Experts in Psychology

Experts in Psychology this page about related to Psychology and motivational videos
بھروسا سائیکولوجیکل سپورٹ ہیلپ لائن
03345673528

03/04/2026

بہت بڑی غلط فہمی: ہر مسئلہ جنات نہیں ہوتا
گولڈن راز، خوف جتنا بڑھایا جائے اتنا ہی طاقتور محسوس ہو گا
ماہر امراض دماغ ونفسیات ڈاکٹر مبشرنذر

ہمارے معاشرے میں ایک خطرناک سوچ آہستہ آہستہ جڑ پکڑ رہی ہے کہ ہر عجیب کیفیت، ہر بیماری اور ہر پریشانی کو فوراً جنات یا شیطان سے جوڑ دیا جائے۔ کسی کو گھبراہٹ ہو، نیند نہ آئے، دل تیز دھڑکے یا بے چینی محسوس ہو تو بغیر سوچے سمجھے کہہ دیا جاتا ہے کہ اس پر کوئی اثر ہے۔ حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ سادہ اور واضح ہے۔

انسان کا دماغ ایک نہایت طاقتور نظام ہے۔ یہی دماغ اگر متوازن ہو تو انسان کو مشکل حالات میں بھی سنبھال لیتا ہے، لیکن اگر یہی دماغ خوف، وہم اور منفی سوچوں میں الجھ جائے تو معمولی چیزیں بھی خطرناک محسوس ہونے لگتی ہیں۔ رات کے وقت ہلکی سی آواز بھی کسی کو یوں لگتی ہے جیسے کوئی موجود ہو، حالانکہ وہ آواز ہوا یا کسی عام حرکت کی ہو سکتی ہے۔

اکثر جسمانی اور نفسیاتی علامات جیسے دل کی دھڑکن کا تیز ہونا، سانس کا گھٹنا، نیند کا متاثر ہونا یا بلا وجہ خوف محسوس ہونا دراصل ذہنی دباؤ یا اینگزائٹی کی علامات ہوتی ہیں۔ مگر ہم انہیں سمجھنے کے بجائے فوراً کسی غیر مرئی طاقت سے جوڑ دیتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں غلط فہمی جنم لیتی ہے
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم پیچیدہ چیزوں کا آسان جواب تلاش کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر پریشانی کی کوئی فوری اور سیدھی وجہ مل جائے، اور جنات کو اس کا آسان بہانہ بنا لیا جاتا ہے۔ اس سوچ کی وجہ سے نہ صرف اصل بیماری نظر انداز ہو جاتی ہے بلکہ انسان کا خوف بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب کسی کو یہ یقین ہو جائے کہ اس پر کچھ اثر ہے تو اس کا اپنا دماغ بھی اسی کے مطابق ردعمل دینا شروع کر دیتا ہے۔ وہ ایسی علامات محسوس کرنے لگتا ہے جو دراصل اس کے ذہن کی پیداوار ہوتی ہیں۔ یہ کیفیت کمزور ایمان کی نہیں بلکہ ذہنی دباؤ اور خوف کی شدت کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے رویوں میں توازن لائیں۔ ہر مسئلے کو سمجھنے کی کوشش کریں، بلاوجہ خوف پیدا نہ کریں، اور جہاں ضرورت ہو وہاں ماہرین سے رجوع کریں۔ ذہنی صحت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی جسمانی صحت۔
گولڈن راز، خوف جتنا بڑھایا جائے اتنا ہی طاقتور محسوس ہوتا ہے، اور حقیقت کو جتنا سمجھا جائے زندگی اتنی ہی آسان ہو جاتی ہے۔
#نفسیات

03/04/2026

۔۔۔۔۔ پودینہ اور مسوڑھوں کا انفیکشن ۔۔۔۔۔
ماہر امراض دماغ ڈاکٹر مبشر نذز
ایلوپتھی سےہٹ کر کچھ لکھنا اس لیے بھی اچھا ہوتا ہے تاکہ لوگ مجبوری کے وقت اپنے طور پر علاج بھی کر سکیں اور اضافی اخراجات سے بچ سکیں
پودینہ ایک معروف جڑی بوٹی ہے جسے طب یونانی اور جدید طب دونوں میں اہم مقام حاصل ہے۔ عام طور پر اسے ہاضمہ بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، لیکن اس کی طبی خصوصیات اس سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔

پودینہ میں قدرتی طور پر اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی سیپٹک خصوصیات پائی جاتی ہیں، جو اسے منہ اور مسوڑھوں کی بیماریوں کے لیے مفید بناتی ہیں۔ یہ جراثیم کے خاتمے، سوزش کم کرنے اور درد میں فوری آرام دینے میں مدد دیتا ہے۔
مسوڑھوں کے انفیکشن اور دانت درد میں استعمال
اگر مسوڑھوں میں سوجن، درد یا انفیکشن ہو تو تازہ پودینہ کے چند پتے لے کر اچھی طرح چبا لیں۔ اس کا رس متاثرہ مقام تک پہنچ کر جراثیم کا خاتمہ کرتا ہے اور سوزش کم کرتا ہے۔

مزید مؤثر طریقہ یہ ہے کہ پودینہ کے تازہ پتوں کا رس نکال کر اسے ہلکا سا گاڑھا کر لیا جائے، پھر اس میں تھوڑی مقدار میں لونگ کا تیل شامل کیا جائے۔ یہ مرکب مسوڑھوں پر لگانے یا کلی کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے:
مسوڑھوں کی سوزش کم ہوتی ہے
دانت کے درد میں فوری آرام آتا ہے
منہ کے جراثیم ختم ہوتے ہیں

یہ بات ضروری ہے کہ لونگ کا تیل براہِ راست زیادہ مقدار میں استعمال نہ کیا جائے کیونکہ یہ جلن پیدا کر سکتا ہے، خاص طور پر اگر مسوڑھے پہلے سے زخمی ہوں۔

ہاضمہ اور معدہ کے لیے فوائد
پودینہ معدہ کی کمزوری، گیس، بدہضمی اور نفخ میں مفید ہے۔ یہ معدہ کو تقویت دیتا ہے اور بھوک بڑھانے میں مدد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ آنتوں کے بعض جراثیم اور کیڑوں کے خلاف بھی مؤثر سمجھا جاتا ہے۔

دیگر طبی فوائد
پودینہ جسم میں درد کم کرنے میں معاون ہے، خاص طور پر جب اسے بیرونی طور پر استعمال کیا جائے۔ کیڑے یا بچھو کے کاٹنے کی صورت میں اس کا لیپ وقتی آرام دے سکتا ہے۔

مزاج اور احتیاط
پودینہ کا مزاج گرم اور خشک تصور کیا جاتا ہے، اس لیے زیادہ مقدار میں استعمال سے خشکی یا جلن ہو سکتی ہے۔ معتدل مقدار میں استعمال ہی فائدہ مند ہے۔
#نفسیات

02/04/2026

۔۔۔۔۔۔۔۔۔تنہائی اور سکرین کا زہر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہر امراض دماغ و نفسیات ڈاکٹر مبشر نذر

آج کے دور میں انسان بظاہر جتنا جڑا ہوا نظر آتا ہے، حقیقت میں اتنا ہی اکیلا ہو چکا ہے۔ موبائل، سوشل میڈیا اور سکرین نے زندگی کو آسان تو بنایا، مگر آہستہ آہستہ یہ ایک ایسا زہر بن گئے ہیں جو خاموشی سے ذہن اور جسم دونوں کو متاثر کر رہا ہے۔

جب انسان زیادہ وقت سکرین پر گزارتا ہے تو وہ حقیقی دنیا سے کٹنے لگتا ہے۔ اس کی بات چیت کم ہو جاتی ہے، تعلقات کمزور پڑنے لگتے ہیں اور وہ آہستہ آہستہ تنہائی کا عادی ہو جاتا ہے۔ شروع میں یہ عادت آرام دہ لگتی ہے، مگر وقت کے ساتھ یہی تنہائی انسان کے اندر بے چینی، اداسی اور خالی پن پیدا کرتی ہے۔
سکرین کا سب سے بڑا اثر دماغ پر ہوتا ہے۔ مسلسل ویڈیوز، ریلز اور تیز بدلتی ہوئی تصاویر دماغ کو غیر معمولی حد تک مصروف رکھتی ہیں۔ اس سے دماغ کی قدرتی توجہ کمزور ہو جاتی ہے، patience ختم ہونے لگتا ہے اور انسان ہر وقت کسی نہ کسی stimulation کا عادی ہو جاتا ہے۔ جب سکرین بند ہوتی ہے تو اسے سکون نہیں ملتا بلکہ مزید بے چینی محسوس ہوتی ہے۔
اسی کے ساتھ ایک اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر دوسروں کی زندگی دیکھ کر انسان اپنے آپ کو کم سمجھنے لگتا ہے۔ دوسروں کی خوشیاں دیکھ کر اپنی زندگی ادھوری لگنے لگتی ہے، جس سے دل میں حسد، مایوسی اور اداسی پیدا ہوتی ہے۔
رات کے وقت سکرین کا استعمال نیند کو بھی بری طرح متاثر کرتا ہے۔ دیر تک موبائل استعمال کرنے سے دماغ کو یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ اب آرام کا وقت ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نیند کم اور بے سکون ہو جاتی ہے، اور اگلا دن تھکن، چڑچڑاپن اور کمزوری کے ساتھ گزرتا ہے۔
وقت کے ساتھ یہ عادتیں کئی بیماریوں کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ انسان بے چینی اور گھبراہٹ کا شکار ہو جاتا ہے، جسے عام طور پر اینگزائٹی کہا جاتا ہے۔ مسلسل اداسی اور دل نہ لگنے کی کیفیت ڈپریشن میں بدل سکتی ہے۔ نیند کی خرابی مستقل مسئلہ بن جاتی ہے جسے انسومنیا کہا جاتا ہے۔ زیادہ سکرین استعمال کرنے سے توجہ کی کمی اور ذہنی تھکن پیدا ہوتی ہے، جو روزمرہ کاموں کو بھی مشکل بنا دیتی ہے۔
جسمانی طور پر بھی نقصان کم نہیں ہوتا۔ زیادہ بیٹھنے اور حرکت کم ہونے سے وزن بڑھتا ہے، جسم سست ہو جاتا ہے اور آنکھوں پر دباؤ پڑتا ہے۔ گردن اور کمر کا درد بھی عام ہو جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ تنہائی اور سکرین کا ملاپ ایک ایسا دائرہ بنا دیتا ہے جس سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جتنا انسان اکیلا ہوتا ہے، اتنا ہی سکرین کی طرف جاتا ہے، اور جتنا سکرین استعمال کرتا ہے اتنا ہی اکیلا ہوتا جاتا ہے۔
اس کا حل یہی ہے کہ انسان اپنے وقت کو توازن میں لائے۔ حقیقی لوگوں سے ملنا، بات کرنا، باہر نکلنا، جسمانی حرکت کرنا اور سکرین کے وقت کو محدود کرنا وہ سادہ مگر مؤثر قدم ہیں جو اس زہر کو ختم کر سکتے ہیں۔
#نفسیات

01/04/2026

سوچ کو روکنا نہیں دھیان بدلنا ہے

ماہر امراض دماغ ونفسیات ڈاکٹر مبشر نذر

اکثر لوگ جب کسی منفی خیال یا وسوسے میں پھنس جاتے ہیں تو وہ پوری طاقت سے اس خیال کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ خود سے کہتے ہیں کہ یہ نہ سوچو، یہ خیال ختم کرو، مگر جتنا وہ اس کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں وہی خیال اور زیادہ طاقت کے ساتھ واپس آ جاتا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں انسان تھک جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ شاید اس کے دماغ میں کوئی بڑی خرابی ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔

انسانی دماغ کا ایک اصول ہے کہ جس چیز کو آپ زبردستی روکنے کی کوشش کرتے ہیں، دماغ اسی پر مزید توجہ دینے لگتا ہے۔ یعنی آپ جتنا کہیں کہ یہ خیال نہیں آنا چاہیے، دماغ بار بار چیک کرتا ہے کہ آیا وہ خیال گیا یا نہیں، اور اسی چکر میں وہ خیال دوبارہ سامنے آ جاتا ہے۔ اس لیے خیال کو روکنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ اسے مزید مضبوط کر دیتا ہے۔

اصل حل یہ ہے کہ خیال سے لڑا نہ جائے بلکہ دھیان کو آہستہ سے کسی اور طرف منتقل کیا جائے۔ یعنی خیال آئے تو اسے آنے دیں، اسے اہم نہ بنائیں، اور اپنے آپ کو کسی کام، حرکت یا مصروفیت میں لگا دیں۔ اس طرح دماغ کو نیا راستہ مل جاتا ہے اور پرانا خیال خود بخود کمزور ہونے لگتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر کسی کو بار بار بے چینی کا خیال آتا ہے کہ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہے اور وہ ٹھیک نہیں ہے، تو وہ بار بار اپنی دھڑکن چیک کرتا رہتا ہے۔ جتنا وہ چیک کرتا ہے، اتنا ہی اس کی توجہ دل پر جاتی ہے اور بے چینی بڑھتی ہے۔ اگر وہ اسی وقت اٹھ کر چہل قدمی شروع کر دے، کسی سے بات کرے یا کوئی ہلکا کام شروع کر دے تو آہستہ آہستہ اس کا دھیان بدل جاتا ہے اور وہی خیال کمزور پڑ جاتا ہے۔

اسی طرح ایک شخص جس کے ذہن میں بار بار کوئی غیر ضروری یا شرمندگی والا خیال آتا ہے، وہ اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے اور پریشان ہو جاتا ہے۔ اگر وہ اس خیال کو نظر انداز کر کے کسی مصروف کام میں لگ جائے، جیسے ورزش، پڑھائی یا گھر کا کوئی کام، تو کچھ ہی دیر میں اس کا ذہن اس نئی سرگرمی میں مشغول ہو جاتا ہے اور پرانا خیال پیچھے رہ جاتا ہے۔

یہ طریقہ شروع میں مشکل لگتا ہے کیونکہ دماغ عادتاً پرانے خیالات کی طرف جاتا ہے، مگر مسلسل دھیان بدلنے کی مشق سے دماغ نئی عادت سیکھ لیتا ہے۔ آہستہ آہستہ انسان خود محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنے خیالات کا غلام نہیں بلکہ ان پر قابو پا سکتا ہے۔

سچی بات یہ ہے کہ خیالات کو ختم کرنا انسان کے بس میں نہیں، لیکن ان پر توجہ دینا یا نہ دینا اس کے اختیار میں ہے۔ جب انسان توجہ بدلنا سیکھ لیتا ہے تو وہی خیالات جو پہلے اسے پریشان کرتے تھے، آہستہ آہستہ اپنی طاقت کھو دیتے ہیں۔ یہی اصل ذہنی سکون کا راستہ ہے۔
#نفسیات

31/03/2026

نیند متاثر ہو گی تو نفسیاتی و جسمانی بیماریاں جنم لیں گیں

نیند خراب =ہارمون خراب = موڈ خراب =سوچ منفی

ماہر امراض دماغ ونفسیات ڈاکٹر مبشر نذر

ا یہ سمجا جاتا ہے کہ اس کی پریشانی صرف سوچوں کی وجہ سے ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ ہمارے جسم، دماغ اور جذبات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور ان سب کی بنیاد نیند پر ہوتی ہے۔ جب نیند خراب ہوتی ہے تو سب کچھ آہستہ آہستہ بگڑنا شروع ہو جاتا ہے۔
جب انسان پوری نیند نہیں لیتا یا بار بار جاگتا ہے تو جسم کے ہارمون متاثر ہوتے ہیں۔ خاص طور پر وہ ہارمون جو خوشی، سکون اور توانائی دیتے ہیں کم ہو جاتے ہیں، جبکہ تناؤ پیدا کرنے والے ہارمون بڑھ جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان بغیر کسی بڑی وجہ کے بھی تھکا ہوا، چڑچڑا اور بے چین محسوس کرتا ہے۔
اسی حالت میں دماغ صحیح فیصلے نہیں کر پاتا۔ چھوٹی چھوٹی باتیں بڑی لگنے لگتی ہیں، برداشت کم ہو جاتی ہے اور انسان جلد غصہ یا مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ یہ کیفیت اس کی سوچ کو بھی بدل دیتی ہے۔ وہ ہر چیز میں منفی پہلو دیکھنے لگتا ہے، خود پر شک کرتا ہے اور مستقبل کے بارے میں غیر ضروری خوف محسوس کرتا ہے۔
مثال کے طور پر ایک شخص رات کو دیر تک موبائل استعمال کرتا ہے اور اس کی نیند پوری نہیں ہوتی۔ اگلے دن وہ تھکا ہوا اٹھتا ہے، کام میں دل نہیں لگتا، معمولی بات پر غصہ آ جاتا ہے۔ کوئی اس سے سیدھی بات بھی کرے تو اسے برا لگتا ہے۔ پھر وہ سوچتا ہے کہ شاید وہ ڈپریشن میں جا رہا ہے، حالانکہ اصل مسئلہ صرف نیند کی خرابی ہوتا ہے۔
اسی طرح ایک نوجوان جو رات بھر جاگتا ہے، اس کے جسم میں توانائی کم ہو جاتی ہے۔ وہ خود کو کمزور محسوس کرتا ہے، اعتماد کم ہو جاتا ہے اور وہ ہر وقت پریشان رہتا ہے۔ اس کی سوچ آہستہ آہستہ منفی ہوتی جاتی ہے، جبکہ اگر وہ اپنی نیند ٹھیک کر لے تو اس کی آدھی پریشانی خود بخود ختم ہو سکتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ نیند صرف آرام نہیں بلکہ دماغ کی صفائی کا عمل ہے۔ اچھی نیند دماغ کو ری سیٹ کرتی ہے، جذبات کو متوازن کرتی ہے اور سوچ کو مثبت بناتی ہے۔ اس کے برعکس خراب نیند انسان کو ایسے دائرے میں ڈال دیتی ہے جہاں ہر چیز بگڑتی چلی جاتی ہے۔
اس لیے اگر کوئی شخص مسلسل بے چینی، چڑچڑاپن یا منفی سوچ کا شکار ہے تو اسے سب سے پہلے اپنی نیند پر توجہ دینی چاہیے۔ وقت پر سونا، موبائل کم کرنا، پرسکون ماحول بنانا اور باقاعدہ روٹین اپنانا ایسے سادہ اقدامات ہیں جو بڑے بڑے نفسیاتی مسائل کو کم کر سکتے ہیں۔
#نفسیات

30/03/2026

دماغ کو غلط چیز کی طرف نہ لگایں دھیان ہٹایں اور مصروف رہیں

ماہر امراض دماغ و نفسیات ڈاکٹر مبشر نذر💫💫

زیادہ علاج کرانا عقل کی بات نہ ہو گی الٹا پریشانی میں اضافہ ہوجاتا ہے کیونکہ دماغ الٹی جیز سیکھ رہا ہوتا ہے کہ پتہ نہیں کیا ہوگا ثھیک ہوں گا بھی کہ نہیں
اس کا دماغ مسلسل خطرہ تلاش کرنے والا موڈ میں رہتا ہے۔ اس سے چھوٹی چھوٹی علامات بھی بڑھ کر نظر آتی ہیں اور ذہنی سکون ختم ہو جاتا ہے۔
اکثر لوگ خود سے diagnosis کرنے لگتے ہیں، ہر symptom کے پیچھے بیماری دیکھتے ہیں۔ یہ overthinking پیدا کرتا ہے اور خود پر دباؤ بڑھتا ہے۔ کبھی کبھی چھوٹے مسائل بھی اتنے بڑے لگنے لگتے ہیں کہ انسان بے بس محسوس کرنے لگتا ہے۔
مزید یہ کہ treatment overload بھی مسئلہ بن سکتا ہے۔ ہر دن نیا ڈاکٹر، نیا علاج، یا نیا supplement آزمانا دماغ کو مسلسل سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ انسان خود سے پوچھتا رہتا ہے: "کیا یہ صحیح ہے؟ کیا میں بہتر ہو رہا ہوں؟" اور اس سے stress اور anxiety مزید بڑھ جاتی ہے۔
اصل حل یہ ہے کہ علامات پر ضرورت سے زیادہ دھیان نہ دیں۔ چھوٹے اتار چڑھاؤ کو normal سمجھیں، ایک بار علاج کا plan بنائیں اور اس پر اعتماد رکھیں۔ علاج کا مقصد زندگی کو آسان بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ ہر احساس پر focus کرنا۔
یاد رکھیں کہ جسم اور دماغ الگ نہیں ہیں۔ نیند خراب ہونا، خوراک کی کمی، تھکن یا جنسی بے چینی سب دماغ کی کارکردگی اور مزاج پر اثر ڈالتی ہیں۔ صحیح routine، مناسب نیند اور جسمانی صحت کو برقرار رکھنا، علامات کے اثر کو کم کرتا ہے۔
آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ حقیقی علاج صرف علامات کو ختم کرنے میں نہیں بلکہ دماغ، جسم اور دل کو ایک ساتھ مضبوط کرنے میں ہے۔ علامات صرف رہنمائی ہیں، دشمن نہیں
اکثریت دماغی کمزور افراد کے دل کمزور ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان کو خوف اور بے چینی لاحق ہوتی ہے ان کو چاہیے میڈیسن کے بجاے دل کو مضبوط کریں ناشپاتی پھل اور زدشک شیریں روزانہ کھایں بند گوبھی سستے گھی کی بنی ہوی چیزیں اور بادی اشیا سے پرہیز کریں

29/03/2026

زیادہ علاج کبھی کبھی زیادہ مسئلہ بن جاتا ہے

ماہر امراض دماغ و نفسیات ڈاکٹر مبشر نذر

اکثر لوگ ہر لمحے اپنی علامات نوٹ کرتے ہیں، جیسے دل کی دھڑکن، چھوٹا سا تناؤ یا جنسی بے چینی۔ اس سے دماغ مسلسل خطرے کے موڈ میں رہتا ہے پریشانی، بڑھ جاتی ہے، چھوٹی چھوٹی چیزیں بڑی لگتی ہیں اور نیند متاثر ہو جاتی ہے۔ یہاں سے عقل کمزور اور وہم مضبوط ہونے لگتا ہے

کچھ لوگ ہر علامت کے پیچھے بیماری تلاش کرتے ہیں، جیسے "کیا یہ ڈپریشن ہے؟" یا "کیا یہ مسئلہ ہے؟"۔ اس سے overthinking بڑھتی ہے اور واقعی چھوٹی problem بھی بڑا مسئلہ لگنے لگتی ہے۔

کچھ لوگ ہر دن نیا ڈاکٹر، نیا علاج یا دوا آزمانے لگتے ہیں۔ دماغ مسلسل "صحیح ہے یا نہیں؟" کی حالت میں رہتا ہے اور چھوٹی signs بھی خوف پیدا کرنے لگتی ہیں۔

حل یہ ہے کہ علامات پر ضرورت سے زیادہ دھیان نہ دیں، چھوٹے اتار چڑھاؤ کو معمول سمجھیں، ایک بار علاج کا plan بنائیں اور اس پر اعتماد رکھیں۔ علاج کا مقصد زندگی آسان بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ ہر احساس پر focus کرنا۔

ہ زیادہ diagnosis اور over-focus اصل میں anxiety بڑھا سکتے ہیں۔ حقیقی علاج دماغ، جسم، روزمرہ کے معمولات اور مقصدیت کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔ علامات صرف رہنمائی ہیں، دشمن نہیں کبھی ایک الگ پوسٹ لکھیں گے جس میں آپ علامات سے مستقبل قریب میں ہونے والے بڑے بڑے واقعات سے آگاہ ہوسکیں گے

27/03/2026

دل اور دماغ کی ہم آہنگی ❤️🧠
ماہر امراض و نفسیات ڈاکٹر مبشر نذر

دل اور دماغ ہمیشہ ایک ساتھ رہیں تو زندگی خوشگوار ہوتی ہے۔
جب یہ ہم آہنگ نہ ہوں تو نفسیاتی بیماریاں بڑھتی ہیں۔
پریشانی، غصہ، بے چینی اور نیند کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
جسمانی صحت بھی متاثر ہوتی ہے، جیسے دل کی بیماری یا بلڈ پریشر۔
اپنی صحت کے لیے دل اور دماغ دونوں کی حفاظت ضروری ہے۔
روزانہ مثبت سوچ، مراقبہ اور سکون دلانے والی سرگرمیاں اپنائیں۔

26/03/2026

ہر قسم کا ڈر، جس کا تعلق دنیا سے ہے، وہ دراصل دماغ کا زہر ہے—ایسا زہر جو خاموشی سے، بتدریج، شعور کی تہوں میں اترتا ہے اور رفتہ رفتہ دماغی خلیوں کو زوال کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ خوف انسان کی فکری توانائی کو دیمک کی طرح چاٹتا ہے، اس کے ادراک کو مدھم اور اس کی بصیرت کو محدود کر دیتا ہے۔

مگر ایک ڈر ایسا بھی ہے—اللہ تعالیٰ کا ڈر—جو جتنا گہرا ہو، اتنا ہی دماغ کو جلا بخشتا ہے، اسے بیدار، مضبوط اور تیز تر بناتا ہے۔ یہی خوف انسان کے اندر ایک لطیف توازن، ایک روشن آگہی اور ایک باوقار استحکام پیدا کرتا ہے، جو اسے زوال سے نکال کر کمال کی طرف لے جاتا ہے۔

— ماہرِ امراضِ دماغ و نفسیات
ڈاکٹر مبشر نذر

25/03/2026

کبھی بہت خوش کبھی بہت اداس نفسیاتی بیماری
ماہر امراض دماغ ونفسیات ڈاکٹر مبشر نذر

Bipolar Disorder ایک ایسا نفسیاتی مرض ہے جس میں انسان کے مزاج میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ آتا ہے۔
کبھی مریض بہت زیادہ خوش، پُرجوش اور پراعتماد ہو جاتا ہے، جبکہ کبھی شدید اداسی، مایوسی اور بے دلی کا شکار ہو جاتا ہے۔
اہم علامات مدرجہ ذیل ہیں
مینیا جوش والا : مرحلہ

حد سے زیادہ خوشی یا غصہ
نیند کم لیکن تھکن محسوس نہ ہونا
غیر ضروری باتیں اور جلد بازی میں فیصلے

ڈپریشن (اداسی والا مراح

دل اداس اور بوجھل رہنا
کسی کام میں دلچسپی نہ ہونا
نیند اور بھوک میں خرابی
یہ عام موڈ سوئنگ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ بیماری ہے جو انسان کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔
بروقت تشخیص اور مناسب علاج ادویات اور کونسلنگ سے مریض ایک نارمل زندگی گزار سکتا ہے۔

اگر آپ یا آپ کے کسی عزیز میں یہ علامات نظر آئیں تو فوراً ماہرِ نفسیات سے رجوع کریں۔
خاموشی اختیار کرنے کے بجائے علاج کروانا ہی بہتر راستہ ہے۔

23/03/2026

Dr.Munashir Nazar is still talking about Magic issues

18/03/2026

ماہر امراض دماغ ونفسیات ڈاکٹر مبشر نذر۔۔

نفسیاتی امراض اور وہم وسوسے کو اکثر لوگ معمولی سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ یہ ایک حقیقی ذہنی کیفیت ہے جس میں بار بار آنے والے خیالات انسان کو ذہنی دباؤ اور بےچینی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ اگر یہ کیفیت بڑھ جائے تو نیند، روزمرہ کام اور تعلقات سب متاثر ہوتے ہیں۔

عام علامات میں بلاوجہ خوف، شک، دل گھبرانا، منفی سوچوں کا بار بار آنا اور توجہ کی کمی شامل ہیں۔ ایسے مسائل میں صرف خود کو سمجھانا کافی نہیں ہوتا بلکہ مناسب رہنمائی اور علاج ضروری ہوتا ہے۔

ہلکی نوعیت کے کیسز میں بعض اوقات کم ڈوز ایلوپیتھی ادویات دی جاتی ہیں، جیسے کہ
Escitalopram یا Sertraline (ڈپریشن اور اینگزائٹی کے لیے)
اور وقتی بےچینی کے لیے Alprazolam کم مقدار میں استعمال کروائی جاتی ہے۔

لیکن یاد رکھیں، یہ ادویات خود سے شروع کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ ہر مریض کی کیفیت مختلف ہوتی ہے، اس لیے صحیح دوا اور اس کی مقدار صرف ڈاکٹر ہی طے کرتا ہے۔

بروقت ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنا بہترین قدم ہےکیونکہ ذہنی سکون بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا جسمانی صحت۔

Address

Chakwal
48100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Experts in Psychology posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category