22/01/2026
لکھو! تقدیر لکھنی ہے!
یہ جو اندھیر ہے دل میں، اسے مٹانا ہے
یہ جو بُت ہیں نگاہوں میں، انہیں گرانا ہے
اگر حق کی طلب ہے تو سبھی رستے کھلیں گے
اگر سچ بولنا ہے تو زمانہ سامنے ہوگا
یہاں جو جھک گیا جھوٹے خداؤں کے آگے
وہ اپنی آخرت کا سودا کر آیا
یہاں جو ڈر گیا طاغوت کے سائے سے
وہ اپنی بیٹیوں کے کفن پر مہر لگا آیا
یہ جو بُت تمہارے ہی ہاتھ کے تراشے ہوئے ہیں
یہی وہ قید خانے ہیں، یہی تقدیر کے لٹیرے ہیں
یہاں ہر ایک خواہش ہے، یہاں ہر ایک خوف بھی
یہاں سب کچھ ہے موجود، تم ہو، تمہارا ظرف بھی
تمہیں جو لکھنا ہے، وہ پہلے خود پہ آزمانا ہے
ستم سہہ کر بھی دل کے سکون کو پہچاننا ہے
یہاں جو رسم و رواج ہیں، وہی دیواریں اپنی
یہاں جو بیڑیاں ہم نے باندھ لیں، وہی زنجیریں اپنی
یہاں جو خود کو بیچا، وہی سرگرداں ٹھہرا
یہاں جو خود میں جاگا، وہی انساں ٹھہرا
ابھی جو راہ تم نے خود چُن لی ہے
اسی پر ثابت قدم رہنا
یہی وہ وقت ہے جس میں
تمہیں چلنا بھی ہے، جینا بھی، مرنا بھی
تمہیں ابراہیمؑ بن کر تیشے اٹھانے ہیں
تمہیں رسموں کی دیواروں میں زلزلے جگانے ہیں
محمدؐ کی صدا آئی تھی مکہ کی گھٹن میں بھی
کہ ظلمت ہو، جہالت ہو—کوئی اک راہ نکلے گی
محمدؐ کی صدا بن کر تمہیں پھر لوٹ آنا ہے
جہالت کے اندھیروں میں چراغِ حق جلانا ہے
یہی وقتِ مسیحا ہے، یہی لمحہ، یہی ساعت
یہی موسیٰ کے عصا کی پھر ضرورت ہے کرامت
اگر سچ میں ہو عیسیٰ، تو دم اپنا جگا دینا
اگر موسیٰ کے وارث ہو، تو دریا بھی بہا دینا
اگر اُمت کے داعی ہو، تو سر ہرگز نہ جھکانا
کہ رب نے تمہارے ہاتھ میں
مقدّر کو دیا ہے بولنا
یہی وہ راہ ہے جس پر زمانے کو بلانا ہے
فلک تک گونج اٹھے نام
ایسا کام کر کے جانا ہے
لکھو! تقدیر لکھنی ہے!
— مزمل رمضان 🖋️