09/12/2021
سوال_ مردانا جنسی عضو میں کوئی ہڈی نہیں ہوتی پھر بھی اس میں تناؤ کیسے آتا ہے۔
جواب_ اگر ہم عضو تناسل کی بناوٹ دیکھیں تو عضو تناسل میں کوئی ہڈی نہیں ہوتی۔ عضو تناسل کے درمیان سے urethra نام کی ایک نالی گزرتی ہے، اس نالی میں خصیوں سے سپرم آتا ہے اور راستے میں مختلف glands کی رطوبتوں کے ساتھ مل کر semen بن جاتا ہے، اور پھر یہ semen عضو تناسل سے مادہ کی اندام نہانی (vagiana) میں خارج ہوکر پریگننسی کا باعث بنتا ہے۔ عضو تناسل کے urethra کے اردگرد دو قسم کے چیمبرز ہوتے ہیں ایک corpora cavernosa اور دوسرا corpus spongiosum یہ دونوں چیمبرز eractile muscular tissues کے بنے ہوتے ہیں، یہ ٹیشوز ایسے ہوتے ہیں جیسے ایک sponge یا فوم کا ٹکڑا ہو ، یا یوں سمجھ لیں کہ جیسے ایک غبارا ہو اور یہ ٹشوز خون کے بہاؤ سے ایسے ہی پھیل جاتے ہیں جیسے پانی یا ہوا بھرنے سے غبارہ سخت سا ہوجاتا ہے اور اس میں تناو آجاتا ہے۔۔ عضو تناسل کو خون کی سپلائی دینے کے لیے pe**le artery آتی ہے، جو کہ عضو تناسل میں داخل ہونے کے بعد شاخوں میں تقسیم ہوجاتی ہے اور وہ شاخیں ان ٹشوز میں داخل ہوجاتی ہیں۔
جب انسان میں کسی بھی وجہ جنسی خواہش جاگتی ہے تو دماغ میں کچھ کیمکل ریکشن ہوتے ہیں اور nerves کے ذریعے سگنل دماغ سے عضو تناسل میں جاتا ہے۔ دماغ سے آنے والی nerves عضو تناسل کے ان ٹشوز پر (جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے) ایک نیورو ٹرانسمیٹر خارج کرتی ہیں جو کہ Nitric oxide (NO) ہے۔ یہ کیمکل ٹشوز اور مسلز کو پھولا دیتا ہے جس سے ان میں ٹشوز میں خون کا بہاؤ بڑھ جاتا ہے اور ان میں سختی آجاتی ہے۔ Nitric oxide دماغ سے آنے والی nerves کے علاؤہ ، خون کی رگوں کے خلیوں سے بھی خارج ہوتا ہے، جب nerves سے Nitric oxide آتا ہے تو وہ عضو تناسل کی رگوں سے بھی Nitric oxide کے خروج کو شروع کروا دیتا ہے، جس سے ان ٹشوز میں موجود جون کی رگیں بھی پھول جاتی ہیں اور خون کا بہاؤ مزید بڑھ جاتا ہے اور عضو تناسل میں سختی اور تناؤ یعنی کہ eraction آجاتی ہے۔۔۔۔ عام طور پر یہ eraction تب تک قائم رہتی ہے جب تک جنسی عمل کے دوران semen خارج نہ ہوجائے۔
یہاں پر میں ان ادویات کا ذکر بھی کرنا چاہوں گا جن سے عضو تناسل کا تناؤ زیادہ دیر تک برقرار رہتا ہے۔ جیسا کہ میں اوپر بتا چکا ہوں کہ Nitric oxide مسلز ٹیشوز اور رگوں کو پھولا دیتا ہے ، nitric oxide یہ کام کس طرح کرتا ہے یہ ایک بہت technical اور پیچیدہ ٹاپک ہے اس لیے ہم اس کی تفصیل میں نہیں جائیں گے، لیکن یہ جان لیجئے کہ اگر اس nitric oxide کے کام کو نہ روکا گیا تو یہ عضو تناسل ہمیشہ تناؤ میں رہے گا۔ اس لیے Nitric oxide کے کام کو روکنے کے لیے ایک اینزیم "phosphodiesterase "type-5 عمل کرتا ہے اس کے عمل سے nitric oxideکا عمل رک جاتا ہے اور عضو تناسل واپس ڈھیلا ہوجاتا ہے۔ لیکن کچھ کیمکل ایسے ہوتے ہیں جو کہ اس اینزیم کے کام کو روک دیتے ہیں یعنی enzyme inhibitor کے طور پر کام کرتے ہیں، جب اس اینزیم کا کام رک جائے گا تو Nitric oxide کا کام جاری رہے گا اور عضو تناسل میں تناؤ برقرار رہے گا۔ ان کیمکلز میں sildenafil , tadalafil, avanafil اور vardenafil شامل ہیں۔ مشہور زمانہ "سیکس کی گولی" " **ra" میں sildenafil citrate کیمیکل ہوتا ہے ، وہی sildenafil جس کا اوپر ذکر کیا ہے۔ یہ بات بھی واضح کردوں کہ vi**ra جنسی خواہش کو نہیں بڑھاتی یعنی کہ ایسا نہیں ہوتا کہ vi**ra کی گولی کھانے سے آدمی سیکس کے لیے پاگل ہوجاتا ہے، یہ گولی صرف عضو تناسل کے تناؤ کو زیادہ دیر تک برقرار رکھتی ہے جس سے جنسی عمل زیادہ دیر تک اور زیادہ بار کیا جا سکتا ہے۔ لیکن میں ہرگز کسی کو ایسی ادویات استعمال کرنے کا مشورہ نہیں دے رہا، ایسی حساس ادویات ڈاکٹر کے مشورے اور چیک اپ سے استعمال کرنی چاہیے، اور عام نارمل آدمی کو ان کی ضرورت بھی نہیں۔
اس کے علاؤہ میں یہاں کے بارے میں بھی ذکر کرنا چاہتا ہوں یعنی کہ سوتے ہوئے عضو تناسل میں تناؤ آجاتا ہے، اور صبح اٹھنے پر عضو تناسل میں تناؤ دیکھا جا سکتا ہے۔ اسے Nocturnal pe**le tumescence بھی کہا جاتا ہے۔ جب ہم جاگ رہے ہوتے ہیں اور اپنا نارمل کام کر رہے ہوتے ہیں تو ہمارے جسم میں norepinephrine نام کا ہارمون خارج ہوتا ہے جو vasodilation (یعنی کہ رگوں کا پھیلنا) کو کم کرتا ہے اور روکتا ہے، جب ہم سو جاتے ہیں خاص کر گہری نیند میں (REM sleep) تو norepinephrine کا لیول کم ہوجاتا ہے اور رگیں dialate ہوجاتی ہیں یعنی کہ ان کا حجم بڑھ جاتا ہے جس سے عضو تناسل کو خون کی سپلائی بڑھ جاتی ہے اور اس میں سختی آجاتی ہے (اس طرح خون کی سپلائی بڑھنا عضو تناسل کی نشوونما کے لیے فائدے مند ہوتا ہے)۔۔۔
اب اتنی باتیں کر لی ہیں تو یہ بھی سمجھ لیتے ہیں کہ semen عضو تناسل سے باہر کیسے آتا ہے، جنسی عمل کے دوران عضو تناسل کو جب رگڑ لگتی ہے تو اس کے اندر موجود nerves دماغ کو سگنل دیتی ہیں، جس سے دماغ میں کیمل ریکشن ہوتے ہیں اور مزہ اور لذت کی کیفیت آتی ہے۔ پھر جب یہ مزا اپنے عروج پر پہنچتا ہے تو دماغ سے عضو تناسل کو سگنل جاتا ہے، خصیوں سے ایک نالی نکلتی ہے جسے vas deferens کہا جاتا ہے (نئی کتابوں میں اسے s***m duct کا نام دے دیا گیا ہے) اس نالی میں خصیوں سے بننے والے سپرم سٹور ہوتے ہیں، جب دماغ کا سگنل اتا ہے تو اس نالی میں contractions شروع ہوتی ہیں جس سے سپرم urethra کی صرف سفر کرتا ہے اور راستے میں glands سے رطوبتیں سپرم کے ساتھ شامل ہو کر semen بنا دیتی ہے، جب یہ semen عضو تناسل کے شروع والے حصے میں پہنچ جاتا ہے تو بہت تیزی سے باہر آتا ہے (تقریباً 45 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک)