03/04/2026
بہت بڑی غلط فہمی: ہر مسئلہ جنات نہیں ہوتا
گولڈن راز، خوف جتنا بڑھایا جائے اتنا ہی طاقتور محسوس ہو گا
ماہر امراض دماغ ونفسیات ڈاکٹر مبشرنذر
ہمارے معاشرے میں ایک خطرناک سوچ آہستہ آہستہ جڑ پکڑ رہی ہے کہ ہر عجیب کیفیت، ہر بیماری اور ہر پریشانی کو فوراً جنات یا شیطان سے جوڑ دیا جائے۔ کسی کو گھبراہٹ ہو، نیند نہ آئے، دل تیز دھڑکے یا بے چینی محسوس ہو تو بغیر سوچے سمجھے کہہ دیا جاتا ہے کہ اس پر کوئی اثر ہے۔ حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ سادہ اور واضح ہے۔
انسان کا دماغ ایک نہایت طاقتور نظام ہے۔ یہی دماغ اگر متوازن ہو تو انسان کو مشکل حالات میں بھی سنبھال لیتا ہے، لیکن اگر یہی دماغ خوف، وہم اور منفی سوچوں میں الجھ جائے تو معمولی چیزیں بھی خطرناک محسوس ہونے لگتی ہیں۔ رات کے وقت ہلکی سی آواز بھی کسی کو یوں لگتی ہے جیسے کوئی موجود ہو، حالانکہ وہ آواز ہوا یا کسی عام حرکت کی ہو سکتی ہے۔
اکثر جسمانی اور نفسیاتی علامات جیسے دل کی دھڑکن کا تیز ہونا، سانس کا گھٹنا، نیند کا متاثر ہونا یا بلا وجہ خوف محسوس ہونا دراصل ذہنی دباؤ یا اینگزائٹی کی علامات ہوتی ہیں۔ مگر ہم انہیں سمجھنے کے بجائے فوراً کسی غیر مرئی طاقت سے جوڑ دیتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں غلط فہمی جنم لیتی ہے
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم پیچیدہ چیزوں کا آسان جواب تلاش کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر پریشانی کی کوئی فوری اور سیدھی وجہ مل جائے، اور جنات کو اس کا آسان بہانہ بنا لیا جاتا ہے۔ اس سوچ کی وجہ سے نہ صرف اصل بیماری نظر انداز ہو جاتی ہے بلکہ انسان کا خوف بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب کسی کو یہ یقین ہو جائے کہ اس پر کچھ اثر ہے تو اس کا اپنا دماغ بھی اسی کے مطابق ردعمل دینا شروع کر دیتا ہے۔ وہ ایسی علامات محسوس کرنے لگتا ہے جو دراصل اس کے ذہن کی پیداوار ہوتی ہیں۔ یہ کیفیت کمزور ایمان کی نہیں بلکہ ذہنی دباؤ اور خوف کی شدت کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے رویوں میں توازن لائیں۔ ہر مسئلے کو سمجھنے کی کوشش کریں، بلاوجہ خوف پیدا نہ کریں، اور جہاں ضرورت ہو وہاں ماہرین سے رجوع کریں۔ ذہنی صحت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی جسمانی صحت۔
گولڈن راز، خوف جتنا بڑھایا جائے اتنا ہی طاقتور محسوس ہوتا ہے، اور حقیقت کو جتنا سمجھا جائے زندگی اتنی ہی آسان ہو جاتی ہے۔
#نفسیات