07/02/2021
🐾 چھاتیوں کا سرطان . معلوماتی پوسٹ..🐾
چھاتیوں کے سرطان کی قومی مُہم کے مطابق ،
پاکستان میں چھاتیوں کے سرطان کی شرح کسی بھی ایشیائی آبادی سے زیادہ ہے .
یعنی یہ سرطان ہر سال 40,000 عورتوں کی موت کا سبب بنتاہے۔
تقریبأٔ ہر 9 عورتوں میں سے 1عورت کو چھاتیوں کا سرطان ہوجاتا ہے۔
چھاتیوں کا سرطان کیا ہوتا ہے..؟
سرطان کی ابتدا اُس وقت ہوتی جب جسم کے خلیات کی تقسیم کا عمل غیر نارمل ہوجاتا ہے۔
نارمل خلیات بڑھتے ہیں اور تقسیم کے عمل سے گزرتے ہیں، تاکہ نئے خلیات بنتے جائیں اور وہ مُردہ خلیات کی جگہ اپنا کام سنبھال لیتے ہیں، تاہم بعض اوقات خلیات ایسے وقت بن جاتے ہیں جب اُن کی ضرورت نہیں ہوتی یا پُرانے خلیات اپنے وقت پر مرتے نہیں ہیں۔
اِس طرح خلیات کی کثیر تعداد جلد ہی ایک گروپ کی شکل میں جمع ہوکر گلٹی نما مادّے یا ٹیومر کی شکل اختیار کر لیتی ہے ۔
یہ ٹیومر اپنی نوعیت کے لحاظ سے غیر سرطانی یا سرطانی ہو سکتا ہے ۔
سرطانی ٹیومر اِرد گِرد کے خلیات اور عضلات کو تباہ کردیتا ہے۔
سرطان کا نام اکثر اوقات متعلقہ ٹیومر کے ابتدائی مقام کے لحاظ سے رکھا جاتا ہے۔ اِسی طرح چھاتیوں کے سرطان کے نام کی وجہ یہ ہے کہ اِس صورت میں چھاتیوں کے خلیات کی تقسیم کے عمل میں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
چھاتیوں کے زیادہ تر سرطان یا تو چھاتیوں کے اندر نالیوں (ductal carcinoma) میں ہوتے ہیں یا پھر چھاتیوں کی گولائی (lobular carcinoma) میں خوابیدہ (غیر عامل) رہتے ہیں،
تاہم سرطان چھاتیوں کے دِیگر عضلات میں بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
چھاتیوں کے سرطان کی اقسام..
چھاتیوں کی بناوٹ میں ، چربی، غدود، اور جوڑنے والے (ریشے دار) عضلات شامل ہوتے ہیں۔
چھاتیوں کے اندر گولائی والی بہت سی ساختیں ہوتی ہیں۔ یہ ساختیں مزید چھوٹی گولائیوں میں تقسیم ہوتی ہیں، جن کا اختتام دودھ کے غدود پر ہوتا ہے ۔ بہت سے چھوٹے چھوٹے غدود سے ، بہت سی چھوٹی نالیاں نکلتی ہیں، پھر یہ آپس میں مِل جاتی ہیں اور اِن کا اختتام نپل پر ہوتا ہے۔
زیادہ تر صورتوں میں سرطان ، چھاتیوں کی نالیوں میں پیدا ہوتا ہے ۔ یہ کیفیت نالیوں کا سرطان کہلاتی ہے۔
چھوٹی گولائیوں میں پیدا ہونے والے سرطان کو ، گولائیوں کا سرطان کہا جاتا ہے ۔ چھاتیوں کے سرطان میں سے تقریبأٔ 10 سے 15 فیصد تعدا دکا تعلق ، اسی قِسم کے سرطان سے ہوتا ہے۔
چھاتیوں کے سرطان کی دِیگر نسبتأٔ کم عام اقسام بھی