Latif son's pharmacy

Latif son's pharmacy Latif Son's Pharmacy Rahwali

ہم میڈیکل اسٹور جاتے ہیں، پیناڈول یا پونسٹان کی ایک سٹرپ مانگتے ہیں، پچاس روپے پکڑاتے ہیں اور واپس لوٹ آتے ہیں۔ بس، بات ...
28/01/2026

ہم میڈیکل اسٹور جاتے ہیں، پیناڈول یا پونسٹان کی ایک سٹرپ مانگتے ہیں، پچاس روپے پکڑاتے ہیں اور واپس لوٹ آتے ہیں۔ بس، بات ختم۔

مگر اگلی بار جب آپ میڈیکل اسٹور جائیں تو ذرا دو تین منٹ ٹھہر جائیے۔
چاروں طرف نگاہ دوڑائیے۔
شیلفوں پر سجی ہزاروں دوائیں، ہر ایک کسی نہ کسی بیماری کی نمائندہ۔
دل سے سوال کیجیے کہ ساڑھے پانچ فٹ کا یہ انسان…
اور اس کے لیے بنائی گئی یہ پوری دکان، بلکہ دکانیں نہیں، دنیا بھر کے اسپتال اور دوائیاں — آخر کیوں؟

کتنی قسم اور نسل کی ہزاروں بیماریاں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں محفوظ رکھا ہوا ہے۔
ہمیں کبھی پیناڈول اور پونسٹان سے آگے سوچنے کی نوبت ہی نہیں آئی۔
نہ مہنگے ٹیسٹ، نہ لمبی دوائیاں، نہ اسپتالوں کے چکر۔

یہ کوئی معمولی بات نہیں۔
یہ اللہ کی خاص رحمت، اس کا کرم اور اس کی بے پایاں حفاظت ہے۔

میں دعوے سے کہتا ہوں،
اگر آپ اس لمحے رک کر سوچ لیں،
تو آپ کا دل خود بخود سجدۂ شکر میں جھک جائے گا۔
اور زبان سے بے اختیار نکلے
یا اللہ! تیرا شکر ہے… بے حساب شکر ہے۔
اللہ ہم سب کو تمام بیماریوں سے دور رکھے اور اللہ تعالیٰ تمام بیماروں کو شفا عطا فرمائیں۔آمین
لطیف سنز فارمیسی ترگڑی روڈ راھوالی گوجرانوالا

13/01/2026
صرف ایک منٹ… اور جسم کو اندر سے پورسکون کرنے کا قدرتی طریقہاگرآپ کو کولھوں کا اکڑاؤ محسوس ہوتا ہے،کمر میں اکڑاؤ یا کمر ک...
12/01/2026

صرف ایک منٹ… اور جسم کو اندر سے پورسکون کرنے کا قدرتی طریقہ

اگر
آپ کو کولھوں کا اکڑاؤ محسوس ہوتا ہے،
کمر میں اکڑاؤ یا کمر کے نچلے حصے میں درد رہتا ہے،
اور چاہے جتنا بھی آرام کر لیں، جسم کو پُرسکون احساس نہیں ملتا—

تو صرف ایک سادہ سا پوز آزمائیں:
ہیپی بیبی پوز (Happy Baby Pose)

یہ پوز نہایت نرمی کے ساتھ:
• ریڑھ کی ہڈی کو قدرتی الائنمنٹ میں لاتا ہے
• کولھوں کو کھولتا ہے
• پیلوک فلور کو ریلیکس کرتا ہے
• اور اعصابی نظام کو یہ پیغام دیتا ہے کہ اب جسم کو پُرسکون ہونے دیں

زیادہ تر لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ:
• کولھوں کا اکڑاؤ = کمر پر دباؤ
• کمر پر مسلسل دباؤ = اعصاب میں جلن
• مسلسل ٹینشن = جسم اور دماغ کا ہر وقت سٹریس میں رہنا

ہیپی بیبی پوز اس پورے سلسلے کو قدرتی طور پر توڑ دیتا ہے۔

صرف 30 سیکنڈ میں آپ یہ فرق محسوس کریں گے:
• کولھوں میں فوری نرمی
• کمر کا زمین میں دھیرے دھیرے ریلیکس ہونا
• ریڑھ کی ہڈی کا قدرتی طور پر ہلکا اور پورسکون محسوس ہونا
• اعصابی نظام کا سکون میں آ جانا
• پورے جسم میں ایک گہرا، آرام دہ “ری سیٹ” احساس

یہ وہ اسٹریچ ہے جس پر جسم خود ردِعمل دیتا ہے:
“ہاں… یہی سکون مجھے چاہیے تھا”

اسے روزانہ صبح یا رات کریں۔
چند دنوں میں آپ کی کمر اور جسم کی کیفیت واضح طور پر بہتر محسوس ہوگی۔

اس پوسٹ کو محفوظ کریں، شیئر کریں—
آپ کی ریڑھ کی ہڈی اس نرمی کو ضرور محسوس کریں

🍃 سفر کے دوران الٹی (Travel Vomiting): وجہ بھی، حل بھی بس طریقہ درست ہوسفر کے دوران الٹیبچوں، بڑوں اور خواتین سب میں ایک...
31/12/2025

🍃 سفر کے دوران الٹی (Travel Vomiting): وجہ بھی، حل بھی بس طریقہ درست ہو

سفر کے دوران الٹی
بچوں، بڑوں اور خواتین سب میں ایک عام مسئلہ ہے،
لیکن اکثر مسئلہ سفر نہیں ہوتا،
مسئلہ جسم اور دماغ کا غلط ردِعمل ہوتا ہے۔

اگر
Travel Vomiting
کی اصل وجوہات سمجھی جائیں
اور سادہ، درست احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں
تو یہ مسئلہ
بغیر دوا کے بھی
کافی حد تک روکا جا سکتا ہے۔

🔬 Medical Science (up to 2025) کے مطابق:

سفر کے دوران الٹی کی بڑی وجوہات:

✔️ Inner Ear (کان کا توازن نظام) اور آنکھوں کے درمیان mismatch
✔️ دماغ کو حرکت کے غلط signals ملنا
✔️ خالی معدہ یا بہت بھرا ہوا معدہ
✔️ Anxiety، گھبراہٹ یا بدبو
✔️ مسلسل موبائل یا کتاب دیکھنا

یہ سب مل کر:
✔️ متلی (Nausea) پیدا کرتے ہیں
✔️ پسینہ، چکر اور بے چینی بڑھاتے ہیں
✔️ آخرکار الٹی کا سبب بنتے ہیں

اسی لیے
Travel Vomiting
کو Motion Sickness کہا جاتا ہے
— جو دماغ اور توازن کا مسئلہ ہے، کمزوری نہیں۔

🚍 کن لوگوں کو زیادہ مسئلہ ہوتا ہے؟

✔️ بچے (2–12 سال)
✔️ خواتین (خصوصاً pregnancy میں)
✔️ Migraine یا sinus کے مریض
✔️ وہ لوگ جو جلد گھبرا جاتے ہیں

👉 یہ بیماری نہیں،
بس جسم کی حساسیت ہے۔

⚠️ غلط عادتیں (جو الٹی کو بڑھا دیتی ہیں)

❌ سفر سے فوراً پہلے بھاری کھانا
❌ خالی پیٹ لمبا سفر
❌ موبائل / ویڈیو دیکھنا
❌ تیز خوشبو یا سگریٹ
❌ بار بار سر ہلانا

➡️ نتیجہ:
متلی بڑھتی ہے، الٹی جلد آتی ہے۔

✅ درست اور سادہ احتیاطی تدابیر (Without Medicine)

✔️ سفر سے 1–2 گھنٹے پہلے ہلکا کھانا
✔️ ادرک (ginger) کا چھوٹا ٹکڑا یا چائے
✔️ لیموں یا پودینے کی خوشبو
✔️ سامنے کی طرف دیکھ کر بیٹھیں
✔️ گہری سانسیں (Deep Breathing)

👉 مقصد
دماغ کو calm رکھنا ہے،
معدے کو نہیں دبانا۔

🍽️ سفر سے پہلے کیا کھائیں؟

✔️ بسکٹ یا dry toast
✔️ اُبلا ہوا انڈا
✔️ دہی (تھوڑی مقدار)
✔️ کیلا

❌ چکنائی، مرچ مصالحہ، کولڈ ڈرنکس سے پرہیز

📏 اگر پھر بھی الٹی ہو جائے؟

✔️ تھوڑا پانی، ایک ساتھ نہیں
✔️ نمکین بسکٹ
✔️ آرام اور fresh ہوا

❗ بار بار شدید الٹی
یا dehydration
کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع ضروری ہے۔

⚠️ اہم حقیقت – Medical Science

یاد رکھیں:
Travel Vomiting
کوئی خطرناک بیماری نہیں،
لیکن
بار بار ignore کرنے سے
سفر خوف بن سکتا ہے۔

اصل حل چار چیزیں ہیں:

✔️ درست کھانا
✔️ درست بیٹھنے کا طریقہ
✔️ ذہنی سکون
✔️ جسمانی توازن کی عادت

📢 Awareness Campaign Message

یہ پوسٹ
APRC Health & Physiotherapy Department
کی جانب سے
Health Awareness Campaign
کا حصہ ہے
تاکہ لوگ
روزمرہ مسائل کو
دوا کے بغیر، سائنسی انداز میں
سمجھ سکیں۔

سفر مشکل نہیں،

غلط تیاری مسئلہ بن جاتی ہے۔
#لطیف سنز فارمیسی راھوالی گوجرانوالہ




اگر آپ Type 2 ڈائیبیٹک  ہو چکے ہیں اور ادویات اور انسولین لینے کے باوجود 350 سے کم شوگر نہیں آ رہی، کیونکہ آپ صبح دوپہر ...
17/07/2025

اگر آپ Type 2 ڈائیبیٹک ہو چکے ہیں اور ادویات اور انسولین لینے کے باوجود 350 سے کم شوگر نہیں آ رہی، کیونکہ آپ صبح دوپہر شام گندم کی روٹیاں کھا رہے ہیں۔ لیکن آپ کا ڈاکٹر کے آگے دعوی صرف یہ ہے کہ میں میٹھا نہیں کھا رہا۔۔تو یہ بے فضول ہے۔۔اصل شوگر تو آپ کی گندم کی روٹی ، چاول اور آلو بڑھا رہے ہیں۔

اس کی بجائے آپ صبح ناشتے میں جو white oats کا دلیہ کھائیں۔ اور دوپہر کو یہ تصویر میں نظر آ رہا ایک meal ہے۔ اس کو آپ سلاد نا بولیں۔ اس کے اجزاء، ابلا ہوا راجمہ(لال لوبیا)، کھیرا، ٹماٹر، پیاز، زیتون، حسب ذائقہ نمک، کالی مرچ، لیموں کا رس ، یہ سب ملا کر آپ دوپہر کے لنچ کے طور ایک پلیٹ پیٹ بھر کے کھائیں۔

آپ لال لوبیے کی جگہ، سفید ابلے چنے، یا کالے چنے، سفید یا براون لوبیا ابال کر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اس میں آپ کو plant based پروٹین ، کمپلیکس کاربوہائیڈریٹس کے ساتھ بہترین antioxidant اور وٹامنز کے ساتھ محفوظ انرجی ملے گی۔

رات کو آپ ملٹی گرین آٹے کی 100 گرام کی پکی چپاتی کے ساتھ کوئی بھی ایسا سالن کھا سکتے ہیں جس میں آلو نا ہوں۔ چاول بھی آپ لے سکتے ہیں لیکن پکے ہوئے صرف 120 گرام۔

اس کے ساتھ سالن یا سلاد کی مقدار زیادہ رکھ لیں ، تا کہ پیٹ بھر جائے۔ رات کا یہ کھانا سونے سے کم از کم تین گھنٹے پہلے کھا لیں۔ اور کھانے کے ڈیڑھ گھنٹے بعد 30 سے 45 منٹ واک یا کوئی فزکل ایکٹیویٹی کریں۔

صرف دو دن میں آپ کی شوگر دھڑم سے نیچے آ گرے گی۔
آپ کو شوگر کی ادویات کم یا بالکل چھوڑنا پڑ جائیں گی۔

کیونکہ آپ کے لبلبے کے beta cells پر سے گندم کے ہیوی glycemic کا لوڈ انتہائی کم کر دیا گیا ہے۔ beta cells ریلیکس ہوتے ہیں اور دوبارہ اتنی انسولین بنانا شروع کر دیتے ہیں کہ آپ کی خوارک کو انرجی میں بدل کر آپ کے جسم میں دوبارہ پہنچنا شروع ہو جاتی ہے۔ اگر آپ ایسا دو ماہ کر لیتے ہیں تو آپ کی diabetes ریورس ہو سکتی ہے۔ آپ ایک نارمل انسان کی طرح سو فیصد تندرست ہو جائیں گے۔

پاکستان diabetes میں بد ترین پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔۔لوگ 30 سال میں ہی ڈائیبیٹک ہو رہے ہیں۔۔اور کچھ پتا نہیں کیا کھانا ہے کیا نہیں اور 50 تک جاتے جاتے امراض دل و گردوں کے عارضوں میں مبتلا ہوکر فوت ہو جاتے ہیں۔

پری میچور ڈیتھ سے ایک پورا خاندان اجڑ جاتا ہے۔
اپنے اردگرد بہت سے لوگوں کو کھانے پینے کا لائف سٹائل دیکر ان کی جانیں بچائیں ہیں۔ جو اپنے taste buds ہر سمجھوتہ نہیں کرتے تو ان کو اپنی صحت تباہ کرکے قیمت چکانی ہوتی ہے۔
باقی آپ کا جسم آپ کی مرضی
Copy لطیف سنز فارمیسی تر گڑ ی روڈ راہوالی گوجرانوالہ

کسی کو ایک دم کال کردینا مہذب دنیا میں ناپسندیدہ مداخلت سمجھی جاتی ہےفون کالز ضرورت سے زیادہ زحمت بن گئی ہیںجب آپ کسی کو...
10/07/2025

کسی کو ایک دم کال کردینا مہذب دنیا میں ناپسندیدہ مداخلت سمجھی جاتی ہے
فون کالز ضرورت سے زیادہ زحمت بن گئی ہیں
جب آپ کسی کو فون کرتے ہیں تو دراصل آپ بغیر اجازت اس کے وقت، ذہن، اور ماحول میں داخل ہو رہے ہوتے ہیں۔
جب آپ کسی کو کال کرتے ہیں تو آپ یہ فرض کر لیتے ہیں کہ دوسرا شخص بھی اُسی لمحے آپ کی طرح آزاد ہوگا، جب آپ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے، کسی لحاف میں لیٹے ، چائے کی چسکیاں لیتے ، قہقہے لگاتے کسی کو کال ملاتے ہیں
ہو سکتا ہے کہ وہ کسی اہم میٹنگ میں ہو، کوئی ایمرجنسی مریض دیکھ رہا ہو، آپریشن تھیٹر میں ہو، عبادت یا نیند میں ہو ، کسی مریض یا پریشان فرد کے ساتھ ہو ، ذاتی مسائل میں الجھا ہو یا ذہنی طور پر تھکا ہوا ہو
آپ کی کال چاہے آپ کی نیت کتنی ہی اچھی ہو اس کے لیے ایک غیر ضروری مداخلت بن سکتی ہے۔

تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ اچانک فون کال کسی انسان کی توجہ کو منتشر کر دیتی ہے۔
اگر کوئی پڑھ رہا ہو، لکھ رہا ہو، کسی تخلیقی یا فنی کام میں مصروف ہو ایک کال اس کی مکمل Flow State کو توڑ دیتی ہے، اور وہ گھنٹوں تک دوبارہ اسی سطح پر نہیں آ پاتا۔

ہم اکثر فون کی گھنٹی کو فائر الارم سمجھ لیتے ہیں ایسے بھاگتے ہیں جیسے اگر ابھی نہ اٹھایا تو کوئی قیامت آ جائے گی۔
کئی بار لوگ تھکے ہوئے ہوتے ہیں، الجھے ہوتے ہیں، لیکن کال کاٹنے پر یا نہ اٹھانے پر “بدتمیز، مغرور یا لاپروا” سمجھے جاتے ہیں۔

بامقصد گفتگو کے لیے فریقین کا ذہنی، جذباتی اور وقتی طور پر ايك ہی وقت میں دستیاب ہونا ضروری ہے۔
فون کال کا مطلب ہے کہ دونوں ایک ہی لمحے میں میسر ہوں اور آج کی مصروف زندگی میں یہ لمحہ نایاب ہوتا جا رہا ہے۔
خاص طور پر میڈیکل جیسے شعبہ جات میں، جہاں ایک لمحہ بھی قیمتی ہوتا ہے، وہاں کسی کا صرف “فون کر دینا” اور یہ توقع رکھنا کہ فوراً جواب ملے، یہ ناسمجھی اور زیادتی ہے۔

ہر انسان کا حق ہے کہ وہ اپنا وقت، توجہ اور توانائی کب اور کس کو دے ، یہ وہ حدود ہیں جو ہر باشعور فرد رکھتا ہے۔
غیر ضروری فون کال ان حدود کو بغیر اجازت عبور کر لیتی ہے۔

ہر شخص کی الگ روٹین ہوتی ہے ، کوئی فجر کے بعد سوتا ہے ، کسی کے لیے مغرب کے بعد کا وقت "فیملی ٹائم" ہوتا ہے، کوئی دوپہر کو قیلولہ کرتا ہے، کسی شخص کے لیے رات ذہنی سکون کشید کرنے کا نام ہے
بہت سی کالز صرف اس لیے خراب ہو جاتی ہیں کہ نیٹ ورک نہیں، شور زیادہ ہے اور کال ڈراپ ہو گئی

ایسے میں WhatsApp جیسی سہولت واقعی نعمت ہے۔ ایک مختصر میسج، وائس نوٹ، رپورٹ یا فراغت کی بابت دریافت کر لینا کتنی الجھنوں سے بچا لیتا ہے
بعض اوقات یقیناً ایمرجنسی ہوتی ہوگی لیکن زیادہ تر کالز ایمرجنسی نہیں ہوتیں یہ ایک عادت بن چکی ہیں۔

میں کیا کرتا ہوں؟
فون کال سے پہلے ایک مختصر پیغام بھیجتا ہوں کہ
“کیا آپ کچھ دیر کے لیے میسر ہیں؟ ایک بات کرنی ہے۔”
غیر اہم باتیں میسج میں کرتا ہوں ، وائس نوٹ کا استعمال کرتا ہوں ( مہذب بھی ہے، ریکارڈ بھی ہو جاتا ہے اور مد مقابل اپنی فراغت سے سوچ سمجھ کے جواب بھی دے دیتا ہے)
صرف ایمرجنسی صورت میں کال کرتا ہوں
دوسرے کے وقت اور ذہنی حالت کا احترام کرتا ہوں اور ان کے وقت کو سانس لینے دیتا ہوں
کسی کے وقت، دھیان،سکون، ان کے عزیز لمحات کا اختیار اپنے ہاتھ میں نہیں لیتا

میرے نزدیک فون کا جواب دینا کوئی اخلاقی یا دینی فریضہ نہیں، بلکہ ایک اختیاری عمل ہے۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ لوگوں کو اپنے وقت کا مالک ہونا چاہیے ، فون کا غلام نہیں
لطیف سنز فارمیسی ترگڑی روڈ راہوالی گوجرانولہ
03206064130

45 سے 55 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان اگلی گرمی کی لہر کے لیے تیار رہیں۔◕ اس وقت ملائیشیا، انڈونیشیا، سنگاپور اور دیگر ممال...
18/05/2025

45 سے 55 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان اگلی گرمی کی لہر کے لیے تیار رہیں۔

◕ اس وقت ملائیشیا، انڈونیشیا، سنگاپور اور دیگر ممالک "سخت گرمی کی لہر" کا سامنا کر رہے ہیں۔

*یہ ہیں کرنا اور نہ کرنا* :

1. ڈاکٹر مشورہ دیتے ہیں کہ جب درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے تو بہت ٹھنڈا پانی نہ پئیں، کیونکہ ہماری چھوٹی خون کی شریانیں پھٹ سکتی ہیں۔

2. جب باہر کی گرمی 50 ° C تک پہنچ جائے اور جب آپ گھر آئیں تو ٹھنڈا پانی نہ پئیں - صرف مٹی کے گھڑے جیسا پانی ہی آہستہ سے پیئے۔
اپنے ہاتھ یا پیروں کو فوری طور پر نہ دھوئیں، اگر وہ تیز دھوپ کے سامنے آئیں۔نہانے سے پہلے کم از کم آدھا گھنٹہ انتظار کریں۔

✦3. کسی نے گرمی سے ٹھنڈا ہونا چاہا اور فوراً نہا لیا۔ شاور کے بعد، اس شخص کو سخت جبڑے کے ساتھ ہسپتال لے جایا گیا اور اسے فالج کا دورہ پڑا۔

📌 *براہ مہربانی نوٹ کریں* :
◇ گرمی کے مہینوں میں یا اگر آپ بہت تھکے ہوئے ہیں تو فوری طور پر بہت ٹھنڈا پانی پینے سے گریز کریں کیونکہ اس سے رگیں یا خون کی نالیاں تنگ ہو سکتی ہیں جو کہ فالج کا باعث بن سکتی ہیں۔
شیخ زید ہسپتال کے ڈاکٹر عباس حسین کاظمی نے زور دے کر کہا کہ اگر یہ میسج حاصل کرنے والا ہر شخص دوسروں کو بھیج دے تو یقیناً کم از کم ایک جان تو بچائی جاسکتی ھے ..
ہم نے اپنے حصّے کا کام کر دیا ہے، امید ہے آپ بھی اپنے حصّے کا کام کریں گے۔

⬤ نارمل پانی آپ کی زندگی بچا سکتا ہے۔
اپنی صحت کا خود خیال رکھیں۔تو لوگوں کے لیے فائدہ مند بنیے،جہاں جتنا ممکن ہو لوگوں کا بھلا کیجیے۔شکریہ

    :  Time of kindness & Blessings
01/03/2025

: Time of kindness & Blessings

"میں میگنیشیم ہوں۔"دروازے پر دستک ہوئیتو میں نے اندر سے پوچھا، "کون ہے؟"جواب آیا، "میں میگنیشیم ہوں۔"یہ نام میرے لیے نیا...
23/02/2025

"میں میگنیشیم ہوں۔"

دروازے پر دستک ہوئی
تو میں نے اندر سے پوچھا، "کون ہے؟"
جواب آیا، "میں میگنیشیم ہوں۔"
یہ نام میرے لیے نیا نہ تھا، مگر حیرانی ضرور ہوئی کہ میگنیشیم کیسے دروازے پر آ سکتا ہے؟ میں نے دروازہ کھولا، تو سامنے ایک بارعب مگر مہذب شخصیت کھڑی تھی۔ چہرے پر وقار، انداز میں شائستگی، جیسے کوئی بزرگ دانشور ہو۔ انہیں اندر آنے کی دعوت دی اور ڈرائنگ روم میں لے آیا۔

"آپ کون ہیں؟" اپنا مکمّل تعارف کرائیں
میں نے دلچسپی سے پوچھا۔

وہ مسکرا کر بولے، "میں آپ کے جسم کا ایک لازمی حصہ ہوں۔ آپ کی ہر سانس، ہر حرکت، ہر سوچ میں میری شمولیت ہے۔ مگر افسوس کہ اکثر لوگ مجھے نظر انداز کر دیتے ہیں۔"

میں نے حیرانی سے پوچھا،
"کیا میں نے آپ کو کبھی نظر انداز کیا ہے؟"
"بالکل!" وہ بولے، "کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ بستر پر کروٹ لیں اور اچانک گردن میں بل پڑ جائے؟"
میں نے سر ہلایا،
"جی، ایسا تو آج صبح ہی ہوا ہے ہے۔"
"یہی تو میری کمی کی سب سے بڑی نشانی ہے۔"
وہ سنجیدگی سے بولے۔ "جب میں کم ہو جاتا ہوں، تو جسم میں کھچاؤ پیدا ہوتا ہے، پٹھے اکڑنے لگتے ہیں، نیند متاثر ہوتی ہے، ذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے، اور دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو سکتی ہے۔ مگر پھر بھی لوگ مجھے اہمیت نہیں دیتے۔"

"کیا آپ صرف پٹھوں کے لیے ضروری ہیں؟"
میں نے پوچھا۔ "نہیں، میں آپ کے دماغ کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہوں جتنا جسم کے لیے۔" وہ بولے، "اگر آپ کو بےچینی محسوس ہو، چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ آ جائے، یا ذہن الجھا ہوا لگے، تو اس کا مطلب ہے کہ میں کم ہو چکا ہوں۔ میں آپ کے دل، گردوں، ہڈیوں اور حتیٰ کہ آپ کی نیند کے لیے بھی بےحد ضروری ہوں۔"

"تو پھر آپ سب سے زیادہ کہاں پائے جاتے ہیں؟"
میں نے تجسس سے پوچھا۔
"میں قدرتی طور پر کئی غذاؤں میں پایا جاتا ہوں۔ سب سے زیادہ میرا خزانہ مغز کدو، یعنی پمپکن سیڈ میں ہے۔ اس کے علاوہ میں ہرے پتوں والی سبزیوں، بادام، اخروٹ، چیا سیڈز، کیلے، مچھلی، ڈارک چاکلیٹ اور دالوں میں بھی پایا جاتا ہوں۔ مگر بدقسمتی سے آج کل کی خوراک میں میری مقدار کم ہو چکی ہے، اسی لیے اکثر لوگ میری کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔"

"اگر کوئی آپ کی کمی کا شکار
ہو جائے تو اس کے لیے کیا حل ہے؟"
"سب سے پہلے تو قدرتی غذاؤں سے میری مقدار پوری کرنی چاہیے۔ اگر پھر بھی کمی برقرار رہے تو میرے پانچ اور بھائی بھی ہیں، یعنی مختلف قسم کے میگنیشیم سپلیمنٹس۔ جیسے میگنیشیم گلیسینیٹ، جو ذہنی سکون کے لیے بہترین ہے۔ میگنیشیم سٹریٹ، جو معدے کے مسائل حل کرتا ہے۔ میگنیشیم مالیٹ، جو پٹھوں کی کمزوری دور کرتا ہے۔ میگنیشیم تھیریونیٹ، جو دماغی کارکردگی بہتر بناتا ہے۔ اور میگنیشیم کلورائیڈ، جو جِلد اور جوڑوں کے لیے مفید ہے۔ مگر یاد رہے، کسی بھی سپلیمنٹ کا استعمال کرتے وقت ہمیشہ ماہر معالج سے مشورہ اور مقدار کا خیال رکھنا ضروری ہے۔"

"یہ بتائیں،
کیا آپ کی کمی کا تعلق نیند سے بھی ہے؟"
"بےشک! اگر آپ کو نیند آنے میں مشکل ہو، یا رات میں بار بار آنکھ کھل جائے، تو یہ بھی میری کمی کی نشانی ہو سکتی ہے۔ میں جسم کو پر سکون رکھتا ہوں، نیند کے لیے ضروری ہارمون کو متوازن رکھتا ہوں، اور دن بھر کی تھکن اتارنے میں مدد دیتا ہوں۔"

"تو آپ کے بغیر زندگی کیسی ہوگی؟"
میں نے سوال کیا۔
"تصور کریں، اگر میں نہ ہوں تو کیا ہوگا؟
آپ کی ہڈیاں کمزور ہو جائیں گی، ذہنی دباؤ بڑھ جائے گا، نیند متاثر ہوگی، توانائی کم ہو جائے گی، اور زندگی کا لطف جاتا رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ قدرت نے مجھے آپ کے جسم میں شامل کیا ہے تاکہ آپ کی صحت بہترین رہے۔"

"آپ کی یہ باتیں بہت دلچسپ ہیں،
مگر لوگ آپ کو نظر انداز کیوں کرتے ہیں؟"
وہ مسکرا کر بولے، "شاید اس لیے کہ میں نظر نہیں آتا، بس خاموشی سے اپنا کام کرتا ہوں۔ مگر جب میری کمی ہوتی ہے، تب لوگوں کو احساس ہوتا ہے کہ میں کتنا ضروری ہوں۔"

میں نے گہری سانس لی اور کہا،
"واقعی، آج آپ سے مل کر اندازہ ہوا کہ آپ کتنے اہم ہیں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ آپ کو نظر انداز نہیں کروں گا۔"

میگنیشیم نے مسکراتے ہوئے ہاتھ بڑھایا،
"یہی تو میں چاہتا تھا اور یہی بتانے آیا تھا کہ صحت مند زندگی کا راز یہی ہے کہ آپ اپنی خوراک اور طرزِ زندگی میں میری مقدار کا خیال رکھیں۔"

یہ کہہ کر وہ جانے لگے تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا اب ہم آپ کو کہیں نہیں جانے دیں گے آپ یہیں رہیں گے ہمارے ساتھ..

اللہ ، آپ کو آسانیاں عطا فرمائے
اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے.

لطیف سنز فارمیسی راہوالی گوجرانوالہ کینٹ 03206064130

10/02/2025

اگر واک کرنا روزانہ کا معمول نہیں بنا پائے تو وِیک اینڈ کے دو دنوں میں ہی سہی، خوب لمبی واک مار لیا کریں۔ دورانِ خون والی گاڑی کے ایکسلریٹر پر دباؤ بڑھا کر اس گاڑی کو بھگانا ضروری ہے۔ خون کو بدن کی نس نس تک پہنچانا صحت کی طرف لوٹ جانا ہے۔

خون میں جگہ بہ جگہ گانٹھیں پڑ جاتی ہیں، بلڈ کلاٹس کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ واک کرنے سے ٹوٹتے ہیں۔ دماغ کی باریک ترین شریانوں تک خون پہنچتا ہے تو طبیعت ہشاش بشاش ہو جاتی ہے، ڈیپریشن چھٹ جاتا ہے، صحت مند، مثبت، اور تخلیقی خیالات کی یلغار سی ہونے لگتی ہے۔ مُوڈ یکسر بدل جاتا ہے۔ مسائل کے نت نئے حل نظر آنے لگتے ہیں، اور چڑچڑاہٹ جاتی رہتی ہے۔

پیدل چلنے یا تھوڑی دیر بیڈ منٹن وغیرہ کھیلنے جیسی ایکٹوٹی کو خوب celebrate کر کے یوں انجام دیں جیسے یہ بہت ضروری (unavoidable) کام ہو جس بِنا آپ کا گذارا ممکن نہیں۔ نتیجتاً آپ دیکھیں گے کہ گھر میں جھگڑے کم ہو جاتے ہیں۔ ایک دوسرے سے الجھنے کی بجائے، ہنسی خوشی اور جوش و خروش والی فضا پیدا ہوتی ہے۔

آج کی مصروف زندگی میں پیدل چلنے کو وقت نکالنا خوبصورت ترین جہاد ہے۔ بدن کے تھکے ہارے کیمیائی نظام اندر بھونچال آجاتا ہے۔ دل سے جڑی شریانوں میں لہو کی گردش کا میسر آنا گویا زندگی کے مہ و سال کا بڑھ جانا ہے۔

آپ یقین جانیں، ہمارے ہاں ایک ہزار افراد میں سے کوئی نو سو افراد اس نوع کی لاشعوری خود کشی کرنے میں مصروفِ عمل ہیں، ورنہ پاکستان میں صحت مند زندگی کی اوسط عمر 58 برس نہ ہوتی۔

ایسا کیوں ہے کہ جرمنی یا امریکہ جیسے ممالک میں ہم 80 اور 90 سالہ بندے کو جوگنگ کرتا ہوا دیکھتے ہیں؟ روزانہ آٹھ کلومیٹر سائیکل چلانے والے 90 سالہ نوجوان وہاں دیکھے جا سکتے ہیں۔

پاکستان سے متعلق سٹڈیز اور اعدادوشمار کیمطابق یہاں قبل از وقت موت کے بڑے اسباب میں سرِفہرست coronary artery disease ہے، یعنی دل کی شریانوں میں خون کا مناسب مقدار میں نہ پہنچنا۔ اس میں چکنائی سے بنی مرغن غذائیں اور مصالحہ جات کا استعمال تو کنٹریبیوٹ کرتے ہی ہیں، واک کلچر یا فزیکل ایکسرسائز کی کمی "سونے پر سہاگے" کا کام کرتی ہے۔

پچھلے دنوں معروف استاد سکندر حیات بابا نے ایک مختصر پوسٹ لگائی جس کا متن قابلِ توجہ ہے:

"کل رات میں نے امراضِ قلب والے وارڈ میں جو کچھ دیکھا چشم کشا ہے۔ اب اگر مجھ میں حیا ہوئی تو روزانہ آدھ گھنٹہ لازمی پیدل چلا کروں گا، چاہے کانٹوں پر چلنا پڑے۔ بازاری اشیاء سے پرہیز کروں گا۔ خود اپنے گھر میں بنی زیادہ چکنائی اور مرچ مصا لحہ والی چیزیں بھی نہیں کھاؤں گا۔ سوفٹ ڈرِنکس سے اتنا دور رہوں گا گویا شراب کی طرح حرام ہو۔ صرف سلاد اور ہری بھری سبزیاں کھاؤں گا، وہ بھی کوشش کر کے زیادہ تر کچی، یا پھر جو زیادہ جلائی گئی نہ ہوں۔ رات کسی صورت بارہ بجے کے بعد نہیں جاگوں گا، چاہے جاگنے پر مجھے انعام مل رہا ہو ۔ نماز کی ہر صورت پاپندی کروں گا۔ "

المختصر، واک کرنے سے دل کی صحت میسر آتی ہے جسے طبّی زبان میں cardiovascular fitness کہتے ہیں، اور پھیپھڑوں کی صحت جسے pulmonary fitness کہتے ہیں۔

ایک طالب علم کے لیے واک کرنا کھانا کھانے سے زیادہ اہم شے ہے۔ سُست پڑے رہنے سے آدھے دماغ تک خون پہنچتا ہے۔ ذہن پڑھائی جیسی پیچیدہ مشقّت گوارا کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ نیز، پڑھا ہوا، یاد کیا ہوا مواد دماغ کی تختی پر جم کر نہیں دیتا۔

بچوں کو بتائیں کہ برین سَیلز پر ایسی پڑھائی کا نقش گہرا نہیں ہو پاتا۔ سٹڈیز میں مشغول بچہ اگر یہ کہتا نظر آئے کہ مجھے پڑھا ہوا سبق بھول جاتا ہے تو اُسے بادام کھلانے سے زیادہ کچھ دیر کھیل کُود والا ایکسپوژر دینا ضروری ہے۔

کم سے کم کچھ دیر ذرا تیز قدموں چلنا نماز کی طرح فرض خیال کریں۔

امریکہ میں محکمہ صحت اپنے شہریوں کو تجویز کرتا ہے کہ صحت مند رہنے کو 10 ہزار steps روزانہ پیدل چلا کریں۔ اب موٹے موٹے امریکی اس بات پر کتنا عمل کرتے ہیں، اس سے ہمیں غرض نہیں، تاہم میں نے اپنے ہاں ایک اچھی رُوٹین یوں استوار کی کہ پہلے پہل ذہن کو اعدادوشمار کے ساتھ hook کر کے، ذرا ناپ تول کر واک کرنا شروع کی۔

نوٹ کیا کہ ذرا مناسب رفتار سے چلوں تو میں چار منٹوں میں 1000 قدم پورے کر لیتا ہوں۔ یعنی آٹھ منٹ میں دو ہزار قدم، اور 12 منٹ میں تین ہزار قدم۔ یعنی 24 منٹوں میں 6 ہزار قدم ـــــــ لگ بھگ 40 منٹوں میں دس ہزار قدم بہ آسانی پورے ہو جاتے ہیں۔ گویا 10 ہزار steps کا سادہ سا مطلب ہے 40 منٹ کی واک۔ آپ چل پڑیں تو اتنے وقت کا احساس ہی نہیں ہوتا۔

آپ کے گھر میں جو افراد ضعیف ہیں، وہ یہ ٹارگٹ دو یا تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ صبح سے ظہر تک کے بیچ کسی طور 5 ہزار قدم پورے کرائے جا سکتے ہیں۔ یعنی سات آٹھ منٹ کی واک بنتی ہے۔ پھر عصر سے مغرب کے بیچ۔ پھر مغرب کے بعد کھانے سے پہلے یا کچھ دیر بعد۔

زندگی میں سکون اور خوشی کا مطلب ہے صحت مند ہونا۔ ایک غریب مگر صحت مند فرد ہی اپنی غربت سے لڑ سکتا ہے، اور ایک صحت مند امیر ہی اپنی امارت کا لطف اُٹھا سکتا ہے۔

ایمان کے بعد صحت اِس زندگی کی سب سے بڑی دولت ہے۔ ایمان کا مطلب ہے بعد از موت جی اُٹھنے اور اپنے کیے پر خدا کی عدالت کا سامنا کرنے کے احساس کے ساتھ جینا۔ جبکہ صحت کا مطلب ہے دستیاب وسائل اور وقت کو استعمال میں لانے کی طاقت و صلاحیت۔

صحت کی قدر کریں، اور روزانہ کچھ دیر پیدل چلنا اپنا معمول بنائیں۔ یہ واک کلچر اپنی زندگی میں یوں اپنائیں کہ دنیا آپ کے دیکھا دیکھی اس کلچر کو اپنانا شروع کر دے۔ یوں آپ کی واک ripple effect پیدا کرے گی ـــــــ ایک لہردار حلقہِ تاثیر! یہ واک صدقہ جاریہ بن جائے گی۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
لطیف سنز فارمیسی راہوالی گوجرانوالہ کینٹ
Latif son's pharmacy

کچھ لوگ بڑے "جگاڑو" ہوتے ہیںہر چیز کا جگاڑ لگا لیتے ہیںہر مسئلے کا حل نکال لیتے ہیں چاہے وہ حل عارضی ہی کیوں نا ہو اور ب...
22/01/2025

کچھ لوگ بڑے "جگاڑو" ہوتے ہیں
ہر چیز کا جگاڑ لگا لیتے ہیں
ہر مسئلے کا حل نکال لیتے ہیں
چاہے وہ حل عارضی ہی کیوں نا ہو
اور بعد میں اس کے سنگین نتائج بھگتنے پڑیں
جیسے ایک جگاڑو نے ایک دفعہ شوگر کنٹرول کرنے کے لیے تمبے پر چھلانگیں لگانے کا طریقہ نکالا
لیکن کوئی فائدہ نا ہوا
اس نے ہمت نا ہاری اور جامن کی گھٹلی کو خشک کر کے پیس کر کھانے لگا کہ شوگر کنٹرول ہو جائے گی
اس سے افاقہ نہ ہوا تو کریلے کا پانی پینے لگا
اس سے بھی فرق نا پڑا تو فاقے کرنے شروع کر دئیے جس کے نتیجے میں شوگر لیول انتہائی نیچے آ گئے اور گھر والے ایمرجنسی میں اٹھا کر لے گئے
جگاڑو تو جگاڑو تھا
اس نے ہسپتال سے واپس آ کر بوٹیاں کھانے کا اعلان کر دیا اور چاول روٹیوں سے قطع تعلقی کر لی
بس پھر ایک دو ماہ میں ہی چکر کمزوری قبض کا سامنا کرنا پڑ گیا ، چلتے پھرتے نقاہت محسوس ہونے لگی۔ یورک ایسڈ اور بلڈپریشر زیادہ رہنے لگے
جگاڑو کا یہ حال ہو گیا کہ چلنے پھرنے سے بھی گیا
پھر جگاڑو کو عقل آئی اور اس نے صحت کے حوالے سے یہ کرتب کرنے سے توبہ کر لی
اگر آپ کے ساتھ ایسا کوئی مسئلہ ہے تو مُستند ڈاکٹر کو چیک اپ کرائیں نہ کے جوگڑ کے چکر میں پڑے شکریہ
لطیف سنز فارمیسی راہوالی گوجرانوالہ

اس گولی کو تو آپ نے پہنچان ہی لیا ہوگا۔ یہ ہے  "پیناڈول" جو اصل میں "پیراسیٹامول" ہی ہے۔ وہی پیراسیٹامول جسے "شیر والی گ...
18/01/2025

اس گولی کو تو آپ نے پہنچان ہی لیا ہوگا۔ یہ ہے "پیناڈول" جو اصل میں "پیراسیٹامول" ہی ہے۔ وہی پیراسیٹامول جسے "شیر والی گولی" کہا جاتا تھا (کیونکہ اس کے پیکٹ پر شیر بنا ہوتا تھا)

تو پیراسیٹامول کو استعمال ہوتے سو سال سے زیادہ ہوچکے ہیں، لیکن پتہ ہے اس میں خاص بات کیا ہے؟ ہم ایک عرصے تک پیراسیٹامول کے کام کرنے کے درست طریقے کو نہ جان سکے۔

ہمارے جسم میں ایک کیمکل بلکہ کیمکلز کا گروپ ہوتا ہے جنہیں "پروسٹا گلینڈنز (prostaglandins)" کہا جاتا ہے۔ یہ بڑے کام کے کیمکلز ہوتے ہیں۔ ان کا ایک کام "انفلامیشن" میں کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ اب یہ انفلامیشن کیا ہوتی ہے؟ موضوع کے حساب سے یہ سمجھ لیں کہ جب جسم کا کوئی ٹشو انجر ہوتا ہے، خواہ وہ انجری کسی چوٹ کی وجہ سے ہو، کسی بیماری کی وجہ سے یا کسی انفیکشن کی وجہ سے تو اس ٹشو اور آس پاس کی جگہ پر کچھ تبدیلیاں آنا شروع ہوتی ہیں؛ جیسے وہاں سوجن ہوجاتی ہے اور درد بھی ہوتا ہے۔ ان تبدیلیوں کو انفلامیشن کہا جاتا ہے۔ تو اصل میں انفلامیشن ٹشو کی انجری کے بعد کا رسپانس ہوتا ہے جس کا مقصد انجری زدہ ٹشو کا خیال کرنا ہوتا ہے۔

بات کے شروع میں، میں نے بتایا کہ اس انفلامیشن کے عمل میں "پروسٹا گلینڈنز" اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس میں سے ایک کردار ٹشو کے اس پاس موجود درد کا سگنل لینے والی نروز کو زیادہ حساس کرنا ہوتا ہے۔ تاکہ ان نروز کے ذریعے دماغ تک سگنل جائے اور انجری زدہ ٹشو میں درد کا احساس ہو۔ اس کے علاؤہ پروسٹا گلینڈنز بخار وغیرہ میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔

تو اگر ان پروسٹا گلینڈنز کے بننے کو روک دیا جائے تو کیا یہ درد رک جائے گا یا کم ہوگا ؟ جی ہاں!!! اور ایسا کچھ ادویات کرتی بھی ہیں۔ جیسے ہماری ڈسپرین/اسپرین ان پروسٹا گلینڈنز کو بنانے والے انزائمز کو کام نہیں کرنے دیتی۔ جس وجہ سے پروسٹا گلینڈنز نہیں بنتے اور درد سے تھوڑی راحت ملتی ہے۔ پیراسیٹامول کے لیے بھی یہی سوچا جاتا تھا۔

لیکن جدید تحقیق یہ بتاتی ہے کہ پیراسیٹامول کے اس (پروسٹا گلینڈنز کو روکنے والے) طریقے سے زیادہ کام نہیں کرتی۔ بلکہ پیراسیٹامول کا زیادہ اثر ایک اور طریقے سے آتا ہے۔ یہ طریقہ ہے ڈائرکٹ دماغ کے اندر جاکر درد کا احساس پیدا کرنے والے نظام پر اثر کرنا۔

ہمارے پورے جسم میں نروز کا جال پھیلا ہے جو دماغ اور جسم کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے۔ جب جسم کے کسی حصے پر کوئی انجری ہوتی ہے تو وہاں سے نروز دماغ کو سگنل بھیجتی ہیں، اور دماغ میں ایک نظام اس سگنل کے مطابق درد کا احساس پیدا کرتا ہے۔

پیراسیٹامول/ پیناڈول کی یہ گولی ہمارے نظام انہضام سے خون میں جذب ہوکر ہمارے جگر میں جاتی ہے، جہاں اس پر جگر کے انزائمز کی طرف سے مختلف کیمکل ریکشنز ہوتے ہیں (تقریباً سب ادویات کے ساتھ ہی ایسا ہوتا ہے)۔ یہ کیمکل ریکشنز پیراسیٹامول کو ناکارہ کرنے کی بجائے اس ایک زیادہ کارامد کیمکل میں بدل دیتے ہیں جسے "پی امائنو فینول" (p-aminophenol) کہا جاتا ہے۔ یہ کیمکل خون کے ذریعے دماغ تک پہنچتا ہے اور وہاں ایک اور زبردست کیمکل میں بدل جاتا ہے جسے AM404 کا نام دیا گیا ہے۔

یہ AM404 مختلف طریقوں سے دماغ میں موجود اس درد والے نظام پر اثر انداز ہوتا ہے اور درد کے احساس کو کم کرتا ہے۔ پیراسیٹامول کے لیے اس کا اثر "پروسٹا گلینڈنز کو کم کرنے والے طریقے" سے کافی زیادہ ہوتا ہے۔ یعنی پیراسیٹامول کا درد کم کرنے کا بنیادی اور غالب طریقہ یہی ہے۔

یعنی نظام انہضام سے جگر میں جاکر ایک روپ بدلا، اور جگر سے دماغ میں جاکر دوسرا روپ بدلا اور پھر اس دوسرے روپ سے دماغ میں درد کے احساس کو کم کیا۔

پیراسیٹامول کا استعمال انیسویں صدی سے جاری ہے، لیکن اس کا یہ AM404 والے طریقے کا پتہ 2005 سے 2018 کے درمیان میں شائع ہونے والی مختلف ریسرچز کو ایک ساتھ دیکھ کر اخذ کیا گیا۔

آج پین کلر ادویات پیراسیٹامول/پیناڈول کو ڈسپرین وغیرہ جیسی پین کلرز کی نسبت زیادہ محفوظ سمجھ جاتا ہے۔

غالباً اس کے کام کرنے پر مزید ریسرچز جاری ہیں، کیا معلوم عام کریانہ سٹوروں سے ملنے والی یہ تین روپے کی گولی اپنے اندر کچھ اور راز بھی رکھتی ہو۔

Address

Trigri Road Rahwali
Gujranwala

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923206064130

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Latif son's pharmacy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram