06/01/2026
پرائیویٹ ہسپتال: علاج کم، ظلم زیادہ!
پاکستان میں پرائیویٹ ہسپتال علاج کے نام پر کھلا کاروبار بن چکے ہیں۔ مریض تو بیماری سے لڑ رہا ہوتا ہے، مگر اس کے ساتھ آنے والا اٹینڈنٹ ایک الگ اذیت سے گزرتا ہے۔
نہ بیٹھنے کی جگہ، نہ سونے کا بندوبست، نہ پانی—اکثر اٹینڈنٹس فرش، سیڑھیوں اور راہداریوں میں رات گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
لاکھوں روپے فیس وصول کرنے والے ہسپتال ایک کرسی یا فولڈنگ بیڈ تک دینے کو تیار نہیں۔ سیکیورٹی عملہ بدسلوکی کرتا ہے، جیسے اٹینڈنٹ انسان نہیں بلکہ بوجھ ہو۔
یہ مسئلہ سہولت کا نہیں، انسانی وقار اور حقوق کا ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ
مریم نواز
شہباز شریف
عاصم منیر
اور سپریم کورٹ آف پاکستان
اس ظلم کا فوری نوٹس لیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ پرائیویٹ ہسپتالوں کو پابند کیا جائے کہ مریض کے ساتھ آنے والے اٹینڈنٹ کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔
صحت کوئی عیاشی نہیں—یہ بنیادی انسانی حق ہے۔
---