New Hafiz Medical Store

New Hafiz Medical Store Pharmacy .Homo Unani Medicine Are available Here

20/11/2025

اس سے بہترین تحریر ھو ھی نہیں سکتی
زبانی یاد کریں ۔۔۔بچوں پہ آزمائیں ۔۔۔
،
*ایک پروفیسر کی تربیت کا انداز*

_کلاس روم طلبہ اور طالبات سے بھرا ہوا تھا۔
ہر کوئی خوش گپیوں میں مصروف تھا ، ،
کان پڑی آوازسُنائی نہ دیتی تھی،
اتنے میں پرنسپل کلاس روم میں داخل ہوئے،
کلاس روم میں سناٹا چھاگیا ۔_

*پرنسپل صاحب نے اپنے ساتھ آئے ہوئے ایک صاحب کا تعارف کراتے ہوئے کہا یہ ہمارے کالج کے وزیٹنگ پروفیسر، پروفیسر انصاری ہیں،
آپ مفکر دانشور اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔
یہ آپ کو کامیاب زندگی گزارنے کے کچھ گر بتائیں گے۔
ان کے کئی لیکچر ہوں گے۔
جو اسٹوڈنٹس انٹرسٹڈ ہوں وہ ان کے
لیکچر میں باقاعدگی سے شریک ہوں۔*

*سبق نمبر 1*

*کلاس روم میں سناٹا طاری تھا۔
طلبا کی نظریں کبھی پروفیسر کی طرف اٹھتیں
اور کبھی بلیک بورڈ کی طرف۔
پروفیسر کے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔
سوال تھا ہی ایسا۔*

*وزیٹنگ پروفیسر انصاری نے ہال میں داخل ہوتے ہی
بغیر ایک لفظ کہے بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچ دی۔ پھر اپنا رخ طلبا کی طرف کرتے ہوئے پوچھا….*

*‘‘تم میں سے کون ہے
جو اس لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کردے؟’’….*

*‘‘یہ ناممکن ہے۔’’،
کلاس کے ایک ذہین طالبعلم نے آخر کار اس خاموشی کو توڑتے ہوئے جواب دیا۔ ‘‘
لکیر کو چھوٹا کرنے کے لیے اسے مٹانا پڑے گا اور
آپ اس لکیر کو چھونے سے بھی منع کررہے ہیں۔’’
باقی طلبا نے بھی گردن ہلا کر اس کی تائید کردی۔*

پروفیسر نے گہری نظروں سے طلبا کو دیکھا اور
کچھ کہے بغیر مسکراتے ہوئے بلیک بورڈ پر اس
لکیر کے نیچے ہی اس سے بڑی ایک اور لکیر کھینچ دی۔
اب اوپر والی لکیر کے سامنے یہ لکیر چھوٹی نظر آرہی تھی۔

*پروفیسر نے چاک ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا:*

*‘‘آپ نے آج اپنی زندگی کا ایک بڑا سبق سیکھا ہے،
وہ یہ ہے دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر،
ان کو بدنام کیے بغیر،
ان سے حسد کیے بغیر،
ان سے الجھے بغیر
ان سے آگے کس طرح نکلا جاسکتا ہے….’*’

*آگے بڑھنےکی خواہش انسان کی فطرت میں شامل ہے۔
اس خواہش کی تکمیل کا ایک طریقہ یہ ہے کہ
دوسرے کو چھوٹا بنانے کی کوشش کی جائے۔
مگر ایسی صورت میں انسان خود بڑا نہیں ہوتا۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دوسروں سے الجھے بغیر
خود کو طاقتور اور بڑا بنانے پر توجہ دی جائے۔
دوسروں سے الجھے بغیر آگے بڑھنا،
ترقی کا صحیح طریقہ ہے۔
یہ طریقہ فرد کے لیے بھی بہتر ہے
اور قوموں کے لیے بھی۔
اس طریقے پر اجتماعی طور پر ہمارے پڑوسی ملک
چین نے سب سے زیادہ عمل کیا ہے
اور بہترین نتائج حاصل کیے ہیں۔*

*سبق نمبر 2*

*دوسرے دن کلاس میں داخل ہوتے ہی
پروفیسر انصاری نے
بلیک بورٖڈ پر ایک بڑا سا سفید کاغذ چسپاں کردیا،
اس کے بعد
*انہوں نے اس سفید کاغذ کے درمیان میں مارکر سے
ایک سیاہ نقطہ ڈالا،
پھر اپنا رخ کلاس کی طرف کرتے ہوئے پوچھا:*

_‘‘آپ کو کیا نظر آ رہا ہے….؟ ’’_

_سب نے ہی یک زبان ہو کر کہا
‘‘ایک سیاہ نقطہ’’۔_

*طالب علم تعجب کا اظہار کررہے تھے
سر بھی کمال کرتے ہیں ،
کل لکیر کھینچی تھی
آج نقطہ بنادیا ہے ….*

*پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا
‘‘ حیرت ہے !
اتنا بڑا سفید کاغذ اپنی چمک اور پوری
آب و تاب کے ساتھ تو تمہاری نظروں سے اوجھل ہے،
مگر ایک چھوٹا سا
سیاہ نقطہ تمہیں صاف دکھائی دے رہا ہے؟’’*

_زندگی میں کیے گئے لاتعداد اچھے کام
سفید کاغذ کی طرح ہوتے ہیں
جبکہ کوئی غلطی یا خرابی محض
ایک چھوٹے سے نقطے کی مانند ہوتی ہے۔
لوگوں کی اکثریت دوسروں کی غلطیوں
پر توجہ زیادہ دیتی ہے
لیکن اچھائیوں کو نظر انداز کردیتی ہے۔_

_آپ کی ساری زندگی کی اچھائیوں پر
آپ کی کوئی ایک کوتاہی یا کسی غلطی کا
ایک سیاہ نقطہ ان کو زیادہ صاف دکھائی دیتا ہے۔_

_آپ آدھا گلاس پانی کا بھر کر
اگر 100 لوگوں سے پوچھیں گے ،
تو کم از کم 80 فیصد کہیں گے آدھا گلاس خالی ہے
اور 20 فیصد کہیں گے کہ آدھا گلاس پانی ہے ….
دونوں صورتوں میں بظاہر فرق کچھ نہیں پڑتا
لیکن درحقیقت یہ دو قسم کے انداز فکر کی
نمائندگی کرتے ہیں۔
ایک منفی اور دوسرا مثبت۔
جن لوگوں کا انداز فکر منفی ہوتا ہے وہ
صرف منفی رخ سے چیزوں کو دیکھتے
جبکہ مثبت ذہن کے لوگ ہر چیز میں خیر تلاشکرلیتے ہیں۔_

*ہماری زندگی کے معاملات میں
لوگوں کے ردعمل گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔
‘‘لوگ کیا کہیں گے’’
جیسے روائتی جملے ہمیں ہمیشہ
دو راہوں پر گامزن کردیتے ہیں۔
یہ دوراہی فیصلہ لینے میں
سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔
اس صورتحال میں صرف
نفسیاتی الجھن کا شکار ہوکررہ جاتے ہیں۔*

*اس لیے آپ مستقل میں کوئی بھی کام کریں،
کوئی بھی راہ چنیں ،
تو یہ یاد رکھیں
کہ آپ ہر شخص کو مطمئننہیں کرسکتے ۔*

*سبق نمبر 3*

*تیسرے دن پروفیسر نے اپنی کلاس کا آغاز کرتے ہوئے
ایک گلاس اٹھایا،
جس کے اندر کچھ پانی موجود تھا۔
انہوں نے وہ گلاس بلند کردیا،
تاکہ تمام طلبا اسےدیکھ لیں۔*

*‘‘سر کیا آپ
وہی فلسفیانہ سوال تونہیں پوچھنا چاہ رہے
کہ گلاس آدھا خالی ہے یا آدھا بھرا ہوا ہے’’
ایک طالب علم نے جملہ کستے ہوئے کہا۔*

*پروفیسر نے مسکراتے

ہوئے اس کی جانب دیکھا اور کہا
‘‘نہیں!
آج میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ
آپ کے خیال میں اس گلاس کا وزن کیا ہوگا….؟’’*

*‘‘پچاس گرام’’،
‘‘سو گرام’’، ‘‘ایک سو پچیس گرام’’۔
سب اپنے اپنے انداز سے جواب دینے لگے۔*

*‘‘میں خود صحیح وزن بتا نہیں سکتا،
جب تک کہ میں اس کا وزن نہ کرلوں!….’’
پروفیسر نے کہا۔
لیکن میرا سوال یہ ہے کہ
‘‘ کیا ہوگا اگر میں اس گلاس کو چند منٹوں کے لیے
اسی طرح اٹھائے رہوں….؟’’*

*‘‘کچھ نہیں ہوگا!’’
طالب علموں نے جواب دیا۔*

*‘‘ٹھیک ہے،
اب یہ بتاؤ کہ
اگر میں اس گلاس کو ایک گھنٹے تک یوں ہی
اٹھائے رہوں تو پھر کیا ہوگا….؟’’
پروفیسر نے پوچھا۔*

*‘‘آپ کے بازو میں درد شروع ہوجائے گا۔’’
طلباء میں سے ایک نے جواب دیا۔*

*‘‘تم نے بالکل ٹھیک کہا۔’’
پروفیسر نے تائیدی لہجے میں کہا۔‘‘
اب یہ بتاؤ کہ اگر میں اس گلاس کو
دن بھر اسی طرح تھامے رہوں تو پھر کیا ہوگا….؟’’*

*‘‘آپ کا باوزو شل ہوسکتا ہے۔
’’ ایک طالب علم نے کہا۔‘‘
آپ کا پٹھا اکڑ سکتا ہے
’’ ایک اور طالب علم بولا، ‘‘
آپ پر فالج کا حملہ ہوسکتا ہے۔
آپ کو اسپتال لازمی جانا پڑے گا!
’’ ایک طالب علم نے جملہ کسا
اور پوری گلاس قہقہے لگانے لگی۔*

*‘‘بہت اچھا!’’
پروفیسر نے بھی ہنستے ہوئے کہا پھر پوچھا
‘‘لیکن اس دوران کیا گلاس کا وزن تبدیل ہوا….؟’’*

_‘‘نہیں۔’’
طالب علموں نے جواب دیا۔_

_‘‘تو پھر بازو میں درد
اور پٹھا اکڑنے کا سبب کیا تھا….؟’’
پروفیسر نے پوچھا۔
طالب علم چکرائے گئے۔_

*‘‘ گلاس کا بہت دیر تک اُٹھائے رکھنا ،
بہتر ہوگا کہ اب گلاس نیچے رکھ دیں!’’
ایک طالب علم نے کہا۔*

*‘‘بالکل صحیح!….
’’ استاد نے کہا۔*

_‘‘ہماری زندگی کے مسائل بھی کچھ اسی قسم کے ہوتے ہیں۔ آپ انہیں اپنے ذہن پر چند منٹ سوار رکھیں تو
وہ ٹھیک لگتے ہیں۔
انہیں زیادہ دیر تک سوچتے رہیں تو وہ آپ کے لیے
سر کا درد بن جائیں گے۔
انہیں اور زیادہ دیر تک تھامے رہیں تو
وہ آپ کو فالج زدہ کردیں گے۔
آپ کچھ کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔_

* دیکھیے….!
اپنی زندگی کے چیلنجز (مسائل) کے بارے میں سوچنا
یقیناً اہمیت رکھتا ہے۔
لیکن….
اس سے کہیں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ
ہر دن کے اختتام پر سونے سے پہلے ان مسائل کو
ذہن سے اُتاردیا جائے۔
اس طریقے سے آپ کسی قسم کے ذہنی تناؤ میں
مبتلا نہیں رہیں گے۔
اگلی صبح آپ تروتازہ اور اپنی پوری توانائی کے ساتھ
بیدار ہوں گے اور اپنی راہ میں آنے والے کسی بھی ایشو، کسی بھی چیلنج کو آسانی سے ہینڈل کرسکیں گے۔
لہٰذا گلاس کو یعنی مسائل پر غیر ضروری سوچ بچار
کو نیچے کرنا رکھنا یاد رکھیں۔’’*

*سبق نمبر4*

*پروفیسر نے کہا
کہ کل ہر ایک طالب علم پلاسٹک کا ایک شفاف
تھیلا اور ٹماٹرساتھ لائے۔*

*جب طلباء تھیلا اور ٹماٹر لے آئے
تو پروفیسر نے کہا کہ :*

*‘‘آپ میں سے ہر طالب علم اس فرد کے نام پر جسے
آپ نے اپنی زندگی میں معاف نہیں کیا،
ایک ایک ٹماٹر چن لی
اور اس پر اس فرد کا نام اور تاریخ لکھ کر
اسے اپنے پلاسٹک کے تھیلے میں ڈالتے جائیں۔’’*

*سب نے ایک ایک کرکے یہی عمل کیا،
پروفیسر نے کلاس پر نظر ڈالی تو دیکھا
بعض طالب علموں کے تھیلے خاصے بھاری ہوگئے۔*

*پھر پروفیسر نے سب طالب علموں سے کہا کہ:*

*‘ یہ آپ کا ہوم ورک ہے،
آپ سب ان تھیلوں کو اپنے ساتھ رکھیں،
اسے ہر جگہ اپنے ساتھ لیے پھریں۔
رات کو سوتے وقت اسے اپنے بیڈ کے سرہانے رکھیں،
جب کام کر رہے ہوں تو اسے اپنی میز کے برابر میں رکھیں۔ کل ہفتہ ، پرسوں اتوار ہے آپ کی چھٹی ہے،
پیر کے روز آپ ان تھیلوں کو لے کر آئیں
اور بتائیں آپ نے کیا سیکھا۔ ’’*

*پیر کے دن سب طالب علم آئے تو
چہرے پر پریشانی کے آثار تھے،
سب نے بتایا کہ
اس تھیلے کو ساتھ ساتھ گھسیٹے پھرنا ایک آزار ہوگیا۔ قدرتی طور پر ٹماٹروں کی حالت خراب ہونے لگی۔
وہ پلپلے اور بدبودار ہوگئے تھے۔*

*پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا
‘‘ اس ایکسرسائز سے کیا سبق سیکھا….؟’’*

*سب طلبہ و طالبات خاموش رہے۔*

*‘‘اس ایکسر سائز سے یہ واضح ہوا کہ
روحانی طور پر
ہم اپنے آپ پر کتنا غیر ضروری وزن لادے پھر رہے ہیں۔ ہمیں اندازہ ہوا کہ ہم اپنی تکلیف
اور اپنی منفی سوچ کی کیا قیمت چکا رہے ہیں۔*

*ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ کسی کو معاف کردینا ،
کسی پر احسان کرنااس شخص کے لیے اچھا ہے
لیکن دوسرے کو معاف کرکے ہم خود اپنے لیے
لاتعداد فوائد حاصل کرتے ہیں ۔
جب تک ہم کسی سے ناراض رہتے ہیں ،
اس کے خلاف بدلہ لینے کے لیے سوچتے ہیں
اس وقت تک ہم کسی اور کا نہیں بلکہ
خود اپنا خون جلاتے ہیں۔
اپنے آپ کو اذیت اور مشقت میں مبتلا رکھتے ہیں۔
بدلے اور انتقام کی سوچ،
گلے سڑے ٹماٹروں کی طرح ہمارے باطن میں
بدبو پھیلانے لگتی ہے۔
معاف نہ کرنا ایک بوجھ بن کر
ہمارے اعصاب کو تھکا دیتا ہے۔*

*5*
Sabaq05

*‘‘آج ہم نہیں پڑھیں گے….’’*

*پروفیسر صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔
سارے طالب علم حیران و پریشان
ایک دوسرے کامنہ تکنے لگے۔*

*‘‘آپ دو دن ٹماٹروں کا تھیلا اٹھائے تھک گئے ہوں گے۔
اس لیے آج آپ کے لیے چائے کافی میریطرف سے….’’*

*اسی دوران لیکچر ہال میں کالج کا پیُون داخل ہوا
اس کے ہاتھ میں کافی کے دو بڑے سے جگ تھے ۔
ساتھ ہی بہت سے کپ تھے،
پورسلین کے کپ، پلاسٹک کے کپ، شیشے کے کپ،
ان میں سے بعض سادہ سے کپ تھے اور
بعض نہایت قیمتی، خوبصورت اور نفیس….*

*پروفیسر نے تمام طالب علموں سے کہا کہ
‘‘سب اپنی مدد آپ کے تحت
وہ گرما گرم چائے کافی آپ خودلے لیں۔’’*

*جب تمام طالب علموں نے اپنے چائے
اور کافی کے کپ ہاتھوں میں لے لیے
تو پروفیسر صاحب گویا ہوئے ۔*

*‘‘ آپ لوگ غور کریں ….
تمام نفیس،
قیمتی اور دیکھنے میں حسین کافی کپ اٹھا لیے گئے ہیں، جبکہ سادہ اور سستے کپوں کو کسی نے ہاتھ نہیں لگایا،
وہ یوں ہی رکھے ہوئے ہیں۔’’*

‘‘اس کا کیا مطلب سر’’۔
ایک طالب علم نے پوچھا

‘‘گو یہ عام سی بات ہے کہ
آپ اپنے لیے سب سے بہترین کا انتخاب کرتے ہیں
لیکن یہی سوچ آپ کے کئی مسائل
اور ذہنی دباؤ کی جڑ بھی ہے۔’’

سارے طالب علم چونک اٹھے،
‘‘ یہ کیا کہہ رہے ہیں سر اچھی چیز کا انتخاب
تو اعلیٰ ذوق کی علامت ہے۔
یہ مسائل کی جڑ کیسے ….؟’’

*پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا:‘‘
آپ سب کو حقیقت میں جس چیز کی طلب تھی،
وہ چائے یا کافی تھی….
نہ کہ کپ….
لیکن آپ سب نے دانستہ طور پر بہتر کپوں کے لیے
ہاتھ بڑھایا اور سب ایک دوسرے کے
کپوں کو چور نگاہوں سے دیکھتے رہے۔’’*

میرے بچو ….
نوجوانو…
یاد رکھو….
زندگی کا اصل
حسن باطن سے پھوٹنے والی خوشیوں کی وجہ سے ہے۔ عالی شان بنگلہ، قیمتی گاڑی، دائیں بائیں ملازمین،
دولت کی چمک دمک کی وجہ سے بننے والے دوست
یہ سب قیمتی کپ کی طرح ہیں۔
اگر اس قیمتی کپ میں کافی یا چائے بدمزہ ہو
تو کیا آپ اسے پئیں گے؟۔

اصل اہمیت زندگی ،
صحت اور آپ کے اعلیٰ کردار کی ہے۔
باقی سب کانچ کے بنے ہوئے نازک برتن ہیں،
ذرا سی ٹھیس لگنے سے یہ برتن ٹوٹ جائیں گے
یا ان میں کریک آجائے گا۔

یاد رکھیے!
دنیا کی ظاہری چمک دمک کی خاطر اپنے آپ کو مت گرائیے۔ بلکہ زندگی کے اصلی جوہر کو اُبھاریے۔

تمام تر توجہ صرف کپ پر مرکوز کرنے سے
ہم اس میں موجود کافی
یعنی زندگی سے لطف اندوز ہونے سے محروم رہ جاتے ہیں۔لہٰذا کپوں کو اپنے ذہن کا بوجھ نہ بنائیں….
اس کی بجائے کافی سے لطف اندوز ہوں۔
*سبق نمبر6*
پروفیسر صاحب نے کلاس کا آغاز کرتے ہوئے اپنی جیب
سے ایک پینسل نکالی اور تمام طلبا کو دکھاتےہوئے کہا :

‘‘ آج کا سبق آپ اس پینسل سے سیکھیں گے….
پینسل میں پانچ باتیں ایسی ہیں
جو ہم سب کے لیے جاننی ضروری ہیں!….

‘‘وہ کیا سر….’’
سب نے تجسس سے پوچھا

‘‘پہلی بات :
یہ پینسل عمدہ اور عظیم کام کرنے کے قابل
اس صورت میں ہوسکتی ہے ،
جب وہ خود کو کسی کے ہاتھ میں تھامے
رکھنے کی اجازت دے۔

دوسری بات :
ایک بہترین پینسل بننے کے لیے
وہ بار بار تراشے جانے کے تکلیف دہ عمل سے گزرتی ہے۔

تیسری بات:
وہ ان غلطیوں کو درست کرنے کی اہل رکھتی ہے ،
جو اس سے سرزد ہوسکتی ہیں۔

چوتھی بات :
یہ پینسل کا سب سے اہم حصہ ہمیشہ وہ ہوگا
جو اس کے اندر یعنی اس کے باطن میں ہوتا ہے اور پانچویں بات :
پینسل کو جس سطح پر بھی استعمال کیا جائے،
وہ لازمی اس پر اپنا نشان چھوڑ جاتی ۔
چاہے حالات کیسے ہی ہوں۔’’

‘‘اب اس پینسل کی جگہ آپ اپنے کو لے لیں۔

آپ بھی عمدہ اور عظیم کام کرنے کے لیے
قابل اسی صورت میں ہوسکتے ہیں،
جب آپ خود کو اپنے استاد
یا راہنما کے ہاتھوں میں تھامے رکھنے کی اجازت دیں۔

دوسری بات :
آپ کو بات بار تراشے جانے کے
تکلیف دہ عمل سے گزرنا پڑے گا ۔
یہ مراحل دنیا میں زندگی کے مختلف مسائل کی
صورت میں آپ کے سامنے آئیں گے،
ایک مضبوط فرد بننے کے لیے آپ کو ان مسائل کا
اچھے طریقے سے سامنا کرنا ہوگا۔

تیسری بات :
یہ کہ اپنے آپ کو ان غلطیوں کو درست کرنے کے
قابل بنائیں جو آپ سے سرزد ہوسکتی ہیں۔

چوتھی بات:
ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہمارے اندر ہے،
ہمارا باطن ہے ،
ہمیں اسے کثافتوں اور آلائشوں سے بچانا ہے۔

پانچویں بات:
آپ جس سطح پر سے بھی گزر کر جائیں،
آپ اپنے نشان ضرور چھوڑ جائیں۔
چاہے حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔

اس یقین کے ساتھ زندگی بسر کریں
کہ اس دنیا کو آپ کی ضرورت ہے،
کیونکہ
کوئی شے بھی فضول اور بے مقصد نہیں ہوتی۔

*سبق نمبر7*

پروفیسر صاحب نے کلاس میں داخل ہوتے ہوئے
اپنے طالب علموں پر نظر ڈالی اور کہا

“آج میں تمہیں زندگی کا نہایت
اہم سبق سکھانے جارہا ہوں….’’

وہ اپنے ہمراہ کانچ کی ایک بڑی برنی
یعنی جارJAR لائے تھے،
انہوں نے اس جار کوٹیبل پر رکھا
اور اپنے بیگ سے ٹیبل ٹینس کی گیندیں
نکال کر اس برنی میں ڈالنے لگے….
اور تب تک ڈالتے رہے جب تک
اس برنی میں ایک بھی گیند کی جگہ باقی نہ رہی….

پروفیسر صاحب نے طالب علموں سے پوچھا
“کیا برنی پوری بھر گئی ہے….؟”
“جی ہاں….”
طالب علموں نے ایک ساتھ جواب دیا…..

پھر پروفیسر صاحب نے
بیگ سے چھوٹے چھوٹے کنکر نکال کر
اس برنی میں بھرنے شروع کردیے،
وہ دھیرے دھیرے برنی کو ہلاتے بھی جارہے تھے۔
کافی سارے کنکر برنی میں جہاں جگہ خالی تھی سماگئے….

پروفیسر صاحب نے پھر سوال کیا:
“کیا اب برنی بھرگئی ہے….؟”

طالب علموں نے ایک بار پھر
“ہاں”کہا….

اب پروفیسر صاحب نے بیگ سے ایک تھیلی نکالی
اور اس میں سے ریت نکال کر
دھیرے دھیرے اس برنی میں ڈالنی شروع کردی،
وہ ریت بھی اس برنی میں جہاں تک ممکن تھا بیٹھ گئی….

یہ دیکھ کر طلباء اپنی نادانی پر ہنسنے لگے….

پروفیسر صاحب نے ایک بار پھر سوال کیا

“کیا اب یہ برنی پوری بھرگئی ہے ناں….؟”

“جی!….
اب تو پوری بھر گئی ہے سر….”
سب ہی نے ایک آواز میں کہا….

پروفیسر نے بیگ کے اندر سے جوس کے
دو ڈبّے نکال کر جوس اس برنی میں ڈالا،
جوس بھی ریت کے بیچ تھوڑی سی جگہ میں
جذب ہوگیا ….
اب پروفیسر صاحب نے نہایت ہی گھبمیر آواز میں
سمجھانا شروع کیا….

‘‘اس کانچ کی برنی کو تم لوگ اپنی زندگی سمجھو، ٹیبلٹینس کی گیندیں
تمہاری زندگی کے سب سے اہم کام ہیں…..
مثلاً طرزِ معاشرت، حصولِ معاش، تعلیموتربیت، خاندان ،بیوی بچے، نوکری ، صحت وتحفظ وغیرہ…. چھوٹے کنکر تمہاری عام ضروریات اور خواہشات ہیں۔
گاڑی، بنگلہ، نوکرچاکر، موبائل، کمپیوٹر
اور دیگراصرافِ زندگی وغیرہ….
اور ریت کا مطلب ہے
چھوٹی چھوٹی بےکار اور فضول باتیں،جھگڑے،
آوارہ گردی، ہوائی قلعہ بنانا، ٹائم پاس کرنا،
وقت کاضیاعوغیرہ ….

اگر تم نے کانچ کی برنی میں سب سے پہلے
ریت بھری ہوتی تو ٹیبل ٹینس کی گیند
اور کنکرکے لیے جگہ ہی نہیں بچتی یا
صرف کنکر بھردیے ہوتے تو گیند نہیں بھرپاتے ،
ریت ضرور آسکتی تھی….

ٹھیک یہی طریقہ کار زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
اگر تم فضول اور لایعنی چیزوں کے پیچھے پڑے رہو گے
اور اپنی زندگی اسی کے چکرمیں ختم کردو گے تو
تمہارے پاس اہم باتوں کے لیے وقت نہیں رہے گا….

ایک کامیاب
اور پرسکون زندگی گزارنے کے لیے یہ اہم سبق ہے ۔
اب یہ تم خود طے کرلو کہ
تمہیں اپنی کانچ کی برنی کس طرح بھرنی ہے’’….

طالب علم بڑے غور سے
پروفیسر صاحب کی باتیں سن رہے تھے،
اچانک ایک طالبعلم نے پوچھا
“سر!
لیکن آپ نے یہ نہیں بتایا کہ جوس کے دوڈبّےکیا ہیں؟”….

پروفیسر مسکرائے اور بولے
“میں سوچ ہی رہا تھا کہ
ابھی تک کسی نے یہ سوال کیوں نہیں کیا….
اس کا مطلب یہ ہے کہ
زندگی میں ہم کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں
اور کس قدر ہی کامیابیاں کیوں نہ سمیٹ رہے ہوں
لیکن اپنے گھر والوں،
دوستوں کےساتھ تعلق کی مٹھاس کی
گنجائش ہمیشہ رکھنی چاہیے”….

*سبق نمبر8*

آج لیکچر کا آخری دن تھا ،
کلاس روم کے طلبہ میں چہ مگوئیاں جاری تھیں،
اتنے میں پروفیسر صاحب کلاس روم میں داخل ہوئے، کلاس روم کی بھنبھناہٹ آہستہ آہستہ
گہری خاموشی میں بدلنے لگی۔
دیکھا کہ پروفیسر کے پیچھے
ایک غبارے والا ڈھیر سارے سرخ رنگ کے
کلاس روم میں داخل ہورہا ہے
پروفیسر کے اشارے پر غبارے والے نے ایک ایک کرکے
سارے غبارے طلباء میں تقسیم کردئیے….

‘‘سر آج ویلنٹائن ڈے نہیں ہے….’’
ایک طالب علم نے جملہ کسا۔
‘‘ سر!
کیا آپ کی سالگرہ ہے؟’’
ایک اور طالب علم بولا۔

پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا:

‘‘آپ میں سے ہر ایک کومارکر کا استعمال کرتے ہوئے
ا ن غباروں پر اپنا نام لکھنا ہے ’’۔
سب نے پرفیسر کی کہنے پر نام لکھ دئے ۔
اس کے بعد تمام غبارےجمع کرکے
دوسرے کمرے میں ڈال دیے گئے۔
آپ پروفیسر نے تمام طالب علموں سے کہا کہ
‘‘اب سب غباروں والے کمرے میں جائیں
اور اپنے اپنے نام والا غبارہ تلاش کریں ،
دھیان رہے کہ کوئی غبارہ نہ بھٹے
اور آپ سب کے پاس پانچ منٹ ہیں۔’’

ہر کوئی بدحواسی کے عالم میں
ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراتے ہوئے،
دوسروں کو دھکیلتے ہوئے اپنے نام کا غبارہ تلاش کرنے لگا۔ ایک افراتفری کا سماں تھا۔
سارے غبارے ایک ہی رنگ کے تھے،
پانچ منٹ تک
کوئی بھی اپنے نام والا غبارہ تلاش نہ کرسکا….
یہ دیکھ کر پروفیسر انصاری نے کہا کہ

اب آپ کے پاس پانچ منٹ ہیں
کوئی بھی غبارہ پکڑ لیں اور
اس کے نام والے شخص کودے دیں،
دو تین منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ
تمام افراد کے پاس اپنے اپنے نام والے غبارے تھے۔

پروفیسر انصاری کلاس سے مخاطب ہوتے ہوئےبولے:

‘‘بالکل اسی طرح ہماری زندگی ہے،
ہر کوئی بدحواسی کے عالم میں اپنے
ارد گرد خوشیاں تلاش کر رہا ہے یہ نہ
جانتے ہوئے کہ وہ کہاں ہیں۔

نوجوانوں….
یاد رکھو…
ہماری خوشی دوسروں کی خوشی میں پنہاں ہے،
ان کو ان کی خوشی دے دیں
تو آپ کو آپ کی خوشی مل جائے گی
،
اسے زبانی یاد کریں۔۔۔بچوں کو ٹرینگ کروائیں۔

دھماسہ کیا ہے؟دیگرنام۔دھماسہ ویران علاقوں میں پایا جانے والا ایک پودہ ہے۔ اسے اردو میں دھماسہ یا سچی بوٹی، عربی میں “شوک...
19/11/2025

دھماسہ کیا ہے؟دیگرنام۔
دھماسہ ویران علاقوں میں پایا جانے والا ایک پودہ ہے۔ اسے اردو میں دھماسہ یا سچی بوٹی، عربی میں “شوکت البیضأ”، پشتو میں سپیلغزئ ، پنجابی میں دھماں، ہندی میں دھماسہ، پوٹھوہاری میں دھمیاں ، سندھی میں ڈراماؤ، اور انگریزی نام فیگونیا خود، یونانی زبان سے لیا گیا ہے۔
ماہیت۔
دھماسہ کی تمام اقسام کے فوائد ایک جیسے ہیں۔
دھماسہ کسی بھی سنگین ضمنی اثرات کے بغیر کینسر، ہیپاٹائٹس، دل کے امراض، وغیرہ جیسی مہلک بیماریوں بشمول عمومی صحت کے مسائل پر معجزانہ اثرات کی حامل ہربل دوا ہے۔
مقام پیدائش۔
یہ افغانستان خراسان عرب بھارت میں پنجاب اوریوپی کے میدانی علاقوں خصوصاًدریاؤں کے کنارے ریتلی زمین میں پیدا ہوتاہے
کچھ لوگ دھماسہ کو غلطی سے اونٹ کٹارا سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں اونٹ کٹارا علیحدہ پودہ ہے۔
دھماسہ کے پودے میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر چار چار کانٹوں کا ایک سیٹ ہوتا ہے جس میں ہر دو کانٹوں کے درمیان پتلا اور لمبوترا پتہ ہوتا ہے۔ یہ کانٹےتین بھی ہو سکتے ہیں، اور چار بھی۔ اس کی شاخیں بہت پتلی ہوتی ہیں، اس لئے یہ براہ راست بڑھ نہیں سکتے ہیں اور ایک چھوٹی سی جھاڑی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ پودہ اٹلی، جرمنی، مشرق وسطیٰ کے ممالک، پاکستان اور بھارت میں بھی پایا جاتا ہے۔ یہ کینسر خاص طور پر خون اور جگر کے کینسر کے علاج کے طور پر مانا جاتا ہے۔
اس کے پھولوں کا رنگ ہلکاجامنی ہے۔ پھول جھڑنے کے بعد اس کے کانٹوں کے قریب 00 شکل کے چھوٹے بیج بڑی تعداد میں ہوتے ہیں۔

دھماسہ کے فوائد

۔۔۔ یہ سب سے اچھا مصفّا خون ہے اور خون کے لوتھڑوں کو پگھلاکر خون کو پتلا کرتا ہے جس کی وجہ سے برین ہیمبرج، ہارٹ اٹیک، اور فالج وغیرہ سے حفاظت ہوتی ہے۔
۔۔۔ اس کے پھول اور پتیوں سے کینسر اور تھیلاسیمیا کی ہر قسم کا علاج ممکن ہے۔
۔۔۔ جسم کی کی گرمی کو زائل کرنے اور ٹھنڈک کے اثرات کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
۔۔۔ اس کے ذریعے ہیپاٹائٹس کی تمام اقسام کا علاج ممکن ہے۔
۔۔۔ جگر کو طاقت دے کر جگر کے کینسر کا بھی علاج کیا جا سکتا ہے۔
۔۔۔ دل اور دماغ کی صلاحیتوں میں بہتری لانے میں معاون ہے۔
۔۔۔ جسمانی دردوں کے علاج میں مددگار ہے۔
۔۔۔ مختلف قسم کی الرجی کا علاج ہے۔
۔۔۔ کیل، مہاسے، چھائیاں اور دیگر جلدکے امراض سے نجات دلاتا ہے۔
۔۔۔ معدہ کو تقویت دے کر بھوک بڑھاتا ہے۔
۔۔۔ اس سے قے، پیاس اور جلن، وغیرہ جیسی علامات ختم ہو جاتی ہیں۔
۔۔۔ کمزور جسم کو طاقت دے کر فربہ بناتاہے، اور موٹے افراد کے لئے وزن کو کنٹرول کرنے میں مددگار ہے۔
۔۔۔ منہ اور مسوڑھوں کے امراض علاج ہے۔

۔۔۔ بلڈ پریشر کو معمول پر لاتا ہے۔
۔۔۔ دمہ اور عمومی سانس لینے میں دشواری کا علاج کرتا ہے۔
۔۔۔ تمباکو نوشی کےضمنی اثرات سے بحالی میں مدد ملتی ہے۔
۔۔۔ دھماسہ کا قہوہ چیچک روکنے کے لئے دیا جاتا ہے۔
۔۔۔ پیشاب کو بڑھاکر گردوں اور پیشاب کے نظام کو بہتر بناتا ہے۔
۔۔۔ یہ گردن کے پٹھوں کے کھچاؤ میں بھی دیا جاتا ہے۔
۔۔۔ مردانہ سپرم کی تعدادمیں بہتری اور عورت کے تولیدی نظام کو معمول پر لانے میں معاون ہے۔
۔۔۔ لیکوریا سمیت عورتوں کےعوارض کو کنٹرول کرتا ہے۔
۔۔۔ اٹھرا کا شافی علاج کرتا ہے، جب کہ ایلوپیتھی میں یہ لاعلاج مرض ہے۔یہ خواتین کی ایسی بیماری ہے کہ جس میں جسم پر نیلے یا سیاہ دھبےطاہر ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہی اسقاط حمل ہو جاتا ہے، مردہ بچے پیدا ہوتے ہیں یا پیدا ہونے کہ بعد نیلے کالے ہو کر مر جاتے ہیں۔ کچھ خواتین میں صرف لڑکیاں تو بچ جاتی ہیں لیکن لڑکے زندہ نہیں رہتے۔ اس کے علاوہ کچھ خواتین میں اٹھرا کی وجہ سے معدہ اور جگر کی خرابی کی وجہ سے وہ کمزور ہو جاتی ہیں۔ ایسی خواتین حمل کی تکالیف برداشت نہیں کر سکتیں جس کی وجہ سے اسقاط حمل ہو جاتا ہے۔
۔۔۔ ایک اچھا اینٹی آکسیڈینٹ ہونے کی وجہ سے ذہنی دباؤکو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ … ..اور فوائد کی فہرست طویل ہوتی جاتی ہے۔
۔۔۔ اگر آپ اب بھی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہیں تو اس کا مطلب آپ ابھی تک دھماسہ کے فوائد سے بے خبر ہیں۔

استعمال کرنے کا طریقہ

کینسر، تھیلیسیمیا، ہیپاٹائٹس، وغیرہ جیسے مہلک امراض سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے دھماسہ کے پھول، پتے اوربیج اکٹھے کرلیں۔ اسے نیم گرم پانی سے دھونے کے بعد ہوادار سایہ میں خشک کر لیں۔ مکمل طور پر خشک ہے کے بعد اسے پیس کر پاؤڈر بنا لیں۔صبح دوپہر شام اس پاؤڈر کے ایک چھوٹے چمچ کو بچے کی خوراک میں شامل کرکے کھلائیں۔ بڑوں کے لئے اسی پاؤڈر کا ایک چھوٹا یا بڑا چمچ (عمر اور جسم کے وزن کے مطابق) بڑے کیپسولز میں بھر کے یا کسی خوراک میں ملا کر صبح دوپہر شام پانی کے ہمرا کھلائیں۔
۔۔۔ دھماسہ کے تازہ پتے، پھول اور بیج سب کو پانی میں گھوٹا لگا کر ایک کپ یا گلاس دن میں تین بار کھانے کے فوری بعد نوش فرمائیں۔ پندرہ سے تیس دن تک بیماری سے شفا ہوگی۔ البتہ مکمل صحت کے لئے سال بھر بھی مسلسل استعمال کیا جاسکتا ہے۔
۔۔۔ اگر پتے پھول اور بیج کم ملیں تو دھماسہ کی مکمل سبز شاخیں، کانٹوں سمیت بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں۔
۔۔۔ دھماسہ کو پیس کر تھوڑا سا شہد شامل کرکے آٹے کی طرح تیار کریں اور اس کی چنے کے بڑے دانے کے سائز کی گولیاں بنا لیں۔ یہی تین یا چار گولیاں دن میں تین بار کھانے کے فوراً بعد پانی سے نوش فرمائیں۔
۔۔۔ اٹھرا کےمرض میں مبتلا خواتین صحت مند بچے کو حاصل کرنے کے لئے حمل کے تمام نو ماہ اسے استعمال کریں۔ زچہ و بچہ دونوں صحت مند رہیں گے۔
ایک اچھا اینٹی آکسیڈینٹ ہونے کی وجہ سے ذہنی دباؤکو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ … ..اور فوائد کی فہرست طویل ہوتی جاتی ہے

19/11/2025

کم آئرن اور ہیموگلوبن۔
ہیموگلوبن آکسیجن کے پابند ہونے کے لیے ایک ضروری مالیکیول ہے۔ جیسا کہ ہم فضا سے آکسیجن سانس لیتے ہیں، o2 ذرات ہیموگلوبن میں سیر ہو جاتے ہیں۔ ہیموگلوبن آکسیجن کو خون کے بہاؤ کے ذریعے طلب کے مخصوص حصوں تک پہنچاتا ہے۔ آکسیجن جاری ہوتا ہے اور Co2 کو دہن والے آکسیجن سے میٹابولائز کیا جاتا ہے پھر سانس چھوڑنے کے لیے پھیپھڑوں تک پہنچانے کے لیے ہیموگلوبن سے جڑ جاتا ہے۔ سیلولر سانس لینے کا عمل۔

لوہے کی کم مقدار جسم میں ہیموگلوبن کی آکسیجن سنترپتی کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے کیونکہ آئرن ہیموگلوبن کے لیے ضروری بلڈنگ بلاک ہے۔

آئرن کو جذب کرنے کے مسائل متعدد غذائی اور توانائی کی ضروریات سے ہوتے ہیں۔

آئرن سے بھرپور غذاؤں کا کم استعمال۔
سرگرمی اور پٹھوں کے سنکچن کی اعلی سطح
ہاضمے کے مسائل۔

جگر کے مسائل - NAFL-

تھکاوٹ، کمزوری، طاقت میں کمی، جسمانی سرگرمی کی سطح میں کمی کی علامات۔

لوہے کی سطح پیتھالوجی کے ذریعے دو طریقوں سے پیمائش کی جاتی ہے۔
ہیموگلوبن: آپ کے خون میں ہیموگلوبن کی مقدار، جو کہ آئرن سے بھرپور پروٹین ہے جو خون کے سرخ خلیوں میں آکسیجن لے جاتی ہے۔
سرخ خون کے خلیات: آپ کے خون میں سرخ خون کے خلیات کی تعداد
سفید خون کے خلیات: آپ کے خون میں سفید خون کے خلیات کی تعداد
پلیٹلیٹس: آپ کے خون میں پلیٹلیٹس کی تعداد
اوسط کارپسکولر حجم (MCV): آپ کے خون کے سرخ خلیوں کا اوسط سائز۔

اسے فیریٹین کی سطح کے ساتھ ملانا آپ کو اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ آپ کا جسم کتنا لوہا ذخیرہ کر رہا ہے۔ چونکہ لوہے کا جذب اور جگر کے ذخیرہ سے اخراج متعدد غذائی اجزاء بشمول B12، زنک اور Vit D کے لیے ضروری ہے۔

زنک آر بی سی کے حجم کے لیے ضروری ہے اور معدے میں جذب اور آر بی سی کی مقدار کے لیے بی 12 کی ضرورت ہے تاکہ آئرن آر بی سی کے اندر ہیموگلوبن سے منسلک ہو سکے۔ وٹامن ڈی ہیپسیڈن کی سطح کو کم کرتا ہے، ایک مادہ جو آئرن کو جذب ہونے سے روکتا ہے۔

پتلی جو لوہے کے جذب کو متاثر کرتی ہیں وہ بھی معاون ہیں۔

ایسی غذا بھی شامل ہے جن میں فائیٹیٹس زیادہ ہوں۔ فائٹک ایسڈ زنک اور آئرن سمیت معدنیات کے جذب کو روکتا ہے۔

فائٹک ایسڈ کھانے کی چیزوں میں زیادہ ہوتا ہے جیسے کہ سارا اناج، اناج کی پھلیاں، گری دار میوے، کافی

ظ
19/11/2025

ظ

سردیوں میں سب سے خاموش قاتل… لیکن لوگ اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں!"سردی آتے ہی جسم کا ایک کمزور پوائنٹ سب س...
19/11/2025

سردیوں میں سب سے خاموش قاتل… لیکن لوگ اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں!"

سردی آتے ہی جسم کا ایک کمزور پوائنٹ سب سے پہلے حملہ برداشت کرتا ہے… اور وہ ہے آپ کی گردن اور کندھوں کی پچھلی نَسیں۔
زیادہ ٹھنڈ لگنے سے یہی نَسیں سخت ہو کر درد، جکڑن اور سَر بھاری ہونے کا سب سے بڑا سبب بنتی ہیں۔

آپ روزانہ گرم کپڑے پہن لیتے ہیں… مگر ایک قدرتی چیز ایسی ہے جو جسم کے اندر سے گرمی پیدا کرتی ہے اور نَسوں کی جکڑن کو بڑی نرمی سے کھولتی ہے۔
دلچسپ بات؟ اس چیز کا استعمال گھروں میں پہلے عام تھا… آج لوگ اسے بھول چکے ہیں!

آئیے آپ کو اس خزانے سے آشنا کر دوں…

اصل ٹاپک: “سردیوں میں نَسوں کی حفاظت کا راز — سفید تل + سونٹھ کا طاقتور کمبی نیشن”

یہ کوئی عام ملاپ نہیں… سفید تل اپنی اندرونی قدرتی حرارت اور کیلشیم کی وجہ سے نَسوں کو مضبوط کرتے ہیں،
اور سونٹھ (خشک ادرک) جسم کے اندر ایک ہلکی گہری گرمی پیدا کرکے سردی سے ہونے والی جکڑن کو کھول دیتی ہے۔

اس کے حیران کن فائدے

نَسوں کی جکڑن، گردن و کمر کی سوجن میں آسانی پیدا کرتا ہے۔

ہاتھ پاؤں کی ٹھنڈک کم کرکے جسم کا ٹمپریچر نارمل رکھتا ہے۔

جوڑوں میں صبح اٹھتے وقت ہونے والا درد کم کرتا ہے۔

کمزور لوگوں میں سردی سے ہونے والی تھکاوٹ کم کرتا ہے۔

خون کی روانی بہتر بناتا ہے یعنی ہاتھ پاؤں سن ہونے سے بچاتا ہے۔

قدرتی تاثیر (تاثیر)

یہ ملاپ قدرتی طور پر گرم تاثیر رکھتا ہے۔ سردیوں میں انتہائی مفید۔

کن لوگوں کے لیے بہترین؟

وہ لوگ جنہیں سردی لگتی ہے

جن کے ہاتھ پاؤں برف جیسے ٹھنڈے رہتے ہیں

جنہیں جوڑوں یا نَسوں کا درد ہوتا ہے

وہ بزرگ جنہیں صبح اٹھ کر زیادہ جکڑن محسوس ہوتی ہے

کن لوگوں کو احتیاط کرنی چاہیے؟

جنہیں پیٹ میں گرمی زیادہ ہو

جنہیں السر یا تیزابیت زیادہ رہتی ہو

جنہیں پہلے سے بہت گرمی والے نسخے سوٹ نہیں کرتے

استعمال کا بہترین طریقہ

رات سونے سے پہلے:
ایک چمچ سفید تل + ایک چٹکی سونٹھ نیم گرم پانی کے ساتھ کھا لیں۔
اس کے بعد 5 منٹ واک کرلیں تاکہ اثر پورے جسم میں پھیل جائے۔

اسے کس کے ساتھ کھانا بہتر ہے؟

نیم گرم پانی
یا

ہلکے دودھ کے ساتھ (اگر آپ کو دودھ سوٹ کرتا ہے)

ایموشنل پوائنٹ

اگر آپ سردیوں میں روز تھکاوٹ، جکڑن یا پٹھوں کا ٹینشن محسوس کرتے ہیں… تو یہ چھوٹا سا ملاپ آپ کی روزمرہ زندگی کو بہت آسان بنا سکتا ہے۔

Canesten 1 Vaginal Tablet کیا ہے؟Canesten 1 Vaginal Tablet ایک اینٹی فنگل دوا ہے، جس کا بنیادی جزو Clotrimazole ہوتا ہے۔...
16/11/2025

Canesten 1 Vaginal Tablet کیا ہے؟

Canesten 1 Vaginal Tablet ایک اینٹی فنگل دوا ہے، جس کا بنیادی جزو Clotrimazole ہوتا ہے۔ یہ دوا خواتین میں اندرونی (ویجائنل) فنگل انفیکشن، خاص طور پر خمیر (yeast) انفیکشن یعنی کینڈیڈیاسِس (Candidiasis) کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ دوا فنگس کو ختم کرکے خارش، جلن، اور رطوبت کا خاتمہ کرتی ہے۔

---

استعمالات (Indications)

Canesten 1 Vaginal Tablet درج ذیل علامات اور مسائل کے علاج کے لیے تجویز کی جاتی ہے:

ویجائنل خمیر انفیکشن (Yeast infection / Vaginal Candidiasis)

ویجائنل خارش

سفید یا گاڑھی رطوبت (discharge)

ویجائنل جلن یا سوزش

ملاپ کے دوران درد (اگر انفیکشن کی وجہ سے ہو)

---

طریقۂ استعمال (How to Use)

1. یہ دوا صرف ویجائنل (اندروانی) طور پر استعمال کی جاتی ہے۔

2. اسے رات کو سونے سے پہلے استعمال کرنا بہتر ہوتا ہے تاکہ دوا مکمل اثر دکھا سکے۔

3. ٹیبلٹ کو خاص اپلیکیٹر (applicator) کی مدد سے ویجائنا کے اندر داخل کیا جاتا ہے۔

4. دوا کے بعد کچھ دیر لیٹی رہیں تاکہ گولی باہر نہ نکلے۔

---

احتیاطی تدابیر (Precautions)

دوا استعمال کرنے سے پہلے ہاتھ دھونا ضروری ہے۔

دورانِ حیض (پیریڈز) میں یہ دوا استعمال نہ کریں، جب تک ڈاکٹر نہ کہیں۔

اگر حمل کے دوران استعمال کی جا رہی ہو، تو اپلیکیٹر کے بغیر استعمال کریں اور صرف ڈاکٹر کے مشورے سے۔

اگر علامات 7 دن کے اندر ختم نہ ہوں تو دوبارہ ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

---

مضر اثرات (Side Effects)

Canesten 1 استعمال سے کچھ ہلکے سائیڈ ایفیکٹس ہو سکتے ہیں:

عارضی جلن یا خارش

ہلکی سوزش

ویجائنا سے معمولی رطوبت یا گولی کے ذرات کا خارج ہونا

نایاب صورتوں میں الرجی یا جلدی ردعمل

اگر شدید الرجی، سانس میں تکلیف، یا سوجن ہو تو فوری طور پر دوا بند کر کے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

---

منع کردہ حالات (When Not to Use)

اگر آپ کو Clotrimazole یا کسی دوسری اینٹی فنگل دوا سے الرجی ہو۔

حمل کے ابتدائی مہینوں میں بغیر مشورے کے استعمال نہ کریں۔

اگر آپ کو بار بار ویجائنل انفیکشن ہو رہا ہے، تو مکمل طبی جانچ ضروری ہے۔

---

دیگر ہدایات (General Guidelines)

دورانِ علاج سادہ، آرام دہ لباس پہنیں۔

جنسی تعلقات سے گریز کریں جب تک مکمل علاج نہ ہو جائے۔

ہائجین کا خیال رکھیں، خاص طور پر ویجائنل صفائی کا۔

---

نتیجہ

Canesten 1 Vaginal Tablet خواتین میں ویجائنل فنگس (yeast infection) کے علاج کے لیے ایک مؤثر اور آسان حل ہے۔ یہ دوا ایک ہی خوراک میں کئی علامات کا خاتمہ کر سکتی ہے، بشرطیکہ درست طریقے سے استعمال کی جائے۔ لیکن اس کا استعمال ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے اور ہدایات کے مطابق ہونا چاہیے۔

09/11/2025
*فلاجیل (Flagyl) 400mg ٹیبلٹس کے استعمال اردو میں:*فلاجیل (میٹرونِڈازول) ایک اینٹی بائیوٹک دوا ہے جو مختلف قسم کے بیکٹیر...
09/11/2025

*فلاجیل (Flagyl) 400mg ٹیبلٹس کے استعمال اردو میں:*

فلاجیل (میٹرونِڈازول) ایک اینٹی بائیوٹک دوا ہے جو مختلف قسم کے بیکٹیریل اور پروٹوزوئل انفیکشنز کے علاج کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ یہ دوا سانوفی (SANOFI) کمپنی کی طرف سے بنائی گئی ہے اور اس پیک میں 200 فلم کوٹڈ ٹیبلٹس ہیں۔

استعمالات:
1. *بیکٹیریل وگینوسس (Bacterial Vaginosis)*: یہ دوا زنانہ اعضاء کے انفیکشن، خاص طور پر بیکٹیریل وگینوسس کے علاج میں مددگار ہے۔
2. *امیبیاسس (Amoebiasis)*: فلاجیل امیبی انفیکشن (جیسے امیبی ڈائیسنٹری) کے علاج کے لئے استعمال ہوتی ہے۔
3. *ٹرائیکومونیاسس (Trichomoniasis)*: یہ دوا ٹرائیکومونیاسس کے علاج میں مؤثر ہے، جو کہ جنسی طور پر منتقل ہونے والا انفیکشن ہے۔
4. *جیاردیاسس (Giardiasis)*: فلاجیل جیاردیاسس (چھوٹی آنت کا انفیکشن) کے علاج کے لئے بھی استعمال ہوتی ہے۔
5. *جلد اور دانتوں کے انفیکشن*: بعض جلد کے انفیکشن اور دانتوں کے انفیکشن (جیسے gingivitis) میں بھی اس دوا کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
6. *پیٹ کے انفیکشن*: یہ دوا بعض پیٹ کے انفیکشنز کے علاج میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

اہم احتیاط:
- *ڈاکٹر کی ہدایت*: فلاجیل کا استعمال ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق کریں۔ خود سے دوا شروع نہ کریں اور نہ ہی اسے دوسروں کے ساتھ بانٹیں۔
- *الرجی*: اگر آپ کو میٹرونِڈازول یا اس دوا کے کسی بھی اجزاء سے الرجی ہے، تو اس کا استعمال نہ کریں۔
- *حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین*: حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین کو فلاجیل کا استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہئے۔
- *شراب سے پرہیز*: فلاجیل کے استعمال کے دوران شراب نہ پئیں، کیونکہ اس سے شدید ردعمل ہو سکتا ہے (جیسے کہ متلی، قے، سر درد)۔

ممکنہ مضر اثرات:
- متلی، قے، ذائقے میں تبدیلی (metallic taste)
- سر درد، چکر آنا
- دست (diarrhea)

نوٹ:
یہ معلومات صرف تعلیمی مقاصد کے لئے ہیں۔ فلاجیل یا میٹرونِڈازول کے استعمال سے پہلے اپنے ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے مشورہ کریں تاکہ وہ آپ کے لئے مناسب علاج تجویز کر سکیں۔ 😊👨‍⚕️

Brufen syrup ایک درد کش اور سوزش کم کرنے والی دوا ہے۔ اس کے استعمالات یہ ہیں:1. *درد سے نجات*: سر درد، دانت درد، گلا درد...
08/11/2025

Brufen syrup ایک درد کش اور سوزش کم کرنے والی دوا ہے۔ اس کے استعمالات یہ ہیں:

1. *درد سے نجات*: سر درد، دانت درد، گلا درد، اور جسم درد میں آرام کے لئے۔
2. *بخار کم کرنا*: تیز بخار کو کم کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
3. *سوزش کم کرنا*: جوڑوں کے درد، ماہواری کے درد، اور سوزش والی جگہوں پر آرام کے لئے۔

*استعمال سے پہلے*:
- ڈاکٹر یا پیکج پر دی گئی ہدایات کے مطابق استعمال کریں۔
- خوراک عمر اور وزن کے مطابق ہوتی ہے، خاص طور پر بچوں کے لئے۔
- کھانے کے بعد استعمال کرنا بہتر ہے تاکہ معدے پر اثر نہ ہو۔
- اگر علامات برقرار رہیں یا زیادہ ہو جائیں تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

*احتیاط*:
- معدے کے مسائل، گردے یا جگر کی بیماری والے افراد ڈاکٹرکی hadayat کے بغیر استعمال نہ کریں۔
- حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

*نوٹ*: یہ معلومات عام ہیں، خود سے دوا شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر یا ماہرِ دوا سے مشورہ کریں۔ 😊

Address

Shop No 117 In Said Lkki Gat
Bannu

Opening Hours

Monday 06:00 - 21:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+923355119222

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when New Hafiz Medical Store posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to New Hafiz Medical Store:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram