی کتاب” ابن ربانی کے خطوط “ سے ایک تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شادی کرنے سےپہلے ۔۔۔۔“The highest happiness on earth is marriage.”ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی کتاب کامیاب زندگی کے راز س...
10/07/2024

شادی کرنے سےپہلے ۔۔۔۔
“The highest happiness on earth is marriage.”
ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی کتاب کامیاب زندگی کے راز سے انتخاب:ابرش نور : گلوبل ہینڈز
ضرورت ڈھل گئی رشتے میں ورنہ
یہاں کوئی کسی کا اپنا کب ہے
دنیا گلوبل ویلج بن گئی ہے مگر اس ہجوم میں بھی شادیاں مشکل ہو رہی ہیں ۔ اگر ہو گئی تو نبھا نہیں ہو رہا ۔طلاق کی شرح بڑھتی جا رہی ہے ۔ آخر کیوں ؟
ایک نیک اخلاق وکردار کا حامل لیکن غریب لڑکا کسی کے گھر اس کی بیٹی کا رشتہ لینے گیا،بیٹی کا باپ بولا: تم غریب ہو اور میری بیٹی غربت اور تکالیف کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی اس لئے میں تمہیں اپنی بیٹی کا رشتہ نہیں دے سکتا۔پھر ایک بداخلاق و بدکردار لڑکا اسی لڑکی کا رشتہ لینے گیا تو اس کاباپ رشتہ دینے کیلئے راضی ہوگیا اوراس کے، بداخلاق ہونے کے بارے میں یہ کہا " اللہ اس کو ہدایت دے گا, انشاءاللہ " تو اس کی بیٹی نے کہا: باباجان کیا جو اللہ ہدایت دے سکتا ہے وہ رزق نہیں دے سکتا ۔۔۔؟ یا ان دونوں خداؤں میں کوئی فرق ہے۔۔۔؟شادی ایک سنت عمل ہے جو ایمان کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتا ہے مگر یہ بات سو فیصد درست ہے کہ غربت اتنا ہی ایمان کو کمزور بھی کرتی ہے اور مرد کو مختلف آزمائشوں میں ڈالتی ہے ۔ اوپر واقعہ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ کسی غریب سے شادی نا کریں یا کسی غریب سے ہی شادی کریں ۔ بلکہ اس کا مطلب ہے کسی نکٹھو سے شادی نا کریں ۔ سست ، غافل ہونا ، وقت ضائع کرنا ، جوانی کو ضائع کرنا ، پڑھائی کی عمر میں پڑھنا نا ،والدین پر بوجھ بنے رہنا ۔ یہ سب کسی طرح بھی اچھے کردار میں شامل نہیں ۔ یقینا صاحب کردار رزق حلال کا متلاشی ہو گا اور محنتی ہو گا ۔ ہمارے معاشرے کے دو بڑے المیے ہیں ایک خواب نگر اور دوسرا تربیت ۔ بیٹا خوبصورت ہو یا بیٹی دونوں کی خوبصورتی کو ڈھال بنا کر کسی امیر سے شادی کا خواب سجانا یہ سب سے بڑی بیوقوفی ہے ۔یاد رکھئے! جب تک انسان کا باطِن خوبصورت نہ ہو ظاہری خوبصورتی کسی کام کی نہیں۔ دوسرا بیٹا یا بیٹی کو اس قدر لاڈلا بنا کر رکھنا کہ تربیت ہی نا کرنا ۔ ان دو باتوں کی وجہ سے اکثر بظاہر بہترین نظر آنے والا جوڑا بہت جلد ٹوٹ جاتا ہے اور اس کے بعد الزام تراشیوں کی ایک بوچھاڑ شروع کر دی جاتی ہے ۔
غضب تو یہ ہے مقابل کھڑا ہے وہ میرے
کہ جس سے میرا تعلق ہے خوں کے رشتے کا
آپ ماں باپ ہیں اور اولاد کی نعمت سے اللہ نے نوازا ہے تو یقین جانیے آپ نے اولاد کی تربیت کر دی تو اخلاق اور کردار کی دولت ہی سب سے بڑا احسان ہو گا ۔ اچھے رشتے کا معیار کیا ہے؟ وہ جو ہمارا خود ساخْتہ ہے یا وہ جسے شریعت نے اچھا رشتہ قرار دیا۔اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہر باپ اپنی بیٹی کے لئے اچھے لڑکے کا انتخاب کرنا چاہتا ہے اور لڑکے والے بھی اچھے رشتے کی تلاش میں ہوتے ہیں لیکن یہ بات ہر مسلمان کو پیشِ نظر رکھنی چاہئے کہ اچھا رشتہ وہی ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نزدیک اچھا ہے لہٰذادین دار اور ضروری تقاضوں کو پورا کرنے والا رشتہ ملتا ہو تو اسے ٹھکرانے کی بجائے اپنانے کا ذہن ہونا چاہئے۔
نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم
لیکن ہمارے ہاں کیا دیکھا جاتا ہے کیا سوچا جاتا ہے چلیے اس کا آئینہ بھی دیکھ لیں ۔ عام طور پر لڑکے والوں کی تمنا یہ ہوتی ہے: (1)”آنے والی“امیرباپ کی بیٹی ہو (2)ماں باپ کی اِکلوتی ہو تو کیا ہی بات ہے (3)لڑکی کے بھائی اعلیٰ سرکاری عُہدوں پر فائز ہوں (4)اور اگر کئی بھائیوں کی ایک ہی بہن ہو تو سونے پہ سہاگا کیونکہ اس سے تحائف ملنے کے اِمکانات بڑھ جاتے ہیں (5) بہو خوب جہیز لے کر آئے (6)بیٹے کو سَلامی میں موٹر سائیکل یا گاڑی ملے (7)کوئی پلاٹ یا مکان بھی مل جائے (8)بہو کا والد اپنے داماد کو کوئی کاروبار ہی شروع کروا دے (9)لڑکی کسی اچھی جگہ نوکری(Job)کرتی ہووغیرہ ۔غور کیا جائے تو ان سب میں ایک چیز”دوسرے کے مال کو لَلچائی ہوئی نظروں سے دیکھنا“ مُشترَک ہے۔
اسی طرح لڑکی والوں کی عموماً یہ خواہش ہوتی ہے: (1)لڑکا اسمارٹ(Smart) اور فیشن ایبل(Fashionable) ہو(2)باپ کی جائیداد و کاروبار کا اِکلوتا وارث ہو (3)نندیں نہ ہوں(4) اگر ہوں تو ”اپنے گھر کی ہو چکی ہوں“ تاکہ ہماری بیٹی سُسرال میں راج کرے۔ (5) لڑکا نوٹوں میں کھیلتا ہو (اگرچہ حرام سے کمائے گئے ہوں) (6)تنخواہ معقول بھی ہو تو نظر اس پر ہوتی ہے کہ ” اُوپر کی کمائی“کتنی بنا لیتا ہے۔(7)لڑکا بیرونِ ملک ہو تو گھر بھر کی چاندی ہو جائے گی وغیرہ۔
اب ایمان داری سے بتائیں ہم انسانوں کے بنائیں یہ معیار کسی بھی لحاظ سے قابل عمل ہیں ۔ ایمان تو کہتا ہے افسوس ۔ لیکن اس کے باوجود دل ہی دل میں دوطرفہ پکنے والی یہ کچھڑی دو انسانوں کے ساتھ ساتھ دو گھرانوں کا سکون برباد کر دیتی ہے ۔
بہت ستاتے ہیں رشتے جو ٹوٹ جاتے ہیں
خدا کسی کو بھی توفیق آشنائی نہ دے
حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کی : میری ایک بیٹی ہے جس سے میں بہت پیار کرتا ہوں، اس کے کئی رشتے آئے ہیں، آپ مجھے کس سے اُس کی شادی کرنے کا مشورہ دیتے ہیں؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا : اس کی شادی ایسے شخص سے کرو جو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتاہو کیونکہ اگر ایسا شخص تمہاری بیٹی سے محبت کرے گا تو اسے عزّت دے گا اور اگر نفرت بھی کرے گا تو ظلم نہیں کرے گا ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ کے لگ بھگ کنواری لڑکیاں اور لڑکے موجود ہیں جن کے والدین اچھے اور مناسب رشتوں کی راہ تک رہے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے ہر تیسرے گھر میں شادی کے منتظر لڑکے اور لڑکیوں کی عمریں ڈھلتی جارہی ہیں۔ اس پریشانی کی اصل وجہ رشتوں کی کمی نہیں بلکہ رشتوں کا معیار پر پورا نہ اترنا ہے۔ ہر لڑکی کے والدین کے اپنے معیار ہیں۔
اس فرش سے ہم نے اڑ اڑ کر افلاک کے تارے توڑے ہیں
ناہید سے کی ہے سرگوشی پروین سے رشتے جوڑے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ شادی عموماً چار چیزوں کی وجہ سے کی جاتی ہے: (۱) حسب نسب کی وجہ سے۔ (۲) مال کی وجہ سے ۔ (۳) حسن وجمال کی وجہ سے۔ (۴) دینداری کی وجہ سے۔ لیکن تم لوگ دین داری کو ترجیح دیا کرو۔ اگر ایسا نہ کروگے تو دنیا میں فساد ہوگا۔شادی کا اصل مقصد کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں ”ہم نے جوڑے بنائے تاکہ وہ ایک دوسرے سے سکون حاصل کریں۔
آخر میں ہاتھ جوڑ کر گزارش ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت کریں۔اوپر جن باتوں سے منع کیا وہ نا کریں اور جن پر عمل کرنے کا اسلامی حکم ان پر عمل بجا لا کر زندگی کو پرسکون بنائیں ۔ آپ کی لڑکیاں جاب کرتیں ہیں تب بھی گھریلو امور اچھے سے سکھائیں اور ہر دو طرف رشتے کے وقت کسی بھی بات کو بڑھا چڑھا کر مت بولیں، کسی بھی معاملہ میں دھوکہ مت دیں نا ہی جھوٹ کا سہارا لیں ۔ بعد میں نتائج بہت بھیانک ہوا کرتے ہیں ۔
ساتھ رہتے ہو مگر ساتھ نہیں رہتے ہو
ایسے رشتے کو نبھانے کی ضرورت کیا ہے
۔شکریہ ... ہمارے پیج کا لنک دستیاب ہے ...https://www.facebook.com/Dr.M.AzamRazaTabassum/
*ڈاکٹر صاحب کی تحریریں .واٹس ایپ پہ حاصل کرنے کے لیے .ہمیں اپنا نام .شہر کا نام اور جاب لکھ کر اس نمبر پر میسج کریں .* 03317640164.
شکریہ .ٹیم نالج فارلرن.

مردانہ طاقت ہی مرد کی پہچان ہوا کرتی ہے اگر آپ اس حوالے سے پریشان ہیں تو ہم سے رابطہ کیجیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھی دوا اچھی صحت ۔...
27/06/2024

مردانہ طاقت ہی مرد کی پہچان ہوا کرتی ہے اگر آپ اس حوالے سے پریشان ہیں تو ہم سے رابطہ کیجیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھی دوا اچھی صحت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہامرے بنائے نسخے آپ کو دیں گے صحت اور خوشگوار زندگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے مرض کو ہم سے شئیر کیجیے اور مشورہ کیجیے راز داری سے... گھر منگوانے کے لیے ابھی رابطہ کریں03178722492۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خوبصورت زندگی کی ہر دوا دستیاب ہے

❣️
26/06/2024

❣️

20/06/2024
❣️❤️❤️
23/05/2024

❣️❤️❤️

🍉تربوز🍉 چیک کرنے کے تین چار طریقے ہیںپہلا طریقہ:- تربوز گہرا سبز ہو اور ایک طرف سے پیلا ہو.دوسرا طریقہ:-تربوز کی ڈنڈی سے...
21/05/2024

🍉تربوز🍉 چیک کرنے کے تین چار طریقے ہیں

پہلا طریقہ:-
تربوز گہرا سبز ہو اور ایک طرف سے پیلا ہو.
دوسرا طریقہ:-
تربوز کی ڈنڈی سے چیک کریں اگر ڈنڈی والی جگہ سبز ہو تو تربوز کچہ ہے اور ڈنڈی والی جگہ تھوڑی کالی اور پیلی ہو تو تربوز پکا ہے.
تیسرا طریقہ:-
تربوز کو اپنے ہاتھ کے انگوٹھے سے دبائیں اگر تربوز سخت ہو تو تربوز کچہ ہے اور آگر تھوڑا دب جانے تو پکا ہے.
چوتھا طریقہ:
تربوز کا وزن کریں اگر سائز میں بڑا ہو اور وزن میں کم ہو تو تربوز سو فیصد کچہ ہے اگر تربوز چھوٹا ہو اور بھاری ہو تو پکا تربوز ہے.
پانچواں طریقہ،
تربوز کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑیں ایک اوپر اور ایک نیچے رکھیں اب اوپر ہاتھ سے تربوز کو بجائیں اور نیچے والے میں ہلکی جُنبش محسوس کریں تو تربوز پکا ہے.
جب تربوزچیک کرکےگھرلےآئیں فریج میں رکھیں جب فل ٹھنڈاہوجاےتومجھےدعوت دیں کھانےکاطریقہ ان شاءاللہ موقع پر بتاؤں گا
شکریہ

20/02/2024

عینک سے مکمل نجات پاٸیں

20/02/2024

sometime

Address

Rawalpindi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Saudia Tibbi Foundation PAK posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram