03/02/2026
آج بہت سے لوگ برسوں سے ذہنی دباؤ، اینزائٹی (Anxiety)، ڈپریشن (Depression) اور خوف کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
وہ دوائیں بھی استعمال کر رہے ہیں، واک، ورزش، سانس کی مشقیں اور مثبت سوچ جیسے طریقے بھی آزما رہے ہیں، مگر اس کے باوجود مکمل سکون اور مستقل بہتری حاصل نہیں ہو رہی۔
اس کی چند بنیادی اور نظر انداز کی جانے والی وجوہات ہیں:
1. علامات کا علاج، وجہ کا نہیں
زیادہ تر طریقے علامات کو وقتی طور پر کم کرتے ہیں۔ دوائیں، ایکسرسائز یا ریلیکسیشن ٹیکنیکس جسم اور اعصاب کو وقتی سکون دیتی ہیں، مگر وہ اس ذہنی پیٹرن کو نہیں بدل پاتیں جس سے مسئلہ بار بار جنم لیتا ہے۔
2. سوچنے کا وہی پرانا انداز برقرار رہنا
جب انسان کی سوچ مسلسل منفی، خطرے پر مرکوز یا خود پر تنقید کرنے والی ہو، تو مسئلہ دوبارہ فعال ہو جاتا ہے۔ جب تک سوچنے کا طریقہ نہیں بدلے گا، احساسات اور جسمانی علامات بھی واپس آتی رہیں گی۔
3. دبی ہوئی یادیں اور غیر حل شدہ جذبات
کئی نفسیاتی مسائل کی جڑ ماضی کے تجربات، جذباتی صدمات یا دبے ہوئے خوف ہوتے ہیں۔ عام طریقے ان گہرے عوامل تک نہیں پہنچتے، اس لئے مسئلہ اندر ہی اندر برقرار رہتا ہے۔
4. حفاظتی رویّے (Safety Behaviors)
لوگ انجانے میں ایسے رویّے اپنا لیتے ہیں جو وقتی تحفظ تو دیتے ہیں مگر مسئلے کو زندہ رکھتے ہیں، جیسے:
مشکل حالات سے بچنا
بار بار یقین دہانی لینا
خود کو محدود کرنا
یہ رویّے دماغ کو یہ سکھاتے ہیں کہ خطرہ واقعی موجود ہے۔
5. خود سے علاج کرنے کی حد
یوٹیوب ویڈیوز، خود ساختہ ایکسرسائزز اور عمومی مشورے ہر فرد کیلئے یکساں مؤثر نہیں ہوتے۔ نفسیاتی مسئلہ ہر انسان میں مختلف شکل اختیار کرتا ہے، جس کیلئے انفرادی اور سٹرکچرڈ علاج ضروری ہوتا ہے۔
6. تھراپی کا کردار نظر انداز کرنا
اصل بہتری تب آتی ہے جب:
سوچ، احساس اور رویّے کے تعلق کو سمجھا جائے
مسئلے کی جڑ تک پہنچا جائے
دماغ کو نئے ردِعمل سکھائے جائیں
یہ حقیقت سمجھنا ضروری ہے کہ: دوائیں، ورزش اور ریلیکسیشن مددگار ہو سکتے ہیں، مگر جب تک ذہن کی کنڈیشننگ تبدیل نہیں ہوتی، مکمل اور دیرپا بہتری ممکن نہیں۔
نفسیاتی صحت کا اصل علاج علامات دبانے میں نہیں بلکہ ذہن کو سمجھنے اور درست سمت میں تربیت دینے میں ہے۔