Online Homoeopathic Clinic

Online Homoeopathic Clinic Yeh page sirf patients ko online sahulat muhaya karny k liye banaya gya hy. Non serious ya fazool sa

02/11/2025

*A talk on therapeutic *
Abdomen dropsy,ascites,cirrhosis of liver from
Acid mur
اگر،جگر کے سکڑنے کی وجہ سے،پیٹ سوج جاۓ،اور پیٹ میں پانی پڑ جاۓ،تو ڈاکٹر فاٹک نے،اس کی ایک ہی ریمیڈی،”ایسڈ میور“ بتاٸ ہے۔ایسڈ میور کی ایک اہم علامت ہے،کہ اس کا مریض،لیٹی پوزیشن میں،چارپاٸ یا بیڈ کی پاٸینتی کی طرف،کھسک یا سرک جاتا ہے۔
(Saeed Sahu)

18/10/2025

Alhamdu Lillah Reached 4k Followers. Soon Starting Physical Clinic In Sha Allah

18/10/2025
17/07/2025

Identification of Spoiled / Expired Food Items

ناقابلِ استعمال غذاؤں کی شناخت
سیکھیں
غذا کی "آخری تاریخ" یا "ایکسپائری ڈیٹ" ہمیشہ درست معلومات نہیں دیتی — اصل بات یہ ہے کہ غذائیں کب ناقابلِ استعمال ہو جاتی ہیں، اس کا اندازہ ظاہری اور کیمیائی تبدیلیوں سے ہوتا ہے۔

امریکہ کی نیشنل ریسورس ڈیفنس کونسل کے مطابق:

"زیادہ تر لوگ 'استعمال کی تاریخ' کو سمجھنے میں غلطی کرتے ہیں، حالانکہ وہ صرف کوالٹی کی ضمانت دیتی ہے، نہ کہ حفاظت کی۔"

تو آئیے سیکھتے ہیں مختلف عام غذاؤں کے خراب ہونے کی نشانیاں:

🐟 مچھلی (Seafood)
خراب مچھلی میں بو بہت شدید ہوتی ہے

گوشت پر چکنی یا پھسلنے والی تہہ بن جاتی ہے

تازہ مچھلی کو 36 گھنٹوں کے اندر استعمال کر لینا چاہیے

🍗 چکن (Chicken)
اگر گوشت گرے رنگت اختیار کر جائے یا چربی پر پیلا پن آجائے

میٹھی یا سڑے انڈے جیسی بو محسوس ہو

اگر چکن لجلجا یا چپچپا ہو اور دھونے کے بعد بھی نہ صاف ہو — تو یہ خراب ہے

🍞 ڈبل روٹی (Bread)
اگر کسی بھی حصے میں پھپھوندی دکھائی دے تو پوری ڈبل روٹی ناقابلِ استعمال ہے

اگر صرف سخت اور خشک ہو مگر پھپھوندی نہ ہو تو استعمال کی جا سکتی ہے

🥚 انڈے (Eggs)
ٹھنڈے پانی میں انڈہ تیرے تو خراب ہے، اگر ڈوب جائے تو ٹھیک ہے
(یہ USDA کی تصدیق شدہ سائنسی ٹیسٹ ہے)

🍎 تازہ پھل (Fruits)
ساخت میں تبدیلی جیسے نرمی، بُو، جھریاں یا رنگ کا بدلنا — خراب ہونے کی علامات ہیں

🥩 کچا گوشت (Raw Meat)
رنگ کی تبدیلی ہمیشہ خطرناک نہیں

اگر گوشت میں بو، چپچپاہٹ یا لجلجاہٹ ہو، تو ہرگز نہ استعمال کریں

🥬 تازہ سبزیاں (Vegetables)
اگر رنگ زرد یا مدھم ہو جائے، یا پتّے مرجھا جائیں تو وہ سبزیاں تازہ نہیں رہتیں

🥛 دودھ (Milk)
اگر گلٹی دار ہو جائے یا تیز ترش بُو دے تو یہ خراب ہو چکا ہوتا ہے

🧀 پنیر (Cheese)
نرم پنیر پر پھپھوندی ہو تو فوراً پھینک دیں

سخت پنیر پر پھپھوندی ہو تو متاثرہ حصہ کاٹ کر باقی استعمال کیا جا سکتا ہے

ترش بُو یا ذائقہ بھی خرابی کی علامت ہے

🫒 زیتون کا تیل (Olive Oil)
اگر اس میں زیتون کی خوشبو نہ آئے اور موٹر آئل جیسی بو ہو — تو وہ ناقابلِ استعمال ہے

✅ خلاصہ:
"ایکسپائری ڈیٹ" سے زیادہ قابلِ اعتماد آپ کے حواس خمسہ (دیکھنا، سونگھنا، چھونا، چکھنا) ہیں۔ غذا کی حفاظت آپ کے ہاتھ میں ہے — اگر شک ہو، تو کھانے سے گریز کریں!

29/06/2025

Barishen.... Akhir Khuda Khuda kar k Lahore main b Barish a he g*i

21/05/2025

Consultancy Fee Pkr 500 in Advance of case taking

21/05/2025

The Online Homoeopathic Clinic is now operational.

25/10/2024

ریسیک (اومپرازول) کے طویل مدتی استعمال کے ممکنہ مضر اثرات اور پیچیدگیاں: سائنسی تجزیہ

ریسیک (Risek) جس میں فعال جزو اومپرازول شامل ہے، معدے کی تیزابیت اور دیگر پیٹ کی بیماریوں کے علاج میں استعمال ہوتا ہے۔ اگرچہ اس کا عارضی استعمال عمومی طور پر محفوظ تصور کیا جاتا ہے، لیکن جدید سائنسی تحقیقات اور مختلف عالمی یونیورسٹیوں کی مطالعات سے ثابت ہوا ہے کہ طویل مدتی استعمال میں اس کے کچھ اہم طبی مضر اثرات اور پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں۔ اس آرٹیکل میں ہم ان پیچیدگیوں کا سائنسی اور طبی بنیاد پر جائزہ لیں گے۔

اومپرازول کے طویل مدتی استعمال کے ممکنہ پیچیدگیاں

1. گردوں کی خرابی اور دائمی گردے کی بیماری

Journal of the American Society of Nephrology میں شائع ہونے والی ایک تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ اومپرازول کے طویل مدتی استعمال سے گردے کی خرابی اور Chronic Kidney Disease (CKD) کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ محققین کے مطابق، پروٹون پمپ انہیبیٹرز گردے کے اندر موجود نیفرونز پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں جو گردے کے افعال کو متاثر کر سکتے ہیں۔

2. ہڈیوں کی کمزوری اور فریکچر کا خطرہ

اومپرازول کے طویل مدتی استعمال سے جسم میں کیلشیم کی کمی ہو سکتی ہے کیونکہ معدے کی تیزابیت میں کمی کیلشیم کے جذب کو متاثر کرتی ہے۔ Journal of Bone and Mineral Research میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، PPIs جیسے اومپرازول کا طویل مدتی استعمال ہڈیوں کی مضبوطی کو کمزور کر سکتا ہے اور خاص طور پر کولہے، ریڑھ کی ہڈی اور کلائی کے فریکچر کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

3. وٹامن بی12 کی کمی

Journal of American Medical Association (JAMA) میں شائع ایک تحقیق کے مطابق، پروٹون پمپ انہیبیٹرز جیسے اومپرازول کا طویل استعمال Vitamin B12 Deficiency کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ وٹامن کی کمی نیورولوجیکل مسائل، یادداشت کی کمزوری اور پیرستھیزیا (pins and needles sensation) کا سبب بن سکتی ہے۔ معدے کی تیزابیت کی کمی وٹامن بی12 کے جذب کو مشکل بنا دیتی ہے، جس سے جسم میں اس وٹامن کی سطح کم ہو جاتی ہے۔

4. انفیکشن کا خطرہ

اومپرازول کے استعمال سے معدے میں تیزابیت کی مقدار کم ہو جاتی ہے، جس سے بیکٹیریا کی نشوونما کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ Gastroenterology جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، پروٹون پمپ انہیبیٹرز کا طویل مدتی استعمال Clostridium difficile اور دیگر انتہائی بیکٹیریل انفیکشنز کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ ان انفیکشنز سے معدے اور آنتوں میں شدید مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

5. معدے کے کینسر کا خطرہ

Gut جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، طویل مدتی PPIs کا استعمال، خاص طور پر اومپرازول، gastric cancer کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے۔ معدے کی تیزابیت کی مستقل کمی سے gastric cells میں تبدیلیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جو بعد میں کینسر کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں خاص طور پر ان مریضوں کو احتیاط کرنی چاہیے جو پہلے سے معدے کی السر یا ہیلیکوبیکٹر پائلوری (H. pylori) انفیکشن کا شکار رہے ہیں۔

6. میگنیشیم کی کمی

اومپرازول کے طویل مدتی استعمال کے ساتھ میگنیشیم کی کمی (Hypomagnesemia) بھی رپورٹ کی گئی ہے، جو دل کی بےترتیبیوں، پٹھوں کی کمزوری، اور دوروں کا سبب بن سکتی ہے۔ New England Journal of Medicine میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، طویل عرصے تک PPIs لینے والے افراد کو میگنیشیم کی سطح کی نگرانی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ سنگین پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔

کیا اومپرازول کا طویل مدتی استعمال محفوظ ہے؟ عالمی تحقیقی جائزہ

طبی سائنس کے مطابق، اومپرازول کو عارضی اور محدود مدت کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ عمومی طور پر محفوظ سمجھا جاتا ہے، تاہم طویل مدتی استعمال کے دوران پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ مختلف عالمی یونیورسٹیوں کی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ:

Stanford University کی تحقیق کے مطابق، PPIs کا مستقل استعمال گردے اور دل کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔

Harvard Medical School کے مطالعات کے مطابق، PPIs سے ہڈیوں کی کمزوری اور فریکچر کے امکانات میں اضافہ ہوتا ہے۔

University of Edinburgh کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ طویل مدتی PPI استعمال معدے کے انفیکشن اور کینسر کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

نتیجہ: کیا اومپرازول کا طویل مدتی استعمال فائدہ مند ہے؟

اومپرازول (ریسیک) عارضی طور پر پیٹ کی تیزابیت میں آرام دینے کے لیے ایک موثر دوا ہے، لیکن اس کا طویل مدتی استعمال مختلف پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ طبی ماہرین کا مشورہ ہے کہ اومپرازول کو ہمیشہ محدود اور ڈاکٹر کی نگرانی میں استعمال کیا جائے، اور طویل مدتی استعمال کی صورت میں ضروری احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں تاکہ ممکنہ طبی مسائل سے بچا جا سکے۔

09/10/2024

Teen Orten Teen Kahanian(Homoeopathic)

Bashukria Dr Aman Ullah Bhaddar
HomoeoDr Saeed Akhtar Sahoo

(((((آج کی ملاقات))))))
کہتے ہیں ایک استاد کے پاس چند لمحے گزارنا کئی کتابیں پڑھنے سے بہتر ہے کیونکہ استاد کا تجربہ اس کی زندگی کا نچوڑ ہوتا ہے ڈاکٹر سعید سہو صاحب ایک منجے ہوئے ہومیوپیتھ ہیں مجھے ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ایک ملاقات میں ان سے ہومیوپیتھی کے میٹریا میڈیکا کی (وچلی گل سیکھنے) کی فرمائش کی ان سے دست بستہ عرض کیا کہ میں کیسے میڑیا میڈیکا کو پڑھوں کہ مجھے اس کی سمجھ آ جائے کیونکہ ساری ادویات کی علامات آپس میں ملتی جلتی ہوتی ہیں انہوں نے بڑی دلچسپ بات کی کہ میٹریا میڈیکا سے محبت کر لیں خود بخود سمجھ میں آ جائے گا میں نے کہا وہ کیسے تو انہوں نے ایک کہانی سنائی بڑی ہی دلچسپ کہانی تھی انہوں نے کہا کہ میں آپ کو ایک بات بتاتا ہوں کبھی ایک ڈائجسٹ ہوتا تھا جس میں تین عورتیں اور تیں کہانی کے نام سے بڑی دلچسپ سٹوری ہوتی تھی ایک بار پڑھ کر تینوں کی زندگی اور شخصیات کا علم ہو جاتا تھا آج میں بھی آپ کو تین عورتوں کی کہانی سناتا ہوں تین عورتیں آپس میں دوست تھیں ایک دن سب کہنی لگیں کہ اپنی زندگی میں ہڈ بیتی ایک ایک کر کے سنائیں گی
پہلی بولی کہ میں ابھی چھوٹی عمر میں تھی کہ مجھ میں بہت زیادہ حسد پایا جاتا تھا شروع سے ہی میں اپنے والدین کا کہنا نہیں مانتی تھی بلکہ میں اپنے جذبات سے خود سیکھنے کی کوشش کرتی تھی اور معاشرے کی بھرائیاں مجھے اپنے طرف جلد کھنچ لیتی تھیں حالانکہ میں شروع سے ہی روحانیت کی طرف مائل تھی یعنی دوہری شخصیت کی مالک تھی حسد مجھ میں اس قدر زیادہ تھا کہ کبھی میری امی اور ابو ایک جگہ بیٹھ کر کھانا کھا لیتے تو ان کی محبت دیکھ کر بھی مجھ میں بہت زیادہ حسد ہوتا تھا اسی وجہ سے میں اپنے والدین کی نا فرمانی کرتی تھی میری ان حرکتوں کی وجہ سے میری شادی جلدی کر دی گی اور جیسے ہی مجھے کو ٹینشن ہوتی مجھ میں زیادہ بولنے کی عادت ہوتی جتنی ٹینش زیادہ ہوتی اتنی ہی زیادہ باتونی ہوتی میرے میاں سے ہمیشہ ایک بات پر لڑائی ہوتی کہ وہ کہتے ہیں کہ نقاب کیا کرو لیکن میں جیسے ہی نقاب کرتی ہوں یا کوئی بھی کپڑا میرے گلے کے قریب آتا ہے تو میرا سانس رک جاتا ہے کئی بار تو میں سوتے ہوئے نیند سے اچانک اٹھ جاتی ہوں کیونکہ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میرا سانس رک گیا ہے اور میں مرنے لگی ہوں شکی پن مجھ میں اس قدر زیادہ ہے کہ جیسے ہی میرا خاوند گھر آتا ہے اور سو جاتا ہے تو میں چپکے سے ان کا موبائل دیکھتی ہوں کہ کس کس سے بات ہوئی ہے ہومیوپیتھ ڈاکٹر مجھے پریشر ککر کے نام سے یاد کرتے ہیں ڈاکٹر سیعد سہو صاحب نے کہا اس عورت کا نام (((لیکسس))) تھا یعنی لیکسس دوائی کی شخصیت میں ایسی علامات پائی جاتی ہیں۔
دوسری عورت بولی بچپن سے میری آنکھیں نیلی اور خوبصورت تھیں بال بھی سنہرے گال بھی سرخ بڑی ہی خوبصورت تھی۔کیا بتاوں بچپن سے ہی میں اپنی امی کے ساتھ ساتھ رہتی تھی جہاں بھی وہ جاتی میں بھی ان کے ساتھ ہی جاتی اور کوئی بھی دوسرا مجھے گود لینے کی کوشش کرتا تو میں رونا شروع ہوجاتی تھی کوئی بھی فیصلہ خود نہیں کر پاتی تھی مجھے گھر میں اکیلے رہنے سے خوف ہوتا تھا اگر کبھی بازار امی ابو کے ساتھ چلی جاتی تو میں کبھی بھی اپنے ابو کی انگلی نہیں چھوڑتی تھی کیونکہ مجھے یہ ہی ڈر رہتا تھا کہ کہیں میں کھو ہی ناجاوں اگر کبھی کسی شادی میں جانا ہوتا تو سب سے بعد میں تیار ہوتی تھی کیونکہ میں اپنے کپڑے بھی خود پسند نہیں کر سکتی تھی جو کوئی دوسرا کہتا جلد مان جاتی چھوٹی چھوٹی باتوں سے رونا شروع ہو جاتی میرا دل کرتا کہ کوئی بھی سہارہ دے اور میں جی بھر کر رو لوں جیسے ہی میں رو لیتی میرے دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا کھانے میں تلی ہوئی چیزیں اور ٹھنڈی چیزیں پسند کرتی تھی لیکن جیسے ہی کوئی تلی ہوئی چیز کھا لیتی میری طبیعت خراب ہو جاتی مجھے گھبراہٹ ہو جاتی متلی ہو جاتی بند کمرے میں گھٹن ہوتی کھلی ہوا میں مجھے سکون ملتا ابھی میرا یہ حال ہے کہ مجھے جو بھی کوئی بات کہتا ہے مان جاتی ہوں اپنی نہیں منواتی میرا تو وہ حال ہے پنجابی میں کہتے ہیں (جینے لایا گلیں اودے نال ای چلی)ابھی مجھ میں بچپن کی عادت ہے بلا وجہ ہی روتی ہوں میرا رونا اس قدر درد بھرا ہوتا ہے کہ دیکھنے والا کتنا بھی سخت دل ہو مجھے روتا دیکھ کر اس کا دل بھی پگل جاتا ہے میرے رونے پر کیا شعر ہے
حسیں تیری آنکھیں حسیں تیرے آنسو
یہیں ڈوب جانے کو جی چاہتا ہے۔
میں نے ڈاکٹر سیعد سہو سے پوچھا کہ اس میڈم کا کیا نام ہے تو انہوں نے کہا پولے بادشاہواس کو (پلساٹیلا) کہتے ہیں ایسی علامات ہومیوپیتھک دوائی پلساٹیلا کی شخصیت میں پائی جاتی ہیں۔
تیسری عورت بولی
مجھ پر بچپن سے ہی ظلم ہوتا رہا لیکن میں اپنا دفاع نہ کر سکی کیونکہ مجھ میں ہمت ہی نہیں تھی کہ میں اپنا دفاع کر سکوں میں بھی بچپن سے ہی بہت پیاری ہوں میری آنکھیں بہت ہی خوبصورت ہیں میری ایک آنکھ نیلی ہے اور ایک براوٗن بچپن سے ہی میرے چہرے پر ایک تل ہے جو میرے حسن میں مزید اضافہ کر دیتا میرے ساتھ میرے اپنوں نے بہت ظلم کئی لیکن میں کسی کو بھی نہ بتا سکی اندر ہی اندر کڑتی رہی کئی بار مجھ سے جنسی زیادتی کی گی لیکن کسی کو نہ بتا سکی بلکہ جب بھی وہ شخص میرے سامنے آتا مجھے یہ ڈر رہتا کہ کہیں میرے ساتھ ایسا ہی دوبارہ نہ ہو جائے ایک لمبے عرصے تک میرے اندر ڈر اور تشویش کی کیفیت رہتی اسی وجہ سے میں اپنے دفاعی لحاظ سے کمزور ہوتی چلی گی کیونکہ جس ملک کا دفاعی نظام کی کمزور ہو تو دشمن کی مرضی جو جی چاہئے اس ملک کے ساتھ کرے اس لئے میں دنیا سے کٹ کر کسی ایسی جگہ جانا پسند کرتی ہوں جہاں قدرتی نظارے ہوں کوئی بندہ بشر نہ ہو مجھے وہاں اچھا لگتا ہے ہر کوئی مجھ پر ظلم کرتا ہے لیکن میں کسی کو کچھ بھی نہیں کہہ سکتی میری مثال تو ایک ڈور میٹ کی ہے جو دروازے کے باہر رکھا ہوتا ہے ہر کوئی اپنے پاوٗں مجھ پر صاف کرتا ہے اور چلا جاتا ہے ڈاکٹر سیعد سہو صاحب نے پوچھا کہ اس کو کیا نام دیا جائے تو میں نے نفی میں سر ہلایا اور کہاکہ سر مجھےنہیں علم تو انہوں نے بڑے پیار سے کہا بھائی جان اس کو (کارسی نوسن)کہتے ہیں میں نے کہا سر اس پر کوئی شعر تو انہوں نے لکھا
یہ نیلی آنکھوں والے لوگ،آتے ہیں جب ساحل پر
تو چیخ کے لہریں کہتی ہیں کہ آج سمندر ڈوب گیا۔
ہومیوپیتھک ڈاکٹر امان اللہ بھدر کامونکی

Legal O***m Wild LettuceBashukria Hakeem Subhan Allahجنگلی لیٹس کے سائنسی اور طبی فوائد: جوڑوں کے درد اور دماغی عوارض کے...
06/10/2024

Legal O***m
Wild Lettuce

Bashukria Hakeem Subhan Allah

جنگلی لیٹس کے سائنسی اور طبی فوائد: جوڑوں کے درد اور دماغی عوارض کے لیے قدرتی افیون جیسا علاج

جنگلی لیٹس (Wild Lettuce)، جسے لاکٹوکا وائرسا (Lactuca virosa) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک طاقتور جڑی بوٹی ہے جس کے سائنسی اور طبی فوائد نے دنیا بھر کے محققین اور معالجین کو حیران کیا ہے۔ یہ جڑی بوٹی قدیم زمانے سے لے کر آج تک مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہوتی آ رہی ہے، اور اس کے قدرتی مرکبات خاص طور پر جوڑوں کے درد، سوزش، اور دماغی عوارض جیسے مسائل کے علاج میں بے حد مؤثر سمجھے جاتے ہیں۔

جنگلی لیٹس کی کیمیائی ترکیب

جنگلی لیٹس میں لاکٹوسین (Lactucine) اور لاکٹوکریوم (Lactucarium) جیسے قدرتی مرکبات پائے جاتے ہیں، جو اس جڑی بوٹی کے اہم فعال اجزاء ہیں۔ یہ مرکبات درد کو کم کرنے اور اعصابی سکون فراہم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ لاکٹوکریوم کو خاص طور پر "قدرتی افیون" کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اعصاب پر افیون کی طرح اثر انداز ہوتا ہے لیکن اس کے نقصانات اور نشے سے پاک ہے۔

1. جوڑوں کے درد (Arthritis) میں مفید

جدید سائنسی تحقیق کے مطابق، جنگلی لیٹس کے اینٹی سوزش اور درد کم کرنے والے خواص جوڑوں کے درد اور ورم کے علاج میں بے حد مؤثر ہیں۔ انٹرنیشنل جرنل آف ریمیڈی اینڈ ریہیبلیٹیشن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، جنگلی لیٹس میں موجود کیمیائی اجزاء جوڑوں میں ہونے والی سوزش کو کم کرتے ہیں، جس سے حرکت میں بہتری اور درد میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔

2. دماغی عوارض میں آرام بخش

جنگلی لیٹس کا سب سے اہم فائدہ اس کے دماغی سکون بخش اثرات ہیں۔ لاکٹوسین اور لاکٹوکریوم دماغی تناؤ اور اضطراب کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں، جس سے نیند بہتر ہوتی ہے اور دماغی سکون میں اضافہ ہوتا ہے۔ نیشنل سینٹر فار بایوٹیکنالوجی انفارمیشن (NCBI) کے ایک مطالعے میں یہ ثابت ہوا کہ جنگلی لیٹس بے خوابی، اضطراب، اور افسردگی جیسے دماغی عوارض کے علاج میں مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

3. قدرتی افیون کا متبادل

جنگلی لیٹس کو "قانونی افیون" بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا عرق افیون جیسا اثر پیدا کرتا ہے لیکن نشے یا منفی اثرات سے پاک ہوتا ہے۔ جرنل آف ایٹنو فارماکولوجی میں شائع ایک مطالعے میں بتایا گیا کہ جنگلی لیٹس کا عرق افیون کی طرح درد کو کم کرتا ہے اور اعصاب کو سکون دیتا ہے، لیکن یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہے۔ اس کا استعمال جوڑوں کے درد، سر درد، اور دیگر اعصابی دردوں کے علاج میں کیا جا سکتا ہے۔

جنگلی لیٹس کے استعمال سے حاصل ہونے والے فوائد

1. جوڑوں کی سوزش اور درد میں کمی

جنگلی لیٹس کا استعمال جوڑوں کی سوزش اور درد کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ انٹرنیشنل جرنل آف میڈیکل سائنسز کے مطابق، جنگلی لیٹس کے استعمال سے سوزش کی علامات میں کمی اور جوڑوں کی حرکت میں بہتری دیکھنے کو ملی ہے۔

2. دماغی سکون اور نیند میں بہتری

نیند کی خرابیوں میں مبتلا افراد کے لیے جنگلی لیٹس ایک قدرتی علاج ہے۔ یہ بے خوابی اور نیند کی کمی کو دور کرتا ہے اور دماغ کو سکون فراہم کرتا ہے۔ لاکٹوکریوم جیسے مرکبات نیند کے معیار کو بہتر بناتے ہیں اور دماغی تناؤ کو کم کرتے ہیں۔

3. قدرتی درد کم کرنے والا (Natural Analgesic)

جنگلی لیٹس کو قدرتی درد کم کرنے والے کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ مختلف مطالعات نے ثابت کیا ہے کہ یہ درد کم کرنے میں افیون جیسے اثرات پیدا کرتا ہے لیکن اس کے مضر اثرات سے بچاتا ہے۔ یہ خاص طور پر ان افراد کے لیے مفید ہے جو کیمیائی ادویات کے نقصانات سے بچنا چاہتے ہیں۔

جدید سائنسی اور طبی حوالہ جات

1. نیشنل سینٹر فار بایوٹیکنالوجی انفارمیشن (NCBI) کے ایک مطالعے میں جنگلی لیٹس کے اینٹی سوزش اور سکون بخش خصوصیات کا ذکر کیا گیا، جس کے مطابق یہ جڑی بوٹی جوڑوں کے درد اور دماغی عوارض کے علاج میں مفید ہے۔

2. جرنل آف ایٹنو فارماکولوجی نے جنگلی لیٹس کے عرق کو افیون کا قانونی اور محفوظ متبادل قرار دیا، جو درد کو کم کرنے اور اعصاب کو سکون دینے میں مددگار ہے۔

3. انٹرنیشنل جرنل آف میڈیکل سائنسز نے جنگلی لیٹس کے استعمال سے جوڑوں کی سوزش میں کمی اور نیند کے مسائل میں بہتری کے متعلق اہم نتائج شائع کیے۔

روایتی حکمت میں جنگلی لیٹس کا استعمال

طب یونانی اور آیورویدا میں جنگلی لیٹس کو ایک قدیم دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف درد اور سوزش کو کم کرنے میں مددگار ہے بلکہ اعصابی سکون کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ حکیموں کے مطابق، جنگلی لیٹس کا عرق ایک بہترین قدرتی علاج ہے جو انسان کی جسمانی اور دماغی صحت کو بہتر بنانے میں معاون ہے۔

احتیاطی تدابیر اور خوراک

جنگلی لیٹس کو چائے، کیپسول، یا تیل کی صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کی خوراک کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے ممکنہ طور پر معدے کی خرابی یا دیگر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

نتیجہ

جنگلی لیٹس ایک قدیم جڑی بوٹی ہے جس کے سائنسی اور طبی فوائد آج بھی تسلیم کیے جا رہے ہیں۔ اس کی اینٹی سوزش اور درد کم کرنے والی خصوصیات نے اسے جوڑوں کے درد اور دماغی عوارض کے علاج میں ایک قدرتی اور محفوظ متبادل بنا دیا ہے۔ جدید سائنسی تحقیقات نے جنگلی لیٹس کو قانونی افیون قرار دیا ہے جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہے، اور اس کا باقاعدہ استعمال جسمانی اور ذہنی سکون میں اضافہ کرتا ہے۔

حوالہ جات:

1. "Wild Lettuce as a Natural Remedy: Benefits and Side Effects," National Center for Biotechnology Information (NCBI).

2. "Lactuca Virosa: A Legal O***m Substitute for Pain and Inflammation," Journal of Ethnopharmacology.

3. "The Anti-inflammatory and Analgesic Properties of Wild Lettuce," International Journal of Medical Sciences.

Address

Chakwal

Opening Hours

Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923455506555

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Online Homoeopathic Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Online Homoeopathic Clinic:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category