Soul Connection

Soul Connection Connect to your soul to improve your relationships professionally, physically, mentally, and spiritually.

01/17/2026
ہماری خواتین کی زندگی سے زیادہ غیر صحتمند زندگی اس دنیا میں کسی شخص کی نہیں ہو سکتی ہے۔ ایک عام انسان کو ایک دن میں کم س...
01/01/2026

ہماری خواتین کی زندگی سے زیادہ غیر صحتمند زندگی اس دنیا میں کسی شخص کی نہیں ہو سکتی ہے۔ ایک عام انسان کو ایک دن میں کم سے کم بھی چھ ہزار سے لیکر دس ہزار قدم چلنے چاہیں۔

یہ دس ہزار تک قدم آپ کی اچھی صحت کی ضمانت ہوتے ہیں۔

لیکن ہماری خواتین دن میں مشکل سے ہی سو قدم چلتی ہیں۔ اس سے بڑھ کر نا وہ چل سکتی ہیں اور نا ہی اُن کو ایسا ماحول میسر ہوتا ہے کہ چلا جائے۔

یہی وجہ ہے کہ اس وقت پاکستان کی باون فیصد خواتین موٹاپے کا شکار ہیں۔ اور اگر فقط شہروں کی بات کی جائے تو یہی تعداد ستر فیصد کے قریب جا پہنچتی ہے اور اس وقت پاکستان موٹاپے کے لحاظ سے جنوبی ایشیاء میں پہلے نمبر پر ہے۔

اور اس کا سب سے بڑا اور بُرا نقصان ان خواتین کے چہرے دیکھ کر معلوم ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں ایک لڑکی جونہی چھبیس یا ستائیس سال کی عمر کراس کرتی ہے اور اگر اُس کی شادی ہو چکی ہے تو وہ لڑکی لڑکی نہیں لگتی بلکہ خالہ بن چکی ہوتی ہے۔

اُس کے چہرے کے خدوخال ہی لڑکی جیسے نہیں رہتے ہیں۔ حالانکہ آپ کو چالیس سال تک کی عمر تک جوان دکھنا چاہیے لیکن ہماری خواتین کا بڑھاپہ تیس سال کی عمر سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ اور عموما اسی عمر سے پیٹ نکلنا شروع ہوجاتا ہے جو کہ پھر ساری عمر اندر نہیں جاتا ہے۔

اس کے علاوہ نا چلنے کی وجہ سے ان خواتین کے جوڑوں خاص کر گھٹنوں، ریڑھ کی ہڈی یا پھر کمر میں درد حد سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ ہر وقت کمرے میں بند رہنا ہے اور دھوپ نا لگنے کی وجہ سے جسم میں وٹامنز کی کمی ہونے کے ساتھ ساتھ جوڑوں کی حرکت نا ہونا ہے۔ جس کی وجہ سے مستقبل میں مزید مسائل سامنے آ جاتے ہیں۔

مزید برآں یہ خواتین حد سے زیادہ میٹھے کی شوقین ہوتی ہیں جس کی وجہ سے تیس کی عمر میں ہی انہیں شوگر یا پھر ذیابطیس بھی ہو جاتی ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ نا چلنے کی وجہ سے دل کے پٹھے اُتنے مضبوط نہیں رہتے اور گھی والی غذائیں کھانے کی وجہ سے خون میں لوتھڑے جمنا شروع ہو جاتے ہیں جو کہ بعد میں سٹروک یا دل کے دورے کی وجہ بنتے ہیں۔

اس سب سے ہٹ کر چلنے کی وجہ سے آپ کی عمر بڑھتی ہے۔ وہیں چلنے سے آپ کے اضافی فیٹ اور کارب بھی استعمال میں آتے ہیں اور آپ کا جسم اینٹی آکسی ڈنٹس کو ریلیز کرتا ہے جن کی وجہ سے جلد کی چمک بھی بڑھتی ہے۔

انسانی جسم حرکت کے لئے بنا ہے نا کہ ایک کمرے میں قید ہونے کے لئے، اور اگر آپ سارا دن ایک جگہ بیٹھی رہتی ہیں یا کوکنگ کرتے ہوئے کھڑی رہتی ہیں تو یہ صحت کے لئے نہایت نقصاندہ حرکت ہے۔

یہی وجہ ہے کہ شہروں کی خواتین میں موٹاپہ گاؤں کی خواتین سے زیادہ ہے اور شہروں میں ہر دس میں سے سات خواتین موٹی ہیں جبکہ گاؤں میں یہی تعداد چار یا پانچ ہے جو کہ ابھی بھی زیادہ ہے۔

اس لئے کوشش کریں کہ دن میں کم سے کم پانچ ہزار قدم ضرور چلیں۔ ورنہ آپ نا صرف خود کو ایجنگ کی طرف لیجا رہی ہیں بلکہ آپ اپنی صحت کو بھی خراب کر رہی ہیں جس کا نقصان آنیوالے سالوں میں اٹھانا پڑے گا

🇨🇦 🛻 🪝🙋‍♂️📢❗🚨کینیڈا کی زندگی کا ایک بہت ہی خوبصورت اور مثبت پہلو ہے جسے **"Canadian Spirit"** یا کینیڈین جذبہ کہا جاتا ہ...
12/31/2025

🇨🇦 🛻 🪝🙋‍♂️📢❗🚨
کینیڈا کی زندگی کا ایک بہت ہی خوبصورت اور مثبت پہلو ہے جسے **"Canadian Spirit"** یا کینیڈین جذبہ کہا جاتا ہے۔

کینیڈا کی شدید سردی اور برف باری میں یہ ایک غیر تحریری قانون بن چکا ہے کہ اگر کوئی مصیبت میں ہے تو اس کی مدد کی جائے۔ اس کی چند اہم وجوہات اور مشاہدات درج ذیل ہیں:

# # # 1. باہمی ہمدردی (Empathy)

کینیڈا میں رہنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ برف میں گاڑی پھنسنا کتنا پریشان کن ہو سکتا ہے۔ چونکہ تقریباً ہر ڈرائیور کبھی نہ کبھی اس صورتحال سے گزر چکا ہوتا ہے، اس لیے وہ دوسرے کی تکلیف کو فوراً محسوس کر لیتے ہیں۔

# # # 2. "کمیونٹی" کا احساس

جب برفانی طوفان آتا ہے، تو محلوں میں لوگ اپنے بیلچے (Shovels) لے کر باہر نکل آتے ہیں۔ اگر کوئی گاڑی سڑک کے بیچ یا موڑ پر پھنس جائے، تو اجنبی لوگ اپنی گاڑیاں روک کر دھکا لگانے یا برف ہٹانے میں مدد کرنے پہنچ جاتے ہیں۔

# # # 3. مدد کرنے کے طریقے

لوگ صرف دھکا ہی نہیں لگاتے، بلکہ اکثر کینیڈینز کی گاڑیوں میں ہنگامی سامان موجود ہوتا ہے جیسے:

* **برف ہٹانے والا بیلچہ (Snow Shovel)**
* **ٹریکشن میٹس (Traction Mats)** یا ریت کی تھیلیاں
* **جمپ اسٹارٹ کیبلز (Jumper Cables)**

# # # 4. انسانیت اور حفاظت

سخت سردی میں گاڑی کا پھنسنا بعض اوقات خطرناک بھی ہو سکتا ہے (خاص طور پر اگر درجہ حرارت منفی 20 یا 30 سے نیچے ہو)۔ اس لیے لوگ اسے محض ایک اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ ایک انسانی ضرورت سمجھتے ہیں تاکہ کوئی ٹھنڈ میں زیادہ دیر باہر نہ رہے۔

---

**ایک دلچسپ بات:**
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ گاڑی نکالنے کے بعد جب ڈرائیور شکریہ ادا کرنے کے لیے رکتا ہے، تو مدد کرنے والے مسکرا کر ہاتھ ہلاتے ہیں اور بغیر کسی صلے کی امید کے اپنے راستے پر چل دیتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو کینیڈا کے معاشرے کو خاص بناتی ہے۔

ہم اکثر اپنی بیٹیوں کو سکھاتے ہیں کہ آواز نیچی رکھو، گھر کے کام سیکھو، برداشت کرنا سیکھو اور دوسروں کی عزت کا خیال رکھو۔...
12/30/2025

ہم اکثر اپنی بیٹیوں کو سکھاتے ہیں کہ آواز نیچی رکھو، گھر کے کام سیکھو، برداشت کرنا سیکھو اور دوسروں کی عزت کا خیال رکھو۔ لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جس معاشرے میں ان بیٹیوں نے رہنا ہے، وہاں ان کا واسطہ انہی بیٹوں سے پڑنا ہے جنہیں ہم نے اکثر "کھلی چھوٹ" دے رکھی ہوتی ہے۔

عزت دینا سکھائیں: بیٹے کو سکھائیں کہ عورت (چاہے وہ ماں ہو، بہن ہو، بیوی ہو یا راہ چلتی کوئی انجان خاتون) کوئی کھلونا یا کم تر مخلوق نہیں، بلکہ احترام کے لائق انسان ہے۔ اسے بتائیں کہ مردانگی طاقت دکھانے میں نہیں، بلکہ کمزور کو تحفظ دینے میں ہے۔

گھریلو ذمہ داریوں میں حصہ ڈالیں کچن صرف عورتوں کے لیے نہیں ہے۔ اپنے بیٹے کو اپنا گلاس خود اٹھانا، بستر تہہ کرنا اور چھوٹے موٹے کھانے بنانا سکھائیں۔ اسے احساس دلائیں کہ گھر کی ذمہ داری بانٹنا "عورتوں والا کام" نہیں بلکہ ایک ذمہ دار انسان کی نشانی ہے۔

جذبات کا اظہار مثلاً "مرد روتے نہیں ہیں" جیسے جملوں سے بیٹے کی تربیت نہ کریں۔ اسے بتائیں کہ دکھ، درد اور ہمدردی محسوس کرنا انسانیت ہے۔ جب ایک بیٹا ہمدردی (Empathy) کرنا سیکھے گا، تبھی وہ ایک اچھا باپ، شوہر اور بھائی بن سکے گا۔

بیٹی کو پردے کی تلقین ضرور کریں، لیکن بیٹے کو قرآن کا وہ حکم یاد دلائیں جو "اپنی نظریں نیچی رکھنے" سے شروع ہوتا ہے۔ اسے سکھائیں کہ حیا صرف عورت کا زیور نہیں، مرد کا بھی وقار ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بیٹیاں محفوظ رہیں اور خوشحال گھر بسائیں، تو ہمیں ایسے "بیٹے" تیار کرنے ہوں گے جو عورت کی قدر کرنا جانتے ہوں۔ تربیت کا رخ صرف بیٹی کی طرف موڑ دینا ایسا ہی ہے جیسے آپ ایک پودے کی تو خوب تراش خراش کریں لیکن جس زمین میں اسے لگانا ہے، اس کی بنجر پن کا علاج نہ کریں۔

یاد رکھیں: ایک باکردار بیٹا پورے خاندان کا سر فخر سے بلند کرتا

There’s a moment many of you know too well but don’t always have words for. You try to talk about something that hurt yo...
12/30/2025

There’s a moment many of you know too well but don’t always have words for.

You try to talk about something that hurt you, not to argue or accuse, just to be honest and clear.
But instead of being met with presence, the conversation gets flipped. Suddenly you’re told you’re too sensitive, overthinking, creating problems, or imagining things.

And before you know it, you’re questioning yourself instead of the issue you raised.

But here’s the truth most people don’t realize until they’ve done real inner work. When you’ve developed strong self-awareness, intuition and discernment,

- you begin to recognize patterns quickly.
- You can feel when something is being avoided.
- You can tell when accountability is being deflected. - You notice when someone would rather rewrite the story than sit with discomfort and look at themselves honestly.

You can’t gaslight someone who is grounded in their awareness. You can’t convince them they’re the problem when they are capable of holding space for uncomfortable conversations.
What often happens instead is that people who are unwilling to face themselves try to make your clarity seem like the issue. Not because you’re wrong but because your awareness disrupts the version of reality they’re trying to protect.

Avoiding hard conversations isn’t emotional maturity, and it isn’t peace. It’s ego defense. And when someone can’t meet honesty with honesty, they will often label your truth as aggression, sensitivity or drama.

If this speaks to you, let it land gently.
- You are not difficult for wanting clarity.
- You are not wrong for naming patterns you’ve observed.
- You are not asking for too much by expecting emotional presence and accountability.

Discernment is the natural result of self-reflection.

Sometimes the most grounded, spiritual choice you can make is to stop explaining yourself to people who are not willing to listen, not because they can’t hear you but because they refuse to face themselves.

‏قیامت کی ٹیکنالوجیسائنس نے 1400 سال بعد قرآن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے.تحریر: اسٹرائیکر راجپوت  کیا ہم غلط عضو (Organ) سے...
12/30/2025

‏قیامت کی ٹیکنالوجی

سائنس نے 1400 سال بعد قرآن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے.

تحریر: اسٹرائیکر راجپوت

کیا ہم غلط عضو (Organ) سے سوچ رہے ہیں؟

بات صرف دماغ (Brain) تک محدود نہیں ہے، کہانی اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔

جدید سائنس نے ابھی حال ہی میں نیورو کارڈیالوجی دریافت کی ہے۔

ڈاکٹرز حیران ہیں کہ انسانی دل میں بھی 40,000 سے زائد نیورونز (Neurons) ہیں یعنی دماغ کے سیلز-سائنسدان اب کہہ رہے ہیں کہ دل صرف خون پمپ کرنے والی موٹر نہیں، بلکہ یہ سوچتا ہے، محسوس کرتا ہے اور فیصلے لیتا ہے۔اب ذرا 1400 سال پیچھے مڑ کر دیکھو

قرآن نے دماغ کا ذکر نہیں کیا، بلکہ بار بار "دل" کو سمجھنے کا مرکز کہا

"لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا"

(ان کے پاس دل ہیں لیکن وہ ان سے سمجھتے نہیں ہیں۔) (القرآن، الاعراف: 179)

ہمارے لبرل دوست مذاق اڑاتے تھے کہ دل تو صرف پمپ ہے، سوچتا تو دماغ ہےآج وہی گورے سائنسدان بتا رہے ہیں کہ دل کی "الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ" دماغ کے مقابلے میں 5000 گنا زیادہ طاقتور ہےجب آپ کا دل ذکر کرتا ہے یا کسی کے لیے نفرت پالتا ہے، تو یہ ایک ایسی مقناطیسی لہر (Magnetic Wave) چھوڑتا ہے جو کئی فٹ دور کھڑے انسان کو بھی متاثر کرتی ہے۔یہی وہ روحانی وائی فائی ہے جسے مومن کی فراست کہا جاتا ہے۔اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی سوچ صرف ہوا میں غائب ہو جاتی ہے، تو جاپانی سائنسدان ڈاکٹر مسارو ایموٹو کی تحقیق پڑھ لیں اس نے ثابت کیا کہ پانی کی یادداشت ہوتی ہے۔ اگر پانی پر اچھی بات (Good Intentions) بولی جائے، تو مائیکروسکوپ کے نیچے اس کے کرسٹلز ہیرے جیسے خوبصورت بن جاتے ہیں اور اگر پانی کو گالیاں دی جائیں یا بری نیت سے دیکھا جائے، تو اس کی شکل بگڑ کر بدصورت ہو جاتی ہے۔اب سمجھ آیا کہ ہم بیمار پر پانی دم کیوں کرتے ہیں؟ یا زمزم میں شفاء کیوں ہے؟ انسانی جسم 70 فیصد پانی ہے۔ جب آپ اپنے بارے میں یا دوسروں کے بارے میں منفی سوچ رکھتے ہیں، تو دراصل آپ اپنے جسم کے پانی کا مالیکیولر سٹرکچر تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔حسد اور کینہ صرف گناہ نہیں، یہ سیلف ڈسٹرکشن کا بٹن ہے جو آپ خود دباتے ہیں۔اب میں آپ کے سامنے وہ حقیقت رکھنے جا رہا ہوں جسے سن کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری سوچ ہماری ذاتی ملکیت ہے اور ہمارے دماغ کے اندر محفوظ ہے۔

نا جی غلط! سراسر غلط! میرے فیورٹ سائنٹسٹ نکولا ٹیسلا نے 1933ء میں کہا تھا کہ انسان کے خیالات دراصل انرجی ہیں اور انہیں تصویر میں بدلا جا سکتا ہے۔ سائنس اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ دماغ کے الیکٹریکل سگنلز کو ڈی کوڈ کیا جا سکتا ہےلیکن ہم ابھی تک اسکولوں میں نیوٹن کے سیب گرنے کی کہانی پڑھ رہی ہیں، جبکہ مغرب ایسی مشین بنا رہا ہے جو آپ کے دماغ کو اسکینکر کے آپ کے خیالات کو اسکرین پر دکھا دے گا

آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن اور حدیث نے 1400 سال پہلے اس تھوٹ ٹیکنالوجیکے بارے میں کیا کہا تھا

رسول اللہ ﷺ کی مشہور ترین حدیث ہے "إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ"

(اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔)

(صحیح بخاری: 1)

ہم نے اسے صرف ایک اخلاقی جملہ سمجھالیکن ٹیسلا کی تھیوری کی روشنی میں دیکھیں تو یہ کوانٹم فزکس ہے۔عمل مادی دنیا (Physical World) ہے۔

نیت (Intention/Thought) یہ فریکوئنسی (Frequency/Energy) ہے۔ٹیسلا کہتا ہے کہ خیال ایک انرجی ہے۔جب آپ کوئی نیت کرتے ہیں، تو آپ کے دماغ سے ایک خاص ویو لینتھ (Wavelength) نکلتی ہے۔اگر آپ کا عمل بہت بڑا ہو لیکن اس کے پیچھے نیت کمزور یا گندی ہو، تو کائنات میں اس کا وزن نہیں ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں (خیالات کے مرکز) کو دیکھتا ہے۔ ہماری سوچیں خلا میں ضائع نہیں ہو رہیں، وہ ایک الیکٹریکل دستخط چھوڑ رہی ہیں۔

ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ دو فرشتے (کراماً کاتبین) ہمارے کندھوں پر بیٹھے لکھ رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شاید ان کے پاس کوئی رجسٹر اور پینسل ہے۔خدا کے لیے! فرشتوں کی ٹیکنالوجی کو ہماری پرانی عقل سے مت تولیں

قرآن کہتا ہے:

"مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ"

(وہ کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان تیار ہوتا ہے۔) (القرآن، ق: 50:18)

اور سورۃ الجاثیہ میں فرمایا:

"هَذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ ۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ"

(یہ ہماری کتاب ہے جو تمہارے بارے میں سچ سچ بول رہی ہے (Dataبیشک ہم لکھواتے جاتے تھے جو تم کرتے تھے۔)

(القرآن، الجاثیہ: 45:29)

یہ نستنسخ کا لفظ بہت اہم ہے۔

اگر انسان (ٹیسلا اور آج کی AI) ایسی مشین بنا سکتا ہے جو دماغ کی لہروں کو تصویر میں بدل دے، تو کیا اللہ کا نظام آپ کی پوری زندگی کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ نہیں کر رہا؟ ‏قیامت کے دن جب اعمال نامہ پیش ہوگا، تو وہ 4K Video کی طرح آپ کے سامنے چلے گا "فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ"

(پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔)

(القرآن، الزلزال) یہاں پڑھنے کا نہیں، دیکھنے (Visualizing) کا ذکر ہے۔ ٹیسلا کی تھوٹ فوٹوگرافی دراصل قیامت کے دن کی ٹیکنالوجی کا ایک ادنیٰ سا ٹریلر ہے۔کیوں سسٹم چاہتا ہے کہ یہ طاقت صرف ان کے پاس ہو۔ آج ایلون مسک کا Neuralink کیا کر رہا ہے؟ وہ آپ کے دماغ میں چپ لگا کر آپ کی سوچ کو پڑھنا چاہتا ہے۔ یہ دجال کا سب سے بڑا ہتھیار ہوگااگر وہ آپ کی سوچ پڑھ سکتے ہیں، تو وہ آپ کی سوچ بدل بھی سکتے ہیں وہ آپ کو مجرم قرار دے دیں گے اس سے پہلے کہ آپ کوئی جرم کریں جیسا کہ مغرب کی فلموں میں دکھایا جاتا ہے۔ یہ ہے وہ فتنہ جس کے لیے ہمیں تیار ہونا تھا۔ لیکن ہمارا نوجوان کیا کر رہا ہے؟

وہ ٹک ٹاک پر ناچ رہا ہےیہاں میں پھر اپنے گلے سڑے تعلیمی نظام پر لعنت بھیجتا ہوں ہمیں اسکولوں میں کیا پڑھایا جا رہا ہے؟رٹہ سسٹم

ڈارون کا بندر۔ انگریز کی تاریخ

ہمیں یہ کیوں نہیں پڑھایا جاتا کہ انسان ایک ٹرانسمیٹر ہے؟

ہمیں تزکیہ نفس کی سائنس کیوں نہیں پڑھائی جاتی؟

کیونکہ اگر مسلمان کو پتہ چل گیا کہ اس کی پاکیزہ سوچ لیزر بیم کی طرح طاقتور ہے، تو وہ ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہو جائے گا

صحابہ کرامؓ کی سوچ میں اتنی طاقت تھی کہ حضرت عمرؓ مدینہ میں ممبر پر کھڑے ہو کر میلوں دور ساریہؓ کو فرماتے ہیں

"یا ساریہ الجبل"

(اے ساریہ پہاڑ کی طرف ہو جاؤ!)

اور ان کی آواز وہاں سنی جاتی ہے۔

یہ ٹیلی پیتھی یا تھوٹ ٹرانسفر تھا جو ایمان کی طاقت سے پیدا ہوتا تھا۔ ہم نے وہ سائنس کھو دی اور آج ہم سمارٹ فون کے غلام بن گئے

میرے مسلمان ساتھیو آپ کا دماغ کوڑے دان نہیں ہے۔ اس میں جو خیال آتا ہے، وہ ریکارڈ ہو رہا ہے اور اس کا اثر کائنات پر پڑ رہا ہے۔

ٹیسلا کی تھیوری ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ غیب کی دنیا حق ہے۔

اپنی سوچوں کی حفاظت کرو۔

اپنے خیالات کو دجالی میڈیا کے حوالے مت کرو۔

قرآن کو سائنس کی کتاب سمجھ کر پڑھو، تاکہ تم اس آنے والے ذہنی غلامی کے دور میں آزاد رہ سکو۔

اُٹھو! اور اپنی روحانی فریکوئنسی کو اتنا مضبوط کرو کہ کوئی دجالی مشین اسے ہیک نہ کر سکے

حرام کی کمائیشروع سے آخر تک ایکبار پڑھیں اور اپنے بچوں کو پڑھائیں۔ دل کی کیفیت بدل جائے گی ان شاءاللہ :ﺟﺐ میں ﺍﭘﻨﮯ استاد...
12/29/2025

حرام کی کمائی

شروع سے آخر تک ایکبار پڑھیں اور اپنے بچوں

کو پڑھائیں۔ دل کی کیفیت بدل جائے گی ان شاءاللہ :

ﺟﺐ میں ﺍﭘﻨﮯ استاد ( شیخ )

ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﭘﺮ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ،

ﻣﯿﮟ ﺑﺤﺮﯼ ﺟﮩﺎﺯﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮈﻧﮓ ﺍﻥ ﻟﻮﮈﻧﮓ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ

ﺩﻥ ﮐﯽ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺘﻨﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﮐﻤﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﻣﯿﺮﺍ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺩﻭ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺭﻗﻢ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﻗﯽ ﮐﻤﺎﺋﯽ ﺧﯿﺮﺍﺕ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔



ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ان سے ﺍﺱ ﺣﮑﻤﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﭘﻮﭼﮭﯽ، ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﮯ : ﺗﻢ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻭ ، ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ۔

ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﻣﺎﮦ ﻟﻮﮈﻧﮓ ﺍﻥ ﻟﻮﮈﻧﮓ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ، ﻣﯿﺮﺍ ﻭﻇﯿﻔﮧ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ: ”

ﺗﻢ ﺁﺝ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﺟﺎﺅ ۔ ﮐﺎﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺟﮭﻮﭦ ﻣﻮﭦ ﮐﮯ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﭘﮍ ﺟﺎﻧﺎ، ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﮐﺎﻡ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮧ ﻟﮕﺎﻧﺎ ‘ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﻟﯿﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺟﺎﻧﺎ “

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺷﯿﺦ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﯿﺎ، ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩ ﮐﺎ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﮔﻮﺩﯼ ﭘﺮ ﻟﯿﭩﺎ ﺭﮨﺎ، ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁ ﮔﯿﺎ، ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺗﻢ ﺍﺏ ﺩﻭ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﻗﻢ ﺧﯿﺮﺍﺕ ﮐﺮ ﺩﻭ ۔

ﺁﭖ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﯾﮟ ﻭﮦ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﻣﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻼ ﺩﻥ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺧﯿﺮﺍﺕ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮦ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺩﻥ ﺧﻮﺏ ﺳﯿﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﻮﮎ ﺧﺘﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﮐﻨﮉﯼ ﻟﮕﺎﺋﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﺑﯿﭻ ﮐﺮ ﺳﻮﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﯿﻨﺪ ﻣﮑﻤﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ۔

ﻣﺠﮭﮯ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﺑﻮ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﭘﺮ ﭘﺮﻓﯿﻮﻡ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﭘﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﻟﺬﺕ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ۔

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺷﯿﺦ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﮐﯿﻔﯿﺎﺕ ﺑﺘﺎئی۔

ﻭﮦ ﮨﻨﺲ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﮯ : ﺑﯿﭩﺎ ﯾﮧ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﺎ ﮐﻤﺎﻝ ﮨﮯ۔ ﺣﺮﺍﻡ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻮﮨﺮ ﺍﮌﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ، ﺁﭖ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ: ﺟﻼﻝ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﮭﻮﮎ ﺑﮍﮬﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻧﯿﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺗﻨﮓ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺳﻮﭺ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﻮ ﭘﮭﯿﻼ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺭﻭﺡ ﺳﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ۔

ﻣﯿﺮﮮ شیخ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎیا : ﺁﭖ ﮐﻮ ﺁﺝ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﮐﺎ ﺣﺮﺍﻡ 40 ﺩﻥ ﺳﺘﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔

ﺁﭖ ﺍﻥ 40 ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮﭦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﯽ ﻣﺎﺋﻞ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ،

ﺁﭖ ﻏﯿﺒﺖ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ،

ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻻﻟﭻ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ،

ﺁﭖ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ،

ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﻣﯿﺮ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﮔﯽ،

ﻣﯿﮟ ﮈﺭ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ :

ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﺍﻥ ﺑﺮﮮ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﺎ

ﭼﺎﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ ؟

ﻭﮦ ﺑﻮﻟﮯ: ” ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻮ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻭ ۔ ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ “

ﺍﻧﮩﻮﮞ ﺳﺮ ﮨﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ :

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ریاضت ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﻮ ﺳﯿﮑﮭﺎ ، ﻭﮦ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﯾﮧ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﺍﯾﮏ ﺻﻨﺪﻭﻕ ﮨﮯ ، ﺍﺱ ﺻﻨﺪﻭﻕ ﭘﺮ ﺍﺳﺮﺍﺭ ﮐﺎ ﻣﻮﭨﺎ ﺗﺎﻻ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ ، ﯾﮧ ﺗﺎﻻ ﺍﯾﮏ ﺍﺳﻢ ﺍﻋﻈﻢ ﺳﮯ ﮐﮭﻠﺘﺎ ﮨﮯ۔

ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺳﻢ ﺍﻋﻈﻢ ﮨﮯ ﺣﻼﻝ ، ﺁﭖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺣﻼﻝ ﺑﮍﮬﺎﺗﮯ ﺟﺎﺅ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﺎ ﺻﻨﺪﻭﻕ ﮐﮭﻠﺘﺎ ﭼﻼ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ “۔

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ: ” ﺍﻭﺭ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﯽ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ “

ﻭﮦ ﺑﻮﻟﮯ: ” ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﮨﺮ ﻭﮦ ﭼﯿﺰ ﺟﺴﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ، ﺳﻨﻨﮯ ، ﭼﮑﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻻﻟﭻ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ۔

ﺁﭖ ﺍﺱ ﺣﺮﺍﻡ ﺳﮯ ﺑﭽﻮ ،

ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﻮ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﺑﻨﺎ ﺩﮮ ﮔﺎ ،

ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺍﺟﺎﮌ ﺩﮮ ﮔﺎ ، تباہ کردیگا ، ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺟﻮﮨﺮ ﮐﺮ ﺩﮮ ﮔﺎ، بے قیمت کردیگا آپنے گھر میں آپنے پڑوس میں اور پورے دنیا میں پھر معاشرے میں آپ کی کوئی اہمیت ہی نہ رہیگی۔ اور آپ کے چہرے کی رونق ختم ہوجائیگی ۔۔۔

Address

Milton
Toronto, ON

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Soul Connection posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Soul Connection:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram