New Hafiz Medical Store

New Hafiz Medical Store Pharmacy .Homo Unani Medicine Are available Here

اس گولی کو تو آپ نے پہنچان ہی لیا ہوگا۔ یہ ہے  "پیناڈول" جو اصل میں "پیراسیٹامول" ہی ہے۔ وہی پیراسیٹامول جسے "شیر والی گ...
19/01/2026

اس گولی کو تو آپ نے پہنچان ہی لیا ہوگا۔ یہ ہے "پیناڈول" جو اصل میں "پیراسیٹامول" ہی ہے۔ وہی پیراسیٹامول جسے "شیر والی گولی" کا کہا جاتا تھا (کیونکہ اس کے پیکٹ پر شیر بنا ہوتا تھا)

تو پیراسیٹامول کو استعمال ہوتے سو سال سے زیادہ ہوچکے ہیں، لیکن پتہ ہے اس میں خاص بات کیا ہے ؟ ہم ایک عرصے تک پیراسیٹامول کے کام کرنے کے درست طریقے کو نہ جان سکے۔

ہمارے جسم میں ایک کیمکل بلکہ کیمکلز کا گروپ ہوتا ہے جنہیں "پروسٹا گلینڈنز (prostaglandins)" کہا جاتا ہے۔ یہ بڑے کام کے کیمکلز ہوتے ہیں۔ ان کا ایک کام "انفلامیشن" میں کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ اب یہ انفلامیشن کیا ہوتی ہے؟ موضوع کے حساب سے یہ سمجھ لیں کہ جب جسم کا کوئی ٹشو انجر ہوتا ہے، خواہ وہ انجری کسی چوٹ کی وجہ سے ہو، کسی بیماری کی وجہ سے یا کسی انفیکشن کی وجہ سے تو اس ٹشو اور آس پاس کی جگہ پر کچھ تبدیلیاں آنا شروع ہوتی ہیں؛ جیسے وہاں سوجن ہوجاتی ہے اور درد بھی ہوتا ہے۔ ان تبدیلیوں کو انفلامیشن کہا جاتا ہے۔ تو اصل میں انفلامیشن ٹشو کی انجری کے بعد کا رسپانس ہوتا ہے جس کا مقصد انجری زدہ ٹشو کا خیال کرنا ہوتا ہے۔

بات کے شروع میں، میں نے بتایا کہ اس انفلامیشن کے عمل میں "پروسٹا گلینڈنز" اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس میں سے ایک کردار ٹشو کے اس پاس موجود درد کا سگنل لینے والی نروز کو زیادہ حساس کرنا ہوتا ہے۔ تاکہ ان نروز کے ذریعے دماغ تک سگنل جائے اور انجری زدہ ٹشو میں درد کا احساس ہو۔ اس کے علاؤہ پروسٹا گلینڈنز بخار وغیرہ میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔

تو اگر ان پروسٹا گلینڈنز کے بننے کو روک دیا جائے تو کیا یہ درد رک جائے گا یا کم ہوگا ؟ جی ہاں!!! اور ایسا کچھ ادویات کرتی بھی ہیں۔ جیسے ہماری ڈسپرین/اسپرین ان پروسٹا گلینڈنز کو بنانے والے انزائمز کو کام نہیں کرنے دیتی۔ جس وجہ سے پروسٹا گلینڈنز نہیں بنتے اور درد سے تھوڑی راحت ملتی ہے۔ پیراسیٹامول کے لیے بھی یہی سوچا جاتا تھا۔

لیکن جدید تحقیق یہ بتاتی ہے کہ پیراسیٹامول کے اس (پروسٹا گلینڈنز کو روکنے والے) طریقے سے زیادہ کام نہیں کرتی۔ بلکہ پیراسیٹامول کا زیادہ اثر ایک اور طریقے سے آتا ہے۔ یہ طریقہ ہے ڈائرکٹ دماغ کے اندر جاکر درد کا احساس پیدا کرنے والے نظام پر اثر کرنا۔

ہمارے پورے جسم میں نروز کا جال پھیلا ہے جو دماغ اور جسم کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے۔ جب جسم کے کسی حصے پر کوئی انجری ہوتی ہے تو وہاں سے نروز دماغ کو سگنل بھیجتی ہیں، اور دماغ میں ایک نظام اس سگنل کے مطابق درد کا احساس پیدا کرتا ہے۔

پیراسیٹامول/ پیناڈول کی یہ گولی ہمارے نظام انہضام سے خون میں جذب ہوکر ہمارے جگر میں جاتی ہے، جہاں اس پر جگر کے انزائمز کی طرف سے مختلف کیمکل ریکشنز ہوتے ہیں (تقریباً سب ادویات کے ساتھ ہی ایسا ہوتا ہے)۔ یہ کیمکل ریکشنز پیراسیٹامول کو ناکارہ کرنے کی بجائے اس ایک زیادہ کارامد کیمکل میں بدل دیتے ہیں جسے "پی امائنو فینول" (p-aminophenol) کہا جاتا ہے۔ یہ کیمکل خون کے ذریعے دماغ تک پہنچتا ہے اور وہاں ایک اور زبردست کیمکل میں بدل جاتا ہے جسے AM404 کا نام دیا گیا ہے۔

یہ AM404 مختلف طریقوں سے دماغ میں موجود اس درد والے نظام پر اثر انداز ہوتا ہے اور درد کے احساس کو کم کرتا ہے۔ پیراسیٹامول کے لیے اس کا اثر "پروسٹا گلینڈنز کو کم کرنے والے طریقے" سے کافی زیادہ ہوتا ہے۔ یعنی پیراسیٹامول کا درد کم کرنے کا بنیادی اور غالب طریقہ یہی ہے۔

یعنی نظام انہضام سے جگر میں جاکر ایک روپ بدلا، اور جگر سے دماغ میں جاکر دوسرا روپ بدلا اور پھر اس دوسرے روپ سے دماغ میں درد کے احساس کو کم کیا۔

پیراسیٹامول کا استعمال انیسویں صدی سے جاری ہے، لیکن اس کا یہ AM404 والے طریقے کا پتہ 2005 سے 2018 کے درمیان میں شائع ہونے والی مختلف ریسرچز کو ایک ساتھ دیکھ کر اخذ کیا گیا۔

آج پین کلر ادویات پیراسیٹامول/پیناڈول کو ڈسپرین وغیرہ جیسی پین کلرز کی نسبت زیادہ محفوظ سمجھ جاتا ہے۔

غالباً اس کے کام کرنے پر مزید ریسرچز جاری ہیں، کیا معلوم عام کریانہ سٹوروں سے ملنے والی یہ تین روپے کی گولی اپنے اندر کچھ اور راز بھی رکھتی ہو۔

اس دارچینی کا نام " کیسیا " ھے۔ سب سے بہترین دارچینی کا نام سیلون ھے۔ دارچینی میں اینٹی آکسیڈنٹ ، اینٹی بیکٹیریل ، اینٹی...
19/01/2026

اس دارچینی کا نام " کیسیا " ھے۔ سب سے بہترین دارچینی کا نام سیلون ھے۔ دارچینی میں اینٹی آکسیڈنٹ ، اینٹی بیکٹیریل ، اینٹی فنگس، اینٹی وائرل ، اینٹی پراسٹیک خصوصیات ھیں۔ اسے چائے، دودھ، ماوتھ واش میں استعمال کیا جاسکتا ھے۔ یہ خون کی گردش کو بہتر بناتا ھے جس سے خون کے پلیٹلیٹ کے غیر مطلوبہ لوتھڑے کم ہوتے ھیں۔

دارچینی ٹیومر، گیسٹرک کینسر، لیوکیمیا اور بڑی آنت کے کینسر کے علاج میں موثر ھے۔
دارچینی خون میں شوگر کی سطح کو مستحکم کرتا ھے۔ یہ ذیابیطس کی روک تھام اور علاج میں مدد کرتا ھے۔
دارچینی دماغ کی سرگرمی کو بڑھاتی ہے یہ اعصابی تنائو کی کمی کو کم کرتا یے

آپ کو 4 اہم باتیں بتانی ہیں۔پہلی بات یہ کہ دن میں 3 وقت کھانا اتنا بھی ضروری نہیں ہوتاخاص طور پر اتنے سرد موسم میں ، جب ...
16/01/2026

آپ کو 4 اہم باتیں بتانی ہیں۔
پہلی بات یہ کہ دن میں 3 وقت کھانا اتنا بھی ضروری نہیں ہوتا
خاص طور پر اتنے سرد موسم میں ، جب دن اتنے چھوٹے ہوں

دوسری اہم بات یہ سلاد جو آپ کو نظر آ رہی ہے یہ ایک باقاعدہ کھانا ہے۔ کیونکہ اس میں موجود لوبیہ ، چنوں میں کاربوہائیڈریٹس اور پروٹین دونوں شامل ہیں
سلاد میں فائبر ہے
لیموں میں وٹامن سی۔ یہ مکمل کھانا ہے اور اس سے پیٹ بھرا رہتا ہے ۔ بھوک نہیں لگتی۔ یہ کھا کر روٹی نا مانگا کریں

تیسری اہم بات ۔۔ پودوں سے حاصل کردہ پروٹین (لوبیہ چنے وغیرہ) کے ساتھ وٹامن سی (لیموں / کینو / امرود وغیرہ) لازمی لیں۔تاکہ پروٹین کے زیادہ سے زیادہ فوائد آپ کا جسم حاصل کر سکے
آئرن جسم میں اچھا جذب ہو سکے

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِسورۃ الفاتحہ (دعا)الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۝ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ۝...
14/01/2026

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

سورۃ الفاتحہ (دعا)

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۝ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ۝ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ۝ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ۝ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ۝ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ۝ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ۝

سادہ، رواں اردو ترجمہ

تمام تعریفیں اللّٰہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے، نہایت مہربان، بار بار رحم فرمانے والا، روزِ جزا کا مالک۔ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ ہمیں سیدھا راستہ دکھا، ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا، نہ ان کا جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کا۔

🟢 حصہ اوّل: دعا کا پس منظر اور اہمیت

1۔ سورۃ الفاتحہ: دعا یا سورۃ؟
سورۃ الفاتحہ کو عام طور پر قرآن کی پہلی سورۃ کہا جاتا ہے، مگر حقیقت میں یہ محض ایک سورۃ نہیں بلکہ **کامل دعا** ہے۔ یہ وہ دعا ہے جو اللّٰہ نے خود اپنے بندوں کو سکھائی، اپنے الفاظ میں، اپنے انتخاب کے ساتھ، اور اپنی حکمت کے مطابق۔ دنیا میں انسان جب کسی سے دعا مانگتا ہے تو اپنے الفاظ میں مانگتا ہے، مگر یہاں معاملہ الٹ ہے: خالق نے مخلوق کو سکھایا کہ مجھ سے کیسے مانگنا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سورۃ الفاتحہ قرآن کی تمہید بھی ہے، نماز کا رکن بھی، اور دعا کا اعلیٰ ترین نمونہ بھی۔ اگر انسان پوری زندگی صرف یہی ایک دعا سمجھ کر مانگ لے تو اس کی زندگی کی سمت بدل سکتی ہے۔

2۔ نزولِ سورۃ الفاتحہ
سورۃ الفاتحہ مکی سورت ہے۔ یہ اس وقت نازل ہوئی جب ایمان کی بنیاد رکھی جا رہی تھی، جب انسان کو سب سے پہلے یہ سکھانا مقصود تھا کہ وہ اپنے رب کو پہچانے، اپنے مقام کو سمجھے، اور زندگی کا راستہ متعین کرے۔
یہ بات نہایت قابلِ غور ہے کہ اللّٰہ نے ایمان کی ابتدا کسی حکم، کسی قانون، یا کسی سزا سے نہیں کی بلکہ **دعا سے کی**۔ گویا پیغام یہ تھا کہ: بندے اور رب کا رشتہ حکم سے پہلے تعلق مانگتا ہے۔

3۔ سورۃ الفاتحہ کے نام اور ان کی معنویت
سورۃ الفاتحہ کے متعدد نام ہیں، اور ہر نام اس کی کسی نہ کسی جہت کو واضح کرتا ہے:
* **الفاتحہ**: یعنی کھولنے والی۔ یہ دل کے دروازے بھی کھولتی ہے اور قرآن کے دروازے بھی۔
* **اُمّ القرآن**: قرآن کی ماں۔ جیسے ماں میں پورا خاندان سمویا ہوتا ہے، ویسے ہی اس دعا میں پورا قرآن سمٹ آیا ہے۔
* **سبع المثانی**: سات بار دہرائی جانے والی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کو بار بار اسی دعا کی طرف لوٹنا ہے، کیونکہ اصل ضرورتیں وہی رہتی ہیں۔

4۔ احادیث کی روشنی میں سورۃ الفاتحہ کی اہمیت
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ:
"اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے نماز (یعنی سورۃ الفاتحہ) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کر دیا ہے۔"
یہ حدیث سورۃ الفاتحہ کی اصل روح کو واضح کرتی ہے۔ یہ دعا نہیں بلکہ **مکالمہ** ہے۔ بندہ بولتا ہے، اللّٰہ جواب دیتا ہے۔ بندہ حمد کرتا ہے، اللّٰہ خوش ہوتا ہے۔ بندہ مانگتا ہے، اللّٰہ قبولیت کا وعدہ فرماتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نماز میں اگر سورۃ الفاتحہ نہ ہو تو نماز مکمل نہیں ہوتی، کیونکہ بندے اور رب کا مکالمہ ہی شروع نہیں ہوا۔

5۔ صحابہ کے واقعات اور سورۃ الفاتحہ
ایک معروف واقعہ ہے کہ صحابہؓ میں سے ایک صحابیؓ نے سورۃ الفاتحہ کو دم کے طور پر پڑھا، اور اللّٰہ کے حکم سے شفا حاصل ہوئی۔ جب یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کے سامنے آیا تو آپ ﷺ نے اس پر نکیر نہیں فرمائی بلکہ اس کی تائید کی۔ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ سورۃ الفاتحہ صرف پڑھنے کی چیز نہیں بلکہ **یقین کے ساتھ جینے کی دعا** ہے۔

6۔ یہ دعا کن کیفیتوں میں مانگی جاتی ہے؟
سورۃ الفاتحہ ہر کیفیت کی دعا ہے: * جب انسان شکر میں ہو تو: *الحمد للّٰہ* * جب خوف میں ہو تو: *مالک یوم الدین* * جب کمزور ہو تو: *ایاک نعبد و ایاک نستعین* * جب راستہ گم ہو جائے تو: *اہدنا الصراط المستقیم*
یہی وجہ ہے کہ یہ دعا ہر نماز میں رکھی گئی، کیونکہ انسان کی کیفیت ہر لمحہ بدلتی رہتی ہے، اور یہ دعا ہر کیفیت کا جواب رکھتی ہے۔

7۔ سورۃ الفاتحہ اور انسان کی اصل ضرورت
انسان کی سب سے بڑی ضرورت دولت، صحت یا کامیابی نہیں بلکہ **درست سمت** ہے۔ اگر سمت درست ہو تو مشکلات بھی نعمت بن جاتی ہیں، اور اگر سمت غلط ہو تو نعمتیں بھی وبال بن جاتی ہیں۔ سورۃ الفاتحہ اسی سمت کی دعا ہے۔ یہ دعا انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ:
* آغاز حمد سے ہو * تعلق رحمت پر قائم ہو * انجام جواب دہی پر یاد رکھا جائے * عبادت خالص ہو * مدد صرف ایک سے مانگی جائے * اور راستہ وہ ہو جو انعام یافتہ لوگوں کا ہو

8۔ حصہ اوّل کا خلاصہ
اس حصے میں ہم نے یہ سمجھا کہ سورۃ الفاتحہ:
* ایک مکمل دعا ہے * ایمان کا نقطۂ آغاز ہے * بندے اور رب کا مکالمہ ہے * ہر کیفیت میں مانگی جانے والی دعا ہے * اور انسان کی سمت درست کرنے والی بنیاد ہے

9۔ سورۃ الفاتحہ اور بندے کا شعوری مکالمہ
سورۃ الفاتحہ کو اگر صرف ایک نصابی دعا سمجھا جائے تو اس کی روح اوجھل ہو جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دعا بندے کے اندر ایک مسلسل شعوری مکالمہ پیدا کرتی ہے۔ ہر بار جب بندہ یہ دعا پڑھتا ہے تو وہ دراصل اپنے وجود، اپنی سمت اور اپنی وابستگی کی تجدید کرتا ہے۔ یہ دعا انسان کو یاد دلاتی ہے کہ وہ خود مختار نہیں بلکہ جواب دہ ہے، اور اس کی اصل طاقت اس کے رب سے جڑی ہوئی ہے۔
یہ مکالمہ محض زبان کا نہیں بلکہ نیت، سوچ اور عمل کا مکالمہ ہے۔ بندہ جب کہتا ہے کہ تمام تعریفیں اللّٰہ کے لیے ہیں تو وہ لاشعوری طور پر اپنی انا کو پیچھے ہٹاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے انسان کی اصلاح شروع ہوتی ہے۔

10۔ سورۃ الفاتحہ اور انسان کی تربیت

سورۃ الفاتحہ انسان کی فکری، روحانی اور عملی تربیت کرتی ہے۔ یہ دعا انسان کو سکھاتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ہر مرحلے میں کس زاویے سے سوچے۔ ابتدا میں حمد، درمیان میں وابستگی، اور آخر میں ہدایت کی طلب—یہ تینوں مراحل انسانی تربیت کا مکمل نصاب بن جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جو انسان سورۃ الفاتحہ کو شعوری طور پر پڑھنا شروع کر دے، اس کی زبان، لہجہ اور فیصلے آہستہ آہستہ بدلنے لگتے ہیں۔ وہ شکوہ کم اور شکر زیادہ کرنے لگتا ہے۔

11۔ امت کے زوال اور سورۃ الفاتحہ
جب امت نے سورۃ الفاتحہ کو صرف نماز کی رسم بنا لیا اور اس کے پیغام کو زندگی سے کاٹ دیا، تو زوال نے جنم لیا۔ یہ دعا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کامیابی ان لوگوں کے راستے پر چلنے میں ہے جن پر اللّٰہ نے انعام فرمایا، نہ کہ محض تعداد، طاقت یا ظاہری ترقی میں۔
یہ حصہ قاری کو دعوت دیتا ہے کہ وہ خود سے سوال کرے: کیا ہم واقعی انعام یافتہ لوگوں کے راستے پر ہیں یا صرف اسی راستے کا نام لیتے ہیں؟

12۔ سورۃ الفاتحہ اور دل کی بیداری
سورۃ الفاتحہ دل کو بیدار کرنے والی دعا ہے۔ یہ انسان کو غفلت سے نکال کر شعور کی طرف لاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو دل اس دعا سے جڑ جاتا ہے، وہ سخت نہیں رہتا۔ وہ نرم، متواضع اور جواب دہ بن جاتا ہے۔

13۔ مزید غور و فکر کے زاویے
اس دعا پر جتنا غور کیا جائے، اتنے ہی نئے زاویے کھلتے ہیں۔ یہ دعا انسان کو ہر روز نئے سوال دیتی ہے اور ہر سوال کے ساتھ خود احتسابی کی دعوت دیتی ہے۔ یہی وہ خصوصیت ہے جو سورۃ الفاتحہ کو ہر دور کے انسان کے لیے زندہ رکھتی ہے۔

اگلے حصے میں ہم **لفظ بہ لفظ** اس دعا کے اندر اتریں گے، تاکہ جو الفاظ ہم روز دہراتے ہیں، وہ ہمارے شعور میں بھی اتر جائیں۔

حصہ دوم: دعا کی لفظ بہ لفظ تفسیر

تمہیدی کلمات

اس حصے میں ہم سورۃ الفاتحہ کو صرف پڑھنے یا سننے کی سطح پر نہیں رکھیں گے بلکہ **لفظ بہ لفظ اس کے اندر اتریں گے**۔ یہ وہ مقام ہے جہاں دعا زبان سے نکل کر دل، شعور اور نیت میں داخل ہوتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں دعا رسم نہیں رہتی بلکہ تعلق بن جاتی ہے۔
یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ سورۃ الفاتحہ کے الفاظ کم ہیں، مگر ان کے اندر معنی کی وسعت سمندر سے زیادہ ہے۔ ہر لفظ انسان کے عقیدے، سوچ، رویّے اور انجام کو متاثر کرتا ہے۔

1۔ الْحَمْدُ لِلّٰهِ عوامی فہم

حمد کا مطلب صرف تعریف نہیں، بلکہ **دل سے تسلیم کرنا** ہے کہ جو کچھ ہے، جس حال میں ہے، جس درجے پر ہے، وہ سب اللّٰہ کی طرف سے ہے۔ عام طور پر انسان خوشی میں تعریف کرتا ہے، مگر حمد خوشی اور آزمائش دونوں میں کی جاتی ہے۔

یہ لفظ انسان کی زبان کو شکوے سے روکتا ہے اور دل کو شکر کی طرف موڑ دیتا ہے۔

فکری زاویہ

الحمد کہہ کر انسان اپنی انا کا بوجھ اتارتا ہے۔ وہ لاشعوری طور پر یہ اعتراف کرتا ہے کہ کائنات کا مرکز وہ خود نہیں بلکہ اس کا رب ہے۔ یہ ایک فکری انقلاب ہے، کیونکہ انسان کی اکثر گمراہیاں اسی مقام سے شروع ہوتی ہیں جہاں وہ خود کو محور سمجھنے لگتا ہے۔

2۔ رَبِّ الْعَالَمِينَ عوامی فہم

رب وہ ہوتا ہے جو پیدا بھی کرے، سنوارے بھی اور وقت آنے پر درست بھی کرے۔ رب صرف دینے والا نہیں بلکہ تربیت کرنے والا ہے۔

فکری زاویہ

العالمین کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ اللّٰہ کی ربوبیت کسی ایک قوم، علاقے یا زمانے تک محدود نہیں۔ یہ انسان کو تعصب، تنگ نظری اور خود ساختہ برتری سے نکالتا ہے۔
یہ لفظ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ وہ ایک وسیع نظام کا حصہ ہے، مرکز نہیں۔

3۔ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ عوامی فہم

رحمن اور رحیم دونوں رحمت سے نکلے ہیں، مگر رحمن عام رحمت ہے اور رحیم خاص رحمت۔ یعنی اللّٰہ کی مہربانی سب پر ہے، اور اس کی خصوصی رحمت اہلِ ایمان کے لیے۔

فکری زاویہ

یہاں انسان کے خوف اور امید کا توازن قائم کیا جاتا ہے۔ اگر انسان صرف طاقت اور حساب کو دیکھے تو مایوس ہو جائے، اور اگر صرف رحمت کو دیکھے تو لاپروا ہو جائے۔ یہ دو صفات انسان کو توازن سکھاتی ہیں۔

4۔ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ عوامی فہم

یہ یاد دہانی ہے کہ ایک دن ایسا آئے گا جب ہر عمل کا حساب ہو گا۔ کوئی سفارش، کوئی بہانہ کام نہیں آئے گا۔

فکری زاویہ

یہ لفظ انسان کو ذمہ دار بناتا ہے۔ اگر یومِ دین نہ ہو تو اخلاق، عدل اور جواب دہی سب بے معنی ہو جاتے ہیں۔ یہ آیت انسان کے اندر اندرونی احتساب پیدا کرتی ہے۔

5۔ إِيَّاكَ نَعْبُدُ عوامی فہم

ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں۔ یعنی جھکنا، ماننا، اطاعت کرنا صرف اللّٰہ کے لیے ہے۔

فکری زاویہ

یہ جملہ انسان کو چھپی ہوئی غلامیوں سے آزاد کرتا ہے: * لوگوں کی غلامی * خواہشات کی غلامی * نفس کی غلامی یہ اعلانِ آزادی ہے۔

6۔ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ عوامی فہم

ہم تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ انسان عملی اسباب اختیار کرتا ہے مگر دل کا سہارا صرف اللّٰہ کو بناتا ہے۔

فکری زاویہ

یہاں توکل اور عمل کا حسین امتزاج ہے۔ نہ سستی، نہ غرور۔ انسان کوشش بھی کرتا ہے اور نتیجہ اللّٰہ پر چھوڑ دیتا ہے۔

7۔ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ عوامی فہم

سیدھا راستہ دکھا۔ انسان اعتراف کرتا ہے کہ وہ خود اپنی عقل سے صحیح راستہ نہیں پا سکتا۔

فکری زاویہ

ہدایت کا مطلب صرف جان لینا نہیں بلکہ اس پر قائم رہنا ہے۔ یہ دعا مسلسل مانگنے کی چیز ہے کیونکہ انسان ہر لمحہ بھٹک سکتا ہے۔

8۔ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ عوامی فہم

ان لوگوں کا راستہ جن پر اللّٰہ نے انعام کیا۔ یعنی کامیابی کا پیمانہ دنیاوی نہیں بلکہ اللّٰہ کی رضا ہے۔

فکری زاویہ

یہ انسان کو رول ماڈل سکھاتا ہے۔ کامیابی انہی لوگوں کی ہے جن کی زندگی میں ایمان، صبر اور عمل جمع ہو۔

9۔ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ عوامی فہم

وہ لوگ جن پر غضب ہوا، جنہوں نے جان کر حق کو چھوڑا۔

فکری زاویہ

علم کے ساتھ نافرمانی سب سے خطرناک زوال ہے۔ یہ آیت علم والوں کو سب سے زیادہ چونکاتی ہے۔

10۔ وَلَا الضَّالِّينَ عوامی فہم

گمراہ لوگ، جو نیت اچھی ہونے کے باوجود راستہ کھو بیٹھے۔

فکری زاویہ

یہ آیت نیت اور علم دونوں کی ضرورت واضح کرتی ہے۔ صرف جذبہ کافی نہیں، رہنمائی بھی ضروری ہے۔

دعا بطور مکمل فکری نظام

سورۃ الفاتحہ کے الفاظ کو اگر ایک ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے تو یہ صرف الگ الگ جملے نہیں رہتے بلکہ ایک مکمل فکری نظام بن جاتے ہیں۔ اس نظام میں انسان کی ابتدا بھی ہے، اس کی وابستگی بھی، اس کی ذمہ داری بھی اور اس کا انجام بھی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دعا ہر نماز میں لازم کی گئی، تاکہ انسان دن میں بار بار اپنے فکری راستے کی تجدید کرتا رہے۔
یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ دعا کا مقصد محض مانگنا نہیں بلکہ **اپنے آپ کو درست زاویے پر کھڑا کرنا** ہے۔ سورۃ الفاتحہ انسان کو یہی زاویہ عطا کرتی ہے۔

الحَمْد اور انسانی نفسیات

انسانی نفسیات میں سب سے پہلی بیماری ناشکری ہے۔ جب انسان اپنے پاس موجود نعمتوں کو معمول سمجھنے لگتا ہے تو دل میں بے چینی، حسد اور شکوہ جنم لیتا ہے۔ الحَمْد کا لفظ اس بیماری کا علاج ہے۔
یہ لفظ انسان کو سکھاتا ہے کہ وہ نتائج کے بجائے رب پر نظر رکھے۔ جب نظر رب پر ہو تو حالات چاہے جیسے بھی ہوں، دل مطمئن رہتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایمان سکون میں بدلتا ہے۔

ربوبیت اور خود سپردگی

ربِّ العالمین کہنا دراصل خود سپردگی کا اعلان ہے۔ انسان یہ تسلیم کرتا ہے کہ وہ خود اپنی پرورش نہیں کر رہا بلکہ ایک طاقت اسے سنوار رہی ہے۔ یہ اعتراف انسان کے اندر عاجزی پیدا کرتا ہے اور تکبر کو توڑ دیتا ہے۔
یہاں سے انسان کا تعلق محض مانگنے والا نہیں رہتا بلکہ سیکھنے والا بن جاتا ہے۔ وہ زندگی کے ہر مرحلے کو تربیت سمجھنے لگتا ہے۔

رحمت اور خوف کا توازن

الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ کے الفاظ انسان کو یہ سکھاتے ہیں کہ زندگی نہ صرف آزمائش ہے اور نہ صرف نوازش، بلکہ دونوں کا حسین امتزاج ہے۔ جو انسان صرف رحمت کو دیکھے وہ لاپروا ہو جاتا ہے، اور جو صرف حساب کو دیکھے وہ مایوس ہو جاتا ہے۔ یہ دو صفات انسان کے اندر امید اور ذمہ داری کو ایک ساتھ زندہ رکھتی ہیں۔

یومِ دین اور عملی اخلاق

مالک یوم الدین کا شعور انسان کے اخلاق کو عملی بناتا ہے۔ اگر انسان کو یقین ہو کہ کوئی حساب نہیں تو وہ وقتی فائدے کے لیے ہر حد پار کر سکتا ہے۔ مگر یومِ دین کا یقین اسے روک لیتا ہے۔
یہی یقین انسان کو تنہائی میں بھی ایماندار رکھتا ہے، کیونکہ وہاں کوئی دیکھنے والا نہیں مگر حساب لینے والا موجود ہے۔

عبادت کی اصل روح

ایاک نعبد کہنا محض نماز یا روزے کا اعلان نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں اطاعت کا وعدہ ہے۔ انسان جب یہ کہتا ہے تو وہ یہ اقرار کرتا ہے کہ اس کے فیصلے، ترجیحات اور خواہشات بھی اسی اعلان کے تابع ہوں گی۔
یہی وجہ ہے کہ عبادت اگر زندگی سے کٹ جائے تو وہ رسم بن جاتی ہے، اور اگر زندگی سے جڑ جائے تو انقلاب بن جاتی ہے۔

استعانت اور انسانی کمزوری

و ایاک نستعین انسان کو اپنی کمزوری کا اعتراف سکھاتا ہے۔ جدید انسان اپنی طاقت، علم اور وسائل پر نازاں ہے، مگر یہ آیت اسے یاد دلاتی ہے کہ اصل سہارا کہیں اور ہے۔
یہ اعتراف انسان کو نہ سست بناتا ہے اور نہ مغرور، بلکہ متوازن بناتا ہے۔

ہدایت بطور مسلسل ضرورت

اہدنا الصراط المستقیم یہ اعلان ہے کہ ہدایت ایک لمحے کی چیز نہیں بلکہ مسلسل ضرورت ہے۔ انسان آج صحیح ہو سکتا ہے اور کل بھٹک سکتا ہے۔ اسی لیے یہ دعا بار بار مانگی جاتی ہے۔
یہ انسان کو غرورِ ہدایت سے بچاتی ہے اور اسے ہر وقت طالبِ راہ رکھتی ہے۔

انعام یافتہ راستہ اور اجتماعی شعور

صراط الذین انعمت علیہم انسان کو اجتماعی شعور دیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں بلکہ ایک قافلے کا حصہ ہے۔ اس قافلے میں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین شامل ہیں۔
یہ شعور انسان کو تنہائی کے احساس سے نکالتا ہے اور استقامت دیتا ہے۔

غضب اور گمراہی کی باریک لکیر

غیر المغضوب علیہم ولا الضالین انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ گمراہی کی دو صورتیں ہوتی ہیں: ایک جان بوجھ کر اور دوسری لاعلمی میں۔ دونوں خطرناک ہیں مگر پہلی زیادہ سنگین ہے۔ یہ آیت انسان کو علم کے ساتھ عاجزی اور نیت کے ساتھ رہنمائی کی ضرورت یاد دلاتی ہے۔

فکری خلاصہ

سورۃ الفاتحہ کے ہر لفظ میں انسان کی پوری زندگی سمیٹی ہوئی ہے۔ عقیدہ، عبادت، اخلاق، ذمہ داری اور انجام — سب کچھ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دعا بار بار پڑھنے کے باوجود پرانی نہیں ہوتی، کیونکہ انسان خود ہر دن نیا ہوتا ہے۔
یہ حصہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اگر الفاظ سمجھے بغیر پڑھے جائیں تو دعا رسم بن جاتی ہے، اور اگر سمجھ کر پڑھے جائیں تو **زندگی بن جاتی ہے**۔

مجموعی فکری نتیجہ

سورۃ الفاتحہ کی لفظ بہ لفظ تفسیر ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ دعا محض مانگنے کا عمل نہیں بلکہ **اپنے آپ کو بنانے کا عمل** ہے۔ جو انسان اس دعا کو سمجھ کر پڑھنے لگے، اس کی زبان، نیت اور سمت بدلنے لگتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دعا زندگی بن جاتی ہے اور زندگی عبادت۔

حصہ سوم: آج کی زندگی میں اطلاق (How to Apply Today)

سورۃ الفاتحہ کو اگر صرف تلاوت، نماز یا ثواب تک محدود کر دیا جائے تو یہ اس دعا کے ساتھ سب سے بڑی ناانصافی ہو گی۔ سورۃ الفاتحہ دراصل ایک مکمل فکری، روحانی، اخلاقی اور عملی منشور ہے، جو انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو کس بنیاد پر استوار کرے، کس مرکز سے جڑے، کس سمت چلے اور کن اصولوں پر فیصلے کرے۔ یہ حصہ اسی حقیقت کو کھولنے کے لیے ہے کہ سورۃ الفاتحہ آج کے انسان کی زندگی میں عملاً کیسے اتر سکتی ہے۔

1۔ آج کا انسان اور سورۃ الفاتحہ کی ضرورت
آج کا انسان معلومات سے بھرا ہوا لیکن ہدایت سے خالی ہے۔ اس کے پاس وسائل ہیں مگر سکون نہیں، سہولتیں ہیں مگر مقصد نہیں، روابط ہیں مگر تعلق نہیں۔ سورۃ الفاتحہ اس خلا کو پُر کرتی ہے کیونکہ یہ دعا انسان کو سب سے پہلے یہ سکھاتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کا مرکز خود کو نہیں بلکہ اللّٰہ کو بنائے۔ جب زندگی کا مرکز درست ہو جاتا ہے تو باقی تمام چیزیں خود بخود ترتیب میں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔
سورۃ الفاتحہ ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ہم محض اسباب کے سہارے نہیں بلکہ ربوبیت کے نظام میں سانس لے رہے ہیں۔ آج کا انسان جس اضطراب، بے چینی اور خوف میں مبتلا ہے، اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اس نے رب العالمین سے اپنا تعلق کمزور کر لیا ہے۔ سورۃ الفاتحہ اس تعلق کو دوبارہ زندہ کرتی ہے۔

2۔ الحمد للہ: شکر کو زندگی کا زاویہ بنانا
عملی زندگی میں سورۃ الفاتحہ کا پہلا اطلاق یہ ہے کہ انسان شکر کو وقتی جذبہ نہیں بلکہ مستقل طرزِ فکر بنا لے۔ الحمد للہ کا مطلب یہ نہیں کہ صرف زبان سے تعریف کر دی جائے، بلکہ یہ تسلیم کرنا ہے کہ ہر نعمت، ہر موقع اور ہر سانس اللّٰہ کی طرف سے ہے۔
جب انسان الحمد للہ کے شعور کے ساتھ جیتا ہے تو: * وہ حسد سے بچ جاتا ہے * وہ محرومی کے احساس سے نکل آتا ہے * وہ دوسروں کی نعمتوں کو خطرہ نہیں سمجھتا
* وہ اپنی کم تر حالت میں بھی رب کو نہیں بھولتا
آج کے معاشرے میں ناشکری کو حق سمجھا جاتا ہے، جبکہ سورۃ الفاتحہ انسان کو سکھاتی ہے کہ شکر دراصل روح کا تحفظ ہے۔

3۔ رب العالمین: تعلق کو صرف ذاتی نہ رکھنا
رب العالمین کا تصور ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اللّٰہ صرف میرا نہیں بلکہ سب کا رب ہے۔ اس کا عملی اطلاق یہ ہے کہ انسان اپنی عبادت، اخلاق اور رویّوں میں خود غرضی سے نکل کر وسعت اختیار کرے۔

اگر اللّٰہ رب العالمین ہے تو: * میں کسی انسان کو حقیر نہیں سمجھ سکتا * میں کسی قوم، طبقے یا فرد کو نظر انداز نہیں کر سکتا * میں ظلم پر خاموش نہیں رہ سکتا
یہ تصور انسان کو اجتماعی ذمہ داری کا احساس دیتا ہے۔ آج کا انسان اپنی دنیا تک محدود ہو گیا ہے، سورۃ الفاتحہ اسے پوری انسانیت سے جوڑتی ہے۔

4۔ الرحمن الرحیم: خوف نہیں، امید کے ساتھ جینا
آج کے انسان کی ایک بڑی بیماری مایوسی ہے۔ سورۃ الفاتحہ الرحمن الرحیم کے ذریعے انسان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اللّٰہ کا نظام سزا سے زیادہ رحمت پر قائم ہے۔
عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ: * انسان اپنی غلطیوں کے بعد بھی امید نہ چھوڑے
* وہ توبہ کو آخری دروازہ نہیں بلکہ پہلا قدم سمجھے * وہ دوسروں کے ساتھ بھی رحمت کا رویہ اپنائے
جو شخص خود کو رحمت کے سائے میں جیتا ہوا محسوس کرتا ہے، وہ دوسروں کے لیے بھی سایہ بن جاتا ہے۔

5۔ مالک یوم الدین: جواب دہی کا شعور
زندگی میں بگاڑ کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ انسان خود کو جواب دہ نہیں سمجھتا۔ سورۃ الفاتحہ ہمیں روزانہ یاد دلاتی ہے کہ ایک دن ایسا آئے گا جب ہر عمل کا حساب ہو گا۔

اس شعور کا عملی اطلاق: * فیصلوں میں دیانت * تعلقات میں انصاف * عبادت میں خلاص * معاملات میں احتیاط
جب انسان جان لیتا ہے کہ اسے جواب دینا ہے تو وہ زندگی کو کھیل نہیں بناتا۔

6۔ ایاک نعبد: عبادت کو محدود نہ رکھنا
اکثر لوگ عبادت کو صرف نماز، روزہ اور تلاوت تک محدود کر دیتے ہیں۔ سورۃ الفاتحہ کا پیغام یہ ہے کہ عبادت زندگی کا ہر وہ عمل ہے جو اللّٰہ کی رضا کے لیے ہو۔

عملی زندگی میں:
* رزق کمانا عبادت بن سکتا ہے * گھر کی ذمہ داری عبادت بن سکتی ہے * کسی کا حق ادا کرنا عبادت بن سکتا ہے جب عبادت کا تصور وسیع ہو جاتا ہے تو زندگی بوجھ نہیں رہتی۔

7۔ ایاک نستعین: مدد مانگنے کی جرأت
آج کا انسان خود کو خود کفیل ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ اندر سے ٹوٹا ہوا ہوتا ہے۔ سورۃ الفاتحہ انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ مدد مانگنا کمزوری نہیں بلکہ ایمان ہے۔

عملی طور پر:
* فیصلوں سے پہلے دعا * مشکل میں شکایت نہیں، رجوع * تنہائی میں رونا بھی عبادت جو شخص اللّٰہ سے مدد مانگنا سیکھ لیتا ہے، وہ انسانوں کی محتاجی سے آزاد ہو جاتا ہے۔

8۔ اھدنا الصراط المستقیم: زندگی میں سمت کا تعین
آج کا سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ راستے کم ہیں بلکہ یہ ہے کہ صحیح راستہ پہچانا نہیں جاتا۔ سورۃ الفاتحہ انسان کو سکھاتی ہے کہ وہ سب سے پہلے ہدایت مانگے۔

عملی اطلاق:
* فیصلوں میں جلد بازی سے بچنا * حق اور فائدے میں فرق کرنا * مقبولیت نہیں، درستگی کو معیار بنانا ہدایت مانگنے والا کبھی گمراہ نہیں ہوتا۔

9۔ صراط الذین انعمت علیہم: رول ماڈل کا انتخاب
زندگی میں انسان وہی بنتا ہے جنہیں وہ دیکھتا ہے۔ سورۃ الفاتحہ ہمیں سکھاتی ہے کہ کامیابی کا معیار وہ لوگ ہیں جن پر اللّٰہ کا انعام ہوا۔

آج کے دور میں:
* مشہور ہونا کامیابی نہیں * طاقتور ہونا معیار نہیں * متقی ہونا اصل کامیابی ہے

10۔ غیر المغضوب علیہم ولا الضالین: انجام سے سبق
سورۃ الفاتحہ انسان کو متنبہ کرتی ہے کہ کچھ راستے ایسے ہیں جو ظاہری طور پر کامیاب لگتے ہیں مگر انجام تباہی ہوتا ہے۔

عملی طور پر:
* ضد سے بچنا * علم کے بغیر عمل نہ کرنا * خواہش کو رہنما نہ بنانا

11۔ گھر، معاشرہ اور تعلقات میں اطلاق
اگر سورۃ الفاتحہ گھروں میں اتر جائے تو: * شکوے کم ہو جائیں * صبر بڑھے
* شکر عام ہو معاشرے میں: * انصاف بڑھے * رحم پیدا ہو * خود غرضی کم ہو

12۔ باطنی توقف: چند لمحے رکیں
اب ذرا رک کر سوچیے: * کیا میری زندگی کا مرکز واقعی اللّٰہ ہے؟ * کیا میں شکر گزار ہوں یا شاکی؟ * کیا میں ہدایت مانگتا ہوں یا اپنی خواہش کو چنتا ہوں؟ یہ سوالات وعظ نہیں، آئینہ ہیں۔

13۔ تنہائی میں سورۃ الفاتحہ کا اطلاق
آج کا انسان ہجوم میں رہتے ہوئے بھی تنہا ہے۔ اس کی تنہائی صرف جسمانی نہیں بلکہ فکری اور روحانی ہے۔ سورۃ الفاتحہ اس تنہائی میں انسان کو یہ شعور دیتی ہے کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔ جب وہ کہتا ہے الحمد للہ رب العالمین تو دراصل وہ اپنے وجود کو ایک رب کے نظام میں رکھ دیتا ہے۔
تنہائی میں سورۃ الفاتحہ کا اطلاق یہ ہے کہ: * انسان شکوہ انسانوں سے نہیں بلکہ اللّٰہ سے کرے * اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے بجائے ان کا اعتراف کرے * خاموشی کو مایوسی نہیں بلکہ مکالمہ بنائے یہ دعا انسان کو سکھاتی ہے کہ تنہائی فرار کا مقام نہیں بلکہ رجوع کا موقع ہے۔

14۔ خوف، بے یقینی اور مستقبل
مستقبل کا خوف آج کے انسان کا مستقل مسئلہ ہے۔ روزگار، صحت، اولاد، تعلقات — ہر چیز غیر یقینی لگتی ہے۔ سورۃ الفاتحہ میں الرحمن الرحیم اور مالک یوم الدین کا شعور انسان کو توازن سکھاتا ہے۔

عملی اطلاق یہ ہے کہ:
* انسان اسباب اختیار کرے مگر دل ان سے نہ باندھے * نتائج کی فکر میں اصول نہ چھوڑے * خوف کو دعا میں بدل دے جو شخص مستقبل کو اللّٰہ کے حوالے کر دیتا ہے، وہ حال میں جینا سیکھ لیتا ہے۔

15۔ عبادت میں خشوع اور شعور
نماز میں سورۃ الفاتحہ بار بار پڑھنا اس بات کا اعلان ہے کہ انسان کو بار بار اپنی سمت درست کرنے کی ضرورت ہے۔ عبادت میں اس کا اطلاق یہ ہے کہ:
* الفاظ کو رفتار نہیں بلکہ فہم کے ساتھ ادا کیا جائے * ہر آیت کو اپنے حال پر پیش کیا جائے * نماز کو عادت نہیں بلکہ ملاقات سمجھا جائے جب سورۃ الفاتحہ شعور کے ساتھ پڑھی جائے تو عبادت رسمی نہیں رہتی۔

16۔ اولاد کی تربیت میں اطلاق
اولاد کو صرف نصیحت نہیں بلکہ سمت چاہیے۔ سورۃ الفاتحہ والدین کو یہ سکھاتی ہے کہ وہ: * بچوں کو رب سے جوڑیں، صرف دنیا سے نہیں * کامیابی کا معیار ہدایت رکھیں
* مثال بنیں، خطبہ نہیں اگر بچے روزانہ یہ دیکھیں کہ والدین ہدایت مانگتے ہیں، تو وہ خود راستہ تلاش نہیں کریں گے بلکہ راستہ پہچانیں گے۔

17۔ معاشی دوڑ اور سورۃ الفاتحہ
رزق کی دوڑ میں انسان اکثر اصول بھول جاتا ہے۔ ایاک نعبد و ایاک نستعین کا عملی تقاضا یہ ہے کہ: * رزق حلال ہو، چاہے کم ہو * مدد کا مرکز اللّٰہ ہو، ناجائز راستے نہیں
* ترقی مقصد نہ بنے، ذریعہ رہے یہ دعا انسان کو یاد دلاتی ہے کہ رزق دینے والا رب ہے، نظام نہیں۔

18۔ اختلاف، برداشت اور اجتماعی زندگی
معاشرے میں اختلاف ناگزیر ہے مگر دشمنی ضروری نہیں۔ رب العالمین کا تصور ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ: * اختلاف میں بھی انسانیت باقی رکھی جائے * اپنی رائے کو حق مطلق نہ سمجھا جائے * اصلاح کا انداز رحمت پر مبنی ہو سورۃ الفاتحہ معاشرتی توازن کی بنیاد رکھتی ہے۔

19۔ گناہ، لغزش اور واپسی
انسان خطا کا پتلا ہے۔ سورۃ الفاتحہ انسان کو مایوسی کے بجائے واپسی کا راستہ دکھاتی ہے۔ الرحمن الرحیم کا اطلاق یہ ہے کہ: * گناہ کے بعد ضد نہ ہو * شرمندگی کو حائل نہ بنایا جائے * توبہ کو فوری ردعمل بنایا جائے جو شخص گر کر اٹھنا سیکھ لیتا ہے، وہی راستے پر رہتا ہے۔

20۔ قیادت، اختیار اور ذمہ داری
چاہے گھر ہو، دفتر یا معاشرہ، اختیار کے ساتھ امتحان آتا ہے۔ مالک یوم الدین کا شعور انسان کو یاد دلاتا ہے کہ: * اختیار امانت ہے * جواب دہی یقینی ہے * انصاف عبادت ہے یہ شعور قیادت کو خدمت بنا دیتا ہے۔

21۔ خاموش دعوتِ عمل
سورۃ الفاتحہ ہمیں نعرہ نہیں دیتی، راستہ دیتی ہے۔ اس کا اطلاق یہ ہے کہ: * انسان خود بدلے، دنیا خود بدلنے لگے * دعویٰ کم ہو، عمل زیادہ * زبان سے پہلے حال گواہی دے

22۔ آخری باطنی توقف
اب ایک بار پھر رکیں: * میں کس راستے پر چل رہا ہوں؟ * میں کس سے مدد مانگ رہا ہوں؟ * میں کن لوگوں کے نقشِ قدم پر ہوں؟ اگر یہ سوالات زندہ ہیں تو دعا زندہ ہے۔

اختتامی کلمات

سورۃ الفاتحہ اگر نماز سے نکل کر زندگی میں آ جائے تو انسان بدل جاتا ہے، اور جب انسان بدلتا ہے تو معاشرہ بدلتا ہے۔ یہ دعا ہمیں صرف مانگنا نہیں سکھاتی بلکہ جینا سکھاتی ہے۔ یہی سورۃ الفاتحہ کا اصل اطلاق ہے۔

حتمی اختتامیہ

سورۃ الفاتحہ صرف آغاز نہیں بلکہ ہر دن کی تجدید ہے۔ یہ دعا انسان کو بار بار یاد دلاتی ہے کہ راستہ مانگنا بھی عبادت ہے اور راستے پر چلنا بھی۔ جب یہ دعا زندگی میں اتر جاتی ہے تو انسان کی سمت، نیت اور انجام بدل جاتا ہے۔ یہی سورۃ الفاتحہ کا زندہ اطلاق ہے۔

14/01/2026

سردیوں میں اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ بار بار پیشاب آنا ٹھنڈ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اکثر بلڈ شوگر بڑھنے کی وجہ سے جسم آپ کو اشارہ دیتا ہے۔
ذیابیطس میں بار بار پیشاب کیوں آتا ہے؟
جب خون میں شوگر زیادہ ہو جاتی ہے
تو جسم اضافی شوگر کو پیشاب کے ذریعے باہر نکالنے کی کوشش کرتا ہے جس کی وجہ سے:
• بار بار پیشاب آتا ہے
• جسم کمزور ہونے لگتا ہے
• پانی کی کمی محسوس ہوتی ہے
اکثر لوگ یہاں غلطی کرتے ہیں
وہ موسم کو قصوروار ٹھہرا دیتے ہیں
لیکن اصل وجہ یعنی شوگر کنٹرول پر توجہ نہیں دیتے اور مسئلہ آہستہ آہستہ گردوں اور جسم کو نقصان پہنچانے لگتا ہے۔
حل کیا ہے؟
علامت کو نظر انداز کرنا نہیں بلکہ بلڈ شوگر کو متوازن رکھنا ہے۔

اگر آپکو یہ علامت محسوس ہو رہی ہے تو دیر نہ کریں اپنی شوگر کو متوازن طریقے سے کنٹرول کریں ۔

طاقت اور حرارت  (سردیوں کا تحفہ)دوستوں آج ہم جس حلوہ کی ترکیب بتا رہے ہیں۔ سردیوں میں گوشت، انڈے، دودھ، چڑوں  وغیرہ کے م...
14/01/2026

طاقت اور حرارت (سردیوں کا تحفہ)

دوستوں آج ہم جس حلوہ کی ترکیب بتا رہے ہیں۔ سردیوں میں گوشت، انڈے، دودھ، چڑوں وغیرہ کے مقابلہ میں یہ حلوہ طاقت، قوت جبکہ حرارت بھی آخر فراہم کرتا ہے۔

جیسا کہ پوسٹ میں لکھاجا چکا ہے کہ یہ حلوے کا حلوہ جبکہ سردیوں کی کڑاہی بھی اسی کو کہہ لیں۔ ایک بار لازمی بنائیے جب دل چاہیے جتنا مرضی چائے کے ساتھ کھائیے پھر بتائیے۔

اس کے فائدے لا تعداد ہیں مگر اہم بات طاقت کے ساتھ ساتھ جسم میں توانائی بھر پور پیدا کرتا ہے ۔ یہی حلوہ قوت باہ یا مردانہ و زنانہ امراض کیلیے قیمتی کورس اور
حکیم محمد اسماعیل
نسخہ جات سے زیادہ سودمند ہے۔

نوٹ:- لکھی گئی اشیاء و میوہ جات کے علاوہ اضافہ نہ کریں ورنہ اس کے نتائج کم ہوجائیں گے۔ شکریہ

طریقہ تیاری حلوہ بیضہ مرغ:۔ــ

گڑ اور گھی کی چاش یعنی ابال لیں پھر چنے کے آٹے کو اسی میں بھون لیں۔ جب آٹا چاش میں ڈالیں ساتھ ہی میوہ جات ناریل کا چورہ کر کے اخروٹ معمولی کوٹ کر اور کشمش ثابت ڈال دیں۔ جب میوہ جات اور آٹا یکجان ہوں اور سرخی مائل ہونے لگے تو زردیاں اکھٹی ڈال دیں اور بہت تیزی اور زوردار ہاتھوں سے ہلائیں تاکہ زردیاں اچھی طرح مکس ہو جائیں۔ نرم حلوے کیلئے ایک کپ دودھ ملا دیں۔ جب گھی الگ ہونے لگے اْتر لیں۔ حلوہ تیار ہے جو ایک ماہ تک خراب نہیں ہوتا۔اسے فریز کر لیں۔ـــ

Fefol-Vit کے فوائد🩸 خون کی کمی (Anemia) کو پورا کرنے میں مدد🤰 حاملہ خواتین میں آئرن اور فولک ایسڈ کی کمی پوری کرتا ہے😴 ک...
14/01/2026

Fefol-Vit کے فوائد
🩸 خون کی کمی (Anemia) کو پورا کرنے میں مدد
🤰 حاملہ خواتین میں آئرن اور فولک ایسڈ کی کمی پوری کرتا ہے
😴 کمزوری، تھکن، چکر اور سانس پھولنے میں فائدہ
🧠 فولک ایسڈ کی وجہ سے بچّے کی نشوونما میں مدد (Pregnancy میں خاص اہمیت)
💅 ناخنوں، بالوں اور جلد کی صحت میں بہتری
🕒 استعمال کا طریقہ
عموماً روزانہ 1 کیپسول
بہتر ہے کھانے کے بعد یا ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق
⚠️ احتیاط
خالی پیٹ لینے سے متلی یا معدے میں جلن ہو سکتی ہے
دودھ، چائے یا کافی کے فوراً بعد نہ لیں
بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں
اگر پہلے سے آئرن زیادہ ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے

13/01/2026
پاکستان میں یہ گولی CAC تقریباً ہر میڈیکل اسٹور اور فارمیسی سے آسانی سے مل جاتی ہے۔ذائقہ بھی اچھا ہے۔پانی میں ڈالو تو حل...
13/01/2026

پاکستان میں یہ گولی CAC تقریباً ہر میڈیکل اسٹور اور فارمیسی سے آسانی سے مل جاتی ہے۔
ذائقہ بھی اچھا ہے۔
پانی میں ڈالو تو حل ہو جاتی ہے
اور سوڈا جیسا فلیور بھی آتا ہے۔

اسی لیے لوگ اسے بغیر سوچے سمجھے استعمال کرنے لگتے ہیں۔

یہ گولی عموماً پریگننٹ عورتوں کو دی جاتی ہے
کیونکہ اس میں وٹامن سی کے ساتھ کیلشیم بھی شامل ہوتا ہے۔

آج ذرا وٹامن سی کی بات کرتے ہیں۔
م

وٹامن سی ہمارے جسم کے لیے ضروری ہے،
لیکن
ضرورت سے زیادہ ہر چیز نقصان دیتی ہے۔

آسان مثال لے لیں:
چائے یا کافی۔
ایک کپ پیو تو بہترین۔
آٹھ دس کپ پی لو
تو دل تیز، ہاتھ کانپنے لگیں، متلی سی فیلنگ۔

بالکل یہی حال وٹامن سی کا ہے۔

یہ CAC گولی عام طور پر
1000 ملی گرام وٹامن سی پر مشتمل ہوتی ہے۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ
عورتوں کو روزانہ تقریباً 75 ملی گرام
مردوں کو تقریباً 90 ملی گرام
اور حاملہ عورتوں کو 85 ملی گرام وٹامن سی چاہیے ہوتی ہے۔

یعنی
ایک گولی میں
جسم کی روزانہ ضرورت سے
10 سے 12 گنا زیادہ وٹامن سی۔
وٹامن سی واٹر سولیوبل وٹامن ہے۔
جسم اسے اسفنج کی طرح استعمال کرتا ہے۔

جتنی ضرورت → استعمال
زیادہ ہوئی → پیشاب کے راستے باہر

سادھی زبان میں
جب ضرورت پوری ہو گئی
تو باقی وٹامن سی
آپ پیشاب کی صورت میں بہا رہے ہوتے ہیں۔

پیسہ بھی ضائع
فائدہ بھی صفر

لیکن مسئلہ صرف یہاں تک نہیں۔

زیادہ مقدار میں وٹامن سی
گردوں پر اضافی لوڈ ڈالتی ہے۔

لمبے عرصے تک استعمال کیا جائے
تو
گردے کی پتھری
معدے کی جلن
تیزابیت
متلی اور الٹی
بعض لوگوں میں بلڈ پریشر کا مسئلہ
بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

خاص طور پر یہ فوارہ گولیاں
اکثر سوڈیم بھی رکھتی ہیں
جو بی پی کے مریضوں کے لیے اچھا نہیں۔

ایک اور بات
وٹامن سی آئرن کے جذب کو بڑھاتی ہے۔
جن لوگوں میں آئرن پہلے ہی زیادہ ہو
ان کے لیے یہ نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

اس لیے ذہن میں رکھیں:
سپلیمنٹ کا مطلب یہ نہیں ہوتا
کہ جتنا زیادہ، اتنا بہتر۔

وٹامن سی
گولی سے لینے کے بجائے
قدرتی طریقے سے لیں۔

جیسے:
آملہ
امرود
سنگترہ
مالٹا
لیموں

روز ایک دو پھل
آپ کی پوری وٹامن سی کی ضرورت پوری کر دیتے ہیں۔

اگر سپلیمنٹ لینا بھی ہو
تو
کسی اچھے ڈاکٹر یا نیوٹریشنسٹ کے مشورے سے۔

بغیر ضرورت
روزانہ CAC پینا
کوئی ذہانت نہیں۔

خوش رہیں
خوش رکھیں

Address

Shop No 117 In Said Lkki Gat
Bannu

Opening Hours

Monday 06:00 - 21:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+923355119222

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when New Hafiz Medical Store posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to New Hafiz Medical Store:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram