25/01/2023
https://www.facebook.com/100063959472672/posts/580556624086315/?sfnsn=scwspmo&mibextid=6aamW6
زندگی خدا کی امانت ہے جب چاہے واپس لے لے۔ڈاکٹر موت کو ٹال نہی سکتا لیکن زندگی بچانے کا سبب ضرور ہے۔
چند دن قبل ایک بچہ کے والد کو سکول سے فون ایا کہ بچہ کو سانس
لینے میں دقت ہو رہی ہے۔والد فوری اپنے کام چھوڑ کر سکول بھاگا تو اسکا نور چشم بے سدھ لیٹا اور موت و حیات کی کشمکش میں تھا ایسا لگتا تھا کہ اسکی سانسوں کی لڑی ٹوٹ چکی ہے اور بمشکل چند سانسوں کا مہمان ہے۔اس نے اپنے چار سالہ بچے کو ہاتھوں پر اٹھایا اور فوری ہسپتال بھاگا اور چشم تصور میں اسنے اسکے چار سالوں میں ایک ایک دن اسکے ساتھ گزرے ہنستے مسکراتے کھیلتے اور چلنے پھرنے گرنے اور لڑکھڑا کر چلنا سیکھنے کےسارے مناظر کو یاد کر رہا تھا اسکی پہلی منزل سول ہسپتال کی ایمر جنسی تھی۔ خوش قسمتی سے یہ دن کا وقت تھا اور بچوں کے تمام ڈاکٹر موجود تھے۔شعبہ بچگان کے سربراہ ڈاکٹر شعیب کو اطلاع دی گئی تو وہ فوری دوڑے دوڑے آئے تو خوش قسمتی سے سانسوں کی مالا ابھی ٹوٹی نہی تھی اور بچے کا رنگ نیلا پڑ گیا تھا اور وہ انکھیں بند کر کے بے سدھ پڑا تھا ڈاکٹر صاحب نے فوری اپنی ٹیم کو متحرک کیا اور سانس کو بحال کرنے کی کوشش میں لگ گئے۔ابتدائی کاوش سے کچھ سانس بحال ہوئی اور بچے نے انکھیں کھولیں اور شدید کھانسی کرنے لگا۔والدین کی جان میں جان ائی لیکن یہ خوشی چند لمحوں کی تھی کچھ منٹ بعد پھر سانس اکھڑنے لگی پھر ڈاکٹر صاحب کو بلایا اور سانس کو دوبارہ بحال کیا اور ٹیوب ڈال کر مصنوعی سانس پر لگا دیا۔ڈاکٹر صاحب کا اندازہ ہو گیا تھا کہ کوئی چیز سانس کی نالی میں اگئی ہے جس سے سانس میں رکاوٹ ہے اب اسکو نکالنے کی جتنی کوشش کی جا سکتی تھی وہ کی ۔سرجن ڈاکٹر حسیب صاحب کو بلایا گیا انہوں نے بھی اپنے بہت کوشش کی لیکن بے سود۔اب اگلا مرحلہ تھا کہ بچہ کی سانس کی نالی سے کیسے یہ بیرونی نا معلوم چیز نکالی جائے۔ڈاکٹر شعیب نے زاتی توجہ اور کاوش سے الائیڈ ہسپتال میں رابطہ کیا پرائیویٹ ڈاکٹر صاحبان سے بات ہوئی لیکن بد قسمتی سے فیصل اباد جیسے پاکستان کے مانچسٹر کہلانے والے شہر میں کسی بھی جگہ بچوں کی برونکوسکوپ نہ مل سکی جہاں یہ کام کیا جا سکے۔پھر لاہور میں رابطہ شروع ہو گیا وہاں چلڈرن ہسپتال میں موجودگی کی اطلاع ملی اب یہاں سے لاہور سانس کی اس کشمکش میں کیسے جایا جائے۔سلام ہے اس بے لوث ڈاکٹر پر جس نے اپنی بساط سے زیادہ کام کیا اور زاتی روابط کے زریعہ وہاں موجود ڈاکٹر کو حاضر رہنے کی یقین دہانی کروائی اور صرف یہ نہی بلکہ ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے یہ ثابت کیا کہ ڈاکٹر صرف پیسے کمانے کے لیئےنہی ہوتے بلکہ حقیقی مسیحا ہوتے ہیں۔ڈاکٹر شعیب نے سی ای ہیلتھ ڈاکٹر مشتاق صاحب سے گزارش کر کے ریسکیو کی ایمبولینس کا انتظام کروایا اس سے اگے بڑھ کر اس مرد قلندر نے یہ بھی فیصلہ لیا کہ میں خود بچے کے ساتھ ایمبولینس میں لاہور جاونگا تا کہ رستے میں بچے کی سانس کو بوقت مجبوری مصنوعی طریقہ سے چلایا جا سکے۔یقین مانیے بطور ڈاکٹر ہم روزانہ مریضوں کو دیکھتے ہیں ریفر کرتے ہیں ہمارا اتنا ہی کام ہوتا ہے لیکن زندگی میں ایسے خال خال ہی لوگ ہیں جو اپنی زات کو پیچھے چھوڑ کر دوسرے کی زندگی کی جنگ میں اس قدر بے لوث ہو جائیں۔ڈاکٹر صاحب نے اپنا زاتی کلینک بند کیا اور دنیاوی نقصان برداشت کیا لیکن اخرت کا ایک ایسا نہ ختم ہونے والا زخیرہ اکٹھا کر لیا جو کبھی ختم نہ ہو گا۔
قصہ مختصر لاہور کے راستہ میں مصنوعی سانسوں پر بچے کو چلا کر چلڈرن ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹر شعیب صاحب کے دوست ڈاکٹر صاحب انتظار میں تھے اور فوری بچے کو اپریشن تھیٹر شفٹ کر کے سانس کی نالی میں سے کیمرے کے زریعے ایک سیپاری کا ٹکڑا برآمد ہوا اور بچہ خیر خیریت سے اپنی سانسوں پر واپس بحال ہوا اور ڈاکٹر صاحب نے بچہ ماں باپ کے حوالے کیا اور رات کے اخری پہر واپس گھر کی راہ لی۔خدا کے ایسے ولی لمبے جبے اور رنگدار پگڑیوں ہٹو بچو والے مریدوں کے جھرمٹ کے
بغیر عوام کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں لیکن یقینا ان بے لوث ہستیوں کی وجہ سے قوم چل رہی ہے ورنہ اس ناو میں چھید کرنے والے زیادہ اور پار لگانے والے تھوڑے ہیں۔
میری حکام اعلی سے اپیل ہے کہ ایسے فرض شناس ڈاکٹر کی حوصلہ افزائی کے لیئے اعلی سول اعزاز سے نوازا جائے۔یقینا خدا کے حضور اس کی یہ کاوش مقبول ہو گئی تو اسکی نجات کے لیئے کافی ہوگی۔
تحریر ڈاکٹر حذیفہ