05/12/2025
*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ🌷*
*🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*
•┈•❀❁❀•┈•
*13 جمادی الثانی1447 ھِجْرِیْ*
*5 دسمبر 2025 عِیسَـوی جمعہ مبارک*
•┈•❀❁❀•┈•
*أَعوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجيم*
*بِسْـــــــــمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
•┈•❀❁❀•┈•
*میں پناہ میں آتا ہوں اللہﷻ کی شیطان مردود کے شر سے بچنے کیلئے۔*
*اللہﷻ کے نام سے شروع جو سب سے زیادہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌹سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْم🌹*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌸اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا صَلَّــيْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابه وسلم🌸*
•┈•❀❁❀•┈
*📕سورة مریم آیت21-22*
*قَالَ كَذٰلِكِۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَىَّ هَيِّنٌ ۖ وَلِنَجْعَلَـهٝٓ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْـمَةً مِّنَّا ۚ وَكَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا (21)*
*فَحَـمَلَتْهُ فَانْـتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِيًّا (22)*
*📜ترجمہ:*
*فرشتے نے کہا “ ایسا ہی ہوگا ، تیرا رب فرماتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لیے بہت آسان ہے اور ہم یہ اس لیے کریں گے کہ اس لڑکے کو لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں 15 اور اپنی طرف سے ایک رحمت اور یہ کام ہو کر رہنا ہے ۔ “*
*مریم کو اس بچے کا حمل رہ گیا اور وہ اس حمل کو لیے ہوئے ایک دور کے مقام پر چلی گئی ۔ 16*
*📜English Translation:*
*The angel said: ""Thus shall it be. Your Lord says: ''It is easy for Me; and We shall do so in order to make him a Sign for mankind and a mercy from Us. This has been decreed.'' ""*
*Then she conceived him and withdrew with him to a far-off place.*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
*🤲🏿 یارب العالمین، ہمیں اپنی نشانیوں اور معجزوں کو ماننے والوں میں شامل فرما، انکار کرنے والوں کی فہرست میں شامل نہ کرنا اور شرک عظیم سے بچا لے،یااللہ اپنی رحمت سے بے اولادوں کو صالح فرمانبردار نرینہ اولاد عطا فرما آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ🤲🏿*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏻Prayer🤲🏼🌹*
*🤲🏿Oh Almighty ALLAH,"Oh Lord of the worlds, include us among those who believe in Your signs and miracles, and do not include us among those who deny them. Save us from the greatest sin of associating partners with You. Oh ALLAH, grant righteous and obedient male offspring to those who are childless, out of Your mercy. Ameen."🤲🏿*
•┈•❀❁❀•┈•
*🔎📖تفہیم القرآن📖🔎*
*«سورة مَرْیَم» حاشیہ نمبر :15*
*جیسا کہ ہم حاشیہ نمبر 6 میں اشارہ کر آئے ہیں ، حضرت مریم کے استعجاب پر فرشتے کا یہ کہنا کہ ’’ ایسا ہی ہو گا ہرگز اس معنی میں نہیں ہو سکتا کہ بشر تجھ کو چھوئے گا اور اس سے تیرے ہاں لڑکا پیدا ہو گا ، بلکہ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ تیرے ہاں لڑکا ہو گا باوجود اس کے کہ تجھے کسی بشر نے نہیں چھوا ہے ۔ اوپر انہی الفاظ میں حضرت زکریا کا استعجاب نقل ہو چکا ہے ۔ اور وہاں بھی فرشتے نے یہی جواب دیا ہے ظاہر ہے کہ جو مطلب اس جواب کا وہاں ہے وہی یہاں بھی ہے ۔ اسی طرح سورہ ذاریات ، آیات ( 28 ۔ 30 ) میں جب فرشتہ حضرت ابراہیم ؑ کو بیٹے کی بشارت دیتا ہے اور حضرت سارہ کہتی ہیں کہ مجھ بوڑھی بانجھ کے ہاں بیٹا کیسے ہو گا تو فرشتہ ان کو جواب دیتا ہے کہ *«کذلک» ’’ ایسا ہی ہو گا ‘‘ ظاہر ہے کہ اس سے مراد بڑھاپے اور بانجھ پن کے باوجود ان کے ہاں اولاد ہونا ہے ۔ علاوہ بریں اگر «کذلک» کا مطلب یہ لے لیا جائے کہ بشر تجھے چھوئے گا اور تیرے ہاں اسی طرح لڑکا ہو گا جیسے دنیا بھر کی عورتوں کے ہاں ہوا کرتا ہے ، تو پھر بعد کے دونوں فقرے بالکل بے معنی ہو جاتے ہیں ۔ اس صورت میں یہ کہنے کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے کہ تیرا رب کہتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لیے بہت آسان ہے ، اور یہ کہ ہم اس لڑکے کو ایک نشانی بنانا چاہتے ہیں ۔ نشانی کا لفظ یہاں صریحاً معجزہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے ، اور اسی معنی پر یہ فقرہ بھی دلالت کرتا ہے کہ ’’ ایسا کرنا میرے لیے بہت آسان ہے ۔‘‘ لہذا اس ارشاد کا مطلب بجز اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ ہم اس لڑکے کی ذات ہی کو ایک معجزے کی حیثیت سے بنی اسرائیل کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں ۔ بعد کی تفصیلات اس بات کی خود تشریح کر رہی ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی ذات کو کس طرح معجزہ بنا کر پیش کیا گیا ۔*
*«سورة مَرْیَم» حاشیہ نمبر :16*
*دور کے مقام سے مراد بیت لحم ہے ۔ حضرت مریم ؑ کا اپنے اعتکاف سے نکل کر وہاں جانا ایک فطری امر تھا ۔ بنی اسرائیل کے مقدس ترین گھرانے بنی ہارون کی لڑکی ، اور پھر وہ جو بیت المقدس میں خدا کی عبادت کے لیے وقف ہو کر بیٹھی تھی ، یکایک حاملہ ہو گئی ۔ اس حالت میں اگر وہ اپنی جائے اعتکاف پر بیٹھی رہتیں اور ان کا حمل لوگوں پر ظاہر ہو جاتا تو خاندان والے ہی نہیں ، قوم کے دوسرے لوگ بھی ان کا جینا مشکل کر دیتے ۔ اس لیے بے چاری اس شدید آزمائش میں مبتلا ہونے کے بعد خاموشی کے ساتھ اپنے اعتکاف کا حجرہ چھوڑ کر نکل کھڑی ہوئیں تاکہ جب تک اللہ کی مرضی پوری ہو ، قوم کی لعنت ملامت اور عام بدنامی سے تو بچی رہیں ۔ یہ واقعہ بجائے خود اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام باپ کے بغیر پیدا ہوئے تھے ۔ اگر وہ شادی شدہ ہوتیں اور شوہر ہی سے ان کے ہاں بچہ پیدا ہو رہا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ میکے اور سسرال ، سب کو چھوڑ چھاڑ کر وہ زچگی کے لیے تن تنہا ایک دور دراز مقام پر چلی جاتیں۔*
•┈•❀❁❀•┈•
*📿نماز نیند سے بہتــــــــــر ہے📿*
*📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕*
•┈•❀❁❀•┈•