Umar Farooq

Umar Farooq Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Umar Farooq, Psychologist, Gujranwala.
(1)

We make interactive animated videos on important books and novels in Urdu/Hindi providing their summaries and lessons to learn and improving the quality of our life by gaining knowledge

ڈپریشن مٹ سکتا ہے، بس تمہیں 'مایوسی' کے آگے بند باندھنا ہے۔عمرفاروقڈپریشن کوئی ایسا ذہنی عارضہ نہیں کہ جسے روکا نہ جاسکے...
14/01/2024

ڈپریشن مٹ سکتا ہے، بس تمہیں 'مایوسی' کے آگے بند باندھنا ہے۔

عمرفاروق

ڈپریشن کوئی ایسا ذہنی عارضہ نہیں کہ جسے روکا نہ جاسکے۔ جس کے آگے بند نہ باندھا جاسکے۔ دنیا بھر میں کڑوروں افراد ڈپریشن کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ قریباً ہر انسان کی زندگی میں ایک بار ضرور چکر لگاتا ہے۔ غیر معمولی انسانوں اور آرٹسٹوں کے ساتھ تو اس کا خاص یارانہ ہے مگر وہ لوگ فی الحال ہمارا موضوع نہیں ہیں۔ میرا موضوع عام نارمل انسان ہیں۔ میرا موضوع تم ہو۔ دنیا میں اگر کڑوروں افراد اس مرض کا شکار ہیں تو یہ صرف تمہارے ساتھ ہونے والی خاص چیز نہیں ہے۔ تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تم اگر ڈپریشن میں ہو تو تمہیں زیادہ پریشان ہونے کی بھی چنداں ضرورت نہیں ہے بس تمہیں اس کو سمجھنا ہے۔ پھر تم اس سے باہر نکل سکتے ہو۔ تمہارا سائیکالوجسٹ تمہیں اس سے باہر نکال لائے گا تم بس اس پر یقین کرو۔ اس کے پاس جاؤ۔ اکیلے مت بیٹھو۔ تمہیں سارا دن بستر سے چپکے رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سے کچھ نہیں ہوگا۔ کچھ نہیں بدلے گا۔ بعض ماہرین نفسیات کا خیال رہا ہے کہ جانوروں کے مطالعہ سے ڈپریشن کو بہتر انداز سے سمجھا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کی خاطر چوہوں اور بندروں پر مختلف تجربات کیے جاتے رہے ہیں مگر 1967 میں مارٹین سیلگمین اور پروفیسر اسٹیون کا کتوں پر کیا گیا تجربہ سب سے زیادہ کامیاب رہا۔ جس کی بنیاد پر پروفیسر سیلگمین نے Theory of learned helplessness پیش کی۔ سیلگمین یونیورسٹی آف پنسلوینیا کے نفسیاتی شعبہ کے نہ صرف پروفیسر ہیں بلکہ امریکن سائیکالوجیکل ایسوسیشن کے 1998 میں صدر بھی رہ چکے ہیں۔ یہ 1942 میں نیویارک میں یہودی خاندان کے ہاں پیدا ہوئے۔ 1964 میں فلسفہ میں پرنسٹن یونیورسٹی سے بیچلر کی ڈگری حاصل کی اور ڈگری کے فوراً بعد آکسفورڈ یونیورسٹی میں اسکالر شپ پر 'تنقیدی فلسفہ' پڑھنے کا موقع ہونے کے باوجود یونیورسٹی آف پنسلوینیا چلے گئے جہاں 'حیوانوں کی عملی اور تجرباتی نفسیات' میں آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ 1967 میں جب سیلگمین نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تو یہی وہ سال تھا جب اس نے ڈپریشن، سٹریس اور انسانی افعال کو سمجھنے کے لئے کتوں پر ایک تجربہ کیا۔ تجربہ انتہائی سادہ شکل میں کچھ یوں تھا کہ: کتوں کو ایک باکس میں بند کر کہ بجلی کے جھٹکے دیے گئے۔ تکلیف کی وجہ سے کتوں نے اچھل کود کی اور بچنے کی راہ تلاش کرتے رہے مگر بچتے کیسے۔ کوئی رستہ تھا ہی نہیں۔ یہ جھٹکے ایک خاص شدت اور مقدار کے ساتھ دیے جاتے رہے جنھیں کنٹرول کرنا یا ان بجلی کے جھٹکوں سے بچ پانا کتوں کے لئے ناممکن تھا۔ ایک خاص مدت تک جھٹکے دینے کا سلسلہ جاری رہا اور صورت حال نے کچھ ایسا رنگ اختیار کیا کہ کتوں نے ڈپریشن اور اینگزائٹی کی علامات ظاہر کرنا شروع کردیں۔ چند ناکام کوششوں کے بعد کتوں نے بجلی کے جھٹکوں کو حقیقت تسلیم کرلیا اور یہ سیکھ لیا کہ ہم بے بس ہیں اور کسی بھی طرح کے حالات میں بچاؤ کی کوشش ترک کردی حالانکہ اگر وہ چاہتے تو باکس پھلانگ کر دوسری جانب جاسکتے تھے۔ جہاں بجلی کا نام ونشان بھی موجود نہیں تھا مگر وہ ہار مان چکے تھے۔ وہ مایوس ہوچکے تھے اور اسی مایوسی کے سبب ڈپریشن ان سے چمٹا رہا۔ انسان بھی ایسے ہی ہیں۔ جلدی ہاتھ اٹھا لیتے ہیں۔ درد سے دور بھاگتے ہیں۔ جب ماحول کا غیر معمولی دباؤ ہم انسانوں کو جکڑ لیتا ہے تو ہم ایک خاص ذہنی کیفیت میں چلے جاتے ہیں۔ سب اختیار سے باہر ہونے لگتا ہے۔ دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ مایوسی اور ناامیدی جنم لینے لگتی ہیں اور ہم اپنی ہی ذات میں دفن ہونے لگتے ہیں اور یوں ہماری زندگی جمود کا شکار ہوجاتی ہے۔ سب وہی رک جاتا ہے۔ کیوں تم خود ٹھہر جاتے ہو۔ تم اپنی ہی ذات کے خ*ل میں سمٹنے لگتے ہو لیکن اس سے کیا ہوگا؟ کچھ بھی تو نہیں۔ تمہیں اگر آگے بڑھنا بے تو تمہیں اٹھ کر قدم بڑھانے کی ہمت بھی کرنی ہوگی۔ ہم ماہرین نفسیات تمہارا ہاتھ پکڑنے کے لئے موجود ہیں۔ تم خود ہی ڈرے اور سہمے بیٹھے ہو۔ اٹھو۔ یہ ڈپریشن مٹ سکتا ہے۔ بس تمہیں اپنی 'مایوسی' کے آگے بند باندھنا ہے۔

11/01/2024

Timeless Wisdom: Unveiling Buddha's Life-Changing Lessons | Umar Farooq

08/01/2024

Unveiling the Depths of the Mind: Explore the Fascinating World of Psychology in this Introduction! 🧠🔍 Delve into the fundamental concepts that shape our understanding of human behavior, cognition, and emotions. Join us on a journey through the intricacies of psychological theories, key pioneers, and the applications that make psychology an essential field of study. Whether you're a student, curious mind, or simply intrigued by the workings of the human mind, this video is your gateway to the captivating realm of psychology. Subscribe, hit the notification bell, and embark on a quest to unravel the mysteries of the psyche with us!

عنوان: علم نفسیات کا مختصر جائزہمترجم: عمرفاروق جدید علم نفسیات میں جن مسائل کا مطالعہ کیا جاتا ہے یہ اس وقت تک فلسفہ کا...
08/06/2023

عنوان: علم نفسیات کا مختصر جائزہ

مترجم: عمرفاروق

جدید علم نفسیات میں جن مسائل کا مطالعہ کیا جاتا ہے یہ اس وقت تک فلسفہ کا موضوع رہے جب تک علم نفسیات بذات خود سائنسی بنیادوں پر استوار نہیں ہوا۔ قدیم یونانی فلاسفرز نے ہمارے اردگرد کی دنیا کے بارے میں جاننے کی جستجو کی۔ ہم کیسے سوچتے ہیں؟۔ کس طرح رویوں کا اظہار کرتے ہیں؟ یہاں تک کہ آج شعور اور ذات، دماغ اور وجود، معلومات اور نظریات ہماری مباحث کا حصہ ہیں۔ آج ہم اس چیز پر بھی بحث کرتے ہیں کہ معاشرے کیسے قائم ہوتے ہیں اور اچھی زندگی کیسے گزاری جاسکتی ہے؟۔ سائنس کی تمام شاخیں فلسفہ کی ارتقاء یافتہ شکل ہیں جو سولہویں صدی کے بعد پھلتی پھولتی رہیں یہاں تک کہ سائنسی انقلاب برپا ہوگیا۔ سائنسی ترقی نے جس دنیا میں ہم رہتے ہیں اس کہ متعلق بیشمار جوابات فراہم کیے ہیں تاہم یہ آج بھی ہمارا "دماغ" کیسے کام کرتا ہے کہ متعلق مصدقہ جواب دینے سے قاصر ہے۔ جو بھی ہو سائنس کی مدد سے آج ہم اس مقام پر آکھڑے ہوئے ہیں جہاں ہم دماغ کے متعلق نہ صرف ٹھیک سوالات پوچھ سکتے ہیں بلکہ مختلف نظریات پر عمل کر کہ ان کی صداقت کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔

دماغ اور وجود کا نظریہ

سائنسی انقلاب میں وقوع پذیر ہونے والی ایک قابل قدر چیز "دماغ اور وجود" کے درمیان تفریق کا نظریہ تھا۔ سترھویں صدی کے مشہور فلسفی اور ماہر ریاضیدان رینے ڈیکارٹ نے Mind & Body کا نظریہ پیش کیا۔ جس نے آگے چل کر علم نفسیات کی راہیں ہموار کیں۔ رینے ڈیکارٹ کا ماننا تھا: تمام انسان دہرے وجود کے حامل ہیں جو مشینی انداز میں کام کرنے والے جسم۔۔۔اور غیر مادی، سوچنے کی صلاحیت رکھنے والے دماغ یا روح کا مجموعہ ہے۔ بعد ازاں جان فریڈرک ہربرٹ نے دماغ کے کام کرنے کی نوعیت پر روشنی ڈالی۔ جسم اور دماغ (روح) میں کس نوع کا فرق ہے یہ موضوع سائنسدانوں کے درمیان شدید بحث کی شکل اختیار کرگیا۔ سائنس دان یہ جاننے کے متمنی تھے کہ حیاتیاتی اور ماحولیاتی ( Biological & environmental) عناصر کس طرح دماغ کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ چارلز ڈارون کے نظریہ ارتقاء نے Nature versus narture جیسی اہم بحث کا آغاز کردیا۔ فرانسس گیلٹن نے نظریہ ارتقاء کی مدد سے چند اہم موضوعات جیسے شخصیت کی تعمیر، فرد کے سیکھنے کا عمل اور اختیار پر خامہ فرسائی کی جو ابھی تک فلسفہ کی نظر سے اوجھل رہے تھے۔ اسی عرصے کے دوران ہپناٹزم کی دریافت نے دماغ کی پراسرار صلاحیتوں پر گرما گرم بحث چھیڑ دی۔ اس بحث نے بیشمار قابل سائنسدانوں کو دماغ کی شعوری صلاحیتوں کی جانب توجہ مبذول کرنے پر مجبور کیا تاکہ "شعور کی فطرت" سے آگاہی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا ہماری سوچ اور ہمارے کردار پر اثر واضح ہوسکے۔

علم نفسیات کی ابتداء:
تمام گزشتہ معلومات سے قطع نظر جدید علم نفسیات کی ابتداء 1879 میں ہوئی جب ولیم ونڈ نے جرمنی کے شہر لپزگ میں تجرباتی نفسیات کی تجربہ گاہ کی بنیاد رکھی۔ اس دوران امریکہ اور انگلستان کی معروف یونیورسٹیوں میں علم نفسیات کے شعبہ کا آغاز ہونے لگا۔ جس طرح فلسفہ مختلف محاذوں پر سرگرم عمل ہوتا ہے بلکل ویسے ہی علم نفسیات نے مختلف شعبوں میں مہم جوئی کا آغاز کیا۔ جرمنی میں ولیم ونڈ، ہیرمن ایڈنگئوس، ایمل کریپلن نے ہر ممکنہ طور پر سائنسی بنیادوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ امریکہ میں ولیم جیمز اور ہارورڈ کے ساتھیوں نے نظریاتی اور فلسفیانہ فکر کے زیر اثر آگے بڑھنے کی ٹھانی۔ اس سب کے دوران پیرس میں نیورولوجسٹ ڈاکٹر جین مارٹن چارکوٹ جنہوں نے ہپناٹزم کے ذریعہ ہسٹیریا کے مریضوں کا علاج کیا تھا کے کام کو دیکھتے ہوئے Influential مکتبہ فکر زور پکڑنے لگا۔ اس مکتبہ فکر نے پیری جینٹ جیسے مشہور ماہرینِ نفسیات کو اپنی جانب متوجہ کیا جن کی فکر سے متاثر ہوکر سگمنڈ فرائڈ نے "لاشعور" کی کھوج کی تھی۔ انیسویں صدی کی آخری دو دہائیوں میں علم نفسیات تیزی کے ساتھ پھلا پھولا اور اس کے ساتھ ایسے سائنسی طریقہ کاروں کو تلاش کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی جن کی مدد سے دماغ کا مطالعہ کیا جاسکے بلکل اسی طرح جس طرح انسانی جسم کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ علم نفسیات کی مدد سے ہم پہلی مرتبہ اس قابل ہوئے کہ نظریات کی تہہ، فکر، حافظہ اور ذہانت کی مفکرانہ کھوج لگاسکیں
۔ اس ساری محنت کے نتیجہ میں گراں قدر معلومات ہمارے ہاتھ لگی۔ دماغ کے متعلق اس ساری معلومات تک رسائی میں بنیادی کردار introspective (ایسا طریقہ جس میں فرد کی جانب سے اپنے دماغ کی کاروائیوں کا دقت نظر سے مشاہدہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے) طریقہ کار تھا۔ مزید یہ کہ ماہرین نے انتہائی غیر جانبداری سے اپنی تحقیقات مکمل کرنے کی کوشش کی اور نئی نسل کو ایسی بنیادیں فراہم کیں جن کو استعمال کرتے ہوئے مستقبل کے قابل ماہر نفسیات نہ صرف نئے نئے نظریات قائم کرسکیں بلکہ دماغی امراض کا علاج بھی دریافت کرسکیں۔

16/02/2023
سوال #1  میں نے برے تعلقات کی وجہ سے خود اعتمادی، عزت نفس، جاب، خوبصورتی، رشتے، دوست، آزادی اظہار اور آزادی رائے سے محرو...
16/02/2023

سوال #1

میں نے برے تعلقات کی وجہ سے خود اعتمادی، عزت نفس، جاب، خوبصورتی، رشتے، دوست، آزادی اظہار اور آزادی رائے سے محروم ہوگئی ہوں جبکہ بدلے میں ڈھیر ساری ذمہ داریاں، 2 بچے، 1 طلاق پائی ہے۔ مجھے اپنا آپ بھی بوجھ لگتا ہے میں کیا کروں؟

جواب:
جب سب کچھ چھن جائے تو خوش کیسے رہا جاسکتا ہے؟ دن رات مشکل سے ہی کٹتے ہیں! جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے تو اس کا جواب ماہر نفسیات سے ملاقات کیے بغیر مشکل ہے۔ ماہر نفسیات آپ کی شخصیت، آپ کی ذہنیت، آپ کی عادات واطوار اور ماحول کا جائزہ لے کر ہی معقول جواب دے سکتا ہے۔ آپ کے تعلقات کی ماہیت اور نوعیت کو سمجھے بغیر کسی نتیجہ پر پہنچا جلد بازی ہوگی۔ ہاں اس موضوع کو لے کر سے چند بنیادی نوعیت کی چیزوں کو بیان کیا جاسکتا ہے تاکہ باقی لوگ مستفید ہوسکیں۔ انسان، انسانوں کے ساتھ صدیوں سے رہتے آرہے ہیں لیکن ہم نے آج تک یہ نہیں سیکھا کہ ایک انسان کو دوسرے انسان کے ساتھ کیسے رہنا چاہیے؟ اچھے تعلقات کیسے قائم کیے جائیں؟ ہم اس سوال کا جواب 'Local wisdom' اور 'محققانہ بنیادوں' پر جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ دو سال پہلے کی بات ہے میں نے اپنے ایک بزرگ دوست سے عرض کی: سر آپ نے جب شادی کرنے کا فیصلہ کیا تو وہ کونسی ایسی چیز تھی جس کی بنیاد پر آپ ایک ایسی عورت کے ساتھ زندگی گرارنے کے لئے راضی ہوگئے جو آپ کے بلکل اجنبی تھی؟ ان کا فرمانا تھا: "میں نے اپنے وجدان کی بنیاد پر اس عورت سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا"! میں نے حیرت سے پوچھا "کیا وجدان پر بھروسہ کر کہ اتنا بڑا فیصلہ کیا جاسکتا ہے؟"
وہ فرماتے ہیں" بلکل نہیں! میں دو دہائیوں سے اپنے وجدان کو چھوٹے چھوٹے فیصلوں کے ذریعے ٹیسٹ کرتا آرہا ہوں اور اب میں اس سے بخوبی واقف ہوں" میں اس جواب سے مکمل مطمئن نہ ہوسکا لہذا دوبارہ پوچھا "ایک اچھی شادی شدہ زندگی گزارنے کے کچھ تو اصول ہوں گے"؟ ان کا کہنا تھا: لوگوں کے ساتھ اچھے تعلق قائم کرنے کے لئے اپنے اندر Acceptence بڑھالیں اور 'برداشت' کرنا شروع کردیں۔
وہ فرماتے ہیں: پہلے زمانے میں لوگ جب کوئی چیز خراب ہوتی تھی تو اس کو گوند کے ساتھ جوڑ لیتے تھے لیکن آج ہم چیزوں کو بدل لیتے ہیں ہمارا یہی رویہ انسانوں کے ساتھ بھی ہے ہم تعلق جوڑنے کے بجائے اس کو توڑ کر ختم کردیتے ہیں۔ فریقین کے تعلق میں کسی نہ کسی ایک کو بہرحال پسپائی اختیار کرنی پڑتی ہے۔ دو انائیں کبھی ایک ساتھ نہیں چل سکتی، آپ سرنڈر کیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے لہذا اگر تعلق بچانا مقصود ہو تو سینگ پھنسانے سے جھک جانا بہتر ہے۔ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ مخالف فریق کو سمجھے بغیر اچھے تعلقات قائم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اپنے سامنے والے شخص کو سمجھے بغیر اپنی ہانپنے والا انسان مخالف فرد کی خواہشات کا احترام نہیں کرتا، وہ اس کی شخصیت کو دبانے کی کوشش کرتا ہے جس سے تضادات جنم لے کر خوفناک قسم کے نتائج کو جنم دیتے ہیں لہذا لوگوں کی شخصیت ان کی نفسیات وعادات کو سمجھے بغیر پائیدار تعلقات کا حصول ناممکن سا کام ہے۔
انسانی تعلقات پر ماہرین نفسیات، فیملی کاؤنسلرز یا تھراپسٹ نے جو تحقیق کی ہے اس کے چند پوائنٹس یہ ہیں۔

1- ایک دوسرے کی شخصیت کا احترام کریں۔

2- ایک دوسرے کی خواہشات کے حصول میں ممکنہ مدد کریں۔

3- گاہے بگاہے اچھے جذبات کا اظہار کرتے رہا کریں۔

4-اپنی شخصیت کو اس انداز میں ڈھالیں کہ ارد گرد کے لوگ خصوصاً آپ کے نزدیکی آپ کی قربت میں اطمینان محسوس کریں۔

5- چھوٹی چھوٹی باتوں پر الجھنے کے بجائے برداشت کرنا سیکھیں۔

بہت سارے سوال اپنی جگہ قائم رہیں گے۔ جس ملک میں زبردستی شخص تھوپ دیا جائے۔ جہاں انتخاب کی آزادی میسر نہ ہو وہاں شخصی احترام کیسے ابھرے گا؟
جہاں مرد اور عورت کی حیثیت آج بھی کمتر یا بدتر کے اعشاریوں پر کھیل رہی ہو وہاں پائیدار تعلقات کیسے جنم لیں؟ بہرحال ان سوالات کا تعلق تہذیب روایت اور عقائد کی گتھیوں سے ہے جن کو سلجھائے بغیر انسانوں میں چیقلش اور کشمکس باقی رہے گی۔

15/02/2023

ماہر نفسیات کا کہنا تھا: تمہیں اس شخص کو بھول جانا چاہیے! وہ بولی: تمہیں کیا معلوم میں نے اس کو کس چاہ سے مانگا ہے۔ میں نے اس کے لئے کتنا درد برداشت کیا ہے۔ محبت جس جذبہ کو جنم دیتی ہے اس کو بھلاپانا بہت مشکل ہے۔ تمہیں کبھی عشق نہیں ہوا ہوگا تمہیں اسی لئے اسے چھوڑنے کی بات کررہے ہو! ماہر نفسیات نے اس کی آنکھوں میں جھانکا اور بولا: تم ٹھیک کہتی ہو لیکن دکھ تو یہ ہے اگر وہ اتنا ہی سچا تھا تو تمہیں چھوڑ کر کیوں گیا؟ تمہیں عشق کرنے کی سزا نہیں مل رہی بلکہ تم نے ایک جھوٹے شخص پر اعتبار کیا تمہیں اس کی سزا مل رہی ہے۔ سچا انسان جھوٹے انسان سے سچی محبت بھی کرے تو اس کی محبت بے وقعت ٹھہرتی ہے"۔

عمرفاروق

15/02/2023 ڈاکٹر خالد سہیلعمر فاروق کا ڈاکٹر خالد سہیل کو خطمحترم خالد سہیل صاحب!آپ کی خدمت میں سلام پہنچے۔ امید ہے کہ آ...
15/02/2023

15/02/2023

ڈاکٹر خالد سہیل

عمر فاروق کا ڈاکٹر خالد سہیل کو خط

محترم خالد سہیل صاحب!
آپ کی خدمت میں سلام پہنچے۔ امید ہے کہ آپ خیر و عافیت سے ہوں گے۔ یہ میرے لئے شرف کی بات ہے کہ میں آپ سے مخاطب ہو رہا ہوں۔ میں اس تحریر میں چند اہم ”سوالات“ جو آپ کی خدمت میں رکھنا چاہتا ہوں لیکن اس سے پہلے چند چیزیں آپ کے گوش و گزار کرنا چاہوں گا۔ میں خصوصی طور پر آپ کا شکر گزار ہوں۔ کیوں؟ کیونکہ ڈاکٹر صاحب یقین کریں میں دل سے سمجھتا ہوں کہ آپ نے جس مستقل مزاجی کے ساتھ ’علم نفسیات‘ پر کام کیا ہے وہ پورے پاکستان میں کوئی نہیں کر سکا۔
آپ واحد انسان ہیں جنہوں نے تن تنہاء نفسیات پر شاندار اور پڑھنے لائق کام کیا۔ مجھے عرصہ سے آپ کو پڑھنے کا شرف حاصل رہا ہے۔ میں خود بھی ’علم نفسیات‘ کا طالب علم ہوں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں جہاں جہاں ’نفسیات‘ پر کام ہو رہا ہے میری اس پر گہری نظر ہے لیکن اردو میں پورے پاکستان کے اندر آپ کے پائے کا ایک بھی شخص موجود نہیں جس نے آسان اور عام فہم اردو کا استعمال کرتے ہوئے اتنا شاندار کام کیا ہو! مجھے ملک کے نامور نفسیات دانوں سے ملنے کے مواقع بھی میسر آچکے ہیں، ان کی اکثریت لاہور میں موجود ہے لیکن کام؟
کام کا مت ہی پوچھئے! میرا ماننا ہے کہ ’علم نفسیات‘ سے دلچسپی رکھنے والے ہر اردو قاری کو آپ سے لازماً روشناس ہونا چاہیے۔ ایک عرصہ قبل میں بذات خود آپ کے نام تک سے ناواقف تھا۔ میرے ایک بہت ہی محترم دوست عثمان اشرف کی وساطت سے آپ سے تعارف ہوا۔ میں نے ”ہم سب“ پر آپ کے چند کالمز پڑھے اور آپ کو مستقل پڑھنے کا فیصلہ کر لیا۔ مجھے آپ کی چند کتابیں بھی پڑھنے کا موقع مل چکا ہے جن میں ’اپنا قاتل‘ ’سکزوفرینئیا‘ اور ’لفظوں کی مسیحائی‘ شامل ہے۔
’اپنا قاتل‘ کتاب پڑھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ یہ کتاب اگر کچھ بھی نہ سکھائے تو یہ کم ازکم علم نفسیات پڑھنے والے طالب علموں کو ’رپورٹ بنانا‘ اور ’کیس کی جانچ پڑتال‘ کرنا لازمی طور پر سکھا دیتی ہے۔ پوری کتاب ہی علم کا انمول خزانہ۔ ’لفظوں کی مسیحائی‘ میں پوری کتاب ایک سائیڈ۔ اور آپ کی زندگی کی اپنی کہانی ایک طرف۔ آپ کا بچپن ہو، نوجوانی کی محنت ہو یا آج زندگی کو محبوبہ کی طرح گزارنے کا فن۔ سب پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
آپ جس طرح سے چیزوں کو ترتیب دے لیتے ہیں اور ان کو اس انداز میں ڈھال لیتے ہیں کہ عام آدمی کے فہم میں سما سکیں یہ فن بھی قابل تعریف ہے۔ ہمارے دوست عثمان اشرف صاحب اکثر کہتے ہیں : ”آسان لکھنا اور واضح لکھنا بڑا لکھاری ہونے کی نشانی ہے“ ۔ پچھلے دو ہفتوں سے آپ کے ویڈیو لیکچرز بھی مسلسل سن رہا ہوں۔ میں نے زندگی میں کم لوگوں کو ’تعقل پسندی‘ کی بنیادوں پر رائے قائم کرتے دیکھا ہے۔ ہمارے لوگ عموماً جذبات میں گندھے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ ’متھالوجیز‘ پر یقین رکھنے کو ترجیح دی ہے۔ کم ہی لوگ منصفانہ اور شفاف رائے اپنانے کو تیار ہوتے ہیں آپ بہرحال ان نایاب لوگوں میں سے ہیں۔ اب میں چند سوالات آپ کی خدمت میں رکھوں گا۔

پہلا سوال۔
سگمنڈ فرائیڈ اور کارل ژونگ۔ دونوں کے کام کو کیسے دیکھتے ہیں؟

دوسرا سوال۔
گرو راجنیش (اوشو) اور کرشنا مورتی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

تیسرا سوال
پاکستان میں علم نفسیات کے حوالے سے مزید آگاہی کس طرح پھیلائی جا سکتی ہے؟ کیا آپ کے نزدیک علم نفسیات پاکستان میں پھل پھول سکتا ہے؟

آپ کا خیر خواہ
عمر فاروق
۔ ۔ ۔
ڈاکٹر خالد سہیل کا عمر فاروق کو جواب

عمر فاروق صاحب!
یہ میری خوش بختی کہ آپ کے دوست عثمان اشرف صاحب نے آپ کا میرے ’ہم سب‘ کے کالموں سے تعارف کروایا اور آپ نے میری کتابوں کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا۔ میری شروع سے ہی کوشش رہی ہے کہ میں نفسیات کے موضوع پر عام فہم زبان میں لکھوں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ میرے کالموں اور کتابوں سے استفادہ کر سکیں۔
میں آپ کے تین سوالوں کے تین مختصر جواب دینے کی کوشش کروں گا۔

پہلا جواب۔

میری نگاہ میں سگمنڈ فرائڈ اور کارل ینگ دونوں نے بیسویں صدی میں انسانی نفسیات کے علم کو گرانقدر تحفے دیے ہیں۔ فرائڈ نے ہمارا انسانوں کے انفرادی لاشعور سے اور کارل ینگ نے ہمارا انسانوں کے اجتماعی لاشعور سے تعارف کروایا۔ دونوں نے نہ صرف انسانوں کے نفسیاتی مسائل کی تشخیص کی بلکہ ان مسائل کے حل بھی تلاش کیے۔ دونوں ماہرین نفسیات نے ہماری ادب اور فنون لطیفہ کی تفہیم میں بھی مدد کی۔

دوسرا جواب۔

آپ نے گرو راجنیش اور کرشنا مورتی کے بارے میں میری رائے مانگی ہے سو عرض ہے کہ میں دونوں کو ماہر نفسیات نہیں ماہر روحانیات مانتا ہوں اور کرشنا مورتی کی گرو راجنیش سے کہیں زیادہ قدر کرتا ہوں۔ کرشنا مورتی ایک ماہر روحانیات ہی نہیں ایک دانشور بھی تھے جنہوں نے انسانیت کی خدمت کی اور اپنے شاگردوں اور پرستاروں کی ان کے سچ کی تلاش میں مدد کی۔ کرشنا مورتی کا کہنا تھا کہ ہم اپنے سچ تک کسی بھی مذہب کے راستے نہیں پہنچ سکتے کیونکہ۔ سچ تک کوئی روایتی راستہ نہیں جاتا

TRUTH IS A PATHLESS LAND
کرشنا مورتی بدھا کے ہم خیال تھے کہ انسان کا اپنا تجربہ اس کا سب سے بڑا استاد ہوتا ہے۔
کرشنا مورتی کے مقابلے میں گروراجنیش جوں جوں مقبول ہوتے گئے وہ اپنی سیدھی راہ سے دور اور دولت ’شہرت اور عورت کے قریب ہوتے گئے۔ انہوں نے امریکہ میں آ کر اپنا ایک کمیون بنایا جہاں انہوں نے ننانوے رولز رائس گاڑیاں خریدیں اور مالدار مردوں اور عورتوں کو اپنا جنسی مرید بنایا۔
گرو راجنیش بہت ذہین انسان تھے۔ انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ مغرب کے باسی روایتی مذہب سے بیگانہ و بیزار ہو چکے ہیں اس لیے انہوں نے مغربی لوگوں کو جعلی روحانیات کی راہ دکھائی اور پھر روحانیات کو کاروبار بنایا۔ ایک انٹرویو میں فرماتے ہیں

PEOPLE NEED SPIRITUALITY AND I SELL SPIRITUALITY

تیسرا جواب

جہاں تک پاکستان میں علم نفسیات کی آگاہی کا سوال ہے میں اس حوالے سے بہت پر امید ہوں۔ میری نگاہ میں یہ ماہرین نفسیات کی سماجی ذمہ داری ہے کہ وہ نفسیات کے علم کو عام فہم زبان میں عوام تک پہنچائیں اور ان کے نفسیاتی اور سماجی مسائل کے حل پیش کریں۔

آپ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ میں اب تک ’ہم سب‘ پر پانچ سو سے زیادہ کالم لکھ چکا ہوں۔
حال ہی میں میرے نفسیاتی کالموں کا مجموعہ کراچی سے چھپا ہے جس کا نام انسانی نفسیات کے راز ہے۔ مجھے میرے کراچی کے پبلشر آصف صاحب نے یہ خوش خبری سنائی کہ جب وہ میری کتاب کراچی کے بک فیر میں لے کر گئے تو پہلے ایڈیشن کی سب کتابیں دوستوں اور اجنبیوں نے خرید لیں اب وہ اس کا دوسرا ایڈیشن شائع کر رہے ہیں۔

عمر فاروق صاحب!
ہمیں عوام کو یہ تعلیم دینی ہے کہ نفسیاتی مسائل اور روحانی مسائل میں بہت فرق ہے۔

جس طرح ہائی بلڈ پریشر یا ذیابیطس کا مریض ایک ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے اسی طرح اینزائٹی ’ڈپریشن اور سکزوفرینیا کے مریض کو ماہر نفسیات سے مشورہ کرنا چاہیے اور ادویہ اور تھراپی سے علاج کروانا چاہیے نہ کہ وہ پیروں فقیروں کے پاس جا کر گنڈا تعویز سے علاج کروائے۔

زندگی ’ادب اور نفسیات کا طالب علم
ڈاکٹر خالد سہیل

14/02/2023

"جذبات ہمیشہ پلٹ کر وار کرتے ہیں"

عمرفاروق

رینے ڈیکارٹ کو جدید فلسفے کا باپ سمجھا جاتا ہے۔ ڈیکارٹ کہا کرتا تھا "کسی بھی مسئلہ کو حل کرنے کے لئے اسے چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں۔ سب سے پہلے آسان حصے کو حل کریں اور بعد میں جو حصہ مشکل لگے اس کو ٹھیک کرنے کی کوشش کریں"۔ ڈیکارٹ نے گہرے مشاہدے سے معلوم کیا ہر انسان کے اندر چھ بنیادی جذبات ہوتے ہیں: محبت، نفرت، مایوسی، تجسس، خواہش اور خوشی۔ ڈیکارٹ اتنا بڑا فلسفی تھا کہ بعد ازاں اسپینوزا بھی اس کے کام سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ فلسفہ نے علم نفسیات کی راہ ہموار کی اور انیسویں صدی میں انسانی نفسیات کا محققانہ بنیادوں پر جائزہ لیا جانے لگا۔ سوال یہ ہے کہ جدید نفسیات ہو، انسانوں کی اجتماعی دانش کا نچوڑ ہو یا پیچیدہ فلسفیانہ گتھیاں ہوں۔ سب نے انسانی فطرت کو طاقتور جانا۔ جنس انسانی فطرت کا مضبوط اور قوی ترین جذبہ ہے۔ فرائیڈ نے لاشعور کی گتھی سلجھا کر اس کی تصدیق بھی کی لیکن کیا ہوا؟ فرائیڈ کے کام پر بیحد لے دے کی گئی۔ جنس اور جنسی خواہشات کو لے کر اس کے کام کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا حالانکہ گہرے مشاہدے سے فرائیڈ کا مؤقف آج بھی خاصا قوی معلوم ہوتا ہے شاید یہی وجہ کہ ہمیں ہر ادوار میں شادی کے ادارے کی مخالفت کرنے والے حضرات میسر رہے۔ ان حضرات میں افلاطون سے لیکر برٹرینڈ رسل جیسے اذہان بھی شامل تھے۔ گرو رجنیش نے تو سیکس فری سوسائٹی کا قیام بھی رکھ دیا تھا گو کہ اس کا مقصد جنیست کو فروغ دینا نہیں تھا۔ گرو رجنیش کا ماننا تھا کہ جنس کا سامنا کیے بغیر اس سے آزادی حاصل کرپانا ناممکن ہے۔ مجھے رجنیش کا نقطہء نظر خاصا معقول معلوم ہوتا ہے لیکن میرے ایک بزرگ استاد نے خوب کہا تھا: "کسی بھی معاشرتی روایت کو چیلنج کرنے کے لئے آپ کے پاس اچھے خاصے مضبوط دلائل ہونے چاہئیں" رجنیش بہرحال ان دلائل سے محروم تھا یا کم ازکم یہ دلائل اس قابل نہ تھے کہ لوگ تسلیم کرنے پر آمادہ ہوسکیں۔ مذاہب عالم نے بھی انسانی فطرت پر غلبہ پانے کی کوشش کی۔ ویلنٹائن ڈے جیسی روایات کو حرام یا ناجائز قرار دینے کا مقصد بھی جنسی خواہشات اور بے حیائی کو لگام ڈالنا ہوتا ہے لیکن دکھ تو اس بات کا کہ مذاہب اس چیز کو نظر انداز کردیتے ہیں کہ فطرت ہمیشہ پلٹتی ہے۔ دبائے جذبات موقع ملنے پر زور دار حملہ کرتے ہیں۔ آپ انسانی فطرت کا مقابلہ نہیں کرسکتے لیکن جدید سائنسی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے آسمانی کتابوں یا مقدس صحیفوں کی مدد سے ان جذبات کی تربیت کی جاسکتی ہے۔ لوگوں کی تربیت کریں۔ سزا کے خوف سے گناہ کم ہو یا نہ ہو سائنسی بنیادوں پر کی گئی تربیت ایک اچھے معاشرے کی ضامن ضرور بن سکتی ہے۔


#نفسیات

13/02/2023

ہماری اکثریت آج بھی علم نفسیات کو کھیل تماشہ سمجھتی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ نفسیات وہ گیڈر سنگھی ہے جس کے ذریعے ہم انسانوں کے دماغ میں گھس سکتے ہیں اور یہ جان سکتے ہیں کہ لوگ ہر وقت کیا سوچ رہے ہوتے ہیں۔ آپ کو اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی بعض دفعہ ایسے سوالات پوچھ بیٹھتے ہیں جن کی وجہ سے ان کی علمی قابلیت پر شک ہونے لگتا ہے۔ ایک جناب تشریف لائے اور فرمانے لگے: "تم جو خود کو نفسیات دان سمجھتے ہو ذرا بتاؤ تو سہی میرے دماغ میں کیا چل رہا ہے؟ میں نے دل میں سوچا یہ تو خیر مجھے پتا نہیں۔۔کم ازکم میرے دماغ میں یہ چل رہا کہ میرے سامنے نہایت ہی بیوقوفانہ سوال پوچھنے والا شخص موجود ہے"۔ یہ سوال 'ٹیلی پیتھی' کا علم جاننے والے سے پوچھنا ہو تو کوئی عار نہیں لیکن ایک ماہر نفسیات سے ایسا سوال پوچھنا کم ازکم جرم ہے۔ دوسری جانب حالت یہ کہ ماہر نفسیات کو 'پاگلوں کا ڈاکٹر' تصور کیا جاتا ہے گویا ایک جانب انتہاء ہے تو دوسری جانب تنزلی۔ میں تو یہ بھی محسوس کرتا ہوں اس میں لوگوں کا قصور نہیں۔ کسی نے بتایا ہی نہیں۔ نفسیات پر لکھنے والے کتنے لوگ ہیں؟ عام آدمی تک کس کی رسائی ہے؟ ان کو کون سکھا رہا ہے؟ اپنے فہم کے مطابق جو سمجھ آتی وہ مان لیتے سو قصور ماہرین نفسیات کا ہے۔ قصور ہمارا ہے۔

عمرفاروق

Address

Gujranwala

Telephone

+923218247548

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Umar Farooq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Umar Farooq:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category