20/01/2026
یہ تصویر 2020 کی ہےکرونا عروج پر تھا افواہیں عروج پر تھیں میری ڈیوٹی میو ہسپتال ایمرجنسی فی میل وارڈ میں تھی میو ہسپتال پاکستان کی تاریخ کا سب سے پرانا ہسپتال ہے جسے بنے ہوئے 150 سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے پرانے لاہور میں انار کلی جیسےگنجان آباد علاقے میں واقع ہونے کی وجہ سے ایمرجنسی میں رش والی صورتحال ہر لمحے ہوتی ہے فی میل سائیڈ پر میں ذیادہ تر ایک بیڈ پر دو مریض لیٹے ہوتے ہیں اور ایک وقت میں وہاں کم از کم2 پی جی آرز اور تین ہاؤس آفیسرز موجود ہوتے ہیں پھر بھی مینج کرنا بہت مشکل ہوتا ہےیہ تصویر 12 گھنٹے نائیٹ شفٹ کی ہےلوگ افواہوں سے ڈرے گھروں میں مر رہے تھے لیکن ہسپتال نہیں آ رھے تھے کہ ڈاکٹر کرونا کا ٹیکہ لگا رہے ہیں اور مریض کے گردے نکال کر بیچ رہیں ہیں
اور یہ کہ ڈاکٹرز کو ہر مریض کو ٹیکہ لگانے کا پانچ لاکھ مل رہا ہے
شاید میو ہسپتال کی 150سالہ تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا کے ساری رات چار سے پانچ مریض آئے
ساری رات ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے گزاری۔
میو ایمرجنسی جہاں ہر وقت چیخ و پکار؛ رونے کی آوازیں ؛مریضوں کی درد بھری کراہیں لڑائی جھگڑے ہٹو بچو کی آوازیں ہوتی تھیں آج وہاں ہو کا عالم تھا ایسی ایمرجنسی ڈیوٹی پانچ سالہ سپیشلائزیشن کے دور میں کبھی نہیں کی۔
۔اللہ پاک ہمیں اپنے حفظ و امان میں رکھ