Islamabad Psychological Support

Islamabad Psychological Support Islamabad Psychological Support treats all patients without medicine's. call at helpline: 0316-5823033 and schedule your appointment.

Islamabad Psychological Support are Highly Foreign Professional team of Psychologist’s, prof Dr Nazia Psychiatrists and Counsellors to provide you professional & result oriented services

11/04/2026

Toxic relationships

11/04/2026

15 ways to value yourself

11/04/2026

یہ رشتہ آپ کو تکلیف دے رہا ہے… مگر دل پھر بھی وہیں رکا ہوا ہے۔

یہ انسانی فطرت ہے کہ ہم اکثر ایسے رشتوں میں پھنس جاتے ہیں جو ہمیں تکلیف دیتے ہیں، کیونکہ دماغ نئی تکلیف سے ڈرتا ہے اور پرانی عادت سے جُڑے درد میں رہنا آسان لگتا ہے۔ مگر اپنے جذبات کو پہچاننا، خود کو ترجیح دینا اور حدیں قائم کرنا حقیقت میں طاقت اور ہمت کی نشانی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ محبت صرف برداشت نہیں بلکہ عزت، سکون اور سمجھ بوجھ کا تعلق ہے، اور جو رشتہ بار بار تکلیف دے وہ چھوڑنا خود کی قدر کا حصہ ہے۔ آہستہ آہستہ اپنے آپ کو سنبھالنا، اپنے جذبات کی اہمیت جاننا اور اپنے لیے بہتر انتخاب کرنا ہر شخص سیکھ سکتا ہے۔

اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ بار بار ایسے ہی رشتوں میں پھنس جاتے ہیں اور وجہ سمجھ نہیں آ رہی، تو کسی ماہرِ نفسیات یا ریلیشن شپ ایکسپرٹ سے بات کرنا ایک اچھا قدم ہو سکتا ہے۔

اگر آپ اپنی جذباتی الجھنوں کو بہتر سمجھنا چاہتے ہیں اور خود کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں، تو صحت یاب کی ماہر ٹیم سے رابطہ کریں:

ان پرسن یا آن لائن آڈیو/ویڈیو یا چیٹ کے ذریعے بات کرنے کے لیے:
📞 کال کریں:
03165823033
💬 واٹس ایپ کریں:
03165823033

11/04/2026
11/04/2026

ان لوگوں کو کبھی مت بھولیں، جو آپ سے تب وابستہ رہے، جب ساری دنیا آپ کو چھوڑ گئی🔥🌹💯

Toddlers
11/04/2026

Toddlers

11/04/2026

وہ بوجھ جو آپ اٹھائے پھر رہے ہیں، وہ آپ کا نہیں ہے۔ آپ کو لگتا ہے کہ زندگی جی رہے ہیں۔ نہیں آپ anxiety کو جی رہے ہیں۔
| NLP ماسڑ، مائنڈ ہیلر
ایک لمحے کے لیے رکیں ابھی اس وقت آپ کے سینے میں ہلکا سا بوجھ ہے، گردن میں ہلکی سی جکڑن، کوئی خاص مسئلہ نہیں مگر ایک بے نام سی بے چینی ہے جو خود بھی نہیں بتاتی کہ کیوں ہے۔
آپ نے سوچا ہوگا شاید تھکاوٹ ہے، شاید کچھ ٹھیک نہیں، شاید میں ہی کچھ زیادہ سوچتا ہوں۔ نہیں یہ آپ نہیں ہیں۔
یہ وہ مہمان ہے جو کب آیا یاد نہیں مگر گیا کبھی نہیں، جس نے آہستہ آہستہ آپ کے اندر اپنی جگہ بنا لی، آپ کی عادتوں میں داخل ہو گیا، آپ کے فیصلوں میں بیٹھ گیا، آپ کی خوشیوں پر اپنا رنگ چڑھا دیا. اس مہمان کا نام ہے anxiety. اور سب سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ آپ نے اسے خود سمجھ لیا.

کچھ عرصہ پہلے ایک استاد میرے پاس آئے، جاوید صاحب، عمر پینتالیس سال، تیس سال سے پڑھا رہے تھے، سینکڑوں بچوں کی زندگیاں سنواریں مگر اپنی زندگی میں ایک عجیب خلا لے کر بیٹھے تھے.
انہوں نے کہا مجھے کوئی بڑی تکلیف نہیں، گھر ٹھیک ہے، نوکری ٹھیک ہے، صحت بھی ٹھیک ہے، مگر صبح اٹھتا ہوں تو سینے پر ایک بوجھ ہوتا ہے، کسی تقریب میں جانا ہو تو دل گھبراتا ہے، نئی جگہ کا نام سنوں یا یا کام کرنے کا سوچوں تو ایک ہفتہ پہلے سے بے چینی شروع ہو جاتی ہے، میں نے خود کو سمجھا لیا کہ یہی میری شخصیت ہے، میں ایسا ہی ہوں۔
میں نے غور سے سنا اور پھر کہا جاوید صاحب یہ آپ کی شخصیت نہیں ہے، یہ ایک مہمان ہے جو اتنے عرصے سے ساتھ ہے کہ آپ نے اسے اپنا حصہ سمجھ لیا۔
ان کی آنکھیں بھر آئیں، آہستہ سے بولے یعنی یہ میں نہیں ہوں۔
میں نے کہا نہیں، یہ آپ نہیں ہیں۔

دنیا میں ایک ارب سے زیادہ لوگ کسی نہ کسی شکل میں anxiety کا شکار ہیں، اور ان میں سے زیادہ تر کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ anxiety میں ہیں، وہ اسے اپنی فطرت سمجھ بیٹھتے ہیں۔
ایک اور حقیقت اور بھی سخت ہے، ایک انسان اوسطاً ساڑھے گیارہ سال تک anxiety کے ساتھ جیتا رہتا ہے اس سے پہلے کہ وہ کسی سے مدد مانگے۔ کیوں؟
کیونکہ anxiety نظر نہیں آتی، اس کا کوئی رنگ نہیں، کوئی شکل نہیں، یہ آپ کی سانسوں میں گھل جاتی ہے، آپ کے خیالوں میں جگہ بنا لیتی ہے، آپ کے جسم کا حصہ بن جاتی ہے اور آپ سمجھتے ہیں یہی زندگی ہے.
ایک تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ anxiety کا شکار انسان اپنی زندگی کے تقریباً نو سال ان فکروں میں گزار دیتا ہے جو کبھی حقیقت نہیں بنتیں.

اب ذرا سمجھیں یہ ہوتا کیسے ہے. آپ کے دماغ میں ایک نظام ہے جو خطرے کو پہچان کر جسم کو تیار کرتا ہے، جیسے ہی کوئی خطرہ محسوس ہو جسم میں ہارمونز خارج ہوتے ہیں، دل تیز، سانس تیز، پٹھے سخت، پورا جسم لڑنے یا بھاگنے کے لیے تیار۔ یہ نظام ضروری ہے، اسی نے انسان کو زندہ رکھا۔مگر anxiety میں یہی نظام بغیر کسی حقیقی خطرے کے چلتا رہتا ہے۔ ایک خیال آتا ہے، ایک یاد ابھرتی ہے، ایک سوال اٹھتا ہے اور دماغ اسے خطرہ سمجھ لیتا ہے۔ جسم فوراً الرٹ ہو جاتا ہے۔ دل تیز، سانس اکھڑی ہوئی، پٹھوں میں تناؤ، پیٹ میں گھبراہٹ۔مگر حقیقت میں کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔صرف ایک خیال ہوتا ہے۔اور وہی خیال پورے جسم کو ہنگامی حالت میں ڈال دیتا ہے۔
جب یہ کیفیت لمبے عرصے تک رہے تو جسم تھک جاتا ہے، نیند خراب، یادداشت کمزور، ہاضمہ متاثر، دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور سب سے خطرناک بات یہ کہ خوشی محسوس کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے۔یہ صرف ذہن کی نہیں، پورے وجود کی بیماری ہے۔

پہلا کام وہ ہے جو میں نے جاوید صاحب کو بتایا anxiety کو جسم میں ڈھونڈیں۔ جب وہ بے چینی آئے تو اسے دماغ میں نہ لڑیں جسم میں محسوس کریں۔ کہاں ہے، کیسی ہے، کیا رنگ ہے۔
میں نے ان سے پوچھا جب وہ بوجھ آتا ہے تو جسم میں کہاں محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے سینے پر ہاتھ رکھا اور کہا یہاں اور گلے میں بھی۔
میں نے کہا اس کو محسوس کریں، یہ کیسا ہے، بھاری یا ہلکا، گرم یا ٹھنڈا، اس کا رنگ کیا ہے۔
وہ حیران ہوئے مگر آنکھیں بند کر کے بولے بھاری ہے، سیاہی مائل ہے، ٹھنڈا ہے۔

یہ عمل Somatic Tracking کہلاتا ہے۔یہ ایک گہری تکنیک ہے جس میں anxiety کو دشمن نہیں بلکہ پیغام سمجھا جاتا ہے، 2021 میں Journal of Anxiety Disorders میں شائع تحقیق نے بتایا کہ یہ طریقہ anxiety کی شدت کو صرف چار ہفتوں میں نمایاں طور پر کم کر دیتا ہے۔ بغیر کسی دوائی کے۔ کیونکہ جب آپ anxiety کو دیکھتے ہیں تو دماغ سمجھتا ہے کہ خطرہ نہیں ہے اور HPA Axis سکون میں آنے لگتا ہے۔

دوسرا کام سانس کا ہے مگر ایک خاص طریقے سے۔ سانس باہر نکالنا اندر لینے سے زیادہ لمبا کریں۔ چار سیکنڈ اندر، چھ سیکنڈ باہر۔ یہ اتنا سادہ لگتا ہے کہ لوگ یقین نہیں کرتے۔ مگر Oxford University کی تحقیق نے بتایا کہ یہ طریقہ Vagus Nerve کو activate کرتا ہے۔جو براہ راست دماغ کو سکون کا سگنل بھیجتی ہے۔ اور cortisol کی سطح پانچ منٹ میں قابل پیمائش حد تک گرنے لگتی ہے۔ یہ جسم کی اپنی دوائی ہے۔ آپ کے اندر ہی موجود ہے۔

تیسرا کام سب سے منفرد ہے اور شاید آپ نے پہلے نہیں سنا۔ اسے میں "anxiety کا خط" کہتی ہوں۔ ایک دن جب anxiety آئے تو کاغذ اٹھائیں اور anxiety کی طرف سے خط لکھیں یعنی anxiety بول رہی ہے اور آپ لکھ رہے ہیں۔ وہ کیا کہنا چاہتی ہے۔ وہ کس چیز سے ڈر رہی ہے۔ وہ آپ کو کیا بتانا چاہتی ہے۔ پھر آپ اسے جواب لکھیں۔ ایک بڑے، سمجھدار، مہربان دوست کی طرح سے۔ University of Texas کی تحقیق نے بتایا کہ جذبات کو لکھنے کا یہ عمل Expressive Writing دماغ کے اس حصے کو activate کرتا ہے جو منطق اور سکون کا مرکز ہے اور anxiety کے اس حصے کو quiet کرتا ہے جو خوف کا مرکز ہے۔ صرف بیس منٹ، ہفتے میں تین بار اور چھ ہفتوں میں نمایاں فرق۔

جاوید صاحب نے یہ کام کیے۔تو۔ان کے چہرے پر وہ پرانا بوجھ نہیں تھا۔
انہوں نے بتایا، ایک دن وہ خط لکھا۔ anxiety نے لکھوایا کہ مجھے ڈر لگتا رہا کہ میری زندگی ضائع ہو گئی۔ کیونکہ میرے والد مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے ور میں استاد بن گیا۔
میں نے جواب لکھا کہ آج میرے تین بچے ہیں۔ جن میں سے ایک آج ڈاکٹر بن رہی ہے، دوسرا انجینیئر بن رہا ہے، اور تیسرا استاد بن کر پڑھا رہا ہے۔ کیا یہ ضائع ہونا ہے؟
انہوں نے رک کر کہا، اس دن پہلی بار anxiety نے سر جھکایا۔
یاد رکھیں کہ Anxiety آپ نہیں ہیں۔ یہ وہ آواز ہے جو بار بار کہتی ہے کہ میں ہوں، مگر یہ آپ نہیں ہے۔ یہ ایک پرانا درد ہے جو نئی زبان میں بول رہا ہے۔ ایک پرانا خوف ہے جو نئی شکل میں آ رہا ہے۔ ایک پرانا زخم ہے جو بھرنے کی کوشش کر رہا ہے مگر جسے کبھی صحیح طریقے سے دیکھا نہیں گیا۔
اسے لڑ کر نہیں ہرانا اسے سمجھ کر، سن کر، اس سے بات کر کے ہرانا ہے۔کیونکہ جو دشمن نظر نہ آئے اس سے لڑنا ممکن نہیں۔ مگر جو دشمن پہچان لیا جائے۔ وہ اکثر دشمن نہیں رہتا۔

اب آپ سے ایک سوال ہے۔وہ کون سی ایک کیفیت ہے جو آپ کے ساتھ اتنے عرصے سے ہے کہ آپ نے اسے اپنی شخصیت سمجھ لیا ہے اور اگر آج آپ پوچھیں کہ کیا یہ واقعی میں ہوں، یا یہ کوئی اور آواز ہے تو آپ کا جواب کیا ہوگا؟
کمنٹ میں لکھیں۔ کیونکہ جو بات آپ نے برسوں سے اندر بند رکھی ہے وہ باہر آنے کی منتظر ہے۔ DepressionAndAnxietyAwareness

09/04/2026

وہم، وسوسے اور بار بار آنے والے عجیب خیالات کسی بھی انسان کی ذہنی اور روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر سکتے ہیں۔ اسے محض عادت سمجھ کر نظر انداز کرنے کے بجائے اس کی نفسیاتی وجوہات کو سمجھنا اور صحیح علاج کی طرف قدم بڑھانا ضروری ہے۔

آپ کمنٹس میں لکھ سکتے ہیں، ہمیں ان باکس کر سکتے ہیں تاکہ آپ کو ماہرانہ اور مفید رہنمائی مل سکے۔
📱:03165823033

09/04/2026

مسئلہ اکثر اتنا بڑا نہیں ہوتا جتنا ہمارا ذہن اسے بنا دیتا ہے!

جب ہم چھوٹی باتوں پر حد سے زیادہ سوچتے ہیں تو اسٹریس آہستہ آہستہ بڑھنے لگتا ہے، ایک ہی خیال کو بار بار دہرانا اور ہر چیز کی فکر کرنا معمولی مسئلے کو بڑا بنا دیتا ہے۔ یاد رکھیں کہ ہمارے خیالات اکثر حقیقت سے زیادہ خوفناک ہوتے ہیں، اس لیے انہیں پہچاننا اور منظم کرنا ضروری ہے، اور اگر ذہنی بوجھ بڑھنے لگے تو ماہر سے رہنمائی لینا سکون کی طرف ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔

اگر آپ اپنے اسٹریس لیول کو بہتر طریقے سے سمجھنا چاہتے ہیں اور پرسکون زندگی کی طرف قدم بڑھانا چاہتے ہیں، تو صحت یاب کی ماہر ٹیم سے رابطہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں:

ان پرسن یاآن لائن آڈیو/ویڈیو یا چیٹ کے ذریعے بات کرنے کے لیے:
📞 کال کریں:
03165823033
💬 واٹس ایپ کریں:
03165823033

Address

Street # 14, F10/2
Islamabad
44100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamabad Psychological Support posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Islamabad Psychological Support:

Share