Dr Abbas khan yousafzai

Dr Abbas khan yousafzai Dr Abbas yousafzai
(Mbbs general physician )
Doctor at PIMS Islamabad

ایسے ہی کم نہیں ہوئی بینائی آنکھ کی ۔۔۔میں نے ہر ایک خواب کی قیمت چکائی ہے   Imran KhanImran KhanAli Muhammad KhanMurad ...
12/02/2026

ایسے ہی کم نہیں ہوئی بینائی آنکھ کی ۔۔۔
میں نے ہر ایک خواب کی قیمت چکائی ہے




Imran Khan
Imran Khan
Ali Muhammad Khan
Murad Saeed

08/02/2026

The Ancient 4,500-Year-Old Tunic at the Egyptian Museum.



#


history community heritage

حَسْبِیَ اﷲُ لَآ اِلٰہَ الَّا ھُوَ عَلَیہِ تَوَکَّلْت ُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ العَظِیْمِ۔ مجھے اﷲہی کافی ہے ۔اس کے سوا ...
03/02/2026

حَسْبِیَ اﷲُ لَآ اِلٰہَ الَّا ھُوَ عَلَیہِ تَوَکَّلْت ُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ العَظِیْمِ۔ مجھے اﷲہی کافی ہے ۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں میں نے اس پر بھروسہ کیا اور وہی عرشِ عظیم کا مالک ہے (سورۃ التوبۃ :١٢٩)

یہ تصاویر لاھور سے چند کلومیٹر دور انڈیا کی ہیں جہاں ایک نیا وائرس جس کا نام نیپا وائرس ھے تیزی سے تباہی مچا رھا ھے، یہ ...
02/02/2026

یہ تصاویر لاھور سے چند کلومیٹر دور انڈیا کی ہیں جہاں ایک نیا وائرس جس کا نام نیپا وائرس ھے تیزی سے تباہی مچا رھا ھے، یہ کرونا وائرس سے ستر فیصد زیادہ محلق ھے۔
نیپا وائرس (Nipah Virus) ایک خطرناک وائرل بیماری ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہے، اور انسان سے انسان میں بھی پھیل سکتی ہے۔ یہ وائرس سب سے پہلے 1998 میں ملائیشیا میں سامنے آیا تھا۔ اس کی شرحِ اموات کافی زیادہ ہو سکتی ہے، اسی لیے احتیاط بہت ضروری ہے۔
نیپا وائرس کیا ہے؟
نیپا وائرس ایک زوناؤٹک وائرس ہے، یعنی یہ جانوروں (خاص طور پر چمگادڑ) سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔
اکثر کیسز میں:
پھل کھانے والی چمگادڑ
آلودہ پھل یا کھجور کا رس
بیمار جانور (خصوصاً سور)
ذریعہ بنتے ہیں۔
نیپا وائرس کی علامات
علامات عام طور پر انفیکشن کے 5 سے 14 دن بعد ظاہر ہوتی ہیں۔
ابتدائی علامات:
بخار 🤒
سر درد
جسم میں درد
گلے میں خراش
تھکن اور کمزوری
شدید علامات:
سانس لینے میں دشواری
الٹیاں
ذہنی الجھن
غنودگی
دورے (Fits)
دماغ کی سوجن (Encephalitis)
بے ہوشی یا کوما
⚠️ شدید کیسز میں مریض کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
نیپا وائرس کیسے پھیلتا ہے؟
چمگادڑ کے لعاب یا فضلے سے آلودہ پھل کھانے سے
کچا کھجور کا رس پینے سے
متاثرہ جانوروں سے قریبی رابطہ
نیپا وائرس کے مریض کے جسمانی رطوبتوں (کھانسی، تھوک) سے
نیپا وائرس سے بچاؤ کے طریقے
ابھی تک نیپا وائرس کی کوئی مخصوص ویکسین یا مکمل علاج موجود نہیں، اس لیے احتیاط ہی سب سے بہتر حل ہے۔
احتیاطی تدابیر:
🍎 پھل اچھی طرح دھو کر کھائیں
🥭 گرے ہوئے یا کٹے پھل نہ کھائیں
🥤 کچا کھجور کا رس پینے سے پرہیز کریں
😷 بیمار شخص سے فاصلہ رکھیں
🧼 بار بار ہاتھ صابن سے دھوئیں
🐖 بیمار جانوروں سے دور رہیں
🏥 بخار اور اعصابی علامات ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں

علاج
اس بیماری کا کوئی خاص علاج نہیں
علاج صرف علامات کے مطابق کیا جاتا ہے
شدید مریضوں کو اسپتال میں داخل کرنا ضروری ہوتا ہے

💞💞💞💞💞💝💐
16/01/2026

💞💞💞💞💞💝💐

05/01/2026

افسوس سے احتیات بہتر ہیں

.جب ڈاکٹر خاموش ہو جاتا ہےپاکستان میں اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ڈاکٹر بولتا کیوں نہیں، سچ سامنے کیوں نہیں لاتا، یا ہر الز...
02/01/2026

.جب ڈاکٹر خاموش ہو جاتا ہے

پاکستان میں اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ڈاکٹر بولتا کیوں نہیں، سچ سامنے کیوں نہیں لاتا، یا ہر الزام کا جواب کیوں نہیں دیتا۔ مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ ڈاکٹر خاموش کیوں ہو جاتا ہے۔

شروع میں ڈاکٹر بولتا ہے۔ وہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہے، مریض کو وقت دیتا ہے، رشتہ داروں کو حالات بتاتا ہے، نظام کی کمزوریوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مگر آہستہ آہستہ وہ سیکھ لیتا ہے کہ یہاں بولنے کی قیمت بہت زیادہ ہے۔

اگر وہ سچ بولے تو ویڈیو بن جاتی ہے۔
اگر وہ تاخیر کی وجہ بتائے تو الزام آ جاتا ہے۔
اگر وہ نظام کی بات کرے تو کہا جاتا ہے بہانے بنا رہا ہے۔

یوں ایک وقت آتا ہے جب ڈاکٹر بولنا چھوڑ دیتا ہے۔

یہ خاموشی غرور کی نہیں ہوتی، یہ خوف کی ہوتی ہے۔ خوف کہ کہیں بات کو غلط نہ سمجھ لیا جائے۔ خوف کہ کہیں ہجوم نہ اکٹھا ہو جائے۔ خوف کہ کہیں ایک جملہ اس کے خلاف ثبوت نہ بن جائے۔

خاموش ڈاکٹر مریض سے کم بات کرتا ہے۔
وہ کم وضاحت دیتا ہے۔
وہ مشکل فیصلہ لینے سے پہلے کئی بار رک جاتا ہے۔

یہ سب اس لیے نہیں کہ اسے پرواہ نہیں، بلکہ اس لیے کہ اسے اپنی اور اپنے عملے کی حفاظت کی فکر ہوتی ہے۔

مگر اس خاموشی کا نقصان ہوتا ہے۔ مریض کو پوری بات سمجھ نہیں آتی۔ اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ فاصلے بڑھتے ہیں۔ اور نظام مزید ٹوٹتا ہے۔

یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب علاج انسانوں کے درمیان نہیں رہتا، بلکہ فائلوں اور رپورٹس تک محدود ہو جاتا ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ڈاکٹر کی خاموشی مسئلہ نہیں، ایک علامت ہے۔ یہ علامت ہے ایک ایسے نظام کی جہاں بولنے والا غیر محفوظ ہو، اور خاموش رہنے والا محفوظ۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ڈاکٹر کھل کر بات کرے، سچ بتائے، اور بہتر فیصلے کرے، تو ہمیں اسے تحفظ دینا ہوگا۔ عزت دینی ہوگی۔ اور یہ یقین دلانا ہوگا کہ اس کی بات سنی جائے گی، اسے سزا نہیں دی جائے گی۔

یہ بات بطور ڈاکٹر نہیں، بطور شہری کہنی ضروری ہے:

خاموش ڈاکٹر خطرناک نہیں ہوتا،
مگر وہ نظام جو ڈاکٹر کو خاموش کر دے،
وہ سب کے لیے خطرناک ہوتا ہے۔

صحت اعتماد سے چلتی ہے۔
اور اعتماد خاموشی میں نہیں، تحفظ میں جنم لیتا ہے۔

از قلم:
ڈاکٹر سید شکیل بادشاہ

01/01/2026

آنکھوں سے خواب دل سے تمنا تمام شد
تم کیا گئے کہ شوق نظارہ تمام شد

کل تیرے تشنگاں سے یہ کیا معجزہ ہوا
دریا پہ ہونٹ رکھے تو دریا تمام شد

دنیا تو ایک برف کی سل سے سوا نہ تھی
پہنچی دکھوں کی آنچ تو دنیا تمام شد

شہر دل تباہ میں پہنچوں تو کچھ کھلے
کیا بچ گیا ہے راکھ میں اور کیا تمام شد

عشاق پر یہ اب کے عجب وقت آ پڑا
مجنوں کے دل سے حسرت لیلیٰ تمام شد

ہم شہر جاں میں آخری نغمہ سنا چلے
سمجھو کہ اب ہمارا تماشا تمام شد

اک یاد یار ہی تو پس انداز ہے حسنؔ
ورنہ وہ کار عشق تو کب کا تمام شد









“دسمبر مجھے راس نہیں آتا”کئی سال گزرے کئی سال بیتے شب و روز کی گردشوں کا تسلسلدل و جان میب سانسوں کی پرتیں الٹے ہوئے زلز...
31/12/2025

“دسمبر مجھے راس نہیں آتا”

کئی سال گزرے
کئی سال بیتے
شب و روز کی گردشوں کا تسلسل
دل و جان میب سانسوں کی پرتیں الٹے ہوئے
زلزلوں کی طرح ہانپتا ہے
چٹختے ہوئے خواب
آنکھوں کی نازک رگیں چھیلتے ہیں
مگر میں اک سال کی گود میں جاگتی صبح کو
بے کراں چاہتوں سے اٹی زندگی کی دعا دے کر
اب تک وہی جستجو کا سفر کررہی ہوں
گزرتا ہوا سال جیسا بھی گزرا
مگر سال کے آخری دن
نہایت کٹھن ہیں

میرے ملنے والو!

نئے سال کی مسکراتی ہوئی صبح گر ہاتھ آئے
تو ملنا
کہ جاتے ہوئے سال کی ساعتوں میں
یہ بجھتا ہوا دل
دھڑکتا تو ہے مسکراتا نہیں
دسمبر مجھے راس آتا نہیں

‏اس بچی کا نام عفرین گل ہے۔  پاکستان سے تعلق رکھنے والی 13 سالہ عفرین کی زندگی کی مشکلات پر ایک نظر ڈالیں۔  ریڑھ کی ہڈی ...
21/12/2025

‏اس بچی کا نام عفرین گل ہے۔
پاکستان سے تعلق رکھنے والی 13 سالہ عفرین کی زندگی کی مشکلات پر ایک نظر ڈالیں۔
ریڑھ کی ہڈی کی ایک شدید بیماری نے اس کی گردن کو انتہائی حد تک آگے کی طرف جھکا دیا تھا۔ چلنا اس کے لیے تکلیف دہ تھا، بیٹھنا تھکا دینے والا، اور کھانا کھانا روزانہ کی جدوجہد بن چکا تھا۔ وہ مشکل سے اپنا سر اٹھا کر دنیا کو دیکھ پاتی تھی۔
پھر ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا۔ بھارت میں، دہلی کے ماہرِ ریڑھ کی ہڈی کے سرجن ڈاکٹر راجگوپال کرشنن نے اس کا کیس دیکھا اور انسانیت کی خدمت کے لیے سرحدوں کو عبور کیا۔
ایک روپیہ بھی لیے بغیر، انہوں نے اور ان کی ٹیم نے ریڑھ کی ہڈی کی سرجری کے خطرناک ترین چیلنجز میں سے ایک کا سامنا کیا۔
چار بڑے آپریشنز کے دوران، انہوں نے صبر، مہارت اور ہمدردی کے ساتھ عفرین کی حالت کو بہتر بنایا۔
چند مہینوں بعد، عفرین سیدھی کھڑی ہو گئی۔ کئی برسوں بعد پہلی بار، اس کی گردن سیدھی ہو گئی۔
عفرین آج مسکرا رہی ہے۔

(خالد یونس)

میں نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر دیکھی جس میں بینظیر بھٹو ہسپتال، راولپنڈی میں رات گئے ایک ڈاکٹر مریض کا ایکس رے دیکھتے ہو...
16/12/2025

میں نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر دیکھی جس میں بینظیر بھٹو ہسپتال، راولپنڈی میں رات گئے ایک ڈاکٹر مریض کا ایکس رے دیکھتے ہوئے میز پر پاؤں رکھ کر بیٹھا نظر آ رہا ہے۔ اس تصویر کے سامنے آنے کے بعد بہت سے لوگوں نے ڈاکٹر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

یقیناً ڈاکٹر کو بہتر رویّہ اور پیشہ ورانہ انداز اختیار کرنا چاہیے تھا، مگر کسی ایک تصویر کی بنیاد پر فیصلہ دینے سے پہلے اس کا دوسرا رخ بھی سمجھنا ضروری ہے۔

سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹر نہایت مشکل حالات میں فرائض انجام دیتے ہیں:
• غیر انسانی اور انتہائی طویل ڈیوٹی اوقات
• شدید اوور ورک اور مسلسل 30 گھنٹے تک کی ڈیوٹیاں
• آرام کے لیے مناسب اور صاف ستھری جگہوں کی عدم دستیابی
• باقاعدہ وقفے (Break Hours) کا کوئی نظام نہیں
• ایمرجنسی اوقات میں بھی او پی ڈی مریضوں کا بے ہنگم آنا
• ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں کو دھمکیاں دینا اور بدتمیزی کرنا
• وہ عزت اور احترام نہ ملنا جو دیگر سرکاری افسران کو دیا جاتا ہے
• انتظامی بدانتظامی اور ادویات کی کمی کا غصہ ڈاکٹروں پر نکالنا، حالانکہ ان معاملات میں ڈاکٹروں کا کوئی کردار نہیں
• محدود وسائل کے ساتھ کام کرنے پر مجبور کرنا
• معمولی بیماریوں پر بھی پورے خاندان کو تفصیل سے سمجھانا
• مریضوں کے مقابلے میں ڈاکٹروں کی تعداد انتہائی کم ہونا

یہ بات درست ہے کہ یہ عوامل کسی غیر مناسب رویّے کا جواز نہیں بنتے، لیکن یہ حقیقت ضرور اجاگر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر کس قدر جسمانی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔

مثالی طور پر اس ڈاکٹر کو:
• مناسب طریقے سے بیٹھنا چاہیے تھا
• پیشہ ورانہ باڈی لینگویج برقرار رکھنی چاہیے تھی
• مریض کے احترام کا واضح خیال رکھنا چاہیے تھا

مگر جب ہم ڈاکٹروں کی اصلاح کی بات کرتے ہیں تو ہمیں اس نظام کی ناکامیوں پر بھی بات کرنی چاہیے جو انہیں اس نہج تک لے آتی ہیں۔

صرف ڈاکٹروں کو موردِ الزام ٹھہرانا مسئلے کا حل نہیں۔ اگر واقعی ہم بہتر صحت کا نظام چاہتے ہیں تو ہمیں افراد کے ساتھ ساتھ پورے نظام کی اصلاح پر توجہ دینا ہوگی، نہ کہ صرف تنقید اور تضحیک پر

🩺
❤️
🤝
🏥
🚑

⚠️
⚖️
🙏
🔄
📍
📚

Address

Main Kalay
Alpurai

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Abbas khan yousafzai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Abbas khan yousafzai:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category