03/02/2026
ڈاکٹر مبشر نذر کا محتاط اور سائنسی علاج: ابتدائی شوگر میں گولی سے اجتناب
خوشی ہوی ہے کہ مریض نے مشورہ کرنے کے لیے میرے کلنک کا رخ کیا ڈاکٹر مبشر
تلہ گنگ، فاروق آباد سے تعلق رکھنے والے ایک مریض میں ابتدائی شوگر کی تشخیص کے بعد ڈاکٹر مبشر نذر نے فوری شوگر کی گولی شروع کرنے کے بجائے ایک محتاط، سائنسی اور مریض دوست حکمتِ عملی اختیار کی، جو موجودہ میڈیکل پریکٹس میں ایک مثبت مثال ہے۔
مریض کا بلڈ شوگر لیول 280 ریکارڈ کیا گیا، تاہم کسی بھی قسم کی شدید علامات موجود نہیں تھیں۔ اس کے باوجود ایک نجی ہسپتال کے ڈاکٹر کی جانب سے مزید 3 ٹیسٹ تجویز کیے گئے اور فوری طور پر شوگر کنٹرول کرنے والی دوا گلوکووینس شروع کر دی گئی، جس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ فیصلہ مکمل کلینکل تشخیص کے بغیر تو نہیں کیا گیا؟
ڈاکٹر مبشر نذر کے مطابق شوگر کے علاج میں صرف ایک عدد رپورٹ دیکھ کر فوری دوا شروع کرنا ہمیشہ مریض کے مفاد میں نہیں ہوتا۔ اصل تشخیص کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ:
مریض نے پچھلے 3 دن میں کس نوعیت کا ذہنی یا جسمانی دباؤ برداشت کیا
خوراک میں کیا تبدیلی آئی
کن علامات کا سامنا رہا اور وہ کتنے گھنٹوں یا دنوں سے موجود ہیں
ڈاکٹر مبشر نذر نے اپنے کلینکل نوٹس میں واضح کیا کہ ہر ڈاکٹر کی نیت یقیناً درست ہوتی ہے، مگر بغیر مکمل جائزے کے فوری شوگر یا بلڈ پریشر کی دوا شروع کر دینے سے ایک بڑا خطرہ یہ ہوتا ہے کہ مریض کا جسم، جو پہلے کسی حد تک خود کنٹرول کر رہا ہوتا ہے، آہستہ آہستہ مکمل طور پر کیمیکل دواؤں کا عادی ہو جاتا ہے۔ یوں مریض غیر ضروری طور پر پوری زندگی دوا کا محتاج بن سکتا ہے۔
اسی اصول کے تحت ڈاکٹر مبشر نذر نے مریض کو وقتی طور پر گولی سے بچایا، فوری طور پر سخت پرہیز، خوراک کی درست ترتیب اور طرزِ زندگی میں تبدیلی شروع کروائی۔ نتیجتاً مریض کا بلڈ شوگر لیول 140 پر مستحکم ہو گیا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہر مریض کو فوری دوا کی نہیں بلکہ درست تشخیص اور انفرادی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ طریقۂ علاج نہ صرف جدید میڈیکل اصولوں سے ہم آہنگ ہے بلکہ مریض کے طویل المدتی مفاد، خودکار جسمانی نظام (Self-Regulation) اور ادویات کے غیر ضروری انحصار سے بچاؤ کی بہترین مثال بھی ہے۔
ایسا محتاط، علمی اور ذمہ دار ڈاکٹری انداز ہی اصل میں معیاری علاج کی پہچان ہے۔