LCAS Lyceum Center of Advanced Studies (LCAS)

Address: 58-A, Zia Town Opp. United Hospital, Canal Road, Fsd.

LCAS aims to provide quality education to the students regarding IELTS, TOEFL, English Language & Communication skills. We are serving Nationally in Islamabad, Lahore & Faisalabad. LCAS Proudly claims of having one of the Best Faculty members in its Centers.

14/10/2020

Classes have been restarted at LCAS Science Academy from 15th of September 2020:

“All subjects syllabus has been reduced by 40-50%,”   The Punjab Textbook Board said.Therefore, LCAS is focusing on this...
22/09/2020

“All subjects syllabus has been reduced by 40-50%,” The Punjab Textbook Board said.

Therefore, LCAS is focusing on this "revised smart syllabus" so that students can focus only on important and necessary topics in order to achieve great success in finals.

21/09/2020

📣
Cabinet has approved the New Education Policy 2020.
Education policy has been changed after 34 years. The remarkable things about the new education policy are as follows:

5 Years Fundamentals
1. Nursery @ 4 Years
2. Jr KG @ 5 Years
3. Sr KG @ 6 Years
4. Std 1st @ 7 Years
5. Std 2nd @ 8 Years

3 Years Preparatory
6. Std 3rd @ 9 Years
7. Std 4th @ 10 Years
8. Std 5th @ 11 Years

3 Years Middle
9. Std 6th @ 12 Years
10.Std 7th @ 13 Years
11. Std 8th @ 14 Years

4 Years Secondary
12. Std 9th @ 15 Years
13. Std SSC @ 16 Years
14. Std FYJC @ 17Years
15. STD SYJC @ 18 Years

Important things:

There will be board in 12th class only.
4 years of college degree.
No 10th Boards
MPhil will also be closed.
(In institutes like JNU, 45 to 50 years old students stay there for many years and pursue MPhil. All these debauched leftist ideologues will now be removed from the institute)

Now students up to 5th will be taught in mother tongue, local language and national language only. The rest of the subjects, even if they are English, will be taught as a subject.

Now just have to take board exams in 12th standard. Whereas earlier, it was mandatory to take the 10th board exam, which will not happen now.

Examination will be done in the semester form from 9th to 12th class.
Schooling will be done under the 5 + 3 + 3 + 4 formula (see table above).

College degree will be 3 and 4 years old i.e., a certificate will be given on the first year of graduation, diploma on the second year, degree in the third year.

3-year degree is for those students who do not have to take higher education. At the same time, students doing higher education will have to do a 4-year degree. Students doing 4 years degree will be able to do MA in one year.

--- Now students will not have to do MPhil. Rather MA students will now be able to do PHD directly.

Students will be able to do other courses in between. Gross enrollment ratio will be 50 percent by 2035 in higher education. At the same time, under the new education policy, if a student wants to do another course in the middle of a course, then he can take a second course by taking a break for a limited time from the first course.

Many reforms have also been made in higher education. Improvements include graded academic, administrative and financial autonomy etc. Apart from this, e-courses will be started in regional languages. Virtual Labs will be developed. A National Educational Scientific Forum (NETF) will be started. There are 45 thousand colleges in the country.

Uniform rules will be for all government, private, deemed institutions.
According to this rule, new academic session can be started and all students and parents need to carefully read this message.

By the grace of Allah, after following all the SOPs for re-opening of educational institutions, educational activities h...
19/09/2020

By the grace of Allah, after following all the SOPs for re-opening of educational institutions, educational activities have been formally started from 15th September 2020 in LCAS.

May Allah bless us, our students and teachers. Ameen.... 🌼

18/05/2020

Copied

*طلباء کے تمام سوالات کے جوابا، امید ہے کہ سب کی کنفیوژن دور ہو جاۓ گی*
سوال 1: کون سے طلباء کو اگلی کلاس میں پروموٹ کیا گیا ہے؟
1- وہ طلباء جنہوں نے اس سال نہم یا گیارہویں کا امتحان دینا تھا۔
2- وہ طلباء جنہوں نے پچھلے سال نہم یا گیارہویں کا امتحان دیا تھا مگر مارکس کم ہونے کی وجہ سے اس سال دوبارہ نہم یا گیارہویں کا داخلہ بھیجا تھا۔

ان طلباء کو اگلی کلاس میں کیسے پروموٹ کیا گیا ہے ؟
ایسے طلباء اگلے سال دہم یا بارہویں کا امتحان دیں گے اس بنا پر ان کو نہم اور گیارہویں میں مارکس دے دیے جائیں گے۔
نوٹ: ان طلباء کے چونکہ پیپر نہیں ہوۓ لہذا ان سے اگلے سال داخلہ فیس نہیں لی جاۓ گی۔
سوال نمبر 2: جن طلباء کے اس سال دہم کے امتحان ہو چکے ان کا کیا فیصلہ ہوا ہے؟
15 جون سے طلباء کے پیپرز کی مارکنگ ہو گی اور ستمبر میں باقاعدہ طور پر رزلٹ دیا جاۓ گا۔
ایسے طلباء کا سبجیکٹ وائز رزلٹ بھی مینشن ہو گا۔
سوال:پریکٹیکل امتحان کا کیا ہو گا؟
پریکٹیکل امتحان نہیں لیا جاۓ گا۔کلاس نہم اور دہم میں متعلقہ مضمون میں مارکس کی بنیاد پر اس فارمولے سے مضامین کے پریکٹیکل کے مارکس کیلکولیٹ کیے جائیں گے
(50% marks of Practical)+ [(Obtained marks in that subject/total marks in subject) x 50 % marks of practical]
مثال کے طور پر فزکس کے پریکٹیکل امتحان کے 30 نمبر ہوتے ہیں تو ان کا 50% 15 نمبر بنتے ہیں۔تھیوری کے کل مارکس میٹرک فزکس کے 120 ہوتے ہیں اگر ایک طالب علم بورڈ میں اس مضمون میں 120 میں سے 100 نمبر لیتا ہے تو اس کے پریکٹیکل مارکس یہ ہوں گے۔
(15) + [(100/120) x 15]
15 + 12.5 = 27.5 =27 or 28
یعنی فزکس میں بچے کو 27 یا 28 نمبر پریکٹیکل میں دیے جائیں گے۔
باقی مضامین کے پریکٹیکل مارکس اسی طرح کیلکولیٹ ہوں گے۔

سوال 3: میٹرک سپلی والوں کا کیا ہو گا؟
ایسے طلباء جن کی ایک تا 3 سپلیاں ہیں وہ پاس کر دیے جائیں گے۔ ان کو پاس کرنے کا میتھڈ یہ ہے:
اگر نہم میں سپلی ہے تو نہم میں باقی مضامین کے مارکس کو جمع کریں اور مضامین کی تعداد پر تقسیم کریں تو ایوریج مارکس آئیں گے۔
فارمولا یہ ہو گا:
(Sum of marks in subjects other than supply subjects/Total number of passed subjects)
اس طرح جو ایوریج نمبر ہوں گے وہ فیل مضامین میں لگ جائیں گے اور پاس کر دیا جاۓ گا۔
اگر کوئی بچہ صرف دہم میں سپلی والا تھا تو اس کےلیے یہی فارمولا ہو گا۔
اگر کسی کی نہم دہم دونوں میں سپلیاں تھیں تو بھی یہی فارمولا لگایا جاۓ گا۔
جن طلباء کا پاس ہونے کا آخری چانس تھا ان کو اسی فارمولے کے تحت مارکس دے کر پاس کیا گیا ہے۔

سوال 4: انٹر پارٹ 2 کے طلباء جنہوں نے اس سال پہلی بار پیپر دینا تھے ان کا کیا ہو گا؟
ان طلباء کو تین فیصد اضافی نمبر دے کر پاس کیا گیا ہے۔
ایسے طلباء کو سبجیکٹ وائز رزلٹ نہیں دیا جاۓ گا رزلٹ کارڈ پر صرف کل مارکس کا آپشن ہو گا( تاہم رزلٹ کارڈ کا حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے ہو سکتا ہے سبجیکٹ وائز مارکس کےلیے کوئی انتظام ہو جاۓ تاہم ابھی تک کا فیصلہ یہی ہے کہ کل حاصل کردہ مارکس کا 3% اضافی دینا ہے تو ہر مضمون کے انفرادی مارکس رزلٹ کارڈ پر نہیں ہوں گے)
فارمولا یہ ہو گا
(2 x obtained marks in P-1) + (Obtained marks in P-1 x 0.03)
واضح رہے حتمی فارمولا بورڈ خود جاری کر دے گا

سوال:پریکٹیکلز کا کیا ہو گا؟
پریکٹیکلز نہیں ہوں گے اور پارٹ 1 تھیوری مضامین کی بنیاد پر پریکٹیکل میں مارکس دیے جائیں گے تاہم ہر پریکٹیکل مضمون کے 50% نمبر سب کو ملیں گے باقی 50% تھیوری بیسڈ کیلکولیٹ ہوں گے اور پارٹ 1 کے تھیوری مارکس کو بنیاد بنایا جاۓ گا۔
یہ 50% نمبر فزکس بائیو کیمسٹری میں 15 جبکہ کمپیوٹر میں 25 بنتے ہیں۔
مثال کے طور پر فزکس میں پریکٹیکل کے کل 30 نمبر ہوتے ہیں اور تھیوری پارٹ 1 میں کل 85 مارکس ہوتے ہیں اگر ایک بچے کے تھیوری میں 85 میں سے 75 نمبر ہیں تو اس کے پریکٹیکل میں مارکس یوں لگیں گے:
(50% marks of practical) + [(obtained marks in subject/total marks in that subject) x 50% marks of practical in that subject)

(15)+ [(75/85) x 15]
15+13.23=28.23 =28 marks
یعنی فزکس پریکٹیکل 30 میں سے 28 نمبر ہوں گے۔
باقی مضامین کے مارکس اسی فارمولے سے نکالے جا سکتے ہیں۔

سوال 5: جو بچے امپروومنٹ والے ہیں ان کا کیا ہو گا؟

امپرومنٹ کیٹیگری 1: ایسے بچے جو صرف پارٹ 2 امپروو کر رہے تھے ۔ان کو پارٹ 1 کے مساوی نمبر پارٹ ٹومیں ملیں گے۔پریکٹیکل کے سابقہ مارکس و ہی رہیں گے وہ تبدیل نہیں ہوں گے۔
obtained marks= (2 x marks in P-1) + (previous year marks in practicals)
مثال کے طور پر کسی بچے کےپارٹ1 مارکس 400 تھے اور اس کے پریکٹیکل میں مارکس 60 تھے تو اس کے مارکس یہ ہوں گے:
(400x2 )+60= 860 marks

امپرومنٹ کیٹگری 2: ایسے بچے جو پارٹ 1 امپروو کر رہے تھے ۔ ایسے بچوں کو پارٹ 2 کے مساوی نمبر ملیں گے جبکہ پریکٹیکل مارکس وہی رہیں گےجو پہلے تھے
obtained marks= (2x marks in P-2) + (previous marks in Practicals)

امپروومنٹ کیٹیگری 3: ایسے بچے جو کچھ مضامین repeat کر رہے تھے ۔ ایسے بچوں کے متعلقہ سبجیکٹ میں دونوں سال کے مارکس کو دیکھا جاۓ گا اور جس سال میں زیادہ نمبر ہوں گے ان کو 2 سے ضرب دے کر اس سبجیکٹ کے کل مارکس بن جائیں گے۔جبکہ پریکٹیکل مارکس وہی رہیں گے جو پہلے تھے۔
فرض کریں ایک بچے نے فزکس کو امپروو کیا اور اس کے پارٹ 1 مارکس 40 جبکہ پارٹ 2 مارکس 75 تھے تو ایسے بچے کو پارٹ 1 میں بھی 75 نمبر دے دیے جائیں گے یعنی فزکس میں بچے کے مارکس جو پہلے 115 بن رہے تھے اب بڑھ کر 150 ہو جائیں گے۔
نوٹ : اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کو پیرالل رکھا جاۓ گا۔یعنی اگر کسی نے مطالعہ امپروو کی تو اس کو اسلامیات کی بنیاد پر مارکس ملیں گے۔

امپروومنٹ کیٹیگری 4: ایسے بچے جو پارٹ 1 اور 2 مکمل repeat کر رہے تھے۔ایسے طلباء کا کلیئر فیصلہ سامنے نہیں آیا تاہم غالب امکان ہے ان کو کیٹیگری 3 میں رکھا جاۓ گا۔بصورت دیگر ایسے بچے کمپوزٹ امتحان کا حصہ بنیں گے جو اگست میں لیا جاۓگا۔

ہر طالب علم کا انفرادی اسٹیٹس بورڈ ویب سائٹ پر بہت جلد جاری کر دیا جاۓ گا۔جس سے طلباء کی کنفیوژن ختم ہو جاۓگی.
سوال 6: انٹر سپلی والوں کا کیا ہو گا؟
ایسے طلباء جن کی ایک تا 2 سپلیاں ہیں وہ پاس کر دیے جائیں گے۔ ان کو پاس کرنے کا میتھڈ یہ ہے:
اگر 11 میں سپلی ہے تو 11 میں باقی مضامین کے مارکس کو جمع کریں اور مضامین کی تعداد پر تقسیم کریں تو ایوریج مارکس آئیں گے۔
فارمولا یہ ہو گا:
(Sum of marks in subjects other than supply subjects/Total number of passed subjects)
اس طرح جو ایوریج نمبر ہوں گے وہ فیل مضامین میں لگ جائیں گے اور پاس کر دیا جاۓ گا۔
اگر کوئی بچہ صرف 12 میں سپلی والا تھا تو اس کےلیے یہی فارمولا ہو گا۔
اگر کسی کی 11اور 12 دونوں میں سپلیاں تھیں تو بھی یہی فارمولا لگایا جاۓ گا۔
جن طلباء کا پاس ہونے کا آخری چانس تھا ان کو اسی فارمولے کے تحت مارکس دے کر پاس کیا گیا ہے.
سوال نمبر 7: کن بچوں کے اسپیشل امتحان ہوں گے:
ایسے بچے جن کا کمبائن امتحان تھا یا جو ایڈیشنل مضامین کے پیپر دے رہے تھے مثال کے طور پر وہ بچے جو ایف اے کمبائن کر رہے تھے۔وہ بچے جنہوں نے پہلے انٹر میں بائیو پڑھی اب ایڈیشنل math کا پرچہ دینا چاہتے تھے ان کا امتحان اگست میں ہو گا ان بچوں کو دوبارہ داخلہ نہیں بھیجنا پڑے گا۔
سوال 8: جن بچوں کو اس پالیسی پر اعتراض ہے وہ کیا کریں:
ایسے بچے 15 جولائی تک بورڈ کو اطلاع دیں گے۔اس کا طریقہ کار بورڈ جلد جاری کر دے گا۔ایسے بچے اس سال امتحان نہیں دے سکیں گے ان کا امتحان اگلے سال یعنی 2021 میں لیا جاۓ گا۔

13/03/2020

Admissions Open in Pre-9th Class at LCAS Science Academy.

28/02/2020

LCAS is starting English language courses from 1st March 2020:
For details visit our office at:
58-Zia Town, Opposite United Hospital, Near Kashmir Bridge, Canal Road, Faisalabad.
or contact us at:
0321 7804397
0322 7691999.

Address

58-A Zia Town, Opp. United Hospital Near Kashmir Bridge, Canal Road
Faisalabad
38000

Opening Hours

Monday 14:00 - 21:00
Tuesday 14:00 - 21:00
Wednesday 14:00 - 21:00
Thursday 14:00 - 21:00
Friday 14:00 - 21:00
Saturday 14:00 - 21:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when LCAS posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram