18/12/2025
پاکستان میں H3N2 ’’سپر فلو‘‘ وائرس کے کیسز کی تصدیق ہو گئی ہے، این آئی ایچ کی جانب سے ایک ہنگامی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
این آئی ایچ کے مطابق پاکستان میں H3N2 سب کلاڈ K تیزی سے پھیل رہا ہے، اور ملک میں گردش کرنے والے سپر فلو وائرس کے 20 فی صد نمونے خطرناک سب کلاڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔
این آئی ایچ نے وفاقی و صوبائی محکمہ صحت کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی ہے، پاکستان میں موسمی انفلوئنزا میں غیر معمولی اور قبل از وقت اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے بعد این آئی ایچ نے اسپتالوں کو او پی ڈی اور داخلوں میں اضافے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔
مئی 2025 سے اب تک انفلوئنزا اے کے 66 فی صد کیسز H3N2 سے متعلق ہیں، اور صرف 6 ہفتوں میں 3 لاکھ 40 ہزار سے زائد مشتبہ فلو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، لیبارٹری ڈیٹا کے مطابق 12 فی صد نمونے H3N2 مثبت پائے گئے۔
این آئی ایچ کے مطابق سردیوں میں فلو کیسز میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، H3N2 وائرس بزرگوں، بچوں اور حاملہ خواتین کے لیے زیادہ خطرناک قرار دیا گیا ہے، ذیابیطس، دل اور سانس کے مریض ہائی رسک گروپ میں شامل ہیں۔
گنجان آبادی اور بند جگہیں اس وائرس کے تیز پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہیں، اس لیے این آئی ایچ نے انفیکشن کنٹرول اقدامات سخت کرنے کی ہدایت کی ہے، اور سپر فلوسے متعلق غلط معلومات سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی ہے۔
این آئی ایچ نے کہا ہے کہ موسمی انفلوئنزا ویکسین اس شدید بیماری اور اموات سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ ہے، اور موجودہ ویکسین H3N2 سب کلاڈ K کے خلاف مؤثر ہے، ہائی رسک مریضوں کے لیے جلد اینٹی وائرل علاج کی سفارش بھی کی جاتی ہے۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کا کہنا ہے کہ علاج میں تاخیر نمونیا اور سانس کی ناکامی کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے عوام سے اپیل ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اور ویکسینیشن کروائیں۔