29/11/2025
صابر ملتانی صاحب اپنے مطب فیض باغ لاھور میں تشریف فرما تھے ۔حکیم محمد یاسین صاحب انکی شاگردی کی غرض سے وہیں موجود ھیں ۔۔۔
ایک ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سے اپنی بیوی کے ہمراہ علاج کی غرض سے آئے ۔۔
صابر صاحب کا مطب ایک گلی میں تھا جہاں کار ۔ویگن نہیں جا سکتی تھی ۔ ۔ ڈی سی صاحب نے اپنی کار دور کھڑی کی اور ڈرائیور کو بھیجا کے کہ حکیم صاحب کو یہاں بلا لائے ۔ ڈرائیور جاتا ھے حکیم صاحب کو بولتا ھے ۔۔لیکن حکیم صاحب اس کے ساتھ نہیں جاتے ۔۔اب حکیم صاحب کہتے ھیں کہ مریض کو یہاں لائیں یہاں چیک اپ ھوگا ۔ شفا خانہ یہاں ھے کار میں نہیں ھے ۔۔
ڈرائیور جاتا ھے ڈی سی صاحب کو بتاتا ھے ۔ یہ سنتے ھی ڈی سی صاحب کی بیگم غصہ میں آ جاتی ھیں ۔۔ خیر۔۔ وہ اترتے ھیں اور دوا خانے میں چلے جاتے ھیں ۔
وہاں حکیم انقلاب دوست محمد صابر ملتانی جلوہ افروز ھیں ۔۔
ڈی سی صاحب اپنا تعارف کرواتے ھیں۔ اور بتاتے ھیں میری بیگم کو چیک کروانا ھے
۔تو حکیم صاحب ۔۔ انکی بیگم سے پہلا سوال پوچھتے ھیں ۔۔ بی بی آپکا پورا نام بتائیے ۔۔۔؟؟
اب بیگم صاحبہ مزید غصہ میں آگ بگولہ ھو جاتی ھیں ۔اور کہتی ھیں آپ چیک کریں بس۔۔ میرے نام سے کیا لینا آپ نے ۔
حکیم انقلاب صاحب کا جواب سنیے۔۔۔ بی بی آپ مجھے اپنا نام بتائیں ۔میں آپکو بیماری بتاتا ھوں ۔ ۔ بیگم صاحبہ اور غصے میں آتی ھیں اور اپنے خاوند سے کہتی ھیں یہ کیسے حکیم ھیں کبھی سنا ھے کہ نام بتانے سے بیماری معلوم ھو جائے ۔۔چلو چلیں ۔یہ مجھے حکیم نہیں لگتے ۔
اس پہ ڈی سی صاحب اپنی بیگم کا نام بتاتے ھیں ۔اور۔ حکیم انقلاب صاحب فرماتے ھیں کہ میں نے آپ سے نہیں پوچھا ۔۔ میرا سوال آپکی بیوی سے ھے ۔ وہ جواب دیں گی تو میں بیماری بتائوں گا ۔۔ اب
بیوی صاحبہ۔ اور غصے میں آتی ھیں ۔۔ کہتی ھیں چلیں جی۔ میں نے یہاں سے علاج نہیں کرانا ۔ یہ حکیم ھی نہیں ھیں ۔۔۔۔۔
جاری ھے۔۔۔
اس کے بعد ڈی سی صاحب نے بیگم کو سختی سے کہا ۔بتائو آپنا نام ۔۔۔ ۔۔ پھر بیگم صاحبہ نے اپنا پورا نام بتا دیا ۔۔۔۔
بس۔۔ نام بتانا تھا۔ ۔۔ساتھ صابر ملتانی صاحب نے اسکی مرض بتا دی ۔۔
یہ استحاضہ کی مریضہ ھے ۔ حیض میں درد جلن۔ ھوتا ھے ۔دوران ج**ع درد ھوتا ھے ۔بی پی ھائی ھوتا ھے ۔ نیند کم آتی ھے ۔۔
اب۔۔۔ بس ۔ یہ سننا ھی تھا ۔کہ مریضہ خوشی سے چلا اٹھی ۔۔۔کہنے لگی حکیم صاحب آپ نے سچ بتایا مجھے ۔۔ میں ان ھی علامات میں مبتلا ھوں۔۔۔
اب علاج ھوگا تو آپ ھی سے کروائوں گی ۔۔۔
پہلا حکیم دیکھا ھے جو بغیر چیک اپ صرف۔نام پوچھنے سے مرض بتا دیتا ھے ۔۔ آپ تو فرشتہ صفت انسان ھو ۔
بیگم صاحبہ ۔ نے التجا کی ۔حکیم صاحب ۔ ایک بات بتائیے ۔۔ نام بتانے ۔ کے اندر کیا جادو ھے ۔۔
کہ آپ نے حیض تو رہا ایک طرف ۔ دوران ج**ع درد کا بھی بتا دیا ۔ ۔ واہ ۔کیا علم ھے ۔کیا دانائی ھے ۔ ۔
یہ غالباً ۔ 1966 کا واقع ھے جب سونا ۔3 -4 سو روپے تولہ تھا ۔ تو حکیم صاحب 2-3روپے کی ھفتہ کی دوائی دیتے تھے
جبکہ اس زمانہ میں وہ حکیم صاحب کو بطور انعام 3000 روپے دے گئے ۔۔
جب وہ چلے گئے ۔تو والد صاحب حکیم یاسین صاحب نے استاد جی سے دریافت کیا ۔۔کہ نام بتانے میں کیا جادو ھے ۔
تو استاد صاحب نے بتایا ۔
مریضہ کا غصہ کرنا
جزباتی پن ۔۔جوشیلا پن۔یہ غدی عضلاتی مزاج کی علامت ھے ۔ ۔ یہی علامات سے اندازہ لگایا کہ یہ ان امراض میں مبتلا ھے ۔ جو سچ ثابت ھوا ۔۔۔۔ تمت بالخیر
دوست محمد صابر ملتانی ۔۔
زندہ باد۔۔ پائندہ باد