08/05/2022
شوگر کے علاج کا بہت آسان طریقہ ہے افوریزم نمبر 3 اور 4 کے مطابق بیماری کی کاز ڈھونڈے اور اس کاز پر علاج کریں ۔۔۔۔ دوسرا بیماری کا مسلہ جسم کے کس حصے سے پیدا ہو رہا ہے وہ تلاش کر کے الٹرنیٹ دوا بھی ساتھ دیں ۔۔۔ باقی میازم تلاش کر کے میازمٹک دوا انٹرکرنٹ کریں ۔۔۔۔ شوگر کا یہ پروٹوکول ہے ۔۔۔۔۔
اور اس سارے پروٹوکول کی مثال کچھ دن پہلے پریگنینسی میں شوگر والی تحریر میں مثال مل جائے گی کے پریگنینسی میں شوگر کی 2 وجوہات ہیں 1 الرجی دوسرا وجہ لبلبے کی سوزش ۔۔۔۔
اسی طرح عام شوگر کی وجوہات بھی ہوتی ہیں اور ہر کیس میں الگ وجہ ہوتی ہے الگ میازم ہوتا ہے وہ وجہ اور میازم تلاش کر کے علاج کریں قانونی طریقہ افوریزم منشن ہیں ان کو سیکھیں سمجھیں اب بہت سے ساتھیوں کو یہ ہی نہیں پتا کہ ذیابیطس ٹائپ 2 میں لبلبہ بھی کام کر رہا ہوتا ہے انسولین بھی بن رہی ہوتی ہے صرف وہ انسولین جسم/سیلز استعمال نہیں کر رہے ہوتے انسولین کے خلاف جسم میں ریزسٹنس پیدا ہو جاتی ہے اب وہ ریزسٹنس کس وجہ سے پیدا ہوئی میازم وجہ ہے یا کوئی اموشنل سپریشن ہے یا کوئی فیملی ہسٹری جنیٹیک وجہ ہے یا سوزش ہے یا جگر کی خرابی ہے گردوں کی خرابی ہے یا جسم میں کسی اور خرابی کی وجہ سے انسولین ریزسٹنس پیدا ہوئی ہے یہ تلاش کرنا ڈاکٹر کا امتحان ہے اور یہ بات اوپر منشن افوریزمز میں ڈاکٹر ہانیمن سمجھاتے ہیں اور جب یہ افوریزم ماڈرن سائنس کی روشنی میں سمجھے جاتے ہیں تو اب تک اس طریقے کار پر 31 کیسز میں سے 31 میں اللہ کے حکم سے شوگر ریورس ہونے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔۔
اسی طرح ٹائپ 1 میں لبلبہ کی خرابی اور انسولین کا بننا بند ہو جانا اور ٹائپ 1 میں سب سے بڑی 2 وجوہات دیکھنے کو ملتی ہیں 1 جینز کی خرابی دوسرا میازم ہے اور اگر ان 2 وجوہات کو سمجھ لیا جائے تو شوگر تو ویسے ہی لا علاج مرض ہے اس میں ٹائپ 1 تو بلکل ہی ناممکن سمجھا جاتا ہے مگر الحمد اللہ زیادہ نہیں مگر چند 1 کیس ٹائپ 1 کے ڈیئل کئے اور ٹائپ 2 سے زیادہ جلدی ریورس ہو گئے جب آپ کو پتھالوجی فزیالوجی اور میٹریا میڈیکا پر دسترس اس طرح حاصل ہو کے آپ دوا کے میکانیزم موڈ آف ایکشن ٹمپرامنٹ کازیشن موڈیلیٹیز کاسنٹیٹیشن غرض 1 دوا کو 10 مختلف فلسفوں پر استعمال کرنا جانتے ہو تو آپ کی کامیابی کے ریشو میں اضافہ ہو جاتا ہے میں نے پچھلے تحریر میں مختلف کتابیں اور ان کا استعمال اور کیسے فائدہ اٹھانا ہے واضح کیا تھا وہ پڑھ لیں ۔۔۔۔
اصل میں ہوتا یہ ہے کہ ہمارے ہومیو ٹھیکیداروں نے زیادہ محنت نہ کرنے کی وجہ سے ہومیو کو قصے کہانیوں اور اس کی شاخوں کو غیر ہومیو کا فتوا لگوا کر اس کو کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی کہ ہومیو تو علامات کے علاج کا نام ہے جب کے افوریزم نمبر 33 میں ڈاکٹر ہانیمن بیماری کے نام پر دوا تجویز کر رہے ہیں اور افوریزم 34 میں تو باقاعدہ ہومیو ادویات کو آرٹیفشل ڈیزیز کا نام دے رہے ہیں نہ کے آرٹیفشل سمٹمز کا اسی طرح افوریزم 3، 4 اور 5 میں بیماری کی وجہ تلاش کر کے کازیشن پر علاج کی طرف نشاندہی کر رہے ہیں مگر ان افوریزم میں ڈاکٹر کی قابلیت بھی بتا رہے ہیں کہ شفاء سے ہمکنار کرنے والا ڈاکٹر جانتا ہے کہ انسان کو کیا چیز بیمار کرتی ہے اور اسے کیسے دور کیا جائے اسی طرح پورے آرگنین میں وہ جگہ جگہ ڈیزیز کی بات کرتے نظر آتے ہیں مگر آرگنین نہ نصابی سطح پر سمجھائی جاتی ہے نہ ویسے کوئی سنیئر اس طرح دھیان دیلاتا ہے کیونکہ پھر ہمیں پتھالوجی اناٹومی فزیالوجی سائکولوجی پر مہارت حاصل کرنی پڑے گی جیسا کے ماسٹر ہانیمن کو حاصل تھی ۔۔۔۔
خیر 1 اور نکتہ جو ہومیو پیتھ ڈاکٹرز کو نہیں پتا کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو چند سال بعد ٹائپ 1 میں کنورٹ ہو جاتی ہے پہلے جو ٹائپ 2 میں صرف انسولین کے خلاف جسم میں ریزیسٹنس پیدا ہوئی تھی مگر لبلبہ کام کر رہا تھا انسولین بن رہی تھی مگر چند سالوں بعد ٹائپ 1 میں کنورٹ ہو کر لبلبہ بھی کام چھوڑ دیتا ہے اور انسولین بننا بھی بند ہو جاتی ۔۔۔۔
اب ساری بات سمجھانے بتانے کا مقصد یہ ہے کہ جب تک ہم پتھاوفزیالوجی کو نہیں ڈمجھیں گے بیماریوں کے پورے میکنیزم کو نہیں سمجھیں گے کے خراب کس وجہ سے کس مقام پر پیدا ہو رہی ہے تب تک ہم بیماریوں پر 100 فیصد کامیابی یا بڑی ریشو سے کامیابی حاصل نہیں کر سکیں گے ۔۔۔۔ یہاں ڈاکٹر بوسٹن کے الفاظ بھی رقم طراز کرتا چلو کے ڈاکٹر بوسٹن ماسٹر ہانیمن کے علاج کے طریقے کار کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ماسٹر ہانیمن سب سے پہلے بیماری کی لوکیشن کو دیکھتے تھے پھر بیماری ہونے کے بعد کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اور آگے جا کر لکھتے ہیں کے ڈاکٹر ہانیمن ڈاکٹر ہانیمن یہ بات واضح کرتے ہیں بیماری کی وجہ سبب اثرات کو دور کر دیا جائے تو بیماری خود با خود ٹھیک ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔ تو جب تک ہم ان باریکیوں فلسفوں کو نہیں سمجھیں گے تو صرف شوگر نہیں ہر بیماری میں کامیابی کی ریشو کم رہے گی ۔۔۔۔۔۔