Clinical Psychologist & RBT - Arshia Saif

Clinical Psychologist & RBT - Arshia Saif Psychological & Counselling Services. Expertise in Diagnosis of Mental Disorders, Assessment and theraputic interventions.

Deal with issues related to
Depression
Anxiety
Relationship Issues
Obsessions
Phobia
Marital/Family therapy
ABA for kids with Autism

23/06/2022

Narcs! (Narcissists)

بدھ مت میں ایک کہاوت ہے “اگر آپ کسی شخص سے ملیں اور اسے دیکھ کر آپکا دل زور سے ڈھڑکنے لگے، آپ نروس ہو جائیں اسے اپنے دماغ سے نکال نہ سکیں تو سمجھ لیں کہ وہ آپکا ‘سول میٹ’ (soulmate) ہرگز نہیں ہے کیونکہ سول میٹ سے مل کر آپ پرسکون اور نارمل محسوس کریں گے۔ “

اس کہاوت کو پانی میں گھول کر پی لیجئے ماڈرن دنیا میں بہت کام آسکتی ہے کیونکہ بہت ممکن ہے کہ اپنے چارم، کیرزمہ اور کانفیڈنس سے ہمیں اپنی جانب کھینچنے والا کوئی سول میٹ نہیں بلکہ ایک “نارساسسٹ”ہو۔

لفظ نارساسسٹ آج کل ٹرینڈ میں ہے، لیکن ہر خود پسند انسان NPD (narcissistic personality disorder)کا شکار نہیں ہوتا کیونکہ اعتدال میں رہ کر تھوڑی بہت خود پسندی اچھی رہتی ہے البتہ کسی بھی شخص کے لیے لفظ نارساسسٹ بہت سوچ سمجھ کر استعمال کرنا چاہیے کیونکہ NPD ایک سیریس ڈساڈر ہے جو بہت سے لوگوں کی زندگیاں تباہ کردیتا ہے۔

نارساسسٹک پرسنلٹی ڈساڈر کیا ہے؟نارساسسٹ کی کیا پہچان ہے؟
سائیکالوجسٹ ڈاکٹر رامنی درواسلا اپنی کتاب “should I stay or should I go” میں این-پی-ڈی کو ایک ایسا ڈساڈر بتاتی ہیں جس میں کوئی بھی انسان دوسرے انسانوں کے ساتھ ڈیپ کنکشن بنانے میں ناکام رہتا ہے، بے حد سطحی اور “ہمدردی” سے عاری۔ خود کو شاندار بتانا، ،ہمدردی سے عاری، مشتعل، بیش حساسیت ، حسد ، خبط، شرمندگی کے احساس سے عاری، مسلسل تعریف اور توجہ کی طلب ، شوبازی، جذبات سے عاری، لاپرواہی، جھوٹ، گیس لائیٹنگ(سائیکالوجی کی زبان میں حد درجہ دروغ گوئی سے کام لینا اور سامنے والے کو احساس دلانا کہ وہ اپنا دماغی توازن کھو چکا ہے)، کھوکھلا پن، کنٹرولنگ، غیر متوقع رویہ، دوسروں کو تکلیف میں دیکھ کر خوش ہونا، قریبی رشتوں کا فائدہ اٹھانا، اکیلے رہ جانے کا خوف، اپنی بات سنانا لیکن دوسروں کی بات کو اہمیت نہ دینا، ایموشنلی کمزور، فریب کار، مینی-پولیشن وغیرہ شامل ہیں، یہ فہرست لمبی ہے۔ بیشک سب انسانوں میں کسی نہ کسی حد تک منفی رجحان اور جذبات پائے جاتے ہیں لیکن نارکس کو ان طریقوں کے علاوہ اور کوئی طریقہ نہیں آتا لوگوں سے ڈیل کرنے کا، یہ انکا ڈیفالٹ موڈ ہے۔
انکا چارم اور انکی متاثر کن شخصیت جس کے سب اسیر ہوتے ہیں، وہ بس شو کے لیے ہے، انکی اصلیت ان کے قریبی رشتوں کو معلوم ہوتی ہے۔

نارساسسٹ کیسے بنتے ہیں؟
نارساسزم ماحول اور ثقافت کا پروڈکٹ ہوتا ہے۔ اگر والدین(دونوں یا کوئی ایک) نارساسسٹ ہے تو بچوں میں اس ڈساڈر کے پنپنے کے آثار نمایاں ہوتے ہیں, کیونکہ نارساسسٹ والدین کے لیے بچے سوسائٹی میں ویلیڈیشن حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتے ہیں تبھی بچہ بچپن میں ہی یہ بات دماغ میں بٹھا لیتا ہے کہ زندگی ویلیڈیشن اور دوسروں کی توجہ حاصل کرنے کا نام ہے، ان بچوں کا ہر عمل صرف دوسروں کی توجہ کے لیے ہوتا ہے چاہے اس عمل سے انہیں کوئی خوشی نہ مل رہی ہو یا کسی کو نقصان ہی کیوں نہ پہنچ رہا ہو۔ اکثر اوقات والدین کا بچوں کو نظر انداز کرنا، انکو نگلیکٹ کرنا بچوں میں “مررنگ ایفیکٹ” کو نقصان پہنچاتا ہے، والدین بچے کے لیے آئینہ ہوتے ہیں، کیا صحیح ہے کیا غلط اسکی وضاحت انہیں والدین سے ملتی ہے، چونکہ ایک انسانی بچہ فطری طور پر امیجنری اور توجہ کا طلبگار ہوتا ہے جب اسے والدین سے کلیوز نہیں ملتے وہ ذہنی طور پر اسی توجہ والی اسٹیٹ میں رہ جاتا ہے، وہ اپنے موڈ اور ایموشنز کو ریگولیٹ کرنے کا ہنر نہیں سیکھ پاتا، اس کی سیلف-اسٹیم کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ اسکی کمزور انا (ego) کو سپلائی کہاں سے مل سکتی ہے، جب تک سپلائی ملتی ہے، نارساسسٹ چارمنگ، اٹریکٹو، کانفیڈنٹ اور کیرزمیٹک ہوتے ہیں، لیکن جہاں انکی انا کو سپلائی ملنا بند ہوتا ہے، یا سامنے والا ان کے مزاج کے خلاف جاتا ہے، پھر انکا چارمنگ ماسک اترنے میں دیر نہیں لگتی۔ ان کے اندر عدم تحفظ (insecurities) کا ایک نہ سلجھنے والا جال ہوتا ہے، اس جال کے گرد یہ اپنے رشتے اور پروفیشنل لائف بناتے ہیں۔ انکی دنیا ظاہری چکاچوند پر چلتی ہے، کیونکہ ان کے اندر محض عدم تحفظ کا ڈیرہ جما ہوتا ہے۔ ایموشنلی کمزور اور اپنی ناکامی کا الزام دوسروں کو دینا انکی پہچان ہے۔

اب یہاں پر ایک مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ نارساسزم کی اقسام ہوتی ہیں، آپکا پالا کس قسم کے نارساسسٹ سے پڑا ہے یا پھر آپ بذات خود کون سے نارساسسٹ ہیں ،معلوم کرنے کے لیے تمام اقسام پر نظرثانی کرنی پڑتی ہے۔

وہ لوگ جو نارساسسٹ کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں وہ بہت ذہنی اذیت سے گزرتے ہیں، کیونکہ نارساسسٹ آپکی ریئلٹی مسخ (distort) کردیتے ہیں، آپ خود پر اور اپنی ذہنی حالت پر شک کرنے لگتے ہیں، کیونکہ نارساسسٹ تو کبھی غلط ہوہی نہیں سکتا! وہ شوہر جو روز بیوی کو اپنی کامیابیاں اور خوبیاں گنوائے اور بیوی میں خامیاں نکالے، خامیاں نکالنے کا عمل روز سالوں ہو تو آپ کی ریئلٹی بدلنا اٹل ہے۔ بیوی شوہر کو لوزر کہے کیونکہ وہ اسکی خواہشات پوری نہیں کرپا رہا یا پھر اس کے مزاج کے خلاف چل رہا ہے، جب لوزر لفظ زندگی کا حصہ بن جائے تو ریئلٹی اس کے مطابق ڈھلنے لگتی ہے۔ نارساسسٹ سے ملنے سے پہلے آپ ایک نارمل انسان ہوتے ہیں، نارساسسٹ کا ساتھ آپکو جھوٹ اور مینی پولیشن (manipulation) کی ایسی دنیا میں لے کر جاتا ہے کہ جہاں آپ خود کو بھی پہچان نہیں پاتے۔
این-پی-ڈی کا شکار والدین بچوں کو ویلیڈیشن کی ٹریڈ میل پر دوڑاتے رہتے ہیں، جو بچہ نارساسسٹ والدین کا پسندیدہ ہو اسے سائیکالوجی کی زبان میں “گولڈن چائلڈ” کہتے ہیں، اسے گھر میں سب ملتا ہے، اور جو بچے نارساسسٹ والدین کے پسندیدہ نہ ہوں انہیں “اسکیپ گوٹ” اور “ اِن-وزیبل چائلڈ” کہتے ہیں، بڑے ہونے پر ان ناپسندیدہ بچوں میں ایڈکشن، ابیوز اور ٹروما پایا جاتا ہے، انکا خودی کا احساس (sense of self) بکھرا ہوا ہوتا ہے۔ یہ ساری زندگی اپنی ایڈکشنز سے لڑتے رہتے ہیں۔

لوگ اپنی پوری زندگی نارساسسٹ کے ساتھ اس آس میں گزار دیتے ہیں کہ شاید کسی دن پیار اور صبر کا صلہ مل جائے، لیکن وہ دن کبھی نہیں آتا۔ ڈاکٹر رامنی درواسلا ،جنہوں نے نارساسزم پر ریسرچ میں سالوں گزارے ہیں ، کہتی ہیں کہ نارساسسٹ کبھی نہیں بدلتے۔ سائیکالوجسٹ نے گزشتہ سالوں میں کئی ایسے طریقے ڈیزائن کیے ہیں جن کے زیرِ اثر نارساسسٹ والدین، ہمسفر، باس، گرل فرینڈ، بوائے فرینڈ، دوست وغیرہ کے ابیوز کو ہیل کیا جاسکے(کبھی موقع ملا تو ضرور لکھوں گی اس پر)۔

ماڈرن دنیا میں نارساسزم پھیلتا جارہا ہے ایک وبا کی طرح۔ ہم ایک ایسی نسل تیار کررہے ہیں جنکی پوری سیلف- اسٹیم لائک اور کومنٹز پر منحصر ہے۔ وہ والدین بھی بچوں کے ذریعے ویلیڈیشن حاصل کررہے ہیں (شاید کبھی میں بھی ان میں شامل تھی) جو نارساسسٹ نہیں ہیں۔ اگر ہم اپنے بچوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ انکی خوبصورتی یا قابلیت پر انہیں اتنے لائکس مل رہے ہیں وہ وائرل ہورہے ہیں، ہمارے بچے بہت اسپیشل ہیں، تو یاد رکھیے کہ اس دنیا میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی ہوگا جو ہمارے بچوں سے زیادہ خوبصورت ہوگا، جو ان سے زیادہ ٹیلنٹڈ ہوگا، ان سے زیادہ امیر اور پاورفل ہوگا، اس موازنہ کی دوڑ میں جیت نہیں ہوتی بس ذہنی اذیت ہوتی ہے۔ بچوں کی تعریف کرنا غلط نہیں، موازنہ اور مقابلہ بھی فطری ہے لیکن جو موازنہ اور مقابلہ نارساسسٹ کرواتے ہیں وہ یقیناً فطری نہیں بلکہ ایک ڈساڈر سے پیدا ہونے والا ردِعمل ہے۔ اس نارساسزم کے دور میں اگر اپنے بچوں کو منفرد اور سب سے الگ بنانا چاہتے ہیں تو انہیں عاجزی (humility ) سکھائیں، خود پسندی کے اس دور میں یقیناً وہی بچہ سب سے الگ نظر آئے گا جس میں عاجزی کا عنصر ہوگا۔ جس کی سیلف-اسٹیم لائک اور شیئرنگ پر منحصر نہیں ہوگی۔ جو اپنے ایموشنز کو ریگولیٹ کرنا جانتا ہوگا۔ بیشک دکھاوا کبھی بھی کھرے پن(authenticity) کی جگہ نہیں لے سکے گا۔

( اس ٹاپک پر لکھنے کو بہت کچھ ہے، لکھنے کا مقصد نارساسسٹ سے نفرت کا اظہار نہیں بلکہ ان لوگوں کی تکلیف کو ویلیڈیٹ کرنا ہے جو واقعی میں اس ڈساڈر کے شکار لوگوں کے ابیوز کا نشانہ بنتے ہیں، نارساسسٹ سے نفرت نہیں کرنی، ان سے اپنا بچاؤ ضروری ہے)

Copied

Kindly fill this questionnaire. I'm looking for participants, both males and female, age ranges from 15 to 40 years old....
05/05/2022

Kindly fill this questionnaire. I'm looking for participants, both males and female, age ranges from 15 to 40 years old. Please refer the potential participants and share it
Your time and effort will be highly appreciated.

This questionnaire contains questions that measures your attitude towards mental health services. You are requested to fill all items as per your perception and thinking.

25/02/2022


#شیزوفرینیا کیا ہے❓
شیزوفرینیا ایک نفسیاتی بیماری ہے۔ دنیا بھر میں تقریباً ایک فیصد افراد کسی ایک وقت میں اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس بیماری کی شرح عورتوں اور مردوں میں برابر ہے۔شہروں میں رہنے والوں کو اس بیماری کے ہونے کا امکان گاؤں میں رہنے والوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ پندرہ سال کی عمر سے پہلے یہ بیماری ش*ذ و نادر ہی ہوتی ہے لیکن اس کے بعد کبھی بھی شروع ہو سکتی ہے۔اس بیماری کے شروع ہونے کا امکان سب سے زیادہ پندرہ سے پینتیس سال کی عمر کے درمیان ہوتا ہے۔

شیزوفرینیا کی علامات کس طرح کی ہوتی ہیں❓
شیزوفرینیا کی علامات دو طرح کی ہوتی ہیں، مثبت علامات اور منفی علامات۔

مثبت علامات (Positive symptoms)
ان علامات کو مثبت علامات اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ صحت کی حالت میں نہیں تھیں اور بیماری کی حالت میں نظر آنے لگتی ہیں۔ان میں مندرجہ ذیل علامات شامل ہیں۔

ہیلوسینیشنز (Hallucinations)
اگر آپ کو کسی شےیا انسان کی غیر موجودگی میں وہ شے یا انسان نظر آنے لگے یا تنہائی میں جب آس پاس کوئی بھی نہ ہو آوازیں سنائی دینے لگیں تواس عمل کو ہیلوسی نیشن کہتے ہیں۔شیزوفرینیا میں سب سے زیادہ مریض کو جس ہیلوسی نیشن کا تجربہ ہوتا ہے وہ اکیلے میں آوازیں سنائی دینا ہے۔ مریض کے لیے یہ آوازیں اتنی ہی حقیقی ہوتی ہیں جتنی ہمارے لیے ایک دوسرے کی آوازیں ہوتی ہیں۔ان کو لگتا ہے کہ یہ آوازیں باہر سے آ رہی ہیں اور کانوں میں سنائی دے رہی ہیں، چاہے کسی اور کو یہ آوازیں نہ سنائی دے رہی ہوں۔ ہو سکتا ہے یہ آوازیں آپ سے بات کرتی ہوں یا آپس میں باتیں کرتی ہوں۔

بعض مریضوں کو چیزیں نظر آنے، خوشبوئیں محسوس ہونے یا ایسا لگنے کہ جیسے کوئی انھیں چھو رہا ہے ، کے ہیلوسی نیشن بھی ہوتے ہیں لیکن یہ نسبتاً کم ہوتے ہیں۔

ڈیلیوزن (Delusions)
ڈیلیوزن ان خیالات کو کہتے ہیں جن پہ مریض کا مکمل یقین ہو لیکن ان کی کوئی حقیقت نہ ہو۔ بعض دفعہ یہ خیالات حالات و واقعات کو صحیح طور پر نہ سمجھ پانے یا غلط فہمی کا شکار ہو جانے کی وجہ سے بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ مریض کو اپنے خیال پہ سو فیصد یقین ہوتا ہے لیکن اورتمام لوگوں کو لگتا ہے کہ اس کا خیال غلط ہے یا عجیب و غریب ہے۔

ڈیلیوزن کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ لوگوں کو لگتا ہے کہ دوسرے لوگ ان کے دشمن ہو گئے ہیں، انھیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیِں۔ بعض مریضوں کو لگتا ہے کہ ٹی وی یا ریڈیو پہ ان کے لیے خاص پیغامات نشر ہو رہے ہیں۔ بعض مریضوں کو لگتا ہے کہ کوئی ان کے ذہن سے خیالات نکال لیتا ہے، یا ان کے ذہن میں جو خیالات ہیں وہ ان کے اپنے نہیں ہیں بلکہ کسی اور نے ان کے ذہن میں ڈالے ہیں۔بعض لوگوں کو لگتا ہے کہ کوئی اور انسان یا غیبی طاقت ان کو کنٹرول کر رہے ہیں، ان سے ان کی مرضی کے خلاف کام کرواتے ہیں۔

خیالات کا بے ربط ہونا (Muddled thinking or Thought Disorder)
مریضوں کے لیے کاموں یا باتوں پہ توجہ دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ مریض اخبار پڑھنے پہ یا ٹی وی دیکھنے پہ پوری توجہ نہیں دے پاتے، اپنی پڑھائی جاری نہیں رکھ پاتے یا اپنا کام پوری توجہ سے نہیں کر پاتے۔مریضوں کو ایسا لگتا ہے کہ ان کے خیالات بھٹکتے رہتے ہیں اور ان کے خیالات کے درمیان کوئی ربط نہیں ہوتا۔ ایک دو منٹ کے بعد ان کو یاد بھی نہیں رہتا کہ وہ چند لمحے پہلے کیا سوچ رہے تھے۔ بعض مریضوں کو ایسا لگتا ہے کہ ان کے دماغ پہ ایک دھند سی چھائی ہوئی ہے۔

منفی علامات (Negative symptoms)
منفی علامات ان باتوں کو کہتے ہیں جو صحت کی حالت میں موجود تھیں لیکن اب بیماری کی حالت میں موجود نہیں ہیں۔ حالانکہ منفی علامات اتنی نمایاں نہیں ہوتیں جتنی کہ مثبت علامات ہوتی ہیں لیکن مریض کی زندگی پہ یہ بہت گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ مریضوں کو ایسا لگتا ہے کہ؛

ان کی زندگی میں دلچسپی، توانائی، احساسات سب ختم ہو گئے ہوں۔ مریضوں کو نہ کسی بات سے بہت خوشی ہوتی ہے اور نہ ہی کچھ کرنے کا جذبہ ہوتا ہے۔

ان کے لیے کسی بات یا کام پہ توجہ دینا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ان میں بستر سے اٹھنے یا گھر سے باہر جانے کی خواہش بھی ختم ہو جاتی ہے۔

مریضوں کے لیے نہانا دھونا، صفائی ستھرائی رکھنا یا کپڑے بدلنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

مریض لوگوں سے ملنے جلنے سے کترانے لگتے ہیں، ان کے لیے کسی سے بات کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

کیا شیزوفرینیا کے ہر مریض میں یہ تمام علامات موجود ہوتی ہیں❓
ضروری نہیں کہ شیزوفرینیا کے ہر مریض میں تمام علامات موجود ہوں۔ بعض لوگوں کو صرف آوازیں آتی ہیں لیکن ان میں منفی علامات نہیں ہوتیں۔ بعض مریضوں کو صرف ڈیلیوزن ہوتے ہیں لیکن ان کے خیالات بے ربط اور الجھے ہوئے نہیں ہوتے۔ اگر کسی مریض کو صرف منفی علامات ہوں اور بےربط خیالات ہوں تو بعض دفعہ اس کے آس پاس کے لوگوں کو سالوں تک احساس نہیں ہوتا کہ اسے شیزوفرینیا کی بیماری ہے ۔

بیماری ہونے کا احساس نہ ہونا (Insight)
شیزوفرینیا کے بہت سے مریضوں کو اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ انھیں کوئی بیماری ہے۔ وہ سمجھتے رہتے ہیں کہ باقی تمام لوگ غلط ہیں اور ان کی بات ہی نہیں سمجھ پاتے ہیں۔

ڈپریشن
• جن لوگوں کو شیزو فرینیا پہلی دفعہ شروع ہوا ہو علاج شروع ہونے سے پہلے ان میں سے تقریباً آدھے لوگوں کو ڈپریشن ہوتا ہے۔

جن لوگوں میں شیزوفرینیا کی علامات چلتی رہتی ہیں اور پوری طرح ختم نہیں ہوتیں ان میں سے تقریباً پندرہ فیصد لوگوں کو ڈپریشن ہوتا ہے۔ بعض دفعہ ڈاکٹر غلطی سے ان کو منفی علامات سمجھ لیتے ہیں اور ڈپریشن کی تشخیص نہیں کر پاتے۔

شیزوفرینیا کیوں ہو جاتا ہے❓
ابھی تک ہمیں یقین سے نہیں معلوم کہ شیزو فرینیا کیوں ہوتا ہے لیکن لگتا یہ ہے کہ اس کی بہت ساری وجوہات ہوسکتی ہیں۔ مختلف لوگوں میں وجوہات مختلف ہوتی ہیں۔

جینز (Genes)
کسی شخص کو شیزوفرینیا ہونے کا تقریباً پچاس فیصد خطرہ اس کی جینز کی وجہ سے ہوتا ہے لیکن ہمیں یہ نہیں معلوم کہ کون سی جینز اس کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔ جن لوگوں کے خاندان میں کسی کو شیزوفرینیا نہ ہو ان میں اس بیماری کے ہونے کا امکان تقریباً ایک فیصد ہوتا ہے۔ جن لوگوں کے والدین میں سے ایک کو شیزو فرینیا ہو ان کو اس بیماری ہونے کا خطرہ تقریباً دس فیصد ہوتا ہےاور ہمشکل جڑواں بچوں میں سے ایک کو اگر یہ بیماری ہوتو دوسرے کو شیزوفرینیا ہونے کا امکان تقریباً پچاس فیصد ہوتا ہے۔

دماغی کمزوری
دماغ کے سکین (scan)سے پتہ چلتا ہے کہ کہ شیزوفرینیا کے بعض مریضوں کے دماغ کی ساخت عام لوگوں سے مختلف ہوتی ہے۔ کچھ مریضوں کے دماغ کی نشو ونما مختلف وجوہات کی بناء پہ صحیح نہیں ہوئی ہوتی مثلاً اگر پیدائش کے عمل کے دوران بچے کے دماغ کو آکسیجن صحیح طرح سے نہ مل پائےیا حمل کے شروع کے مہینوں میں ماں کو وائرل اینفیکشن ہو جائے۔

منشیات اور الکحل
بعض دفعہ شیزوفرینیا منشیات کے استعمال کے بعد شروع ہو جاتا ہے۔ ان منشیات میں ایکسٹیسی ، ایل ایس ڈی، ایمفیٹامین اور کریک کوکین شامل ہیں۔ ریسرچ سے یہ بات ثابت ہے کہ ایمفیٹامین سے نفسیاتی بیماری پیدا ہوتی ہے جو اس کا استعمال بند کرنے سے ختم ہو جاتی ہے۔ہمیں اب تک وثوق سے یہ تو نہیں معلوم کہ ایمفیٹامین سے لمبے عرصےتک چلنے والی نفسیاتی بیماری ہوتی ہے کہ نہیں لیکن جن لوگوں میں ایسی بیماری کا پہلے سے خطرہ ہو ان میں اس کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ جن لوگوں کو پہلے سے شیزوفرینیا کی بیماری ہو اگر وہ الکحل یا منشیات استعمال کریں تو ان کے مسائل اور بڑھ جاتے ہیں۔

اس بات کا قوی ثبوت ریسرچ سے موجود ہے کہ چرس کے استعمال سے شیزوفرینیا میں مبتلا ہونے کا خطرہ دوگنا ہو جاتا ہے۔اگر کسی نے کم عمری میں چرس استعمال کرنا شروع کی ہو تو یہ خطرہ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔

ذہنی دباؤ
اس بات کا کوئی واضح ثبوت نہیں ہے کہ ذہنی دباؤ سے شیزوفرینیا ہو سکتا ہے، لیکن یہ ضرور دیکھنے میں آیا ہے کہ شیزوفرینیا کی علامات کی شدت بڑھنے سے فوراً پہلے اکثر ذہنی دباؤ بڑھ گیا ہوتا ہے۔یہ کسی ناگہانی واقعے مثلاً گاڑی کے ایکسیڈنٹ یا کسی کے انتقال کے صدمے کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے اور یا کسی طویل المیعاد وجہ مثلاً گھریلو تنازعات اور جھگڑوں کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے ۔

خاندانی مسائل
خاندانی مسائل کی وجہ سے کسی کو شیزوفرینیا نہیں ہو تا، لیکن جس کو شیزوفرینیا ہو ان مسائل کی وجہ سے اس کی بیماری مزید خراب ضرور ہو سکتی ہے۔

بچپن کی محرومیاں
جن لوگوں کا بچپن بہت اذیت ناک اور محرومیوں سے بھرپور گزرا ہو اور دوسری نفسیاتی بیماریوں کی طرح ان لوگوں میں شیزوفرینیا ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

کیا یہ بیماری کبھی ٹھیک ہو سکتی ہے❓
شیزوفرینیا کے بہت سے مریضوں کو کبھی اسپتال میں داخلے کی ضرورت پیش نہیں آتی، وہ کام کر سکتے ہیں اور اچھی گھریلو زندگی گزار سکتے ہیں۔

• تقریباً بیس فیصد لوگ بیماری کے پہلے دورے کے پانچ سال کے اندر ٹھیک ہو جاتے ہیں۔

• تقریباً ساٹھ فیصد لوگ بہتر ہو جاتے ہیں لیکن ان میں کچھ نہ کچھ علامات موجود رہتی ہیں۔کسی وقت ان کی یہ علامات اور بھی بگڑ جاتی ہیں۔

• بیس فیصد لوگوں میں شدید نوعیت کی علامات موجود رہتی ہیں۔

اگر علاج نہ کرایا جائے تو کیا ہوگا❓
شیزوفرینیا کے مریضوں میں خود کشی کا امکان عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ جن مریضوں میں شیزوفرینیا کی شدید علامات موجود ہوں، جن کو ڈپریشن ہو گیا ہو، یا جو علاج چھوڑ چکے ہوں ان میں خودکشی کا خطرہ اور بھی زیادہ ہوتا ہے۔

ریسرچ سے پتہ چلتا ہے کہ شیزوفرینیا شروع ہونے کے بعد علاج میں جتنی تاخیر کی جائے اتنا ہی زندگی پہ اس کابرا اثر زیادہ ہوتا ہے۔

اگر تشخیص جلدی ہو جائے اور بیماری شروع ہونے کے بعد جلد از جلد علاج شروع ہو جائےتو:

• اسپتال میں داخلے کی ضرورت کم پیش آتی ہے

• گھر میں انتہائی نگہداشت کی ضرورت کم پڑتی ہے

• اگر اسپتال میں داخلے کی ضرورت پڑے تو کم دن داخل رہنا پڑتا ہے۔

• اس بات کا امکان بڑھ جاتا ہے کہ مریض کام کر سکے اور خود مختار زندگی گزار سکے۔

کیا دوا لینا ضروری ہے❓
دوا لینے سے:

• ہیلوسی نیشن اور ڈیلیوزن آہستہ آہستہ کم ہوتے جاتے ہیں۔ عام طور سے اس میں کئی ہفتے لگتے ہیں۔

• سوچنے کی صلاحیت بہتر ہو جاتی ہے۔

• زندگی میں امنگ اور دلچسپی بڑھتی ہے اور اپنا خیال خود رکھنے کی صلاحیت بہتر ہو جاتی ہے۔

دوا کس طرح لی جاتی ہے❓
• عام طور سے دوا گولیوں، سیرپ یا کیپسول کی شکل میں لی جاتی ہے۔

• جن لوگوں کے لیے دوا روزانہ لینا مشکل ہوتا ہے ، وہ دوا ایک ایسے انجیکشن کی صورت میں بھی لے سکتے ہیں جسے دو سے چار ہفتے میں صرف ایک دفعہ لینا ضروری ہوتا ہے۔ اس کو ڈیپو اینجکشن کہا جاتا ہے۔

ٹپیکل اینٹی سائیکوٹک ادویات
یہ ادویات بیسویں صدی کی پانچویں دہائی میں دریافت ہوئی تھیں اور تب سے استعمال ہو رہی ہیں۔ اس گروپ میں ہیلوپیریڈال، ٹرائی فلو پیرازین، اور فلوپینٹکزال وغیرہ شامل ہیں۔ان کے مضر اثرات میں پارکنسنز کی بیماری جیسے مضر اثرات مثلاً ہاتھوں پیروں میں سختی یا کپکپی ہوسکتے ہیں۔بے چینی ہوسکتی ہے۔ جنسی کمزوری ہوسکتی ہے۔ ہونٹوں ، منہ یا زبان کی مستقل حرکت، جسےٹارڈائیو ڈسکائنیزیا کہتے ہیں، ہو سکتی ہے ۔

اے ٹپیکل اینٹی سائیکوٹک ادویات
پچھلے دس سالوں میں شیزوفرینیا کی کئی نئی ادویات دریافت ہوئی ہیں۔ انھیں اے ٹپیکل اینٹی سائیکوٹکس کہا جاتا ہے۔ ان میں رسپیریڈون، اولینزاپین، اور ایریپپرازول وغیرہ شامل ہیں۔ ان دواؤں سے پارکنسنز کی بیماری جیسے مضر اثرات ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔ ان سے منفی علامات بھی بہتر ہو سکتی ہیں جو عام طور سے ٹپیکل دواؤں سے بہتر نہیں ہوتیں۔بہت سے لوگ جو نئی دوائیں استعمال کرتے ہیں ان کی رائے یہ ہے کہ ان سے مضر اثرات پرانی دواؤں کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں۔اے ٹپیکل اینٹی سائیکوٹک ادویات کے مضر اثرات میں غنودگی اور سستی محسوس ہونا، وزن کا بڑھنا، جنسی عمل میں مشکلات ہونا اور ذیابطیس کا خطرہ بڑھ جانا شامل ہیں۔ زیادہ ڈوز میں لینے سے ان سے بھی پارکنسنز کی بیماری جیسے مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔

اگر آپ کو دوا سے مضر اثرات ہو رہے ہوں تو اپنے ڈاکٹر کو اس کے بارے میں ضرور بتائیں۔ بہت دفعہ دوا کا ڈوز کم کرنے سے، دوا بدلنے سے یا مضر اثرات کو توڑ کرنے والی دوا ساتھ میں لینے سے اینٹی سائیکوٹک دوا کے مضر اثرات کم یا ختم ہو جاتے ہیں۔

کلوزاپین
• یہ ایک اے ٹپیکل اینٹی سائیکوٹک دوا ہے اور واحد اینٹی سائیکوٹک ہے جس کے لینے سے شیزوفرینیا کے ان مریضوں کو بھی افاقہ ہو سکتا ہے جنھیں کسی اور دوا سے فائدہ نہیں ہوتا۔ اس دوا سے شیزوفرینیا کے مریضوں میں خود کشی کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔

• کلوزاپین کے مضر اثرات بھی اے ٹپیکل اینٹی سائیکوٹک ادویات کی طرح کے ہی ہیں لیکن اس سے منہ میں تھوک زیادہ بنتا ہے۔

• کلوزاپین سے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اس سے ہڈیوں کے گودے، جہاں خون کے خلیات بنتے ہیں،پہ برا اثر پڑتا ہے۔اس سے خون میں سفید خلیات کی کمی ہو جاتی ہے جس سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی وجہ سے جو مریض کلوزاپین لے رہے ہوں انھیں شروع کے اٹھارہ ہفتوں میں ہر ہفتے اور اس کے بعد ہر چار ہفتوں پہ خون کا ٹیسٹ کرانا پڑتا ہےجب تک وہ کلوزاپین لے رہے ہوں۔

اینٹی سائیکوٹک دوا کتنے عرصے کے لیے لینی پڑتی ہے❓
• ان ادویات کو لینے والے تقریباً اسّی فیصد مریضوں کو ان سے فائدہ پہنچتا ہے۔

• ان کے لینے سے بیماری بہتر تو ہو جاتی ہے لیکن جڑ سے ختم نہیں ہوتی۔ بعض دفعہ دوا سے فائدہ ہوجانے کے بعددوبارہ بیماری کی علامات واپس آ جاتی ہیں۔اگر مریض بہتر ہونے کے باوجود دوا لیتے رہیں تو اس کا خطرہ کافی کم ہو جاتا ہے۔

• اگر مریض اپنی دوا بند کرنا چاہے تو اسے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے اور دوا ڈاکٹر کے مشورے سے آہستہ آہستہ کم کرنی چاہیے تا کہ اگر تھوڑی بہت علامات دوبارہ آنا شروع ہوں تو فوراً پتہ چل جائے قبل اس کے کہ طبیعت پوری طرح سے خراب ہو جائے۔

• اگر آپ اپنی دوا طبیعت بہتر ہونے کے فوراً بعد بند کردیں تو اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ شیزوفرینیا کی علامات فوراً تو نہیں لیکن اگلے تقریباً چھ مہینے میں واپس آ جائیں گی۔

فیملی کو مریض کے علاج میں شریک کرنا
اس کا مقصد خاندان میں کسی کو مریض کی بیماری کا ذمہ دار ٹھہرانا نہیں۔ مریض کے رشتہ داروں سے ملنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مرٰیض اور اس کے گھر والوں کو بیماری کا مقابلہ کرنے میں مدد دی جا سکے۔ ان میں مریض کے گھر والوں کو شیزو فرینیا کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں اور ، یہ بتایا جاتا ہے کہ گھر میں اگر کسی کو یہ بیماری ہو تو اس کی مدد کیسے کی جا سکتی ہے اور بیماری کی علامات کی وجہ سے گھر میں جو مسائل کھڑے ہوتے ہیں ان کا مقابلہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔

اپنی مدد آپ
• یہ جاننے کی کوشش کریں کہ آپ کو بیماری کے شروع میں کس طرح کی علامات ہوتی ہیں مثلاً نیند یا بھوک خراب ہو جانا، گھبراہٹ رہنا، نہانا یا کپڑے بدلنا چھوڑ دینا ، تھوڑا بہت شک شبہ یا خوف پیدا ہو جانا اور کبھی کبھی اکیلے میں آوازیں سنائی دینے لگنا۔اگر شروع میں ہی ان علامات کو پہچان کر علاج شروع کر دیا جائے تو عموماً طبیعت جلدی بہتر ہو جاتی ہے اور دوا کا ڈوز بھی کم دینا پڑتا ہے۔

• ان وجوہات سے بچنا چاہیے جن سے طبیعت خراب ہونے کا اندیشہ ہو مثلاً ایسی صورتحال جس میں ذہنی دباؤ بڑھ جائے جیسے لوگوں سے بہت زیادہ ملنا، منشیات یا الکحل کا استعمال ، گھر والوں، دوستوں یا پڑوسیوں سے جھگڑا کرنا۔

• یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ آپ کی آوازیں کن طریقوں سے کم ہوتی ہیں مثلاً لوگوں سے ملنا جلنا، مصروف رہنا، اپنے آپ کو یاد دلانا کہ یہ آوازیں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں اور آپ کو آپ کی مرضی کے خلاف کوئی کام کرنے پر مجبور نہیں کر سکتیں۔

• کوئی ایسا بااعتماد شخص ذہن میں رکھیں جس کو بیماری شروع ہونے پر آپ یہ بتا سکیں کہ آپ کی طبیعت اب خراب ہو رہی ہے۔

• اپنی جسمانی صحت کا خیال رکھیں۔ اچھی غذا کھائیں جس میں پھل اور سبزیاں شامل ہوں۔ سگریٹ نہ پیئیں، اس سے آپ کے پھیپھڑے، آپکا دل،دوران خون کا نظام اور معدہ خراب ہوتے ہیں۔

• روزانہ کچھ نہ کچھ ورزش کریں چاہے یہ صرف بیس منٹ روزانہ پیدل چلنا ہی کیوں نہ ہو۔ باقاعدگی سے بھرپور ورزش کرنے سے انسان کا موڈ بھی بہتر ہوتا ہے۔

گھر والوں کے لیے ہدایات
اگر گھر میں کسی فرد کو شیزو فرینیا شروع ہو جائے تو باقی گھر والوں کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوتا ہے کہ ان کے بچے، ان کے شوہر یا بیوی، یا ان کے بہن بھائی کو کیا ہو رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ایسی باتیں کہنا شروع کردیں جو باقی گھر والوں کو عجیب و غریب لگیں یا ان کی سمجھ میں نہ آئیں۔ ہو سکتا ہے کہ ان کا رویہ عجیب و غریب ہو جائے اور وہ ہر ایک سے بات کرنا بند کردیں۔ ہو سکتا ہے گھر والے ان علامات یا اس بیماری کے لیے اپنے آپ کو الزام دینے لگیں اور یہ سمجھیں کہ یہ میری غلطی سے ہوا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو یہ فکر ہو کہ کہیں خاندان میں کسی اور کو یہ بیماری نہ ہو جائے یا آپ کی سمجھ میں نہ آ رہا ہو کہ مریض کا علاج کیسے کروائیں۔

مریض کے ساتھ جھگڑا نہ کریں اور اس سے بحث میں نہ الجھیں، اس سے اس کی بیماری خراب ہو گی۔ پر سکون رہیں۔ اگر آپ شیزوفرینیاکے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں تو اپنے مریض کے سائیکائٹرسٹ سے ضرور ملیں۔

رائل کالج آف سائکائٹرسٹس، یو کے

02/01/2022
آبسیسو کمپلسو ڈس آرڈرObsessive-compulsive disorderتعارف:" اس پر فٹ بال کا جنون ہر وقت طاری رہتا ہے"۔ " اس کو جوتوں کا حد...
06/11/2021

آبسیسو کمپلسو ڈس آرڈر
Obsessive-compulsive disorder

تعارف:
" اس پر فٹ بال کا جنون ہر وقت طاری رہتا ہے"۔ " اس کو جوتوں کا حد سے زیادہ شوق ہے"۔ "وہ لازماً جھوٹ بولتا رہتا ہے"۔ ہم یہ الفاظ ان لوگوں کے لئے استعمال کرتے ہیں جو کچھ عادات یا حرکات باربار کرتے رہتے ہیں، حالانکہ دوسروں کو ان کے اس رویے کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔عام طور سے یہ عادت مسئلہ نہیں بنتی اور کچھ کاموں میں یہ مددگار بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ مگر، کسی کام کو بار بار کرنے کا یا کسی سوچ کو بار بار دماغ میں لانے کا تقاضہ زندگی پہ تکلیف دہ حد تک حاوی بھی ہو سکتا ہے۔

اگر :
آپ کے ذہن میں تکلیف دہ خیالات بار بار آتے ہیں، حالانکہ آپ کوشش کرتے ہیں کہ یہ خیالات آپ کے دماغ میں نہ آئیں،

یا

آپ کے دل میں بار بار تقاضہ ہوتا ہے کہ آپ کسی چیز کو بار بار چھوئیں، چیزوں کو بار بار گنتے رہیں، یا کسی کام کو بار بار کریں مثلاً ہاتھ بہت بار دھوئیں ،

تو آپ کو آبسیسو کمپلسیو ڈس آرڈر (او سی ڈی)ہو سکتا ہے۔

او سی ڈی کے مریضوں کو کیسا محسوس ہوتا ہے؟
(عائشہ) "مجھے ڈر لگتا رہتا ہے کہ مجھے دوسروں سے کوئی بیماری لگ جائے گی ۔ میں گھنٹوں اپنے گھر کو بلیچ سے صاف کرتی رہتی ہوں تاکہ جراثیم مر جائیں ، اور اپنے ہاتھ دن میں بہت دفعہ دھوتی ہوں۔ میں کوشش کرتی ہوں کہ کسی بھی کام کے لیے مجھے گھر سے باہر نہ جانا پڑے۔ جب میرے میاں اور بچے گھر آجاتے ہیں ، تو میں ان کے جوتے گھر میں داخل ہونے سے پہلے ہی اتروا دیتی ہوں۔ میں ان سے تفصیل سے پوچتی ہوں کہ وہ کہاں کہاں گئے تا کہ پتہ چلے کہ کہیں وہ کسی گندی جگہ مثلاً اسپتال وغیرہ تو نہیں گئے تھے۔ میں ان کو گھر آنے کے بعد مجبور کرتی ہوں کہ وہ فوراً کپڑے بدلیں اور اچھی طرح نہائیں۔ مجھے احساس بھی ہوتا ہے کہ کہ میرے یہ اوہام احمقانہ ہیں۔ میرے گھر والے اس عادت سے تنگ آچکے ہیں، مگر میں اتنے عرصے سے یہ سب کچھ کر رہی ہوں کہ میں اب اپنے آپ کو روک نہیں سکتی۔

او سی ڈی کی علامات:
آبسیسو کمپلسو ڈس آرڈر میں بنیادی طور سے دو طرح کی علامات ہوتی ہیں۔

۱۔ وہم کے خیالات۔ (آبسیشنز)

۲۔ ایسے کام جن کو بار بار کرنے کے لیے مریض اپنے آپ کو مجبور پاتا ہے۔ (کمپلشنز)

آبسیشنز (وہم کے خیالات)۔
مریضوں کے ذہن میں بار بار کچھ خیالات، وہم، شک اور وسوسے آتے ہیں جو گھنٹوں تک آتے رہتے ہیں۔ عام طور سے یہ وہم بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں کیونکہ یہ تشدد پر مبنی یا جنسی نوعیت کے ہوتے ہیں اور مریض کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ فضول خیالات ہیں۔ مریض ان کو بار بار اپنے ذہن میں آنے سے روکنے یا ان کو ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کرتا ہے لیکن یہ خیالات ذہن سے نہیں نکلتے۔ مریض کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ اس کے اپنے ہی خیالات ہیں لیکن یہ اس کی مرضی کے خلاف ذہن میں آتے رہتے ہیں۔ بعض دفعہ لوگوں کوبار بار اس طرح کے خیالات آتے ہیں کہ وہ کسی کو مار دیں یا برا بھلا کہیں۔ حالانکہ لوگ ان خیالات کو صحیح نہیں سمجھتے اور ان پر عمل نہیں کرتے لیکن یہ خیالات بہت ہی تکلیف دہ ہوتے ہیں۔بعض دفعہ مریضوں کو دن بھر اس طرح کے خیالات آتے رہتے ہیں کہ وہ جراثیم یا گرد سے آلودہ ہیں یا ان کو کوئی بڑی بیماری مثلاً کینسر یا ایڈز لگ جائے گی۔

کمپلشنز (بار بار کو ئی کام بلا وجہ دہرانا)
اس بیماری کے بہت سے مریض بعض کام بے شمار دفعہ دہراتے ہیں، مثلاً بعض لوگ ایک ایک گھنٹے تک ہاتھ دھوتے رہتے ہیں ، یا پچاس پچاس دفعہ چیک کرتے ہیں کہ دروازہ کہیں کھلا تو نہیں رہ گیا۔ اکثر مریضوں کو پتہ ہوتا ہے وہ یہ کام کر چکے ہیں اور اسے دوبارہ کرنا فضول کام ہے اور بیکار ہے، مثلاً ہاتھ صاف ہیں یا دروازہ کھلا ہے لیکن ان کے دل میں اس کام کو پھر کرنے کا شدید تقاضہ پیدا ہوتا ہے اور اگر وہ اس کام کو پھر نہ کریں اور اس سے رکنے کی کوشش کریں تو شدید گھبراہٹ ہونے لگتی ہے۔ بعض دفعہ مریض اس طرح کے کام بار بار اس لیے کرتے ہیں کیوں کہ انھیں لگتا ہے کہ اگر وہ یہ کام نہیں کریں گے تو ان پر یا ان کے گھر والوں پہ کوئی بڑی مصیبت آ جائے گی۔

او سی ڈی کتنا عام ہے؟
عام طور سے دو فیصد لوگ زندگی میں کبھی نہ کبھی اس بیماری سے متاثر ہوتے ہیں۔ مردوں اور عورتوں میں اس بیماری کی شرح برابر ہے۔

او سی ڈی کس حد تک شدید ہو سکتا ہے؟
او سی ڈی اگر بہت شدید ہو تو باقاعدگی سے کام کرنا، گھر والوں کے ساتھ اچھا وقت گزارنا یا خاندان کے معاملات میں دلچسپی لینا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔اگر مریض اپنے کمپلشنز میں اپنے گھر والوں کو بھی شامل کرنے کی کوشش کرے تو وہ پریشان اور ناراض ہو سکتے ہیں۔

جن لوگوں کو او سی ڈی کی بیماری ہے، کیا وہ پاگل ہوتے ہیں؟
جن لوگوں کو او سی ڈی کی بیماری ہو وہ ذہنی اعتبار سے بالکل صحیح ہوتے ہیں لیکن بہت دفعہ وہ اس بیماری کا اظہار کرنے سے ہچکچاتے ہیں کہ لوگ کہیں انھیں پاگل نہ سمجھیں ۔ حالانکہ مریض پریشان ہوتے ہیں کہ اس بیماری کی وجہ سے کہیں وہ اپنے آپ پہ قابو نہ کھو بیٹھیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔

او سی ڈی کس عمر میں شروع ہوتا ہے؟
او سی ڈی عام طور سے لڑکپن میں یا بیس بائیس سال کی عمر میں شروع ہوتا ہے۔ علامات کبھی شروع ہوتی ہیں، کبھی خود ہی ختم ہو جاتی ہیں اور پھر دوبارہ آ جاتی ہیں ، مگر مریض عام طور سے اس وقت تک مدد کے لیے رجوع نہیں کرتے جب تک یہ بیماری شروع ہوئے ہوئے کئی سال نہ ہو چکے ہوں۔

اگر او سی ڈی کا علاج نہ کروایا جائےتو کیا ہو گا؟
اگر بیماری ہلکی ہو تو بہت سے لوگ علاج کے بغیر ہی بہتر ہو جاتے ہیں۔ اگر بیماری درمیانے درجے یا شدید نوعیت کی ہو تو عموماً ایسا نہیں ہو تا، گو کہ وقتی طور سے کبھی کبھی علامات بہتر ہو جاتی ہیں۔ کچھ لوگوں کی بیماری وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ خراب ہوتی چلی جاتی ہے جبکہ کچھ لوگوں کی علامات ذہنی دباؤ یا ڈپریشن کی حالت میں زیادہ بگڑ جاتی ہیں۔ علاج سے عام طور سے لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے۔

او سی ڈی کی بیماری کیوں ہو جاتی ہے؟
جینز(Genes)۔
او سی ڈی کی بیماری بعض لوگوں میں موروثی ہوتی ہے اس لیے کبھی کبھی ایک خاندان میں ایک سے زیادہ لوگوں کو ہوتی ہے۔

ذہنی دباؤ (اسٹریس)۔
جن لوگوں کو او سی ڈی کی بیماری ہوتی ہے ان میں سے تقریباً ایک تہائی لوگوں میں یہ ذہنی دباؤ والے حالات اور واقعات کے بعد نمودار ہوتی ہے۔

زندگی میں تبدیلی۔
ایسے وقت جب کسی پہ اچانک سے اور زیادہ زمہ داریاں آ جا ئیں، مثلاً بالغ ہو جانا، بچے کی پیدا ئش یا نئ نوکری ملنا، اسوقت او سی ڈی کی علامات سامنے آنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

دماغی تبدیلی۔
ہمیں وثوق سے تو نہیں معلوم لیکن ریسرچرز کے مطابق اگر کسی میں او سی ڈی کی بیماری تھوڑے عر صے سے زیادہ سے موجود ہو تو ان لوگوں کے دماغ میں ایک کیمیکل سیروٹونن کے عمل میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔

شخصیت۔
جو لوگ بہت زیادہ صفائی پسند، با سلیقہ اورہر کام ایک خاص اصول اوراعلی معیار کے مطابق کرنے والے ہوتےہیں میں ان میں او سی ڈی پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ عام زندگی میں یہ خصوصیات فائدہ مند ہوتی ہیں لیکن اگر یہ حد سے بڑھ جائیں تو او سی ڈی کی طرف جا سکتی ہیں۔

ڈھنگ۔/سوچنے کا انداز
تقریباً ہم سب کے ذہنوں میں بعض دفعہ عجیب و غریب خیالات آتے ہیں، "کیا ہو گا اگر میں اس گاڑی کے سامنے آ جاؤں، کہیں میں اپنے بچے کو نقصان نہ پہنچادوں۔ ہم میں سے اکثر لوگ ان خیالات کو جھٹک دیتے ہیں اور ان کی طرف توجہ نہیں کرتے ۔ لیکن بعض لوگ اپنے خیالات میں بھی اخلاقیات کے اس قدر پابند ہوتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے خیالات بھی نہیں آنے چاہیئیں۔ اس طرح کے لوگ یہ فکر کرتے رہتے ہیں کہ کہیں اس طرح کے خیالات دوبارہ نہ آ جائیں اور جو لوگ یہ فکر کرتے ہیں ان میں یہ خیالات اور بڑھ جاتے ہیں۔

او سی ڈی کیوں ختم نہیں ہوتا؟
بعض دفعہ او سی ڈی کے مریض اپنی علامات کو کم کرنے کے لیے جو کوششیں کرتے ہیں انھیں سے ان کے خیالات بڑھتے ہیں، مثلاً:

آبسیشنز کو ذہن سے باہر نکالنے کی کوشش کرنا اور کوشش کرنا کہ یہ خیالات ذہن میں نہ آئیں۔اس کوشش سے عام طور سے یہ خیالات بڑھ جاتے ہیں۔

کمپلشنز کو بار بار انجام دینے سے، کاموں کو بار بار چیک کرنے سے، یا لوگوں سے بار بار تسلی طلب کرنے سے کچھ دیر کے لیے تو گھبراہٹ کم ہو جاتی ہے ، لیکن اس سے مریض کا یہ خیال اور پختہ ہو جاتا ہے کہ ان کاموں کو کرنے سے کوئی بری بات ہونے سے رک جاتی ہے، اس لیے اگلی دفعہ ان کاموں کو بار بار کرنے کے لیے پریشر اور بڑھ جاتا ہے۔

ایسے"صحیح" خیالات ذہن میں لانا جن سے "برے خیالات" ختم ہو جائیں۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو اس کو چھوڑ دیں اور انتظار کریں جب تک کہ آپ کی گھبراہٹ ختم ہو جائے۔

اپنی مدد آپ کرنا۔
اپنے آبسیشنز کا سامنا کریں۔ یہ آپ کو سننے میں عجیب سا لگے گا مگر اس سے اپنے خیالات پر قابو پانا آسان ہو جاتا ہے۔ اپنے آبسیشنز کو بول کر ریکارڈ کر لیں اور انھیں بار بار سنیں، یا انھیں لکھ لیں اور بار بار پڑھیں۔ آپ کو یہ با قاعدگی سےروزانہ تقریباً آدھے گھنٹے کے لیے کرنا ہوگا جب تک کہ آپ کی گھبراہٹ کم نہ ہو جا ئے۔

کمپلشنز سے رکنے کی کوشش کریں مگر آبسیشنز کو روکنے کی کوشش نہ کریں۔

گھبراہٹ دور کرنے کے لئے شراب نہ پیئیں ۔

اگر آپ کے خیالات آپ کو مذہبی اعتبار سے پریشان کرتے ہیں تو کسی عالم سے بات کر کے یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ کہیں آپ کے خیالات او سی ڈی کی وجہ سے تو نہیں ہیں۔

او سی ڈی کا علاج۔
میں دو طریقے استعمال ہو تے ہیں۔ CBT او سی ڈی کے لئے

Exposure and Response Prevention (ERP) and Cognitive Therapy (CT)

Exposure and Response Prevention (ERP)
یہ طریقئہ علاج گھبراہٹ اور کمپلشنز کو ایک دوسرے کو بڑھانے سے روکتا ہے۔ اگر انسان کسی ذہنی دباؤ والی صورتحال میں کافی وقت تک رہے تو آہستہ آہستہ وہ اس کا عادی ہو جاتا ہے اور اس کی گھبراہٹ کم ہو جاتی ہے۔اسی اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے اس علاج میں مریض کو ان حالات کا سامنا کروایا جاتا ہے جن میں اس کو وہم ہوتے ہیں مثلاً گرد آلود چیز کو چھونا لیکن اس کے تقاضے پہ عمل کرنے سے روکا جاتا ہے مثلاً بار بار ہاتھ دھونا ، جب تک اس کی گھبراہٹ کم نہ ہو جائے۔اس علاج کو اچانک پورا کرنے کے بجائے بتدریج کرنا بہتر ہے۔

ان چیزوں کی فہرست بنا ئیں جن سے آپ کو بہت گھبراہٹ ہوتی ہے یا جن سے آپ دور رہتے ہیں۔

ان حالات یا خیالات کو اپنی فہرست میں سب سے نیچے رکھیں جن سے آپ کو سب سے کم گھبراہٹ ہوتی ہے، اور ان کو اوپر رکھیں جن سے آپ کو سب سے زیادہ

گھبراہٹ ہوتی ہے ۔

سب سے پہلے ان حالات کا سامنا کریں جن سے آپ کو سب سے کم گھبراہٹ ہوتی ہے اور پھر ان چیزوں کی طرف آئیں جن سے زیادہ گھبراہٹ ہوتی ہے ۔ اگلے درجے پہ اس وقت تک نہ جا ئیں جب تک اس سے نچلےوالے درجے میں گھبراہٹ کم نہ ہو جائے۔

اس مشق کو روزانہ ایک دو ہفتے تک کریں۔ ہر بار اس کو اتنی دیر تک کریں جب تک آپ کی گھبراہٹ انتہا سے کم از کم آدھی نہ ہو جائے۔ شروع میں اس میں آدھہے سے ایک گھنٹہ لگتا ہے۔

آپ ایک سائیکو تھراپسٹ کے ساتھ ان اقدام کی مشق کر سکتے ہیں، مگر زیادہ تر وقت آپ کو یہ خود ہی کرنا ہو گا ۔ اس کو اسی رفتار سے کریں جسے آپ آرام سے برداشت کر سکیں۔ ضروری نہیں ہے کہ ہر دفعہ آپ کی گھبراہٹ پوری ختم ہو، بس اتنی کم ہونا ضروری ہے کہ آپ اس کے ساتھ اس صورتحال کا سامنا کر سکیں۔- یاد رکھیں کہ آپ کی گھبراہٹ:

تکلیف دہ ضرور ہے مگر یہ آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتی ہے۔

بلا آخر دور ہو جا ئے گی۔

مستقل مشق کے ساتھ کم ہوتی چلی جائے گی۔

کو کرنے کے دو اہم طریقے ہیں:ERP

رہنما ئی کے ساتھ اپنی مدد آ پ کرنا۔
آپ کسی کتاب ، ٹیپ ، وڈیو، ڈی وی ڈی یا کسی سوفٹ وئیر کی رہنما ئی لیں۔ آپ کبھی کبھی کسی پیشہ ور تھراپسٹ سے صلاح مشورہ اور مدد لے سکتے ہیں۔ یہ طریقہ کار اس وقت بہتر ہے جب آپ کو ہلکا او سی ڈی ہو اور آپ کو خود پراتنا اعتماد ہو کہ آپ اپنی مدد آپ کے طریقے خود استعمال کر سکیں۔

سائیکولوجسٹ کی زیر نگرانی اکیلے یا گروپ میں علاج:
یہ ملاقات کے ذریعے یا فون پر ہو سکتا ہے۔ یہ عموماً شروع میں ہفتے میں ایک یا دو بار ہوتا ہے اور۴۵ سے ۶۰ منٹ تک ہوتا ہے۔

ایک مثال:
احمد روزانہ آفس جانے کے لئے گھر سے وقت پہ نہ نکل پاتا، کیونکہ اس کو بہت سی چیزوں کی دیکھ بھال کرنی ہوتی تھی۔ اس کو پریشانی رہتی تھی کہ کہیں گھر نہ جل جا ئے یا اس کے یہاں چوری نہ ہو جا ئے اگر اس نے گھر کی ہر چیز کو پانچ بار نہ دیکھ لیا ہو۔ اس نے ان سب چیزوں کی فہرست بنا رکھی تھی جن کو اس نے دیکھنا ہوتا تھا ۔ فہرست کچھ اس طرح تھی:

1۔ دیکچی (سب سے کم ڈر لگتا تھا)

2۔ چا ئے کی پتیلی

3۔ چولہا

4۔ کھڑکی یا کھڑکیاں

5۔ دروازے (سب سے زیادہ ڈر لگتا تھا )

اس نے علاج پہلے مرحلے سے شروع کیا ۔ دیکچی کو بہت بار دیکھنے کے بجا ئے ، وہ اسے صرف ایک بار دیکھتا تھا۔ ابتداء میں اسے بہت گھبراہٹ ہوتی تھی۔ اس نے اپنے آپ کو دوبارہ دیکھنے سے روکا۔ اس نے اس بات پر بھی آمادگی ظاہر کی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو ہر چیز کو دیکھنے کو بھی نہیں کہے گا اور نہ ہی اس سے تسلی مانگے گا کہ گھر حفاظت میں ہے ۔ اس کا خوف آہستہ آہستہ دو ہفتوں میں کم ہوتا گیا۔ پھر وہ دوسرے مرحلے (چا ئے کی پتیلی) پر گیا اور اس طرح آگے بڑھتا گیا۔ آخر کار ، وہ اپنے گھر سے بغیر

سب چیزوں کو دیکھے نکل جاتا تھا اور کام پر وقت پر پہنچتا تھا۔

Cognitive Therapy (CT)
کاگنیٹیو تھراپی ایک نفسیاتی علاج ہے جس میں اس بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ آپ کو اپنے آبسیشنز سے تکلیف ہونا کم ہو جائے بجا ئے اس کے کہ آپ ان سے چھٹکارہ پا لیں۔ یہ اس وقت کار آمد ہے اگر آپ آبسیشنزسے پریشان ہوں لیکن آپ کو کمپلشنز نہ ہوتے ہوں۔

اینٹی ڈپریسنٹ ادویات۔
ایس ایس آر آئی اینٹی ڈپریسنٹ ادویات آبسیشنز اور کمپلشنز کو کم کرتی ہیں۔ یہ ان لوگوں میں بھی کام کرتی ہیں جن کو ڈپریشن نہ ہو۔ یہ اکیلے یا سائیکوتھراپی کے ساتھ بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔ اگر ایس ایس آر آئی کا علاج تین ماہ تک کرنے سے بالکل بھی فائدہ نہ ہو تو کوئی دوسری ایس ایس آر آئی یا پھر ایک دوسری دوا کلو مپرامین دی جاسکتی ہے۔

ان طریقئہ علاج سے کتنا فائدہ ہوتا ہے؟
Exposure Response Treatment (ERP)

ای آر پی کا علاج مکمل کرنے والے لوگوں میں سے تقریباً تین چوتھائی لوگوں کو کافی فائدہ ہوتا ہے ۔ جو لوگ بہتر ہو جاتے ہیں، ان میں سے ایک چوتھائی کو مرض کی علامات کچھ عرصے بعد دوبارہ پیدا ہو جاتی ہیں اور انہیں مزید علاج کی ضرورت پیش آتی ہے ۔

ادویات۔
تقریباً ساٹھ فیصد لوگ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات سے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اوسطاً ان کی علامات تقریباً آدھی رہ جاتی ہیں۔ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات او سی ڈی کو واپس آنے سے روکتی ہیں ۔ یہ اثر علامات ختم ہونے کے کئی سال بعد تک موثر رہتا ہے۔جو لوگ ادویات بند کر دیتے ہیں ان میں سے تقریباً آدھے لوگوں میں اگلے کچھ مہینوں میں علامات واپس آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اگر دوا کے ساتھ کوگنیٹو بیہیویئر تھراپی بھی کروائی جائے تو علامات واپس آنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔

کون سا طریقہ کار میرے لئے بہتر ہے۔ ادویات یا سائیکو تھراپی؟
ایکسپوژر ریسپونس ٹریٹمنٹکسی ماہرانہ مشورے کے بغیر بھی لی جا سکتی ہے (ہلکےمرض میں)۔ کافی لوگوں کو اس سے فائدہ ہوتا ہے ، اور سوائے شروع میں تھوڑی گھبراہٹ بڑھنے کے اس کے کوئی مضر اثرات نہیں ہوتے۔ دوسری طرف اس کے لئے بہت حوصلہ افزائی اور مشقت کی ضرورت ہوتی ہے اور شروع میں گھبراہٹ بڑھتی ہے ۔

سی بی ٹی اور ادویات سے ایک ہی جتنا فائدہ ہوتا ہے۔ اگر آپ کو ہلکے درجے کی او سی ڈی ہے تو صرف سی بی ٹی سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔ اگر آپ کی بیماری نسبتاًشدید ہے تو پھر آپ سی بی ٹی یا ادویات دونوں طریقوں سے علاج کروا سکتے ہیں۔ اگر آپ کا او سی ڈی بہت شدید ہے تو ادویات اور سی بی ٹی کا ایک ساتھ استعمال آپ کے لئے بہتر ہو گا۔ اپنے سائیکائٹرسٹ سے ضرور مشورہ کریں جو آپ کو اور زیادہ معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔

اگر مجھے ابتدائی علاج سے فائدہ نہیں ہوتا تو کیا ہو گا؟
اپنے سائیکائٹرسٹ سے دوبارہ مشورہ کریں۔ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کو یہ مشورہ دیں کہ:

بھی دی جا ئے۔ Cognitive Therapyیا ادویات کے ساتھ Exposure Treatment

دو اینٹی ڈپریسنٹ ادویات ایک ساتھ لی جا ئیں ، جیسے کلو مپرامین اور سیٹا لو پرام۔

دیگر نفسیاتی مسائل مثلاً گھبراہٹ، ڈپریشن یا شراب نوشی کا بھی علاج کیا جا ئے۔

اینٹی ڈپریسنٹ کے ساتھ اینٹی سا ئیکو ٹک ادویات بھی دی جائیں ۔

آپ کے گھر والوں کے ساتھ مل کر انھیں مشورہ دینا اور ان کی پریشانی کم کرنے کی کوشش کرنا۔

کیا مجھے علاج کے لئے ہسپتال میں داخل ہونا پڑے گا؟
ہسپتال میں داخلے کی ضرورت صرف اس وقت پیش آتی ہے جب:

آپ کی بیماری بہت شدید ہو، آپ خود اپنی دیکھ بھال نہ کر سکیں، یا آپ کو خود کشی کے خیالات آنے لگیں۔

آپ کو کو ئی اور شدید نفسیاتی مسائل ہوں مثلاً ایٹنگ ڈس آرڈر، شیزوفیرینیا، یا بہت شدید ڈپریشن۔

آپ بیماری کی علامات کی وجہ سے کلینک نہیں پہنچ سکتے۔

مریض کے گھر والوں اور دوستوں کے لئے مشورے۔
او سی ڈی کے مریضوں کا رویہ بعض اوقات گھر والوں کے لیے بہت پریشان کن ہو تا ہے۔ یہ یاد رکھنے کی کوشش کریں کہ وہ اپنے رویے سے جان بوجھ کر آپ کے لئے مشکل نہیں کھڑی کرنا چاہ رہا بلکہ اس بیماری کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔

ہو سکتا ہے کہ مریض کو یہ سمجھنے میں کچھ وقت لگے کہ اسے علاج کی ضرورت ہے۔ اس کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ او سی ڈی کے بارے میں پڑھیں اور کسی ماہر سے بات کریں۔

او سی ڈی کے بارے میں آپ خود معلومات حاصل کریں ۔

آپ ایکسپوژر ٹریٹمنٹ میں مدد کر سکتے ہیں کہ اپنے عزیز کی طرف اپنا رویہ بدلیں؛ ان کی ان حالات کا سامنا کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کریں جن سے انھیں گھبراہٹ ہوتی ہے، ان کے کمپلشنز میں حصہ نہ لیں، اور ان کو بار بار تسلیاں مت دیں کہ سب کچھ بالکل ٹھیک ہے۔

اس بات سے پریشان مت ہوں کہ اگر مریض کو تشدد پہ مبنی خیالات آتے ہیں تو وہ ان پہ عمل کر گزرے گا۔ ایسا ش*ذ و نادر ہی ہوتا ہے۔

ان سے پوچھیں کہ کیا آپ ان کے ساتھ ان کے سائکائٹرسٹ سے ملنے جا سکتے ہیں۔
بحوالہ
ڈاکٹر سید احمر ایم آر سی سائیک
ڈاکٹر مراد موسیٰ خان ایم آر سی سائیک
رائل کالج آف سائکائٹرسٹس، یو کے
ڈپارٹمنٹ آف سائکائٹرٰ ی، آغا خان یونیورسٹی کراچی
Copied

Address

Life Care International Hospital, G 10 Markaz Islamabad
Islamabad

Telephone

+923180512291

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Clinical Psychologist & RBT - Arshia Saif posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Clinical Psychologist & RBT - Arshia Saif:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category