Iltamas Medical & Cosmetics Store

Iltamas Medical & Cosmetics Store Raja Iltamas Pharmacy provide all kind of medicines; Also help the needy persons who cannot afford their medication.

21/08/2025
آپ گوگل سے کوئی سوال کرتے ہیں. وہ سوال کے جواب سے پہلے آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کے سوال کے دو کروڑ پانچ لاکھ بیس ہزار جواب ص...
26/07/2025

آپ گوگل سے کوئی سوال کرتے ہیں.
وہ سوال کے جواب سے پہلے آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کے سوال کے دو کروڑ پانچ لاکھ بیس ہزار جواب صفر اعشاریہ چھ پانچ سیکنڈز میں حاضر ہیں.
اس وقت کو جو گوگل جواب کی تلاش میں استعمال کرتا ہے سرور رسپانس ٹائم کہتے ہیں.

گوگل دنیا کے جدید ترین زی اون سرور اور جدید ترین لینکس ویب سرور آپریٹنگ سسٹم استعمال کرتا ہے.
اس سسٹم نے صرف موجود معلومات کو جواب کی مناسبت سے میچ کر کے آپ کیلئے لائن اپ کرنا ہوتا ہے.
اور وہ اس کام کیلئے آدھے سیکنڈ سے ایک سیکنڈ کا وقت استعمال کرتا ہے اور بڑے فخر سے جواب سے پہلے آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کیلئے میں نے یہ جواب چھ سو پچاس ملی سیکنڈز میں تلاش کیا ہے.

اب ہم کمپیوٹر کی سکرین سے کرکٹ کے میدان میں چلتے ہیں.

شعیب اختر یا برٹ لی باؤلنگ کروا رہے ہیں.
گیند ایک سو پچاس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پھینکی گئی ہے.
وکٹ کی لمبائی بیس اعشاریہ ایک دو میٹر ہے.
ایک اینڈ سے دوسرے اینڈ تک پہنچنے میں بال کو چار سو اسی ملی سیکنڈز لگیں گے.
جبکہ جہاں بیٹسمین کھڑا ہے انیس میٹر کے فاصلے پر ، چار سو پچاس ملی سیکنڈز لگتے ہیں.

اب فرض کریں کہ گنید شارٹ آف لینگتھ ہے تو وکٹ کے نصف کے قریب ٹپہ دیا گیا ہے.
جب بیٹسمین کو احساس ہوتا ہے کہ یہ باؤنسر ہے اور وہ بیٹھ جاتا ہے
تا کہ باؤنسر سر کے اوپر سے گزر جائے.
اس وقت اس کے پاس صرف دو سو پچیس ملی سیکنڈز یعنی ایک سیکنڈ کا قریب ایک چوتھائی وقت بچتا ہے.

اس ایک چوتھائی سیکنڈ سے بھی کم وقت میں انسانی جسم کیا کیا افعال سر انجام دیتا ہے،
آئیے اس کا ہلکا سا اندازہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں.

سب سے پہلے آنکھ نے ابھرتے ہوئے گیند کی پردہ بصارت پر شبیہ بنائی جو کہ الٹی ہے یعنی اپ سائیڈ ڈاون.
دماغ نے سب سے پہلے اس شبیہ کو سیدھا کر کے سمجھا کہ باؤنسر آ رہا ہے.
پھر اس نے فیصلہ کیا کہ اس باؤنسر کی سمت شاٹ لگانے کیلئے درست نہیں لہذا مجھے بیٹھ جانا چاہیے.
اس فیصلے کے بعد دماغ کے چھیاسی ارب نیورونز میں سے ایک حصے میں موجود لاکھوں نیورونز نے اپر موٹر نیورونز کو پروپریوسیپشن کا حکم دیا.
پروپریوسیپشن وہ عمل ہے جس میں انسانی ذہن جسم کے عضلات کو حرکت دینے سے پہلے ان کی درست جگہ کا تعین کرتا ہے کہ کون سا مسل کس پوزیشن پر اور کتنے کھچاؤ میں ہے.

جسم کے سارے چھ سو مسلز کے کروڑوں مسل فائبرز کی درست جگہ اور کھچاؤ کی معلومات دماغ کو پہنچا دی گئیں.
تب اس نے ساڑھے چار سو کے قریب عضلات کی لاکھوں مسل فائبر کو اپنی جگہ سے سکڑنے یا پھیلنے کیلئے کروڑوں سگنلز اپر موٹر نیورونز کو فراہم کیے.
اپر موٹر نیورونز نے یہ سارے سگنلز حرام مغز کو پہنچا دیے.
حرام مغز نے لوئر موٹر نیورونز کے ذریعے ساڑھے چار سو مسلز کے لاکھوں مسل فائبرز کو علیحدہ علیحدہ ھدایت جاری کیں
جو سارے سسٹم سے ہوتے ہوئے آخری سرے ایکسون پر پہنچی جس نے ایک کیمکل acetylcholine. ایسی ٹائیلکولین پیدا کیا.
جس نے مسل نیورونز جنکشن پر عمل کر کے مسلز کو مطلوب کھچاؤ فراہم کر دیا.

یاد رہے کہ لاکھوں میں سے ہر مسل فائبر کے مسل نیورونز جنکشن پر ایسی ٹائیلکولین کی مقدار طلب کے حساب سے مختلف پیدا کی گئی.

ایک بار کے سگنلز کے بعد دوبارہ
"سینسری فیڈ بیک" لی گئی کہ جسم غیر متوازن ہو کر گر نہ جائے.
پھر اس فیڈ بیک کی روشنی میں نئے سرے سے "پاسچورل ایڈجسٹمنٹ" کی گئی۔۔۔
اس سارے عمل کو جانے کتنی بار دہرایا گیا
جب بیٹسمین بیٹنگ پوزیشن سے بیٹھی ہوئی حالت میں پہنچا.
اور یہ سارے کروڑوں نہیں اربوں عوامل ایک سیکنڈ کے ایک چوتھائی سے بھی کم عرصے میں بخیر انجام پائے.

خدائے بزرگ و برتر کی قسم آپ خود کو ٹھیک سے نہیں جانتے.
آپ ہومین نہیں سپر ہیومین ہیں.

اس کائنات کے سب سے ارفع خالق کی سب سے احسن تقویم….

اپنی صلاحیتوں کا درست ادراک کیجیے…
اٹھیے اپنی توانائیوں کو درست سمت میں استعمال کرتے ہوئے اپنی محرومیاں مٹا دیجئے.
اپنے حصے کی خوشحالی چھین لیجیے.
یقین کرے آپ کر سکتے ہیں.
Copied

"ٹانگیں آپ کے حقیقی وینٹریکلز ہیں" اور "سولیس  (soleus) جو آپ کا دوسرا دل ہے۔ جب آپ چلتے ہیں، خاص طور پر آپ کے پنڈلی کے ...
23/07/2025

"ٹانگیں آپ کے حقیقی وینٹریکلز ہیں" اور "سولیس (soleus) جو آپ کا دوسرا دل ہے۔ جب آپ چلتے ہیں، خاص طور پر آپ کے پنڈلی کے پٹھے (calf muscles)، جن میں سولیس (soleus) ایک اہم حصہ ہے، ایک پمپ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ یہ پٹھے رگوں میں موجود خون کو دل کی طرف واپس دھکیلنے میں مدد کرتے ہیں۔ اس عمل کو مسکولر پمپ (muscular pump) کہا جاتا ہے۔ یہ خاص طور پر نچلے دھڑ سے خون کو واپس دل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ کشش ثقل کی وجہ سے خون کا نیچے رکنا آسان ہوتا ہے۔ اسی لیے سولیس کو اکثر "دوسرا دل" کہا جاتا ہے۔
"خون کو واپس دل کی طرف پمپ کرتا ہے، جس سے دورانِ خون، توانائی اور زندگی کی رونق بڑھتی ہے بہتر دورانِ خون جسم کے تمام حصوں تک آکسیجن اور غذائی اجزاء کی بہتر فراہمی کو یقینی بناتا ہے، جس سے توانائی کی سطح بڑھتی ہے اور مجموعی صحت بہتر ہوتی ہے۔
اس سے آپکا "دل مضبوط ہوتا جائے گا ": باقاعدہ چہل قدمی ایک قسم کی کارڈیو ویسکولر ورزش ہے جو دل کی صحت کو بہتر بناتی ہے۔ یہ دل کو مضبوط کرتی ہے، خون کے بہاؤ کو بہتر بناتی ہے، بلڈ پریشر کو کم کرتی ہے، اور کولیسٹرول کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ سب دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرتے ہیں۔
اس چہل قدمی کہ کافی نفسیاتی اور جذباتی فوائد بھی ہیں یہ سکون لاتی ہے، ایک مستقل تال جو آپ کے ذہن کو صاف کرتی ہے، آپ کے مزاج کو بہتر بناتی ہے، اور آپ کو خود سے جوڑتی ہے": یہ سبھی سائنسی طور پر ثابت شدہ فوائد ہیں۔ ورزش، بشمول چہل قدمی، اینڈورفنز (endorphins) نامی کیمیکلز خارج کرتی ہے جو مزاج کو بہتر بناتے ہیں اور تناؤ اور اضطراب کو کم کرتے ہیں۔ چہل قدمی ایک مراقبہ جیسی کیفیت بھی پیدا کر سکتی ہے جہاں آپ اپنے خیالات کو منظم کر سکتے ہیں اور ذہنی وضاحت حاصل کر سکتے ہیں

25/03/2025

‏اگر دوائیں خریدنے کے پیسے نہیں ، یا دوائیاں خریدنے سے بچنا چاہتے ہیں تو یہ کام مفت میں کریں ۔

1. بلڈ پریشر کے مریض اپنا وقت بچوں کے گرد گزاریں ۔ ان کے ساتھ کھیلیں اور بہت سا خوش ہوں۔ ادویات میں کمی آتی جاۓ گی اور بیماری بھاگ جاۓ گی

2. شوگر کے مریض intermittent fasting کریں جس کی ہدایات ڈاکٹر سے لینا ضروری ہے۔ اس میں صرف hypoglycemia سے بچنا ہے ۔ باقی یہ مفت کا عمل آپ کی شوگر کو کنٹرول رکھے گا اور ادویات بھی کم ہو جائیں گی۔

3. نیند کی کمی کا شکار لوگ مغرب کے بعد کچھ نہ کھائیں ۔ اور عشاء کے بعد لائٹس آف کر دیں ۔ ایک ہفتے میں نیند کی عادت اچھی ہو جاۓ گی اور نیند کی گولیاں بھی چھوٹ جائیں گی۔

4. معدے کی تزابیت والے لوگ اپنا تکیہ اونچا رکھ کر سوئیں ۔ اور سونے سے 3 گھنٹے قبل کھانا کھائیں ۔ معدے کی ادویات آدھی ہو جائیں گی۔

5. پٹھوں اور ہڈیوں کے امراض والے لوگ لمبی لمبی نمازیں پڑھیں ۔ نماز انسان کے ہر عضو کے لیے ایک بہترین ورزش ہے۔خاص کر کمر کی ہڈی کے مسائل کے لئے ۔

6. دائمی زکام کے مریض نمک ملے پانی سے روزانہ دو بار اپنی ناک کو صاف کریں ۔ 2 ہفتے میں زکام انتہائی کم ہو جاۓ گا اور مسلسل کرنے سے بہت زیادہ بہتری ۔ ہمارے ENT کے پروفیسر ہر مریض کو یہ طریقہ بتاتے تھے اور مریض شفا یاب ہو جاتے تھے

صحت کے خزانے سادہ اور قدرتی چیزوں میں رکھے ہیں نہ کہ ادویات کے ڈبوں میں ۔

اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ کیونکہ صحت اہم ہے..!

6 مارچ 2024 کو دہلی کے گنگا رام ہسپتال میں 45 سالہ پینٹر، جو 2020 میں ٹرین حادثے میں اپنے دونوں ہاتھوں سے محروم ہو گئے ت...
20/02/2025

6 مارچ 2024 کو دہلی کے گنگا رام ہسپتال میں 45 سالہ پینٹر، جو 2020 میں ٹرین حادثے میں اپنے دونوں ہاتھوں سے محروم ہو گئے تھے، کا کامیاب ہاتھوں کا ٹرانسپلانٹ کیا گیا۔ انہیں مینا مہتا نامی خاتون کے عطیہ کردہ ہاتھ لگائے گئے، جو دماغی طور پر مردہ قرار دی گئی تھیں اور اپنی زندگی میں اعضاء عطیہ کرنے کا عہد کر چکی تھیں۔ اس سرجری میں 12 گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگا، جس میں ڈونر کے ہاتھوں اور مریض کے بازوؤں کے درمیان شریانوں، عضلات، ٹینڈنز اور اعصاب کو جوڑا گیا۔ مریض کو مکمل صحت یابی کے بعد 7 مارچ 2024 کو ہسپتال سے ڈسچارج کیا گیا۔

C

آصفہ بھٹو پارک میرپور ریاست جموں و کشمیر 🥀🥀
15/02/2025

آصفہ بھٹو پارک میرپور ریاست جموں و کشمیر 🥀🥀

15/02/2025
15/02/2025

سلطانہ الریاض سعودی عرب.
شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین راولاکوٹ آزاد کشمیر کی معروف شخصیت بزنس مین درد دل رکھنے والی شخصیت محترم سردار شوکت صاحب ایم ڈی مطعم شوکت سے چنار ٹیم بھمبر آزاد کشمیر کی ملاقات..
چنار فری ڈائلسز سنٹر بھمبر آزاد کشمیر کی لازوال خدمات فری سہولیات اوورسیز کے کردار برنالہ اور سماہنی برانچ کے قیام اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا..
سردار شوکت صاحب نے اس نفسا نفسی کے دور میں گردوں کے فیلیر مریضوں کے لئے مکمل فری سہولیات مہیا کرنا بہت مشکل کام ہے.. انہوں نے تمام معاونت فراہم کرنے احباب کا شکریہ ادا کیا. اور اپنی طرف سے عطیہ پیش کیا..
اس ملاقات میں سردار شاہد. چوہدری اورنگزیب. حاجی صغیر مغل اور چوہدری عتیق الرحمن برسالوی موجود تھے.
انہوں نے سردار شوکت صاحب کی محبتوں. میزبانی اور تعاون کا شکریہ ادا کیا

07/02/2025

ناکام بزنس مین کی 50 نشانیاں:

دنیا میں ہر 10 میں سے 8 بزنس اپنی شروعات کے پہلے 18 مہینوں کے اندر ہی فلاپ ہو جاتے ہیں۔سمال بزنس کی ناکامی کی یہ شرح براہِ راست ملکی معشت پر اثرانداز ہوتی ہے۔
* پاکستان میں Start-ups کی ناکامی کی شرح 90% ہے۔
* یعنی 10 میں سے 9 بزنس ناکامی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
* سمال بزنس ایڈمنسٹریشن (SBA) کی رپورٹ کیمطابق 66% بزنس محض دو سال تک ہی سروائیو کر پاتے ہیں۔
* باقی 24% اگلے پانچ سال کے اندر ناکام ہو جاتے ہیں۔
اگر آپ ایک ناکام بزنس مین ہیں تو کیا آپ نے کبھی ناکامی کی وجوہات کا تجزیہ کیا ہے؟
کیا ان وجوہات کو دور کر کے آپ ایک کامیاب بزنس مین بن سکتے ہیں؟

سمال بزنس میں ناکامی کی صورت میں ہماری معیشت ہر سال عربوں روپے کے خسارے کا بوجھ اٹھاتی ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کی معیشت جہاں اکثریت خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرتی ہے اس بار کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
میں نے بزنس میں ناکامی کی وجوہات ایک چیک لسٹ کی صورت میں مرتب کرنے کی کوشش کی ہے۔ان 50 خامیوں کو دور کیے بنا آپ کبھی ایک کامیاب بزنس مین نہیں بن سکتے۔

بزنس کیا ہے؟

آکسفورڈ ڈکشنری کیمطابق

“A person146s regular occupation, profession, or trade”

افراد کے بکھرے ہوئے ہجوم اور کوششوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے ان کوششوں کو ایک مثبت ،کارآمد اور منافع بخش ڈائریکشن فراہم کرنا اصل میں بزنس کہلاتا ہے۔ بزنس ایک شخص کو کئی پہلوؤں سے معاشرے کا ایک ذمہ دار فرد بناتا ہے۔زیرِ نظر آرٹیکل میں ہم نے ان چند پہلوؤ ں کی نشاندہی کی کوشش کی ہے جو ایک بزنس مین کی ناکامی کا سبب بنتی ہیں۔امید ہے ہماری یہ کوشش معاشرے کے ایک اہم طبقے کے لئے مفید ثابت ہوگی۔

1: مقاصد کا تعین نہ کرنا

واضح مقاصد کا تعین نہ کرنا ایک ناکام بزنس مین کی سب سے پہلی کوتاہی ہے۔اگر آپ کی منزل ہی طے نہیں تو محض چلتے رہنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ایک کامیاب بزنس مین کا ذہن واضح مقاصد کا تعین کرنا جانتا ہے۔آپ کو کیا کرنا ہے؟ اور کیوں کرنا ہے؟صرف پیسہ کمانے کے علاوہ آپ کے بزنس کے اور کیا مقاصد ہو سکتے ہیں؟یہ وہ چند سوال ہیں جن کا مثبت اور واضح جواب نہ صرف مقاصد کے تعین کے لئے اہم ہے بلکہ ان کے حصول کے لئے ایک بہتر لائحہ عمل ترتیب دینے میں بھی نہایت سود مند ہے۔

2: وسیع سوچ کا فقدان

ایک ناکام بزنس مین محدود سوچ کا حامل ایسا فرد ہوتا ہے جس کی سوچ ایک مخصوص دائرہ کار میں ہی گردش کرتی ہے۔وہ اپنے بزنس کو وسعت دینے کے لئے نئے ذرائع کی کھوج اور ان کے حصول میں ناکام رہتا ہے۔جبکہ ایک وسیع سوچ نئے سے نئے مواقع تلاش کرتی ہے۔ایک کامیاب بزنس مین کی یہی وسیع سوچ کاروباری وسعت کو جنم دیتی ہے۔

3: خود انحصاری Independent Nature

خود پر انحصار کرنا ایک کامیاب بزنس کی طرف اہم قدم ہے۔ایک ناکام بزنسمین میں خود اپنی کوششوں اور اپنے وسائل پر انحصار کرنے کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔یہ کمی اسے بے اطمینانی کا شکار بنائے رکھتی ہے اور وہ تمام اہم مسائل کے حل کے لئے دوسروں سے رجوع کرتا ہے۔یہ خامی بہت جلد ناکامی سے دوچار کر دیتی ہے۔

4: پرکھنے کی صلاحیت

ایک ناکام بزنس مین کی حالات و معاملات کو پرکھنے اوروقت کے تقاضوں کے مطابق فیصلہ کرنے کی صلاحیت مفقود ہوتی ہے۔Judgement کی یہ صلاحیت عقل و شعور پر منحصر ہوتی ہے جسمیں کمی کی بنا پر وہ بار بار نقصان سے دوچار ہوتا ہے۔

5: ضرورت سے زیادہ پرامیدی

حالات و واقعات سے ہمیشہ بہتری کی امید رکھناایک عام آدمی کے لئے تو فائدہ مند ہو سکتا ہے مگر ایک بزنس مین کے لئے نہیں۔یاد رکھیں سب کچھ ویسا نہیں ہوتا جیسا آپ چاہتے ہیں۔خاص طور پر بزنس میں جہاں ہر قدم پر بدلتے حا لات ایک بزنس مین کی پالیسیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ایک کامیاب بزنس مین اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہوتا ہے۔جبکہ ایک ناکام بزنس مین کی پالیسیوں کی بنیادحقائق کے ادراک کی بجائے پرامیدی و خوش فہمی پر رکھی ہوتی ہے۔یہی ضرورت سے زیادہ خوداعتمادی اور خوش امیدی خسارے کا سبب بنتی ہے۔

6: پروفیشنل ازم کی کمی

ایک بیوقوف اور بے ہنر بزنس مین کے اندر پروفیشنل ازم کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔یہ پروفیشنل ازم مہارت اور تجربے سے پیدا ہوتی ہے۔چونکہ ایک ناکام بزنس مین میں ان دونوں چیزوں کی کمی ہوتی ہے اور اسی کمی کا اظہار وہ بزنس لائف میں کئی اہم موقع پر کر کے کامیابی کے اکثرمواقع ضائع کر لیتا ہے۔

7: لیڈ ٹائم مینجمنٹ Lead-time management

وہ Gap جوکنزیومر کے آرڈر سے لیکر مطلوبہ پروڈکٹ یا سروس کی ڈلیوری پر محیط ہوتا ہے کسی بزنس یا کمپنی کا لیڈ ٹائم کہلاتا ہے۔

Lead Time Reduction کسی بزنس یا کمپنی کی کامیابی کا نہایت اہم نقطہ ہے۔ایک ناکام بزنس مین اس نقطہ پر کبھی فوکس نہیں کرتا۔جو ایک بزنس مین کی غیرذمہ داری کی علامت ہے۔

8: عوامی رجحان سے ناواقفیت

ایک کامیاب بزنس مین ہمیشہ جدید اور بدلتے ہوئے عوامی رجحانات سے باخبر رہتا ہے اور ان کو مدِنظر رکھ کر اقدامات کرتا ہے۔جبکہ ایک ناکام بزنس مین بدلتے ماحول اور جدید رجحانات سے ناواقفیت کی بنا پر محض اپنی سوچ کے مطابق فیصلے کرتا ہے

9: مستقل مزاجی کا فقدان

مستقل مزاجی کسی بھی معاملے میں کامیابی کی اہم سیڑھی ہے ۔ ایک ناکام بزنس مین کے اندرمستقل مزاجی کا سخت فقدان پایا جاتا ہے۔ محض وقتی اور چھوٹی چھوٹی ناکامیوں سے مایوس ہو کر وہ اپنی حکمتِ عملی اور فیصلے بدلتا رہتا ہے اور کبھی ایک مستقل سوچ پر قائم نہیں رہتا۔

10: اجنبیوں کو ویلکم کریں

اجنبیوں کو خوش آمدید کہنا اور ان سے اچھے تعلقات قائم کرنا ایک بزنس مین کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔اس سے بزنس کے نئے زاویوں اور رجحانات کا پتہ چلتا ہے۔مگر ایک ناکام بزنس مین اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔بلکہ وہ ایک قسم کے Fear of unknownمیں مبتلا ہوتا ہے۔

11: مارکیٹ سے ناواقفیت

پروڈکٹ ایویلیوایشن،کسٹمر وائس،ریسورسز اینڈ فائینینسنگ وغیرہ مارکیٹ کے اہم پہلو ہیں۔ایک ناکام بزنس مین کبھی مارکیٹ سے پوری طرح آگاہ نہیں ہوتا۔یہ ادھوری واقفیت اس کی ناکامی کا بڑا سبب ہوتی ہے۔

12: غیر منصفانہ لین دین Unfair Dealings

Unfair Dealingیا دیانتداری کی عدم موجودگی بزنس مین کی ناکامی کا نہایت افسوسناک پہلو ہے۔بزنس کی یہ تیکنیک وقتی طور پر تو فائدہ مند ہو سکتی ہے مگر ایک دیر پا کامیابی کی بنیاد نہیں بن سکتی۔ایک ناکام بزنس مین اپنی بددیانتی کی بدولت مارکیٹ میں ایک معیاری ساکھ نہیں بنا پاتا اور با لآخر ناکامی سے دو چار ہو جاتا ہے۔

13: لوکیشن Location

کسی بزنس کی کامیابی بہت حد تک ایک اچھی لوکیشن کے انتخاب پر بھی انحصار کرتی ہے۔ ایک کامیاب بزنس مین ایک بہترین لوکیشن کا انتخاب کر نا اور اس کے مطابق ایک بہتر فریم ورک تشکیل دینا جانتا ہے۔ جبکہ ایک مناسب لوکیشن کا اندازہ نہ کر پاناایک ناکام بزنس مین کی اہم خاصیت ہوتی ہے۔اسی خاصیت کی بنا پر وہ بعض اوقات ترقی کے اہم مواقع گنوا بیٹھتا ہے۔

14: نا ا ہل انتظامیہ Lack of Management

ایک ناکام بزنس مین کے اندر مینجمینٹ کی صلاحیت ناپید ہوتی ہے۔وہ ایک مناسب بزنس سٹریٹیجی مرتب کرنے اور اس پر عمل درآمد میں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔اپنے ماتحت لوگوں کی کارکردگی کے حوالے سے وہ ایک پروپر شیڈول وضع کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ یہ Mismanagement بزنس مین کی نااہلی کا ثبوت اور اس کی ناکامی کی بنیادی وجہ ہوتی ہے۔

15: کسٹمر کا اطمینان Customer Satisfaction

ایک بہتر کسٹمر سروس کی فراہمی ایک بہتر کیش فلو کا سبب بنتی ہے اور ایک اچھا کیش فلو ہی ایک کامیاب بزنس کی بنیاد بنتا ہے۔ایک ناکام بزنس مین کی محدود سوچ صرف ارننگ تک ہی محدود ہوتی ہے جبکہ پروڈکٹس یا سروسز کا بہتر معیار جو ایک اچھی ارننگ کی ضمانت ہے اس کے لئے قابلِ ترجیح نہیں ہوتا۔

16: ادھوری بزنس پلاننگ

کسی بزنس میں کامیابی ایک معقول اور Long-term planning کا تقا ضا کرتی ہے۔ایک بیوقوف بزنس مین چونکہ دور اندیشی کی صلاحیت سے عاری ہوتا ہے اس لئے وہ ایک دیر پا اور جامع حکمتِ عملی تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے۔یہی ناقص پلاننگ کسی نا کسی مرحلے پر ناکامی کی صورت میں سامنے آتی ہے۔

17: ترقی پسند سوچ کا فقدان

ترقی پسند سوچ کا فقدان ایک ناکام بزنس مین کی اہم نشانی ہے۔اپنی محدود سوچ یا ناکامی کے خوف کی بنا پر وہ کبھی اپنے بزنس کے ایک مخصوص حدود اربع کو کراس کرنے کی کوشش نہیں کرتا جبکہ 21ویں صدی کے تیزی سے بدلتے ہوئے رجحانات ایک جدید اور ترقی پسند سوچ کا تقاضا کرتے ہیں۔

18: مالی ریسورسز کی کمی

ایکStart-upکے لئے مالی سپورٹ جسم میں روح کی حثییت رکھتی ہے۔بزنس کی شروعات اس لحاظ سے نہایت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔تاہم ایسے ہر مرحلے میں کچھ ریسورسز ایسے ضرور موجود رہتے ہیں جو fundingکے حوالے سے بہترین وسیلہ بن سکتے ہیں۔ایک کامیاب بزنس مین نشیب و فراز کے ان مراحل میں با آسانی ایسے ذرئع کھوجنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔جبکہ ایک ناکام بزنس مین میں یہ صلاحیت مفقود ہوتی ہے۔

19: محنت و لگن کا فقدان

محنت ولگن کی کمی ایک ناکام بزنس مین کی وہ خاصیت ہے جو اسے کبھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہونے دیتی۔بزنس ایک ذمہ داری کا نام ہے جس کو احسن طریقے سے نبھانا ایک کامیاب بزنس مین کی پہچان ہے۔مگر ایک ناکام بزنس مین اپنے ان فرائض سے غفلت کا مرتکب ہوتا ہے۔

20: ٹائم مینجمنٹ Time Management

ناقص Time Management کے سبب ایک ناکام بزنس مین ہمیشہ وقت کی قلت کا شکار رہتا ہے۔حالات و معاملات کو ڈیل کرتے وقت وہ اس بات کا تعین نہیں کر پاتا کہ کون سی چیز زیادہ وقت اور توجہ کی متقاضی ہے۔اس کا بہت سا وقت جو نہایت اہم اور ضروری معاملات پر خرچ ہونا چاہیے تھا غیر اہم معاملات کی نظر ہو جاتا ہے۔

21: غیر سنجیدہ رویہ

عقل و شعور کی کمی غیر سنجیدہ رویے کو جنم دیتی ہے۔بعض اوقات حد سے زیادہ خود اعتمادی بھی اس رویے کا سبب بنتی ہے۔بزنس جیسے اہم معاملے میں غیر سنجیدہ رویہ کامیابی کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ایک ناکام بزنس مین تمام معاملات میں ایسے ہی غیر سنجیدہ رویے کا مظاہرہ کرتا ہے۔

22: نئے مواقع کی تلاش

نئے مواقع کی تلاش کسی بزنس کی کامیابی کے لئے سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ایک ناکام بزنس مین نئے مواقع کی تلاش اور ان کی پہچان کی صلاحیت نہیں رکھتا۔بزنس مین کا یہ رویہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی بزنس ایکٹیویٹی کا دائرہ کارتنگ کرتا چلا جاتا ہے۔

23: تخلیقی سوچ کی کمی

ایک تخلیقی سوچ بزنس کی روایتی حد بندیوں سے نکل کر نئی تیکنیکس وضع کر سکتی ہے۔سٹیو جوبز نے کہا تھا’جدت ہی وہ خوبی ہے جو ایکLeader اور ایک Followerمیں فرق واضح کرتی ہے۔یاد رکھیے بزنس کی کامیابی آپ کی ڈگریوں یا تعلیم پر نہیں بلکہ آپ کی ذہانت و مہارت پر انحصار کرتی ہے۔بِل گیٹس کہتا ہے’میں کسی یونیورسٹی کا پوزیشن ہولڈر نہیں ہوں لیکن یونیورسٹیوں کے کئی پوزیشن ہولڈرز میرے ملازمین میں شامل ہیں‘۔

24: ریسرچ اور نالج کا فقدان Lack of Research and knowledge

ایک ناکام بزنس میں مارکیٹ ریسرچ اور نالج کو کبھی اہمیت نہیں دیتا۔وہ نئے رجحانات سے بے خبر رہتا ہے۔مارکیٹ میں متعارف کرائے جانیوالی جدید پروڈکٹس اور سروسز ایک بزنس مین کے لئے نئی راہیں کھولتی ہیں۔مگر ایک ناکام بزنس مین اپنی غیر تحقیقی سوچ کی بنا پر ان امکانات سے بے خبر رہتا ہے۔

25: سماجی تعلقات Social Contacts

معاشرتی و سماجی کونٹیکٹ کسی بزنس کی کامیابی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک ناکام بزنس مین Social Contactsکی اہمیت سے ناواقف ہوتا ہے۔اس کے معاشرتی و سماجی روابط محدود ہوتے ہیں۔اپنی اسی کمی کی وجہ سے وہ اپنے بزنس کو ایک وسیع پلیٹ فارم مہیا نہیں کر پاتا۔

26: ’انا پرستی‘ آپ کی کامیابی کی دشمن

انا پرستی ایک ناکام بزنس مین کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔یہ اس کے پبلک ریلشنز کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔ اور اس کے تعلقات کو محدود کر دیتی ہے جبکہ ایک کامیاب بزنس مین نہایت ملنسار اور سوشل ہوتا ہے۔لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ اس کے اچھے مراسم قائم ہوتے ہیں جوبزنس کے ایک وسیع نیٹ ورک کے قیام میں مددگار ہو سکتے ہیں۔

27: سٹینڈرڈائزیشن Standardization

پروڈکٹس یا سروسز کی تیاری و فراہمی میں جدید اور سٹینڈرڈ تیکنیکس کا استعمال Standardization کہلاتا ہے۔ پروڈکٹس کی یہ سٹینڈرڈائزیشن ہی کسی بزنس یا کمپنی کو مقابلے کی دوڑ میں شامل کرتی ہے۔ ایک ناکام بزنس مین ایسی کسی تیکنیک کے استعمال اورایپلیکیشن کی ضرورت محسوس نہیں کرتاجس کے نتیجے میں اس کے بزنس یا کمپنی کا معیار گرتا چلا جاتا ہے۔

28: ادھوری سیل سٹرٹیجی Imperfect Sales Strategy

سیل سٹریٹیجی کسی کمپنی کی ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے اور تمام تر پروفٹ کا دار ومدار اسی پالیسی ہر ہوتا ہے۔ایک ناکام بزنس مین مارکیٹ،کسٹمرز اور لوکیشن کی مناسبت سے ایک بہتر سیلز پالیسی تشکیل دینے میں بیوقوفی اور نا تجربہ کاری کا مظاہرہ کرتا ہے۔

29: ان ٹارگٹڈ اپروچ ٹو کسٹمر Untargeted Approach to Customers

پوٹینشل کسٹمرز تک رسائی بزنس مین کی اہم کامیابی ہوتی ہے۔ایک ناکام بزنس مین اپنی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے سیلز اور پروموشن کے اہم مواقع ضائع کر بیٹھتا ہے

30: کوالٹی آف سروس Quality of Service

پروڈکٹس اور سروسز کی بہتر کوالٹی بزنس میں کامیابی کی ضمانت ہے۔ناکام بزنس مین معیاری کوالٹی جیسے اہم معاملے کو نظرانداز کیے رکھتا ہے۔اور یہ غفلت بالآخر اس کی ناکامی پر منتج ہوتی ہے۔

31: لیڈرشپ کا فقدان

کامیاب بزنس مین اصل میں ایک اچھا لیڈر ہوتا ہے جو اپنے بزنس اور اپنے ماتحت کام کرنے والے افراد کی درست رہنمائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔وہ حالات و معاملات کی درست سمت کا تعین کر سکتا ہے۔جبکہ ایک ناکام بزنس مین کے اندر لیڈرشپ کی یہ صلاحیت سرے سے موجود ہی نہیں ہوتی۔

32: سپلائی چین Supply Chain

سپلائر سے کسٹمر تک کسی پروڈکٹ یا سروس کی منتقیلی ایک آرگنائزڈ سسٹم کا تقاضا کرتی ہے جسکی عدم موجودگی سے تجارتی نظام بدنظمی کا شکار ہو جاتا ہے اور یہی بدنظمی با لآخر خسارے کا سبب بنتی ہے۔ایک ناکام بزنس مین اس پہلو کی طرف سے بھی لاپروائی کا مظاہرہ کرتا ہے۔یا پھر اس میں اس کی صلاحیت یہ موجود نہیں ہوتی۔

33: سورس آف انفارمیشن کی عدم موجودگی

مارکیٹ کے مسائل،کسٹمر ٹرینڈزاوردوسری کمپنیوں کے رجحانات اور طریقہ کار کے بارے میں معلومات ایک بزنس مین کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔یہ معلومات کئی طرح کے مسائل کی شناخت اور نئے مواقع کی تلاش میں مددگار ہوتی ہیں۔ایک ناکام بزنس مین کو معلومات کے ذرائع کی اہمیت کا اندازاہ نہیں ہوتا اور نہ وہ اس کے مناسب انتظام کی کوشش کرتا ہے۔

34: لائسنسز Licensing

پروڈکٹ،سروس یا اپنے بزنس آئیڈیاز کی Licensing ایک انتہائی اہم امر ہے جو کئی طرح کے مسائل سے بچاتا ہے۔ایک ناکام بزنس3 مین اپنی کم علمی یا محض سستی کی وجہ سے اس امر میں غفلت برتتا ہے۔جبکہ ایک کامیاب بزنسمین ایسے تمام اصول و قوانین پر عمل پیرا ہوتا ہے۔

35: سیلف ایجوکیشن

سیلف ایجوکیشن ایک بزنس مین کے لئے نہایت اہمیت رکھتی ہے۔بزنس میگیزینز اور آن لائن بزنس ٹریننگ پروگرامز بزنس کے نئے رجحانات اور تیکنیکس سے آگاہ کرتے ہیں۔مگر ایک ناکام بزنس مین اپنی سیلف ایجوکیشن کا کوئی پلان تشکیل نہیں دیتا۔یہ لاعلمی اسے بزنس کی دنیا میں پیچھے دھکیلنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

36: اپنے مشن سے وابستگی

کمپنی یا بزنس کے لئے ایک پراثر حکمتِ عملی ترتیب دینے کے لئے بزنس مین کے ذہن میں ایک واضح مشن ہونا ضروری ہے۔یہ مشن ایک گائیڈلائن کا کام کرتا ہے۔ایک ناکام بزنس مین کو اول تو مشن کا ادراک ہی نہیں ہوتا اور ہو بھی تو وہ اپنے مشن سے وابستگی کو اہمیت نہیں دیتا۔

37: کاروباری حریفوں کا تجزیہ Competitors Analysis

بزنس کے میدان میں اپنے مدِمقابِل بزنس مینوں کی پروڈکٹس اور سروسز کے معیار اور ان کی بزنس کی تیکنیکس کے بارے میں معلومات نہایت اہمیت رکھتی ہے۔مقابلے کی اس دوڑ میں ایک بزنس مین کی خامی دوسرے کی خوبی بن جاتی ہے۔ایک ناکم بزنس مین اس امر میں بھی کوتاہی برتتا ہے اور دوسرں کی نسبت خسارے میں رہتا ہے۔

38: ترجیحات کا تعین

یاد رکھیے کچھ چیزیں ارجنٹ ہوتی ہیں جبکہ کچھ اِمپورٹینٹ ہوتی ہیں۔ایک کامیاب بزنس مین ان دونوں میں فرق کرنا بخوبی جانتا ہے۔جبکہ ایک ناکام بزنس مین اپنی ترجیحات کا تعین نہیں کرپاتاکہ کونسا معاملہ فوری توجہ کا متقاضی ہے ۔اس ناسمجھی کی وجہ سے بہت سے ضروری اور فوری حل طلب مسائل غفلت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

39: ناقص یادداشت

بزنس میں کامیابی ایک بہترین یادداشت کا تقاضا کرتی ہے۔ایک کامیاب بزنس مین اچھے حافظے کا مالک ہوتا ہے اور نہایت باریک نقاط کو بھی ذہن نشیں رکھتا ہے۔جبکہ ایک ناکام بزنس مین اچھی یاد داشت کا مالک نہیں ہوتا۔اسی خامی کی وجہ سے بہت سی چھوٹی چھوٹی اہم چیزیں اگنور ہو جاتی ہیں۔

40: حساب کتاب میں لاپرواہی Deficient Accounting

حساب کتاب جیسے اہم معاملے میں بھی ایک ناکام بزنس مین لاپروائی اور بے دھیانی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ایسی کمپنی کا اکاؤنٹینگ سیکشن غفلت کا شکار ہوتا ہے۔ اس غفلت کا براہِ راست اثر کمپنی کے بجٹ پر پڑتا ہے۔

41: موقع شناسی

ایک کامیاب بزنس مین کی سب سے اہم خوبی موقع شناسی ہوتی ہے وہ مشکلات کے ہجوم میں بھی ایک سنہری موقعے کی پہچان کی صلاحت رکھتا ہے جبکہ ایک ناکام بزنس مین اپنی اس ناشناسی کی وجہ سے کئی اہم مواقع گنوا بیٹھتا ہے۔

42: تفریح کے لئے وقت نہ نکالنا

اکثر ناکام بزنس مینوں کے پاس تفریح کے لئے بھی وقت نہیں ہوتا۔مسلسل کام ذہنی تھکاوٹ کا باعث بنتا ہے اور کارکردگی کو متاثر کرتا ہے ۔کامیاب بزنس مین اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہوتا ہے۔جبکہ ایک ناکام بزنس مین مسلسل کام کر کے ذہنی تھکاوٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔

43: بچت کی بہتر تیکنیکس سے ناواقفیت

ایک بزنس مین کے لئے خریداری نہیں بلکہ خریداری کا طریقہ کار زیادہ اہم ہوتا ہے۔ایک کامیاب بزنس مین ہمیشہ نقد اخراجات سے گریز کرتا ہے۔وہ بارٹر سسٹم کو اپناتا ہے اور اشیاء کے بدلے اشیاء کے لین دین کو اہمیت دیتا ہے۔جبکہ ایک ناکام بزنس مین بچت کے طور طریقے اپنانے کی کوشش نہیں کرتا اور غیر ضروری اخراجات کی روک تھام کے لئے اقدامات نہیں کرتا ۔یہ روش اسے بہت جلد مالی بحران کا شکار بنا دیتی ہے۔

44: پبلک مینیجمنٹ سکِلز

بزنس اصل میں کئی افراد کی کوششوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنے اور ان کی مشترکہ کوششوں سے ایک مفید نتیجہ برآمد کرنے کا نام ہے۔ایک کامیاب بزنس مین کے اندر لوگوں کی ایک بھیڑ کو ایک آرگنائزڈ گروپ میں تبدیل کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔جبکہ ایک ناکام بزنس مین پبلک مینجمینٹ کے اس ہنر سے نا آشنا ہوتا ہے۔

45: سٹاف کا انتخاب Policy Staff Hiring

کمپنی کے کلچر،انوائرنمنٹ اور ڈیمانڈ کے مطابق معقول اور قابل افراد کا انتخاب ایک اہم امر ہے۔ایک ناکام بزنس مین کسی فرد کو ہائر کرتے وقت اس کی خوبیوں، خامیوں اور اس کے اندر موجود پوٹینشل کا صیح اندازہ نہیں کر پاتا۔یہ ناموزوں ہائرنگ بزنس پر اثر انداز ہوتی ہے۔

46: سٹاف ٹرینگ Staff Training

کسی کمپنی یا آرگنائزیشن کی انویسٹمنٹ کا ایک بڑا حصہ سٹاف پر خرچ ہوتا ہے ۔لہٰذا سٹاف کی ہائرنگ اور ٹریننگ کے مناسب انتظامات بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔کامیاب بزنس مین اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہوتا ہے کہاایک قابل مگر ناتجربہ کار شخص کو ایک بہتر ماحول اور ٹریننگ فراہم کر کے ایک بہتر آؤٹ پٹ لیا جا سکتا ہے۔ایک ناکام بزنس مین ان اہم عوامل کا ادراک نہیں رکھتا۔

47: آفس کے بے حساب اخراجات

آفس کے اخراجات نہایت توجہ طلب اور ضروری عوامل میں شامل ہیں ۔ایک ناکام بزنس مین کو نہ تو ان اخراجات کا صیح اندازہ ہوتا ہے اور نہ وہ ان کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اسطرح بہت سے چھوٹے چھوٹے مگر غیر ضروری اخراجات بجٹ پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

48: ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی Over Confidence

ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کسی بھی امر میں ناکامی کا سبب بن سکتی ہے۔ایک ناکام بزنس مین Over Confidenceکا شکار ہوتا ہے۔وہ حالات کو مدِنظر رکھنے کی بجائے اپنی سوچ کو مدِ نظر رکھ کر فیصلے کرتا ہے جو نقصان کا باعث بنتے ہیں۔

49: بزنس نیٹ ورک کا قیام

ایک مناسب بجٹ کے اندررہتے ہوئے اپنے بزنس کو مارکیٹ کرنا ایک کامیاب بزنس مین کا سب سے بڑا ہنر ہے جس کوبروئے کار لا کروہ ایک بہتر اور منافع بخش بزنس نیٹ ورک کی تشکیل کرتا ہے۔ایک ناکام بزنس مین کارآمد اور مفید نیٹ ورک کے قیام میں ناکام رہتا ہے اور اس کا بہت سا بزنس پوٹینشل غیر نتیجہ خیز سرگرمیوں میں ضائع ہو جاتا ہے۔

50: جدید ذرائع سے ناواقفیت

ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے اس دور میں بزنس کو وسعت دینے اور زیادہ منافع بخش ذرائع کی تلاش کے لئے جدید طریقہ کار کو اپنانا ایک کامیاب بزنس مین کی نشانی ہے۔جبکہ ایک ناکام بزنس مین بزنس کے روایتی طور طریقوں کا پابند بنا رہتا ہے اور اپنے نیٹ ورک کے پھیلاؤ کے لئے آسان اور تیز ترین ذرائع کو استعمال میں نہیں لاتا۔

آپ کونسی غلطی کرتے ہیں اسے پہچانیں اور درست کریں.

28/12/2024

Address

Bhimber
Bhimbar
10042

Telephone

00923005433295

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Iltamas Medical & Cosmetics Store posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Iltamas Medical & Cosmetics Store:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram