Dr.Zahid Ullah

Dr.Zahid Ullah Classical Homoeopath

The cornea is one of a few parts of the body with no blood supply. It gets its oxygen directly from the tears. (Source: ...
19/06/2022

The cornea is one of a few parts of the body with no blood supply. It gets its oxygen directly from the tears. (Source: healthline)

21/04/2021
An outstanding picture of human brain
16/03/2021

An outstanding picture of human brain

Stages of chronic Kidney Disease
13/02/2021

Stages of chronic Kidney Disease

For TreatmentContact :- +923339734478
25/12/2020

For Treatment
Contact :- +923339734478

17/09/2020

یڈز کیا ہے؟

قدرت نے انسانی جسم کو مختلف بیماریوں سے بچانے کے لیے ایک نہایت مو¿ثر دفاعی نظام سے نوازا ہے ۔ اس کے تحت انسانی جسم میں خون کے سفید خلیے پائے جاتے ہیں جواسے جراثیم سے محفوظ رکھتے ہیں۔ایڈز کا سبب بننے والا وائرس ایچ آئی وی (Human Immune Deficiency Virus) ہے جو جسم میں داخل ہو کر ان سفید خلیوں کو کمزور‘ حتیٰ کہ تباہ کر دیتا ہے۔اس طرح متاثرہ افراد میں عام بیماریوں کے خلاف لڑنے کی صلاحیت بھی کم ہو جاتی ہے۔ہماری فضاءمیں بہت سی بیماریوں کے جراثیم موجود ہوتے ہیں لیکن صحت مند افراد اپنی مضبوط قوت مدافعت کی وجہ سے ان سے بچ جاتے ہیں تاہم جن لوگوں کا دفاعی نظام ایچ آئی وی کے سبب کمزور ہوچکا ہو‘ ان کے لئے یہ بھی شدید نقصان کا باعث بنتے ہیں۔
جن لوگوں مےں مرض کے جراثےم تو موجود ہوں لےکن ابھی مرض کی علامات ظاہر نہ ہوئی ہوں‘ انہےں ”ایچ آئی وی پازےٹو“ کہا جاتا ہے۔عام طور پر ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد میں مرض کی علامات ایک سال یا زیادہ سے زیادہ 6 سے 10 سال کے عرصے میں ظاہر ہوتی ہیں لہٰذا اکثر صورتوں میں مریض کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ اس مرض میں مبتلا ہو چکا ہے۔ علامات ظاہر ہونے پر کہا جاتا ہے کہ فرد کو اےڈز (Acquired Immune Deficiency Syndrome)لاحق ہو گےا ہے۔ ےہ ایچ آئی وی سے انفیکشن کے بعد کا آخری مرحلہ ہے جس میں مرےض کے CD4 خلےوں کی تعدد 200 سے کم ہو جاتی ہے۔ ایک صحت مند شخص میں عام طور پر CD4 خلےوں کی تعداد 1000 یا اس سے زیادہ ہوتی ہے۔
علامات کیا ہیں
جس شخص کو اےڈز ہوجائے‘ اس مےں مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں :
٭ ایک ماہ تک مسلسل بخار ۔
٭ شدید تھکن کا احساس ۔
٭ بغلوں اور ٹانگوں کے جوڑوں یا گلے میں غدودوں کی سوجن۔
٭ منہ‘ زبان یا گلے میں سفید یا غیر معمولی داغ۔
٭جلد کے نیچے‘ منہ کے اندر‘ ناک یا پلکوں پر سرخ‘ سرخی مائل یا بھورے رنگ کے دانے نکلنا۔
٭ ایک ماہ سے زیادہ متواتر خشک کھانسی اور دم گھٹنا۔
٭ ایک ہفتہ سے زیادہ مسلسل جاری رہنے والے دست۔
٭ یادداشت کی کمزوری‘ ڈپریشن اور دوسری اعصابی بیماریاں
َ٭ مختصر عرصے میں جسم کا وزن 10فی صد سے زیادہ کم ہو جانا۔
پھیلنے کے اسباب
ایچ آئی وی درج ذیل طریقوں سے ایک سے دوسرے شخص کو منتقل ہو سکتا ہے:
٭ ایڈز سے متاثرہ سرنج‘ نشہ کرنے والے افراد کی استعمال شدہ سرنج یا سوئی استعمال کرنے سے۔
٭ ایڈز سے متاثرہ آلات جراحی کے دوبارہ استعمال سے۔
٭ ایڈز سے متاثرہ ماں سے پیدا ہونے والے بچے کو۔
٭دوران حمل‘ زچگی کے دوران یا ماں کا دودھ پینے سے نومولودبچے کو۔
٭ایچ آئی وی اور ایڈز سے متاثرہ کسی مرد یا عورت کے ساتھ جنسی تعلقات کے ذریعے۔
٭مرد سے مرد‘ مرد سے عورت اور عورت سے مرد کے جنسی تعلقات سے۔
٭بذریعہ انتقال خون۔
٭استعمال شدہ سرنج کا بار بار استعمال۔
٭آلات جراحی و دندان سازی وغیرہ
٭وائرس سے متاثرہ اوزار جلد میں چبھنے سے۔
تشخیصی ٹےسٹ
مذکورہ علامات کے ظاہر ہونے کا لازمی طور پر ےہ مطلب نہےں کہ فرد کو ےہ مرض لا حق ہو گےا ہے۔ اسی طرح بہت سے لوگ اس سے متاثر ہوتے ہیں لیکن کئی کئی برس تک ان میں بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔اےسے مےں ایچ آئی وی کی موجودگی کا پتہ چلانے کا واحد طریقہ ’ایچ آئی وی ٹیسٹ ‘ہے جس کے لئے فرد کو اپنے قابل اعتماد ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے ۔ مرےض کو چاہئے کہ تفصیل کے ساتھ اپنے شک کا پس منظر بتائے اور خون کا ٹیسٹ کروائے۔اس کے لئے حکومت کے مقرر کردہ مراکز سے بھی براہ راست رابطہ کیا جا سکتا ہے جہاں ےہ ٹےسٹ مفت کیا جاتا ہے۔ جب کسی شخص کو ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے تین ہفتے سے چھ ماہ ہوئے ہوں تو اس کا ایچ آئی وی سکریننگ ٹیسٹ منفی بھی آ سکتا ہے ۔ایسی صورت حال میں دوبارہ ٹیسٹ ضرور کروانا چاہئے۔
کن صحت مند لوگوں کوٹےسٹ لازماًکروانا چاہئے؟
بےماری کی علامات کے حامل افراد کے علاوہ درج ذےل گروہوں سے تعلق رکھنے والے صحت مند لوگوں کو بھی احتےاطاًاپنا ٹےسٹ کرا لےنا چاہئے:
٭ غیر ازدواجی جنسی تعلقات رکھنے والے افراد۔
٭ ہم جنس پرستی یا جنسی بے راہ روی میں مبتلا افراد۔
٭ ایسا شخص جسے کسی بیماری کے باعث خون لگا ہو۔
٭ نشہ کے عادی افراد۔
٭ ایسا شخص جس نے کسی نشہ باز کی سرنج یا سوئی استعمال کی ہو۔
٭ ایسا شخص جو جنسی امراض کا شکار رہا ہو۔
(ص۔ن)
احتیاطی تدابیر
اگرچہ ایسی ادویات موجود ہیں جن کا باقاعدگی سے استعمال کیا جائے تو ایڈزکے مریض نہ صرف طویل عرصے تک زندہ رہ پاتے ہیں بلکہ متحرک زندگی بھی گزار سکتے ہیں لیکن ابھی تک اس مرض کا مکمل علاج دریافت نہیں ہو سکا ۔اس سے بچاو¿ کا ایک ہی راستہ پرہیز ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے:
٭ خون کا انتقال تب کروائیں جب اس کی اشد ضرورت ہو۔
٭ اگر زندگی بچانے کے لئے خون کا انتقال ضروری ہو تو اس بات کا یقین کر لیں کہ خون میں ایڈز اور ہیپاٹائٹس بی یا سی کے وائرس موجود تو نہیں ہیں۔ اگر خون کے اجزاءکا انتقال ہوتا ہے تو بھی اس بات کا اطمینان کر لیں کہ ان میں ایڈز کے وائرس موجود نہ ہو۔
٭ زیادہ افراد کے ساتھ غیر محفوظ جنسی تعلقات سے بچیں۔
٭ ہمیشہ نئی ڈسپوزیبل سرنج استعمال کریں اور استعمال کے بعد سرنج ضائع کر دیں۔
٭ کنڈوم کا صحیح استعمال ایچ آئی وی اور جنسی بیماریوں سے بچنے کے لئے انتہائی مفید ہے۔اگرجنسی تعلقات قائم کرنے والے دوافراد میں سے کوئی ایک بھی ایڈز سے متاثرہ ہو تواس کا صحیح طریقے سے استعمال کریں۔

Address

Railway Road Near National Bank, Kpk
Bannu
28100

Telephone

03339734478

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr.Zahid Ullah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category