Psychology with Aftab Ahmad

Psychology with Aftab Ahmad Clinical Psychologist | Mental Health, Therapy & Career Counseling | Helping people heal, manage stress, and grow personally & professionally.

Promoting emotional resilience and mental health awareness across Pakistan and beyond.

04/01/2026

صبح کی سیر: ایک قدرتی
Anti-Depressant
جدید نفسیات اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ
Morning Walk
محض جسمانی ورزش نہیں بلکہ ایک طاقتور قدرتی Anti-Depressant
ہے۔ خاص طور پر جب انسان رات کو جلدی سوئے اور فجر کے بعد یا طلوعِ آفتاب سے پہلے سیر کرے، تو اس کے اثرات صرف جسم تک محدود نہیں رہتے بلکہ دماغ اور روح تک گہرے طور پر پہنچتے ہیں۔
نفسیاتی اثرات (Psychological Effects):
صبح کی تازہ ہوا اور قدرتی روشنی دماغ میں
Serotonin اور Dopamine جیسے کیمیائی مادّوں کو متوازن کرتی ہے، جو ڈپریشن، بے چینی اور منفی سوچ کو کم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مستقل صبح کی سیر کرنے والے افراد میں
موڈ بہتر رہتا ہے
Overthinking میں کمی آتی ہے
ذہنی بوجھ ہلکا محسوس ہوتا ہے
رات کو جلدی سونا: ذہنی صحت کی بنیاد
نیند کا درست وقت (Circadian Rhythm) ذہنی صحت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب انسان رات کو جلدی سوتا ہے
Cortisol (Stress Hormone) کم ہوتا ہے
دماغ خود کو Repair کرتا ہے
اگلی صبح سیر کے اثرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں
سنتِ نبوی ﷺ اور Morning Walk
احادیث اور سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ صبح کا وقت برکت والا ہے۔ فجر کے بعد چہل قدمی:
ذہنی سکون
دل کی یکسوئی
اور فطرت سے ربط پیدا کرتی ہے
اسلامی اور جدید نفسیات دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ قدرت کے قریب رہنا انسانی دماغ کے لیے شفا ہے۔
اگر ڈپریشن، بے چینی یا ذہنی تھکن کا حل دو لفظوں میں بیان کیا جائے تو وہ ہیں:
"جلدی سوئیں صبح چلیں"
یہ ایک سادہ عادت ہے، مگر اثر میں کسی دوا سے کم نہیں۔

03/01/2026

سیلف کیئر: اپنے لیے وقت نکالنا کیوں ضروری ہے؟

سیلف کیئر (Self-Care)
یعنی اپنے جسم، دماغ اور جذبات کا خیال رکھنا صرف ایک luxury
نہیں بلکہ ضرورت ہے۔
Clinical psychology
کے مطابق، انسان کا دماغ اور جسم مسلسل
stimuli (محیطی اثررات)
سے متاثر ہوتا ہے۔
گر ہم اپنے لیے وقت نہ نکالیں تو
stress, anxiety اور burnout
کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
1. ذہنی دباؤ اور سیلف کیئر
Stress Response:
روزمرہ کے کام اور ذمہ داریوں سے دماغ مسلسل
stress hormones (کورٹیسول) خارج کرتا ہے۔
Clinical Perspective:
اگر stress prolonged
ہو جائے تو
depression، anxiety اور sleep disorders پیدا ہو سکتے ہیں۔
Self-Care Solution:
meditation یا deep breathing exercises
nature walk یا silent time
اپنے شوق کے لیے وقت نکالنا
Psychological Note:
Self-Care
دماغ کو "reboot"
کرنے اور
emotional resilience
بڑھانے میں مددگار ہے۔
2. جسمانی صحت اور سیلف کیئر
Clinical Fact: Physical inactivity اور unhealthy lifestyle کئی chronic diseases (جیسے heart disease, diabetes) کا risk بڑھاتے ہیں۔
Self-Care Habits:
Regular exercise اور stretching
Healthy nutrition اور پانی کی مقدار بڑھانا
Proper sleep schedule
جسمانی صحت بہتر ہونے سے ذہنی توانائی اور concentration بھی بڑھتی ہے۔
3. جذباتی توازن
Psychological Theory: Emotional well-being کے لیے self-awareness ضروری ہے۔
اپنے جذبات کو سمجھنا اور انہیں regulate کرنا depression اور anger issues سے بچاتا ہے۔
Tips for Emotional Self-Care:
Journaling (روزانہ کے احساسات لکھنا)
Mindfulness exercises
اپنی خوشی کے چھوٹے لمحات (hobbies) کو وقت دینا
4. Creativity اور ذہنی استعداد
Clinical Observation: دماغ کو breaks دینے سے creativity اور problem-solving skills بہتر ہوتی ہیں۔
Overworked individuals زیادہ errors اور decision fatigue کا شکار ہوتے ہیں۔
Self-Care Practice:
Short naps
Leisure reading یا painting
New experiences سے دماغ کو stimulate کرنا
5. برن آؤٹ سے بچاؤ
Burnout: طویل مدتی stress اور کام کی زیادتی جسم اور دماغ پر منفی اثر ڈالتی ہے۔
Self-Care as Prevention:
Work-life balance قائم رکھنا
"No" کہنا سیکھنا
اپنے لیے daily یا weekly boundaries set کرنا

سیلف کیئر صرف آرام یا تفریح نہیں، بلکہ یہ ایک کلینیکل اور سائیکولوجیکل ضرورت ہے۔
یہ نہ صرف ذہنی دباؤ، تھکن اور برن آؤٹ سے بچاتا ہے بلکہ:
جذباتی صحت بہتر بناتا ہے
تعلقات مضبوط کرتا ہے
Creativity اور زندگی میں خوشی بڑھاتا ہے

03/01/2026
03/01/2026

وہ نارمل تھا مثلہ ہمارا رویہ ہے۔
آج صبح میں اپنی معمول کی morning walk پر تھا۔ ہلکی ہلکی دھند تھی، حدِ نظر شاید سو میٹر سے بھی کم۔ کالونی کی مین روڈ پر درختوں کے قریب ایک منظر نے اچانک مجھے روک لیا۔ دھند کے اندر ایک شخص اکیلا سیلفی لے رہا تھا۔ ساتھ ایک تھैلا گرین بیلٹ پر رکھا ہوا تھا۔ وہ سیلفی لیتے ہوئے بار بار اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا، جیسے کسی سے بچ رہا ہو یا شاید شرما رہا ہو۔
میں قریب گیا، سلام کیا، مگر اس نے جواب نہ دیا۔ میں نے کہا کہ اگر آپ کہیں تو میں تصویر بنا دوں، مگر میرے ہونٹ ہلتے دیکھ کر اس نے اشاروں سے سمجھایا کہ وہ نہ بول سکتا ہے اور نہ سن سکتا ہے۔ یعنی وہ deaf & dumb تھا۔ میں نے اشاروں میں اجازت لی اور اس کے موبائل میں دو تین تصویریں بنا دیں۔ اچانک اس کے چہرے پر ایک بہت خوبصورت سی مسکراہٹ آ گئی، ایسی مسکراہٹ جو دل کو لگتی ہے۔
جب میں موبائل واپس کرنے لگا تو اس نے پھر اشارہ کیا کہ رکیں۔ اس نے سردی سے بچنے کے لیے پہنی ہوئی کیپ اتاری، بال ٹھیک کیے، خود کو سیدھا کیا اور پورے اعتماد سے پوز بنایا، جیسے کہنا چاہ رہا ہو کہ اب ٹھیک ہے، اب اور بنائیں۔ میں نے مزید دو تصویریں بنا دیں اور وہ خوشی خوشی آگے چل دیا، اپنی ہی مستی میں۔
میں چاہتا تھا اس سے اور بات کروں، شاید پوچھوں کہ شادی ہوئی یا نہیں، کیونکہ وہ لگ بھگ چالیس سال کا، اسمارٹ اور اچھی ہائٹ کا نارمل مرد لگ رہا تھا، مگر میں رک گیا۔ دل میں یہ خیال آیا کہ کہیں کوئی سوال اس کے اندر کسی محرومی کو نہ چھیڑ دے۔ وہ اس وقت خوش تھا، اور شاید یہی کافی تھا۔
لیکن اس کے چہرے پر کچھ ایسا تھا جو دل میں اتر گیا۔ کوئی خاموش سی اداسی، کوئی چھپا ہوا بوجھ۔ شاید خاندان کا رویہ، شاید معاشرے کی نظریں، شاید وہ احساس جو ایسے لوگوں کو بار بار دیا جاتا ہے کہ تم “نارمل” نہیں ہو۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اندر سے ہر طرح سے ایک مکمل انسان تھا، بس اظہار کا طریقہ مختلف تھا۔
نفسیات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسان کو سب سے زیادہ چوٹ اس کی self-worth پر لگتی ہے۔ جب گھر میں، خاندان میں یا معاشرے میں کسی کو بار بار یہ احساس دلایا جائے کہ وہ کم ہے، مختلف ہے، محتاج ہے، تو وہ آہستہ آہستہ خود سے نظریں چرانا سیکھ لیتا ہے۔ مسئلہ اس کی معذوری نہیں ہوتی، مسئلہ ہمارا رویہ ہوتا ہے۔
اگر کسی گھر میں کوئی deaf، dumb یا کسی بھی طرح different فرد ہو تو سب سے پہلے خاندان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اسے ترس نہیں، احترام دیا جائے۔ اسے فیصلوں میں شامل کیا جائے، اس کی رائے پوچھی جائے، اسے زندگی کے حق سے محروم نہ کیا جائے۔ کیونکہ قبولیت انسان کو مضبوط بناتی ہے، اور نظرانداز کرنا اسے اندر سے توڑ دیتا ہے۔
معاشرہ بھی یہاں بہت بڑا کردار ادا کرتا ہے۔ گھور کر دیکھنا، آہستہ آواز میں بات کرنا، یا حد سے زیادہ ہمدردی دکھانا — یہ سب رویے بظاہر چھوٹے لگتے ہیں، مگر اندر ہی اندر انسان کو احساس دلاتے ہیں کہ وہ الگ ہے۔ Inclusion کا مطلب ترس نہیں، بلکہ برابری ہے۔
اگر آپ کے آس پاس، آپ کے خاندان یا محلے میں کوئی ایسا انسان ہے تو بس اسے نارمل سمجھیں۔ اس کی معذوری کو اس کی شناخت نہ بنائیں۔ اسے زندگی جینے کا وہی حق دیں جو آپ اپنے لیے چاہتے ہیں۔ کیونکہ ہر انسان عزت، خوشی اور قبولیت کے ساتھ جینے کے لیے پیدا ہوا ہے۔

Psychology with Aftab Ahmad

02/01/2026

خود اعتمادی (Self-Esteem)
اور کم اعتمادی کی وجوہات
خود اعتمادی کوئی پیدائشی شے نہیں، بلکہ ایک
psychological construct
ہے جو وقت، تجربات، ماحول اور تعلقات کے اثر سے بنتا ہے۔
بہت سے لوگ بظاہر مضبوط، کامیاب اور بااعتماد نظر آتے ہیں، مگر اندر سے خود پر شک، کمتر ہونے کا احساس اور مسلسل self-criticism کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ کیفیت صرف جذباتی کمزوری نہیں، بلکہ ایک clinical psychological response ہے جس کے واضح اسباب ہوتے ہیں۔
Maslow کی Hierarchy of Needs اور Self-Esteem
Abraham Maslow کے نظریے کے مطابق انسان کی ضروریات پانچ levels میں تقسیم کی جاتی ہیں:
Physiological Needs (بنیادی حیاتیاتی ضروریات)
کھانا، پانی، نیند، جسمانی تحفظ
Safety Needs (تحفظ کی ضروریات)
جسمانی اور معاشرتی حفاظت، stability
Love & Belonging Needs (محبت اور تعلقات کی ضروریات)
دوست، فیملی، تعلقات، acceptance
Esteem Needs (اعتماد اور عزت نفس کی ضروریات)
Self-Esteem, Confidence, Respect from others, Achievement
آج کا مضمون اسی level پر فوکس کرتا ہے کیونکہ کم اعتمادی کی وجوہات یہاں اثر ڈالتی ہیں۔
Self-Actualization (خود شکوفائی)
اپنی potential کو maximize کرنا، creativity، personal growth
Low Self-Esteem کی چند اہم وجوہات
1. بچپن میں تنقید اور جذباتی عدم تحفظ
Self-Esteem کی بنیاد بچپن میں رکھی جاتی ہے۔
بار بار ڈانٹ، موازنہ یا conditional محبت دماغ میں یہ belief پیدا کرتی ہے کہ:
"میں ویسا نہیں ہوں جیسا مجھے ہونا چاہیے"
Maslow کے perspective میں یہ foundation/basic needs کے stage سے جڑا ہے، جہاں emotional safety اور acceptance کی کمی بعد میں کم اعتمادی پیدا کرتی ہے۔
2. Chronic Comparison Syndrome
سوشل میڈیا اور معاشرتی دباؤ نے social comparison کو pathological حد تک بڑھا دیا ہے۔
مسلسل خود کو دوسروں سے تولنے سے دماغ میں inferiority loop activate ہو جاتا ہے، جس سے:
self-worth کم
anxiety زیادہ
confidence unstable
یہ Maslow کی social belonging اور respect needs سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔
3. ناکامیوں کو اپنی شناخت بنا لینا (Over-Identification with Failure)
غلطی کرنا ایک process ہے، مگر خود کو غلطی سمجھ لینا chronic self-esteem problem بن جاتا ہے۔
Maslow کے مطابق یہ self-esteem needs کو براہ راست متاثر کرتا ہے، کیونکہ کامیابی کے باوجود فرد خود کو incompetent محسوس کرتا ہے (Impostor Syndrome).
4. Suppressed Emotions اور Unprocessed Trauma
جو جذبات express نہ ہوں، وہ اندر ہی اندر personality کو کمزور کرتے ہیں۔
Unresolved emotional pain self-esteem کو gradually کھا جاتا ہے، اور انسان خود کو:
کم قابل
کم اہم
replaceable
سمجھنے لگتا ہے۔
یہ Maslow کے psychological safety اور esteem needs کی clinical manifestation ہے۔
5. Perfectionism — بظاہر خوبی، حقیقت میں زہر
Perfectionism اکثر positive لگتا ہے، مگر clinical سطح پر یہ self-esteem destroyer ہے۔
کیونکہ perfectionist انسان کبھی “کافی” محسوس نہیں کرتا، اور ہر کامیابی کے بعد بھی خود کو کوستا رہتا ہے۔
یہ Maslow کے self-actualization کی preliminary کوشش سے جڑا ہوا مسئلہ ہے، جہاں انسان high standards رکھتا ہے مگر اپنی intrinsic worth کو نہیں پہچان پاتا۔
نفسیاتی نکتہ
کم اعتمادی اس بات کی علامت نہیں کہ آپ کمزور ہیں، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کا ذہن survival mode میں بہت زیادہ عرصہ رہا ہے، اور self-esteem کی needs پوری نہیں ہو سکیں۔
نتیجہ
آج ہم نے کم اعتمادی کی وجوہات اور Maslow کے perspective سے Self-Esteem کی اہمیت کو سمجھا۔
لیکن سوال یہ ہے:
خود اعتمادی کو برقرار کیسے رکھا جائے؟ یا اگر ختم ہو چکی ہو تو دوبارہ کیسے پیدا کی جائے؟
کل کے مضمون میں ہم بات کریں گے:
"خود اعتمادی کو برقرار رکھنے اور مضبوط بنانے کے 5 مؤثر اور عملی طریقے"
کل کا مضمون صرف پڑھنے کے لیے نہیں، بلکہ عمل کرنے کے لیے ہوگا، تاکہ
confidence sustainable اور مستحکم بنایا جا سکے۔

01/01/2026

منفی سوچ: دماغ کیوں Default طور پر Negative ہو جاتا ہے؟ 10 سائنسی وجوہات جو ہر Overthinker کو جاننی چاہئیں

اکثر لوگ خود سے ناراض رہتے ہیں کہ “میں اتنا منفی کیوں سوچتا ہوں؟ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ منفی سوچ کوئی اخلاقی خرابی نہیں، بلکہ دماغ کا ایک قدیم حفاظتی نظام ہے۔
جب تک ہم اس نظام کو سمجھتے نہیں، ہم خود سے لڑتے رہتے ہیں اور یہی لڑائی اصل ذہنی تھکن بن جاتی ہے۔
آئیے ہم 10 ایسی وجوہات کو سمجھنے کی کو شش کرتے ہیں
1: Negativity Bias
دماغ منفی پہلوؤں کو کیوں زیادہ یاد رکھتا ہے؟
سادہ الفاظ میں، دماغ منفی تجربات کو زیادہ اہم سمجھتا ہے۔
اگر آپ کی زندگی میں 10 لوگ تعریف کریں اور 1 شخص تنقید کرے تو دماغ بار بار اسی ایک تنقید کی طرف جائے گا۔
یہ اس لیے نہیں کہ آپ کمزور ہیں، بلکہ اس لیے کہ دماغ خطرے کو نظر انداز کرنے کا رسک نہیں لیتا۔
2: Survival Mode دماغ کا حفاظتی الارم
دماغ کا ایک حصہ ہر وقت یہ جانچتا رہتا ہے کہیں کچھ غلط تو نہیں ہونے والا؟ جب زندگی میں غیر یقینی ہو مستقبل واضح نہ ہو تعلقات یا کیریئر خطرے میں لگیں
تو دماغ فوراً Negative Mode میں چلا جاتا ہے تاکہ آپ کو “alert” رکھ سکے۔
3: ارتقائی ساخت (Evolutionary Wiring)
ہزاروں سال پہلے، اگر انسان خطر ے کو نظر انداز کرتا تو وہ زندہ نہیں بچتا تھا۔ اسی لیے دماغ نے یہ عادت بنا لی کہ
پہلے خطرہ سوچو، بعد میں سکون آج خطرہ شیر نہیں، بلکہ
ناکامی، مسترد ہونا، تنہائی ہے۔ لیکن دماغ کا ردِعمل وہی پرانا ہے۔
4: Overthinking سوچ جو خود کو کھا جاتی ہے
جب دماغ کسی بات کو بار بار دہراتا ہے اور حل کی طرف نہیں جاتا، تو اسے Rumination کہتے ہیں۔یہ وہ کیفیت ہے جس میں سوچ چلتی رہتی ہے دل بوجھل رہتا ہے نتیجہ صفر نکلتا ہے یہ منفی سوچ کو مزید مضبوط کر دیتی ہے۔
5: بچپن کی Conditioning
اگر بچپن میں زیادہ ڈانٹ، کم تحفظ، جذبات کو نظر انداز کیا گیا ہو تو دماغ یہ سیکھ لیتا ہے کہ دنیا محفوظ جگہ نہیں
بعد میں یہی سوچ ہر حال میں منفی خدشات پیدا کرتی ہے۔
6: Cognitive Distortions سوچ کی غلط عینک
کبھی ہم حقیقت کو ویسا نہیں دیکھتے جیسی وہ ہے، بلکہ ویسا دیکھتے ہیں جیسا ہمارا دماغ دکھاتا ہے۔
مثلاً:
ایک غلطی “میں ناکام ہوں”
کسی کا خاموش ہونا “وہ مجھ سے ناراض ہے”
یہ ذہنی غلطیاں منفی سوچ کو حقیقت بنا دیتی ہیں۔
7: Emotional Trauma پرانے زخم، نئے خدشات
جو شخص ماضی میں ٹوٹا ہو، اس کا دماغ خوشی سے پہلے حفاظت تلاش کرتا ہے۔
ایسا دماغ اکثر کہتا ہے:
“کہیں پھر ویسا نہ ہو جائے”
یہ منفی سوچ دراصل ایک حفاظتی کوشش ہوتی ہے۔
8: جذبات کو نہ سمجھ پانا
جب انسان
اپنے دکھ کو نام نہیں دیتا
خوف کو تسلیم نہیں کرتا
غصے کو دباتا ہے
تو وہ جذبات خیالات بن کر منفی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
9: Low Self-Worth خود کو کم سمجھنے کی کہانی
اگر اندر یہ آواز چل رہی ہو: “میں کافی نہیں ہوں”
تو دماغ ہر واقعے کو اسی زاویے سے دیکھے گا۔
یہ سوچ رفتہ رفتہ منفی ذہنی عادت بن جاتی ہے۔
10: مسلسل ذہنی دباؤ اور تھکن
جب دماغ بہت زیادہ دباؤ میں ہو تو وہ مثبت، متوازن فیصلے نہیں کر پاتا۔
ایسی حالت میں دماغ آسان راستہ اختیار کرتا ہے یعنی منفی سوچ۔
منفی سوچ کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کمزور ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا دماغ حد سے زیادہ محتاط ہو گیا ہے۔
جب ہم اس سچ کو سمجھ لیتے ہیں تو:
خود سے لڑنا کم ہوتا ہے
خود کو سمجھنا شروع ہوتا ہے
اور یہی سمجھ بوجھ healing کی پہلی سیڑھی ہے

Address

Faisalabad
38000

Opening Hours

Monday 10:00 - 19:00
Tuesday 10:00 - 19:00
Wednesday 10:00 - 19:00
Thursday 10:00 - 19:00
Friday 10:00 - 19:00
Saturday 10:00 - 19:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Psychology with Aftab Ahmad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Psychology with Aftab Ahmad:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram