07/12/2025
ٹھنڈا ٹھنڈا... کولڈ کولڈ!
ڈاکٹر حامد حسن
مجھ سے ایک دو احباب نے موسم کی مناسبت سے سوال کیا تو دل چاہا کہ مفادِ عامہ کے لیے اس پلیٹ فارم پر بھی کچھ بیان کر دوں۔
ٹھنڈا موسم ہے اور ٹھنڈ کے باعث ہر چیز ’کول کول‘ سے بھی بڑھ کر ”کولڈ“ ہو رہی ہے۔ یہ تو پنجاب کی مہربانی ہے کہ بات اس ”کولڈ“ سے بھی آگے ”فراسٹ“ یعنی ’جَم جانے‘ یا ’برف ہو جانے‘ تک نہیں پہنچ پاتی۔ اس کے باوجود بچوں سے لے کر بڑوں بوڑھوں تک سب حال سے بےحال ہوتے جا رہے ہیں۔
جی بات ہو رہی ہے سردی کے باعث ہونے والی کھانسی اور نزلے زکام کی۔ جدھر دیکھیں ہر دوسرا بندہ اسی کھانسی اور زکام کا شکار نظر آ رہا ہے۔ بات گلے کی خراش سے شروع ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ناک بہنے لگتی ہے۔ پھر خشک کھانسی اور سر درد کے ساتھ سردی والا بخار ہوتا ہے اور جسم کے شدید درد پر منتج ہوتا ہے۔ اب تو ہر گھر کے دو سے چار افراد ضرور ان علامات کا شکار نظر آ رہے ہیں۔
ایک وقت تھا کہ جب ہمیں ہمارے اساتذہ نے ’سردی والے بخار‘ کی صرف چار وجوہات بتائی تھیں۔ سب سے پہلی ملیریا، دوسری گلے کی سوزش، تیسرا پیشاب کی نالی میں انفکشن اور سب سے آخری، جگر کا پھوڑا۔ لیکن جب سے کرونا نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے کافی حد تک علامات تبدیل ہو کر رہ گئی ہیں۔
اسی موسم کو اگر دیکھا جائے تو مچھروں کی بہتات سے سب سے پہلے ملیریا ہی ذہن میں آتا ہے۔ لیکن ملیریا میں کھانسی، نزلہ زکام اور سینے کی جکڑن نہیں ہوا کرتی۔ دوسرے نمبر پر ’سور تھروٹ‘ یعنی گلے کی سوزش/خرابی آتی ہے، جس کی وجہ عام بیکٹیریا سے لے کر کرونا و انفلوئنزا کے وائرس تک بھی ممکن ہیں اور اکثر یہی وجہ بن رہی ہے آج کل کی اس ”ٹھنڈی ٹھار“ بیماری کی۔
مچھروں کے بعد، لیکن حالات کی وجہ سے پہلے نمبر پر جو وجہ ہے وہ پچھلے چند سالوں میں نمودار ہوئی ہے اور اس نے پوری دنیا کو کرونا ہی کی طرح اپنی گرفت میں جکڑ لیا ہے۔ یہ گلوبل مسئلہ ’سموگ‘ کا ہے۔ پاکستان بھی پوری دنیا کی طرح اس مسئلے سے دوبار ہے اور عوام اس کی وجہ سے گلے، سانس کی نالی اور پھیپھڑوں کی سوزش کا شکار ہو رہے ہیں۔
اگر آگے بڑھیں تو تیسری وجہ،جو بچوں کے لیے زیادہ اہمیت رکھتی ہے، وہ ہے خود سردی اور بچوں کے لیے بنی مختلف (گندے معیار کی) بازاری اشیا جیسے کہ پاپڑ، چپس، ٹافیاں اور دیگر کینڈیز وغیرہ۔ سردی میں ننگے پاؤں فرش پر چلنے سے لے کر ٹھنڈا پانی پینا تک یہ سبھی کچھ بچوں کی صحت پر ہمیشہ برا اثر ڈالتا ہے۔
بیماری تو ہو گئی، اب علاج کی طرف جانے سے پہلے اگر بزرگوں کا رخ کریں تو مجھے ان کی نصیحتیں ضرور یاد آتی ہیں۔ گلے کی خراش اور نزلے کی شکایت پر بزرگوں نے جوشاندہ، کاڑھا، چائے اور دیگر گرم چیزیں پینے کی تاکید کی ہے۔ جوشاندہ چاہے کمپنی کا ہو یا حکیمی، کاڑھا چاہے دھنیا کا ہو، چائے کا ہو، جڑی بوٹیوں کا ہو، دودھ چاہے سادہ گرم ہو یا سونف الائچی والا، میڈیکل سائنس کہتی ہے کہ اپنے معدے کی حساسیت کے حساب سے کوئی بھی گرم مشروب پیا جا سکتا ہے۔ بلکہ چھاتی کے ماہرین تو سادہ پانی کی بھاپ کو ہر چیز پر فوقیت دیتے ہیں۔
حقیقت میں بھی ایسا ہی ہے۔ آپ دنیا جہاں کی میڈیسن یا ادویہ استعمال کر لیجیے، جب تک دن میں کم از کم تین مرتبہ سٹیم یعنی بھاپ نہیں لیں گے، ان ادویہ کا اثر نہیں ہونا۔ ایک مرتبہ کی لی گئی بھاپ، دوا کے اثر کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے اور بندہ (بلکہ بچہ تو بہت زیادہ) جلدی ٹھیک ہو جاتا ہے۔
لوگ ہمیشہ شکوہ کناں رہتے ہیں کہ ”ہم کئی کئی دن ٹیکے لگوا چکے ہیں، ایک دو دن آرام آتا ہے اور پھر سے بیماری لوٹ آتی ہے۔“ اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم ایسے ’سموگ زدہ‘ موسم میں نہ تو بھاپ استعمال کرتے ہیں اور نہ ہی ٹھنڈے پانی/فرش سے اجتناب برتتے ہیں۔
خاص طور پر بچے نہ ہی ننگے پاؤں چلنا چھوڑتے ہیں اور نہ ہی روم ٹمپریچر والا پانی پینے سے رکتے ہیں۔ یاد رہے آج کل درجہ حرارت پچیس ڈگری سینٹی گریڈ کے لگ بھگ رہتا ہے اور اس درجہ حرارت پر باہر پڑا پانی اتنا ہی ٹھنڈا ہوتا ہے کہ گلے کے لیے زہر سے کم نہیں۔
جہاں تک علاج کی بات ہے تو زیادہ تر علامتی علاج ہی ہوا کرتا ہے۔ کیونکہ وائرس کے لیے اینٹی وائرل دوا دینے کی کبھی نہیں ہوتی۔ بیکٹیریا و دیگر جراثیم کے لیے اینٹی بائیوٹکس دی جاتی ہیں کہ بیماری کی حالت میں مزید کوئی جراثیم جسم پر حملہ نہ کر سکیں اور جو جراثیم موجودہ مسئلے کا باعث ہیں، وہ بھی اپنی موت آپ مر جائیں۔ اس لیے سب سے بہتر وہ دوا رہتی ہے جو گلے اور سانس کی نالیوں تک زیادہ اچھا اثر رکھتی ہے۔ (ارتھرومائسن، کلیرتھرومائسن)
خشک کھانسی کے لیے اینٹی الرجک ادویہ کا اثر سب سے بہتر رہتا ہے۔ اس لیے اینٹی بائیوٹک کے ساتھ دوسری چیز اینٹی الرجک ہونی چاہیے۔ (سیٹریزین وغیرہ)
بخار کے لیے کوئی بھی بخار توڑنے والی گولی کی جا سکتی ہے۔ اگر جسم میں درد بھی ہیں تو دو ادویہ (درد+بخار کی اکٹھی) چیز کی جا سکتی ہے۔ (پیراسیٹامول وغیرہ)
ان تین چیزوں کے بعد بھی اگر محسوس ہوتا ہے کہ تین دن تک طبعیت بہتر نہیں ہو رہی تو بنا کچھ سوچے ملیریا کی طرف جائیں اور اینٹی ملیریا گولیاں استعمال کر لیجیے۔ (آرٹی میتھر وغیرہ)
یہاں تک انگریزی یعنی ڈاکٹری علاج مکمل ہے۔ لیکن ایک بار پھر کہوں گا کہ جب تک ان دواؤں کے ساتھ بھاپ نہیں لی جائے گی، کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ گرم مشروبات، بھاپ، دوائیں اور دعائیں، ان چار چیزوں نے ہی آپ کی اور ہماری صحت رکھنی ہے۔
آخر میں کہنا چاہوں گا کہ احتیاط سب سے بہتر ہے تاکہ ایسے مسائل کبھی پیدا ہی نہ ہوں۔ لیکن اگر آپ کو یا آپ کے کسی پیارے کو بیماری نے پکڑنے کی کوشش کی ہے تو صحیح علاج کی مدد سے اس بیماری سے جان چھڑائیں۔
جس ڈاکٹر کو آپ نے فیس دی ہے، اس سے جا کر پوچھنا اور بتانا آپ کا بھی فرض ہے کہ ”ڈاکٹر صاحب!آپ کی دوا نے بالکل ٹھیک کام کیا ہے (یا بالکل کام نہیں کیا)!“
خوش رہیں، خوشیاں بانٹیں!
خیراندیش!
نوٹ: میں نے متن میں ادویات کے فارمولے لکھ دئیے ہیں۔ اپنی جیب اور پسند کے حساب سے کسی بھی کمپنی کی دوا کی جا سکتی ہے۔
11:30pm
04-12-25
اشاعت:
ہفت روزہ ”نوائے خیرپور“ بہاولپور
7 تا 13 دسمبر 2025