Islamabad Psychological Support

Islamabad Psychological Support Islamabad Psychological Support treats all patients without medicine's. call at helpline: 0316-5823033 and schedule your appointment.

Islamabad Psychological Support are Highly Foreign Professional team of Psychologist’s, prof Dr Nazia Psychiatrists and Counsellors to provide you professional & result oriented services

28/12/2025

مدد کرنے والے بہت ہوتے ہیں، مگر زندگی بدلنے والا صرف ایک ہوتا ہے آپ خود۔
یہ بات ذہن میں بٹھا لیں اور جتنی جلدی بٹھا لیں، اتنا بہتر ہے۔ ڈاکٹر آپ کو صحت مند نہیں بنا سکتا۔ وہ صرف راستہ دکھا سکتا ہے۔ دوائی آپ کھاتے ہیں، پرہیز آپ کرتے ہیں، اور طرزِ زندگی آپ بدلتے ہیں۔

استاد آپ کو ذہین نہیں بنا سکتا۔ وہ علم دے سکتا ہے، سمجھ پیدا کر سکتا ہے، مگر سوچنے کی محنت آپ کو خود کرنی ہوتی ہے۔

مینٹور آپ کو امیر نہیں بنا سکتا۔ وہ نقشہ دے سکتا ہے، غلطیوں سے بچا سکتا ہے، مگر قدم آپ ہی اٹھاتے ہیں، رسک آپ ہی لیتے ہیں۔

ٹرینر آپ کو فِٹ نہیں بنا سکتا۔ وہ ایکسرسائز سکھا دے گا،لیکن جم جانا، پسینہ بہانا، اور مستقل رہنا یہ سب آپ کی ذمہ داری ہے۔

روحانی رہنما آپ کو پُرسکون نہیں بنا سکتا۔ وہ راستہ بتا سکتا ہے، مگر خاموشی سیکھنا، اپنے نفس کو قابو میں رکھنا، اور اندر جھانکنا یہ سفر آپ کو اکیلے طے کرنا ہوتا ہے۔

ڈائٹیشن آپ کو دُبلا نہیں بنا سکتا۔ وہ پلیٹ ڈیزائن کر دے گا، مگر منہ تک لقمہ آپ خود لے جاتے ہیں۔

یہ سب باتیں تلخ لگتی ہیں، کیونکہ ہم لاشعوری طور پر کسی کو ذمہ دار ٹھہرانا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کوئی آئے، ہمیں ٹھیک کر دے، اور ہم جیسے ہیں ویسے ہی رہیں مگر زندگی ایسے کام نہیں کرتی۔

اصل سبق یہی ہے کہ دن کے اختتام پر ذمہ داری صرف ایک ہی شخص کی ہوتی ہے اور وہ آپ ہیں۔ مدد لینے میں کوئی برائی نہیں، رہنمائی مانگنا کمزوری نہیں لیکن اختیار کسی اور کو دے دینا خاموش خودکشی کے برابر ہے۔

جب تک آپ ownership نہیں لیتے، کوئی نصیحت، کوئی کورس، کوئی سیشن آپ کو نہیں بچا سکتا۔ جس دن آپ نے یہ مان لیا کہ میری صحت، میرا دماغ، میرا مستقبل اور میرا سکون سب میری ذمہ داری ہیں، اسی دن سے اصل تبدیلی شروع ہوگی۔
آپ واقعی اپنی زندگی کی ذمہ داری خود لینے کے لیے تیار ہیں، تو خوشخبری یہ ہے کہ اسی موضوع پر ہماری ایک فری ورکشاپ آنے والی ہے۔
اس ورکشاپ میں ہم عملی طریقوں کے ساتھ یہ سکھائیں گے کہ
ownership کیسے لی جاتی ہے،
ذہنی بلاکس کیسے توڑے جاتے ہیں،
اور خود کو action میں کیسے لایا جاتا ہے۔
ورکشاپ جوائن کرنے کے لیے ابھی WhatsApp پر رابطہ کریں اور اپنی سیٹ کنفرم کریں۔
03165823033

27/12/2025
27/12/2025

اے اللہ! میرے ماں باپ کو صحتِ کاملہ عطا فرما،
ان کے دلوں کو ہر غم، پریشانی اور بیماری سے محفوظ رکھ۔
یا رب! ان کی زندگی میں برکت عطا فرما،
ان کی ہر جائز دعا قبول فرما اور ان کے چہروں پر ہمیشہ مسکراہٹ رکھ۔

27/12/2025

خود کو فتح کرنے کے 15 بے رحمانہ اصول
سکندرِ اعظم نے آدھی دنیا فتح کر لی تھی، لیکن وہ اپنے غصے اور جذبات کو فتح نہ کر سکا اور جوانی میں تباہ ہو گیا۔ دنیا کو فتح کرنا آسان ہے، لیکن اپنے "نفس" (Self) کو فتح کرنا سب سے مشکل اور خونی جنگ ہے۔

1. آئینے میں نظر آنے والا شخص آپ کا واحد دشمن ہے۔
دنیا، حکومت، یا حالات آپ کو نہیں روک رہے، آپ خود روک رہے ہیں۔ آپ کی سستی، آپ کا ڈر اور آپ کی انا وہ زنجیریں ہیں جو آپ نے خود پہنی ہیں۔ اس دشمن کو پہچانیں۔
2. اپنے "موڈ" کو اپنا خدا نہ بنائیں۔
“میرا دل نہیں چاہ رہا" یہ جملہ ناکام لوگوں کا قومی ترانہ ہے۔ خود پر فتح تب شروع ہوتی ہے جب آپ وہ کام کریں جو ضروری ہے، چاہے آپ کا ہر ریشہ چیخ چیخ کر منع کر رہا ہو۔ نظم و ضبط (Discipline) جذبات کا قاتل ہے۔
3. جسم ایک اچھا غلام لیکن ظالم آقا ہے۔
اگر آپ اپنے جسم کی سنیں گے، تو یہ ہمیشہ آرام، نیند، جنسی لذت اور زیادہ کھانا مانگے گا۔ اپنے جسم کو حکم دیں، اس سے درخواست نہ کریں۔ جب دماغ کہے "اٹھو"، تو جسم کو اٹھنا ہی پڑے گا۔
4. فوری لذت (Instant Gratification) کو زہر سمجھیں۔جو چیز فوراً مزہ دیتی ہے (سوشل میڈیا، فاسٹ فوڈ، فحاشی)، وہ آپ کی قوتِ ارادی کو دیمک کی طرح کھا جاتی ہے۔ تکلیف دہ راستے کا انتخاب کریں۔ جو چیز آج مشکل ہے، وہی کل آپ کو مضبوط بنائے گی۔
5. تنہائی کا سامنا کرنا سیکھیں۔
کمزور لوگ خود سے بھاگنے کے لیے لوگوں، شور اور نشے کا سہارا لیتے ہیں۔ خود کو فتح کرنے والا شخص خاموشی میں اپنے خیالات کے ساتھ بیٹھ سکتا ہے۔ جب آپ اکیلے ہونے سے نہیں ڈرتے، تو کوئی آپ کو بلیک میل نہیں کر سکتا۔
6. اپنی انا (Ego) کو روزانہ قتل کریں۔
انا آپ کو یہ جھوٹ بولتی ہے کہ "میں مکمل ہوں"۔ یہ سیکھنے اور بدلنے کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا اور خود پر ہنسنا سیکھیں۔ جو جھک سکتا ہے، وہی فتح پا سکتا ہے۔
7. دوسروں کی تعریف کے بھکاری نہ بنیں۔
اگر آپ کا سکون دوسروں کی "واہ واہ" پر منحصر ہے، تو آپ ان کے غلام ہیں۔ خود کو فتح کرنے والا شخص اپنی قدر خود طے کرتا ہے۔ چاہے دنیا گالیاں دے یا تالیاں بجائے، اس کا اندرونی موسم تبدیل نہیں ہوتا۔
8. اپنی زبان پر لگام ڈالیں۔
جو شخص اپنی زبان کنٹرول نہیں کر سکتا، وہ اپنی زندگی کنٹرول نہیں کر سکتا۔ غصے میں خاموش رہنا اور راز کو راز رکھنا خود پر قابو پانے کی سب سے بڑی نشانیاں ہیں۔ کم بولیں، تول کر بولیں۔
9. بہانوں (Excuses) کو اپنی لغت سے نکال دیں۔
“میں لیٹ ہو گیا کیونکہ ٹریفک تھی" نہیں! آپ لیٹ ہوئے کیونکہ آپ وقت پر نہیں نکلے۔ مکمل اور بے رحمانہ ذمہ داری قبول کریں۔ حالات کو موردِ الزام ٹھہرانا کمزوری ہے۔
10. جس چیز سے ڈر لگتا ہے، اسی طرف بھاگیں۔
خوف ایک کمپاس ہے،یہ بتاتا ہے کہ آپ کو کہاں جانا چاہیے۔ اگر آپ کو اسٹیج پر جانے سے ڈر لگتا ہے، تو اب آپ کے لیے اسٹیج پر جانا فرض ہے۔ خوف کا علاج صرف عمل (Action) ہے۔
11. خود سے کیے گئے وعدے مقدس ہیں۔جب آپ کہتے ہیں "میں کل صبح ورزش کروں گا" اور پھر نہیں کرتے، تو آپ اپنی نظروں میں اپنی ساکھ گرا دیتے ہیں۔ خود سے کیا گیا وعدہ توڑنا خودکشی کے مترادف ہے۔
12. ماضی کے پچھتاووں کا بوجھ اتار پھینکیں۔ماضی ایک مردہ لاش ہے۔ اسے کندھوں پر اٹھا کر چلنے والا کبھی تیز نہیں بھاگ سکتا۔ اپنی غلطیوں سے سیکھیں اور آگے بڑھیں۔ خود کو معاف کرنا خود کو آزاد کرنا ہے۔
13. "نہیں" کہنے کی طاقت حاصل کریں۔
لوگوں کو، دعوتوں کو، اور فضول کاموں کو "نہیں" کہنا سیکھیں۔ اگر آپ ہر کسی کے لیے دستیاب ہیں، تو آپ اپنے لیے دستیاب نہیں ہیں۔ اپنی حدود (Boundaries) کا محافظ بنیں۔
14. اپنی موت کو یاد رکھیں (Memento Mori)۔
آپ کے پاس وقت لامحدود نہیں ہے۔ موت کا خیال آپ کو فضول چیزوں سے ہٹا کر اہم چیزوں پر مرکوز کرتا ہے۔ یہ سوچیں کہ آج آپ کا آخری دن ہو سکتا ہے،کیا آپ اب بھی وہی کریں گے جو کر رہے ہیں؟
15. یہ جنگ کبھی ختم نہیں ہوگی۔
خود کو فتح کرنا کوئی منزل نہیں جہاں پہنچ کر آپ آرام کریں۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ جس دن آپ نے سوچا کہ "میں نے خود کو کنٹرول کر لیا"، اسی دن آپ کی انا دوبارہ سر اٹھا لے گی اور آپ کو شکست دے دے گی۔ چوکنا رہیں۔

27/12/2025

ایک سوال کا جواب — جو ہم سب کے لیے ضروری ہے

یہ ایک سادہ سا سوال ہے، مگر اس کا جواب اگر سمجھ آ جائے تو آدھی الجھنیں وہیں ختم ہو جاتی ہیں۔
کم self-esteem والے لوگ جب بات چیت یا بحث میں ہوتے ہیں تو اکثر دلیل پر نہیں آتے، وہ ذات پر آ جاتے ہیں۔ آواز بدل جاتی ہے، لہجہ سخت ہو جاتا ہے، اور بات آہستہ آہستہ بدتمیزی، طنز اور تذلیل میں ڈھلنے لگتی ہے۔ وہ آپ کو نیچا دکھا کر، آپ کو “degrade” کر کے یہ محسوس کرنا چاہتے ہیں کہ وہ برتر ہیں، زیادہ عقل مند ہیں، زیادہ طاقتور ہیں—حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔

نفسیات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جو انسان اندر سے مطمئن اور مضبوط ہوتا ہے، وہ اختلاف میں بھی احترام نہیں چھوڑتا۔ اسے آپ کو نیچا دکھانے کی ضرورت نہیں پڑتی، کیونکہ اس کی قدر اندر سے آ رہی ہوتی ہے۔ مگر کم self-esteem والا انسان اپنی کمی کو چھپانے کے لیے دوسرے کی تذلیل کرتا ہے۔ یہ رویہ طاقت کی علامت نہیں، عدمِ تحفظ (insecurity) کی علامت ہوتا ہے۔

یہ لوگ کوئی اجنبی بھی ہو سکتے ہیں اور بہت اپنے بھی—آپ کے کولیگز، بہن بھائی، میاں بیوی، یا وہ دوست جن کے ساتھ آپ نے برسوں کا سفر کیا ہو۔ تعلق جتنا قریبی ہوتا ہے، حملہ اتنا ہی گہرا ہوتا ہے، کیونکہ سامنے والا جانتا ہے کہ کہاں چوٹ لگے گی۔ اسی لیے ایسے جملے زیادہ تکلیف دیتے ہیں جو “بات” نہیں بلکہ “وجود” پر حملہ ہوں۔

ایسے میں سب سے بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ ہم خود کو ثابت کرنے لگتے ہیں، وضاحتیں دیتے ہیں، صفائیاں پیش کرتے ہیں، اور اسی کھیل کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یاد رکھیے، جو شخص آپ کی بات نہیں سن رہا، وہ آپ کی وضاحت بھی نہیں سمجھے گا۔ دلیل وہاں کام کرتی ہے جہاں سننے کی نیت ہو؛ جہاں نیت برتری کی ہو، وہاں دلیل صرف ایندھن بنتی ہے۔

اس مرحلے پر سب سے صحت مند قدم یہ ہے کہ آپ انہیں کہنے دیجیے جو وہ کہنا چاہتے ہیں، مگر اندر کی آواز کو سننا نہ چھوڑیں۔ خود سے یہ سوال کریں: میں اندر سے کیسا ہوں؟ کیا میں واقعی وہی ہوں جو یہ کہہ رہے ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے، تو پھر یہ الفاظ آپ کی شناخت نہیں بنتے—یہ صرف سامنے والے کی حالتِ دل کا اظہار ہوتے ہیں۔

خاموشی یہاں کمزوری نہیں، انتخاب ہے—بشرطیکہ خاموشی کے ساتھ حد بھی قائم ہو۔ تذلیل کے سامنے حد رکھنا ضروری ہے، ورنہ خاموشی آہستہ آہستہ خود کو مٹانے لگتی ہے۔ صاف اور مختصر الفاظ میں کہنا کہ “اس لہجے میں بات نہیں ہوگی” کوئی بدتمیزی نہیں، یہ خود احترام ہے۔

آخر میں ایک بات ذہن میں رکھیں: جو لوگ اپنی قدر نہیں پہچان پاتے، وہ دوسروں کی قدر گھٹانے میں سکون ڈھونڈتے ہیں۔ آپ کا کام یہ نہیں کہ انہیں بدلیں، آپ کا کام یہ ہے کہ خود کو سلامت رکھیں۔ کیونکہ اصل طاقت چیخنے میں نہیں، اپنی جگہ پر قائم رہنے میں ہوتی ہے۔

27/12/2025

بہنوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ شادی سے زندگی سیٹل نہیں ہوتی شروع ہوتی ہے۔ جو جو بہنیں بچوں کی پیدائش کے بعد اپنی تعلیم سے دھوکا اور محنت سے جی چراتی ہیں وہ ایک دن جیب خرچ مانگنے والی ‘’بھکارن ‘’ بن جاتی ہیں۔ بھکارن اس لیے کہ پھر ایک دن فکر نہ کرو کہنے والا خاوند 50-100 دینے سے پہلے بھی 10 باتیں سنا دیتا ہے۔ یاد رکھیں جو محنت سے جی چراتی اور اچھے وقت کو موج میلے میں ، سکون میں ، بچوں کے بہانوں میں گزاریں وہ مشکل وقت آتے ہی اپنی عزت نفس کا جنازہ نکلوا بیٹھتی ہیں اور پھر سوچتی ہیں کہ ہائے کاش میں ایسا نہ کرتی۔ کچھ نہ کچھ ضرور کریں اپنا جیب خرچ ضرور نکالیں عزت اور سکون واپس آ جائے گا۔

27/12/2025

مردانگی طلاق کی دھمکی دینے میں نہیں ۔ بیوی کو غصہ کرنے کا حق دینے میں ہے۔ ❣️

27/12/2025

خاوند کے ماں باپ یا بہن بھائیوں سے ہوئی مڈ بھیڑ کا بدلہ خاوند سے نہ لیا کریں۔ مانا کہ غصہ نکالنے کے لیے کچھ تو کرنا ہے تو اس کا بہترین طریقہ ہے ڈائری لکھنا اپنے جذبات لکھا کریں۔ اور کچھ عرصے بعد اپنا لکھا ہوا خود ہی پڑھا کریں آپ کو یہ جاننے میں مدد بھی ملے گی کہ دراصل غلطی کس کی تھی؟ کسی اور کی یا آپ کی!!! ماحول کی قدر کیا کریں اور اسے کشیدہ کرنے سے ہر ممکن گریز بھی۔ کیونکہ اس ماحول میں آپ نے جینا ہوتا ہے۔

27/12/2025

بچوں کے ملازم کبھی ان کے ماں باپ نہیں بن سکتے۔ ماں باپ بنیں خدمت کرنا سکھائیں تاکہ ان کے کردار اور رویے تعمیر ہوں۔

27/12/2025

یہ بات سمجھ لینا بہت ضروری ہے کہ بچوں کے جوتے خود پالش کرنا، انہیں خود جرابیں پہنانا، کھانا لا کر پیش کرنا، اور ان کے گندے برتن خود اٹھانا—اور پھر یہ توقع رکھنا کہ وہ عملی زندگی میں ذمہ دار انسان بنیں گے—محض ایک خوش فہمی ہے۔

ماں بنیں، ملازم نہیں۔
آپ کھانا ضرور پکائیں، مگر پلیٹ کچن سے اٹھا کر میز تک لانا بچوں کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ کھانے کے بعد گندے برتن واپس کچن میں رکھنا بھی وہی سیکھیں؛ آپ چاہیں تو انہیں دھو دیں، مگر ذمہ داری کا احساس انہی کے اندر پیدا ہو گا۔ دوسری جماعت کے بعد بچے اپنے جوتے خود پالش کریں، اپنی جرابیں خود پہنیں، اور اپنی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کے لیے دوسروں پر انحصار نہ کریں۔

یاد رکھیے، ذمہ داری سکھائی جائے تو ہی آتی ہے۔
بچوں کو ہر کام میں سہولت دے کر، ہر مشکل سے بچا کر، ہم دراصل ان کے لیے ایک کمزور اور خود غرض شخصیت تیار کر رہے ہوتے ہیں۔ پھر یہی لاڈ آگے چل کر بدتمیزی، ضد، نافرمانی اور بدزبانی کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ابتدا میں تھپڑ، اور بعد میں زبانیں کھلنے پر گالیاں—یہ سب اسی غلط پرورش کا تسلسل ہے۔

اولاد یقیناً اللہ کی عظیم نعمت ہے، مگر نعمت وہی ہے جو تابع دار اور بااخلاق ہو۔
نافرمان، خود سر اور بے لگام اولاد کو دنیا کے حوالے کر کے جانا کسی صورت دانش مندی نہیں۔ حتیٰ الامکان ان کی غلطیوں پر مزاحمت کریں، انہیں روکیں، سمجھائیں، اور اصول سکھائیں۔

جس طرح آپ محبت سے ان کی سالگرہوں، کامیابیوں اور خوبصورت لمحات کا ریکارڈ محفوظ رکھتی ہیں، اسی طرح ان کی نافرمانیوں، بدتمیزیوں اور غلط رویّوں کا بھی ایک ذہنی ریکارڈ رکھیں۔
کل جب یہی بچے اپنی بیوی، شوہر یا اولاد سے اطاعت اور فرمانبرداری کا مطالبہ کریں گے، تو یہ تربیت—یا اس کی کمی—ان کے سامنے آئینہ بن کر کھڑی ہو جائے گی۔

اچھی ماں وہ نہیں جو ہر کام خود کر دے،
بلکہ وہ ہے جو اپنے بچوں کو اچھا انسان بننے کا سلیقہ سکھا دے۔

27/12/2025

گناہوں کے بعد خود کو سنبھالنے کے آداب
گناہ کا سرزد ہو جانا نہیں ہوتی بلکہ شرمندگی میں خود کو چھوڑ دینا ہوتی ہے۔
اللہ گناہ کرنے سے ناراض ہو سکتا ہے مگر وہ پلٹ آنے والے دل سے کبھی نفرت نہیں کرتا۔
یہ آداب ان کے لیے ہیں جن کا دل بوجھل ہو، نظر جھکی ہو، اور انسان خود سے نظریں چرا رہا ہو۔

1️⃣ خود کو “برا انسان” کہنا بند کریں گناہ آپ کی شناخت نہیں
سب سے پہلی شفا یہ ہے کہ آپ یہ فرق سمجھ لیں:
“میں نے گناہ کیا ہے” ≠ “میں برا انسان ہوں”
گناہ کا ہو جانا ایک عمل ہوتا ہے آپ کی شناخت نہیں۔
جب آپ خود کو ہی برا مان لیتی ہیں تو واپسی کا راستہ بند ہو جاتا ہے اور جب آپ خود کو انسان مان لیتی ہیں تو توبہ آسان ہو جاتی ہے۔

2️⃣ شرمندگی کو اللہ سے بات کرنے کا ذریعہ بنائیں، دیوار نہیں
شرمندگی اگر آپ کو اللہ سے دور لے جائے تو وہ نقصان دہ ہے۔
اور اگر وہ آپ کو سجدے تک لے آئے تو وہ رحمت بن جاتی ہے۔
اللہ کو یہ نہیں چاہیے کہ آپ خود کو سزا دیں بلکہ اللہ چاہتا ہے کہ آپ پلٹ کر آئیں۔

3️⃣ توبہ کو ایک لمحے کا نہیں، ایک تعلق کا نام دیں
توبہ صرف یہ نہیں کہ آنکھوں سے آنسو نکل آئیں اور پھر سب ویسا ہی چلتا رہے۔
اصل توبہ یہ ہے کہ دل یہ مان لے:
"میں کمزور ہوں، اور مجھے اللہ کی ضرورت ہے۔"
یہ مان لینا روح کے لیے بہت بڑی شفا ہے۔

4️⃣ بار بار گرنے پر خود سے نفرت نہ کریں
کچھ لوگ ایک ہی گناہ میں بار بار پھنس جاتے ہیں اور پھر خود کو ناامید کہنے لگتے ہیں۔
یاد رکھیں:
اللہ بار بار توبہ کرنے والوں سے نہیں تھکتا ہم خود تھک جاتے ہیں۔
ہر بار اٹھنا ناکامی نہیں یہ کوشش کی علامت ہے۔

5️⃣ خود کو تنہائی میں سزا دینے کے بجائے نرمی سے سنبھالیں
گناہ کے بعد زیادہ تر لوگ یہ کرتے ہیں:
• عبادت چھوڑ دیتے ہیں
• خود کو قابلِ معافی نہیں سمجھتے
• خود سے بدسلوکی شروع کر دیتے ہیں
یہ سب شیطان کے ہتھیار ہیں۔
صحیح طریقہ یہ ہے کہ:
• ایک نیکی بڑھا دیں
• ایک دعا اپنا لیں
• خود سے نرمی اختیار کریں
نرمی دل کو واپس اللہ کی طرف لے آتی ہے۔

6️⃣ یقین رکھیں: اللہ گناہوں کے بعد چھوڑتا نہیں
یہ سب سے اہم ادب ہے۔
اللہ بادشاہوں کا بادشاہ ہے جو گناہ سر زد ہوجانے کے بعد انسان کو پھر موقع دیتا ہے پھر ہاتھ پکڑتا ہے پھر راستہ دکھاتا ہے۔ اگر اللہ نے آپ کو شرمندگی کا احساس دیا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ دروازہ بند نہیں ہوا۔

گناہ کے بعد خود کو سنبھال لینا اصل میں اللہ کی رحمت کو قبول کرنا ہوتا ہے۔
جو انسان اللہ کی طرف لوٹ آتا ہے وہ پاکیزگی کی نئی تعریف بن جاتا ہے کیونکہ وہ ٹوٹ کر آیا ہوتا ہے۔

گناہ سرزد ہو جانے کے بعد آپ کو سب سے زیادہ کس چیز نے روکا؟
ایک نمبر چُنیں:
1️⃣ شرمندگی
2️⃣ خود سے نفرت
3️⃣ یہ سوچ کہ “میں قابل نہیں”
4️⃣ بار بار گرنے کا خوف
5️⃣ لوگوں کا ڈر
6️⃣ اللہ سے امید کم ہو جانا
آپ کا نمبر کون سا

Address

Street # 14, F10/2
Islamabad
44100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamabad Psychological Support posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Islamabad Psychological Support:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram