28/01/2026
بہت افسوس اور دکھ کے ساتھ یہ خبر دل پر بجلی بن کر گری ہے کہ جناب میاں محمد افضل وٹو ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آج ہم سے رخصت ہو گئے۔
انا للّٰہ وانا الیہ راجعون
واقعی ایک سنہری عہد اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔
جناب میاں محمد افضل وٹو نہ صرف فوجداری قانون کے بے تاج بادشاہ تھے بلکہ عملی سیاست میں بھی ایک معتبر نام تھے۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ رہے اور وفاقی وزیر کے منصب پر فائز رہے۔ مگر اقتدار اور سیاست کی ناپائیداری کو قریب سے دیکھنے کے بعد انہوں نے وقار کے ساتھ سیاست کو خیرباد کہا اور خود کو مکمل طور پر وکالت جیسے معزز پیشے کے لیے وقف کر دیا۔
سیاست چھوڑنے کے بعد انہوں نے جس دیانت، محنت اور مہارت سے وکالت کی، وہ آج بھی مثال ہے۔ ڈویژن بہاولپور میں فوجداری قانون کا ایسا قد آور نام تھے جن کی عدالت میں موجودگی ہی کیس کا وزن بڑھا دیتی تھی۔ ججز، وکلاء اور سائلین سب ان کے علم، تجربے اور قانونی گرفت کے معترف تھے۔ میاں صاحب اپنی ذاتی میں ایک ادارہ تھے، ایک مکتبِ فکر تھے، جنہوں نے سینکڑوں وکلاء کی رہنمائی کی
آج ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن بہاولنگر واقعی یتیم ہو گئی ہے۔ ان جیسا باوقار، بااصول اور بااثر وکیل صدیوں بعد پیدا ہوتا ہے۔ ان کی کمی کبھی پوری نہیں ہو سکے گی۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔