میرا دیس این اے 51 مری،کہوٹہ،کوٹلی ستیاں،کلر سیداں

  • Home
  • Pakistan
  • Islamabad
  • میرا دیس این اے 51 مری،کہوٹہ،کوٹلی ستیاں،کلر سیداں

میرا دیس این اے 51 مری،کہوٹہ،کوٹلی ستیاں،کلر سیداں میرا خواب پاکستان کو خوشحال اسلامی فلاحی ریاست بنانا

🌷السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُہ🌷🌹16 ستمبر 22 ربیع الاول صبح شام بخیرزندگی🌹📕سورة الْكَهْف آیت 27📕وَاتْلُ ...
15/09/2025

🌷السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُہ🌷
🌹16 ستمبر 22 ربیع الاول صبح شام بخیرزندگی🌹
📕سورة الْكَهْف آیت 27📕
وَاتْلُ مَـآ اُوْحِىَ اِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ ۖ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهٖ وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا (27)
اے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) 26 ، تمہارے رب کی کتاب میں سے جو کچھ تم پر وحی کیا گیا ہے اسے ﴿جوں کا توں﴾ سنا دو ، کوئی اس کے فرمودات کو بدل دینے کا مجاز نہیں ہے ، ﴿اور اگر تم کسی کی خاطر اس میں ردوبدل کرو گے تو﴾ اس سے بچ کر بھاگنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پاؤ گے ۔ 27
*(O Prophet) recite to them from the Book of your Lord what has been revealed to you for none may change His words; (and were you to make any change in His words) you will find no refuge from Him.*
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
🤲🏿یارب العالمین، اور آپ کی طرف سے آپ کے پیارے محبوب بندے نبی مہربان ﷺ پر کتاب میں سے جو وحی فرمائی گئی ہے، آپ ﷺ نے اس کو مکمل عمل کے ساتھ ہم تک پہنچایا اور کوئی ان باتوں کو بدلنے والا نہیں ہے اور حکم عدولی کرنے والا آپ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں پائے گا ۔یارب، رسول مہرباںﷺ نے آپ کے حکم کے عین مطابق قرآن کو ہم تک بغیر کسی تبدیلی کے پہنچایا ، اب ہمیں بھی قرآن کو ایسے پڑھنے ، سمجھنے اور عمل کرنے والا بنا جیسا رسول کریم نے ہمیں پڑھایا ،سمجھایا اور اس پر عمل کر کے دکھایا اور جو اس کے پڑھنے سمجھنے اور عمل کرنے کا حق ہے اس حق کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرما۔اور آج کل کے دور میں مشرکین مکہ کے جیسا رویہ رکھنے والے منکرین قرآن سے ہماری اور ہمارے ایمان کی حفاظت فرما آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ🤲🏿
*🌹Prayer🌹*
*🤲🏿O Almighty ALLAH, and the revelation that You sent down in the Book to Your beloved servant, the Merciful Prophet (peace be upon him), he conveyed it to us with complete implementation. There is none who can change Your words, and whoever disobeys, they will find no refuge besides You. O ALLAH, the Merciful Prophet (peace be upon him) conveyed the Quran to us without any alteration, exactly as You commanded. Now, make us among those who recite, understand, and act upon the Quran as the Noble Prophet (peace be upon him) taught us, explained to us, and demonstrated through his actions, protect us from the deniers of the Quran who exhibit polytheistic behavior in this modern era. Grant us safety and preserve our faith."Ameen🤲🏿*
📖🔎تفهـیم القرآن🔎📖
«سورة الْكَهْف» حاشیہ نمبر :26
اصحاب کہف کا قصہ ختم کرنے کے بعد اب یہاں سے دوسرا مضمون شروع ہو رہا ہے ، اور اس میں ان حالات پر تبصرہ ہے جو اس وقت مکہ میں مسلمانوں کو درپیش تھے ۔
«سورة الْكَهْف» حاشیہ نمبر :27
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاذاللہ ! اس وقت نبی ﷺ کفار مکہ کی خاطر قرآن میں کچھ ردوبدل کر دینے اور سرداران قریش سے کچھ کم و بیش پر مصالحت کر لینے کی سوچ رہے تھے اور اللہ تعالیٰ آپ کو اس سے منع فرما رہا تھا ۔ بلکہ دراصل اس میں روئے سخن کفار مکہ کی طرف ہے ، اگرچہ خطاب بظاہر نبی ﷺ سے ہے ۔ مقصود کفار کو یہ بتانا ہے کہ محمد ﷺ خدا کے کلام میں اپنی طرف سے کوئی کمی یا بیشی کرنے کے مجاز نہیں ہیں ۔ ان کا کام بس یہ ہے کہ جو کچھ خدا نے نازل کیا ہے ، اسے بے کم و کاست پہنچا دیں ۔ تمہیں ماننا ہے تو اس پورے دین کو جوں کا توں مانو جو خداوند عالم کی طرف سے پیش کیا جا رہا ہے ۔ اور نہیں ماننا تو شوق سے نہ مانو ۔ مگر یہ امید کسی حال میں نہ رکھو کہ تمہیں راضی کرنے کے لیے اس دین میں تمہاری خواہشات کے مطابق کوئی ترمیم کی جائے گی ، خواہ وہ کیسی ہی جزوی سی ترمیم ہو ۔ یہ جواب ہے اس مطالبے کا جو کفار کی طرف سے بار بار کیا جاتا تھا ، کہ ایسی بھی کیا ضد ہے کہ ہم تمہاری پوری بات مان لیں ۔ آخر کچھ تو ہمارے آبائی دین کے عقائد اور رسم و رواج کی رعایت ملحوظ رکھو ۔ کچھ تم ہماری مان لو ، کچھ ہم تمہاری مان لیں ۔ اس پر سمجھوتہ ہو سکتا ہے اور برادری پھوٹ سے بچ سکتی ہے ۔ قرآن میں ان کے اس مطالبے کا متعدد مواقع پر ذکر کیا گیا ہے اور اس کا یہی جواب دیا گیا ہے ۔ مثال کے طور پر سورہ یونس کی آیت 15 ملاحظہ ہو : «وَاِذَا تُتْلیٰ عَلَیْہِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتتٍ قَالَ الَّذِیْنَ لا یَرْجُوْنَ لِقَآئَ نَاائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ ھٰذَآ اَوْ بَدِّلْہ» ۔ ‘‘ جب ہماری آیات صاف صاف ان کو سنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ ، جو کبھی ہمارے سامنے حاضر ہونے کی توقع نہیں رکھتے ، کہتے ہیں کہ اس کے بجائے کوئی اور قرآن لاؤ ، یا اس میں کچھ ترمیم کرو ۔‘‘
🌹نماز نیند سے بہتر ہے🌹
📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕
🤲🏻طالب دعاء 🤲🏻

🌷السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُہ🌷🌹15 ستمبر 21 ربیع الاول صبح شام بخیرزندگی🌹📕سورة الْكَهْف آیت 25-26📕وَلَب...
14/09/2025

🌷السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُہ🌷
🌹15 ستمبر 21 ربیع الاول صبح شام بخیرزندگی🌹
📕سورة الْكَهْف آیت 25-26📕
وَلَبِثُـوْا فِىْ كَهْفِهِـمْ ثَلَاثَ مِائَـةٍ سِنِيْنَ وَازْدَادُوْا تِسْعًا (25)
قُلِ اللّـٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا ۖ لَـهٝ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۖ اَبْصِرْ بِهٖ وَاَسْمِعْ ۚ مَا لَـهُـمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّّلِـيٍّ وَّلَا يُشْرِكُ فِىْ حُكْمِهٓ ٖ اَحَدًا (26)
اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے ، اور ﴿کچھ لوگ مدت کے شمار میں﴾ 9 سال اور بڑھ گئے ہیں ۔ 25
تم کہو ، اللہ ان کے قیام کی مدت زیادہ جانتا ہے ، آسمانوں اور زمین کے سب پوشیدہ احوال اسی کو معلوم ہیں ، کیا خوب ہے وہ دیکھنے والا اور سننے والا! زمین و آسمان کی مخلوقات کا کوئی خبرگیر اس کے سوا نہیں ، اور وہ اپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا ۔
*They remained in the Cave for three hundred years; and others added nine more years.*
*Say: ""Allah knows best how long they remained in it for only He knows all that is hidden in the heavens and the earth. How well He sees; how well He hears! The creatures have no other guardian than Him; He allows none to share His authority.""*
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
🤲🏿 یارب العالمین،اور وہ اپنے غار میں تین سو سال اور مزید نو سال رہے۔ آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما دیجئے اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ وہ کتنی مدت رہے آسمانوں اور زمینوں کی پوشیدہ چیزوں کا علم اسی کو ہے وہ کیا خوب دیکھنے والا اور کیا خوب سننے والا ہے نہ اس کے سوا ان کا کوئی مددگار ہے اور نہ وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک کرتا ہے۔یارب ہمیں شرک سے بچا،کامل ایمان کی دولت سے نواز دے بیشک اصل حقائق سے آپ ہی واقف ہیں اور آپ کی رحمت بے پایاں ہے جب بھی کوئی اصحاف کہف کی طرح کامل ایمان اور سچے دل سے پکارتا ہے تو آپ کی مدد لازمی آیا کرتی ہے اے ہمارے رب ہمیں پکارنے والا سچا دل اور کامل ایمان عطا فرما اور ہم پر اپنی رحمت کے سائے کر دے آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ
*🌹Prayer🌹*
*O Almighty ALLAH, and they stayed in their cave for three hundred years and nine more. Say (O Prophet), 'ALLAH knows best how long they stayed.' To Him belongs the knowledge of the unseen in the heavens and the earth. How well He sees and hears! There is no helper for them besides Him, and He does not share His command with anyone. O ALLAH, protect us from Shirk polytheism,grant us the wealth of perfect faith. Indeed, You are aware of all realities, and Your mercy is boundless. Whenever anyone, like the companions of the cave, calls upon You with true faith and a sincere heart, Your help always comes. O our ALLAH, grant us a sincere heart and perfect faith to call upon You, and shower Your mercy upon us. Ameen."🤲🏿*
📖🔎تفهـیم القرآن🔎📖
«سورة الْكَهْف» حاشیہ نمبر :25
اس فقرے کا تعلق ہمارے نزدیک جملۂ معترضہ سے پہلے کے فقرے کے ساتھ ہے ۔ یعنی سلسلۂ عبارت یوں ہے کہ ’’ کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا ، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے ، اور بعض لوگ اس مدت کے شمار میں نو سال اور بڑھ گئے ہیں ۔‘‘ اس عبارت میں 3 سو اور تین سو نو سال کی تعداد جو بیان کی گئی ہے ، ہمارے خیال میں یہ دراصل لوگوں کے قول کی حکایت ہے ، نہ کہ اللہ تعالیٰ کا اپنا قول ۔ اور اس پر دلیل یہ ہے کہ بعد کے فقرے میں اللہ تعالیٰ خود فرما رہا ہے کہ تم کہو : اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنی مدت رہے ۔ اگر 309 کی تعداد اللہ نے خود بیان فرمائی ہوتی ، تو اس کے بعد یہ فقرہ ارشاد فرمانے کے کوئی معنی نہ تھے ۔ اسی دلیل کی بنا پر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے بھی یہی تاویل اختیار فرمائی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا قول نہیں ہے بلکہ لوگوں کے قول کی حکایت ہے ۔
🔎فی ظلال القرآن🔎
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا جاتا ہے کہ جو وحی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی تلاوت کریں۔ اسی میں دو ٹوک فیصلے ہیں۔ اس کے تمام فیصلے عین سچائی ہیں ، اس میں باطل کی آمیزش نہیں ہو سکتی۔ ہمیں صرف اللہ کو پکارنا چاہئے۔ کیونکہ اللہ کی پناہ کے سوا کوئی اور پناہ نہیں ہے۔ دیکھئے اصحاب کہف اللہ کی طرف بھاگے تو اللہ نے ان پر رحمت کی۔
🌹نماز نیند سے بہتر ہے🌹
📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕
🤲🏻طالب دعاء 🤲🏻

🌷السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُہ🌷🌹14 ستمبر 20 ربیع الاول صبح شام بخیرزندگی🌹📕سورة الْكَهْف آیت 23-24📕وَلَا...
14/09/2025

🌷السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُہ🌷
🌹14 ستمبر 20 ربیع الاول صبح شام بخیرزندگی🌹
📕سورة الْكَهْف آیت 23-24📕
وَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَىْءٍ اِنِّىْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا (23)
اِلَّآ اَنْ يَّشَآءَ اللّـٰهُ ۚ وَاذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيْتَ وَقُلْ عَسٰٓى اَنْ يَّهْدِيَنِ رَبِّىْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا (24)
اور دیکھو ، کسی چیز کے بارےمیں کبھی یہ نہ کہا کرو کہ میں کل یہ کام کر دوں گا ۔
﴿تم کچھ نہیں کر سکتے﴾ الا یہ کہ اللہ چاہے ۔ اگر بھولے سے ایسی بات زبان سے نکل جائے تو فورا اپنے رب کو یاد کرو اور کہو امید ہے کہ میرا رب اس معاملےمیں رشد سے قریب تر بات کی طرف میری رہنمائی فرما دے 24گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
*And never say about anything: ""I shall certainly do this tomorrow""*
*unless Allah should will it. And should you forget (and make such a statement) remember your Lord and say: ""I expect my Lord to guide me to what is nearer to rectitude than this.""*
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
🤲🏿یارب العالمین، آپ کا حکم ہے کہ اور کسی کام کے بارے میں یہ نہ کہیں کہ ہم یہ کام کل ضرور کریں گے۔ مگر یہ کہ (جیسے) آپ چاہیں اور آپ کو یاد کرلیا کریں جب ہم بھول جائیں اور فرمائیں اُمید ہے کہ میرا رب مجھے اس سے قریب تر ہدایت کی راہ دکھائے۔یارب ہمیں ہر کام اور ہر ارادے سے پہلے ان شاءاللہ کہنے کی توفیق عطا فرما ہر کام میں خیر اور شر کے بارے میں صرف آپ ہی جانتے ہیں ہمارے ہر کام میں ہمیں خیر کثیر اور برکت عطا فرما آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ
*🌹Prayer🌹*
*🤲🏿O Almighty ALLAH, Your command is that do not say about any matter, 'We will surely do this tomorrow,' except (when you say) 'If ALLAH wills,' and remember Your will when we forget. And say, 'Hopefully, my ALLAH will guide me to something closer to guidance.' O ALLAH, grant us the ability to say 'Insha'Allah' before every task and intention. You alone know the good and evil in every matter. Grant us abundant good and blessings in all our affairs."🤲🏿*
📖🔎تفهـیم القرآن🔎📖
«سورة الْكَهْف» حاشیہ نمبر :24
یہ ایک جملہ معترضہ ہے جو پچھلی آیت کے مضمون کی مناسبت سے سلسلۂ کلام کے بیچ میں ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ پچھلی آیت میں ہدایت کی گئی تھی کہ اصحاب کہف کی تعداد کا صحیح علم اللہ کو ہے اور اس کی تحقیق کرنا ایک غیر ضروری کام ہے ، لہذا خواہ مخواہ ایک غیر ضروری بات کی کھوج میں لگنے سے پرہیز کرو ، اور اس پر کسی سے بحث بھی نہ کرو ۔ اس سلسلہ میں آگے کی بات ارشاد فرمانے سے پہلے جملۂ معترضہ کے طور پر ایک اور ہدایت بھی نبی ﷺ اور اہل ایمان کو دی گئی ، اور وہ یہ کہ تم کبھی دعوے سے یہ نہ کہہ دینا کہ میں کل فلاں کام کر دوں گا ۔ تم کو کیا خبر کہ تم وہ کام کر سکو گے یا نہیں ۔ نہ تمہیں غیب کا علم ، اور نہ تم اپنے افعال میں ایسے خود مختار کہ جو کچھ چاہو کر سکو ۔ اس لیے اگر کبھی بے خیالی میں ایسی بات زبان سے نکل بھی جائے تو فوراً متنبہ ہو کر اللہ کو یاد کرو اور ان شاء اللہ کہہ دیا کرو ۔ مزید برآں تم یہ بھی نہیں جانتے کہ جس کام کے کرنے کو تم کہہ رہے ہو ، آیا اس میں خیر ہے ، یا کوئی دوسرا کام اس سے بہتر ہے ۔ لہذا اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے یوں کہا کرو کہ امید ہے ، میرا رب اس معاملے میں صحیح بات ، یا صحیح طرز عمل کی طرف میری رہنمائی فرما دے گا ۔
🌹نماز نیند سے بہتر ہے🌹
📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕
🤲🏻طالب دعاء 🤲🏻

🌷السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُہ🌷🌹13 ستمبر 19 ربیع الاول صبح شام بخیرزندگی🌹📕سورة الْكَهْف آیت 22📕سَيَقُوْ...
12/09/2025

🌷السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُہ🌷
🌹13 ستمبر 19 ربیع الاول صبح شام بخیرزندگی🌹
📕سورة الْكَهْف آیت 22📕
سَيَقُوْلُوْنَ ثَلَاثَةٌ رَّابِعُهُـمْ كَلْبُهُمْۚ وَيَقُوْلُوْنَ خَـمْسَةٌ سَادِسُهُـمْ كَلْبُـهُـمْ رَجْـمًا بِالْغَيْبِ ۖ وَيَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّّثَامِنُـهُـمْ كَلْبُـهُـمْ ۚ قُلْ رَّبِّىٓ اَعْلَمُ بِعِدَّتِـهِـمْ مَّا يَعْلَمُهُـمْ اِلَّا قَلِيْلٌ ۗ فَلَا تُمَارِ فِـيْهِـمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًاۖ وَّلَا تَسْتَفْتِ فِـيْهِـمْ مِّنْـهُـمْ اَحَدًا (22)
کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا ۔ اور کچھ دوسرے کہہ دیں گے کہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا ۔ یہ سب بے تکی ہانکتے ہیں ۔ کچھ اور لوگ کہتے ہیں کہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا ۔ 22 کہو ، میرا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنے تھے ۔ کم ہی لوگ ان کی صحیح تعداد جانتے ہیں ۔ پس تم سرسری بات سے بڑھ کر ان کی تعداد کے معاملے میں لوگوں سے بحث نہ کرو ، اور نہ ان کے متعلق کسی سے کچھ پوچھو ۔ 23 ؏3
*Some will say concerning them: ""They were three and their dog the fourth""; and some will say: ""They were five and their dog the sixth"" - all this being merely guesswork; and still others will say: ""They were seven and their dog the eighth."" Say: ""My Lord knows their number best. Only a few know their correct number. So do not dispute concerning their number but stick to what is evident and do not question anyone about them.""*
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
🤲🏿یارب العالمین، عنقریب کچھ لوگ کہیں گے (اصحابِ کہف) تین تھے (اور) چوتھا ان کا کتا تھا اور کچھ کہیں گے وہ پانچ تھے چھٹا ان کا کتا تھا (یہ سب) بغیر علم اندازے کی باتیں ہیں اور کچھ کہیں گے وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا (اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!) آپ فرما دیجئے میرا رب ہی خوب جانتا ہے ان کی تعداد کو تھوڑے ہی لوگ ان کو جانتے ہیں پس آپ ان کے بارے میں سَرسَری گفتگو کے سوا بحث نہ کریں اور نہ ان کے بارے میں کسی سے پُوچھ گچھ کریں۔یا رب جب روز محشر آپ نوع انسانی کی تمام اگلی پچھلی نسلوں کو بیک وقت زندہ کر کے اٹھائیں گے،تو اس دن ہمیں اپنے محبوب نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت سے اٹھانا ،یارب تیری قدرت سے کچھ بھی بعید نہیں ہے، یارب ہمیں ہر زمانے میں اللہ کی نشانیوں کو اپنے لیے سرمۂ چشم بصیرت بنانے کی توفیق عطا فرما آخرت کا کامل یقین عطا فرما کر مزید ہمیں ہر طرح کی گمراہی اور شرک سے بچا آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ🤲🏿
*🌹Prayer🌹*
*🤲🏿O Almighty ALLAH, some people will say (about the companions of the cave) they were three, and their dog was the fourth, and some will say they were five, and their dog was the sixth, (all) mere guesses without knowledge. And some will say they were seven, and their dog was the eighth. Say (O Prophet), 'My Lord knows best their number; only a few know them.' So do not argue about them except with superficial discussion, and do not ask anyone about them. O ALLAH, when You will raise all past and future generations of humanity simultaneously on the Day of Judgment, raise us among the Ummah of Your beloved Last Prophet Muhammad (peace be upon him). O ALLAH, nothing is impossible for Your power. Grant us the ability to consider Your signs as a source of insight in every era. Grant us complete faith in the Hereafter and protect us from all forms of misguidance and polytheism. Ameen.”🤲🏿*
📖🔎تفهـیم القرآن🔎📖
«سورة الْكَهْف» حاشیہ نمبر :22
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعے کے پونے تین سو سال بعد ، نزول قرآن کے زمانے میں اس کی تفصیلات کے متعلق مختلف افسانے عیسائیوں میں پھیلے ہوئے تھے اور عموماً مستند معلومات لوگوں کے پاس موجود نہ تھیں ۔ ظاہر ہے کہ وہ پریس کا زمانہ نہ تھا کہ جن کتابوں میں اس کے متعلق نسبۃً زیادہ صحیح معلومات درج تھیں ، وہ عام طور پر شائع ہوتیں ۔ واقعات زیادہ تر زبانی روایات کے ذریعے سے پھیلتے تھے ، اور امتداد زمانہ کے ساتھ ان کی بہت سی تفصیلات افسانہ بنتی چلی جاتی تھیں ۔ تاہم چونکہ تیسرے قول کی تردید اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمائی ہے ، اس لیے یہ گمان کیا جا سکتا ہے کہ صحیح تعداد سات ہی تھی ۔
«سورة الْكَهْف» حاشیہ نمبر :23
مطلب یہ ہے کہ اصل چیز ان کی تعداد نہیں ہے ، بلکہ اصل چیز وہ سبق ہیں جو اس قصے سے ملتے ہیں ۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ایک سچے مومن کو کسی حال میں حق سے منہ موڑنے اور باطل کے آگے سر جھکانے کے لیے تیار نہ ہونا چاہیے ۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مومن کا اعتماد اسباب دنیا پر نہیں بلکہ اللہ پر ہونا چاہیے ، اور حق پرستی کے لیے بظاہر ماحول میں کسی سازگاری کے آثار نظر نہ آتے ہوں تب بھی اللہ کے بھروسے پر راہ حق میں قدم اٹھا دینا چاہیے ۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جس ’’ عادت جاریہ ‘‘ کو لوگ ’’ قانون فطرت ‘‘ سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اس قانون کے خلاف دنیا میں کچھ نہیں ہو سکتا ، اللہ تعالیٰ درحقیقت اس کا پابند نہیں ہے ، وہ جب اور جہاں چاہے ، اس عادت کو بدل کر جو غیر معمولی کام بھی کرنا چاہے کر سکتا ہے ۔ اس کے لیے یہ کوئی بڑا کام نہیں ہے کہ کسی کو دو سو برس تک سلا کر اس طرح اٹھا بٹھائے جیسے وہ چند گھنٹے سویا ہے ، اور اس کی عمر ، شکل ، صورت ، لباس ، تندرستی ، غرض کسی چیز پر بھی اس امتداد زمانہ کا کچھ اثر نہ ہو ۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ نوع انسانی کی تمام اگلی پچھلی نسلوں کو بیک وقت زندہ کر کے اٹھا دینا ، جس کی خبر انبیاء اور کتب آسمانی نے دی ہے ، اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کچھ بھی بعید نہیں ہے ۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جاہل انسان کس طرح ہر زمانے میں اللہ کی نشانیوں کو اپنے لیے سرمۂ چشم بصیرت بنانے کے بجائے الٹا مزید گمراہی کا سامان بناتے رہے ہیں ۔ اصحاب کہف کا جو معجزہ اللہ نے اس لیے دکھایا تھا کہ لوگ اس سے آخرت کا یقین حاصل کریں ، ٹھیک اسی نشان کو انہوں نے یہ سمجھا کہ اللہ نے انہیں اپنے کچھ اور ولی پوجنے کے لیے عطا کر دیے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ہیں وہ اصل سبق جو آدمی کو اس قصے سے لینے چاہییں ، اور اس میں توجہ کے قابل یہی امور ہیں ۔ ان سے توجہ ہٹا کر اس کھوج میں لگ جانا کہ اصحاب کہف کتنے تھے اور کتنے نہ تھے ، اور ان کے نام کیا کیا تھے ، اور ان کا کتا کس رنگ کا تھا ، یہ ان لوگوں کا کام ہے جو مغز کو چھوڑ کر صرف چھلکوں سے دلچسپی رکھتے ہیں ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو اور آپ کے واسطے سے اہل ایمان کو یہ تعلیم دی کہ اگر دوسرے لوگ اس طرح کی غیر متعلق بحثیں چھیڑیں بھی تو تم ان میں نہ الجھو ، نہ ایسے سوالات کی تحقیق میں اپنا وقت ضائع کرو ، بلکہ اپنی توجہ صرف کام کی بات پر مرکوز رکھو ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ان کی صحیح تعداد بیان نہیں فرمائی ، تاکہ شوق فضول رکھنے والوں کو غذا نہ ملے ۔
🌹نماز نیند سے بہتر ہے🌹
📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕
🤲🏻طالب دعاء 🤲🏻

🌷السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُہ🌷🌹12 ستمبر  18 ربیع الاول صبح شام بخیرزندگی🌹📕سورة الكهف آیت 21📕وَكَذَٰلِك...
11/09/2025

🌷السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُہ🌷
🌹12 ستمبر 18 ربیع الاول صبح شام بخیرزندگی🌹
📕سورة الكهف آیت 21📕
وَكَذَٰلِكَ أَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ لِيَعْلَمُوا أَنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَأَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيْبَ فِيهَا إِذْ يَتَنَازَعُونَ بَيْنَهُمْ أَمْرَهُمْ ۖ فَقَالُوا ابْنُوا عَلَيْهِم بُنْيَانًا ۖ رَّبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ ۚ قَالَ الَّذِينَ غَلَبُوا عَلَىٰ أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِم مَّسْجِدًا 21
اس طرح ہم نے اہل شہر کو ان کے حال پر مطلع کیا 17 تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت کی گھڑی بے شک آکر رہے گی ۔ 18 ﴿مگر ذرا خیال کرو کہ جب سوچنے کی اصل بات یہ تھی﴾ اس وقت وہ آپس میں اس بات پر جھگڑ رہے تھے کہ ان ﴿اصحاب کہف﴾کے ساتھ کیا کیا جائے ۔ کچھ لوگوں نے کہا ان پر ایک دیوار چن دو ، ان کا رب ہی ان کے معاملہ کو بہتر جانتا ہے ۔ 19 مگر جو لوگ ان کے معاملات پر غالب تھے20 انہوں نے کہا”ہم تو ان پر ایک عبادت گاہ بنائیں گے ۔ 21
*Thus did We make their case known to the people of the city so that they might know that Allah''s promise is true and that there is absolutely no doubt that the Hour will come to pass. But instead of giving thought to this they disputed with one another concerning the People of the Cave some saying: ""Build a wall over them. Their Lord alone knows best about them."" But those who prevailed over their affairs said: ""We shall build a place of worship over them.""*
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
🤲🏿یارب العالمین،اور اسی طرح آپ نے لوگوں کو ان پر مُطلع کر دیا تاکہ وہ جان لیں کہ بےشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور بےشک قیامت میں کچھ شک نہیں جب وہ (بستی والے) ان کے معاملہ میں آپس میں جھگڑ رہے تھے تو کچھ لوگوں نے کہا کہ ان پر ایک عمارت بنا دو ان کا رب ان سے خوب واقف ہے (آخر کار) جو لوگ ان کے معاملہ میں غلبہ رکھتے تھے وہ کہنے لگے کہ ہم ضرور ان پر مسجد بنائیں گے۔یارب ہمیں بعد الموت زندہ کئے جانے کا یقین،قیامت اور محشر پر یقین کامل عطا فرما،ہر طرح کے شرک سےبچا، جب مشرکین کا شر سر چڑھ کر بول رہا ہو اس وقت مشرکین کے شر سےبچا آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ
*🌹Prayer🌹*
*🤲🏿O Almighty ALLAH, and thus You made people aware of them so that they might know that Allah's promise is true and that there is no doubt in the Hour. When they (the people of the city) were disputing among themselves about their affair, some people said, 'Build a structure over them; their Lord knows best about them.' (In the end) those who prevailed in their matter said, 'We will surely build a mosque over them.' O ALLAH, grant us firm conviction in being raised after death, and complete faith in the Day of Judgment and the Gathering. Protect us from all forms of polytheism and from the evil of polytheists, especially when their evil is at its peak."🤲🏿*
📖🔎تفهـیم القرآن🔎📖
«سورة الْكَهْف» حاشیہ نمبر :17
یعنی جب وہ شخص کھانا خریدنے کے لیے شہر گیا تو دنیا بدل چکی تھی ۔ بت پرست روم کو عیسائی ہوئے ایک مدت گزر چکی تھی ۔ زبان ، تہذیب ، تمدن ، لباس ، ہر چیز میں نمایاں فرق آ گیا تھا ۔ دو سو برس پہلے کا یہ آدمی اپنی سج دھج ، لباس ، زبان ، ہر چیز کے اعتبار سے فوراً ایک تماشا بن گیا ۔ اور جب اس نے قیصر ڈیسیس کے وقت کا سکہ کھانا خریدنے کے لیے پیش کیا تو دکاندار کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔ سریانی روایت کی رو سے دکاندار کو اس پر شبہ یہ ہوا کہ شاید یہ کسی پرانے زمانے کا دفینہ نکال لایا ہے ۔ چنانچہ اس نے آس پاس کے لوگوں کو اس طرف متوجہ کیا اور آخرکار اس شخص کو حکام کے سامنے پیش کیا گیا ۔ وہاں جا کر یہ معاملہ کھلا کہ یہ شخص تو ان پیروان مسیح میں سے ہے جو دو سو برس پہلے اپنا ایمان بچانے کے لیے بھاگ نکلے تھے ۔ یہ خبر آناً فاناً شہر کی عیسائی آبادی میں پھیل گئی اور حکام کے ساتھ لوگوں کا ایک ہجوم غار پہنچ گیا ۔ اب جو اصحاب کہف خبردار ہوئے کہ وہ دو سو برس بعد سو کر اٹھے ہیں ، تو وہ اپنے عیسائی بھائیوں کو سلام کر کے لیٹ گئے اور ان کی روح پرواز کر گئی ۔
«سورة الْكَهْف» حاشیہ نمبر :18
سریانی روایت کے مطابق اس زمانے میں وہاں قیامت اور عالم آخرت کے مسئلے پر زور شور کی بحث چھڑی ہوئی تھی ۔ اگرچہ رومی سلطنت کے اثر سے عام لوگ مسیحیت قبول کر چکے تھے ، جس کے بنیادی عقائد میں آخرت کا عقیدہ بھی شامل تھا ، لیکن ابھی تک رومی شرک و بت پرستی اور یونانی فلسفے کے اثرات کافی طاقت ور تھے ، جن کی بدولت بہت سے لوگ آخرت سے انکار ، یا کم از کم اس کے ہونے میں شک کرتے تھے ۔ پھر اس شک و انکار کو سب سے زیادہ جو چیز تقویت پہنچا رہی تھی ، وہ یہ تھی کہ افسس میں یہودیوں کی بڑی آبادی تھی اور ان میں سے ایک فرقہ ( جسے صَدوقی کہا جاتا تھا ) آخرت کا کھلم کھلا منکر تھا ۔ یہ گروہ کتاب اللہ ( یعنی تورات ) سے آخرت کے انکار پر دلیل لاتا تھا ، اور مسیحی علماء کے پاس اس کے مقابلے میں مضبوط دلائل موجود نہ تھے ۔ متی ، مرقس ، لوقا ، تینوں انجیلوں میں صدوقیوں اور مسیح علیہ السلام کے اس مناظرے کا ذکر ہمیں ملتا ہے جو آخرت کے مسئلے پر ہوا تھا ، مگر تینوں نے مسیح علیہ السلام کی طرف سے ایسا کمزور جواب نقل کیا ہے جس کی کمزوری کو خود علمائے مسیحیت بھی تسلیم کرتے ہیں ۔ ( ملاحظہ ہو : متی باب 22 ، آیت 23 تا 33 ۔ مرقس ، باب 12 ، آیت 18 تا 27 ۔ لوقا ، باب 20 ، آیت 27 تا 40 ) اسی وجہ سے منکرین آخرت کا پلا بھاری ہو رہا تھا اور مومنین آخرت بھی شک و تذبذب میں مبتلا ہوتے جا رہے تھے ۔ عین اس وقت اصحاب کہف کے بعث کا یہ واقعہ پیش آیا اور اس نے بعث بعد الموت کا ایک ناقابل انکار ثبوت بہم پہنچا دیا
«سورة الْكَهْف» حاشیہ نمبر :19
فحوائے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صالحین نصاریٰ کا قول تھا ۔ ان کی رائے یہ تھی کہ اصحاب کہف جس طرح غار میں لیٹے ہوئے ہیں ، اسی طرح انہیں لیٹا رہنے دو اور غار کے دہانے کو تیغا لگا دو ، ان کا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ کون لوگ ہیں ، کس مرتبے کے ہیں اور کس جزا کے مستحق ہیں ۔
«سورة الْكَهْف» حاشیہ نمبر :20
اس سے مراد رومی سلطنت کے ارباب اقتدار اور مسیحی کلیسا کے مذہبی پیشوا ہیں جن کے مقابلے میں صالح العقیدہ عیسائیوں کی بات نہ چلتی تھی ۔ پانچویں صدی کے وسط تک پہنچتے پہنچتے عام عیسائیوں میں اور خصوصاً رومن کیتھولک کلیسا میں شرک اور اولیاء پرستی اور قبر پرستی کا پورا زور ہو چکا تھا ، بزرگوں کے آستانے پوجے جا رہے تھے ، اور مسیح ؑ ، مریم ؑ اور حواریوں کے مجسمے گرجوں میں رکھے جا رہے تھے ۔:: اصحاب کہف کے بعث سے چند ہی سال پہلے 431ء میں پوری عیسائی دنیا کے مذہبی پیشواؤں کی ایک کونسل اسی افسس کے مقام پر منعقد ہو چکی تھی ، جس میں مسیح علیہ السلام کی الوہیت اور حضرت مریم ؑ کے ’’ مادر خدا ‘‘ ہونے کا عقیدہ چرچ کا سرکاری عقیدہ قرار پایا تھا ۔ اس تاریخ کو نگاہ میں رکھنے سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ «اَلَّذِیْنَ غَلَبُوْ اعَلٰٓی اَمْرِھِمْ» سے مراد وہ لوگ ہیں جو سچے پیروان مسیح کے مقابلے میں اس وقت عیسائی عوام کے رہنما اور سربراہ کار بنے ہوئے تھے اور مذہبی و سیاسی امور کی باگیں جن کے ہاتھوں میں تھیں ۔ یہی لوگ دراصل شرک کے علم بردار تھے اور انہوں نے ہی فیصلہ کیا کہ اصحاب کہف کا مقبرہ بنا کر اس کو عبادت گاہ بنایا جائے
«سورة الْكَهْف» حاشیہ نمبر :21
مسلمانوں میں سے بعض لوگوں نے قرآن مجید کی اس آیت کا بالکل الٹا مفہوم لیا ہے ۔ وہ اسے دلیل ٹھہرا کر مقابر صلحاء پر عمارتیں اور مسجدیں بنانے کو جائز قرار دیتے ہیں ۔ حالانکہ یہاں قرآن ان کی اس گمراہی کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ جو نشانی ان ظالموں کو بعث بعد الموت اور امکان آخرت کا یقین دلانے کے لیے دکھائی گئی تھی ، اسے انہوں نے ارتکاب شرک کے لیے ایک خداداد موقع سمجھا اور خیال کیا کہ چلو ، کچھ اور ولی پوجا پاٹ کے لیے ہاتھ آ گئے ۔ پھر آخر اس آیت سے قبور صالحین پر مسجدیں بنانے کے لیے کیسے استدلال کیا جا سکتا ہے جبکہ نبی ﷺ کے یہ ارشادات اس کی نہی میں موجود ہیں :
«لعن اللہ تعالیٰ زائرات القبور و المتخذین علیھا المساجد والسرج ۔ ( احمد ، ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ )» اللہ نے لعنت فرمائی ہے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر ، اور قبروں پر مسجدیں بنانے اور چراغ روشن کرنے والوں پر ۔
«الاوان من کان قبلکم کانوا یتخذون قبور انبیاءھم مَساجد فانی اَنھٰکم عن ذٰلک ( مسلم )» خبردار رہو ! تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیتے تھے ، میں تمہیں اس حرکت سے منع کرتا ہوں ۔ «لعن اللہ تعالیٰ الیھود و النصاریٰ اتخذوا قبور انبیآءھم مساجد ( احمد ، بخاری ، مسلم ، نَسائی )» اللہ نے لعنت فرمائی یہود اور نصاریٰ پر ، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا ۔
«اِنَّ اولٰٓئک اذا کان فیھم الرجل الصالح فمات بنوا علیٰ قبرہ مسٰجد او صوروا فیہ تلک الصور اولٰٓئک شرار الخلق یوم القیٰمۃ ( احمد ، بخاری ، مسلم ، نسائی )» ان لوگوں کا حال یہ تھا کہ اگر ان میں کوئی مرد صالح ہوتا تو اس کے مرنے کے بعد اس کی قبر پر مسجدیں بناتے اور اس کی تصویریں تیار کرتے تھے ۔ یہ قیامت کے روز بدترین مخلوقات ہوں گے ۔
نبی ﷺ کی ان تصریحات کی موجودگی میں کون خدا ترس آدمی یہ جرأت کر سکتا ہے کہ قرآن مجید میں عیسائی پادریوں اور رومی حکمرانوں کے جس گمراہانہ فعل کا حکایۃً ذکر کیا گیا ہے ، اس کو ٹھیک وہی فعل کرنے کے لیے دلیل و حجت ٹھیرائے ؟
اس موقع پر یہ ذکر کر دینا بھی خالی از فائدہ نہیں کہ 1834ء میں ریورنڈٹی ارنڈیل ( Arundell ) نے ’’ ایشیائے کوچک کے اکتشافات ‘‘ ( Discoveries in Asia Minor ) کے نام سے اپنے جو مشاہدات شائع کیے تھے ان میں وہ بتاتا ہے کہ قدیم شہر افسس کے کھنڈرات سے متصل ایک پہاڑی پر اس نے حضرت مریم اور ’’ سات لڑکوں ‘‘ ( یعنی اصحاب کہف ) کے مقبروں کے آثار پائے ہیں ۔
🌹نماز نیند سے بہتر ہے🌹
📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕
🤲🏻طالب دعاء 🤲🏻

🌷السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُہ🌷🌹10 ستمبر  16 ربیع الاول صبح شام بخیرزندگی🌹📕سورة الکہف آیت 20📕اِنَّہُمۡ ...
09/09/2025

🌷السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُہ🌷
🌹10 ستمبر 16 ربیع الاول صبح شام بخیرزندگی🌹
📕سورة الکہف آیت 20📕
اِنَّہُمۡ اِنۡ یَّظۡہَرُوۡا عَلَیۡکُمۡ یَرۡجُمُوۡکُمۡ اَوۡ یُعِیۡدُوۡکُمۡ فِیۡ مِلَّتِہِمۡ وَ لَنۡ تُفۡلِحُوۡۤا اِذًا اَبَدًا ﴿۲۰﴾
اگر کہیں ان لوگوں کا ہاتھ ہم پر پڑ گیا تو بس سنگسار ہی کر ڈالیں گے ، یا پھر زبر دستی ہمیں اپنی ملت میں واپس لے جائیں گے ، اور ایسا ہوا تو ہم کبھی فلاح نہ پاسکیں گے ۔ ۔ ۔ ۔
*For if they should come upon us they will stone us to death or force us to revert to their faith whereafter we shall never prosper.""*
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
🤲🏿یارب العالمین، بےشک اگر وہ ان کی خبر پالیتے (تو) انہیں رَجم کر دیتے یا انہیں اپنے دین میں واپس لے جاتے اور (ایسا ہوتا تو) وہ کبھی فلاح نہیں پاتے۔ یارب جس طرح تو نے اصحاب کہف کے دل ایمان سے بھر دئیے تھے،ہمارے دل بھی ایمان کی دولت سے بھر دے، شرک سے مشرکین کی سازشوں سے محفوظ فرما یارب ہمیں صرف اپنے پہ توکل کی توفیق دے حلال اور طیب رزق عطا فرما، نرمی اور باریک بینی عطا فرما،ایمان کی راہ چھوڑ کر خسارہ پانے والے مشرکوں کی راہ اختیار کرنے سے بچا اور فلاح پا نے والوں میں شامل فرما آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ🤲🏿
*🌹Prayer🌹*
*🤲🏿O Almighty ALLAH, indeed if they were to get knowledge of them, they would stone them or turn them back to their faith, and they would never succeed. O ALLAH, just as You filled the hearts of the companions of the cave with faith, fill our hearts with the wealth of faith. Protect us from polytheism and the plots of polytheists. O ALLAH, grant us the ability to put our trust only in You, provide us with halal and pure sustenance, and grant us gentleness and discernment. Save us from following the path of the polytheists who have incurred loss by abandoning the path of faith, and make us among those who attain success. Ameen"*🤲🏿
📖🔎تفسیر عبدالسلام بن محمد🔎📖
(آیت 20،19) ➊ «وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ …:» یعنی جیسے ہم نے انھیں ایک حیرت انگیز طریقے سے غار کے اندر سلایا تھا اسی طرح انھیں اٹھا دیا کہ ان کے جسم صحیح سالم تھے، ان میں کوئی تبدیلی نہ آئی تھی، تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے سوال کریں اور جب انھیں پتا چلے کہ وہ اتنی لمبی مدت سونے کے بعد بیدار ہوئے ہیں تو انھیں ہماری قدرت کا اور مردوں کو زندہ کرنے کا اپنی ذات میں عملی مشاہدہ ہو جائے، ان کا ایمان و یقین مزید مضبوط ہو جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت پر اس کا شکر ادا کریں۔::➋ «قَالَ قَآىِٕلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ …:» حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”معلوم ہوتا ہے کہ وہ غار میں دن کے پہلے پہر داخل ہوئے تھے اور دن کے آخری حصے میں بیدار ہوئے۔ اس لیے اس سوال کے جواب میں کہ تم کتنی مدت یہاں ٹھہرے، کسی نے ایک دن اور کسی نے دن کا کچھ حصہ کہا، مگر جب غار کے اردگرد کا عالم بالکل ہی بدلا ہوا نظر آیا تو کہنے لگے، تمھارا رب زیادہ جانتا ہے کہ تم کتنی مدت ٹھہرے ہو۔::➌ اس آیت سے معلوم ہوا کہ نہ پہلے سوال کرنے والے ولی کو وہاں ٹھہرنے کی مدت کا علم تھا، نہ دوسرے ولیوں کو، جب کہ کئی لوگ اپنے ائمہ اور اولیاء کو «”مَا كَانَ وَمَا يَكُوْنُ“» (جو ہو چکا اور جو ہو گا) کا جاننے والا سمجھتے ہیں۔::➍ یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ کے نیک بندے بھی بعض اوقات اندازے اور گمان سے کوئی بات کہہ دیتے ہیں، مگر ایسی بات میں وہ اصل علم اللہ کے حوالے کرنے سے غفلت نہیں کرتے۔::➎ «فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ …:» غار میں ٹھہرنے کی مدت پر بحث کے بعد جب وہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو انھوں نے اصل مدت کے اندازے کے لیے اپنے کسی ایک ساتھی کو چاندی (کا سکہ) دے کر شہر بھیجنے کا فیصلہ کیا اور اسے چند باتوں کا خیال رکھنے کی تاکید کی۔ ایک یہ کہ کھانا لاتے وقت یہ دیکھ لے کہ شہر میں سب سے ستھرا کھانا کس کا ہے، اس سے تمھارے لیے کچھ کھانا لے آئے۔ «” اَزْكٰى “» کا معنی سب سے پاکیزہ، سب سے ستھرا ہے، اس میں کھانے کا حلال و طیب ہونا بھی شامل ہے اور سب سے صاف ستھرا ہونا بھی۔ معلوم ہوا کہ یہ نوجوان شہزادے تھے، یا امراء و وزراء کے چشم و چراغ تھے، جو شہر کے سب سے ستھرے ہوٹل سے کم پر راضی نہ تھے۔ دوسری بات یہ کہ نرمی اور باریک بینی کی کوشش کرے، کیونکہ سختی سے کام بگڑ جاتے ہیں اور باریک بینی اختیار نہ کرنے سے راز کھل جاتے ہیں اور مطلوبہ معلومات بھی حاصل نہیں ہوتیں۔ کوشش کا مفہوم «” وَ لْيَتَؔلَطَّفْ “» (باب تفعل) سے ظاہر ہو رہا ہے اور ”لطف“ کے مفہوم میں نرمی اور باریک بینی دونوں شامل ہیں۔ تیسری تاکید یہ کی کہ تمھارے بارے میں کسی کو ہر گز معلوم نہ ہونے دے۔ کیونکہ اگر مشرکین کو تمھارا پتا چل گیا تو وہ تمھیں سنگ سار کر دیں گے، یا جبراً تمھیں دوبارہ اپنے مشرکانہ دین میں واپس لے آئیں گے۔ ایسی صورت میں تم کبھی فلاح نہ پا سکو گے، کیونکہ مشرکوں پر اللہ نے جنت حرام کر دی ہے۔
🌹نماز نیند سے بہتر ہے🌹
📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕
🤲🏻طالب دعاء 🤲🏻

🌷السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُہ🌷🌹8 ستمبر  14 ربیع الاول صبح شام بخیرزندگی🌹📕سورة الکہف آیت 19📕وَ کَذٰلِکَ...
07/09/2025

🌷السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُہ🌷
🌹8 ستمبر 14 ربیع الاول صبح شام بخیرزندگی🌹
📕سورة الکہف آیت 19📕
وَ کَذٰلِکَ بَعَثۡنٰہُمۡ لِیَتَسَآءَلُوۡا بَیۡنَہُمۡ ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنۡہُمۡ کَمۡ لَبِثۡتُمۡ ؕ قَالُوۡا لَبِثۡنَا یَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ یَوۡمٍ ؕ قَالُوۡا رَبُّکُمۡ اَعۡلَمُ بِمَا لَبِثۡتُمۡ ؕ فَابۡعَثُوۡۤا اَحَدَکُمۡ بِوَرِقِکُمۡ ہٰذِہٖۤ اِلَی الۡمَدِیۡنَۃِ فَلۡیَنۡظُرۡ اَیُّہَاۤ اَزۡکٰی طَعَامًا فَلۡیَاۡتِکُمۡ بِرِزۡقٍ مِّنۡہُ وَ لۡـیَؔ‍‍‍تَلَطَّفۡ وَ لَا یُشۡعِرَنَّ بِکُمۡ اَحَدًا ﴿۱۹﴾
اور اسی عجیب کرشمے سے ہم نے انہیں اٹھا بٹھایا 16 تاکہ ذرا آپس میں پوچھ گچھ کریں ۔ ان میں سے ایک نے پوچھا کہو ، کتنی دیر اس حال میں رہے؟ “ دوسروں نے کہا” شاید دن پھر یا اس سے کچھ کم رہے ہوں گے ۔ “پھروہ بولے” اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارا کتنا وقت اس حال میں گزرا ۔ چلو ، اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ سکہ دے کر شہر بھیجیں اور وہ دیکھے کہ سب سے اچھا کھانا کہاں ملتا ہے ۔ وہاں سے وہ کچھ کھانے کےلیے لائے ۔ اور چاہیے کہ ذرا ہوشیاری سے کام کرے ، ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو ہمارے یہاں ہونے سے خبردار کر بیٹھے ۔
*Likewise We roused them in a miraculous way that they might question one another. One of them asked: ""How long did you remain (in this state)?"" The others said: ""We remained so for a day or part of a day."" Then they said: ""Your Lord knows better how long we remained in this state. Now send one of you to the city with this coin of yours and let him see who has the best food and let him buy some provisions from there. Let him be cautious and not inform anyone of our whereabouts.*
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹
🤲🏿یارب العالمین، اور (جیسے آپ نے اُنہیں سلایا تھا) اسی طرح آپ نے اُنہیں اٹھایا تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے سوال کریں (چنانچہ) ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا تم (یہاں) کتنی دیر ٹھہرے ہوگے؟انہوں نے کہا کہ ہم ایک دن یا ایک دن سے بھی کم ٹھہرے ہوں گے انہوں نے کہا تمہارا رب ہی خوب جانتا ہے کہ تم (یہاں) کتنا عرصہ ٹھہرے ہو لہٰذا تم اپنے میں سے کسی کو (چاندی کا) یہ سکہ دے کر بھیجو شہر کی طرف لہٰذا وہ دیکھے کہ کون سا زیادہ پاکیزہ کھانا ہے پھر تمہارے پاس اس سے کچھ کھانا لے آئے اور وہ نرم رویّہ اختیار کرے اور کسی کو تمہاری خبر نہ ہونے دے۔یارب ہمیں نیند میں جانے سے پہلے اصحاب کہف کی طرح اہل ایمان کی طرح توحید پر عزیمت عطا فرما۔ بیداری اور نیند میں ہم پر اپنی رحمت دراز کر۔ جاگنے پر پھر سے اپنی جدوجہد پر استقامت کا جذبہ نصیب فرما۔ پاکیزہ رزق کا قصد کرنے والا بنا اور مشرکوں کے شر کے خلاف تدبیر و احتیاط کا رویہ اختیار کرنے والا بنا بلخصوص کہ جب ان کا شر عروج پر ہو۔ معاملات میں نرمی کی خوبصورتی عطا فرما🤲🏿آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ
*🌹Prayer🌹*
*🤲🏿O Almighty ALLAH and (just as You had put them to sleep) in the same way You raised them up so that they might question one another. One of them said, 'How long have you stayed (here)?' They said, 'We have stayed a day or part of a day.' They said, 'Your ALLAH knows best how long you have stayed. Now send one of you with this silver coin to the city, and let him find out which is the purest food, and bring you provision from it, and let him be courteous and let no one be aware of you.' O ALLAH, grant us, like the companions of the cave, firm resolve on monotheism before we fall asleep, like the believers. Shower Your mercy upon us in both wakefulness and sleep. When we wake, grant us the spirit of perseverance in Your cause. Make us seekers of pure sustenance and adopt a cautious approach against the evil of polytheists, especially when their evil is at its peak. Grant us the beauty of gentleness in our affairs. Ameen.”🤲🏿*
📖🔎تفہیم القرآن🔎📖
«سورة الْكَهْف» حاشیہ نمبر :16
یعنی جیسے عجیب طریقے سے وہ سلائے گئے تھے اور دنیا کو ان کے حال سے بے خبر رکھا گیا تھا ، ویسا ہی عجیب کرشمہ قدرت ان کا ایک طویل مدت کے بعد جاگنا بھی تھا ۔
🔎فی ظلال القرآن🔎
اس قصے کے بیان میں سرپرائز کا عمل جاری ہے۔ اچانک جب یہ منظر سامنے آتا ہے تو نوجوان اب جاگ اٹھتے ہیں۔ وہ یہ اندازہ صحیح اندازہ نہیں کرسکتے کہ انہوں نے اس غار میں کتنا وقت گزارا ۔ اور کتنی دیر تک سوتے رہے۔ یہ آنکھیں ملتے ہیں ، ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں۔ پوچھتے ہیں بھائی کتنی دیر ہوگئی۔ طویل نیند سے جاگ کر ہر شخص پہلا سوال یہی کرتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ ایک طویل نیند کے کچھ آثار بھی پا رہے تھے۔ تو انہوں نے یہی اندازہ لگایا۔ لبثنا یوما او بعض یوم (٨١ : ٩١) شاید ایک دن یا اس سے کچھ کم اس کے بعد انہوں نے یہ موضوع سخن ترک کردیا ، جس پر بحث کا کوئی عملی فائدہ نہ تھا۔ اور اس مسئلے کو اللہ کے علم کے حوالے کر کے انہوں نے عملی کام میں مشغول ہونا مناسب سمجھا۔ یہ اہل ایمان کی شان اور عادت ہوتی ہے کہ وہ ان معاملات میں طویل دلچسپی نہیں لیتے ، جن میں ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ یہ لوگ بھوکے تھے اور ان کے پاس چاندی کے روپے تھے جنہیں وہ شہر سے لے کر نکلے تھے۔ قالوا ربکم اعلم بما لبتتم فابعثوآ احدکم بورقکم ھذہ الی المدینۃ فلینظر ایھا از کی طعاماً فلیاتکم برزق منہ (٨١ : ٩١) پھر وہ بولے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارا کتنا وقت اسی حالت میں گزرا ، چلو اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ سکہ دے کر شہر بھیجیں اور وہ دیکھے کہ سب سے اچھا کھانا کہاں ملتا ہے ، وہاں سے وہ کچھ کھانے کے لئے لائے۔یعنی وہ پاکیزہ اور اچھا کھانا شہر میں تلاش کرے اور اس میں سے کچھ خرید کرلے آئے۔وہ اس بات سے ڈرتے تھے کہ ان کی جائے پناہ کسی کو معلوم نہ ہوجائے اور انہیں شہر کے حکمران پکڑ نہ لیں اور اس طرح ان کو سنگسار کر کے قتل نہ کردیں۔کیونکہ ان حکمرانوں کے خیال میں وہ مروجہ دین سے خارج ہوگئے تھے۔اس لئے کہا ایک مشرک گاؤں میں وہ ایک خدا کو پوجتے تھے یا انہیں اس کا ڈر تھا کہ انہیں ان کے عقائد کی وجہ سے سزا دے کر فتنے میں نہ ڈال دیں۔یہی وہ بات تھی جس سے وہ ڈرتے تھے۔اسی وجہ سے وہ اس شخص کو جو شہر جا رہا تھا ، سخت احتیاط کرنے کی تاکید کر رہے تھے۔ ولیتلطف ولایشعرن بکم احداً (٩١) انھم ان یظھروا علیکم یرجموکم او یعبدوکم فی ملتھم ولن تفلحوا اذا ابداً (٠٢) (٨١ : ٩١-٠٢) اور چاہئے کہ ذرا ہوشیاری سے کام کرے ، ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو ہمارے یہاں ہونے سے خبردار کر بیٹھے۔اگر کہیں ان لوگوں کا ہاتھ ہم پر پڑگیا تو بس سنگسار ہی کر ڈالیں گے ، یا پھر زبردستی ہمیں اپنی ملت میں واپس لے جائیں گے ، اور ایسا ہوا تو ہم کبھی فلاح نہ پا سکیں گے۔ ظاہر ہے کہ جو شخص ایمان کی راہ چھوڑ کر شرک کی راہ اختیار کرے وہ کب فلاح پا سکتا ہے۔ یہ تو عظیم خسارہ ہے ۔ ہم اس منظر میں دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ اس طرح ہم کلام ہیں ، ڈر رہے ہیں ، پکڑے جانے کا خوف ہے اور سہمے ہوئے ہیں۔ ان کو معلوم نہیں کہ زمانہ گزر گیا۔ سال و ماہ ایک عرصہ تک گردش کرچکے ہیں۔ صدیوں کے بعد نئے لوگ پیدا ہوگئے ہیں او نیا زمانہ ہے۔ وہ شہر جس کے وہ باشندے تھے اس کے در و دیوار بدل گئے ہیں اور جن حکمرانوں سے وہ ڈر رہے ہیں ان کا دور ہی چلا گیا ہے اور وہ قصہ کہ اس طرح فلاح صدی میں فلاں حکمران کے ظلم سے تنگ آ کر نوجوانوں کا ایک گروہ شہر چھوڑ گیا تھا۔ وہ باپ دادا سے لوگوں میں نقل ہوتا چلا آ رہا تھا اور لوگوں کے درمیان ان کے بارے میں اختلاف رائے بھی نقل در نقل ہوتا ہوتا چلا آ رہا تھا۔ان کی تعداد ان کے عقائد کے بارے میں اور یہ کہ کتنا عرصہ ہوا ہے ان کا اس شہر کو چھوڑنے کا اور یہ کہ کب سے وہ لوگ روپوش ہیں۔یہاں آ کر پردہ گر جاتا ہے ، غار کے اندر ان کی گفتگو ختم ہو جاتی ہے۔ یہاں سیاق کلام میں پھر ایک خلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ذہن انسانی خود اسے بھر دیتا ہے اورایک دوسرا منظر سامنے آجاتا ہے۔اب معلوم ہوجاتا ہے کہ اہل شراب سب کے سب مومن ہوچکے ہیں اور اہل شہر کو جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص اصحاب کہف میں سے ہے جو مدت دراز ہوئی ایمانی جذبے سے شہر چھوڑ کر چلے گئے تھے تو وہ ان لوگوں کا نہایت درجہ احترام کرتے ہیں لیکن ہم یہاں سوچ سکتے ہیں کہ جب اس شخص کو معلوم ہوگا کہ وہ جب شہر چھوڑ کر گئے ہیں تو صدیوں کا عرصہ گزر گیا ہے۔ نیز اس شخص نے تو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ شہر بدل گیا ہے۔ جب سے انہوں نے چھوڑا ہے ، بہت ہی طویل عرصہ گزر گیا ہے۔ان کے اردگرد کی دنیا بالکل بدل گئی ہے۔اس لئے ان کے لئے ہر چیز ایک عجوبہ ہے۔ وہ جب اپنے آپ کو دیکھ رہے تھے تو وہ زمانہ قدیم کے لوگ نظر آتے تھے۔ بلکہ لوگوں کے احساس اور ان کی نظر میں وہ عجوبہ تھے۔اس لئے لوگوں نے بھی ان کے ساتھ عام انسانوں جیسا سلوک نہ کیا ہوگا اور ان کے اپنے دور میں جو رابطے ، رشتہ داریاں ، رسم و رواج کے عادات واطوار سب کے سب بدل گئے ہیں ، گویا وہ زمانہ قدیم کی ایک زندہ یاد گار ہیں۔ جو واقعی زندہ اس معاشرے میں لا کر کھڑے کردیئے گئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے لوگوں پر اللہ کا مزید کرم یہی ہو سکتا ہے کہ ان کو فوراً اس دنیا سے اٹھا لے۔ چناچہ یہ لوگ فی الفور فوت ہوجاتے ہیں۔یہ ہمارا کام ہے کہ ہم یہ سب واقعات تصور کرلیں۔کیونکہ قرآن ان واقعات کو چھوڑ کر اب آخری منظر پیش کرتا ہے۔ یہ لوگ فوت ہوگئے ہیں اور لوگ اس غار کے باہر جمع ہیں اور ان کے بارے میں باہم گفتگو اور تکرار کر رہے ہیں۔لوگوں کا تنازعہ یہ تھا کہ یہ لوگ کس دین پر تھے۔اب ان کو کس طرح دوام بخشا جائے اور کیا ذرائع اختیار کئے جائیں کہ ان کا ذکر ہمیشہ کے لئے رہ جائے اور اگلی نسلیں بھی انہیں یاد رکھیں تاکہ ان کے اس عجیب واقعہ سے اگلی نسلیں بھی عبرت لیں اور اصحاب کہف ، سب کے لئے مشعل راہ ہوں۔
🌹نماز نیند سے بہتر ہے🌹
📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕
🤲🏻طالب دعاء 🤲🏻

Address

Islamabad

Telephone

+923109545142

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when میرا دیس این اے 51 مری،کہوٹہ،کوٹلی ستیاں،کلر سیداں posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to میرا دیس این اے 51 مری،کہوٹہ،کوٹلی ستیاں،کلر سیداں:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram