31/10/2025
عنوان: مساجد میں تنخواہیں دینے کا خیرمقدم
اگر مذہبی شخصیات اسمبلیوں میں خدمات سرانجام دے کر تنخواہیں حاصل کرتی ہیں تو یہ کوئی معیوب بات نہیں، بلکہ ایک منصفانہ اور جائز عمل ہے۔ پھر یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب مساجد و مدارس میں علما اپنی زندگیاں دینی خدمت کے لیے وقف کرتے ہیں تو وہاں ان کے لیے تنخواہیں مقرر کرنے پر اعتراض کیوں کیا جاتا ہے؟ یہ کہنا کہ “ہم حکومت کی تنخواہ نہیں لیں گے” اُس زمانے کا نعرہ تھا جب انگریزی غلامی کا خاتمہ مقصود تھا۔انگریز کے اقتدار سے پہلے معاملہ اس کے برعکس تھا۔مگر پاکستان کے قیام کے بعد، جب یہ ایک خودمختار اسلامی ریاست بن چکی ہے، تو اپنے ہی نظام کے تحت تنخواہیں لینا عین فطری اور جائز عمل ہے۔ علما کو چاہیے کہ وہ اپنی خدمات کا درست معاوضہ لینے کو معیوب نہ سمجھیں بلکہ اسے دینی خدمت کے تسلسل کا حصہ سمجھیں۔اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ مساجد و مدارس کے خادمین کو معاشی طور پر باعزت مقام دیا جائے تاکہ وہ بے فکری سے دین کی خدمت انجام دے سکیں۔ ان کے لیے مستقل تنخواہوں کا نظام قائم کرنا نہ صرف انصاف کا تقاضا ہے بلکہ یہ دین و ملت دونوں کے مفاد میں ہے۔آپ جیسی روشن فکر شخصیات کو اس مثبت اقدام کا خیر مقدم کرنا چاہیے اور ان تمام کاوشوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو دینی خدمت گاروں کے معاشی استحکام کی ضامن ہوں۔
✍️🏻ڈاکٹر محمدغیاث